کچھ دوستوں کا خیال ہے
جو لوگ شادی سے پہلے سیکس موویز دیکھتے ہیں اور پانی کے بلبلے نکال کر ریلیز ہوتے ہیں جس میں لڑکی یا لڑکا سب شامل ہیں تو کیا شادی کے بعد کوئی فرق پڑتا ہے؟
یاد رکھیں آپ کو پیاس اور بھوک لگی ہوئی ہو اور کھانے کا ایک وقت صبح دپہر شام ہو اور آپکو ہر دو گھنٹے بعد بھوک پیاس لگے اور آپ ہر دفعہ کھاتے پیتے رہو تو ااسکے نتائج کیا ہونگے آپکو بھی معلوم ہیں.
اسی طرح جب لڑکی لڑکا جوان ہوتے ہیں تو انکے جنسی اعضاء کو تب تک کوئی فرق نہی پڑے گا جب تک وہ جوان بچے کہیں سے سیکس کے بارے نہی سن لینگے,کسی جگہ سیکس مووی نہی دیکھ لینگے,کسی کو سیکس کرتے نہی دیکھ لیتے.
کسی جگہ سیکس سٹوری نہی پڑھ لیتے بس تب تک وہ ایسے ہونگے کہ بس آج ہی پیدا ہوئے ہیں..
جس لڑکی لڑکے نے کسی بھی جگہ سے سیکس مووی دیکھ لی کسی جگہ سے سیکس کی باتیں سن لی یا کسی جگہ سیکس سٹوری پڑھ لی پھر اسکے جنسی اعضاء کے اندر بار بار کھلبلی مچے گی تب تک بار بار وائبریشن ہونگی جب تک ہاتھ سے انکو سہلا کر یا رگڑ کر ٹھنڈا نہی کرینگے
رات ہوتے ہی تنہائی تلاش ہوگی سب سے بہتر رضائی کمبل ہے اس میں چھپ کر پڑھ کر دیکھ کر سہلانے کی عادت بنتی جائیگی یوں اس جگہ بار بار ہاتھ انگلی چلانے سے فیلینگز کم سے کم ہوتی جاتی ہیں اور شادی کے وقت حقیقت میں وہ لذت حاصل نہی ہوتی جس کی عادت کئی سالوں سے اسکو ہوچکی ہوتی ہے.
بہت خواتین جنکی شادی ہوئی انباکس آئی اور بتایا شوہر پاس آتا ہے مگر ہمیں فیلینگز ہی نہی آتی.وجہ پوچھی تو بتایا کہ سر ہم سیکس موویز دیکھ کر تین تین انگلیاں اندر ڈال کر مزہ نکالتی تھیں پھر آگ اور لگتی تو نئے نئے طریقے جس میں گھر کچھ بھی ملتا تو جیسے بوتل پر بیٹھ کر یا کوئی برش مل گیا یا چمچ مل گیا اس سے کرتی رہی تو اب شوہر اندر کر باہر کرے ہمیں محسوس ہی نہی ہوتا..
دوستو اسکی وجہ یہ ہے کہ حساس بافتیں جنکو ٹشوز بولتے ہیں ان پر سخت چیزوں سے رگڑ کر اندر جو حساس جلد تھی وہ سخت ہوچکی ہے اور بار بار ایک ہی کام کرنے سے جسم کو عادت بن گئی ہے.جس جگہ ٹچ کرنے سے زیادہ کسی سے سیکس بات کر کے ہی فیلینگز آجاتی تھیں اب غلط طریقوں سے وہاں شوہر سے بھی نہی آتی.وہ لڑکیاں اپنی زندگی سے تنگ ہیں کہتی ہیں اب ہم ایسا کیا کریں کہ ہمیں شوہر سب کرے تو کچھ تو فیلینگز آئیں
انکو اندر رگڑ ہی نہی لگتی تو فیلینگز کیسے آئینگی
شادی سے پہلے اور بعد کی زندگی یہی ہے
Post no 2👇
سیکس ایجوکیشن بہت ضروری ہے
کیوں کہ آجکل پڑھے لکھے لوگ نیٹ کا استعمال اپنی تعلیم کے لیے کم اور سیکس کی طرف زیادہ دے رہے ہیں....
مردوں کے اندر شہوت تو ایسے ہے کہ بس ہاتھ لگانے کی دیر ہے....بس ہاتھ ہی انکی گرل فرینڈ ہوتی ہے اسکے علاوہ کوئی جدید طریقہ دریافت نہی ہوا ہے
جبکہ دوسری طرف گرلز/خواتین ...
ایک سے بڑھ کر ایک نئے نئے طریقے ایجاد کرلیے
اب تک جو طریقے مجھے انباکس میں معلوم ہوئے جس سے گرلز کی شرمگاہ کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ شادی کے بعد شوہر سیکس کرتا ہے تو بقول خواتین کے ...ہمیں پتہ ہی نہیں ہوتا کہ شوہر اندر کر رہا ہے ہمیں کچھ بھی محسوس ہی نہی ہوتا....نہ انکے اندر کوئی فیلینگز آتی ہیں...
اسکی وجہ یہ ہے کہ خواتین سیکس موویز کو دیکھتے ہی عمری سے ہی چھپ چھپ کر انگلی سے شرمگاہ کو رگڑ رگڑ کر لزت تو حاصل کرتی ہیں پھر یہ آگ شدید تر ہوتی چلی جاتی ہے جسکی وجہ سے ایک انگلی پھر دو انگلی یوں تین انگلی...اور پھر آگ مزید شدید ہوجاتی ہے تو کوئی چمچ ملا وہ ڈال دیا.بوتل ملی اس پر بیٹھ کر حوس پوری کرلی...باقی کھیروں بینگن کا عام استعمال جاری ہے....
اور مرد صرف ہاتھ سے ہلا کر کام چلا رہے ہیں...
اس سے اندازہ لگالیں کہ شادی ہوجانے کے بعد طلاق کیوں ہوتی ہے....
زیادہ خواتین کے بقول انکے شوہر اس قابل ہی نہی کہ دخول لر سکیں...
کچھ مرد شادی شدہ بس شدہ ہیں اور ایک منٹ میں لیٹے ہوتے ہیں یوں بیوی روز کڑھتی ہے کہ ایسا کمزور انسان ہی ملا...یوں وہ سیکس موویز میں دوسرے مردوں کو دیکھ دیکھ کر شوہر کو حقارت کی نظر سے دیکھتی ہے ..
احساس محرومی اور گناہوں میں ڈوبنے سے انکو کوئی نہی روک سکتا...
لہذا ہتھ ہولا کرو
خواتین سے گزارش ہے یہ کھدائی رگڑائی سے کم کریں یہ نہ ہو شوہر کے پاس جائیں تو آپکا سسٹم کام ہی نہ کرے.پھر کیا فائدہ ساری عمر بے جان زندگی گزار دو....
Post No 3 👇
مشت زنی کی عادت و لت سے کیسے بچیں اور نجات پائیں۔
مشت زنی یہ کہ بیوی یا لونڈی کے ساتھ جماع یا مباشرت کئے بغیر اپنی شرمگاہ سے لذت حاصل کرنا، یا منی خارج کرنا مشت زنی کہلاتا ہے جسے عربی زبان میں استمناء کہا جاتا ہے، کسی بھی وسیلہ سے، یا کسی بھی آلہ سے خود لذتی کا نام مشت زنی ہے : چاہے ہاتھ کے ذریعے، یا کسی نرم جگہ یا کپڑے کے ذریعے، یا کوئی جدید تکنیکی آلات کے ذریعے سے انجام پایا ھو۔
خود لذتی کیا ھے ؟
یعنی خود بخود لذت حاصل کرنا، جب کوئی بری نظر والا، فلم بینی کرنے والا، اوہام پرستی میں ڈوبے رہنے والا، فسق و فجور میں لت پت رہنے والا، فحاشی اور عریانیت پسند جب کہیں کسی خوبصورت عورت یا لڑکی کو دیکھ لیتا ہے تو وہ اس سے دل ہی دل میں چاہنے لگتا ہے ، خام خیالی میں اور سپنوں میں اس سے عشق کرنے لگتا ہے، اس کی شہوت بھڑکنے لگتی ہے، اس سے جماع کرنے کی خواہش امڈ پڑتی ھے، اسے یاد کرتے ہوئے، اپنے دل کی نظر میں تصور و حاضر کر کے اپنی جنسی اور جسمانی شہوت کو برانگیختہ کر لیتا ہے، اور کبھی کبھی تو کسی بھی طرح اپنی منی نکال کر ھی دم لیتا ھے۔
مشت زنی کرنا جائز ھے یا حرام؟
مشت زنی حرام عمل ھے، یہ شیطانی وسوسہ و جذبہ کے سوا اور کچھ نہیں ھے، لہذا مشت زنی کرنے والا بہت بڑا گنہگار ھے، شریعتِ اسلامیہ کی نظر میں وہ ایک مجرم ، حد سے تجاوز کرنے والا اور مکارم اخلاق سے دور رھنے والا ھے۔
مالکیہ اور شافعیہ کے مذاہب کے مطابق استمناء حرام ہے۔
يرى ابن تيمية أن الأصل في العادة السرية هو التحريم ويجب التوبة عنها
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ " عادت سریہ (مشت زنی) کی سلسلے میں اصل بات یہ ھے کہ یہ حرام ہے، اس عمل سے توبہ کرنا واجب و لازمی ہے۔
ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ استمناء بالید حرام ہے، کیوں کہ مشت زنی کا عمل، اللہ رب العالمین کے اس فرمان کا سراسر مخالف وتضاد ھے ۔ سورۃ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کی بعض صفات بیان کرتے ھوئے ارشاد فرمایا:
وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ۞ اِلَّا عَلٰٓى اَزۡوَاجِهِمۡ اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُمۡ فَاِنَّهُمۡ غَيۡرُ مَلُوۡمِيۡنَۚ ۞ فَمَنِ ابۡتَغٰى وَرَآءَ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡعٰدُوۡنَ ۞
ترجمہ: اور جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں
مگر اپنی بیویوں سے یا (کنیزوں سے) جو ان کی مِلک ہوتی ہیں کہ (ان سے) مباشرت کرنے سے انہیں ملامت نہیں۔
اور جو ان کے سوا اوروں کے طالب ہوں وہ (اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے) نکل جانے والے ہیں۔
مشت زنی کا نقصان :
مشت زنی کے نقصانات : سر و بدن کا درد، گیس بننا، بدھضمی، لاغری اور دبلا پن، سستی اور کاہلی، دماغی کمزوری، یادداشت کی کمزوری، آنکھ کی کمزوری، اعصاب، پٹھوں اور ہڈیوں کی کمزوری، اعضاء تناسل کا بگڑ جانا ،چھوٹا اور ٹیڑھا ھوجانا، مادہ منویہ کی قلت وفقدان وغیرہ جیسی بیماریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ھے۔
اس کے کچھ اسباب درج ذیل ہیں :
(1) نگاھوں کی حفاظت نہ کرنا (2) نگاھوں کو نیچی نہ رکھنا (3) پورنو گرافی کا چسکا لینا، اور اسکے عادی ھو جانا (4) گندی فلم، ننگی تصویر میں لت پت رھنا (5) غیر محرمات لڑکیوں اور عورتوں کی صحبت اور ان سے عشق بازی (6) ایمان وعمل کی کمزوری (7) فضولیات میں مشغول ۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ نیچے بعض کی توضیح دی گئ ھے
آنکھوں کی حفاظت:
اپنی آنکھوں کو نیچی رکھیں، نگاھوں کی زنا سے بچیں، کسی عورت یا لڑکی پر اچانک سے نظر پڑ جائے تو فورا نظر ہٹا لیں، پرنوگرافی سے کوسوں دور رہیں، ننگی تصویر اور ویڈیو دیکھنے کی جرأت نہ کریں، نیز اس کے مقدمہ و اسباب سے بھی اجتناب کریں۔
پاک و صاف رھنا :
مشت زنی کا آسان علاج یہ ھے کہ آدمی ذھنی و روحانی طور پر ، اور جسمانی و لباسی طور پر پاک و صاف رھے، جاننا چاہیے کہ انسان کا دل انسانی جسم کا سب سے اہم عضو ہے، اسی دل میں خیال آتا ہے اور اسی دل کے ذریعہ سے وہ سوچتا وفکر کرتا ہے، پھر وہ اس حساب سے اپنے جسم پر راج اور کنٹرول کرتا ہے، اس لئے اگر یہ اہم حصہ یعنی دل صاف اور پاکیزہ رہے گا تو اس کا تمام عمل پاکیزہ اور صاف شفاف ھوگا، اور اگر یہ بگڑ گیا تو جسم کے تمام اعضاء بگڑ جائیں گے، اور اس سے صادر ھونے والے تمام حرکات و اعمال عام طور پر فاسد ھونگے۔
اسی طرح اسلام میں اپنے لباسوں کو پاک اور صاف رکھنے کی تلقین کی گئی ہے، ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ انسان کے سبیلَین سے جو بھی نکلیں وہ ناپاک ہیں، لہذا پیشاب، پائخانہ، منی، مذی، ودی، حیض و استحاضہ کا خون ناپاک ہے، ان تمام چیزوں میں منی کا حکم کچھ الگ ہی ہے کیونکہ اس کو ظاہری طور پر کپڑوں سے زائل کردے نے سے کپڑے تو پاک و صاف ھو جاتے ھیں مگر اس کو ( کسی بھی طرح ) نکالنے والا انسان جب تک غسل نہیں کرتا پاک و صاف نہیں ہوتا۔
نعمتوں کی قدر کرنا اور شکریہ ادا کرنا:
ہمیں اللہ کی طرف سے، جینے کے لیے ظاھری اور باطنی طور پر ان گنت و لاتعداد نعمتیں دی گئی ہیں جیسے ہوا، پانی، آکسیجن، آگ، اور کھانے- پینے کے سامان جیسے : زمین سے پیدا ہونے والے اناج، غلہ، پھل فروٹ، میوے وغیرہ ، ان تمام چیزوں کے سبب انسان جی پاتا ہے اور اس کے جسم کی نشوونما ہوتی ہے اور پھر اس سے انسان کا جسم طاقتور بنتا ہے ، نیز اسی غذا سے گراں قدر منی بنتی ہے، لہذا ہم انسانوں کو چاہیے کہ ان تمام نعمتوں کو اس کے جائز طریقے سے استعمال کریں، نعمتوں کو ناجائز طور پر استعمال کر کے ان نعمتوں کی ناقدری نہ کریں، اپنی صحت و تندرستی پر ہر وقت اللہ کا شکریہ ادا کریں، اپنی سلامتی اور عافیت کے لئے اللہ سے دعا کریں، اسی ایک اللہ کی عبادت کرنے کے لیے ان کی نعمتوں کا استعمال کریں۔
Post No 4 👇
*_سیکس کا بهـوتـــــ_*
_انٹرنیٹ کی ہسٹری تو صاف ہو ہی جاتی ہے لیکن جو کندھوں پہ بیٹھے ہیں اُن کا کیا ہوگا، ایسے اعمال نہ کریں جن کا حساب دینا مشکل ہو جائے_
_سیکس کا بھوت آج ہماری نوجوان نسل کو اندھا ناچ نچوا رہا ہے، 16 سال سے لے کر 25 سال تک کے بچے، بچیاں نیٹ پہ موجود ناقص انفومیشن کے ساتھ سیکس کرنے کے تجربے حاصل کر رہے ہیں (اکثریت نفسیاتی مریض بنی ھوٸی ھے) کوئی خود کی ٹائمنگ چیک کرنے اور کروانے کیلئے تو کوئی خود کو جوان سمجھ کر جوانی نکال رہا ہے ۔ کسی لڑکی کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ مشت زنی (vagina rubbing ، fingering) سے کنوارا پن ضائع نہیں ہوتا جبکہ وہ اسی چکر میں شدینس پہلے ہی کنوارا پن کھو دیتی ہیں اور بعد میں پچھتاتی ہیں۔_
_آپ کے بچے جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس سب میں سب سے زیادہ قصور وار بچوں کے والدین ہیں جو اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھتے۔_
_چھوٹے بچوں کو اتنی سمجھ نہیں ہوتی کہ وہ کیا کر رہے ہیں یا اُن سے کیا کروایا جا رہا ہے۔ میرے پاس روز ہی علاج کے لیے ایسے کیسز آتے ہیں جن میں لڑکیاں یہ بتاتی ہیں کہ جب وہ 7 سے 15 سال کی تھی تو انکے اپنے ہی کسی رشتےدار (مامو، چاچو، بھائی) نے انکو استعمال کیا اور وہ ڈر کے مارے کسی سے کچھ کہہ نہیں سکی ۔_
_اور بعد میں انکو اس کام کی عادت ہو گئی۔ یا انکو چھوٹی عمر میں ہی کسی سہیلی سے مشت زنی (vagina rubbing ، fingering) کی عادت ہو گئی، اب مجھے صرف اتنا بتا دیں کہ اس سب میں بچی کا کیا قصور تھا ؟_
_قصور صرف اور صرف والدین کا تھا جنہوں نے بچی پر نظر نہیں رکھی۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کے ہمارا معاشرہ ایسے درندوں سے بھر چکا ہے جن کو نا تو اپنی بہن کی پروا ہے، نا بھانجی اور نہ بھتجی کی پھر بھی اپنے بچوں کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور یہی ہمارا سب سے بڑا قصور ہے۔_
_موبائل کی موجودگی میں ہر آوارگی جیب میں اس کے ساتھ ساتھ دوست / سہیلیاں آوارہ لفنگے/ لفنگیاں مل گئے تو سونے پہ سہاگہ جناب ۔ والدین سے جھوٹ بول کر پڑھائی یا کسی بہانے کو دیکھا کر عیاشی اور نازیبا حرکتوں کیلئے دوستوں اور سہیلیوں کے گھر جایا جا رہا ہے یا پھر دوستوں سہیلیوں کو گھر بلایا جا رہا ہے ،کمرے میں بند ہو کر بچے بچیاں کیا حرکات کر رہے ہیں والدین سوچ بھی نہیں سکتے ۔_
_اپنے بچوں پہ ہر وقت نظر رکھیں، سائے کی طرح انکا پیچھا کیجئے، آج اعتبار کرنے کا دور نہیں رہا ۔ آج بیٹے بیٹیاں چکر دینے میں بہت کامیاب ہو چکے ہیں ۔ لڑکے 15 سال سے ہی چھپ کر سیکس کرنا شروع ہو گئے، اپنے دوستوں سے یا پھر سڑکوں پہ کھڑی سیکس ورکرز کے ساتھ اپنی جوانیاں خراب کرتے نظر آرہے ہیں ۔ قطرے نکلنا عام بات بنتی جا رہی ہے، جو آج Teen agers کی بھی بیماری بنتی جا رہی ہے، جو لڑکا بچپن میں خود کو خرابی کی طرف مائل کر رہا ہے وہ 20 سال تک اندر سے بلکل خالی ہو چکا ہوگا، ازدواجی معاملات کیلئے آج مرد نامرد بن چکا ہے، عورت کس نامرد کے ساتھ رہنا پسند کرے گی، عورت بھی بدکار بنے گی اور نامرد بھی اپنی شہوت کو بڑھانے اور خود کو چارج کرنے کیلئے ہر روز نئے جسم اور نئی زبان کو ڈھونڈتا پھرے گا کیونکہ اسکے پاس قدرتی سیکس پاور ختم ہو چکی ہے دھکا سٹاٹ مرد ہمیشہ ٹھرک پن سے خود کو چارج کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا ۔۔_
_سنمبھل جائیں اپنے بچوں پہ توجہ کریں، لڑکی ہے یا لڑکا دونوں آج خطرے میں ہیں آپکی کمائی اپکے بچوں کے اخلاقیات سے زیادہ ضروری نہیں ہے ۔ لڑکے دن بدن عیاشی میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں، چھوٹے لڑکوں کو موبائل دے کر والدین نے اپنا حق ادا نہیں کیا بلکہ اپنی اولاد کو اپنے ہاتھوں کنویں میں دھکا دیا ہے ۔_
_اللہ ہدایت دے ایسے جاہل والدین کو جو دولت اور دیکھاوے کے چکر میں اچھی بری بات کو سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں ۔_
_اللہ پاک تمام والدین اور بچوں کو اس پوسٹ کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین_
Post No 5 👇
مردانہ کمزوری کا آغاز کیسے ہوتا ہے?
کیا سچ میں عضو تناسل کی رگیں/نسیں مر جاتی ہے؟
نوجوان لڑکا جب پہلی دفعہ انٹرکورس /ہمبستری کرتا ہے توپہلی دفعہ اسے گھبراہٹ سی محسوس ہوتی ہے کہ کچھ کر پائے بھی گا یا نہیں اس وجہ سے اسے ایرکشن /ہوشیاری بالکل نہیں ہو پاتی پہلی دفعہ نا کامی کے بعد نوجوان کے دل میں ایک ڈر سا بیٹھ جاتا ہے کہ کیا اس کے اندر کوئی کمی ہے وہ انٹرنیٹ یو ٹیوب گوگل وغیرہ پر جاتا ہے آ رٹیکل پڑھتا ہے جہاں اسے جھوٹ اور غلط فہمیوں پر مبنی ویڈیوز اور آ رٹیکلز پڑھنے کو ملتے ہیں جو جعلی کاروباری لوگ اپنے پراڈکٹس تیل معجون اور کشتے وغیرہ کی تشہیر اور بیچنے کے لیے لکھتے ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کہ آ پ کو جنسی کمزوری بچپن کی غلطیوں کی وجہ سے ہوئی ہے آپ نے بچپن میں جو مشت زنی کی تھی اس وجہ سے کمزوری ہو چکی ہے یہ جھوٹا مواد پڑھنے کے بعد وہ نوجوان اپنے دوستوں کے پاس جاتا ہے ان سے اس متعلق پوچھتا ہے تو وہ لوگ بھی اس کی طرح کم علمی کی وجہ سے یہی بتاتے ہیں کہ سچ میں ہی مشت زنی کی وجہ سے آ پ کی عضو تناسل کی رگیں مر چکی ہیںیہ سب سن کر وہ مزید ڈر جاتا ہے جس وجہ سے اس میں خود اعتمادی کانفیڈینس لیول بالکل ختم ہو جاتا ہے جب وہ دوسری بار جنسی سر گرمی کے لیے جاتا ہے تو وہ پہلے سے اور زیادہ ڈرا ہوا ہوتا ہے اس ڈر کی وجہ سے پھر سے اسے ایرکشن نہیں ہو پاتی اس طرح ڈرے ہوئے نوجوان لڑکے کو 100فیصد یقین ہوتا ہے کہ وہ مردانہ کمزوری کا شکار ہو چکا ہے کیونکہ ہمارے ہاں جنسی تعلیم کا فقدان ہے اور نوجوان کسی کو بتانے سے بھی ڈرتے ہیں وہ انٹرنیٹ پر مردانہ کمزوری کا علاج ڈھونڈتا ہے اور مختلف لنکس کے زریعے وہ ایسی ویب سائٹ وٹس ایپ گروپ میں پہنچ جاتا ہے جہاں جعلی نیم حکیم بیٹھے ہوتے ہیں جو اسے بول دیتے ہیں کہ تمہارے عضو تناسل کی نسیں/رگیں خراب ہیں آپ کے عضو تناسل کی رگوں میں بلڈ فلو 20فیصد بچا ہے اگر دو ا نہ کھائی تو ناکارہ ہو جاؤ گے پریشانی کی حالت میں اسے بہت بڑی قیمت میں بے مقصد دوائیاں اور تیل دیے جاتے ہیں صحت مند لڑکا اپنے آپ کو جنسی طور پر ناکارہ سمجھ کر ہمیشہ شادی سے انکار کرتا ہے حالانکہ حقیقت میں صرف ڈپریشن ہوتا ہے لالچ کا بازار گرم ہے اور ڈر کا کاروبار جاری ہے اگرایک دو دفعہ انٹرکورس میں دقت ہو بھی تو پریشانی کی بات نہیں میڈیکل سائنس میں اسے جنسی بیماری /مردانہ کمزوری نہیں مانا جاتا اس کا اتنا آسان حل ہے کہ صرف سائیکو تھراپی اور غلط فہمیاں دور کرنے سے ہی ٹھیک ہو جاتا ہے مردانہ کمزور ی میں50سال سے زائد افراد کے ہارمونز ٹیسٹ جیسا کہ ٹیسٹیوسٹیرون ، پرالیکٹن ،تھائی رائیڈ ، بلڈ ٹیسٹ ، الٹراساؤنڈ وغیرہ کیے جاتے ہیں جس کے بعد علاج کیا جاتا ہے نوجوان جنسی کمزوری کا شکار نہیں ہو سکتے ۔
کیا مشت زنی سے عضو تناسل کی رگیں دب /مر جاتی ہیں ؟
ایسی باتیںصرف آ پ کو نیم حکیموں سے سننے کو ملیں گی کیونکہ انھوں نے کبھی عضو تناسل کو اندر سے نہی دیکھا ہوتاانھیں اس کی اجازت ہی نہیں ہے صرف ڈاکٹر میڈیکل کالج میں ہی جسم کے ایک ایک حصے کو کھول کر اندر سے مشاہدہ کرتے ہیں اور مختلف اعضاء کی حقیقت کو سمجھتے ہیں ہماری ٹیم میڈیکل صحت جنسیات کے مطابق عضو تناسل میں کوئی ایسی رگ نہیں ہوتی جو ہاتھ سے دب سکے اگر کسی ایکسیڈنٹ وغیرہ کی وجہ سے یہ رگ مردہ ہو جائے تو چند دن میں عضو تناسل مردہ ہو کر گلنے لگے گا اور آخر کار ٹوٹ کر گر جائے گاعضو تناسل دو رگوں کے علاوہ باقی سارا حصہ اسپنج کی طرح ہوتا ہے جس میں خون جمع ہوتا ہے تو وہ سخت ہو جاتا ہے اور خون نکل جائے تو دوبارہ ڈھیلا ہو جاتا ہے. خون کی اس سپلائی کو دماغ کنٹرول کرتا ہے اور دل خون کو پمپ کرتا ہے اگر کسی کو اعضو تناسل کے تناؤ میں کوئی مسلہ آ رہا ہے تو وجہ یا تو دماغ ہو گا یا دل بذات خود عضو تناسل میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تناؤ کو کم یا زیادہ کر سکے ایسے سارے وہم دماغ سے نکال دی اسی طرح آلہ تناسل پر تیل یا طلاء وغیرہ کی مالش کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوتا ابھی بتایا ہے کہ تناؤ کا تعلق دماغ کے پیغام بھیجنے اور دل کے خون سپلائی کرنے سے ہے جب بذات خود آلہ تناسل میں تناؤ کو کنٹرول کرنے والی کوئی چیز ہے ہی نہی تو اس پر کسی قسم کی مالش کا کس طرح کوئی فائدہ ہو سکتا ہے یہ سب صرف وقت اور پیسے کا ضیاع ہے اور الٹا انسان کو ذہنی مریض بناتا ہے۔
نوٹ پوسٹ کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ پھر سے مشت زنی شروع کر دیں بلکہ صرف نوجوانوں کو غلط فہمیوں اور ڈپریشن سے نجات دلانا ہے تا کہ وہ ہنسی خوشی زندگی گزار سکیں اور نیم حکیموں سے بچ سکیں اس کے بعد بھی اگر آپ کے ذہن میں کوئی سوال ہو تو آپ بے خوف ہو کر پوچھ سکتے ہیں
Post No 6👇
بال قدرت کا تحفہ ہیں...شرمگاہ پر بال کیوں ضروری..
بہت سے لوگوں کے سوال آئے ہیں جن میں خواتین کی اکثریت ہوتی ہے.
سوال-شرمگاہ سے بال اتارنے کا آسان طریقہ؟کوئی ایسا حل ہو کہ دوبارہ بال ہی نہ اگیں.بار بار ویکس نہ کرنا پڑے,کریمز کا استعمال نہ کرنا پڑے...وغیرہ
جواب...
یاد رکھیں نعمت خدا وندی میں سے ہر نعمت میں سے کسی ایک نعمت کا ہم شکر ادا نہیں کر سکتے.
بال کیوں اگتے ہیں؟آپ سر کے بال ہی دیکھ لیں جن کے سر کے بال مکمل ہیں انکی شکل وصورت کیا ہوگی اور جنکے سر بلکل گنجے ہوچکے یا آئے روز بال اتر رہے مگر دوبارہ نہیں اگتے انکی پریشانی وہی سمجھ سکتے ہیں.یہ بال نہ ہوں تو انسان کا حسن پھیکا پڑ جاتا ہے.
اب آتا ہوں شرمگاہ پر بالوں کی طرف...
خواتین کی شرمگاہ پر بالوں کا ہونا اس بات کی علامت ہے کہ جس جگہ بال ہو نگے وہ سب سے زیادہخوبصورت اور نازک جگہ ہوگی.وہ جگہ نرم و ملائم رہے گی وہاں کبھی سختی نہ ہوگی.وہ جگہ کبھی بد صورت نہ ہوگی.
اب جن خواتین کی شرمگاہ پر بال نہیں ہوتے انکی شرمگاہ ایسی ہوگی جیسے کوئی بہت پرانی اور پھٹی ہوئی جگہ اور بل پڑ چکے ہونگے جیسے کھیت کو پانی نہ ملنے سے بنجر ہوجاتی ہے ایسے بے رونق اور بہت زیادہ سخت ہوجائیگی.
بالوں کا بار بار اگنا آپکی خوبصورتی کے حسن کو چار چاند لگا دیتا ہے.مہینے میں دو بار آپ لوگ بال صاف کرلیں.کریمز کا استعمال روک دیں.کیوں کہ آجکل ملاوٹ مافیا نے دو نمبر کیمیکلز مکس کر دیے جسکی وجہ سے 100 میں سے 99 خواتین کی شرمگاہ شروع سے کم عمری سے ہی کالی ہونا شروع ہوجاتی ہے.یہاں تک کہ جس جس جگہ وہ کریم لگائی جاتی ہے اس جگہ خارش الرجی ہونا شروع ہوجاتی ہے.اور وہ جگہ کالی ہوجاتی ہے.کیوں کہ کیمیکل جلد کو بلکل کالی کر دیتا ہے.بہتر ہے آپ ریزر کا استعمال کریں جو سب سے بہتریں طریقہ ہے.
شرمگاہ کالی کے نتائج سب کے سامنے آچکے ہو گے مرد کا باہر منہ مارنا اور بیوی کے قریب نہ آنا.مرد یہی سوچتے ہیں گوری چٹی شکل والی ہی سب کچھ ہے.ایسا بکل نہیں ہے.وہ بیوی کو چھوڑ کر کسی اور کے پیچھے چل پڑتے ہیں جب اسکو دیکھ لیں تو تیسری کے پیچھے چل نکلتے.
مرد کی شرمگاہ کالی نہیں ہوتی کیوں کہ وہاں بال نہیں اگتے.مرد کے جنگلات بہت وسیع علاقوں پر پھیلے ہوتے ہیں انتہائی خطرناک اور ایک ایک قدم پھونک کر صفائی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں مگر صرف سیفٹی بلیڈ سے....
Post No 7👇
جنسی سوالات اور جوابات
کچھ ممبران ایسے ایسے سوال کرتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتی ہیں کہ اسے کیا جواب دیں اس لۓ یہ پوسٹ کرنا پڑا اس پوسٹ کو دل پر مت لیجۓ گا
سوال:- نفس چھوٹا ہے۔ اس کا کوئی حل؟
جواب:- رحمِ تین کلومیٹر کے فاصلے پر نہیں کہ آپ کو طویل القامت نفس کی ضرورت پڑے۔ نہ ہی اس سے آپ نے اندر پتنگیں لوٹنی ہیں۔ لہذا اسی پر قناعت فرمائیں۔ بصورت دیگر کسی سے مستعار لے لیں۔
سوال:- جلد از جلد گرم کرنے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:- سسرال والوں میں کیڑے نکالیں ۔
سوال: سرعت انزال کا کوئی علاج ہے؟
جواب:- جماع سے پرہیز فرمائیں۔
سوال: میرے انزال میں شدت نہیں۔
جواب: پریشان نہ ہوں۔ درمیان میں کوئی اور راستہ نہی جہاں جراثیم کے بھٹک جانے کا اندیشہ ہو۔
سوال: نفس ٹیڑھا ہے۔ اس کا کوئی حل بتائیں؟
جواب: اگر نوے ڈگری ٹیڑھا ہے تو آپ شادی کے بجائے only me پر گزارہ فرمائیں۔ اس سے کم ٹیڑھا ہے تو پریشان نہ ہوں۔ ہر راہ جو ادھر کو جاتی ہے مقتل سے گزر کر جاتی ہے۔ مقتل تک پہنچانے کے لیے ہاتھ کا سہارا لے لیں۔ اگر زیادہ مسلہ ہو تو کسی خرادیے سے سٹیل کا بنوا لیں .
سوال: حمل سے بچنے کے لیے محفوظ ترین ایام کون سے ہیں؟
جواب:گرمیوں کے ایام
سوال: نفس میں سختی آتی ہے اور فورا ختم ہوجاتی ہے۔ کیا کریں؟
جواب:آپ نے کونسا اخروٹ توڑنے ہیں سخت کر کے
سوال: دوران جماع کیا کرنا چاہیے جسں سے لذت بڑھے؟
جواب:پیزا آرڈر کر لیں
سوال: شہوت بہت آتی ہے , کیا کریں ؟
جواب:"قبر کا عذاب" اور "موت کا منظر" نامی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیں۔
سوال: ایک رات میں کتنی بار جماع کیا جاسکتا ہے؟
جواب:فریق ثانی سے پوچھ لینا بہتر ہے۔ اگر وہ انہی پیسوں میں مان جائے تو ٹھیک ورنہ احتیاط رکھیں۔ فریق ثانی اگر گھر والی ہو تو بے صبری کی ضرورت نہی۔ رات دوبارہ بھی آئے گی۔
سوال: روشنی میں جماع کرنا کیسا ہے؟
جواب:ایسا ہی جیسا اندھیرے میں ہے۔
سوال: کیسے معلوم ہوگا کہ خاتون مطمئن ہوگئی ہے؟
جواب:قریبی ڈاکٹر کو بلا کر چیک کروا لیا کریں
سوال: اسپرمز ڈیڈ ہو رہے ہیں۔ کیا کروں؟
جواب: سامسنگ کے اسپرمز انسٹال کروا لیں اور ہمیشہ اوریجنل چارجر استعمال کریں۔
سوال: زیر ناف بال سفید ہورہے ہیں۔ ان کا کیا علاج ہے؟
جواب: ہمارے سر کے سفید ہو گئے اور ہمیں ان کی ٹینشن نہیں تو زیرِ ناف کو رو رہا ہے.
Post No 8👇
"عورتوں کا اپنے بہنوئی سے پردہ"
ایک بات یاد رکھیں کہ ایک غیرت مند، باشعور، عزت دار اور باحیا مرد ہمیشہ اپنی بیوی کی بہنوں (سالیوں) سے تعلقات میں اجتناب کرے گا۔ اسی طرح ایک غیرت مند، عزت دار شرم و حیا والی لڑکی ہمیشہ اپنے بہنوئی سے پردہ کرے گی۔ لیکن میں بڑے افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ اب نہ ہی مردوں میں وہ شرم رہی اور نہ ہی عورتوں میں حیا رہی۔
سالیوں اور بہنوئ کی خوب محفلیں جمی ہوئ ہیں، کچہریاں چل رہی ہیں، ایک دوسرے کے ساتھ قہقہے لگاۓ جارہے ہیں، گپے لگاۓ جارہے ہیں، ہنسی میں لوٹ پوٹ ہوا جارہا ہے، ہرقسم کا بےہودہ مزاق اپس میں چل رہا ہے، کسی کا دوپٹہ کہاں معلوم نہیں، کسی کی نظریں کہاں کوئ خبر نہیں۔ بہنوئ اور سالی کے نام پر یہ ساری بے حیائ، بے شرمی بے غیرتی ہمارے گھروں میں عام ہیں۔
درحقیقت اس بات پر زیادہ دکھ ہوتا ہے کہ خود والدین ان حرکتوں کا برا نہیں مانتے۔ اپنی دیگر بیٹیوں اور داماد کی اس بے حیائ والی محفل پر مکمل آنکھیں بند کیے رکھتے ہیں۔ اور پھر جو اسکے نتائج نکلتے ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یقین جانیں ایسی تباہیاں ہیں کہ لکھنے سے گریز کر رہا ہوں کہ سمجھدار واسطے اشارہ کافی ہے۔
آپ لوگوں کی غفلت میں یہ سالی بہنوئ ہنسی مزاق ان دونوں کے میلان کی کس حد تک جاسکتا ہے اسکی کئ مثالیں معاشرے میں موجود ہیں۔ مطلب خود اپنے ہاتھوں سے اپنے داماد کو گناہ کی طرف دعوت دینے والی بات ہے۔ مہربانی کرکے کچھ ہوش کریں۔
بیوی کے ماں باپ سے گذارش ہے خدارا اپنے گھروں کی عزتوں کی حفاظت کیجیۓ۔ والدین تو اپنی اولاد کو برایئوں سے روکتے ہیں لیکن آپ کیسے والدین ہیں کہ آپکا داماد آپ کے گھر آکر آپ ہی کی دیگر بیٹیوں کے سامنے گھومتا پھرتا انسے کچہریاں کرتا ہے ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے اور آپ بُت بنے دیکھتے رہتے ہیں۔ کہ نہیں سالی اور جیجا ہیں ان میں تو ہنسی مزاق چلتا ہے۔ یقین جانیں یہ بڑی نادانی والے کام ہیں۔ مجھے اکثر لوگ کہتے ہیں کہ سالک شفیق آپ عورت کو قید کرنے کی بات کرتے ہیں۔ پتھر کے زمانے کی بات کرتے ہیں۔ واللہ ہم تو عورت کو اسکا وہ مقام سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں جو اسلام نے اسے دیا لیکن بیچاری نیا زمانے، نئ سوچ، نیا کلچر کی آڑ میں آکر اپنی حرمت کھو بیٹھتی ہے۔
خواتین سے کہوں گا اللہ کے واسطے اس حقیقت کو سمجھو کہ آپکا "بہنوئ" آپکے لیۓ غیر محرم ہے۔ اسلام نے اس سے آپکا پردہ رکھا ہے۔
Post No 9👇
ایک خاتون کی عادت تھی کہ وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی دن بھر کی خوشیوں کو ایک کاغذ پر لکھ لیا کرتی تھی۔
ایک شب اس نے لکھا کہ:
میں خوش ہوں کہ میرا شوہر تمام رات زور دار خراٹے لیتا ہےکیونکہ وہ زندہ ہے اور میرے پاس ہے نا۔
یہ اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ میرا بیٹا صبح سویرے اس بات پر جھگڑا کرتا ہے کہ رات بھر مچھر،کھٹمل سونے نہیں دیتے یعنی وہ رات گھر پہ ہی گزارتا ہے آوارہ گردی نہیں کرتا۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر مہینہ بجلی، گیس، پانی،پٹرول وغیرہ کا اچھا خاصا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے یعنی یہ سب چیزیں میرے پاس میرے استعمال میں ہیں نا۔۔ اگر یہ نہ ہوتی تو زندگی کتنی مشکل ہوتی۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ میرے کپڑے روزبروز تنگ اور چھوٹے ہورہے ہیں یعنی مجھے اللّٰه تعالی اچھی طرح کھلاتا پلاتا ہے۔
اس پر بھی اللّٰه کاشکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ دن ختم ہونے تک میرا تھکن سے برا حال ہوجاتا ہے یعنی میرے اندر دن بھر سخت کام کرنے کی طاقت ہے نا۔۔۔
اور یہ طاقت اور ہمت صرف اللّٰه ہی کے فضل سے ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ اپنے گھر کا جھاڑو پونچا کرنا پڑتا ہے اور دروازے کھڑکیاں صاف کرنا پڑتی ہیں شکر ہے میرے پاس گھر تو ہے نا۔۔ جن کے پاس نہیں ان کا کیا حال ہوتا ہوگا۔
اس پر اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ کبھی کبھار تھوڑی بیمار ہو جاتی ہوں یعنی میں زیادہ تر صحت مند ہی رہتی ہوں۔۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ ہر سال عید پر تحفے اور عیدی دینے میں پرس خالی ہو جاتا ہے یعنی میرے پاس چاھنے والے میرے عزیز رشتہ دار دوست احباب ہیں جنہیں تحفہ دے سکوں۔ اگر یہ نہ ہوں تو زندگی کتنی بے رونق ہو۔
اس پر بھی اللّٰه کا شکر ہے۔
میں خوش ہوں کہ روزانہ الارم کی آواز پر اٹھ جاتی ہوں یعنی مجھے ہر روز ایک نئی صبح دیکھنا نصیب ہوتی ہے۔۔۔
ظاہر ہے یہ اللّٰه کا ہی کرم ہے۔
------
دوستو! ہمیں بھی اخراجات کی کمی بیشی پر افسردہ ہونا نہیں چاہئے بلکہ چھوٹی چھوٹی پریشانیوں میں بھی خوشی تلاش کرنی چاہیئے۔ اور اس خاتون کی طرح جینے کے اس انمول فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اپنی بھی اور اپنے سے وابستہ لوگوں کی زندگی پرسکون بنانی چاہیے۔
10 Post no 👇
*💞 شادی ہر انسان کی زندگی کا ایک حسین، پاک اور یادگار لمحہ ہوتا ہے ___!!*
شادی چاہے گھر والوں کی مرضی سے ہو یا آپس میں پیار و محبت کے بلند بانگ دعوے، وعدے اور قسمیں کھانے کے بعد ہو، انسان کی زندگی ایک نئے موڑ میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور ہر انسان یہی چاہتا ہے کہ وہ جس سے شادی کرے وہ اُس کی زندگی میں خوشیوں کے رنگ بکھیر دے۔
تو پھر اکثر شادیاں ناکام کیوں ہوجاتی ہیں؟
یہاں کچھ لوگوں کے مشاہدات اور تجربات کی روشنی میں بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ میرے وہ بہن بھائی جن کی شادی مستقبل قریب یا بعید میں ہونے جارہی ہے انہیں اچھی صلاح دینا ہے اور جو لوگ شادی کے بعد کسی بھی غلط فہمی کا شکار ہیں اُن کے رشتے کو جوڑنا اور دلوں کو پھر سے ملانا ہے۔
ویسے تو شادی ناکام ہونے کی ہزاروں وجوہات ہوسکتی ہیں۔ لیکن مختصراً یہاں صرف چند خاص خاص باتوں کی طرف آپ کو توجہ کرنے کی ضرورت ہے.
*1۔ مبالغہ آرائی:*
ہمارے ہاں اکثر جو لوگ رشتہ مانگنے یا دینے جاتے ہیں وہ اپنے لڑکے یا لڑکی کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے میں مبالغہ آرائی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ اور جو خصوصیات اُن میں نہیں ہوتیں انہیں بھی "مکھن" لگا کر پیش کرتے ہیں، تاکہ کسی بھی طرح رشتہ ہوجائے۔
شادی ناکام کرنے میں یہ سب سے پہلی اور سب سے بنیادی وجہ ہوتی ہے۔ جس رشتے کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہوگی وہ بھلا کیسے زیادہ دیر قائم رہ سکتا ہے؟، ظاہر سی بات ہے جب شادی کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے میں اُن"خصوصیات" کو نہیں پائیں گے تو پھر غلط فہمیاں اور جھگڑے تو ہونگے۔
*2۔ شادی سنت یا جہیز؟:*
لڑکے والوں کے لیے رشتہ طے کرنے سے پہلے یہ فیصلہ کرنا بھی بہت ضروری ہے کہ وہ شادی سنت سمجھ کے کرنے جا رہے ہیں، یا گھریلو سامان پانے کی خاطر محض جہیز ہی چاہیے؟ کیونکہ اکثر جب لڑکی والے "مطلوبہ" جہیز نہیں دے پاتے تو بات طعنوں اور جھگڑوں سے شروع ہوتی ہے اور طلاق تک پہنچ جاتی ہے۔
*3۔ جھوٹے وعدے، غلط توقعات:*
شادی کے بعد زوجین (میاں، بیوی) کا ایک دوسرے سے وعدے کرنا اور انہیں پورا نہ کرنا۔ اور اسی طرح ایک دوسرے سے توقعات وابسطہ کر لینا اور اُن کی پرواہ نہ کرنا۔ بہت سنگین وجہ ہوتی ہے شادی کو ناکام کرنے کے لیے۔
اِس لیے کبھی ایسا وعدہ نہ کریں جو پورا نہ کر سکیں۔ اور جائز حد تک جتنا ہو سکے ایک دوسرے کی توقعات پر پورا اُتریں۔
*4۔ منصوبہ بندی کا فقدان:*
شادی کسی بھی ذمہ دار انسان کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہوتی ہے۔ اور ہر انسان کو چاہیے کہ اِس کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرے جن میں ازدواجی معاملات، گھریلو معاملات اور اخراجات کے معاملات سرفہرست ہوتے ہیں۔ اِن سب معاملات سے لاپرواہی بھی دلوں میں دوری پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے۔
*5۔ رشتے سے انصاف:*
چونکہ شادی سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے تو اِس لیے اِسے مذاق بالکل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اور میاں، بیوی کو چاہیے کہ زندگی میں کبھی بھی اِس رشتے سے دھوکہ نہ کریں، اور جتنا ہو سکے ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہیں۔ کامیاب شادی کا ایک راز یہ بھی ہے کہ یہ میاں بیوی کے ایک دوسرے پر بھروسے، اور یقین پر قائم ہوتی ہے۔
*6۔ مساوات:*
شادی کے نازک بندھن میں بندھنے کے بعد میاں بیوی کو یہ یقین کر لینا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لیے برابر ہیں۔ جتنی عزت شوہر اپنے لیے چاہتا ہے اُتنی ہی عزت بیوی بھی چاہتی ہے۔
اسی طرح شریک حیات ہونے کے ناطے جتنے حقوق میاں کے ہیں، بیوی کے بھی اُتنے ہی حقوق ہیں۔ اور جتنے فرائض بیوی کے ذمے ہیں اُتنے ہی فرائض میاں کے ذمے بھی ہیں۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ میاں بیوی کا رشتہ دنیا کا سب سے نازک ترین رشتہ ہوتا ہے۔ ایک چھوٹی سی غلط فہمی کی چنگاری، آگ لگانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ لیکن اگر میاں بیوی ایک دوسرے پر اعتبار کرتے ہوئے کسی بھی بیرونی سازش کا شکار نہ ہوں تو انہیں دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی۔
Post No 11👇
سیکس .....ایک اور حقیقت
ہماری صحت ہمیں زندگی کا مزہ دیتی ھے جو بہت خوبصورت بھی ھو سکتا ھے اور عزیت ناک بھی آج جو میں بتانے جا رہا ھوں اس سے کم لوگ ہی واقفیت رکھتے ہیں
ہمارا جسم دو طرح کی بیماریوں کا ممبہ ھے
جسمانی بیماری
روحانی بیماری
جسمانی بیماری کا مطلب ھے جو بیماریاں موسمی، وبائی ، یا غلط وقت پہ کھانا یا ناقص کوالٹی کا کھانا کھانے پینے سے ، بے احتیاطی ، جسم میں کسی چیز کی کمی یا زیادتی ، کمزوری یا موٹاپے کی وجہ سے پیدا ھونے والی بیماریاں ، سونے جاگنے کے نامناسب اوقات ،گھر کا اور گھر سے باہر کا ماحول ، نشہ آور چیزوں کا استعمال غیر قدرتی طریقے سے اپنی زندگی کو گزارنا یعنی اپنی من مانی کرنا ہمیں جسمانی یا ذہنی بیماری میں مبتلا کرتا ھے جن کا علاج دوائیوں سے ممکن ھے اور کیا جاتا ھے
دوسری بیماری ھے روحانی بیماری
روحانی بیماری وہ بیماری ھے جو نہ نظر آنے والی مخلوق ان میں جنات بھوت پریت ، اور بہت سی ہوائی مخلوق ، ہماری سوچ اور ہماری ہی بد پرہیزیوں کی وجہ سے ھم پہ مسلط ھو جاتی ھیں جنات اور بھوت پریت اللہ کی غائب نظر نہ آنے والی مخلوق ھے جسے انسان تو نہیں دیکھ پاتے لیکن وہ مخلوق ھمیں مکمل طور پہ دیکھ سکتی ھے اور انکی حقیقت سے کوئی جاہل گوار بھی انکار نہیں کر سکتا اسکا ذکر قرآن پاک میں کئ جگہوں پہ کیا گیا ھے ہزاروں کی تعداد میں مختلف قسم کی مخلوق دنیا میں موجود ھے لیکن انسانی آنکھ سے اوجھل زمین پر انسانوں سے زیادہ ان دوسری مخلوقات کی تعداد موجود ھے ان میں اتنی طاقت ھے کہ وہ ھمارے گھروں ھمارے جسموں میں با آسانی گھس سکتے ہیں یہاں تک کہ ھمارے خون میں شامل ھو کر پورے جسم پر قابض ھو جاتے ہیں اور جسم کے مختلف حصوں میں اپنا مسکن اپنا ڈیرہ بنا لیتے ہیں اورجسم کے اسی حصے کو خراب کرنا شروع کر دیتے ہیں وہاں موجود خون کی نسوں کو بند کر دیتے ہیں جسکی وجہ سے ھمیں نہ ختم ھونے والی بیماریاں لاحق ھو جاتی ھے اللہ نے انکی ایک حد مقرر کی ھوئی ھے ورنہ یہ انسان کو نگل جائیں
چھوٹی بیماریوں سے لے کر کینسر تک کی بیماریاں اسی مخلوق کی پیدا کردہ ھمارے جسم کی خرابی کی وجہ سے روح پزیر ھو جاتی ھیں جو دوائیاں کھانے کے باوجود بھی کچھ دن مریض کو سکون آتا ھے اسکے بعد یہ بیماریاں دوبارہ سر اٹھا لیتی ھیں اور ھم اپنے گٹنوں کا درد ورم کمر درد معدے کی خرابی سوزش دل کے امراض پاگل پن وغیرہ وغیرہ کےلئے ساری زندگی ڈاکڑوں کی فیسیں بھرتے رھتے ھیں لیکن لاعلاج ھی رھتے ھیں
روحانی بیماریوں کی چند ایک وجوہات بیان کرتا ھوں
1/کسی بھی شخص کا خوشبو لگانا چاہے وہ گھر پر ھے یا گھر سے باہر کی تیاری ھے
ایک مسلمان کی سیکیورٹی آیت الکرسی ھے تین بار پڑھ کر ھاتھوں پہ دم کریں اور پورے جسم پہ پھیریں اسکے بعد پورا دن ھمارا جسم ھر شیطانی مخلوق سے اللہ کی پناہ میں چلا جاتا ھے خوشبو لگاتے ہی اپکے ارد گرد موجود دوسری مخلوق اپکی طرف متوجہ ھو جاتی ھے
2/ غسل خانہ گھروں میں ایک واحد جگہ ھے جو شیطانی مخلوق کی سب سے زیادہ پسندیدہ جگہ ھے
بغیر دعا پڑھے غسل یا پاخانہ کیلئے جانا خود اپنے پاؤں پہ کلہاری مارنے کے برابر ھے آپ محسوس کریں گے غسل خانے میں بند ھوتے ھی ھمارا نفس ازادی اور سکون محسوس کرتا ھے کیونکہ اندر گھستے ساتھ ھی پلید اور شیطانی چیزیں ھمارے ننگے جسم کو مزہ دینا اور لینا شروع کر دیتی ھیں اور وہیں سے چاھے وہ بچہ ھے مرد ھے یا عورت انہیں شہوت پہ اکساتی ھیں غور کیجئے غسل خانے میں بعض بچے اور لڑکیاں بہت ٹائم لگاتی ھیں وہاں شیطانی مخلوق انکے جزبات کو ابھارتی ھیں انکو مست رکھتی ھیں اپنے ساتھ
3/ مغرب کے وقت سے 15 منٹ پہلے گھر کی تمام روشنیاں روشن کرنا بے حد ضروری ھے جو ھم لوگ نہی کرتے اس وقت غائب مخلوق جھنڈ کے جھنڈ کھلے آسمان کے نیچے سے گزر رھی ھوتی ھیں جیسے شام ھونے سے پہلے تمام پرندے اپنے گھروں کی طرف جاتے ھیں بلکل اسی طرح جب وہ کسی جگہ کو ویران اجار پاتے ھیں اسی سمت ھو لیتے ہیں
4/ جب عورت زات مرد کے لیئے کھچاؤ اٹریکشن کا زریعہ ھے تو کیا دوسری گندی مخلوق اس سے دور رہ سکتی ھے
آج کا لبرل مرد اور عورت جن کے سامنے زندگی ایک فیشن کا نام ھے ایسے مردوں کے دماغ درست کرنے کی ضرورت ھے جن کے گھر کی عورتیں بے نتھے بیل کی طرح بن چکی ھیں جو دل کیا چل رھا ھوتا ھے چاھے وہ مناسب ھے بھی یا نہی وجہ گھر کا سربراہ ھے اگر وہی بے حیائی کو بےحیائی نہی سمجھتا تو عورت کو برا کیوں کہا جائے
مغرب کے اوقات میں بچیوں لڑکیوں کے بال کھولنے اور کھلے آسمان کے نیچے آنے سے منع کیا جاتا تھا تاکہ انہیں گندی شیطانی مخلوق کے شر سے محفوظ رکھا جا سکے لیکن اب ایسا کچھ بھی نہیں دیکھنے کو ملتا شام ھو رات ھو 60فیصدخواتین کھلے بالوں کے ساتھ بازاروں پارک میں گھر کی چھتوں پہ پائی جاتی ھیں جو ان شیطانی مخلوق کے لئے خود کو بطور چارہ پیش کرتی ھیں اور کسی نہ کسی روحانی مسلہ میں گرفتار ھو جاتی ھیں
5/ کوئی بھی کھانے اور پینے والی اشیاء کو بغیر بسم اللہ پڑھے کھایا یا پیا جائے تو ھماری ارد گرد موجود جنات اور بھوت پریت شیطانی مخلوق جو ہماری ہی خوراک میں سے بھی اپنی خوراک نکالتے ھیں اس غزا کو انسان کیلئے مضر صحت بنا دیتے ہیں صرف بسم اللہ ھماری خوراک کو محفوظ بنا دیتی ھے
زندگی میں دکھ بھی ہیں اور سکھ بھی اپنی زندگی کو اپنے رب کے بتائے گئے اصولوں کے مطابق گزاریں گے تو 70%بیماریوں سے بچے رہیں گے اپنے بچوں کو فیشن کے ساتھ ساتھ خود کی زندگی خود کی خوراک کو سیکیور کرنے کا طریقہ بھی سمجھائیں اس سے پہلے کہ آپ نہ ختم ھونے والی تکلیف میں مبتلا ھو جائیں
6/ آخر میں جب یہ شیطانی مخلوق کسی بچے بچی مرد عورت یا بزرگ کو اپنے قبضے میں لیتی ھے تو اس کو اکیلا کر دیتی ھے کیونکہ وہ جسم اسکا مسکن بن چکا ھوتا ھے اس جسم کو اپنے ارد گرد کے لوگوں سے اکتاہٹ چِڑھ اور نفرت کی سی کیفیت ملنا شروع ھو جاتی ھے اکیلا رھنا زیادہ اچھا لگتا ھے معمول کے کام کاج میں نہ اہمیت رھتی ھے نہ پوری طرح سے ہو پاتے ھیں یہ شیطانی مخلوق انسانی جسم سے سیکس کرتی ھے انسان کو دماغی اور جسمانی طور پہ غلیظ اور کمزور بنا دیتی ھے ننگے کاموں کی طرف راغب کرتی ھے شادی شدہ اپنے شریک حیات سے دور بھاگتا ھے اور کسی غیر کے لئے شہوت محسوس کرتا ھے زنا بد کرداری چھوٹی عمر میں جوان ھونا یا مرد کی خاص جگہ چھوٹی رہ جانا یہ سب جناتی فعل ھیں دوسری مخلوق مرد عورت کی شرم گاہوں سے کھیلتی ھیں اسے خراب کرتی ھے اس میں بیماری اور نقص پیدا کرتی ھیں
انسان کا ذہن شہوت سے بھر دیتی ھیں اسکی سیکس کی ضرورت کو بڑھا دیتی ھیں انسان سمجھ نہیں پا رہا ھوتا اسکے ساتھ ھو کیا رھا ھے اتنی ضرورت بڑھ جانے کے بعد جب کسی انسان کی جسمانی خواہش پوری نہ ھو تو اسکی وجہ سے وہ ذہنی بیماری اور ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتی ھے جو آج کل سرفہرست ہسٹریا یا فی میل ڈس آرڈر کے نام سے پہچانی جا رھی ھے بنیادی وجہ تک بہت کم نظر ڈالی جاتی ھے کیونکہ ھمیں ان چیزوں کو نہ ہی سمجھ پاتے ھیں نہ جان پاتے ھیں کیونکہ یہ غیبی مخلوق ھے اور اپنا راز بھی غائب ھی رکھنا چاھتی ھے
7/ غسل صحیح طریقے سے نہ کرنا آپکے جسم کو کبھی پاک نہی کرتا چاھے آپ 10 بار ھی کیوں نہ نہائیں یا غسل فرمائیں ناک کی آخری حد تک پانی پہنچانا بہت سے لوگوں کے لئے مشکل کا کام بن جاتا ھے بچوں کو نہی سیکھایا جاتا کس طرح غسل کیا جائے پیشاب کرنے کے دوران پیشاب کی چھینٹیں پاؤں پہ پرنے سے جسم اور کپڑے پلید ھوتے ھے بچوں کو ماں باپ یہ نہی سیکھاتے کہ پاؤں دھو کر باہر نکلنا ھے لڑکیوں کے مخصوص دن گزر جانے کے بعد انکو کس طرح پاک ھونا ھے ان کو نہی سیکھایا جاتا آج لڑکے لڑکیاں چھوٹی عمر میں نیٹ کی بدولت بہت سی ننگی فلمیں دیکھ کر محزوز ھوتے ھیں اور مختلف طریقوں سے خود کو سکون اور مزہ پہنچاتے ھیں لیکن اس کے بعد اپنے پلید جسم کو کیسے پاک کرنا ھے کیسے غسل کرنا ھے اس بات سے نا واقف ھوتے ھیں اور ھر وقت اپنے گندے پلید جسم کی وجہ سے پلید اور شیطانی مخلوق کے لئے لزت اور مسرت کی چلتی پھرتی دکان بنے ھوتے ھیں افسوس
اپنی زندگی اور اپنے بچوں کی زندگی کو پر سکون طریقے سے گزارنا سیکھیں اللہ ہمیں کن چھوٹی چھوٹی باتوں ے روکتا ھے اور کیوں روکتا ھے ہر بات کے پیچھے ایک مصلحت چھپی ھے. ایسا فیشن جو بے حیائی پیدا کرے آپکے گھر والوں کی عریاں سجاوٹ اپکو ماڈرن اور منفرد نہی بناتی بلکہ درحقیقت اجاڑ کے رکھ دیتی ھے قدرت نے زندگی گزارنے کے جو جو اصول ہمیں سمجھائے ہیں سارے نہ سہی لیکن چند ایک کو اپنی زندگی میں شامل کر لیے جائے تو ان میں ھماری ھمارے بچوں کی حفاظت موجود ھے اگر آپ غور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو غور کیجئے ورنہ زندگی تو کھوتے ڈڈو کا گوشت کھا کر بھی گزاری جا سکتی ھے ۔۔۔۔۔شکریہ آخر تک پڑھنے کیلئے اسکا موضوع میں نے اسی بنا پہ سیکس چنا تاکہ آخر تک پڑھا جا سکے ...
👇POST NO12
جب عورتیں مرد کی تمام خواہشات شادی سے پہلے ہی پوری کر دیں گی تو مرد کو نکاح کی کیا ضرورت ہے پھر ؟؟؟؟
اور جب مرد عورتوں کے پاک دامن کو داغدار کریں گے تو ان کے حصے میں پاک دامن عورتیں کیسے آئیں گی ؟
گھر سے باہر نکلتے ہی آپ کا دو قسم کی عورتوں سے سامنا ہوتا ہے
پہلی قسم : ان عورتوں کی ہے جو عزیز مصر کی بیوی (زلیخا ) والی بیماری کا شکار ہیں۔ خوب بن سنور کر پرفیوم لگائے بے پردہ ۔۔۔
زبان حال سے کہہ رہی ہوتی ہیں ... ”ﻫﻴﺖ ﻟﻚ ” (قریب آؤ ,جلدی آو)
دوسری قسم : وہ عورت جو ستر و حجاب کی پابند ، مگر مجبوری نے اسے گھر سے نکالا اور وہ اپنی زبان حال سے کہہ رہی ہوتی ہے ...
"ﺣﺘﻰ ﻳﺼﺪﺭ ﺍﻟﺮﻋﺎﺀ ﻭﺃﺑﻮﻧﺎ ﺷﻴﺦ ﻛﺒﻴﺮ" (جب تک چرواہے واپس نہ لوٹ جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں )
”پہلی قسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو سیدنا یوسف علیہ السلام نے کیا تھا ، یعنی کہیں ” ﻣﻌﺎﺫ ﺍﻟﻠﻪ ” (اللہ کی پناہ)
.اور دوسری قسم کی عورتوں سے آپ وہی معاملہ کریں جو سیدنا موسی علیہ السلام نے کیا تھا، یعنی ادب و احترام سے انکی مدد کریں اور اپنے کام میں مشغول ہو جائیں
اور اللہ کا فرمان : ”ﻓﺴﻘﻰ ﻟﻬﻤﺎ ﺛﻢ ﺗﻮﻟﻰ ﺇﻟﻰ ﺍﻟﻈﻞ ” یاد کریں
کیونکہ
یوسف علیہ السلام اپنی عفت و پاکدامنی کی بناء پر عزیز مصر بن گئے تھے۔اورحضرت موسی علیہ السلام کے حسن تعامل کی بناء پر اللہ نے انہیں نیک بیوی اور پرامن رہائش عطاء کی تھی .
Post Number 13👇
روزے میں احتلام
اکثر لوگوں کو رمضان کے دوران سحری کے بعد سونے پر احتلام ھو جاتا ھے جس کی ممکنہ وجوھات ذیل ھو سکتی ھیں
اول
رمضان المبارک میں عبادات کی وجہ سے جنسی سرگرمیاں (مباشرت۔ ھم بستری ۔مشت زنی وغیرہ )محدود ھوجاتی ھیں۔تین دن میں منی کی تھیلیاں بھر جاتی ھیں جنسی نظام ردعمل کے طور پر احتلام کی صورت میں منی/سیمن کا اخراج کرتا ھے جو کہ نیچرل ھے کیونکہ جب منی کا اخراج فطری طریقے سے نہ ھو تو جنسی نظام اٹو موڈ پر کام کرے گا منی کا اخراج احتلام کی صورت میں ھو گا تاکہ نیۓ سپرمز پیدا ھو سکیں
دوم
دوران افطاری روزے داروں کی اکثریت فاسٹ فوڈز (پکوڑے ۔سموسے۔کھجوروغیرہ ) استعمال کرتی ھے جو کہ صبح کے وقت تک ھضم ھو کر چھوٹی انت میں پہنچ چکی ھوتی ھے چھوٹی انت خوراک سے تواناٸی نچوڑتی ھے ردعمل کے طور پر گرم مزاج خوراک جسم میں ھیٹ پیدا کرتی ھے انرجی لیول بڑھاتی ھے جنسی جوش کا سبب بنتی ھے جس وجہ سے اکثریت کو احتلام ھو جاتا ھے
سوم
عام دنوں میں 6/7 گھنٹے کی نیند کے بعد جسم Relex ھوتا ھے تھکاوٹ اترنے پر صبح کے وقت ٹیسٹوسٹیرون ھارھون فعال ھونے پر مارننگ اریکش کی صورت میں ردعمل دیتا ھے( اس وقت اکثر پیشاب کی حاجت سے انکھ کھل جاتی ھے انسان احتلام سے بچ جاتا ھے) اس کے برعکس رمضان المبارک میں 4/5 بجے انسان جاگ رھا ھوتا ھے سحری کے بعد پیٹ بھرنے سے گہری نیند سوتا ھے جس سے جسم ایکسٹرا ریلیکس ھوتا ھے احتلام ھو جاتا ھے (مطلب عام دنوں میں 3/4 بجے ھونے والا احتلام رمضان میں 7/8 بجے پر شفٹ ھو جاتا ھے)
چہارم
روزے پورے جسم کی ورزش ھیں سارا جسم بھوک پیاس کی وجہ سے ایک خاص پراسیز سے گزرتا ھے۔ سستی و کمزوری محسوس ھوتی ھے دوران نیند جسم پر عام دنوں والا کنٹرول نھیں رھتا۔روزے REM نیند کا موجب ھیں ھلکی سی اونکھ سے بھی احتلام ھو جاتا ھے
پنجم
سحری کے وقت پیٹ بھر کر کھانے اور زیادہ سے زیادہ پانی پینے کی وجہ سے انسان گہری نیند سوتا ھے۔ پیشاب کی شدید حاجت ھونے پر جنسی نظام پر دباو بڑھتا ھے۔ جبکہ متاثرہ انسان ھلکے پھلکے الارم پر نہ جاگے تو فطرت احتلام کی صورت میں جگا دیتی ھے تاکہ جنسی نظام بڑے نقصانات سے بچ سکے
ششم
روٹین کے خلاف۔ یا دن کے اوقات میں سونا بھی احتلام کا موجب بنتا ھے۔ چونکہ اونکھ سے جسم ایکسٹرا ریلیکس ھوتا ھے احتلام ھو جاتا ھے
ھفتم
جسم خودکار نظام کے تحت کام کرتا ھے جب رمضان کی وہ وجہ سے بدنظری ۔مباشرت۔مشتزنی ترک کر دی جاے ۔روزے کی وجہ سے جنسی سوچیں بھی نہ اٸیں توکسی نہ کسی طرح فاضل منی کا اخراج تو ھوگا
ھشتم
سحری کے بعد احتلام مذھبی أعتبار سے فطرت کا تحفہ ھے تاکہ روزہ دار بوجھل کی بجاے ھلکا رھے۔ جنسی خواھش کی بجاے رحمان کی یکسوٸی کرے۔فریش فریش رھے
نوٹ
احتلام سے روزہ فاسد نھیں ھوتا ۔نہ ھی جسمانی کمزوری ھوتی ھے ۔غسل کے بعد ذکر ازکار و عبادات میں مصروف رھیں
Post Number 14 👇
*میری یہ پوسٹ خاص شادی شدہ بھاٸیوں کے لیے ہے*
ایک بڑی غلطی عام طور پر خاوند حضرات یہ کرتے ہیں کہ اپنی بیوی کو اسکی غلطی پر لوگوں کے سامنے روک ٹوک کرتے ہیں۔ لوگوں
کے سامنے اسکا مزاق اڑاتے ہیں۔ لوگوں کے سامنے بے عزت کردیتے ہیں اور ڈانٹ پلا دیتے ہیں۔ اپنے طور پر تو وہ اچھے بن جاتے ہیں۔
دوسروں کو میسیج مل جاتا ہے کہ دیکھو گھر میں میرا کتنا کنٹرول ہے۔ بہن کے سامنے بیوی کو ڈانٹ پلادی، ماں کے سامنے بیوی کو ڈانٹ دیا۔ بہن اور ماں کی نظر میں بڑے اچھے بن گۓ کہ ہاں ہمارا بیٹا تو گھر پر بہت کنٹرول رکھتا ہے۔ دوسری طرف بہن کہتی پھرتی ہے کہ میرے بھائ تو خوب کنٹرول رکھتے ہیں گھر پر۔ یوں وہ اپنی ماں اور بہن کی نظر میں بڑے اچھے بن گۓ مگر حقیقتاً اپنی بیوی کی نظر میں انہوں نے اپنے وقار کو صفر بنا دیا۔ اس لیۓ کہ ہر ایک کی اپنی عزت نفس ہوتی ہے۔ جب کسی کی عزت نفس کو مجروح کیا جاۓ گا تو پھر اس انسان کا دل ٹوٹ جاۓ گا اور یہ چیز کبیرہ گناہوں میں شامل ہے۔
اگر ایک چھوٹے بچے کو لوگوں کے سامنے ڈانٹ دیا جاۓ تو وہ رونا شروع کردیتا ہے کیوں کہ اسکی عزت نفس مجروح ہوجاتی ہے تو پھر عورت تو بالاآخر بڑی ہوتی ہے۔ اسکو تو عزت نفس کی زیادہ پرواہ ہوتی ہے لہذا بیوی کی عزت نفس کا خیال رکھنا چاہیے۔ اسکو نصیحت کرنی ہے تو تنہائ میں کرو اور اگر تعریف کرنی ہے تو لوگوں کے سامنے کرو۔
اسکو زندگی کا اصول بنالو. تنہائ میں اگر بیوی کو جلی کٹی بھی سنا دو گے بیوی بیچاری برداشت کرلے گی مگر لوگوں کے سامنے ذلت برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے اس لیۓ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ بیوی کو کبھی بھی دوسروں کے سامنے تنقید کا نشانہ نا بنایئں۔ وہ آپ کی زندگی کی ساتھی ہے۔ تھوڑا وقت دونوں کو علیحدگی میں ملتا ہے ایک دوسرے کو سمجھا دو جو سمجھانا ہے لیکن اگر لوگوں میں تم اس قسم کی باتیں کرو گے تو تمہاری پوزیشن ان بیلنس ہوجاۓ گی۔
علماء نے لکھا ہے کہ بچہ جب تنہائ میں گرتا ہے اسکو چوٹ زیادہ لگتی ہے وہ نہیں روتا اور اٹھ کھڑا ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر لوگوں کے سامنے گر جاۓ اس سے آدھی چوٹ بھی لگے تو رونا شروع کردیتا ہے۔ اس لیۓ کہ لوگوں کے سامنے اسکی عزت نفس مجروح ہوئ۔ وہ درد سے نہیں رو رہا ہوتا۔ عزت نفس مجروح ہونے کی وجہ سے رو رہا ہوتا ہے۔ لہذا شوہر کو چاہیۓ وہ بھی اپنی بیوی کی عزت نفس مجروح نا ہونے دے یہ عورت کے لیۓ نہایت تکلیف دہ ہوتا_
Post Number 15👇
بیوی کو گالی نہیں دی جاتی سینے سے لگایا جاتا ہے
کل والی تحریر کو پڑھ کر ایک بہن ان باکس میں آئ اور کہنے لگی آپ کہتے ہیں کہ شوہر جو کہتا رہے اللہ کی رضا کے لیۓ خاموشی سے سنو، میں اپنے خاوند کی ہر بدتمیزی اور گالیوں کو مکمل خاموشی سے برداشت کرتی ہوں، لیکن مجھ سے میری ماں پر گالی برداشت نہیں ہوتی۔۔۔!!!
میری ماں کو اس دنیا سے گۓ 5 سال ہوگۓ ہیں اور میرے شوہر میرے سامنے میری ماں کو "طوائف" کہتے ہیں میرا کلیجہ پھٹ جاتا ہے، 8 مہینے پہلے ماں کو اس لفظ کہنے پر شوہر سے بدتمیزی کی آج 8 مہینے بعد بھی شوہر نے مجھ سے بات چیت بند کر رکھی یے، کیا اسلامی احکامات صرف عورتوں کے لیۓ ہیں کہ خاموش رہو، درگزر کرو، برداشت کرو، فرشتوں کی لعنتیں ہونگی، شوہر سے کوئ پوچھ نہیں ہونی، کیا سارے عذاب صرف بیویوں کے لیۓ ہیں؟؟؟
واللہ بہن کی ان باتوں نے آنکھیں نم کر ڈالیں، مذید کہنے لگی کہ میرے خاوند کو میری ماں سے یہ گلہ ہے کہ بڑے داماد کو جہیز میں بائک دیدی اور مجھے نہیں دی، حالنکہ جب بڑی بہن کی شادی ہوئ اس وقت حالات بہتر تھے لیکن پھر بابا کا انتقال ہوگیا میری ماں نے قرض لیکر میری شادی کی لہذا زیادہ سامان نا دے سکی۔۔۔!!!
کل تحریر کے اندر لکھا تھا کہ ایک شوہر سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن بیوی کی اونچی آواز شوہر سے برداشت نہیں ہوتی اور دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک بیوی سب کچھ برداشت کرسکتی ہے لیکن اسکے گھر والوں کو برا بھلا کہنا یہ برداشت سے باہر ہوگا بالخصوص ماں اور باپ۔۔۔!!!
آپ لوگوں نے سنا تو ہوگا ہی کہ کسی کہ "آہ" نہیں لینی چاہیے، یہ آہ کا کانسیپٹ صرف ماں باپ یا یتیم مسکین بچوں کے ساتھ نہیں بلکہ ہر اس شخص کے ساتھ ہے کہ جس کا دل دکھایا گیا ہو، اسکے اندر محرم، غیر محرم، تمام رشتہ دار، دوست و اقارب اور تمام دنیا کے لوگ شامل ہیں۔۔۔!!!!
جی یہ فلاں شخص نمازی ہے، جواب ملے گا منہ پر مارو اسکی نمازیں، جی یہ حاجی ہے، یہ روزہ دار ہے، یہ تہجد گزار یے، مگر سارے اعمال کالے کپڑے میں لپیٹ کر منہ پر ماردیۓ جایئں گے، جواب ملے گا کہ پہلے اس شخص سے معافی لیکر آؤ جس کا دنیا میں دل دکھایا تھا، جو آنکھ دنیا میں تمہاری وجہ سے روئ تھی، ذرا ایک بار ہم سوچ لیں کہ اگر بیوی نے وہاں معاف کرنے سے انکار کردیا تو ہمارا کیا ہوگا ؟؟؟
وہ اپنا گھر چوڑ آئ، صبح کا ناشتہ، دوپہر کا کھانا، رات کا کھانا اسکی ذمہ داری، کپڑے دھونا استری کرنا اسکی زمہ داری، گھر کی صفائ جھاڑو پونچھا اسکی کی ذمہ داری، بچے سنبھالنا، بچوں کی پرورش اسکی ذمہ داری، ساس کا یہ کام، سسر کا وہ کام، کچھ بھی اسکے ذمہ نہیں، مجھے چھوڑیں کہ سالک شفیق یہ آپ کیا کہ رہے ہیں، دنیا کے کسی بڑے عالم سے پوچھ لیں ان مین سے کوئ ایک کام اسکے ذمہ نہیں سواۓ بچوں کی پرورش کے، وہ انکار کردے اسے کوئ گناہ نہیں۔۔۔!!!
لیکن وہ یہ سب کرتی یے اور اسکے باوجود اسے گالیوں سے نوازنا، اسکے گھر والوں کو گالیاں دینا، سب کے سامنے اسکی تذلیل کرنا کہاں کی عقلمندی ہے، اُسے گالیاں نا دو، بدسلوکی نا کرو، تمہارے بچوں کی ماں ہے، اُسے سینے سے لگاؤ، تم اللہ کے بندے ہو وہ بھی اللہ ہی کی بندی یے اور اللہ سب دیکھ رہا ہے۔۔۔!!!
مولانا طارق جمیل صاحب کا ایک جملہ جو وہ اکثر اپنے بیانات مین فرماتے ہیں کہ اگر حقوق نہیں دے سکتے نا تو پھر روزے رکھو لیکن کسی کی بچی کی زندگی برباد مت کرو۔۔۔!!!
شوہر تو محافظ ہوتا یے، اور جب محافظ ہی بیویوں کو گالیاں نکالنا شروع کردے تو پھر اس گھر میں کوئ خیر نہیں.
اچھی بات کو بڑے گروپ میں شئیرکرناصدقہ جاریہ ھے اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر ہو ش
Post Number 16👇
شادی کی رات سے متعلق ایک بیہودہ واقعہ:
ایک دوست نے اپنے دوسرے دوست سے اپنی بیوی کی جفاؤں کا شکوہ کیا، بیوی بہت نافرمان ہے، سر چڑھی ہے، اس کی خدمت نہیں کرتی، اس کی کوئی بات نہیں مانتی وغیرہ وغیرہ۔ دوست نے کہا: یار ایسا کیوں نہیں کرتے جیسا میں نے کیا تھا۔ دوست نے پوچھا: تم نے آخر کیا کیا تھا؟ اس نے کہا: پہلی رات جب میری بیوی میرے کمرے میں آئی ، کھانا تیار تھا، اس نے مجھے کھانا پیش کیا ، اسی دوران ایک بلی آپہنچی ، میں نے اسے بھگانے کے لئے ڈانٹا لیکن بلی نہ بھاگی تو میں نے چھری اٹھا کر اسے وہیں ذبح کردیا تاکہ میری نئی نویلی دولہن کو معلوم ہوجائے کہ میری بات پختہ اور اٹل ہوتی ہے ، اگر میری بات نہیں مانی گئی تو اس کا نتیجہ بہت بھیانک اور انجام بڑا سنگین ہوتا ہے۔ میں اپنے نافرمان کو سخت ترین سزا دیتا ہوں چنانچہ وہ پہلی رات ہی خوفزدہ ہوگئی اور اب جو کچھ کہتا ہوں فوراً بے چون وچرا مان لیتی ہے۔ سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ دوسرے دوست نے کہا : یار مشورہ اچھا ہے، قابل عمل ہے لہٰذا اب اس نے بھی اس پر عمل کرنا چاہا۔ اپنے گھر پہنچا، کھانا تیار تھا، دسترخوان پر بیٹھا، ادھر سے بلی بھی آپہنچی، اس نے چھری اٹھائی اور گھیر گھار کر کسی طرح بلی کو قتل کردیا، بیوی نے یہ ماجرا دیکھ کر کہا : میاں جی!بلی کا قتل پہلی رات کام دیتا ہے بعد میں نہیں۔
سوچئے ! کیا یہی مردانگی ہے کہ پہلی ہی رات سے بیوی کو خوفزدہ کرکے رکھا جائے اور اس کے ساتھ سختی ودرشتی کا معاملہ کیا جائے۔
POST NUMBER 17 👇
*غسل کرنے کاطریقہ عورتوں کے لیے*
بہت سی لڑکیاں یہ سوال کرتی ہیں کے غسل کیسے کیا جائے اور بہت سی شادی شدہ اور غیر شادی شدہ عورتیں یہ نہیں جانتی کہ غسل کب اور کیسے واجب ہوتا ہے بہت سی عورتیں یہ سمجھتی ہیں کے مرد کے انزال (فارغ) ہونے کے بعد ہی غسل واجب ہوتا ہے ایسا ہرگز نہیں ہے۔
مباشرت میں دخول کے بعد عورت پر غسل لازم ہوجاتا ہے اس کے لیے مرد کا انزال یعنی (فارغ) ہونا یا عورت کا آرگیزم یعنی (فارغ) ہونا ضروری نہیں ہے اگر مرد کا نفس بیوی کی شرمگاہ کو لگ جائے تو دخول نہ بھی ہو تو تب بھی غسل فرض ہو جاتا ہے اور اگر عورت پر شہوت تاری ہو اور شرمگاہ سے پانی نکل جائے یا کوئی چیز انگلی وغیرہ شرمگاہ میں داخل ہوگی تو عورت پر غسل واجب ہو جائے گا۔
اس کےعلاوہ کسی بھی وجہ سے مثلا رات کو سوتے خواب میں یا کسی خیال کی وجہ سے یا آج کل ہر دوسری عورت کا شوہر روزگار کے لیے کسی دوسرے ملک یا شہر میں ہے گھر سے باہر ہے ایسے میں فون پر پیار کی باتیں کرتے ہوئے یا اپنے شوہر کے خیالوں میں یا غیر شادی شدہ لڑکیاں جو اپنے دوست سے پیار بھری باتیں کرتی ہیں اگر اس دوران شرمگاہ سے پانی نکل جائے تو پھر بھی عورت پر غسل جنابت لازمی ہو جائے گا۔
ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ آپ کا کھانا پیناسب حرام ہوگا اور آپ پر ہر وقت نخوست طاری رہے گی اور ناپاکی کی حالت میں جنات عورتوں پر بہت جلد حاوی ہوتے ہیں۔
*غسل کرنےکاطریقہ*
1۔غسل کاطریقہ یہ ہے کے پہلے ہاتھ دھوئے اور استنجاء کرے پھر بدن پر جس جگہ نجاست لگی ہو۔ اسے دھو ڈالے۔ پھر وضو کر لے۔
*2۔غسل میں تین چیزیں فرض ہیں*
1۔تین بارکلی کرنا 2 ۔تین بار ناک میں پانی ڈالنا 3 ۔پورے بدن پر پانی بہانا، بیٹھ کر نہائیں اس میں پردہ زیادہ ہے 4۔اگر سر کے بالوں کو بھگونا اورجڑوں میں پانی پہنچانا فرض ہےایک بال بھی سوکھا رہ گیا توغسل نہ ہوگا۔
5۔نتھ، بالیوں، انگوٹھی، اور چھلوں کوتنگ ہونےکی صورت میں خوب ہلائیں تاکہ پانی سوراخوں میں پہنچ جائے 6۔ اگر بالیاں نہ پہنی ہوں تو احتیاطاً سوراخوں میں پانی ڈال لے۔
7۔اگر ناخن وغیرہ میں آٹا لگ کر سوکھ گیا ہو تو پہلے صاف کرے ورنہ غسل نہ ہوگا،
8۔اگر ناخنوں میں نیل پالش لگی ہو تو پہلے صاف کرے کیونکہ یہ بدن تک پانی پہنچنے نہیں دیتی اس سے غسل نہ ہوگا۔
(صدقہ جاریہ)
Post Number 18 👇
( *عورت کو اگر عزت دو گے تو جان دے سکتی،*
*اگر ناراض کیا تو جان لے بھی سکتی*)
ایک مسافر نے کنویں سے پانی بھرتی عورت سے مانگ کر پانی پیا،
عورت مہذب، خوبصورت اور اپنے اطوار سے نہایت ہی بھلی اور معصوم سی لگتی تھی،
آدمی نے پوچھا، تم نے کبھی عورتوں کی مکاری کے بارے میں تو نہیں سُنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔؟
عورت نے پانی بھرنا چھوڑا اور ایک اونچی دہاڑ مار کر اتنے زور سے چیخ و پُکار کرتے ہوئے رونا شروع کیا کہ گاؤں کے لوگ بھی اس کی آہ و بکار سُن لیں،
آدمی عورت کی اس حرکت سے خوفزدہ ہو کر بولا، تم ایسا کیوں اور کس لئے کر رہی ہو۔۔۔؟
عورت نے کہا، تاکہ گاؤں والے آ کر تجھے قتل کر ڈالیں کیونکہ تو نے مجھے تکلیف دی ہے اور میرا دل دُکھایا ہے،
آدمی گھگھیاتے ہوئے بولا، میری بات سُنو، میں ایک مسکین اور اپنے کام سے کام رکھنے والا مسافر ہوں، میں بھلا کیونکر تمہیں تکلیف پہنچاؤں گا۔۔۔۔۔؟
میں تو بس تمہاری معصومیت سے متاثر ہوا تھا تو پوچھ بیٹھا کہ تم نے تو یقیناً عورتوں کی مکاری کے بارے میں کبھی نہیں سُن رکھا ہوگا۔۔۔۔۔۔؟
تم ایک مہذب اور حسین و جمیل عورت ہو، مگر میں خدا کا خوف رکھنے والا انسان ہوں، مجھے تم سے کیا لینا دینا کہ موقع پاکر تم سے بات کرنے کی خواہش کرونگا۔۔۔؟
اس بار عورت نے اپنا مشکیزہ اُٹھا کر اپنے اوپر اُنڈیل کر اپنے آپ کو پانی سے تربتر کر لیا،
آدمی کی حیرت اس بار اور بھی دو چند ہو گئی، پوچھا اب کیا ہوا کہ تُم نے اتنی محنت سے کنویں سے نکالا پانی اپنے اوپر ڈال کر اپنے آپ کو بھگو لیا،
ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ گاؤں والے لوگ کنویں تک پہنچ گئے۔
عورت نے اُن لوگوں کو بتایا کہ میں کنویں میں گر گئی تھی، اور آج اگر یہ مُسافر یہاں نا ہوتا اور مجھے باہر نا کھینچتا تو میں مر ہی گئی تھی،
لوگوں نے اس آدمی کے اس احسان کے بدلے اُسے گلے لگا کر شکریہ ادا کیا اور اُس کی ہمت و جوانمردی کا تذکرہ کرنے لگے،
گاؤں کے لوگوں کے ساتھ عورت واپس جانے لگی تو اس آدمی نے پوچھا، *اپنی ان دونوں حرکتوں کے پیچھے تمہاری کیا حکمت و دانائی تھی یہ تو بتاتی جاؤ!* عورت کہنے لگی کہ بس اسی طرح ہی ہر عورت ہوا کرتی ہے،
اگر اُسے اذیت دو گے تو تمہیں قتل کرا دینے سے کم پر راضی نہیں ہوگی،
اور اگر اُسے راضی اور خوش رکھو گے تو تمہیں بھی خوش و خرم رکھے گی...!
Post No 19 👇
*کہاں ہیں وہ بدبخت جاہل لوگ جو اولاد کے نہ ہونے کا زمیدار عورت کو سمجھتے ہیں ؟*
جس کی اولاد نہ ہو وہ کیا کرے؟
جب کسی کو اولاد ہونے میں تاخیر ہو جائے یا اسے اولاد نہیں ہو رہی ہو تو آدمی بے چین ہو جاتا ہے اور اولاد کے لئے جائز و ناجائز کی تفریق مٹا کر کچھ بھی کرنے کو راضی ہوجاتا ہے
اور انجام بھی دیتا ہے چنانچہ ایسے لوگوں کے متعلق بڑی عجیب و غریب داستانیں ملتی ہیں
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک سچے مومن کا ایسے عالم میں کیا موقف ہونا چاہئے ؟
*1:* سب سے پہلے تو یہ عقیدہ ذہن میں راسخ کرے کہ بچوں کی پیدائش کا تعلق اللہ تعالی کی مشیئت سے ہے اس کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں واضح فرمایا ہے کہ
*لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ*
*ترجمہ:* آسمان و زمین کی بادشاہی اللہ کیلئے ہی ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے اور جس چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے یا انہیں بیٹے بیٹیاں ملا کر عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے بیشک وہ جاننے والا اور قدرت رکھنے والا ہے
*(الشورى : 49 - 50)*
*2:* جب یہ عقیدہ پختہ ہو جائے کہ اولاد کا مکمل طور پر اختیار اللہ کے پاس ہے
تو میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ اللہ کے سامنے گڑ گڑا کر نیک اولاد کا سوال کریں اور پوری گریہ زاری کیساتھ ذکر و دعا میں مشغول رہیں
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا
*وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا*
*ترجمہ:* اور وہ لوگ کہتے ہیں ہمارے پروردگار ہمیں ہماری بیویوں اور اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقی لوگوں کا پیشوا بنا
*(الفرقان : 74)*
*3:* اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک میں کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے اس محرومی کا سامنا ہے تو جائز طریقہ کار کے مطابق ادویات کا سہارا لیا جا سکتا ہے
جیسا کہ نبیﷺ کا فرمان ہے علاج کرو کیونکہ اللہ تعالی نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے صرف بڑھاپا ایسی بیماری ہے جس کا علاج نہیں ہے
اس حدیث کو شیخ البانیؒ نے صحیح قرار دیا ہے
دوسری حدیث ہے اللہ تعالی نے کوئی بیماری ایسی نازل نہیں کی جس کیلئے شفا نازل نہ کی ہو
*(ابن ماجہ: 3482)*
شیخ البانیؒ نے اسے صحیح کہا ہے
*4:* ہوسکتا ہے اللہ تعالی نے اس کے لئے اولاد کا ایک وقت متعین کیا ہو اور ہم جلد بازی سے کام لے رہے ہوں یا اللہ تعالی ہمیں اولاد کی نعمت سے محروم کرکے دنیا و آخرت کی بیش بہا نعمتوں سے نوازنا چاہتا ہو
بہر کیف کچھ بھی ہو ہر حال میں اللہ تعالی پر کامل بھروسہ کریں اور اس کے حکمت بھرے فیصلوں پر مکمل صبر کریں اور یہ یقین کریں کہ قادر مطلق نے اس کیلئے اس نعمت سے محرومی پر صبر کرنے کی وجہ سے خوب اجر عظیم رکھا ہوا ہے
*5:* اسی طرح لوگوں کے حالات زندگی اور مسائل میں غور و فکر کرنا چاہیے کہ کچھ لوگوں کو بد اولاد کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا جن کی وجہ سے انکی زندگی اجیرن ہوگئی اور کچھ لوگوں کو معذور اولاد کے ذریعے آزمائش میں ڈالا گیا اور اب وہ انتہائی تنگی کی زندگی میں ہے
بالکل اسی طرح ایسے والدین کو بھی دیکھیں جو اپنی نافرمان اولاد کی وجہ سے پریشان ہیں
اس لئے اللہ تعالی اپنے بندے مؤمن کیلئے وہی پسند کرتا ہے جو اس کیلئے بہتر ہو
جیسے کہ نبیﷺ کا فرمان ہے مؤمن کا معاملہ تعجب خیز ہے کہ صرف مؤمن کا ہر معاملہ خیر سے بھر پور ہوتا ہے اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے جو اس کیلئے بہتری کا باعث ہے
اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کیلئے خیر کا باعث ہے
*(مسلم: 2999)*
اللہ تعالی ہمیں اپنے فیصلے پر راضی رکھے آمین
Post No 20 👇
مرد کا انزال
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
مرد عورت سے پہلے ڈسچارج کیوں ہو جاتا ہے ؟
مرد کا مزاج گرم خشک ہوتا ہے اور منی وافر مقدار میں بنتی رہتی ہے جو بوقت جماع خارج ہو جاتی ہے اگر جماع کو کئی ہفتے گزر جائیں تو جسم کے رگ ، پٹھے ، کری ہڈی کی پرورش میں خرچ ہو جاتی ہے جلد انزال کی سب سے بڑی وجہ مردوں میں شہوت کی ذیادتی سے مغلوب ہو کر جلق ، اغلام بازی اور غیر فطری جماع کے مختلف طریقوں سے گھر کر جریان ، احتلام ، اور سرعت انزال جیسی علامات میں گرفتار ہو جاتا ہے تیسری وجہ یہ ہے کہ مواصلت سے پہلےعورت کو جماع سے آگاہ نہ کرنا ہے اور خود ان خیالات میں غرق ہو کر انتشار کامل نہ ہونے سے قبل ہی اچانک حملہ کر دینا ہے
چوتھے عورت کی شہوت کو مشتعل نہ کرنا ہے !!
جس روز پرو گرام ہو صبح سے ہی گھر میں کہہ دیا جاۓ کہ آج جماع کریں گے تو اس سے اول عورت نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن کر تیار ہو جاتی ہے دوم اس کے دل میں صبح سے ہی جماع کے لطف انگیز خیالات سے میٹھی میٹھی شہنائیاں بجنے لگتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو اس وقت خاص کیلۓ تیار کر لیتی ہے اور جب مرد اس کے ساتھ لیٹ جاتا ہے تو اس وقت اگر مرد اسے مزید شہوت انگیز حرکات سے تیار کر لےتو چند ہی لمحات میں عورت ڈسچارج ہو کر اپنے مرد پر فدا ہو جاتی ہے.
Post No 21 👇
جماع کا طریقہ اور اس کے چند آداب و مسائل
دین اسلام انسانی زندگی کے تمام تقاضے بحسن وخوبی پورا کرتا ہے بلکہ زندگی کے تمام امور کےلئےپاکیزہ اصول اور فطری نظام پیش کرتا ہے۔ اللہ تعالی حق بات کہنے سے نہیں شرماتا، اس نے ہمیں اپنے پیغمبر کے ذریعہ زندگی کی چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بتلادی۔ نکاح اور بیوی سےجماع شرمگاہ کی حفاظت کے ساتھ افزائش نسل کا سبب ہے پھر اللہ اتنی بڑی بات کیسے نہیں بتلاتا، یہ بھی ہمیں بتلادیا۔آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں اس میں برائی فیشن اوربے حیائی عام سی بات ہوگئی ہے۔ اللہ نے ہمیں کفر وضلالت سے نجات دے کر ایمان وہدایت کی توفیق بخشی ہے، ہمیں ہمیشہ اپنا قدم بڑھانے سے پہلے سوچنا ہےکہ کہیں کوئی غلطی تو نہیں ہورہی ہے، ہرہرقدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہے۔
پیدائش کے بعد جب کوئی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھتا ہے تو اسے فطری سکون حاصل کرنے کے لئے شریک حیات کی ضرورت پیش آتی ہے، اسلام نے شریک حیات بنانے کےلئے نکاح کا پاکیزہ نظام پیش کیا ہے۔ نکاح سے انفرادی اور سماجی دونوں سطح پہ فساد وبگاڑ کا عنصر ختم ہوجاتا ہے اور گھر سے لیکر سماج تک ایک صالح معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے۔
نکاح کرکے دو اجنبی آپسی پیار ومحبت میں اس قدر ڈوب جاتے ہیں جہاں اجنبیت عنقا اور اپنائیت قدیم رشتہ نظر آتا ہے۔میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس بن جاتےہیں، پاکیزہ تعلق یعنی عقد نکاح کے بعد آپس کی ساری اجنبیت اور سارا پردہ اٹھ جاتا ہے گویا دونوں ایک جاں دو قالب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کا بندوں پر بڑا احسان ہے۔ میاں بیوی کے جنسی ملاپ کو عربی میں جماع اور اردو میں ہمبستری سے تعبیر کرتے ہیں۔ جس طرح اسلام نے نکاح کاپاکیزہ نظام دیا ہے اسی طرح جماع کےبھی صاف ستھرےرہنما اصول دئے ہیں، ان اصولوں کی جانکاری ہر مسلم مردوخاتون پر ضروری ہے۔ سطور ذیل میں جماع کا طریقہ اور اس سے متعلق آداب ومسائل بیان کررہاہوں۔
یہودیوں کا خیال تھا کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کرنے سے لڑکا بھینگا پیدا ہوگا، اللہ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّىٰ شِئْتُمْ ۖ (البقرة:223)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں، لہذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جس طرح سے چاہیں جماع کرسکتے ہیں، شوہر کے لئے بیوی کی اگلی شرمگاہ ہی حلال ہے اور پچھلی شرمگاہ میں وطی کرنا حرام ہے چنانچہ اس بات کو اللہ نے اس آیت سے پہلے بیان کیا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ ۖ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ۖ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ ۖ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة:222)
ترجمہ:آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ وہ گندگی ہے حالت حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں ان کے قریب نہ جاؤ، ہاں جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس جاؤ جہاں سے اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔
یہاں پر اللہ حکم دے رہا ہے کہ حیض کی حالت میں بیوی سے جماع نہ کرو اور جب حیض سے پاک ہوکر غسل کرلے تواس کے ساتھ اس جگہ سے جماع کرو جس جگہ جماع کرنے کی اجازت دی ہے۔ حیض اگلی شرمگاہ سے آتا ہے، حیض کا خون آنے تک جماع ممنوع ہےا ور جب حیض بند ہوجائے تو اسی جگہ جماع کرنا ہےجہاں سے خون آرہا تھا۔
” نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ” کی تفسیر صحیح احادیث سے بھی ملاحظہ فرمالیں تاکہ بات مزید واضح ہوجائے۔راوی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی :
(نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ)أي مُقبِلاتٍ ومُدبِراتٍ ومُستَلقِياتٍ يعني بذلِكَ مَوضعَ الولَدِ(صحيح أبي داود:2164)
ترجمہ: تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو یعنی خواہ آگے سے خواہ پیچھے سے خواہ لٹا کر یعنی اولاد والی جگہ سے۔
ایک دوسری روایت میں ابن عباس ہی سے مروی ہے۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ أقبِلْ وأدبِرْ، واتَّقِ الدُّبرَ والحَيضةَ(صحيح الترمذي:2980)
ترجمہ:تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں لہذا تم جس طریقے سے چاہو ان سے جماع کرو خواہ بیوی سے آگے سے صحبت کرو چاہے پیچھے کی طرف سے کرومگر پچھلی شرمگاہ سے بچو اور حیض کی حالت میں جماع کرنے سے بچو۔
آج کے پرفتن دور میں میاں بیوی کو اسلام کی یہ بات جاننی چاہئے اور اسے ہی عملی زندگی میں نافذ کرنا چاہئے، جولوگ فحش ویڈیوز دیکھ کر غلط طریقے سے منی خارج کرتے ہیں اس کی زندگی سے حیا نکل جاتی ہے، لمحہ بہ لمحہ بے حیائی کی راہ چلنے لگتا ہے۔یاد رکھیں، بیوی سے اسلامی طریقے سے جماع کرنا بھی باعث ثواب ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
وفي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، قالوا: يا رَسولَ اللهِ، أَيَأتي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكونُ له فِيهَا أَجْرٌ؟ قالَ: أَرَأَيْتُمْ لو وَضَعَهَا في حَرَامٍ أَكانَ عليه فِيهَا وِزْرٌ؟ فَكَذلكَ إذَا وَضَعَهَا في الحَلَالِ كانَ له أَجْرٌ.(صحيح مسلم:1006)
ترجمہ: اور(بیوی سے جماع کرتے ہوئے) تمہارے عضو میں صدقہ ہے۔صحابہ کرام ﷺ نے پوچھا:اے اللہ کے رسول ﷺ !ہم میں سے کوئی اپنی خواہش پوری کرتا ہے تو کیا ااس میں بھی اجر ملتا ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا:بتاؤاگر وہ یہ(خواہش) حرام جگہ پوری کرتا تو کیا اسے اس گناہ ہوتا؟اسی طرح جب وہ اسے حلال جگہ پوری کرتا ہے تو اس کے لئے اجر ہے۔
اب نیچے جماع کے چندآداب و مسائل ذکر کئے جاتے ہیں۔
(1) بیوی سے جماع عفت وعصمت کی حفاظت، افزائش نسل اور حرام کام سے بچنے کی نیت سے ہو، ایسی صورت میں اللہ نہ صرف جماع پہ اجر دےگا بلکہ نیک اولاد سے بھی نوازے گااوردنیاوی واخروی برکتوں سے نوازے گا۔
(2) جماع شہوت رانی نہیں ہے بلکہ زوجین کے لئے سکون قلب اور راحت جاں ہے، اس لئے قبل از جماع شوہر بیوی سے خوش طبعی کی بات کرے اور جماع کے لئے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر راضی کرے۔
(3) جماع سے قبل یہ دعا پڑھنا مسنون ہے : بسْمِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وجَنِّبِ الشَّيْطَانَ ما رَزَقْتَنَا(صحيح البخاري:3271)
ترجمہ:اے اللہ!ہمیں شیطان سے علیحدہ رکھ اور تو جو اولاد ہمیں عنایت فرمائے اسے بھی شیطان سے دور رکھ۔ "پھر اگر انھیں بچہ دیا گیا تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکے گا۔
(4) جماع کی جگہ آواز سننے والا اور دیکھنے والا کوئی نہ ہو یعنی ڈھکی چھپی جگہ ہواور جماع کی حد تک شرمگاہ کھولنا کافی ہے تاہم ایک دوسرے کو دیکھنا اور مکمل برہنہ ہونا آپس میں جائز ہے، جس حدیث میں مذکور ہے کہ جماع کے وقت بیوی کی شرمگاہ دیکھنے سے اندھے پن کی بیماری لاحق ہوتی ہے اسے شیخ البانی نےموضوع حدیث قراردیاہے۔ اوراسی طرح وہ ساری احادیث بھی ضعیف ہیں جن میں مذکور ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک دوسرے کی شرمگاہ نہیں دیکھیں۔
(5) بحالت احرام اور بحالت روزہ جماع ممنوع ہے، باقی دن ورات کے کسی حصے میں جماع کرسکتے ہیں۔ حالت حیض اور حالت نفاس میں صرف جماع کرنا منع ہےمگر جماع کے علاوہ بیوی سے لذت اندوز ہونا جائز ہے۔ اگر کسی نے حیض کی حالت میں جماع کرلیا تو ایک دینا ر یا نصف دینا صدقہ کرنا ہوگا ساتھ ہی اللہ سے سچی توبہ کرے تاکہ آئندہ اللہ کا حکم توڑ کر معصیت کا ارتکاب نہ کرے۔ یہی حکم نفاس کی حالت میں جماع کا ہے البتہ صحیح قول کی روشنی میں مستحاضہ سے جماع کرنا جائز ہے۔
(6) بیوی کی اگلی شرمگاہ میں جماع کرنا حیض ونفاس سے پاکی کی حالت میں جائز ہے اورجماع کرنے کے لئے بیوی سے بوس وکنار ہونا، خوش طبعی کرنا، جماع کے لئے تیار کرنے کے واسطے اعضائے بدن بشمول شرمگاہ چھونا یا دیکھنا جائز وحلال ہے۔ پھر اگلی شرمگاہ میں جماع کے لئے جو کیفیت وہیئت اختیار کی جائے تمام کیفیات جائز ہیں۔ یاد رہے جماع کی خواہش بیدار ہونے اور اس کا مطالبہ کرنے پر نہ شوہربیوی سے انکار کرے اور نہ ہی بیوی شوہر سے انکار کرے۔
(7) شوہر کے لئے بیوی کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اسے چومنا بے حیائی ہے۔ اسی طرح بیوی کے لئے مرد کی شرمگاہ چھونے اور دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے مگر اسے چومنا اور منہ میں داخل کرنا بے حیائی ہے۔ ان دو باتوں کا ایک جملے میں خلاصہ یہ ہے کہ عورت کی شرمگاہ چومنا اور منہ سے سیکس(اورل سیکس) کرنا سراپابے حیائی ہے اور اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کے خلاف ہے۔
(8) میاں بیوی کا ایک دوسرے سے غیرفطری طریقے سے منی خارج کروانا بھی متعددجسمانی نقصانات کے ساتھ بے حیا لوگوں کا راستہ اختیار کرنا ہے، مومن ہر کام میں حیا کا پہلو مدنظر رکھتا ہے۔ عموما شوہر اپنی بیوی کو غیرفطری طریقہ مباشرت اپنانے اور بے حیائی کا اسلوب اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے ایسی عورت کے سامنے عہد رسول کی اس انصاری عورت کا واقعہ ہونا چاہئے جس کے قریشی یعنی مہاجرشوہر نے اس سے اپنے یہاں کے طریقہ سے مباشرت کرنا چاہاجوانصاری کے یہاں معروف نہ تھا تو اسکی بیوی نے اس بات سے انکار کیا اور کہا ہم صرف ایک ہی انداز سے جماع کے قائل ہیں لہذا وہی طریقہ اپناؤ یا مجھ سے دور رہو۔ یہاں تک کہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی اور اس وقت قرآن کی آیت (نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أنَّى شِئْتُمْ) نازل ہوئی جس کی تفسیر اوپر گزرچکی ہے۔ واقعہ کی تفصیل دیکھیں: (صحيح أبي داود:2164)
(9) نبی ﷺکا فرمان ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کی دبر میں آتاہے،وہ ملعون ہے(صحیح ابی داؤد:2162)۔لہذا کوئی مسلمان لعنتی کام کرکے خود کوقہر الہی کا سزاوار نہ بنائے۔ کسی سے ایسا گھناؤنا کام سرزد ہوگیا ہو تو وہ فورا رب کی طرف التفات کرے اور اللہ سے توبہ کرکے گناہ معاف کرالے۔جہاں تک لوگوں کا یہ خیال کرنا کہ بیوی کی پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنے سے نکاح باطل ہوجاتا ہے سو ایسی بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔
(10) ایک ہی رات میں دوبارہ جماع کرنے سے پہلے اگر میسر ہو تو غسل کرلیا جائے، یا وضو کرلیا جائے۔ بغیر وضو کے بھی دوبارہ جماع کرسکتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ ایک غسل سے کئی ازواج سے مباشرت فرماتے تھے۔
(11) مرد کی شرمگاہ عورت کی شرمگاہ میں داخل ہونے سے عورت ومرد دونوں پر غسل واجب ہوجاتا ہے چاہے منی کا انزال ہو یا نہ ہو۔ حالت جنابت میں سویا جاسکتا ہے تاہم فجر سے پہلےیا جو وقت ہواس نماز کے واسطے غسل کر لےتاکہ بلاتاخیر وقت پہ نماز پڑھ سکے۔ حالت جنابت میں قرآن کی تلاوت نہیں کرسکتے مگرذکرو اذکار، دعاوسلام، کام کاج، بات چیت،کھاناپینا سب جائز ہیں حتی کہ سحری بھی کھاسکتے ہیں۔
(12)جب جماع کی حالت میں اذان ہونے لگے یا اقامت کی آواز سنائی دے تو اس عمل کو جاری رکھنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے جلد فراغت حاصل کرکے اور غسل کرکے نمازادا کریں۔یاد رہے اذان سننے کے بعد بھی قصدا بستر پر لیٹے رہنا حتی کہ اقامت ہونے لگے تب جماع کرنا ہماری کوتاہی اور نماز سے غفلت ہے۔جہاں تک اذان کے جواب کا مسئلہ ہے تو یہ سب پر واجب نہیں بلکہ فرض کفایہ اوربڑے اجر وثواب کا حامل ہے اس لئے میاں بیوی سے بات چیت یابوس وکنار کے دوران جواب دینا چاہیں تو دینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جماع کے وقت اذان کا جواب دینے سے علماء نے منع کیا ہے، جب اس عمل سے فارغ ہوجائیں تو بقیہ کلمات کا جواب دے سکتے ہیں۔
(13) اولاد کے درمیان ضرورت کے تحت وقفہ کرنے کی نیت سے جماع کرتے ہوئے منی شرمگاہ کے باہر خارج کرنا جائز ہے، شوقیہ ایسا کرنے سے بہرصورت بچنا چاہئے کیونکہ نکاح کا اہم مقصد افزائش نسل ہے۔
(14) میاں بیوی کی خلوت اور جماع کی باتیں لوگوں میں بیان کرنا بے حیا ئی کی علامت ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس عمل سے امت کو منع فرمایا ہے۔ اس بات سے ان بے حیاؤں کو نصیحت لینا چاہئے جو جماع کی تصویر یا ویڈیو بناتے ہیں پھراسے لوگوں میں پھیلاتے ہیں۔ نعوذباللہ کتنے ملعون ہیں فحش ویڈیوز بنانے، پھیلانےاوردیکھنے والے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
كلُّ أمَّتي مُعافًى إلَّا المُجاهِرينَ، وإنَّ منَ المُجاهرةِ أن يعمَلَ الرَّجلُ باللَّيلِ عملًا، ثُمَّ يصبِحَ وقد سترَه اللَّهُ، فيقولَ : يا فلانُ، عمِلتُ البارحةَ كذا وَكذا، وقد باتَ يسترُه ربُّهُ، ويصبِحُ يَكشِفُ سترَ اللَّهِ عنهُ( صحيح البخاري:6069)
ترجمہ:میری تمام امت و معاف کردیا جائے گا مگر جو اعلانیہ گناہ کرتے ہیں۔ علانیہ گناہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص رات کے وقت گناہ کرتا ہے باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈالا ہوتا ہے لیکن صبح ہوتے ہی وہ کہنے لگتا ہے: اے فلاں! میں نے رات فلاں فلاں برا کام کیا تھا رات گزر گئی تھی اور اس کے رب نے اس کا گناہ چھپا رکھا تھا جب صبح ہوئی تو وہ خود پر دیےگئے اللہ کے پردے کھو لنے لگا۔
اللہ تعالی ہمارے اندر اسلامی غیرت وحمیت پیدا کردے، حیا کی دولت سے مالامال کردے، بے حیائی سے کوسوں میل دور کردے اور مرتے دم تک اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پہ اخلاص کے ساتھ عمل کرتے رہنے کی توفیق بخشے۔ آمین
Post No 22 👇
جب کوئی عورت یہ سنتی ہے کہ اس کا شوہر دوسری شادی کرنے والا ہے
اس وقت سے اس عورت کی زندگی میں زلزلہ سا برپا ہوجاتا ہے پھر دونوں میاں بیوی میں جھگڑے لڑائی، مارپیٹ ، گالی گلوچ حتی کہ دو خاندانوں میں تنازع کھڑا ہوجاتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسری شادی گناہ ہے؟ یا پہلی بیوی پر ظلم ہے؟
یا ایک کے ساتھ عدل اور دوسرے کے ساتھ نا انصافی ہے ؟
ان سوالوں کو شریعت کے میزان پر تولتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ دوسری شادی یا بیک وقت ایک سے زائد شادی کا مردوں کو اللہ نے حق دیا ہے ،
یہ کوئی نہ گناہ ہے ، نہ کسی پر ظلم ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ نا انصافی ہے ۔
اللہ تعالی اگر مردوں کو ایک سے زائد شادی کی اجازت نہیں دیتا تو کوئی مرد دوسری شادی نہیں کرتا ، دوسری شادی پر عمل دراصل اسلامی حکم کی وجہ سے ہے ایسے میں کسی مسلم خاتون کا اپنے شوہر کو دوسری شادی سے روکنا شرعاً غلط ہے۔
عہد صحابہ میں ایسی کوئی خاتون نہیں ملتی جس نے اپنے شوہر کو دوسری شادی سے منع کیا ہو یا دوسری شادی کے نام پر ہنگامہ کھڑا کیا ہو، حقیقت میں دوسری شادی پہ موجودہ دور کا ہنگامہ ہندوانہ سماجی اثر کا نتیجہ ہے جہاں ہندو میریج ایکٹ کے تحت انہیں ایک ہی شادی کی اجازت ہے ورنہ اسلامی ممالک میں آج کے پرفتن دور میں بھی ایسا ہنگامہ دیکھنے کو نہیں ملتا جو برصغیر میں پایا جاتا ہے ۔
ہر مرد متعدد شادی کا متحمل نہیں ہوسکتا تاہم بہت سارے تعدد ازدواج کی صلاحیت رکھتے ہیں ،میں سمجھتا ہوں ان تمام باصلاحیت مردوں کو اپنی صلاحیت بروئے کار لانی چاہئے ۔اس سے ایک دو نہیں سیکڑوں مثبت اثرات فرد و معاشرہ پر مرتب ہوں گے ۔ آپ ذرا تعدد ازدواج کی دنیا میں داخل ہو کر سوچیں کیا پھر کوئی نکاح مہنگا ہوگا؟ کوئی باپ بیٹیوں کی شادی کے بوجھ تلے دبا ہوگا؟ کسی غریب کی کوئی بیٹی گھر میں بیٹھی ہوگی یا شادی کے لئے دم توڑے گی؟ سماج کی معذور و بدصورت لڑکی شادی کے لئے ترسے گی ؟ ایک سے زیادہ خواہش والا مرد خواہش کی چکی میں پستا رہے گا ؟
کیا زنا کے بڑھتے واقعات کم نہیں ہوں گے ؟
آج کے ماحول میں شادی اس قدر دشوار اور خرچیلی ہے کہ ایک باپ بیٹی کی پیدائش کے وقت سے ہی اس کی شادی کے لئے پائی پائی جمع کرنے لگ جاتا ہے خصوصا غریب باپ ۔
میرا ماننا ہے کہ مسلمان شادی اسلام کے مطابق کر لے اور مالدار طبقہ امانتداری سے زکوۃ نکالا کرے تو پھر مسلم سماج میں نہ غریبی ہوگی اور نہ بدامنی ۔ایسا سماج اس قدر ترقی یافتہ ہوگا کہ اس کا ہر فرد پرامن زندگی گزار رہا ہوگا۔
اتنی لمبی تمہید ان بہنوں کو سمجھانے کی لئے باندھی ہے جو دوسری شادی کو اپنے حق میں عذاب سے بدتر سمجھتی ہیں۔
دراصل یہ اسلامی بہنوں کی غلط فہمی ہے جو برے سماج کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے اسلامی سماج بنایا ہی کب ؟
جہاں اسلامی پردہ ہو، اسلامی اخوت ہو، اسلامی طور پر تجارت ومعاملات ہوں، نیکی کی دعوت اور برائی پر نکیر ہو۔
جب سماج میں برائی ہوگی تو اس کے برے اثرات زندگی کے تمام مراحل پر پڑیں گے ۔ آپ سوچتی ہیں کہ دوسری شادی سے ہمارا حق ماراجائے گا ،ہمارے بچوں کی حق تلفی ہوگی ، ہم سے شوہر کی محبت کم ہوجائے گی ، ہماری آزادی چھن جائے گی ، ہماری ضرورتیں اور شوق پورے نہیں ہوں گے وغیرہ ۔
پہلے تو آپ یہ ذہن بنائیں کہ دوسری شادی آپ کے اوپر کوئی ظلم یا آپ کے حق میں کوئی عذاب نہیں ہے ، اگر ایسا ہوتا تو پھر اکیلی بیوی ہمیشہ نعمت میں رہتی ، اسے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوتی، کبھی اس کو طلاق نہیں ہوتی اور اپنے شوہر کے ساتھ کبھی جھگڑا نہیں ہوتا جبکہ سماجی حالات اس کے برعکس ہیں ۔ عموما اپنے سماج میں ایک ہی شادی ہوتی ہے مگر میاں بیوی کے درمیان بہت تنازعات دیکھنےکو ملتے ہیں جن کے باعث اکثر رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ اس لئے آپ یہ نہ سوچیں کہ اکیلی ہونے سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ؟
پھر اپنے شوہر کی دوسری شادی پہ آپ کا کیا رویہ ہونا چاہئے؟
اس تناظر میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ کو اسلام کی بنیادی معلومات ہونی چاہئے تاکہ آپ اسلام کے سائے میں زندگی گزار سکیں،آپ کے شب وروز عبادت اور فرائض کی ادائیگی میں گزریں ۔
زندگی کا دوسرا نام پریشانی ہے ، اس لئے اسے جھیلنے کا ہنر سیکھیں ، ذرا غور کریں کہ پہلے والدین کے یہاں تھیں تو کتنا خوش تھیں ، شادی کےبعد کس قدر مسائل آگئے ، اگر کچھ مسائل شوہر کی دوسری شادی سے پیدا ہوتے ہیں تو آپ کو گھبرانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ اپنے حقوق اور فرائض کو پہچانیں اور انہیں بخوبی انجام دیتے رہیں کبھی آپ غمگین نہیں ہوں گے بھلے مسائل میں گھرے رہیں ۔
شوہر میں دوسری شادی کا خیال پائیں تو دیکھیں کہ کیا وہ دو بیویوں میں انصاف کرسکیں گےاور ان کی رہائش واخراجات برداشت کرسکیں گے ؟ اگر ہاں تو انہیں خوشی خوشی شادی کرنے کا کہیں پھر آپ کو کس بات کا دکھ ہے ؟
ایک بات اوپر یہ معلوم ہو گئی کہ مردوں کو ایک سے زائد شادی کرنا جائز ہے اس لئے آپ کا دوسری شادی سے روکنا یا طلاق کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں ہے ، ایک مزید بات توکل وعقیدہ سے متعلق ہے وہ یہ ہے کہ دوسری شادی پہ پہلی بیوی سوچتی ہے کہ ہمارے حصے کی روزی دوسری عورت اور اس کی اولاد چھینے گی جبکہ اللہ نے ماں کے پیٹ میں سب کا نصیب اور رزق لکھ دیا ہے ، کوئی کسی دوسرے کا نصیب اور رزق نہیں چھین سکتا ۔
آپ اس پہلو سے بھی غور کر کے دیکھیں کہ شوہر کی ذات پر آپ کا کتنا اختیار ہے ،کیا وہ آپ کی ایسی ملکیت ہے جس پر کسی دوسرے کا ادنی سا بھی حق نہیں ہے ؟
نہیں ایسی بات نہیں ہے ،شوہر کی ساری جائیداد بھی بیوی کی نہیں ہے،اس کا چوتھائی یا آٹھواں حصہ ہے۔ شوہر کے ایک لفظ طلاق سے آپ کا سارا رشتہ ختم ہوجاتا ہے اب وہ مرد کسی سے شادی کرے آپ اس سے بے پرواہ ہیں ۔
پھر دوسری شادی سے روکنا کیسا ہے سوچ کر دیکھیں۔
بسا اوقات مجبوری میں عورت خود ہی اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا حکم دیتی ہے مثلا بچہ نہ ہوتا ہو یا جنسی طور پر شوہر کو خوش نہ کر سکتی ہو یا ہمیشہ بیمار رہتی ہو ،یہ اچھی بات ہے۔
اسی طرح اسلامی بہنوں کو ان عورتوں کا درد بھی محسوس کرنا چاہئے جکی شادی نہیں ہو پا رہی ہیں اور وہ لاکھوں میں ہیں ۔
صحیح بخاری میں ہے کہ قرب قیامت میں عورتوں کی کثرت ہوگی اور آج ہم دنیا میں عورتوں کی کثرت دیکھتے ہیں باوجودیکہ لڑکیوں کا اسقاط ہو رہا ہے ۔ایسے میں تمام عورتوں کے ساتھ انصاف اسی وقت ممکن ہے جب مرد حضرات ایک سے زائد شادی کریں ۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا کہ میرے بعد کوئی اسے نہیں بیان کرے گا ۔ میں نے یہ حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ۔ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا:
لَا تَقُومُ السَّاعَةُ وإمَّا قالَ: مِن أَشْرَاطِ السَّاعَةِ، أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ، وَيَظْهَرَ الجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَا، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حتَّى يَكونَ لِلْخَمْسِينَ امْرَأَةً القَيِّمُ الوَاحِدُ
(صحيح البخاري:6808)
ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یا یوں فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم دین دنیا سے اٹھ جائے گا اور جہالت پھیل جائے گی ، شراب بکثرت پی جانے لگے گی اور زنا پھیل جائے گا ۔ مرد کم ہو جائیں گے اور عورتوں کی کثرت ہو گی ۔ حالت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ پچاس عورتوں پر ایک ہی خبر لینے والا مرد رہ جائے گا ۔
جب کوئی عورت اس نیت سے اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا حکم دیتی ہے کہ کسی مجبور و لا چار عورت کا بھلا ہوجائے تو اس پر اللہ کی طرف سے اجر کا مستحق ہوگی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ایک شخص کی زندگی میں ایک سے زیادہ بیوی ہو تو اس کے یہاں زیادہ مسائل ہوں گے مگر بیویوں کو ان سارے مسائل سے کیا واسطہ ؟ انہیں بغیر خرچ کے محض امور خانہ داری انجام دینا ہے جبکہ کفالت سے لیکر تمام عائلی مسائل کا ذمہ دار مرد ہوتا ہے مثلا بیوی بچوں کا خرچ، رہائش، تعلیم وتربیت اور علاج و معالجہ وغیرہ۔
دوسری شادی کے بعد پریشانی اس بات سے بڑھتی ہے کہ پہلی بیوی اپنی سوکن کو اپنا دشمن سمجھ لیتی ہے ۔سوکن آپ کی دشمن نہیں ہے ، اسے اپنی بہن سمجھیں اور جس طرح شوہر سے پیار کرتی ہیں اپنی اس بہن سے پیار کریں اس طرح دونوں کی زندگی ہنسی خوشی گزرے گی بلکہ دونوں بہنیں گھریلو کام میں ایک دوسرے کو دوست سمجھ لیں تو وہ گھر سنور جائے گی اور دونوں علاحدہ علاحدہ رہتے ہوں تب زیادہ مسائل نہیں ہوتے۔
اس جگہ آپ کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اس کو حفظ کرلیں اوراس کی روشنی میں زندگی گزاریں ان شاء اللہ جس حال میں رہیں گی خوش رہیں گی ۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِيلَ لَهَا: ادْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ
{مسند احمد،الطبرانی الأوسط}
ترجمہ :جب عورت اپنی پانچ وقت کی نماز پڑھ لے ، اپنے ماہ {رمضان } کا روزہ رکھ لے ، اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرلے ، اور اپنے شوہر کی اطاعت کرلے تو اس سے کہا جائے گا کہ جنت میں اسکے جس دروازے سے داخل ہونا چاہے داخل ہوجا ۔
ایک آخری بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ یہ جان لیں شوہر کے دل میں دوسری شادی کا خیال پیدا ہوجانے سے یہ خیال اور بھی پختہ ہوتا جائے گا جب جب آپ منع کریں گی اور جھگڑا لڑائی کریں گی ۔ دوسری شادی سے روکنے کا آپ کو اسلام نے اختیار نہیں دیا جبکہ مرد کو کرنے کا اختیار ہے پھر آپ غور کریں کہ دوسری شادی کے معاملے میں کس کا رویہ اسلام کے مطابق ہے ؟
Post No 23 👇
فحش فلمیں یا تصاویر دیکھنے کے درج زیل نقصانات:
1۔ شرعی طریقے کے خلاف حیوانی طریقے سے جماع پر ابھار کا زریعہ جیسے: بیوی سے پیچھے کی طرف آنا، شرمگاہ کا چاٹنا، شرم اور عفت کا جاتے رہنا اور دوسرے قبیح اعمال کا زریعہ بنتا ہے۔
ان میں سے پیچھے کی طرف جماع ملعون اور شرمگاہ کا چاٹنا کافروں اور جانوروں کا فعل ہیں۔
2۔ نامحرم عورتوں کی طرف متوجہ ہونا، انھیں بُری نظر سے دیکھنا، تعلقات کا بنانا اور زنا کیلئے اسباب پیدا کرنا یعنی دوسروں کے عزت کے درپے ہونا۔
3۔ دل کی سختی، چڑچڑا پن، عبادات میں سستی، اسلامی شعائر سے نفرت (نعوذ باللہ من ذالک)، گناہ اور حرام کاموں کی طرف میلان۔
4۔ اپنی سب سے قیمتی اور چند روزہ زندگی کو ضائع اور برباد کرنا۔
5۔ ایک بے حیا اور شہوت پرست گھرانے کی تشکیل، اہل و عیال کے دینی تربیت میں سستی اور شہوانی خیالات کی زیادتی، والدین اور شوہر کی بے احترامی اور بغاوت۔
6۔ اپنے گھر سے شیطانی اڈہ بنانا، اسلیئے کہ جس گھر میں موسیقی، فلمیں، ناچ گانا ہو اس گھر میں شیطان داخل ہوتا ہے، فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔
7۔ اپنے آپ کو گناہوں کے سمندر میں ڈبونا، اسلیئے کہ فلمیں اور ڈرامے گناہوں کا مجموعہ ہیں۔
8۔ فقط شہوانی خیالات کا ہونا اور اس میں اپنے آپ کو مصروف رکھنا، اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر سے غفلت برتنا۔
Post Number 24 👇
خلوت_کے_گناہ
آج ھمارا ایمان بالغیب انٹرنیٹ اور موبائیل کے ذریعے آزمایا گیا ھے ،جہاں ایک کلک آپ کو وہ کچھ دکھا سکتی ھے جو ھمارے باپ دادا 10، 10 بچے پیدا کرانے کے باوجود دیکھے بغیر اللہ کو پیارے ھو گئے ،، ھم نے خفیہ گروپ بنا کر اپنے اپنے گٹر کھول رکھے ھیں ،،یستخفون من الناس ،، لوگوں سے تو چھپا لیتے ھیں” ولا یستخفون من اللہ و ھو معھم ،، ” مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے کیونکہ وہ ان کے ساتھ ھے ، ھمارا لکھا اور دیکھا ھوا سب ھمارے نامہ اعمال میں محفوظ ھو رھا ھے جہاں سے صرف اسے سچی توبہ ھی مٹا سکتی ھے
یہ سب امتحان اس لئے ھیں تا کہ “لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب۔ ” اللہ تعالی جاننا چاہتا ہے کہ کون کون اللہ تعالی سے غائبانہ ڈرتا ہے۔
یہ لکھنے والے ھاتھ اور پڑھنے والی آنکھیں ، سب ایک دن بول بول کر گواھی دیں گے ،،
: { الْيَوْم نَخْتِم عَلَى أَفْوَاههمْ وَتُكَلِّمنَا أَيْدِيهمْ وَتَشْهَد أَرْجُلهمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ )( یاسین – 65)
” آج ہم انکے منہ پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ ھم سے بات کریں گے اور ان کے پیر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔‘
’’ گناہ کے دوران ھمارا کوئی بیوی بچہ یہانتک کہ بلی یا ھوا کا جھونکا بھی دروازہ ھلا دے تو ھماری پوری ھستی ھل کر رہ جاتی ھے ،، کیوں ؟ رسوائی کا ڈر ،، امیج خراب ھونے کا ڈر ،، اس دن کیا ھو گا جب ھماری بیوی بچے اور والدین بھی سامنے دیکھ رھے ھونگے اور دوست و احباب بھی موجود ھونگے ،، زمانہ دیکھ رھا ھو گا اور تھرڈ ایمپائر کی طرح کلپ روک روک کر اور ریورس کر کے دکھایا جا رھا ھو گا ،، ھائے رے رسوائی ،،،،،،،،،،،،،،،، آج بھی صرف توبہ کے چند لفظ اور آئندہ سے پرھیز کا عزم ھمارے پچھلے کیئے ھوئے کو صاف کر سکتا ھے اور ھمیں اس رسوائی سے بچا سکتا ھے ،، اللہ کے رسول دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میرے باطن کو میرے ظاھر سے اچھا کر دے ،،
خلوت کے گناہ انسان کے عزم و ارادے کو متزلزل کر کے رکھ دیتے ھیں یوں ان میں خود اعتمادی اور معاملات میں شفافیت سے بھی ھاتھ دھو بیٹھتا ھے.
اللّہ تعالٰی ہم سب کو ہدایت نصیب فرمائے
آمین ثم آمین یا رب العالمین
Post Number 25 👇
سوال: میں بھی اُن چند لوگوں میں سے ہوں جس نے شرم کی وجہ سے ابھی تک کسی ڈاکٹر سے اس مسلے کے بارے میں نہیں پوچھا۔ اور چاہتا ہوں کہ آج آپ سے اس کا جواب حاصل کروں۔
بچپن سے میں مشت زنی یا جلق بازی (masturbation) کے قبیح کام میں مبتلا ہوں۔ کوشش کے باوجود اس سے جان نہیں چھڑا سکتا تھا۔ ابھی میری شادی قریب ہے اور مجھے ڈر ہے کہ میں مباشرت کیسے کرونگا۔ اور اس استمناء (مشت زنی) نے مجھے بہت کمزور بنا دیا ہے۔ میری رنگت پیلی، جسم کمزور اور میرا عضو تناسل بہت چھوٹا اور پتلا ہو گیا ہے اس وجہ سے بھی میں بہت پریشان ہوں۔ اور دوسری بات یہ کہ اب میرے دماغ پر اکثر بوج ہوتا ہے۔ معمولی باتوں پر مجھے غصہ آتا ہے۔ سارا دن میں سوچوں میں گم رہتا ہوں۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھتا ہو یا دوستوں کے ساتھ، دل چاہتا ہے کہ اکیلے رہوں اور سوچوں میں گم ہو جاؤں۔ اور جب کبھی آدھی رات کو اٹھو تو 20، 30 منٹ تک سوچتا رہتا ہوں۔ میں اس سے بہت تنگ ہوں۔ لہذا ان باتوں سے چٹکارے پانے کا کوئی علاج آپکے پاس ہو تو ضرور بتائے گا۔ اور عضو تناسل کی سائز کو بڑھانے کیلئے بھی کوئی دوا وغیرہ ہو تو مطلع فرمائے گا۔
جواب: جلق بازی یا مشت زنی وہ عمل ہے جس میں مرد یا عورت اپنے ہاتھ وغیرہ سے خود لذتی حاصل کرتی ہے۔ یہ فعل جنسی تعلقات کے مخالف اس لئے ہے کہ جنسی تعلقات میں انسان عملا اپنے مخالف راہ سے جنسی تعلق قائم کرتا ہے اور اچھے انداز میں ارضا ہو جاتا ہے۔ لیکن مشت زنی میں اکیلے حسی اعضاء کی مدد سے ارضا حاصل ہو جاتا ہے۔ اور ہر کام آلہ تناسل تک محدود ہو جاتا ہے۔ یہ مجازی ارگیزم ہے۔ حقیقی جنسی تعلقات میں جسم کے تمام اعضاء فعال ہوتے ہیں اور پانچوں حواس ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ لیکن مشت زنی میں اکیلے آلہ تناسل کا حسی حصہ فعال ہوتا ہے اور اسطرح دماغ پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے یہاں تک کہ انزال ہو جائے۔ مشت زنی میں جسم کے دوسرے اعضاء جیسے آنکھیں، کان اور حتیٰ کہ زائقے کی حِس کام نہیں کرتی۔ اس میں جب دماغ پر دباؤ آتا ہے تو طبعا ایک مشکل پیدا ہوتی ہے۔ اور انسان روحانی طور پر سخت دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جو شخص اس قبیح فعل کا عادی ہو جائے تو پھر حد سے زیادہ اس کام کو کرتا ہے جس کے نتیجے میں بہت زیادہ انرجی ضائع ہوتی ہیں۔ اور آلہ تناسل بھی کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اور جو منی خارج ہوتی ہیں اسے دوبارہ مکمل ہونے میں 40 دن لگتے ہیں۔ منی بنانے کیلئے پھر بدن کو جسم کے مختلف حصوں سے اجزاء درکار ہوتے ہیں
اس پلید اور فعل قبیح کے نتیجے میں حافظے کی کمزوری، بھوک کا نہ لگنا، ہاضمے کی خرابی، جگر کا صحیح کام نہ کرنا، بدن کا ڈھانچہ بن جانا، مالیخولیا، خون کی کمی، گوشہ گیری، بالوں کا گرنا، آنکھوں کی کمزوری، ضعف، عرق النساء، حسد ،کینہ اور چڑچرا پن اور دوسرے بہت سے امراض کا موجب ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ یہ مرض روز بروز بڑھ رہا ہے اور خاص کر وہاں جہاں نوجوانوں کو دینی تعلیم اور کھیلوں کے کم مواقع میسر ہوں۔ حکمران نوجوانوں کو بہتر سمت میں لے جانے کیلئے کوئی طویل مدتی پروگرام نہیں رکھتی۔ جس سے معاشرے میں فساد ہی بڑھ رہا ہے۔
تو آپ سب سے گزارش ہے کہ اس گناہِ کبیرہ اور پلید کام سے بچیں۔ ورنہ بعد میں خدا نخواستہ بہت پچتاواں ہوگا۔
"مشت زنی کرنے والے شخص پر اللہ کی لعنت برستی ہے۔"
Post Number 26 👇
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
عورت کوشوہر کی زیادہ ضرورت کب ہوتی ہے
آج کا موضوع ہے کہ عورت کب قربت کو بہت زیادہ دل کرتا ہے اور وہ کتنی دیر قربت کرنا چاہتی ہے۔ عورت جب حیض یعنی ماہو اری سے فا رغ ہوتی ہے تو اس کا بیضہ بچہ د ا نی میں آجاتا ہے۔ جو عورت کےلیے شر م کا باعث بنتا ہے۔ اور چار سے پانچ دن تک بیضہ بچہ دانی میں رہتا ہے۔
یعنی عورت زیادہ بے قرار ہوتی ہے وہ اپنے شوہر کے ساتھ قربت کرے۔ میں ان تمام مردوں کو نصیحت کرنا چاہوں گی۔ آپ اگر تھک کے ہارے بھی آتے ہیں۔ یہاں قربت میں۔ تو اپر ڈالتے ہیں۔ تو ایام کا خاص خیال رکھیں۔ تاکہ آپ کی بیوی ان مخصوص دنوں میں قربت جیسی لذت سے محرو م نہ رہ سکے ۔ اس لیے آپ یہ فرض ہے کہ جس طرح آپ کو اپنی ضرورتوں کی فکر ہوتی ہے۔ ویسے مرد پر فرض ہے کہ عورت کی جسمانی ضرورت کا بھی خیال رکھے۔ اور اس کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ عورت کتنی دیر قربت کرنا چاہتی ہے۔ ان ایام کے مخصو ص دنوں میں عورت کے اندر شہوت بہت عروج پر ہوتی ہے۔ اگر مرد صیحح طریقے سے کام کرتا ہے۔ اور وہ بہت زور سے جھٹکے لگاتا ہے تو عورت بہت جلد ہی فارغ ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر عورت دس منٹ میں فار غ ہوتی ہے ۔تو ان دنوں عورت پانچ منٹ میں ہی فارغ ہوجاتی ہے۔ وہ جوڑے جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے۔ اور ایک سے زیادہ بار قربت کرتے ہیں۔ تو بیوی شوہر کو منع نہیں کرتی۔ ان دنوں قربت کرنے کا فائدہ یہ ہوتاہے۔ کہ عورت کے اندر شہو ت کے چانسز بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔ ہر مرد اور عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے۔ کہ وہ جلد از جلد ماں باپ بنیں۔ بیو ی سے قربت کرنا نہایت ثواب کا کام ہے۔
اللہ پا ک سب کو اولاد نصیب کرے۔ اس کو طریقہ کہنا غلط ہو گا۔ کیونکہ یہ کوئی ایک عمل نہیں ہے بلکہ بہت سارے ٹوٹکوں کا مجموعہ ہے . ان سب کی ہمیشہ ضرورت بھی نہیں ہوتی . مختلف ماحول میں مختلف چیزیں کام آتی ہیں . لہٰذا ان کو سمجھ کر ان کی پریکٹس کرنی پڑتی ہے . اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے سائیکل چلانا سیکھنا . ابتدا میں آپ سائیکل پر سے بار بار گرتے ہیں . اپنے آپ کو متوازن کرنے کے لیے مختلف حربوں کا سہارا لینا پڑتا ہے . لیکن کچھ عرصے کے بعد آپ کے جسم کے مختلف حصے اور دماغ ٹرینڈ ہو جاتے ہیں۔ اور یہ مل کر خود کار طریقے سے کام کرنے لگ جاتے ہیں . حتی کہ آپ کو سوچنا بھی نہیں پڑتا کہ کس وقت کیا کرنا ہے . بس مزے سے سائیکل چلاتے ہیں . جس طرح تیراکی سیکھنے کے شروع میں آپ کو کچھ چیزوں کا سہارا لینا پڑتا ہے مثلاً ہوا والی جیکٹ پہننا اور پول کے کنارے لگے پائپ کا سہارا لے کر اپنے آپ کو پانی میں بیلنس کرنا اسی طرح مباشرت کے دورانئے کو بڑھانے کی پریکٹس کے شروع میں بھی آپ کو کچھ چیزوں کا سہارہ لینا پڑے گا . جیسے جیسے آپ کا دورانیہ بڑھتا جائے گا ان چیزوں کی ضرورت بھی ختم ہوتی جائے گی . مباشرت کے دوران اگر آپ ساری توجہ صرف دخول اور سٹروک پر رکھیں گے تو بہت جلد انزال ہو جائے گا .
سیکس کو صرف دخول تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس سے مطلقہ ہر چیز کا پورے طریقے سے مزا لیں . اس سے ایک تو آپ کو لطف بھی زیادہ آئے گا اور دوسرے آپ کا ذھن بھی دخول کے ساتھ ساتھ دوسری چیزوں میں مصروف رہے گا تو دورانیہ بڑھنا شروع ہو جائے گا . سب سے پہلے تو بہتر ہے کہ آپ ہلکی پھلکی ورزش کریں اور بیڈ میں جانے سے پہلے شاور لے کر فریش ہو جائیں . پھر کمرے کے ماحول پر توجہ دیں . اگر ہو سکے تو کمرے میں تازہ پھول لگائیں . موتیے اور گلاب کے پھول آپ کو اور آپ کی ساتھی کو مسحورکن احساس دیں گے . بیڈ کے آس پاس گلاب کا عرق رکھیں اور سب سے اہم چیز پرفیوم والی کینڈل جلائیں . ہلکی پھلکی کھانے کی چیزیں یا فروٹ بھی سائیڈ ٹیبل پر رکھیں اور کمرے میں ایئر فریشنر چھڑکیں . آپ کو محسوس ہو رہا ہو گا کہ یہ سارے لوازمات بہت زیادہ ہیں اور ہر روز ممکن نہیں لیکن تسلی رکھیں آپ کو ساری زندگی یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی . یہ سب صرف پریکٹس کے شروع کے لیے ضروری ہے . رفتہ رفتہ ان سب چیزوں کی ضرورت ختم ہوتی جائے گی .۔
Post Number 27 👇
(خواتین کا لباس اور حجاب
کیا ہے)
’’حجاب اور لباس‘‘ کا ایک ہی معنی و مفہوم ہے؟آنحضرت ﷺ کے فرمان اور قرآنِ حکیم کے احکام سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حجاب اور لباس دونوں کی الگ الگ حیثیتیں ہیں۔ اسی سبب سے دونوں کے بارے میں الگ الگ احکام آئے ہیں اور ان کا ذکر بھی الگ الگ کیا گیا ہے۔
سورئہ احزاب اور سورئہ نور میں مسلمان عورتوں کو پردے کی بابت تاکید کی گئی ہے اور گھر سے باہر نکلنے کے آداب سکھلائے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’تم اپنے گھروں میں بیٹھی رہو اور پہلی جاہلیت کا سا بناؤ سنگھار مت دکھاتی پھرو۔‘‘ اور ’’اے رسول! مومن عورتوں سے فرمادیں کہ وہ اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زیب و زینت کو ظاہر نہ کریں۔‘‘
لباس سے مراد یہ ہے کہ جسم کو اس احسن طریقے سے چھپانا کہ نہ بہت ظاہر ہو اور نہ رنگ نظر آئے اور نہ دیکھنے والے کو لبھائے بلکہ جسم کو ڈھانپ کر ستر کے تمام تقاضے پورے کرے جبکہ لباس کی اہمیت و افادیت کو اللہ تعالیٰ قرآن میں یوں واضح فرماتے ہیں: ’’اے اولادِ آدم! ہم نے تم پر لباس اسی لیے اتارا ہے کہ تمہارے جسموں کو ڈھانپے اور تمہارے لیے موجبِ زینت ہو۔‘‘ (الاعراف)
ان آیاتِ مبارکہ کے مطالعے سے حقیقت واضح ہوتی ہے کہ لباس کے بارے میں الگ احکام آئے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ دور میں ہم پردے اور لباس میں موجود فرق کو سمجھنے کی قدرت رکھتے ہیں یا نہیں اور خواتین ان حدود و قیود کا خیال رکھتی ہیں یا نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ آج کی مسلم عورت اس سے بے بہرہ ہے۔ پڑھی لکھی خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ پردہ تو آنکھ کا ہے۔ سر ڈھانپ لینے کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ہم نے پردے اور لباس کے احکام کی روح کو فراموش کردیا ہے اور صرف سر ڈھانپ کر اپنی زیب و زینت کی نمائش کرکے اور نامناسب لباس پہن کر اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ حق ادا ہوگیا تو یہ صریحاً غلط ہے۔ چنانچہ مسلمان لڑکیاں جینز شرٹ پہن کر اور سر ڈھانپ کر اتراتی ہیں کہ ہم مسلمان ہیں جبکہ ایسا کرنے والیاں اللہ اور اس کے رسول کے لائے ہوئے قوانین کا مذاق اڑانے والی ہیں۔
حضرت ابوہریرہؓ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں پر لعنت بھیجتے ہیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں۔
ایک دفعہ آنحضرت ﷺ اپنے صحابہ کی مجلس میں تشریف فرماتھے اور قیامت کی نشانیوں کا تذکرہ فرمارہے تھے۔ اس دوران آپؐ نے فرمایا کہ قیامت کے قریب مسلمان بیٹیاں اپنے باپوں اور بھائیوں کے سامنے برہنہ پھریں گی۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا اس دور کے مسلمانوں کے دلوں سے غیرت و حمیت جاتی رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا کہ انھوں نے لباس ایسا زیب تن کیا ہوگا کہ جس میں سے جسم جھلکے گا۔ آج ہمارے ارد گرد ایسا لباس فخر سے پہنا جاتا ہے اور باریک لباس پہننے کو معیوب نہیں سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ بہت سے پڑھے لکے دین دار گھرانوں کی بہو بیٹیاں ایسا لباس زیب تن کرتی ہیں جو جدید فیشن کے تقاضوں کو تو پورا کرتا ہے لیکن ستر کے احکام کو پورا نہیں کرتا۔ موسم گرما میں کسی بھی شاپنگ سینٹر، پارک یا کسی بھی پبلک پلیس پر نکل جائیں، باریک، نفیس، چست، جدید تراش خراش میں ملبوس خواتین دینی احکام کا سرِ عام مذاق اڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایک اور جگہ نبیؐ نے فرمایا: ایسی عورتیں جو بظاہر لباس پہنے ہوئے ہیں، لیکن برہنہ ہیں یہ جنت میں داخل نہیں ہوسکیں گی۔‘‘
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: ’’ایسی عورتیں جو باریک لباس پہنتی ہیں۔ جس سے بدن کا حسن وجمال جھلکتا ہے اس لباس سے جو جنت میں تقویٰ کی بنا ء پر حاصل ہوسکتا ہے محروم رہ جاتی ہیں۔‘‘
ان احادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عورت کے لباس کے لیے یہ شرط ہے کہ کپڑا دبیز ہو، تاکہ جسم نظر نہ آئے۔ کیونکہ لباس کا مقصد ہی جسم کو چھپانا ہے۔ اگر کپڑا شفاف ہو تو اس سے فتنہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث پاک میں ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو اس قدر باریک (لباس) کپڑا زیب تن کریں جس سے جسم نظر آئے۔ ایک دفعہ حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہؓ کے پاس ایک باریک اوڑھنی اوڑھ کر آئیں۔ حضرت عائشہؓ نے دیکھتے ہی اسے پھاڑ دیا اور کہا کہ تمھیں سورئہ نور میں اللہ تعالیٰ کا نازل کیا ہوا حکم معلوم نہیں؟ پھر دوسری اوڑھنی منگواکر انھیں دی۔
مسلم عورت کا لباس اتنا تنگ نہ ہوکہ جسم کی ساخت نمایاں ہو، بلکہ کشادہ اور ڈھیلا ڈھالا ہو، کیونکہ لباس یا کپڑے کا مقصد فتنے کا سدِ باب ہے اور جسم کو چھپانا مقصود ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب عورتیں کشادہ کپڑا استعمال کریں، تنگ کپڑوں سے جسم کا رنگ تو چھپ جاتا ہے لیکن پردے کا مقصود حاصل نہیں ہوتا ہے۔ اسی سلسلے میں حضرت عمرفاروقؓ کا ارشاد ہے کہ اپنی عورتوں کو ایسے کپڑے نہ پہناؤ، جو جسم پر اس طرح چست ہوں کہ سارے جسم کی ہیئت نمایاں ہوجائے۔ اسامہ بن زیدؓ کا بیان ہے کہ رسولؐ اللہ نے مجھے کتان کا سفید شفاف باریک کپڑا دیا، میں نے اسے اپنی بیوی کے تصرف میں دے دیا۔ رسولﷺ نے پوچھا کہ وہ کپڑا کیوں استعمال نہ کیا۔ میں نے جواب دیا کہ اپنی بیوی کو دے دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس سے کہو کہ نیچے کوئی کپڑا پہن کر اسے پہنا کرے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا جب عورت بالغ ہوجائے تو چہرے اور کلائی کے علاوہ اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر نہ آئے۔ چہرے اور ہاتھوں کے سوا تمام جسم کو تمام لوگوں سے چھپانے کا اسلامی حکم واضح ہے۔
اس حکم میں باپ، بھائی اور تمام رشتہ دار محرم مرد شامل ہیں۔ صرف شوہر اس سے مستثنیٰ ہے۔ ایک بار حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ جو کہ آنحضرت ﷺ کی رشتے میں بڑی سالی ہیں، آنحضرت ﷺ کے سامنے باریک لباس پہن کر حاضر ہوئیں، اس حال میں کہ جسم اندر سے جھلک رہا تھا۔ آپؐ نے نظر پھیر لی اور فرمایا: ’’اے اسماء جب عورت سنِ بلوغ کو پہنچ جائے، تو درست نہیں کہ اس کے جسم میں سے کچھ دیکھا جائے ماسوائے اس کے اور یہ کہہ کر آپ نے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا کہ انتہائی لعنت ہے ان عورتوں پر جو لباس پہن کر بھی ننگی کی ننگی رہیں۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ گھر کے اندر بھی لباس کو پہنتے ہوئے اس احتیاط کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ غیر اسلامی اور غیر شرعی لباس نہ ہو۔
ان تمام احادیث و واقعات سے معلوم ہوتا کہ چہرے اور ہاتھوں کے سوا عورت کا پورا جسم ستر میں داخل ہے۔ جس کو اپنے گھر میں اپنے قریب ترین عزیزوں سے چھپانا بھی واجب ہے۔ مسلم عورت شوہر کے سوا کسی کے سامنے نہ اپنے بالوں کو کھول سکتی ہے نہ باریک شفاف یا چست لباس زیب تن کرسکتی ہے۔ خواہ اس کا باپ، بھائی یا کوئی اور محرم رشتہ دارہی کیوں نہ ہو۔ نہ ہی مردوں سے مشابہ لباس استعمال کرنا ایک مومن عورت کو زیب دیتا ہے۔ شرعی لباس ہی حیا اور پاکبازی کی علامت ہے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ خود بھی ستر و حجاب کا اہتمام کریں، اس پر عمل کریں، اس کے ساتھ ساتھ اپنی بچیوں کو بھی کم عمری سے اس کی تربیت دیں، انھیں صاف ستھرا پاکیزہ لباس زیب تن کروائیں تاکہ آئندہ وہ حیا کو اپنا شعار بنائیں۔
Post No 28 👇
سوال:
اگر کوئی شخص رمضان میں بیوی کے ساتھ جماع کے ذریعہ روزہ توڑدے، تو اس کا کفارہ کیا ہے؟ اور اللہ سے وہ اس کی توبہ کیسے کرے؟
جواب
بسم الله الرحمن الرحيم
اگر شوہر بیوی دونوں رمضان کا روزہ رکھے ہوئے تھے اور دونوں نے جان بوجھ کر بلاعذر شرعی جماع کے ذریعہ روزہ توڑدیا تو دونوں کے ذمہ قضا اور کفارہ لازم ہیں، کفارہ یہ ہے کہ شوہر بیوی دونوں دو دو مہینے کے روزے مسلسل رکھیں اور ایک روزہ قضا کا رکھیں۔ اگر درمیان میں وقفہ ہوگیا تو پھر نئے سرے سے شروع کریں، البتہ عورت کو حیض کی وجہ سے جو وقفہ کرنا پڑے وہ معاف ہے، اگر روزہ رکھنے کی طاقت ہے تو ساٹھ دن پے درپے روزے رکھنا لازم ہے اور روزے کی طاقت نہیں تو دونوں وقت ساٹھ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں اور اللہ سے اپنی غلطی اور گناہ کی معافی بھی مانگیں اور آئندہ ایسی غلطی سے بچیں۔ قال في الدر المختار: وإن جامع المکلف آدمیًا أداء أو جومع أو توارت الحشفة في أحد السبیلین․․․ عمداً قضی و کفّر․․․
واللہ تعالیٰ اعلم
Post No 29 👇
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
اسلام و سائنس کی نظر میں حیض کی حالت میں جماع:
وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقره، 222)
اور لوگ آپ سے حیض کا حکم پوچھتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ وہ پلیدی ہے۔ تو حیض میں تم عورتوں سے علیحدہ رہا کرو اور ان سے قربت مت کیا کرو۔ جب تک کہ وہ پاک نہ ہو جائے۔ پھر جب وہ اچھی طرح پاک ہو جائے تو ان کے پاس آؤ جاؤ جس جگہ سے تم کو اللہ نے اجازت دی ہے(یعنی آگے سے) یقینا اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو پاک صاف رہنے والو(ناپاکی سے) کو پسند فرماتا ہے۔
تفسیر:
بالغ عورت کو ہر مہینے آگے کے راستے سے بغیر کسی بیماری کے جو معمول کا خون آتا ہے اس کو حیض کہتے ہیں۔
حیض کی کم سے کم مدّت تین دن اور تین راتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ مدّت دس دن اور دس راتیں ہیں۔ کسی عورت کو تین دن اور تین راتوں سے کم خون آیا تو وہ حیض نہیں ہے۔ بلکہ استحاضہ ہے۔
اسی طرح اگر کسی عورت کو دس دن اور دس راتوں سے زیادہ خون آیا تو جتنے دن، دس دن سے زیادہ خون آیا تو وہ بھی استحاضہ ہے۔ البتہ دس دن اور دس راتیں حیض میں شمار ہوں گی۔
نو برس سے پہلے حیض بالکل نہیں آتا، اسلیئے نو برس سے چھوٹی لڑکی کو جو خون آئے وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ ہے۔
حیض کی حالت میں جماع، نماز، روزہ، طواف، قرآن پاک کی تلاوت، مسجد جانا سب حرام ہیں
وہ خون جو عادت کے خلاف ظاہر ہو جائے وہ بیماری ہے جسے "استحاضہ" کہا جاتا ہے۔ اس میں اوپر زکر کردہ تمام کام جائز ہیں۔ اور اس کی مثال ایسی جیسے کسی زخم یا رگ وغیرہ کسی جگہ سے خون بہے۔
یہود اور مجوسی حیض کی حالت میں اپنی بیویوں کے ساتھ کھانا کھانے، ایک گھر میں رہنے، اور دوسرے امور بھی ناجائز سمجھتے تھے۔ جبکہ عیسائی حائضہ عورتوں کے ساتھ بھی جماع کرتے تھے۔
مسلمانوں نے اس بارے میں رسول کریم ﷺ سے دریافت فرمایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ حیض کی حالت میں جماع حرام ہے۔ لیکن ان کے ساتھ کھانا پینا، ایک ساتھ رہنا، اٹھنا بیٹھنا وغیرہ سب امور جائز ہیں۔ اور یہودیوں کی افراط اور عیسائیوں کی تفریط دونوں مردود ٹھہرے۔
پاک ہونے کی تفصیل یہ ہے کہ مثلا حیض اپنی مدت یعنی 10 دن میں بند ہوگیا تو اب صحبت کرنا جائز ہے۔ اگر خون 6 دن اور 6 راتوں کے بعد بند ہو گیا اور عورت کی عادت بھی 6 دن اور 6 راتیں تھی تو خون کے بند ہونے کے بعد جماع اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ عورت غسل نہ کرے یا ایک نماز کا وقت نہ گزر جائے۔ تو اس کے بعد اس کے ساتھ صحبت جائز ہو جاتی ہے۔ اگر عورت کی عادت 7 یا 8 دن ہو تو ان دنوں کے ختم ہونے پر اس کے ساتھ جماع جائز ٹھہرتا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خالق کائنات زات نے اس بیماری کو گندگی یا ناپاکی کا نام دیا ہے تو اس وجہ سے شوہر کو اس حالت میں صحبت سے دور رہنے کا حکم ہوا ہے۔
پیغمبر ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
جو کوئی حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے صحبت کرے یا کسی نجومی کے پاس گیا اور اس (نجومی) نے جو کچھ کہا اس نے مان لیا۔ تو اس آدمی( جس نے حیض کی حالت میں جماع کیا اور نجومی کی بات مانی) نے محمد پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس سے انکار کیا اور کافر ہوا۔ (ابوداؤد، نسائی، ترمذی، صحیح حدیث شریف)
جب اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا گیا کہ شوہر کو جس کی بیوی حیض سے ہو کنتی اجازت رکھتا ہے؟
اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کیلئے سارا حلال ہے مگر شرم گاہ نہیں۔
حیض کی حالت میں ایک شوہر اپنی بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا اور اسکے علاوہ ہر قسم کے تعلقات اس کے ساتھ رکھ سکتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)
جب تک عورتیں حیض کے بعد اپنی پوری صفائی(غسل) نہ کرے اس وقت تک ان سے صحبت نہیں کرنی چاہیئے۔ اسلیئے کہ طبی نگاہ سے یہ نقصان دہ ہے۔ اور جو اولاد پیدا ہوگی وہ "برص" کے مرض میں مبتلا ہوگا۔ (احیاء العلوم الدین، امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ)
ساری طب کا اس پر اتفاق ہیں کہ اس حالت میں جماع بہت ساری بیماریوں کا سبب بنتا ہے (حجۃ اللہ البالغہ)
حیض کی حالت میں عورت کے ساتھ جنسی تعلق حرام ہے۔ البتہ جماع کے علاوہ مرد اپنے دل کی تسکین چاہتا ہو تو جائز ہے(یعنی جماع کے علاوہ دوسرے امور سے ) (المغنی لابن قدامہ)
سلیم فطرت کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جب عورت ایک تو بیمار ہو، اور دوسرا گندگی اور ناپاکی ہو، تو جدا ہونا چاہیئے، اسلییئے کہ اس وقت عورت جسمانی اور روحانی طور پر اس کام کیلیئے تیار نہیں ہے۔ تو دور رہنا بہت بہتر ہے۔
پروفیسر میسی کی تحقیق:
The News میں اس کی تحقیق و تجربات جو حیض کی حالت میں صحبت پر مشتمل ہیں مندرجہ زیل ہیں:
1۔ حیض کی حالت میں جماع سے مرد کا جنسی نظام ناکارہ ہو سکتا ہے۔ پھر ڈاکٹروں کے پیچھے بھاگے گے لیکن اسکا کوئی دوا و علاج نہیں ہو سکے گا۔
2۔ شرم گاہ کی جلد سخت ناہموار ہو جاتی ہے جس کے نتیجہ میں پھر جماع سے اس طرح کی لذت حاصل نہیں ہوگی جو فطری جسم میں موجود تھی۔
3۔ مرد کا آلہ تناسل چھوٹا ہو جاتا ہے۔ جو لاعلاج ہے۔
4۔ عورت کے آلہ تناسل میں خارش اور مرد الرجی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
5۔ حیض کی حالت میں جماع سے مرد کے پراسٹیٹ غدود بڑھتے ہیں جس سے سوزاک کا شکار ہو جاتا ہے۔
6۔ بعض اوقات حیض کی حالت میں دورانِ خون اس قدر شدد اختیار کر لیتا ہے کہ جس کا کنٹرول کرنا مشکل اور انسان کی موت کا سبب بنتا ہے۔
(Islam and Sex for All)
حیض کی حالت میں جماع اور اسکے نقصانات:
1۔ عورت کے اعضاء میں شدید درد پیدا ہوتا ہے۔ بچہ دانی میں سوزش پیدا ہوتی ہے جس کا کنٹرول پھر مشکل ہے۔
2۔ اس کے تخمدان مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔
3۔ حیض کا فاسد مواد رَحِم کو جاتا ہے جو سخت سوزش کا باعت بنتا ہے۔
4۔ بعض اوقات حیض کی حالت میں یہ فاسد مواد مرد کے خصیوں میں جاتا ہے جس سے وہ سوکھ(عقیم) جاتا ہے۔
5۔ حیض کے فاسد مواد کی وجہ سے مرد کے آلہ تناسل کو ایسے امراض لگتے ہیں جو لاعلاج ہوتے ہیں۔
6۔ حیض کی حالت میں صحبت عورت کو بانجھ بنا دیتی ہے پھر عمر بھر کیلئے وہ لا اولاد رہے گی۔
(القرآن والتحقیق الجدید)
انسان کے جسم میں دو قسم کے افرازات موجود ہوتے ہیں:
1۔ وہ افرازات جو حیات کیلئے نقصان دہ نہیں ہوتے(Secretion). جیسے ہضم، تناسل، ہارمونز
2۔ وہ افرازات جس کا بدن سے نکلنا ضروری ہوتا ہیں۔ کیونکہ یہ انسان کو ضرر پہنچاتی ہیں (Excretion)۔ جیسے فضلات، پسینہ، حیض وغیرہ
یہ جو حیض کی حالت میں جماع حرام قرار پایا ہے اس کے بہت سے وجوہ ہیں کہ اس سے میاں بیوی کو کئی بیماریاں لگنے کا سبب بنتا ہے۔ اور جماع نہ کرنے کی صورت میں بے شمار فوائد رکھتا ہے۔ اس کے نقصانات مزید یہ ہیں:
1۔ رحم کا مخاطی غشا زخم کی حالت میں ہوتا ہے جس سے خون، ماندہ انڈے، مختلف انواع کے ہارمونز، معدنی مواد اور زہر قاتل کی طرح دوسرے مواد خارج ہوتے ہیں جو جماع کی صورت میں بہت بُرے نتائج دیتے ہیں۔
2۔ ایسی حالت میں صحبت کرنا خون کے زیادہ بہنے کا سبب بنتا ہے جو رحم کے نورالتھاب کا عامل بنتا ہے۔ جو سخت درد اور تکلیف کا باعث ہے۔
3۔ حیض کی حالت میں جماع خون کی بندش کا سبب بنتا ہے۔
4۔ حیض کی حالت میں اکثر خواتین درد محسوس کرتی ہیں جو جماع کے نتیجے میں دوگناہ ہو جاتی ہے۔
5۔ ماہواری کی حالت میں عورت جسمانی اور روحانی طور پر کام کیلیئے امادہ نہیں ہے یہ اسلیئے کہ وہ ناپاکی، درد اور بے چینی کا شکار ہے۔ جس سے عورت کو دوسرے امراض لگتے ہیں۔
6۔ عورت رحم کے سرطان(کینسر) میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
7۔ اگر حیض کی حالت میں عورت حمل پکڑے تو اسکی اولاد نہ نر ہوگی نہ مادہ بلکہ مخنث ہوگا۔
(اعجاز القرآن)
حیض کی حالت میں صحبت سے مرد پر منفی اثرات:
جیسا کہ حیض میں ناپاکی اور پلیدی موجود ہوتی ہے تو اس وجہ سے مرد کئی امراض کا شکار ہو جاتا ہے جیسے:
1۔ اس سے مرد کے کروموسوم کی فعالیت ختم ہو جاتی ہیں جس سے پھر حمل نہیں ٹھہرتی۔
2۔ اس پلیدی کی حالت میں جماع سے وہ نئی اور لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
3۔ حیض کی حالت میں جماع سے مرد برص کی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
4۔ اس سے مرد کے آلہ تناسل کی جلد لاعلاج امراض کا شکار ہو جاتی ہے۔
Post No 30 👇
بغل اور پیشاب و پاخانے کی جگہ کے بالوں کی صفائی کے متعلق
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ہفتہ میں ایک بار ان حصّوں کے بالوں کی صفائی کرنی چاہیئے اور سب سے بہتر دن جمعہ کا ہے۔
ان بالوں کی صفائی میں 15 دن تک تاخیر جائز ہے اور 40 دن گزرنا گناہ ہے۔
بغل اور شرم گاہ کے بال کترانا فطری کاموں میں شامل ہیں۔ اور اسلام نے اسکی بہت تاکید کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ:
"یہ پانچ چیزیں انسان کی فطرت میں سے ہیں:
1۔ ختنہ 2۔ زیر ناف بال صاف کرنا 3۔ مونچوں کا کاٹنا 4۔ ناخن کاٹنا 5۔ بغل کے بالوں کی صفائی"
نبی کریمﷺ کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ ہر ہفتے بالوں کی صفائی کرتے تھے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہے کہ "رسول اللہ ﷺ مونچوں کے کم کرنے، ناخن، بغل اور شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کے 40 دن مقرر کئے ہیں کہ انکو اس سے زیادہ نہیں چھوڑنے۔"
بغل کے بالوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ ان کو نوچا جائے۔ اسطرح کرنے سے بغل سے بدبو نہیں آئے گی اور اچھی طرح صفائی ہو جاتی ہے۔ اگر کسی کو نوچنے میں دشواری ہو تو پھر کاٹا جائے۔ (آج کل نوچنے کیلئے برقی مشین ملتی ہے جس سے نوچنا بہت آسان ہوتا ہے)
مرد کیلئے زیر ناف بال استرے یا بلیڈ سے صاف کرنا بہتر ہے۔ مونڈھتے وقت ابتدا ناف کے نیچھے سے کرے اور پاؤڈر کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کیلئے سنت یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے۔
زیر ناف صفائی کی حدود:
زیر ناف کی صفائی کی حد مثانہ سے نیچے پیڑو کی ہڈی سے شروع ہوتی ہے، اسلیئے پیڑو کی ہڈی کے شروع سے لے کر مخصوص اعضا، انکے اردگر اور انکے برابر رانوں کے جوڑ تک اور پاخانہ خارج ہونے کی جگہ کے بال صاف کرنا واجب ہے۔
Post No 31 👇
100 میں سے 90 خواتین اور گرلز خود لزتی کا شکار...
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جس میں سے 75 فیصد خواتین کلوٹرس پر رگڑ کر فارغ ہوتی ہیں.
جبکہ صرف 25 فیصد خواتین وجائینہ میں مختلف چیزیں ڈال کر لذت حاصل کرتی ہیں...
وجہ کیا ہے؟؟؟
آج کل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے اب مرد ہی خواتین کے اکاؤنٹ استعمال کر کے خواتین کو ایڈ کر لیتے ہین یوں انکو سیکا موویز بھیجتے جس سے خواتین میں اشتعال انگیزی حدوں کو چھو جاتی ہے....کیوں کہ دماغی طور پر عورت بہت کمزور ہوتی ہے..
دوسری وجہ یہ ہے کہ شوہر کئی کئی سال ملک سے باہر رہتے ہیں یوں بیوی جسکو عادت پڑ چکی ہوتی ہے وہ چھپ کر خود لزتی کرتی ہے...
وہ خواتین جنکے شوہر تو نام کے شوہر ہوتے ہیں مگر انکے پاس صفر نمبر ہوتا ہے وہ قریب آتے ہی اسی وقت ڈھیر ہوجاتے ہیں یوں وہ اپنی مردانگی جو کہ نا مردی میں تبدیل ہوچکی ہوتی اس کو چھپانے کی خاطر کئی کئی ماہ بیوی کے قریب ہی نہیں آتے..یوں بیوی کے سوئے ہوئے جزبات کو جگا کر خود سوجاتے ہیں وہ اندر ہی اندر پیاس آگ میں جلتی رہتی ہیں یوں وہ خود سے ہی لزت حاصل کر کے فریش رہتی ہیں...کیوں کہ سیکس انسان ہو یا جانور سب کی اسی طرح ضرورت ہے جیسے ہمیں بھوک اور پیاس کی شدت ہوتی ہے.
مردوں کا حال یہ ہے کہ پورن انڈسٹری جیسے انہی کے لیے بنائی گئی ہے.یہ روز ہاتھ سے نکالتے رہتے ہیں جب شادی قریب آئے تب پتہ لگتا ہے میدان جنگ تو اب لگنا تھا اور ہم تو اٹھ بھی نہی سکتے.بیوی کے قابل ہی نہی ہوتے تو کسی کو یہ بھی نہی کہہ سکتے کہ اپنا کاکا تو جواب دے گیا ہے یوں بیوی کو روز ترسا ترسا کر تڑپتا چھوڑ دیتے ہیں جسکی وجہ سے عورت جسمانی بیماریوں اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے..
کئی لوگوں سے میری بات ہوتی ہے مرد برائے نام ہوتے ہیں جن کے پاس انٹر کورس تک نہی ہو پاتا.یاد رکھیں آپکا کلا جتا ٹائیٹ اور مضبوط ہوگا عورت اتنی شدت سے آپکے ارد گرد بھنورے کی طرح گھومے گی اور اس انتظار میں رہے گی کہ کب رات ہوگی....
خود لزتی جو لوگ کرتے ہیں وہ مر تو سکتے کبھی کسی کو بھنک نہیں لگنے دیتے....ایک تلخ حقیت آپ سب کے سامنے رکھی ہے کیوں کہ ہر انسان اور سوچ الگ ہوتی ہے ....علم کا ہونا ضروری ہے...ہم با شعور لوگ ہیں ہمیں اپنے ان مسائل کا علم ہونا چاہیے جو ہم روز مرہ زندگی میں سر انجام دیتے ہیں...کیوں کہ جو کام ہم سب سے چھپ کر کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں اسکی وجوہات یہی ہونگی
Post No 32👇
بیٹی کی پیدائش پر افسردہ متوجہ ہوں!
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
جو اپنے آپ کو باشعور خیال کرتے ہیں‘ دینی علم رکھنے والے بھی دندناتے ہوئے کہتے ہیں ہمارے دل کی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیٹوں سے نوازے کوئی ایسا گھرانہ نہیں جس میں بچی کی پیدائش پر اس طرح فرحت محسوس کی جائے جیسے بیٹے کی پیدائش پر ہوتی ہے۔
گھر میں کیا بیٹی کی پیدائش ہوگئی‘ اس گھر سے خوشیاں روٹھ گئیں‘ ہر چہرے پر پریشانی اور افسوس کے تاثرات ظاہر ہونے لگے‘ آڑے دنوں کے دروازے کھل گئے‘ شرمندگی اور ندامت سے گردنیں جھک گئیں‘ غم سائے کی طرح ساتھ ساتھ رہنے لگے‘ لمحہ لمحہ کے گناہ یاد آنے لگے‘ بے بسی اور بیچارگی رونما ہونے لگی‘ نہ ٹلنے والی مصیبت آن پڑی‘ مزید یہ کہ اس طوفان سے کیسے نجات ہو؟؟؟ اس کے برعکس گھر میں اگر لڑکے کی پیدائش ہو تو یوں سمجھا جاتا ہے کہ موسلادھار بارشوں کی طرح برکتوں کا نزول ہونے لگا وہ خبر جس کے سننے کے لیے دو خاندانوں کے کان منتظر تھے وہ حقیقت کے روپ میں چھاگئی‘ خوشی کے مارے دماغ کے تار بجنے لگے‘ دل کے سارے داغ دھل گئے‘ بادصبا کا آنے والا ہر جھونکا نئی تروتازگی کا پیغام لایا جیسے قسمت کی کشتی خیریت سے پار لگ گئی جس کے نتیجے میں بذریعہ فون بذریعہ خطوط ہر چھوٹے بڑے کو تروخشک کو لکڑ پتھر کو سبز و جلے سڑے کو یہ پیغام پہنچاتا ہے کہ فلاں کے گھر گلاب کھل اٹھا ہے‘ آندھیوں کو خیرباد کہا جاچکا ہے‘ اس پیغام کے ملتے ہی ماجرہ یہ ہوتا ہے کہ ہرطرف سے مبارک باد‘ ہدیے اور تحائف کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے اور تو اور دائیہ بھی اپنے آپ کو بڑا خوش قسمت تصور کرتی ہے۔ اب آپ دونوں منظر ذہن میں نقش کرکے دل پر ہاتھ رکھ کر عقل کی آنکھ سے دیکھیں اور تدبر کریں کہ معصوم بچی کے پیدا ہوتے ہی اس کے ساتھ یہ رویہ ہو تو وہ بڑی ہوکر خوش رکھنے کیلئے کون سےجوہر دکھا سکتی ہے‘ جو ہاتھ اٹھنے کے قابل نہیں جو پاؤں چلنے کی سکت نہیں رکھتے جو زبان بولنے کی طاقت سے محروم ہے جو دماغ اور سوچوں اور فکروں کی گہرائیوں سے کہیں دور ہے ان تمام اعضاء پر منحوسی کا لیبل چسپاں ہوچکا ہے جس کی پیدائش پر مایوسی کے گیت گنگائے جاچکے ہیں بھلا وہ انتھک محنت اور کاوش کے باوجود بھی کیونکر مسرتوں کا سبب بن سکتی ہے۔
ذرا سوچیے۔۔۔! یہ کم عقلی کا مظاہرہ ان خاندانوں میں ہوتا جو دینی اور دنیوی علم سے کوسوں دور رہتے ہوں تو یہ دل کو گرما دینے والی بات نہ ہوتی اس وقت باشعور انسان اپنے دل و دماغ کو یہ سبق پڑھانا کہ ؎
علم کے بغیر ہے بشر اے دوست مانند جانور
کہ لوگوں نے لاعلمی کے تحت بے اصول چیزوں کو تہذیب اور تمدن بنا رکھا ہے لیکن یہ طرز عمل ان گھرانوں میں بھی ہوتا ہے اور ہورہا اور مزید ترمزید ہورہا ہے جو اپنے آپ کو باشعور خیال کرتے ہیں‘ دینی علم رکھنے والے بھی دندناتے ہوئے کہتے ہیں ہمارے دل کی تمنا ہے کہ اللہ تعالیٰ بیٹوں سے نوازے کوئی ایسا گھرانہ نہیں جس میں بچی کی پیدائش پر اس طرح فرحت محسوس کی جائے جیسے بیٹے کی پیدائش پر ہوتی ہے۔حضرت مریم علیہاالسلام نے بیٹے کی تمنا کی تو ان کی تمنا دنیا کی عظمت و جاہ کیلئے نہیں تھی بلکہ ان کا مقصد تو یہی تھا کہ لڑکا ہوگا تو ذکریا علیہ السلام کے بعد مسجد کی خدمت کا کام سرانجام دیگا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو سمجھایا یعنی لڑکا لڑکی کے مثل نہیں ہوسکتا آج بھی اگر کوئی دینی خدمت کیلئے یا جہاد کیلئے بیٹے کی تمنا کرتا ہے اور پیدائش کے بعد وہ کام سرانجام دیتا ہے تو یہ محسن ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے بعض انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اگر بیٹے کی تمنا کی تو محض اس لیے کہ فریضہ نبوت ان کی اولاد میں ہی رہے کیوں کہ عورت تو نبی بن نہیں سکتی یہی وجہ ہے کہ امام الانبیاء خاتم الانبیاء ﷺنے اپنی پوری سیرت طیبہ میں ایک بار بھی بیٹے کی تمنا نہیں کی نہ ہی کبھی دعا فرمائی کیونکہ نبوت کا دروازہ آپ ﷺ کے بعد بند کردیا گیا۔ آج کے دور میں کون سی نبوت کی میراث چل رہی ہے جو نرینہ اولاد کیلئے تمناؤں اور آرزوؤں سے کلیجے پھٹ رہے ہیں۔
بیٹی کی پیدائش اجرسے خالی نہیں: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک عورت آئی اور کھانے کیلئے کچھ مانگا اس عورت کے ہمراہ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں۔ ام المومنین کے پاس تین کھجوریں تھیں جو انہوں نے اس عورت کو دے دیں‘ اس نے ایک ایک کھجور اپنی بیٹیوں میں تقسیم کی اور ایک خود کھانے کے ارادے سے منہ کے قریب لائی تو بیٹیوں نے اس کھجور کا مطالبہ کیا لہٰذا وہ بھی اپنی بیٹیوں میں تقسیم کردی‘ یہ سب کچھ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا اپنی آنکھوں سے دیکھتی رہیں۔ اتنے میں وہ عورت چلی گئی‘ کچھ دہی دیر بعد آپ ﷺ گھر میں تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پورا واقعہ آپ ﷺ کو سنایا تو نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان نبوت سے ارشاد فرمایا کہ اُس عورت کا یہ طرز عمل اسے جنت میں لے جائے گا۔
اس کے علاوہ ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنی بیٹیوں کی اچھی تربیت کی تعلیم دلوائی پھر اچھے گھرانے میں ان کا رشتہ طے کیا‘ وہ جنت میں جائے گا پوچھا گیا جس کی دو بیٹیاں ہوں‘ آپ ﷺ نے اس کیلئے بھی جنت کی بشارت دی‘ پوچھا گیا جس کی ایک بیٹی ہو تو نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس کیلئے بھی وہی ارشاد فرمایا۔
آپ ﷺ نے فرمایا گھر میں کوئی چیز تقسیم کرو تو ابتداء لڑکی سے کرو۔ ذرا غور فکر کیجئے! جس کیلئے نبوت کی زبان سے اتنی بشارتیں۔۔۔۔ اس کو میںمنحوس اور قابل نفرت سمجھنا اپنے گھٹیا ذہن اور کم فہمی کی علامت ہے۔ لہٰذا باشعور اور عقل مند انسان کا کام یہی ہے کہ بیٹی کی پیدائش کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نعمت عظمیٰ سمجھے اور کسی قدم پر بیٹی کو بیٹے سے کم نہ سمجھے اور دونوں کے حقوق مساوی رکھے تو اجرو ثواب کا مستحق ہوگا۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے کیونکہ حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو بیٹی کی پیدائش کی مبارک باد پیش کی ہے۔بیٹی کی پیدائش پر غم کا اظہار کفار کا شعار: اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد فرمایا
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیْمٌ ﴿الزخرف۱۷
ترجمہ:’’اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی ‘ جس کا وصف رحمٰن کے لئے بتاچکا ہے‘ تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے ۔‘‘یعنی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو بیٹی سے نوازا جاتا ہے تو اس کا منہ کالا ہوجاتا ہے اور غم سے بھر جاتا ہے۔ اس آیت سے معلوم ہورہا ہے کہ بیٹی کی پیدائش خوشخبری ہے۔ رب کریم سے دعا ہے کہ ہمارے معاشرے سے فضول چیزوں کا زوال ہو اور پاکیزہ اور سازگار ماحول پیدا ہو۔
صدقہ جاریہ کی نیت سے شیئر کریں
Post No 33👇
سوال: دس سالوں سے ملک سے باہر ہوں۔ جب بھی کام سے فرصت ملتی ہے تو میرا زہین صحبت کی طرف جاتا ہے۔ میں جلق بازی کی عادت میں مبتلا تھا اور میری یہ عادت کئی سالوں سے تھی۔ جب میں نے شادی کی تو ایسا معلوم ہوا کہ میں بہت کمزور ہوا ہوں۔ اور جب اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا تو 3 منٹ سے زیادہ صحبت نہیں کر سکتا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا سوچتی ہوگی لیکن یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ وہ مجھ سے راضی نہیں ہے۔ میں بہت سے یونانی و عصری ڈاکٹروں کے پاس گیا لیکن میں کوئی اچھا نتیجہ کسی بھی ڈاکٹر سے حاصل نہیں کرسکا۔ مجھے کوئی ایسا راستہ بتائے تاکہ میرا یہ مسلہ دور ہو جائے۔ آپکی مہربانی ہوگی۔
جواب: جس مشکل سے آپ دوچار ہے وہ مسئلہ ہے جن سے بہت سے وہ لوگ متاثر ہیں جو کئی مدت سے اپنی بیوی سے دور رہے ہو۔ اسی مدت میں آدمی اپنی جنسی تسکین پورا کرنے کے شوق میں ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں جلق بازی سے لیکر ہر وہ راستہ جو ارضا اور جنسی تسکین کیلیئے آدمی کرتا ہے اس سے آدمی کو صرف جسمانی خلاصی بخشتا ہے اور اس سے ہرگز صحت اور روحانی سکون نہیں ملتا۔ اسی وجہ سے مشت زنی عادت میں بدل جاتی ہے اور اسکے نتیجے میں جنسی اور روحانی تعلقات میں کمی آتی ہیں۔
آپ کو چاہیئے کہ آہستہ آہستہ اصلی جنسی صحبت کی عادت ڈالے۔ اور اپنی سوچ کو بدلے۔ شاید کوئی کہے کہ اب تو سوچ اور فکر اسی راہ پر عادی ہو گیا ہے اب اس کا بدلنا مشکل ہے۔ اور عادت کا بدلنا تو آسان کام نہیں ہے۔ آپ کو چاہیئے کہ اپنے آپکو اس کام کا عادی بنائے تاکہ صحبت کی عادت بن جائے۔ شاید یہ کام کچھ وقت لے لے لیکن یہ آپکے ارادہ، اپنے آپ پر کنٹرول، آپ کے بیوی کے تعاون، اور بعض دوسرے اعمال کے زریعے سے آپ اپنی عادت چھوڑ سکتے ہے۔ آپ یہ کام آہستہ آہستہ شروع کر دیں اور دیکھے کہ کیا ہوتا ہے۔
آپ پہلے مرحلہ میں اپنی صحبت کرنے کے طریقوں میں دوسرے حساس افعال کا اضافہ کرے۔ اس سے پہلے کہ جماع کرے اپنی بیوی کے ساتھ انتہائی پیار و محبت سے باتیں کرے۔ اسوقت تک صحبت کو شروع نہیں کرنا چاہیئے جب تک آپکو یقین نہ ہو جائے کہ ایک محبت بھری فضا قائم ہو گئی ہے۔ جب ایک محبت بھری فضا قائم ہو جائے تو پھر کوشش کرنی چاہیئے کہ فضا کو اور بھی طوفانی کرے۔ اور اپنا جسمانی تعلق کو اور بھی مضبوط بنائے۔ پھر اسکے بدن کے مختلف اعضاء پر ہاتھ پھیرے اور اسکے بعد اس سے بوس و کنار کریں۔ اس کام میں زیادہ وقت لگائے۔ اس سے جسمانی رابطہ بڑھتا ہے۔ یہ کام جتنا کر سکتے ہیں اتنا ہی زیادہ کریں۔ زیادہ پریکٹس سے اس عمل کے دورانیہ میں اضافہ ممکن ہے۔ پھر جس طرح آپکی سوچ و فکر اس طرح کی صحبت کرنے پر عادی ہو جائے تو آپ بہت جلد جان جائے گے کہ آپکی پرانی عادت کم ہو رہی ہے۔ اور آخر میں اس منفی عادت سے چٹکارا پا لینگے۔
حقیقت میں ہر ڈاکٹر آپکے کے ساتھ اس مسلے کے حل میں تعاون کر سکتا ہے۔ لیکن یہ مسلہ آپ اس شخص کو ہی بتا سکتے ہے جس سے آپ بے تکلفی سے بات کر سکے، اس پر اعتماد کر سکتے ہے۔ آپ شاید 4، 5 ڈاکٹروں کے پاس جائے لیکن ان میں سے صرف 1 پر آپکا اعتماد ہوگا۔ اور اس سے بے تکلفی سے بات چیت کر سکو گے۔ لیکن یہ ایک عام سی بات ہے۔ 1 سے زیادہ ڈاکٹروں کے پاس جائے اور اس بات سے دلبرداشتہ نہ ہو۔ ضرور ایک اچھے ڈاکٹر کی تلاش میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اگر پھر بھی آپ کے خیال میں کوئی بھی ڈاکٹر آپکی مدد نہیں کرسکتا تو پھر آپ یہ کر سکتے ہے کہ کسی ڈاکٹر سے کہے وہ آپ کو کوئی دوسرا جاننے والے کے بارے میں بتائے۔ اور ہو سکتا ہے کہ آپ ان سے اپنا مسلہ حل کر لے۔
Post No 33👇
نکاح کرنے کا مقصد کیا؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شروعات اس بات سے کرتے ہیں کہ نکاح کرنے کا مقصد کیا ہے؟
اگر کوئی یہ سوچتا ہے کہ نکاح کا مقصد صرف سیکس کی لذّت حاصل کرنا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔
یہ بھی ہے لیکن اصل ہے اولاد کا حصول۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں صرف قضائے شہوت کے لیے اپنی ازواج (بیویوں) کے پاس نہیں جاتا بلکہ میری نیت اولاد کا حصول ہے اگر یہ مقصد نہ ہوتا تو میری ایک ہی زوجہ (بیوی) ہوتی۔
(انساب الاشراف، عمر بن الخطاب، ج10، ص343 بہ حوالہ فیضان فاروق اعظم، ج1، ص77)
ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ میں خود کو جِماع (سیکس) کرنے پر اس لیے مجبور کرتا ہوں کہ ممکن ہے اللہ تعالی مجھے ایسی نیک اور صالح اولاد عطا فرمائے جو اس کی تسبیح کرے اور ہر وقت اس کی یاد میں مگن رہے۔
(سنن کبری، کتاب النکاح، باب الرغبة فی النکاح، ج7، ص126، حدیث13460 بہ حوالہ ایضاً)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عمر فاروق شہوت کے لیے نکاح نہیں کرتے تھے بلکہ اولاد کے حصول کے لیے نکاح کرتے تھے!
(طبقات کبری، ذکر استخلاف عمر، ج3، ص247 بہ حوالہ ایضاً)
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
نِسَآؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ۪ فَاْتُوْا حَرْثَكُمْ اَنّٰى شِئْتُمْ٘
(2:223)
"تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتیاں ہیں تو اپنی کھیتیوں میں جس طرح چاہو آؤ"
قرآن کی اس آیت میں بیویوں کو شوہروں کی کھیتی قرار دیا گیا ہے اور یہ اجازت دی گئی ہے کہ کھیت میں جس طرح چاہے آ سکتے ہیں۔
علامہ عبدالرزّاق بھترالوی لکھتے ہیں کہ یہاں عورتوں کو زمین سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح زمین میں بیج (Seed) ڈالا جاتا ہے اسی طرح بیوی کے رحم (بچّے دانی) میں نطفہ جو بیج کی طرح ڈالا جاتا ہے اور اولاد کو زمین کی پیداوار سے تشبیہ دی گئی ہے۔
اس آیت کا مختصر مطلب یہ ہے کہ تمھاری بیویاں تمھارے لیے کھیتیاں ہیں یعنی جس طرح کھیتی سے پیداوار ہوتی ہے اسی طرح اولاد پیدا ہوتی ہے۔
تم اپنی بیویوں کے پاس آؤ جس طرح چاہو یعنی ان سے جِماع (Sex) تو اگلے حصے میں کرو لیکن جماع کرنے کی کیفیت معین نہیں بلکہ بیٹھ کر یا لیٹ کر اگلی جانب سے یا پچھلی جانب سے جس طرح چاہو اس طرح جماع کرنے کی تمھیں اجازت ہے (لیکن آگے کے ہی مقام میں؛ پوزیشن جیسی بھی ہو سیکس آگے کے مقام میں ہی جائز ہے)
(تفسیر نجوم الفرقان، ج5، ص487)
جاری ہے...
Post No 34 👇
سوال: اگر شوہر چاہتا ہو کہ اپنی بیوی سے صحبت کرے اور بیوی انکاری ہو ایسی حالت میں کہ انکار کی کوئی خاص دلیل بھی نہ ہو جیسے بیماری۔ وجہ صرف یہ ہو کہ اسکا دل نہ چاہتا ہو۔ لیکن شوہر اس سے زبردستی جماع کرتا ہو۔ شرعی نگاہ سے کیا یہ درست عمل ہے؟ کیا اسلام اسے جنسی زیادتی نہیں کہتا؟
جواب: میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلق بہت ضروری ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتلایا ہے کہ شوہر اپنی بیوی سے نہایت مہربانی اور پیار کے ساتھ پیش آئے اور صحبت سے پہلے اسے پیار و محبت سے جاذب کرے۔ اور کبھی بھی اس کے ساتھ سختی نہ کرے۔ اگر بیوی شوہر کے ساتھ صحبت سے انکاری ہے تو ہو سکتا ہے کہ بیوی کو کوئی عذر لاحق ہو۔ شوہر کو چاہیئے کہ اپنی بیوی کی حالت سے خوب باخبر رہے۔ بیوی کو اس پر مجبور کرنا کہ اس سے پیار کرے، اسلامی طریقہ اور حل نہیں ہے۔ اسکے بجائے میاں بیوی کو متقابل تفاہم ہونا چاہیئے۔
مشہور اسلامک سکالر زینب مصطفیٰ اس بارے میں لکھتی ہے کہ:
میاں بیوی کے درمیان جنسی تعلقات متقابل سطح پر استوار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے بارے میں مہربان تھے۔ اور آپ ﷺ نے کبھی بھی انکو مجبور نہیں کیا ہے۔ بلکہ ان لوگوں کو منع فرمایا ہے جو اپنی بیویوں کے ساتھ پیار و محبت سے پہلے جماع کرتے ہیں (جیسے پیار و محبت کی باتیں) جو بیوی اور شوہر کے درمیان ایک جیسے سطح کا باعث بنے۔
اسلیئے شوہر کو جاننا چاہیئے کہ نزدیکی تعلقات صرف جنسی تسکین کو نہیں کہتے بلکہ دونوں کے درمیان اچھے تعلقات کی مضبوطی ہیں۔
اسے جنسی زیادتی تو نہیں کہہ سکتے لیکن اسلامی اور شرعی طریقہ بھی نہیں ہے۔
بیوی کا انکار کرنا بہت سے علتوں کی بنیاد پر ہو سکتا ہے۔ جسے مرد کو فراصت کے ساتھ اسکا ادراک کرنا چاہیئے۔ نیچھے علتیں شاید اس کی وجوہات ہو:
1۔ شاید دل نہ چاہ رہا ہو اس کام کیلئے(لیول کی کمی ہو)
2۔ ہو سکتا ہے ماہواری بیماری سے ہو
3۔ ہو سکتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے بیوی سے جنسی تعلقات کا طریقہ پسند نہ ہو اور بیوی شرم کی وجہ سے اس بارے میں کچھ نہ کہتی ہو
اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہو سکتی ہیں
اسلیئے آدمی کو چاہیئے کہ اپنی ضد چھوڑے اور اپنی بیوی کے انکار کے اسباب تلاش کرے۔ اخلاص اور پیار و محبت کی باتیں (افہام و تفہیم) میاں بیوی کے درمیان ضروری ہیں اور اس مسلے کو حل کر سکتا ہے۔
یہ بات واضح ہے کہ اگر شوہر اپنی بیوی کو صحبت پر مجبور کرتی ہے تو اسے جنسی زیادتی اسلیئے نہیں کہا جا سکتا کیونکہ شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ جنسی تعلقات کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ عمل اسلامی تعلمات کے منافی ہے۔ ایسا عمل رسول اللہ ﷺ کی سنتوں اور صحبت کے آداب کے خلاف ہے۔
جنسی تعلقات میں برداشت اور مہربانی اسلامی آداب میں سے ہیں۔
Post No 35👇
قدرت ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺍﯾﮏ ﻧﺎﯾﺎﺏ ﺗﺤﻔﮧ ﮨﮯ
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮨﮯ .
ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ، ﺟﺐ ﮐﮧ %85 ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﺳﯽ ﺳﺎﺋﺰ ﺳﮯ ﻣﻄﻤﺌﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ .
ﻣﺴﺌﻠﮧ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﺮ ﻣَﺮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺯﺍﻭﯾﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﺍﺱ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﺳﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﺩُﻭﺳﺮﮮ ﻣَﺮﺩ ﮐﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﮈﺍﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩُﻭﺳﺮﮮ ﻣَﺮﺩﻭﮞ ﮐﺎ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ۔
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﺍِﺱ ﻗِﺴﻢ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺄٔ ﮨﺮ ﻣَﺮﺩ ،ﮐﺴﯽ ﺩُﻭﺳﺮﮮ ﻣَﺮﺩ ﮐﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﭘﺮ ﻧﻈﺮ ﭘﮍﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﺎ ﻣﻮﺍﺯﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺁ ﭖ ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﮐﻤﯽ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﮨﻢ ﻭﺟﮧ ﺟﺲ ﺳﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﮯ " ﭘﻮﺭﻥ ﻣﻮﻭﯾﺰ " ، ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﺁﭖ ﻋُﺮﯾﺎﮞ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ،ﻭﮦ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﯾﺎ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ۔ ﺍِﻥ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭ ،ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﺍِﻥ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﺎﻇﺮﯾﻦ ﮐﻮ ﺫﮨﻨﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﯾﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔ﺍِﻥ ﻓﻠﻤﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩِﮐﮭﺎﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﻨﺎﻇﺮ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺗٖﻔﺼﯿﻼﺕ ﻣﯿﮑﺎﻧﯽ ﻃﺮﺯ
( ﻣﺸﯿﻨﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ) ﮐﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻦ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺊ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﺮﺩ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺑﮍﺍ ﺩﯾﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﯿﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ .
ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻣﺮﺩ ﭘﮭﺮ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺍﺩﻭﺍﯾﺎﺕ / ﺩﯾﺴﯽ ﺳﺎﻧﮉﮮ ﮐﺎ ﺗﯿﻞ ﺍﻭﺭ ﺣﮑﯿﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﭼﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺟﻮ ﮐﮧ ﺳﺮﺍﺳﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﺎ ﺯﺍﺋﻊ ﮨﮯ .
ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﮐﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﺧﻄﮯ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﺎ ﺍﻭﺳﻂ ﺳﺎﺋﺰ 4.8 ﺍﻧﭻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺳﮯ ﺧﻄﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﺳﺎﺋﺰ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺍﯾﻮﺭﺝ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﮦ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﯾﺎ ﺳﺮﺟﺮﯼ ﺟﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﺎﺭﻣﻮﻧﺰ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﺍﻭﺭ ﺍﺩﻭﺍﯾﺎﺕ ﻟﯿﻨﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ .
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻣﯿﮉﯾﮑﻞ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ 1 ﺳﮯ 2 ﺍﻧﭻ ﺗﮏ ﺑﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﺍﯾﻨﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭧ
( Anti Oxidants)
ﻏﺬﺍﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ، ﺟﯿﺴﮯ ﭨﻤﺎﭨﺮ / ﺍﺩﺭﮎ / ﮬﺮﺍ ﺩﮬﻨﯿﮧ / ﺳﺮ ﻟﻮﺑﯿﺎ / ﺍﺧﺮﻭﭦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺭﺯﺵ ﺍﻭﺭ ﻭﺭﺯﺵ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺮ ﺭَﻧﻨﮓ ﺗﺎﮐﮧ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﺵ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺭﮨﮯ
ﺍﺱ ﻧﺴﺨﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ 1 ﺳﮯ 2 ﺍﻧﭻ ﺗﮏ ﺑﮍﮬﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ .
ﺍﮐﺜﺮ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺑﻌﺾ ﻣﻌﺎﻣﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ size does matter .
ﺍﻭﺭ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﺎ ﺑﮍﺍ ﻣﺴﻠﮧ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺁﭖ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻏﻠﻂ ﺯﺍﻭﯾﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﮯ، ﯾﺎ ﭘﻮﺭﻥ ﻣﻮﯼ ﻭﺍﻟﮯ ﭘﻮﺯ ﭨﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﭘﻮﺭﻥ ﺍﺳﭩﺎﺭﺯ ﭘﺮﻭﻓﯿﺸﻨﻠﺰ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﻧﺎﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺑﯿﻮﯼ /ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﭘﺮ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭼﮭﻞ ﮔﻮﺩ، ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﺣﺪﺩ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﯾﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﯽ ﺟِﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺭﮒ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮈﯾﻤﺞ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﮯ ﮐﺮﺧﺖ ﭘﻦ ﭘﺮ ﺍﺛﺮ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ " ﻭﺍﺋﮕﺮﺍ " ﯾﺎ " ﭘﻨﯿﮕﺮﺍ " ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺩﻭﺍﯾﺎﺕ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺑﮭﺎﮔﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﻧﺎﻣﺮﺩ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﺎ ﮨﺪﻑ ﭨﮭﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻓﺮﺝ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﺍﻭﺭ
ﺑﮍﺍ ﺳﺎﺋﺰ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﮐﻮ ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﺑَﻞ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﭘﺎﺅﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻧﺪﮬﮯ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭘﺎﺅﮞ ﺗِﮑﻮﻥ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻑ ﭘﺮ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻭﺯﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﻓﺮﺝ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﮮ ﺗﻮ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﭼﮭﻮﭨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ﭘﮭﻼ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮﺳﮑﮯ ﮔﮯ ﻭﺭﻧﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﻣﻨﮧ ﮐﮯ ﺑَﻞ ﻟﯿﭩﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﺝ ﻣﯿﮟ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺩﺍﺧﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺣﺼﮯ ﮐﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺩﺑﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﻨﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺝ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﺣﺼﮧ ﮨﯽ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﭘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺯﮬﻦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺌﮯ ﮐﮧ
Pose actually does matter
ﻧﯿﺰ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺍﻭﺭ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺧﺸﮏ ﺧﺸﮏ ﻣﭩﮫ ﻣﺎﺭﻧﮯ ﺳﮯ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﯽ ﺭﮔﯿﮟ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ .
ﭨﺎﺋﻤﻨﮓ ﺑﮍﮬﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﮨﻞ ﻟﻮﮒ ﮈﺭﮒ ﮐﺎ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻓﯿﻮﻥ / ﮬﯿﺮﻭﺋﻦ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﮐﯿﻦ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺑﻠﮑﻞ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﺍﯾﮉﯾﮑﭧ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺑﻠﮑﻞ ﻧﺎﻣﺮﺩ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﯿﻨﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻠﮑﻞ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺸﮧ ﺁﻭﺭ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﯾﺎ ﺳﻼﺟﯿﺖ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﻧﺎ ﮐﺮﮮ ﺟﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻗﺪﺭﺗﯽ ﭨﺎﺋﻤﻨﮓ ﮨﮯ ﻭﮨﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ .
ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﺎ ﺧﺎﺹ ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﯾﮧ قدرت ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﻧﻤﻮﻝ ﺗﺤﻔﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﯾﮏ ﺣﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺭﮐﮭﺌﮯ
Post No 36👇
اپنی بیٹیوں کو درج ذیل باتیں سکھائیے ۔
1️⃣۔سیڑھی پر اس وقت مت چڑھو جب آپ کے پیچھے کوٸی مرد بھی سیڑھی چڑھ رہا ہو بلکہ سیڑھی کے کسی ایک زاویہ پر رک جاٶ اور اس کے بعد چڑھیے۔
2️⃣۔لفٹ پر کسی اجنبی مرد کی موجودگی میں مت چڑھو ہو اس کے نکلنے کا انتظار کرو اور بعد میں چڑھیے ۔
3️⃣ ۔اپنے چچا،ماموں ،خالہ کے بیٹوں سے ہاتھ کے ساتھ مصافحہ مت کیجیے۔
4️⃣اپنے ساتھ گفتگو کرنے والے شخص کےساتھ ہمیشہ مناسب فاصلہ رکھیے۔
5️⃣۔ہمیشہ کسی کے ساتھ معاملہ کرنے کی حد مقرر کریں، چاہے وہ کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو، اور اپنے وقار کا خیال رکھیے۔
6️⃣- سڑک پر اپنے دوستوں کے ساتھ مذاق نہ کریں اور سڑک کے آداب کا خیال رکھیے۔
7️⃣- جب کوٸی ملنے آٸے تو اسے توجہ دو ، بڑے کے احترام میں کھڑے ہو جاٶ اور تھکے ماندے اور بوڑھے کو بیٹھنے کے لیے کرسی دیجیے
8️⃣گلی محلہ کے سبھی مرد باپ کے سوا اجنبی ہوتے ہیں، اس لیے ان سے بلاضرورت بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہراساں کرنے والے ذہنی مریض ہوتے ہیں، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
9️⃣-جب آپ زمین سے کوئی چیز اٹھانے کے لیے نیچے جھکیں یا کسی دکان، بازار یا عوامی جگہ پر کوئی چیز دیکھیں تو رکوع کی حالت میں مت جھکو.. کوشش کرو بیٹھ کر چیز دیکھو .. پھر کھڑے ہو جائیں.. تاکہ آپ کا پردہ یعنی ستر یا جسم پیچھے سے بے نقاب نہ ہو۔
🔟-اپنی پوری زندگی بس یا ٹیکسی میں بلند آواز سے باتیں مت کیجیے۔۔۔!!
سبھی بیٹوں, لڑکوں, مردوں کے لیے بھی یہی سب باتیں اور آداب 'ضرور' کرنے والے ہیں
Post No 37👇
ایک عورت گاؤں کے عالم صاحب کو روایتی والا عامل سمجھتی تھی جو گنڈے اور تعویذ وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔
اس نے ان سے فرمائش کر ڈالی کہ مجھے ایسا عمل کر دیجئے کہ میرا خاوند میرا مطیع بن کر رہے اور مجھے ایسی محبت دے جو دنیا میں کسی عورت نے نا پائی ہو۔
بندہ عامل ہوتا تو جھٹ سے تعویذ لکھتا اور اپنے پیسے کھرے کرتا۔ لیکن عالم صاحب سمجھ گئے کہ خاتون اسے کچھ اور ہی سمجھ کر اپنی مراد پانے کیلئے آئی بیٹھی ہے۔
یہی سوچ کر عالم صاحب نے کہا محترمہ تیری خواہش بہت بڑی ہے لہٰذا اس کے عمل کی قیمت بھی بڑی ہوگی کیا تم یہ قیمت ادا کرنے کیلئے تیار ہو؟
عورت نے کہا میں بخوشی ہر قیمت دینے کیلئے تیار ہوں۔ عالم نے کہا ٹھیک ہے تم مجھے شیر کی گردن سے ایک بال خود اپنے ہاتھوں سے توڑ کر لا دو تاکہ میں اپنا عمل شروع کر سکوں۔
شیر کی گردن کا بال اور وہ بھی میں اپنے ہاتھ سے توڑ کر لا دوں...؟
جناب آپ اس عمل کی قیمت روپوں میں مانگیے تو میں ہر قیمت دینے کو تیار ہوں مگر یہ توآپ عمل ناں کر کے دینے والی بات کر رہے ہیں۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ شیر ایک خونخوار اور وحشی جانور ہے اس سے پہلے کی میں اس کی گردن تک پہنچ کر اسکا بال حاصل کر پاؤں وہ مجھے پہلے ہی پھاڑ کھائے گا۔
عالم صاحب نے کہا بی بی میں بالکل ٹھیک کہہ رہا ہوں اس عمل کے لئے شیر کی گردن کا بال ہی لانا ہوگا اور وہ بھی تم اپنے ہاتھ سے توڑ کر لاؤ گی۔ اس عمل کو بس اسی طرح ہی کیا جا سکتا ہے۔
عورت ویسے تو مایوس ہو کر ہی وہاں سے چلی مگر پھر بھی اس نے اپنی چند ایک راز دان سہیلیوں اور مخلص احباب سے مشورہ کیا تو اکثر کی زبان سے یہی سننے کو ملا کہ کام اتنا ناممکن تو نہیں ہے کیونکہ شیر تو بس اسی وقت ہی خونخوار ہوتا ہے جب بھوکا ہو۔ شیر کو کھلا پلا کر رکھو تو اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے۔ اس عورت نے یہ نصیحتیں اپنے پلے باندھیں اور جنگل میں جا کر آخری حد تک جانے کی ٹھان لی۔
عورت شیر کیلئے گوشت پھینک کر دور چلی جاتی اور شیر آ کر یہ گوشت کھا لیتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ شیر اور اس عورت میں الفت بڑھتی چلی گئی اور فاصلے آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گئے۔ آخر وہ دن آن ہی پہنچا جب شیر کو اس عورت کی محبت میں کوئی شک و شبہ نا رہا تھا۔ عورت نے گوشت ڈال کر اپنا ہاتھ شیر کے سر پر پھیرا تو شیر نے طمانیت کے ساتھ اپنی آنکھیں موند لیں۔ یہی وہ لمحہ تھا عورت نے آہستگی سے شیر کی گردن سے ایک بال توڑا اور وہاں سے بھاگتے ہوئے سیدھا عالم کے پاس پہنچی۔ بال اس کے ہاتھ پر رکھتے ہی پورے جوش و خروش کے ساتھ بولی یہ لیجیئے شیر کی گردن کا بال۔ میں نے خود اپنے ہاتھ سے توڑا ہے اب عمل کرنے میں دیر نا لگائیے تاکہ میں اپنے خاوند کا دل ہمیشہ کیلئے جیت کر اس سے ایسی محبت پا سکوں جو دنیا کی کسی عورت کو نا ملی ہو۔
عالم نے عورت سے پوچھا یہ بال حاصل کرنے کیلئے تم نے کیا کیا؟
عورت نے جوش و خروش کے ساتھ پوری داستان سنانا شروع کی کہ وہ کس طرح شیر کے قریب پہنچی، اس نے جان لیا تھا کہ بال حاصل کرنے کیلئے شیر کی رضا حاصل کرنا پڑے گی اور یہ رضا حاصل کرنے کیلئے شیر کا دل جیتنا پڑے گا۔ بس ا۔ اس کام کے لئے ایک بہت زیادہ توجہ، پیار اور صبر آزما انتظار کی ضرورت تھی اور آخر وہ دن آ پہنچا جب وہ شیر کا دل جیت چکی تھی اور اپنا مقصد پانا اس کیلئے بہت آسان ہو چکا تھا۔
عالم صاحب نے عورت سے کہا اے اللہ کی بندی میں نہیں سمجھتا کہ تیرا خاوند اس شیر سے زیادہ وحشی اجڈ اور خطرناک ہے۔
تو اپنے خاوند کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیوں نہیں کرتی جیسا سلوک تو نے اس شیر کے ساتھ کیا۔ تو اپنے خاوند کا بھی ایسا ہی خیال رکھا کرو، توجہ دیا کرو، پیار اور محبت کے ساتھ پیش آیا کرو اور اس کی باتوں کا لاج رکھا کرو۔ اگر تم اسکو پیار دو گی تو وہ خود بخود آپ کی طرف مائل ہو جائے گا۔ اور اس کی غصہ پر صبر کیا کرو ، تمہیں تاویز اور جادو کی ضرورت ہی نہیں ہے، صرف اپنا لہجہ، نیت اور عمل درست کرلو۔
Post No 38👇
سوال: عورتوں میں شہوت، جنسی خواہش کی کمی یا کم ابھار کی کیا وجہ ہے اور اسے کیسے ابھارا جا سکتا ہے؟
جواب: جب عورت 20 سال کی عمر کو پہنچ جائے تو moll یا جنسی خواہش دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔
1۔ ایک بدنی رابطہ اور چھونا (لمس) کرنے کی خواہش یعنی لمس، ہاتھ پھیرنا، چھونا، بوسہ لینا۔
2۔ اور دوسرا جنسی تعلق(جماع) اور یکجا ہونے کی خواہش۔
خواتین میں پہلے بدنی تعلق، لمس (چھونے) وغیرہ کی محبت زیادہ ہوتی ہیں اور تناسلی اعضاء کے تعلق کا شوق کم ہوتا ہیں۔
اسلیئے بوسہ لینے، ہاتھ پھیرنے، لمس کرنے اور اپنی گود میں لینے سے خواتین زیادہ لذت پاتی ہیں۔
اسلیئے عورت کو پہلے بوسہ لینے، ہاتھ پھیرنے وغیرہ کے زریعے سے آمادہ کرنا چاہیئے اور پیار و محبت سے کام لینا چاہیئے۔ ہر قسم کا ڈر اور خوف کو عورت سے دور کرنا چاہیئے۔ اور جب اچھی طرح مطمئن ہو جائے تو پھر اس کام کو سر انجام دینا چاہیئے۔
Post No 39👇
ایک مرد اور عورت کیلئے شادی خوشیوں اور خوش بختی کا نام ہے۔ ان خوشیوں کا راز اچھے جنسی تعلقات میں ہیں۔ اگر شوہر دنیا کی تمام مال و متا اپنی بیوی پر نچاور کر دیں، واللہ اس کو خوش نہیں کر سکتا جب تک کہ اچھے جنسی تعلقات استوار نہ کر لیں! جس طرح ایک گاڑی کو حرکت کے لئے تیل کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح مرد اور عورت کی زندگی کی گاڑی ایک اچھے جنسی ملاپ سے جڑی ہے۔
میاں بیوی کو چاہیئے کہ وہ انسانی بیالوجی، بدن کی ساخت اور مختلف اعضاء کے الگ الگ کام کرنے سے متعلق آگاہی حاصل کریں۔ اسی طرح بدن کے حساس اور شہوت ابھارنے والے اعضاء کے بارے میں بھی مکمل معلومات حاصل کریں۔
عورت کے شہوت ابھارنے والے اعضاء درج زیل ہیں:
عورت کی گردن اور اس کی پیٹھ کے حصے
کانوں کی نرمی
بغل
رخسار
ہونٹ
ٹھوڑی
سینے
ناف
مخصوص اعضاء وغیرہ
جب آدمی چاہے کہ اپنی بیوی سے ہمبستری کریں تو اسے چاہیئے کہ پہلے ان حساس اور شہوت ابھارنے والے اعضاء کو ہاتھ اور ہونٹوں کی مدد سے اشعتال دلائے (30 منٹ تک)۔ جب عورت کی آگے کی شرم گاہ اچھی طرح گیلی ہو جائے، آنکھیں نکل آئے، بال کھڑے ہو جائے اور وہ بے قرار ہو جائے تو سمجھ جائے کہ وہ اب بلکل تیار ہے۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر آہستہ آہستہ جماع شروع کر دیں یہاں تک کہ عورت شہوت کے عروج(اورگیزم) کو پہنج جائے۔ آدمی یا تو اپنی بیوی کے اورگیزم کی مدت میں انزال کرے یا اسکے بعد۔
اسے کہتے ہیں اچھی اور ضروری مباشرت یا ہمبستری !
اس طریقے کو دوام دیں پھر دیکھے کہ آپکی زندگی کیسے خوشگوار و حسین ہوتی ہیں۔
Post No 40 👇
۔۔۔ بگڑے معاشرے میں بہنوں کی رہنمائی کے لیئے ایک اچھی تحریر ۔۔۔۔۔۔۔
دستک دینا ہر مرد کی فطرت ہے ،،،،
اور دروازہ نہ کھولنا عورت کا حسن ....!!
ہر دستک پر دروازہ کبھی نہیں کھولنا، نہ دل کا دروازہ، نہ دماغ کا دروازہ، نہ سوچوں کا دروازہ، نہ جذبات کا دروازہ، یہ دروازہ زندگی کے اصل ساتھی کی آمد پر ہی کھلنا چاہیئے۔
امت محمد ﷺ کی ہر بیٹیوں کے نام ایک پیغام:
سنو۔۔۔!!
میری بیٹیوں اور بہنوں ...!
کبھی بھی کسی اجنبی کو اپنا ذاتی وقت نہ دینا ایک وقت آۓ گا وہ آپکے کردار پر انگلی اٹھاۓ گا آپکو ذہنی ٹینشن دے گا سو فاٸنل بات یہ کہ ہر ایک کے ساتھ ایک لمٹ میں رابطہ رکھیں اس سے آپ خود بھی محفوظ رہو گی اور آپکا ذہنی سکون بھی۔
کسی کو پسند کرنا ایک فطری امر ہے مگر!
اس جذبے کا غلط استعمال کبھی مت کیجئے-
سیدھا راستہ اور نکاح کا جائز اور پاک رشتہ بنائیے۔
اور اگر آپ سمجھیں کہ آپ کے گھر برادری والے اس رشتے کے حق میں نہیں ۔۔۔۔ اور یہ رشتہ آگے نہیں بڑھ سکے گا ۔۔۔ تو بعد کے دکھ تکلیف سے بچنے کیلئے اس بات کو وہیں ختم کردیجئے۔ خاص طور پر لڑکیوں کو یہ بات جان لینی چاہئے۔
جوانی کے جوش میں مردوں کو ہرعورت ہر لڑکی اچھی لگتی ہے اور عورت کو ہر مرد کی محبت سچی لگتی ہے۔ عورت کا بس دیکھ لینا بھی مرد کو ادا لگتی ہے، اور مرد کی ذرا سی ہمدردی عورت کو اعترافِ محبت نظر آتی ہے۔ یہ عمر اس طرح کی بیوقوفیوں کی ہوتی ہے اور دل کو خواب دیکھنا اچھا لگتا ہے۔
تو ہوتا یوں ہے کہ ذرا سا خیال بھی کسی کا آجائے، تو ہمیں لگتا ہے کہ ہمیں محبت ہوگئی ہے یا کسی کی کوئی بات ہمیں پسند آ جائے تو ہمیں لگتا ہے کہ اسکو ہم سے محبت ہوگئی ہے۔ اور پھر زندگی کے بہت بڑے فیصلوں پہ ہم جلد بازی کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔ اسطرح کی محبتیں تو ہوتی رہتی ہیں۔
کسی کے بھروسے کے ساتھ مت کھلیں اور واقعی محبت ہے تو نکاح کریں، کیونکہ محبت کو عزت لازم ہے، باقی جسمانی خواہشات کو محبت کا نام نہ دیں۔
کہ ﻣﺮﺩ ﺟﺲ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ سچے دل سے ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺳﮯ اپنی عزت مانتا اور بناتا ہے، سب سے ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ۔ اس پر ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﻧﮯ دینا چاہتا۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اسکا مطلب یہ کہ وہ عورت اس کے دل میں نہیں اتری ، صرف دکھاوے کی چیز ہے جو دوستوں میں خود کی اہمیت بڑھانے کیلئے استعمال کی جاتی ہے کہ
میرے پاس بھی دل بہلاوے کو ایک اچھی چیز ہے،
اس سے صرف غرض یا مفاد کا رشتہ ہوتا ہے، عزت کا نہیں!
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہر بيٹی کی ہر بہن کی عزت کی حفاظت فرمائے۔ اور اپنا مقام سمجھنے کی توفيق عطا فرمائے۔
یہ بات نادان کم عقل بیوقوف لڑکیوں کو سمجھنی چاہیئے۔ مرد ہمشیہ اسی لڑکی سے محبت کرتا ہے اور عزت دیتا ہے ،جو اسکو حلال رشتے میں ملتی ہے یعنی نکاح میں محرم بن کر ۔
اور ایسی لڑکی جو نامحرم کے لیے سجتی ہے سنوارتی ہے وہ اپنی وقعت بھی ختم کرتی ہے اپنی شرم وحیا کا سودا کرتی ہے۔
اور بڑے افسوس کے ساتھ جس کے لیے یہ کرتی وہی کل کو ٹائم پاس کرنے کے بعد ، اس کو سب کے سامنے بدکردار آوارہ اور بدچلن کہہ کر چلا جاتا ہے ایک نیا شکار ڈھونڈنے کے لیے۔
اور لڑکی کا کردار سب کے لیے سوالیہ نشان بنا کر خود اپنی زندگی میں مگن ہوجاتا۔ اور لڑکی کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا!
میری پیاری بہنوں اس فریب اور خوابوں سے باہر آجاؤ نامحرم مرد نہ کبھی دوست ہوسکتا ہے , نہ بھائی , نہ محافظ , نہ محبت ..!
محبت کی منزل نکاح ہے زنا نہیں.
شوہر ہی عورت کا اصل محافظ ہوتا ہے۔ عورت سے سچی محبت اسکا شوہر ہی کر سکتا ہے، کوئی نا محرم نہیں....!!!
اللہ نے ہمیں نامحرم سے فضول بات کرنے نرم لہجے میں بات کرنے سے منع کیا کہ خرابی پیدا نہ ہو ۔ کیونکہ یہ خرابی بہت نقصان سے دوچار کرتی .
قرآن میں ارشاد باری تعالی ہے :
يَا نِسَآءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ ۚ اِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّـذِىْ فِىْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّّقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
(32) سورۃ الاحزاب
(مدنی، آیات 73)
تو میری پیاری بہنوں حرام رشتوں میں محبت مت ڈھونڈو اس میں لذت ہوسکتی ہے، پر سکون نہیں، عزت نہیں، سب سے بڑی بات اللہ کی رضا نہیں ، ناراضگی اور غضب ہوگا، اور ذلت الگ ، اس لیے اپنے جذبات کو اپنے محرم کے لیے بچا کر رکھے، جس میں نہ ذلت کا ڈر ہو، نا رسوائی کا، نہ اللہ کے غضب اور نہ ناراضگی کا ،،،
اللہ ہم سے بے پناہ محبت کرتا ہے اس لیے اس نے ہمیں حلال چیزیں اور حلال رشتیں دئیے ہیں، اور حرام چیزوں سے بچنے کو کہا ہے۔
خدارا! حدود اللہ مت توڑیں اور خود کو بچائیں حرام کاموں اور چیزوں اور حرام رشتوں سے ... !
🤲🏻 اللہ رب العزت سے دعا ہے۔
امت محمدﷺ کی بیٹیوں اور بیٹوں کو پاک دامن اور حرام رشتوں حرام چیزوں سے دور رکھے ۔آمین
Post No 41 👇
https://chat.whatsapp.com/LERlV0VdRdL0VHVLMyMGul
کاش کہ کسی کےدل میں اترجائے میری بات
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
شوہر کا خراب رویہ دیکھ کر ہر بیوی کے سامنے تین راستے ہوتے ہیں، اور ہر بیوی ان تین راستوں میں سے کوئی ایک راستہ ضرور چُنتی ہے۔ اگر شوہر بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا، اسے وقت نہیں دیتا، موبائل، ٹیلیوژن اور دوستوں میں مصروف رہتا یے، اسے عزت و پیار نہیں دیتا، ہر وقت جھگڑے کرتا ہے، گالیاں دیتا یے، ماں بہن کی باتوں میں آکر بے عزت کرتا ہے، مطلب کسی بھی اعتبار سے بیوی کو راحت کے بجاۓ تکلیف پہنچاتا یے تو اس انسان کی بیوی تین راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرتی ہے۔
"پہلا راستہ" کچھ بیویاں جو ایمان کی کمزور ہوتی ہیں وہ شوہر کے خراب رویہ کو دیکھ کر غیر محرم سے رابطہ بنا لیتی ہیں، پھر اسکے ساتھ اپنے سکھ دکھ شیئر کرنے لگتی ہیں، اور وہ شخص بھی اسکے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی سے پیش آتا ہے، ہمدردی والا یہ تعلق پہلے دوستی میں تبدیل ہوکر دونوں کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، ایسی صورت میں شوہر، بیوی اور اسکا ہمدرد تینوں ہی سخت سزا کے حقدار ٹھہریں گے۔
"دوسرا راستہ" کچھ بیویاں ایمان کی مضبوط ہوتی ہیں لیکن ہمت کی کمزور ہوتی ہیں، اگر انکا شوہر انکے ساتھ خراب رویہ رکھتا ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے تو یہ بیویاں اپنی عزت و آبرو کی تو ہر دم ہر پل حفاظت کرتی ہیں لیکن اندر سے مکمل ٹوٹ جاتی ہیں، انکا ہنسنا رسمی ہوتا ہے، انکی مسکراہٹیں رسمی ہوتی ہیں، انکی بول چال رسمی ہوتی ہیں، انکا لوگوں سے ملنا اور بول چال کرنا سب رسمی ہوتا ہے، یہ دن کی روشنی میں اندر ہی اندر گھٹتی ہیں اور رات کے اندھیروں میں خون کے آنسو روتی ہیں، یہ بیویاں زندہ لاش بن کر اپنی زندگی گذارتی ہیں، اور بروز محشر اس بیوی کا شوہر اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوسکے گا جب تک بیوی کے ایک ایک آنسو کا حساب نہ دیدے۔
"تیسرا راستہ" اس راستے پر چلنے والی بیویوں کا ایمان تو مضبوط ہوتا ہی ہے لیکن یہ ہمت اور استقلال کی پہاڑ بھی ثابت ہوتی ہیں، یہ مایوس نہیں ہوتی بلکہ فکر کرتی ہیں، یہ شوہر کے خراب رویہ کو خود کے لیۓ چیلنج تصور کرتی ہیں کہ کس طرح شوہر کو اپنی طرف مائل کیا جاۓ، یہ شوہر کے غصہ پر سامنے جواب نہیں دیتی صبر کرکے برداشت کرتی ہیں، یہ شوہر کے ساتھ بہت زیادہ نرم اور پیار بھرا رویہ رکھتی ہیں، شوہر کے آنے سے پہلے خود کو دلہن کی طرح تیار کرلیتی ہیں کہ شوہر کا دھیان کہیں اور نہ جاۓ، یہ جانتی ہیں کہ شوہر کے والدیں کی خدمت فرض نہیں لیکن پھر بھی خود کو ساس سسر میں جھونک دیتی ہیں کہ بزرگوں کی دعاؤں سے انکا گھر بسا رہے، یہ تکیوں میں منہ چھپا کر رونے کے بجاۓ سجدوں میں رونے کو ترجیح دیتی ہیں، یہ سجدوں میں آنسو بہا کر رب کے حضور شوہر کی واپسی مانگتی ہیں، یہ تہجد میں اٹھ کر پھر رب کی بارگاہ میں حاضری لگاتی ہیں اور آنکھیں نم کیے اپنی آہ اس رب کے سامنے رکھ کر اپنی خوشیاں مانگتی ہیں، اللّٰہ انکی ہمت اور مدد کے لیۓ پکارنے پر انہیں مایوس نہیں کرتا، انکی ہمت، انکی قربانیاں اور صبر کا پھل دیتے ہوۓ انکے شوہر کا دل انکی بیویوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔
اگر بیوی پہلا راستہ اختیار کرتی ہے تو دنیا میں زلت و رسوائی اور آخرت میں شوہر اور ہمدرد سمیت سخت عذاب کی حقدار ٹھہریں گی۔
اگر بیوی دوسرا راستہ اختیار کرتی یے تو غلیظ شوہر کی وجہ سے اپنا ہی دل جلاتی ہے اپنا ہی خون جلاتی ہے، اپنے آپ کو تکلیف دینے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن اسے اللّٰہ کے یہاں اس صبر اور عزت و آبرو کی حفاظت کا بے تحاشہ اجر ملے گا۔
اگر بیوی تیسرا راستہ اختیار کرتی ہے، شوہر کی بیغیرتی کو خود کے لیۓ چیلنج تصور کیۓ ہمت اور غور و فکر سے کام لیتی ہے جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے تو 80 فیصد بیویاں اللّٰہ کے حکم سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر ایک خوشگوار اذدواجی زندگی گزارتی ہیں۔
میں یہاں کہنا چاہتی ہوں کہ شوہر کے خراب رویہ پر ہر بیوی کوتیسرا راستہ اختیار کرنا چاہیے انشاء اللّٰہ رب تعالی اسے مایوس نہیں کرے گا۔
یہاں ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ اگر کسی بھی عورت کی آنکھ میں ایک آنسو بھی شوہر کی وجہ سے آجاۓ تو جنت میں اس وقت تک نہیں جا سکے گا جب تک بیوی اسے معاف نہ کردے۔ اب کہیں گے سالک شفیق فتوے لگا رہا ہے، جناب یہ فتوے نہیں دین اسلام ہے جہاں کسی ایک انسان کا دل دکھانے پر روزے نماز ساری عبادتیں منہ پر مار دی جائیں گی کہ جاؤ پہلے اس شخص سے معافی لیکر آؤ۔
یاد درکھئیے ایک شہید جو اللّٰہ کی راہ میں جنگ کرتے ہوۓ شہید ہوا ہو اسے بھی جنت جاتے ہوۓ راستے میں روک لیا جائے گا کہ تم نے فلاں دن اس انسان کا دل دکھایا تھا پہلے اس سے معافی لیکر آؤ تب تم جنت میں جا سکو گے۔ جب ایک ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﭘﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﺑﮯ ﺣﺪ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺗﯽ ﺗﮭﯽ ،ﺳﺎﻧﭗ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺳﺎﺕ ﻓﭧ ﻟﻤﺒﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮐﺌﯽ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﺭﮨﯽ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﻟﺘﻮ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ۔
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺗﺮ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﺳﮯ ﺍٓﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﺮ ﺭﺍﺕ ﺳﺎﻧﭗ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ❓
ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﯽ ﮨﺎﮞ۔ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﭘﮭﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ‘ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﭼﮭﻮﮌا ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻗﺮﯾﺐ ﻟﯿﭧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﺍﮐﭩﺮﺍﺗﺎ ﺗﮭﺎ❓ﺟﺲ ﭘﺮ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻧﮯ ﺑﺮﺟﺴﺘﮧ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ‘
ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﻧﭗ ﮐﻮ ﺑﮩﺘﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺪﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺭ ﮨﯽ ﮨﻮﮞ۔
ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎ ‘ ﻣﺤﺘﺮﻣﮧ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺳﺎﻧﭗ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﺎﮨﮯ ‘ ﺳﺎﻧﭗ ﺍٓﭖ ﮐﯽ ﺟﺴﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﺭﮨﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﺑﻨﺪ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﺑﻨﺎ ﺳﮑﮯ۔ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻣﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺍٓ ﮔﺌﯽ۔
ﺍﺱ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﺍﺧﺬ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺭﺩ ﮔﺮﺩ ﻣﻮﺟﻮﺩﺳﺎﻧﭙﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﮧ
ﻭﮦ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﭼﮭﮯ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺍٓﺱ ﭘﺎﺱ ﭘﮭﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ‘ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﺍﻭﺭﺍﭨﮭﻨﮯ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﻮﮒ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﮨﯿﮟ ‘ ﺑﺲ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﭘﮩﭽﺎﻧﻨﺎ ﮨﮯ۔
خیر ہو,خوش رہیں ,سلامت رہیں
السلام عليكم ورحمة اللّٰہ وبركاته
آپکی آرا اورتبصرے کی ضرورت ہے ، اگرلکھی ہوئی بات دل کو لگتی ہےتو اسے شیئرضرور کریں
👈 مودبانہ گزارش
جس میں آپ کا ایک شیئر بہت بڑا کردار بطور صدقه جاریہ بن کر ثواب دارین کا باعث بن سکتا ہے. آئیں ہمارے ساتھ ساتھ آپ بھی اس کار خیر کا حصّه بننیں
شکریه کو جنت میں جانے سے روکا جا سکتا ہے تو آج ہم عام لوگوں کی کیا حیثیت ہے❓ لہذا بیویوں کی آنکھوں میں آنسو نہ آنے دیں ورنہ جنت کے راستے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہونگی۔
آ پ علماء کے پاس جائیں ، آ پ مفتی صاحب کے پاس جائیں ، آ پ اولیاء کرام کے پاس جائیں اور معلوم کریں کہ اگر شوہر کی وجہ سے بیوی کی آنکھ میں ایک آنسو آگیا اور بیوی نے معاف نہ کیا تو شوہر کے لیۓ جنت جانے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی یے یا نہیں
Post No 42👇
سوال نکاح کا اسلامی طریقہ
کیا ہے؟
جواب: نکاح کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ عاقل و بالغ لڑکے اور لڑکی کی رضامندی سے گواہان کی موجودگی میں نکاح سر انجام دیا جائے کیوں کہ ازدواجی بندھن میں جہاں مرد کی ذاتی رائے اور پسند و ناپسند شامل ہوتی ہے وہیں اسلام نے عورت کو بھی اپنی پسند سے نکاح کرنے کا حق دیا ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کی شادی نہ کی جائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری لڑکی (بالغہ) کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کنواری کی اجازت کیسے معلو م ہوتی ہے؟ فرمایا: اُس کا خاموش رہنا (اجازت ہے)۔
شریعت کے مقرر کردہ اُصول و ضوابط کے مطابق یتیم لڑکی یا مطلقہ عورت کو بھی نکاح کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
1۔ قرآن حکیم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَاِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوْهُنَّ اَنْ یَّنْکِحْنَ اَزْوَاجَهُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیْنَهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ.
البقرة، 2: 232
اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو جب وہ شرعی دستور کے مطابق باہم رضامند ہوجائیں تو انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو۔
2۔ ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: ـ
وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْکُمْ وَیَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاج فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ط وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌo
البقرة، 2: 234
اور تم میں سے جو فوت ہوجائیں اور (اپنی) بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ اپنے آپ کو چار ماہ دس دن انتظار میں روکے رکھیں پھر جب وہ اپنی عدت (پوری ہونے) کو آپہنچیں تو پھر جو کچھ وہ شرعی دستور کے مطابق اپنے حق میں کریں تم پر اس معاملے میںکوئی مواخذہ نہیں، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح خبردار ہے۔
اسی طرح سورۃ النور میں بھی ارشاد ہوتا ہے:
وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ.
النور، 24: 32
اور تم اپنے مردوں اور عورتوں میں سے ان کا نکاح کر دیا کرو جو بغیر ازدواجی زندگی کے (رہ رہے) ہوں۔
سوال 2: والدین کو کس عمر میں اپنی اولاد کا نکاح کر دینا چاہیے؟
جواب: اگر کوئی خاص رکاوٹ نہیں ہے تو والدین کو اپنی اولاد - بیٹاہو یا بیٹی - کی شادی بالغ ہو جانے کے بعد جلد کر دینی چاہیے۔ جیسا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
.
جس کے ہاں کوئی اولاد ہو تو اُسے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے اور اسے آداب سکھائے۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائے تو اس کا نکاح کر دے۔ اگر اولاد بالغ ہوئی اور اُس نے اس کا نکاح نہ کیا جس کی وجہ سے اس نے کوئی گناہ کر لیا تو باپ ہی پر اُس کا گناہ ہو گا۔
مندرجہ بالا حدیث مبارک سے پتہ چلتا ہے کہ اولاد کا اچھا نام رکھنا، انہیں آداب سکھانا اور بروقت شادی کر دینا اولاد کے حقوق اور والدین کے فرائض میں سے ہے۔
سوال 3: انتخابِ زوج کے لیے معیار کیا ہونا چاہیے؟
جواب: اِنتخابِ زوج کے لیے معیار یہ ہونا چاہیے کہ مرد دین دار، بااخلاق، وسیع النظر اور اہلِ خانہ کو نیکی کی رغبت دلانے والا، رزقِ حلال کمانے والا اور اپنے خاندان (بیوی اور بچوں) کی کفالت کا اہل ہو۔ جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اے جوانو! تم میں سے جو شخص گھر بسانے کی استطاعت رکھتا ہو وہ شادی کر لے کیوں کہ نکاح سے نظر نہیں بہکتی اور شرم گاہ محفوظ رہتی ہے، اور جو شخص نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزے رکھے کیوں کہ روزے اس کی شہوت کو کم کر دیتے ہیں۔
علاوہ ازیں مرد کو حلیم الطبع، بہادر، خوش خلق، عورت سے بھلائی کرنے والا، اچھے کاموں سے محبت کرنے والا خصوصاً بیوی کے اچھے کاموں پر دل کھول کر داد دینے والا، احسان کرنے والا، ظلم و تشدد سے پرہیز کرنے والا اور معاملاتِ زندگی میں بہترین منظم اور معاشی لحاظ سے خود کفیل ہونا چاہیے۔
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ، فَإِنَّکُمْ أَخَذْتُمُوْهُنَّ بِأَمَانِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوْجَهُنَّ بِکَلِمَةِ اللهِ … وَلَهُنَّ عَلَیْکُمْ رِزْقُهُنَّ وَکِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ.
لوگو! تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیوں کہ تم نے ان کو اللہ تعالیٰ کی اَمان میں لیا ہے، سو تم نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ (نکاح) سے ان کی شرم گاہوں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے۔ … تم پر اُن کا یہ حق ہے کہ تم اپنی حیثیت کے مطابق اُن کو اچھی خوراک اور اچھا لباس فراہم کیا کرو۔
سوال 4: انتخابِ زوجہ کے لیے معیار کیا ہونا چاہیے؟
جواب: شوہر کی طرح زوجہ کے انتخاب کے لیے بھی ضروری ہے کہ عورت نیک، بااخلاق، صالح اور دینی شعور و آگہی رکھنے والی ہو تاکہ دینی اقدار کا تحفظ آئندہ نسلوں میں منتقل کرنا ممکن ہو سکے۔
1۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
عورت سے اس کے دین، مال اور جمال کی بناء پر نکاح کیا جاتا ہے۔ لیکن تم دین دار عورت سے نکاح کرنے کو ترجیح دینا۔
2۔ ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
تُنْکَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَجَمَالِهَا وَلِدِیْنِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّینِ.
عورت سے چار باتوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے: (1) اس کے مال کی وجہ سے، (2) اس کے نسب کی وجہ سے، (3) اس کے حسن کی وجہ سے اور (4) اس کے دین کی وجہ سے۔ لیکن تجھے چاہیے کہ تو دین دار عورت کو حاصل کرے۔
دین دار سے مراد ہے کہ دین پر قائم رہنے والی اور دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والی عورت جو ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔ دینِ اسلام کی سب سے بڑی خوبی حسنِ اخلاق ہے۔ چنانچہ عورت کے حسن سے مراد صرف ظاہری حسن و خوب صورتی نہیں بلکہ حسنِ اخلاق، حسنِ کردار اورحسنِ گفتار بھی ہے۔
سوال 5: انتخابِ زوجین میں والد کا کیا کردار ہے؟
جواب: اِنتخابِ زوجین میں والد کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے کیوں کہ وہ گھر کا سربراہ اور اپنے خاندان کا معاشی کفیل بھی ہوتا ہے اور ان کی بہترین تربیت بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ وہ اپنے اہل و عیال کی تربیت و پرورش کے بارے میں روزِ قیامت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہوگا، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے حضورنبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:
اَلرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِہٖ، وهُوَ مَسْئُووْلٌ عَنْ رَعِیَّتِهٖ.
آدمی اپنے اہل و عیال کا نگران ہے اور اس سے اس کی رعیت (یعنی اہل و عیال اور زیر کفالت افراد) سے متعلق سوال کیا جائے گا۔
لہٰذا والد کو چاہیے کہ وہ اپنی فہم و فراست، عمر بھر کے ذاتی تجربہ اور اپنی اولاد کی قابلیت و اہلیت اور طبعی میلانات کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے بیٹے یا بیٹی کے رشتے کے انتخاب میں دل چسپی لے۔ عام طور پر مرد اس قسم کے معاملات کو کلیتاً خواتین کے سپرد کر دیتے ہیں اور شادی کے لیے صرف مالی انتظام و انصرام کو ہی اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں جبکہ دینِ اسلام اولاد کے لیے بہترین رشتے کے انتخاب میں ماں اور باپ دونوں پر یکساں ذمہ داری عائد کرتا ہے۔ اس لیے والد کو چاہیے کہ اولاد کے لیے شریکِ حیات کا انتخاب باہمی مشاورت سے کرے۔ ایسا رشتہ منتخب کرے جو نیک سیرت، مہذب، بااخلاق اور شریعت اسلامی کا پابند ہو۔ داماد کے لیے ایسے فرد کا چناؤ کرے جو عورت کا احترام کرنے والا، احسان کرنے والا، اسلامی شعار کو اپنانے والا اور معاشی لحاظ سے خود کفیل ہو اور بہو کے لیے ایسی لڑکی کا انتخاب کرے جو شرم و حیا کی پیکر، اسلامی تعلیمات کی روح کو سمجھنے والی، نیک سیرت اور اچھے نسب کی مالک ہو۔
سوال 6: انتخابِ زوجین میں والدہ کا کردار کیا ہونا چاہیے؟
جواب: اِنتخابِ زوجین میں والدہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے، کیوں کہ یہ بدیہی اَمر ہے کہ اولاد کا باپ کے مقابلہ میں ماں سے تعلق عام طور پر زیادہ گہرا اور شدید ہوتا ہے۔ اسی تعلق کی بناء پر مرد کے مقابلے میں زیادہ تر ماں یا بہن ہی اِنتخابِ ِزوجین میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کل کی مائیں داماد میں دین داری، حسنِ خلق اور کردار دیکھنے کی بجائے مال و دولت اور دنیا کی بڑائی دیکھتی ہیں۔ یہ نہیں سوچتیں کہ اگر لڑکے میں دین داری نہیں ہے تو وہ لڑکی کو بھی دین پر چلنے نہیں دے گا، بے پردگی کو اہمیت دی جائے گی کیوں کہ بیٹی جس گھر میں جا رہی ہے وہاں تو فرائض ترک ہوں گے۔ اس طرح دین کو پس پشت ڈال کر مال و دولت، کوٹھی، بنگلہ کو ترجیح دینے سے دنیا تو شاید آرام سے گزر جائے مگر آخرت برباد ہو جائے گی۔ اسی طرح مائیں بہو کے انتخاب میں بھی حد درجہ خوب صورتی اور مال و دولت کو دیکھتی ہیں اور دین کی پرواہ نہیں کرتیں جس کے نتیجہ میں اکثر بہو کے آتے ہی گھر کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ چونکہ ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے جو اپنے بچوں کی نفسیات، پسند و ناپسند، قابلیت و اہلیت اور طبعی میلانات کا زیادہ علم رکھتی ہے۔ لہٰذا ہر ماں کو اپنے لیے داماد یا بہو کے انتخاب میں اولاد کی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہر اس پہلو کا خیال رکھنا چاہیے جو ایک اچھے اور مثالی خاندان کو جنم دے سکے۔
سوال 7: زوجین کے غلط انتخاب سے گھریلو سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
جواب: زوجین کے غلط انتخاب سے گھریلو سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اِنسانی زندگی میں اِنتخابِ زوجین جس قدر اَہمیت کا حامل ہے شاید ہی کوئی اور پہلو اس قدر اہم ہو کیوں کہ یہ سب سے زیادہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انتخاب اچھا ہو تو اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بے شمار فوائد و ثمرات حاصل ہوتے ہیں۔ لیکن انتخاب غلط ہو تو بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور گھروں میں فساد اور لڑائی جھگڑے جنم لیتے ہیں۔ نتیجتاً ازدواجی زندگی پیچیدہ اور مسائل سے دوچار ہو جاتی ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہمیں اپنے معاشرے میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ آئے روز مختلف النوع خبریں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پڑھنے، سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں، جن کی بنیادی وجہ غلط انتخابِ زوجین ہوتا ہے اور اولاد کی ازدواجی زندگی میں مسائل اور پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔
علاوہ ازیں گھریلو سطح پر جو منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان کا خلاصہ کچھ یوں ہے:
1۔ زوجین کے درمیان جذبہ محبت و مودّت پیدا نہیں ہو پاتا جو اس رشتے کے استحکام کا ذریعہ ہے۔
2۔ گھروں کا آرام و سکون اور راحت تباہ ہو جاتی ہے۔
3۔ ہر روز نئے فسادات اور لڑائی جھگڑے پیدا ہوتے ہیں۔
4۔ بچے ذہنی انتشار کا شکار ہو جاتے ہیں۔
5۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
6۔ بعض دفعہ حالات کی پیچیدگیوں کی وجہ سے نوبت علیحدگی تک آجاتی ہے۔
7۔ دو خاندانوں میں دشمنی پیدا ہو جاتی ہے۔
8۔ گھروں میں اسلامی ماحول پیدا نہیں ہو سکتا اور ازدواجی زندگی کے متعلق اسلام کا جو فلسفہ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے۔
9۔ زیادہ تر لڑائی جھگڑوں میں خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔
الغرض ان گنت ایسی قباحتیں ہیں جو غلط انتخابِ زوجین کی وجہ سے پیش آتی ہیں اور گھریلو زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس سے نہ صرف خاندان تباہ و برباد ہوتا ہے بلکہ معاشرہ بھی ترقی کی راہ میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
سوال 8: زوجین کے غلط انتخاب سے معاشرتی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟
جواب: نکاح کا مقصد انسان کے لیے آرام و سکون کا ایک مستقل ذریعہ فراہم کرنا ہے تاکہ اس کے نتیجے میں ایک ایسے خاندان کی بنیاد رکھی جائے جس میں باہمی مودت، قلبی محبت، جذباتی ہم آہنگی اور یک جہتی ہو۔
نکاح کا عمل صرف اسی صورت میں راحت و سکون کا باعث بن سکتا ہے جب انتخابِ زوجین کا عمل اسلامی تعلیمات کے مطابق درست کیا جائے۔ غلط انتخاب زوجین کے نفسیاتی و معاشرتی سطح پر بے شمار نقصانات جنم لیتے ہیں جن کا شکار بالخصوص نئی نسل ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں پرورش پانے والے بچے احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، ان کی قوتِ فیصلہ ختم ہوجاتی ہے اور وہ خود اعتمادی کی دولت سے بھی محروم ہوتے ہیں۔ حتی کہ والدین سے بھی اپنی ضروریات کا تذکرہ نہیں کر پاتے۔ ان کی طبیعتوں میں اس قدر چڑچڑا پن آجاتا ہے کہ وہ بات بات پر بگڑ جاتے ہیں، کسی مثبت کام میں بھی کسی کی مدد لینا اور نصیحت قبول کرنا گوارا نہیں کرتے۔ ایسے بچے زندگی کے میدان میں ہمیشہ ناکام رہتے ہیں، ان کے اندر ہر وقت جذباتی کشمکش رہتی ہے۔ ان کی ذہنی سطح اِس قدر مفلوج ہو جاتی ہے کہ ذہن نشوو نما نہیں پاسکتا اور وہ تعلیم، کھیل الغرض زندگی کے ہر میدان میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ایسے بچے اپنے دین سے بھی دور ہو جاتے ہیں اور نفسیاتی مسائل کا شکار یہی بچے بڑے ہو کر معاشرے پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تعمیری کاموں کی بجائے تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی، نشہ بازی، جھوٹ، فریب، ڈاکہ زنی حتیٰ کہ قتل و غارت گری کی عادات میں بھی گرفتار ہو جاتے ہیں۔ الغرض اس قسم کے افراد معاشرے میں بے شمار اخلاقی برائیوں کا سبب بنتے ہیں اور معاشرتی ترقی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ انتخابِ زوجین کے وقت اسلامی تعلیمات کو مدِ نظر رکھا جائے۔
سوال 9: خاندان کی تعمیر میں زوجین کی ہم آہنگی کیا کردار ادا کرتی ہے؟
جواب: خاندان کی تعمیر میں زوجین کی ہم آہنگی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک مکمل معاشرے کے قیام کا آغاز گھر سے ہوتا ہے جو خاندان سے تشکیل پاتا ہے۔ خاندان کی تعمیر و اِستحکام زوجین کے مابین محبت و مودت، اُلفت و رحمت اور ایثار بھرے تعلق سے وجود میں آتا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:
وَمِنْ اٰیٰـتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْٓا اِلَیْھَا وَجَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّةً وَّرَحْمَةً ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَo
الروم، 30: 21
اور یہ (بھی) اس کی نشانیوںمیں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔
باہمی ہم آہنگی سے رشتہ داروں، دوستوں اور دیگر افراد کی ازدواجی زندگی میں مداخلت کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں اور میاں بیوی اپنے تنازعات اور اختلافات کو خود تک محدود رکھتے ہوئے خود ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں ایک دوسرے کو تنقید و مذمت کا نشانہ بنائے بغیر مسائل حل ہو جاتے ہیںاور محبت و چاہت، سکون اور طمانیت کے باعث ازدواجی زندگی مزید خوبصورت اور شاندار ہو جاتی ہے۔ معاشی مسائل اور اُمور کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔اس طرح وہ اپنی معاشی ضروریات اور صورت حال سے آگاہ رہتے ہوئے دوسروں کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچ جاتے ہیں۔
خاندان کی تعمیر و اِستحکام کے لیے میاں بیوی دونوں قربانیاں دیتے ہیں مگر ان قربانیوں کی صورتیں جداگانہ اور نوعیت مختلف ہوتی ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے کام کی تعریف و توصیف کرتے ہیں اور اسے سراہتے ہیں جس سے نہ صرف ازدواجی زندگی میں محبت بڑھتی ہے بلکہ خاندان کی بنیادیں بھی مستحکم ہوتی ہیں۔
سوال 10: زوجین کو درپیش گھریلو مسائل کس طرح حل کرنے چاہییں؟
جواب: زوجین کو درپیش گھریلو مسائل معاملہ فہمی اور نہایت سمجھ داری کے ساتھ قرآن و حدیث اور اسوۂ حسنہ کی روشنی میں حل کرنے چاہییں۔ ذیل میں کچھ طریقے دیے جا رہے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر زوجین کو گھریلو مسائل حل کرنے میں کافی حد تک معاونت مل سکتی ہے:
1۔ کئی معاملات معمولی قسم کے ہوتے ہیں لیکن زوجین کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے سنگین ہو جاتے ہیں۔ اِس سے گھر کا سکون تباہ ہو جاتا ہے۔ ایسے مواقع پر انہیں ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھ کر باہمی حسن و سلوک اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیوں کہ انسان کے اچھے سلوک کے سب سے پہلے حق دار اس کے گھر والے ہوتے ہیں۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ مِنْ أَکْمَلِ الْمُؤْمِنِینَ إِیمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَأَلْطَفُهُمْ بِأَهْلِهٖ.
مؤمنوں میں سب سے زیادہ کامل ایمان والے لوگ وہ ہیں جن کے اَخلاق سب سے اچھے ہیں اور وہ اپنے گھر والوں سے سب سے زیادہ نرمی و شفقت سے پیش آتے ہیں۔
2۔ ایک دوسرے کے جذبات و اِحساسات کا بھرپور خیال رکھنا چاہیے۔ بسااوقات شوہر زندگی میں مختلف مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے؛ مثلاً مالی حالات خراب ہونا، روزگار کے حوالے سے پریشانی یا کسی رشتے دار سے اَن بن ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کا ساتھ دے، اس کی غم گُساری کرے اور گھریلو اخراجات کے حوالے سے شکوہ و شکایت کی بجائے صبر و تحمل اور برداشت سے کام لے۔اِسی طرح اگر بیوی کو کسی قسم کے ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑے تو شوہر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کی ڈھارس بندھائے اور ہر ممکن طریقے سے اسے خوش رکھے۔ایسے حالات میں حضور نبی اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات کی زندگی زوجین کے لیے بہترین اسوئہ حسنہ ہے۔
3۔ زوجین کو ایک دوسرے کے والدین اور رِشتہ داروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ والدین کی خدمت اور عزت لگن سے کریں۔ ان کی دل جوئی کریں اور ان سے نرمی سے بات کریں کیوں کہ اسلام میں ہر عمر رسیدہ اور معذور کے تندرست اور جوان پر حقوق ہیں۔ اس پر بے شمار احادیث شاہد و عادل ہیں۔ جس نے جوانی میں بوڑھوں کی عزت کی، بڑھاپے میں جوان اس کی عزت کریں گے۔ اس خدمت و احترام یا نگرانی کا احسان ایک دوسرے پر نہ جتائیں بلکہ خالصتاً اللہ کی رضا اور خوش نودی کے لیے یہ سب کچھ کریں۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی.
البقرة، 2: 264
اے ایمان والو! اپنے صدقات (بعد ازاں) احسان جتا کر اور دُکھ دے کر برباد نہ کر لیا کرو۔
4۔ گھریلو مسائل میں سے ایک مسئلہ بچوں کو بھرپور توجہ اور تربیت نہ دینے کا ہے۔ وقت کی کمی، دفتری مصروفیات اور الیکٹرانک میڈیا کی بہتات نے والدین اور اولاد میں رابطے اور تربیت کا فقدان پیدا کر دیا ہے جس کا قصور وار زوجین ایک دوسرے کو ٹھہراتے ہیں۔ جب کہ ذمہ داری دونوں پر یکساں عائد ہوتی ہے۔ اس کی عمدہ مثال حضور نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ سے بھی ملتی ہے۔ جب آپ ﷺ نے تبلیغ دین کا آغاز کیا تو اس عظیم فرض کی ادائیگی میں بھی اپنی دو تین سالہ کمسن اور معصوم صاحبزادی سیدہ فاطمہ علیہ السلام کو نظر انداز نہیںکیا اور تربیتی نقطہ نگاہ سے انہیں اپنے ہمراہ رکھا۔ اس لیے والدین کو بھی اُسوئہ رسول ﷺ کی روشنی میں بچوںکی تعلیم و تربیت سے غفلت نہیں برتنی چاہیے اور اوائل عمر سے ہی بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے پلاننگ کرنی چاہیے تاکہ زندگی کے کسی موڑ پر کوئی مشکل درپیش ہو تو جرات و ہمت کے ساتھ اس کا سامنا کرکے اس سے نبرد آزما ہوتے ہوئے پریشانی سے بچا جاسکے۔
سوال 11: کن خصوصیات کا حامل شخص بہترین شوہر کہلاتا ہے؟
جواب: شوہر گھر کا سربراہ ہوتا ہے۔ گھریلو زندگی کو خوش گوار اور متوازن رکھنے کے لیے درج ذیل خصوصیات کا حامل شخص بہترین شوہر کہلاتا ہے:
1۔ کفالت
اَہل و عیال کے کھانے پینے، لباس اور رہائش کا خرچ اٹھانے والا ہو۔ اسلام میں مرد کو قوّام اور کما کر خرچ کرنے والا کہا گیا ہے۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے:
اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ.
النساء، 4: 34
مرد عورتوں پر محافظ و منتظِم ہیں۔
بیوی کی کفالت میں اس کی سکونت، خوراک اور لباس وغیرہ کی فراہمی شامل ہے۔ حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بارگاهِ رسالت مآب ﷺ میں عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے کسی پر اس کی بیوی کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَکْسُوْهَا إِذَا اکْتَسَبْتَ أَوِ اکْتَسَبْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ، وَلَا تُقَبِّحْ، وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَیْتِ.
جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ، جب تم خود پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ، اس کے منہ پر نہ مارو، اُسے برے لفظ نہ بولو (یعنی برے ناموں سے نہ پکارو اور گالم گلوچ نہ کرو) اور (اگر کبھی انتہائی ناگزیر ہو تو) اسے (تادیباً) خود سے عارضی طور پر الگ نہ کرو مگر گھر کے اندر ہی۔
2۔ حسنِ سلوک
شوہرکی خصوصیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بیوی پر ظلم و زیادتی کرنے والا اور مارنے پیٹنے والا نہ ہو بلکہ اس کا رویہ بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک اور انتہائی اچھے اَخلاق پر مبنی ہو۔ ایسے شخص کو حدیث مبارک میں بہترین شخص کہا گیا ہے۔
1۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِہٖ، وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَهْلِي.
تم میں سے بہتر شخص وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔
2۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
أَکْمَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ إِیْمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، وَخِیَارُکُمْ خِیَارُکُمْ لِنِسَائِکُمْ.
اَہلِ ایمان میں سے کامل تر مؤمن وہ ہے جو اُن میں سے بہترین اَخلاق کا مالک ہے اور تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے (اخلاق اور برتاؤ میں) بہترین ہیں۔
3۔ ایک روایت میں اُم المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ ﷺ امْرَأَةً لَهٗ وَلَا خَادِمًا قَطُّ، وَلَا ضَرَبَ بِیَدِہٖ شَیْئًا قَطُّ.
رسول اللہ ﷺ نے کبھی نہ اپنی کسی زوجہ کو مارا اور نہ ہی کسی خادم کو اور آپ ﷺ نے کبھی اپنے دستِ مبارک سے کسی کو ضرب تک نہیں لگائی۔
3۔ حقوق کی پاس داری
اچھا شوہر وہ ہے جو بیوی کے حقوق کی پاس داری کرنے والا ہو۔ حضور نبی اکرم ﷺ کے ارشادات گرامی سے یہی رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضرہو کر عرض گزار ہوا: یارسول اللہ! میرا نام فلاں فلاں غزوہ میں لکھ لیاگیا ہے مگر میری بیوی حج کرنا چاہتی ہے (میرے لیے کیاحکم ہے)؟ آپ ﷺ نے فرمایا:
ارْجِعْ. فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِکَ.
تم واپس چلے جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو (کہ اُس کا بھی تم پر حق واجب ہے)۔
4۔ گھریلو اُمور میں معاونت
بہترین شوہر وہ ہے جو گھریلو اُمور میں بیوی کی معاونت کرے اور اس کا ہاتھ بٹائے۔ ایسا کرنا حضور نبی اکرم ﷺ کی سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ حضرت اَسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: حضور نبی اکرم ﷺ اپنے کاشانۂ اقدس میں کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:
کَانَ یَکُوْنُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِہٖ، تَعْنِي خِدْمَةَ أَهْلِہٖ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاةِ.
آپ ﷺ اپنے اہلِ خانہ کے کاموں میں معاونت میں مشغول رہتے اور جب نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
5۔ پردہ پوشی
اچھا شوہر وہ ہے جو بیوی کی کوتاہیوں اور خامیوں سے صرفِ نظر اور اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہو۔ قرآن حکیم نے عورت اور مرد کے تعلقات کو ایک نہایت لطیف مثال کے ذریعے یوں بیان کیا ہے:
ھُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّھُنَّ.
البقرۃ، 2: 187
وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو۔
جیسے لباس کا کام ستر ڈھانپنا اور جسمانی عیوب کو چھپانا ہوتا ہے، اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرتے اور ایک دوسرے کی خامیوں سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔
سوال 12: کیا اہم اُمور میں شوہر کو اپنی بیوی سے مشاورت کرنی چاہیے؟
جواب: جی ہاں! اہم امور میں شوہر کو اپنی بیوی سے مشاورت ضرور کرنی چاہیے۔ اس سے زوجین میں باہمی محبت اور اعتماد کی فضاء قائم ہوتی ہے۔حضور نبی اکرم ﷺ کے اُسوئہ حسنہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ اَہم معاملات میں اپنی اَزواجِ مطہرات سے مشاورت کیا کرتے تھے۔
1۔ آغازِ نبوت میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا کردار اس کی واضح نظیر ہے۔ جب پہلی وحی کا نزول ہوا اور آپ ﷺ غارِ حراء سے اپنی قیام گاہ تشریف لائے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا:
کَـلَّا، وَاللهِ، مَا یُخْزِیْکَ اللهُ أَبَدًا، إِنَّکَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْکَلَّ، وَتَکْسِبُ الْمَعْدُوْمَ، وَتَقْرِی الضَّیْفَ، وَتُعِیْنُ عَلَی نَوَائِبِ الْحَقِّ.
بخدا! ہر گز نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رُسوا نہیں کرے گا کیوں کہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کے لیے کماتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیںاور راهِ حق میں پیش آمدہ مصائب و آلام (کو خندہ پیشانی سے) برداشت کرتے ہیں۔
2۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کفارِ مکہ سے معاہدہ کے بعد ظاہری صورتِ حال کے پیش نظر مغموم تھے۔ آپ ﷺ نے بغیر عمرہ کیے جب انہیں قربانی کرنے اور بال کٹوانے کا حکم فرمایا تو صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی بھی کھڑا نہ ہوا۔ اس پر آپ ﷺ اپنی قیام گاہ میں حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا:
یَا نَبِیَّ اللهِ، أَتُحِبُّ ذٰلِکَ، اخْرُجْ ثُمَّ لَا تُکَلِّمْ أَحَدًا مِنْهُمْ کَلِمَةً، حَتّٰی تَنْحَرَ بُدْنَکَ، وَتَدْعُوَ حَالِقَکَ فَیَحْلِقَکَ.
اے اللہ کے نبی! کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے حسبِ حکم قربانی کریں اور سرمنڈوائیں؟ (تو پھر) آپ ﷺ ان کی طرف تشریف لے جائیں اور ان میں سے کسی سے بھی گفتگو نہ کریں بلکہ اپنی قربانی کا جانور ذبح فرمائیں اور حجام کو بلائیں تاکہ وہ آپ ﷺ کے بال کاٹے۔
اس پر آپ ﷺ باہر تشریف لے گئے اور آپ ﷺ نے کسی سے کلام نہ فرمایا۔ قربانی کا جانور ذبح کیا اور حجام کو بلایا جس نے آپ ﷺ کے بال کاٹے۔ جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے یہ منظر دیکھا تو وہ بھی اِتباعِ رسول ﷺ میں کھڑے ہوگئے اور اپنے اپنے جانوروں کی قربانی کرنے لگے اور ایک دوسرے کے بال بنانے لگے۔
صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ ﷺ کا سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے مشورہ کرنا صائبۃ الرائے خواتین سے مشاورت کا اصول بیان کرتا ہے۔
سوال 13: شوہر اپنی کن عادات کی وجہ سے اِزدِواجی زندگی کا سکون برباد کرتا ہے؟
جواب: شوہر اپنی درج ذیل عادات کی وجہ سے اِزدِواجی زندگی کا سکون برباد کرتا ہے۔
1۔ بیوی کو کوئی اَہمیت نہ دینا اور اُسے نظر انداز کرنا، بیوی کو ستانا، طعن و تشنیع کرنا اور گالیاں دینا، ظلم و زیادتی کرنا، اس کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا اور اپنے اَہل و عیال پر خرچ کرنے میں بخل سے کام لینا۔
2۔ شوہر کا ہر وقت بیوی کو یہ کہتے رہنا کہ تم خوبصورت نہیں۔ تم میں فلاں نقص ہے، فلاں خامی ہے وغیرہ؛ اس لیے میں دوسری شادی کر لوں گا؛ یا بیوی کے سر پر ہر وقت طلاق کی تلوار لٹکائے رکھنا اور ذرا سی بات ہو تو دھمکی دینا کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا، طلاق دے دوں گا وغیرہ۔ حالاں کہ طلاق اللہ تعالیٰ کے ہاں حلال اُمور میں ناپسندیدہ ترین شے ہے اور یہ اِختیار صرف اُسی وقت استعمال کیا جانا چاہیے جب زوجین کا کسی بھی صورت نکاح برقرار رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
3۔ بیوی کی کسی غلطی و کوتاہی پر دوسروں کے سامنے اُس کی تذلیل کرکے اُس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا أَکْرَمَ النِّسَاءَ إِلَّا کَرِیْمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلَّا لَئِیْمٌ.
سوائے برگزیدہ اور عزت والے شخص کے بیویوں کی عزت کوئی نہیں کرتا اور سوائے ذلیل و کمینے شخص کے کوئی ان کی اِہانت نہیں کرتا۔
4۔ شوہر کا بیوی پر ناجائز پابندیاں عائد کرنے، اس کے کام میں نکتہ چینی کرنے اور ہر وقت شک کی نظر سے دیکھنے یا بیوی پر الزامات لگانے یا دوسروں کی وجہ سے اپنی بیوی سے جھگڑا کرنے سے بھی خانگی سکون تباہ ہوجاتا ہے۔ قرآن حکیم میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیاہے:
وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُھَدَآءَ فَاجْلِدُوْھُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَةً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ شَھَادَةً اَبَدًا ج وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَo
النور، 24: 4
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر (بدکاری کی) تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو تم انہیں (سزائے قذف کے طور پر) اسّی کوڑے لگائو اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو، اور یہی لوگ بدکردار ہیں۔
5۔ جب بیوی مسکراتے چہرے کے ساتھ خاوند کا استقبال کرتی ہے تو شوہر اسے توجہ دینے کی بجائے زندگی کے آلام و مصائب پر بات شروع کر دیتا ہے جس سے اس کی دل آزاری ہوتی ہے۔ اگر یہی صورتِ حال لمبے عرصے تک برقرار رہے تو گھر کا سکون برباد ہو جاتا ہے۔
6۔ بیوی کے والدین اور عزیز و اَقارب کو اچھا نہ سمجھنا اور ان سے بے اعتنائی برتنا بھی گھریلو ناچاقی کا سبب بنتا ہے۔
درج بالا اُمور شوہر کی وہ بری عادات ہیں جن کی وجہ سے بیوی عدمِ تحفظ اور اِحساس کمتری کا شکار رہتی ہے۔ انہی عادات کی وجہ سے اِزدِواجی زندگی کا سکون برباد ہوتا ہے اور گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت کے اُمور نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
سوال 14: کن خصوصیات کی حامل عورت مثالی زوجہ کہلاتی ہے؟
جواب: درج ذیل صفات کی حامل عورت مثالی زوجہ کہلاتی ہے:
1۔ عزت و آبرو کی حفاظت
شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے والی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی بیویوں کے اَوصاف قرآنِ حکیم میں یوں بیان فرمائے ہیں:
فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللهُ.
النساء، 4: 34
پس نیک بیویاں اِطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں۔
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا صَلَّتِ الْمَرْأَةُ خَمْسَهَا، وَصَامَتْ شَهْرَهَا، وَحَفِظَتْ فَرْجَهَا، وَأَطَاعَتْ زَوْجَهَا، قِیْلَ لَهَا: اُدْخُلِي الْجَنَّةَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شِئْتِ.
جس عورت نے پنج گانہ فرض نمازوں کی ادائیگی کی، ماهِ رمضان کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اپنے شوہر کی فرماں بردار رہی تو اُس سے کہا جائے گا: تم جنت کے جس دروازے سے بھی چاہو جنت میں داخل ہو جاؤ۔
2۔ شوہر کی خوش نودی
بیوی شوہر کی رضا و خوش نودی کا خیال رکھنے والی اور قولاً و فعلاً اپنے خاوند کو خوش رکھنے کی کوشش کرنے والی ہو، کیوں کہ شوہر کی رضا میں ہی بیوی کی بھلائی ہے۔ اگر خاوند راضی ہوگیا اور بیوی اسی حال میں فوت ہوگئی تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔
حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أَیُّمَا امْرَأَۃٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ.
جس عورت نے اس حالت میں وفات پائی کہ اس کا خاوند اس (کی فرماں برداری کے باعث اُس) سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔
3۔ حسنِ اَخلاق
بیوی اپنے مزاج و طبیعت میں خوش خلق، خدمت گزار، محبت و مودت اور طہارت و نفاست کا پیکر ہو اور زیب و زینت کے لحاظ سے گھر میں شوہر کو ایسی نظر آئے کہ شوہر کو اسے دیکھتے ہی قلبی مسرت اور راحت ملے اور اس کا رُجحان کبھی گناہ کی طرف نہ جانے پائے۔ گویا اسے اپنی طرف ایسا راغب رکھے کہ وہ کسی اور کی طرف رغبت کا سوچ بھی نہ سکے۔
شوہر دن بھر کی مصروفیات کے بعد جب گھر واپس پہنچے تو بیوی مسکراتے چہرے سے اس کا استقبال کرے تاکہ اُس کی ساری تکان دور ہوجائے اور گھر آنا اس کے لیے راحت و سکون کا باعث بنے۔ حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے:
مَا اسْتَفَادَ الْمُؤْمِنُ بَعْدَ تَقْوَی اللهِ خَیْرًا لَهٗ مِنْ زَوْجَۃٍ صَالِحَۃٍ، إِنْ أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ، وَإِنْ نَظَرَ إِلَیْهَا سَرَّتْهُ، وَإِنْ أَقْسَمَ عَلَیْهَا أَبَرَّتْهُ، وَإِنْ غَابَ عَنْهَا نَصَحَتْهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِہٖ.
اللہ کے تقویٰ کے بعد مومن کو نیک بیوی سے زیادہ کسی بھی چیز سے فائدہ نہیں ہوا، اگر وہ اُسے حکم دے تو وہ اپنے خاوند کی اطاعت کرے، اگر اُس کی جانب دیکھے تو وہ اِسے خوش کرے، اگر وہ اس پر بھروسہ کر کے کوئی قسم کھا لے تو وہ اسے پورا کرے اور اگر شوہر کہیں چلا جائے تو بیوی اُس کی عدم موجودگی میں اپنی جان (عزت و آبرو) اور اس کے مال کی حفاظت کرے۔
4۔ تقوی و پرہیزگاری
بیوی پرہیزگار اور دینی شعور و آگہی رکھنے والی ہو کیوں کہ ایسی عورت کو حدیث مبارک میں دنیا کی بہترین متاع قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اَلدُّنْیَا مَتَاعٌ، وَخَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ.
دنیا متاع ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ ثَـلَاثَةٌ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ ثَـلَاثَةٌ. مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ وَالْمَسْکَنُ الصَّالِحُ وَالْمَرْکَبُ الصَّالِحُ، وَمِنْ شِقْوَةِ ابْنِ آدَمَ: الْمَرْأَةُ السُّوءُ وَالْمَسْکَنُ السُّوْءُ وَالْمَرْکَبُ السُّوْءُ.
(دنیا میں) ابنِ آدم کی خوش بختی کی تین چیزیں ہیں اور بد بختی کی بھی تین چیزیں ہیں۔ ابنِ آدم کی خوش بختی میں سے یہ ہیں: نیک بیوی، اچھا گھر اور اچھی سواری۔ اور اس کی بد بختی میں سے یہ (تین) چیزیں ہیں: بد خو بیوی، بُرا گھر (جس میں وہ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہو) اور بُری سواری (جو اس کی ضرورت کو بر وقت پورا نہ کر سکے اور اس کے لیے پریشانی کا باعث بنتی رہے)۔
5۔ حقوق کی پاس داری
شوہر کے حقوق کی پاس داری اور اس کا خیال رکھنے والی عورت سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ گزشتہ صفحات میں حضرت اُمِّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی حدیث مبارک اس پر بخوبی روشنی ڈالتی ہے کہ جس عورت نے اس حالت میں وفات پائی کہ اس کا خاوند اس (کی فرماں برداری کے باعث اُس) سے راضی تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگی۔ مگر کسی عذرِ شرعی یا صحت کی خرابی کے بغیر خاوند کی اطاعت سے اِنکار اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
وَالَّذِي نَفْسِي بِیَدِہٖ مَا مِنْ رَجُلٍ یَدْعُو امْرَأَتَهٗ إِلٰی فِرَاشِهَا فَتَأْبٰی عَلَیْهِ إِلَّا کَانَ الَّذِي فِي السَّمَاءِ سَاخِطًا عَلَیْهَا حَتّٰی یَرْضٰی عَنْهَا.
قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! جس شخص کی بیوی اپنے شوہر کے بلانے پر انکار کر دیتی ہے، اس سے اللہ تعالیٰ اس وقت تک ناراض رہتا ہے جب تک اس کا شوہر اس سے راضی نہ ہو جائے۔
یہاں چند عناوین کے تحت ہم نے اچھی زوجہ کی بعض خصوصیات بیان کی ہیں۔ علاوہ ازیں بھی کئی صفات اِس ضمن میں وارد ہوئی ہیں جنہیں مختلف پیرائے میں مختلف جگہوں پر بیان کیا جاچکا ہے۔
سوال 15: بیوی کی کن عادات کی وجہ سے خوشگوار اِزدِواجی زندگی متاثر ہوتی ہے ؟
جواب: بیوی کی درج ذیل عادات کی وجہ سے خوشگوار اِزدِواجی زندگی متاثر ہوتی ہے:
1۔ شوہر کی طرف سے ضروریات زندگی اور آسائشیں ملنے کے باوجود ہر وقت ناشکری کے کلمات ادا کرنا۔
2۔ شوہر کی کم آمدنی پر اس کا ساتھ دینے کی بجائے کم خرچ پر شکوہ و شکایت کرنا۔
3۔ گھریلو اُمور سے لاپرواہی برتنا۔
4۔ گھر کا بجٹ شوہر کی آمدنی کے مطابق ترتیب دینے کی بجائے فضول خرچی کرنا۔
5۔ ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے کی بجائے فضول مشاغل میں وقت ضائع کرنا۔
6۔ شوہر کے گھر آتے ہی موڈ آف کر لینا اور غصہ و ناراضگی کا اظہار کرنا۔
7۔ معمولی باتوں پر جھگڑا کرنا اور بار بار میکے چلے جانا۔
8۔ شوہر کے اعزاء و اقارب کو اہمیت نہ دینا ؛ وغیرہ۔
سوال 16: نیک و صالح اولاد کے حصول کے لیے زوجین کا انتخاب کن باتوں کا متقاضی ہے؟
جواب: نیک و صالح اولاد کے حصول کے لیے زوجین کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ مرد و عورت دونوں صالح ہوں؛ کیوں کہ قرآن حکیم صالح مرد کے لیے صالح عورت اور صالح عورت کے لیے صالح مرد کے انتخاب کا حکم دیتا ہے۔ اِرشاد ہوتا ہے:
وَالطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَالطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِ.
النور، 24: 26
اور پاک و طیب عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے (مخصوص) ہیں اور پاک و طیب مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔
اِس حکم قرآنی کے اندر کار فرما حکمتوں میں سے ایک حکمت نیک و صالح اولاد کا حصول ہے۔ لہٰذا نیک و صالح اولاد کے حصول کے لیے زوجین یعنی میاں بیوی دونوں کا انتخاب کرتے ہوئے درج ذیل اُمور مدِ نظر رکھے جائیں:
1۔ ماں کی گود بچے کی ابتدائی درس گاہ ہوتی ہے۔ اس کے لیے ایسی عورت کا انتخاب کیا جائے جو دین دار، با اَخلاق، با شعور اور نیک سیرت ہو۔ ایسی عورت ہی اولاد کے نیک ہونے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
2۔ اسی طرح باپ اولاد کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک باپ اچھی تعلیم و تربیت کا فریضہ تب ہی سر انجام دے سکتا ہے جب وہ خود نیک اور دین دار ہو۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے زوجین کے انتخاب میں جہاں عورت کے دین دار ہونے کو اہم قرار دیا وہیں آپ ﷺ نے نکاح کے لیے دین دار مرد کے انتخاب کی بھی ترغیب فرمائی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا خَطَبَ إِلَیْکُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِینَهٗ وَخُلُقَهٗ، فَزَوِّجُوهُ إِلَّا تَفْعَلُوا تَکُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ عَرِیْضٌ.
جب تمہیں ایسا شخص نکاح کا پیغام دے جس کا دین و اَخلاق تمہیں پسند ہو تو اس سے نکاح کرو۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ بپا ہونے کا خدشہ ہے۔
درج بالا فرمان نبوی میں یہی حکمت کار فرما ہے کہ دین دار شخص نہ صرف خود دین پر کار بند رہے گا بلکہ اپنی زوجہ اور بچوں کو بھی دین کے ساتھ جوڑے رکھے گا۔ لہٰذا زوجین کا انتخاب کرتے وقت اِس بات کا اِدراک ہونا ضروری ہے کہ اِنتخاب محض زوجین کا ہی نہیں بلکہ مستقبل کے والدین کا بھی ہے۔ جنہوں نے آگے چل کر اُمتِ مسلمہ کے لیے ایسے افراد کی تربیت کرنے کا فریضہ سر انجام دینا ہے اور خلیفۃ اللہ فی الارض کا منصب سنبھالنا ہے۔ وہ نکاح جس میں دینی اَقدار کا خیال رکھا جاتا ہے نیک اور صالح اولاد کے حصول اور تربیتِ اولاد کے سلسلہ میں بھی ٹھوس کردار ادا کرتاہے۔ اسی کے ذریعے ایک صالح نسل وجود میں آتی ہے۔ لہٰذا زوجین کا انتخاب کرتے وقت ایسی اولاد کا حصول چشم تصور میں ضرور رہنا چاہیے جو صالحیت کے قرآنی معیار پر پورا اُترتی ہو اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہو۔
سوال 17: کیا اِسلام میں نکاح کا اَہم مقصد بقائے نسلِ آدم ہے؟
جواب: جی ہاں! اِسلام میں نکاح کا اَہم مقصد بقائے نسلِ آدم ہے اور اس سے اولاد اور نسب کا تحفظ ہوتا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے نکاح کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے اسے اپنی سنت قرار دیا ہے۔ اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
اَلنِّکَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ یَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَیْسَ مِنِّي، وَتَزَوَّجُوا، فَإِنِّي مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ، وَمَنْ کَانَ ذَا طَوْلٍ فَلْیَنْکِحْ. وَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَعَلَیْهِ بِالصِّیَامِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ.
نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت پر عمل نہیں کیا وہ مجھ سے نہیں ہے۔ تم لوگ نکاح کرو، قیامت کے روز میں دوسری اُمتوں پر تمہاری کثرت کی بنا پر فخر کروں گا۔ جو شخص صاحبِ حیثیت ہے اُسے چاہیے کہ وہ نکاح کرے۔ مگر جو شخص نکاح کی اِستطاعت نہ رکھے تو اُسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے اِس لیے کہ روزہ شہوت کو دور کر دیتا ہے۔
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْأُمَمَ.
محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو کیونکہ میں تمہاری کثرت کی وجہ سے دیگر اُمتوں کے سامنے برکت حاصل کروں گا۔
سوال 18: زوجین کو اولاد کی آرزو کیوں ہوتی ہے؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے اِنسان کے اندر ایک فطری خواہش رکھی ہے کہ شادی کے بعد وہ صاحبِ اولاد ہو۔ زوجین کے لیے نیک اولاد بہت بڑی نعمت اوراُس کے مرنے کے بعد اُس کا نام زندہ رکھنے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ ہر انسان میں طویل عرصے تک جینے اور اس کی کمائی ہوئی جائیداد، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ اس کا وارث ہونے کی فطری خواہش ہوتی ہے اور اس کی تکمیل اولاد کے ذریعے ہی ممکن ہوسکتی ہے۔ قرآن حکیم میں اولاد کو دنیا کی زندگی میں زینت اور رونق کہا گیا ہے:
اَلْمَالُ وَالْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا.
الکهف، 18: 46
مال اور اولاد (تو صرف) دنیاوی زندگی کی زینت ہیں۔
نیک و صالح اولاد آخرت میں والدین کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہوتی ہے۔ اولاد کی یہی خواہش اگر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوش نودی کے حصول کے لیے ہو تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔ اللہتعالیٰ کے نیک و صالح بندے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں عرض کناں ہوتے ہیں:
وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًاo
الفرقان، 25: 74
اور (یہ) وہ لوگ ہیں جو (حضورِ باری تعالیٰ میں) عرض کرتے ہیں: اے ہمارے رب، ہمیں ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما، اور ہمیں پرہیزگاروں کا پیشوا بنا دے۔
سوال 19: کیا انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اولاد کی آرزو کی ہے؟
جواب: جی ہاں! انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اَولاد کی آرزو کی ہے۔ قرآن حکیم میں مذکور ان کی دعاؤں سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے اولاد کے حصول کے ساتھ ساتھ ان کے نیک اور صالح ہونے کی بھی دعائیں مانگیں۔
1۔ قرآن حکیم میں مذکور ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یوں اپنے رب سے نیک و صالح اولاد کی دعا مانگی:
رَبِّ هَبْ لِیْ مِنَ الصّٰلِحِیْنَo فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍo
الصافات، 37: 100-101
(پھر اَرضِ مقدّس میں پہنچ کر دعا کی:) اے میرے رب! صالحین میں سے مجھے ایک (فرزند) عطا فرما۔ پس ہم نے انہیں بڑے بُردبار بیٹے (اِسماعیل علیہ السلام) کی بشارت دی۔
2۔ حضرت زکریا علیہ السلام نے یوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نیک اولاد کی دعا مانگی:
رَبِّ ھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ ذُرِّیَّةً طَیِّـبَةً ج اِنَّکَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِo
آل عمران، 3: 38
عرض کیا: میرے مولا! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کا سننے والا ہےo
سورۃ مریم میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا کا بیان یوں کیا گیا ہے:
فَھَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاo یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّاo
مریم، 19: 1-6
سو تو مجھے اپنی (خاص) بارگاہ سے ایک وارث (فرزند) عطا فرما۔ جو (آسمانی نعمت میں) میرا (بھی) وارث بنے اور یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد (کے سلسلهِٔ نبوت) کا (بھی) وارث ہو اور اے میرے رب! تو (بھی) اسے اپنی رضا کا حامل بنا لے۔
نیک و صالح اَولاد کی دعا نہ صرف انبیاء کرام علیہم السلام نے کی بلکہ ان کی سنت و اتباع میں اولیاء کرام نے بھی اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کے لیے دعائیں کیں۔
3۔ قرآنِ حکیم میں حضرت عمران اور ان کی زوجہ کا واقعہ مذکور ہے کہ ان دونوں نے نیت کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ انہیں بیٹا عطا فرمائے گا تو وہ اسے اللہ کے دین کے لیے وقف کر دیں گے۔ جب بیٹی کی ولادت ہوئی تو انہوں نے اس کا نام مریم رکھا اور اپنے کیے ہوئے ارادے کے مطابق اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دیا اور ساتھ ہی ان کی والدہ نے یہ دعا کی:
وَاِنِّیْ سَمَّیْتُھَا مَرْیَمَ وَاِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo
آل عمران، 3: 36
اور میں نے اس کا نام ہی مریم (عبادت گزار) رکھ دیا ہے اور بے شک میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔
اِس عمل سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنی اَولاد اور آئندہ نسلوں کے لیے ان کی پیدائش سے قبل ہی دعائیں کرنا مستحب عمل ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ کی دعا کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اور ان کے بیٹے حضرت عیسٰی علیہ السلام کو شیطان کے چھونے سے محفوظ رکھا، جیسا کہ حدیث مبارک میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا:
مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلَّا یَمَسُّهُ الشَّیْطَانُ حِیْنَ یُوْلَدُ، فَیَسْتَھِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّیْطَانِ، غَیْرَ مَرْیَمَ وَابْنِھَا.
بنو آدم میں سے کوئی مولود (یعنی بچہ) ایسا نہیں ہے جسے پیدائش کے وقت شیطان مس نہ کرے۔ چنانچہ وہ اس شیطان کے چُھونے کی وجہ سے چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے، سوائے مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام کے (کہ انہیں شیطان نے مس نہیں کیا)۔
ایک روایت میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا:
اقْرَئُوْا إِنْ شِئْتُمْ: {وَاِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo}
آل عمران، 3: 36
اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو:
{وَاِنِّیْٓ اُعِیْذُھَا بِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِo}
’اور بے شک میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود (کے شر) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔‘۔
لہٰذا والدین کو نومولود کی پیدائش کے وقت یہ دعا پڑھنی چاہیے تاکہ نومولود شیطان کے شر اور وساوس سے محفوظ رہے۔
سوال 20: اولاد والدین کے لیے کیسے دنیا و آخرت میں صدقہ جاریہ بنتی ہے؟
جواب: نیک اولاد یقینا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ نعمت ایک ثمر آور درخت کی مانند ہے جس کے لیے ابتداء میں سخت محنت کی جاتی ہے اور تکالیف اٹھائی جاتی ہیں۔ لیکن جب یہ درخت بڑا ہوتا ہے، اس کا تنا مضبوط ہو جاتا ہے اور شاخیں پھل سے جھک جاتی ہیں تو پھر یہ نیک و صالح اولاد دنیا میں والدین کے لیے عزت و شرف اور آخرت میں ان کے لیے صدقہ جاریہ کا باعث بنتی ہے۔ اس کا ثواب بعض صورتوں میں قیامت تک والدین کو ملتا رہتا ہے۔
1۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهٗ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَدْعُو لَهٗ۔
جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے اَعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (کہ اُن کا اَجر اُسے برابر ملتا رہتا ہے:) ایک وہ صدقہ جس کا نفع جاری رہے، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے تیسری وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔
2۔ ایک اور روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
یقیناً اللہ تعالیٰ جنت میں ایک صالح شخص کا درجہ بلند فرمائے گا تو وہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میرے درجات کی یہ بلندی کس وجہ سے ہے؟ وہ فرمائے گا: یہ (بلندی) تیرے فرزند کی طرف سے تیرے لیے مغفرت کی وجہ سے ہے۔
3۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ اُس وقت موجود نہ تھے۔ وہ (بارگاهِ رسالت میں) عرض گزار ہوئے:
یَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّ أُمِّي تُوُفِّیَتْ وَأَنَا غَائِبٌ عَنْهَا، أَیَنْفَعُهَا شَیْئٌ إِنْ تَصَدَّقْتُ بِہٖ عَنْهَا؟
یا رسول اللہ! میری والدہ محترمہ کا انتقال ہو چکا ہے اور میں اس وقت حاضر نہ تھا، اگر میں اُن کی طرف سے کوئی خیرات کروں تو کیا اُنہیں ثواب پہنچے گا؟
حضور نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا: بالکل۔ اس پر وہ عرض گزار ہوئے:
(یا رسول اللہ!) میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرا مخراف نامی باغ والدہ مرحومہ کی طرف سے صدقہ ہے۔
4۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ (قبیلہ) جُهَینہ کی ایک عورت نے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا:
إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَلَمْ تَحُجَّ حَتّٰی مَاتَتْ، أَفَأَحُجُّ عَنْھَا؟
میری والدہ نے حج کی منت مانی تھی لیکن وہ حج نہ کر سکی یہاں تک کہ فوت ہوگئی۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کروں؟
حضور ﷺ نے فرمایا:
ہاں! تم اس کی طرف سے حج کرو۔ بھلا بتاؤ تو اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتیں؟ پس اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرو کیونکہ وہ زیادہ حق دار ہے کہ اُس کے عہد کو پورا کیا جائے۔
لہٰذا نیک و صالح اولاد کا حصول نعمت خداوندی ہے۔ جس کی وجہ سے والدین دنیا و آخرت میں سرخرو ٹھہرتے ہیں۔
اِس ابتدائی گفتگو کے بعد اگلے باب میں ہم قبل اَز پیدائش بچے کے حقوق میں سے چند اہم حقوق کا تذکرہ کریں گے۔
Post No 43 👇
عورتوں کے بارے میں غلط تصورات اور واہمے
بنیادی طور پر مردوں کے بارے میں رائج تصورات سے مختلف ہوتے ہیں عام طور پر عمر اور شکل و صورت زیادہ تر ان باتوں کی بنیاد ہوتی ہے جیسے جتنی کم عمر ہو گی اتنی بہتر ہو گی۔ اسی طرح پرکشش خاتون میں ایک سیدھی سادی کی نسبت زیادہ سیکس ہو گی۔ عورتیں بھی اپنی چھاتیوں کے سائز‘ شکل اور لچک کے بارے میں فکر مند رہتی ہیں کہ آیا وہ سخت ہیں یا نرم پڑ گئی ہیں یا جیسے بچے کی پیدائش کے بعد لٹک جاتی ہیں اسی طرح سیکس اور جنسی عمل کے دوران انتہائی حد تک پہنچنے کے بارے میں تصوراتی خیالات پائے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ ذرائع نشرو اشاعت نے یہ بات پھیلا رکھی ہے کہ جتنے سخت یا برے طریقے سے اسے جنسی عمل کے دوران رگیدا جائے گا اتنا ہی اس کے حق میں بہتر ہو گا اور بہت سی خواتین اسے اپنی جنسی زندگی کے معمولات کے طور پر قبول کر لیتی ہیں بے شک اس عمل میں انہیں تکلیف‘ زحمت اور بلکہ زخمی ہو جانا پڑے حالانکہ اندرونی طور پر بہت سی خواتین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان سے جنسی عمل کے دوران نرمی برتی جائے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ جنسی فعل کے دوران آخری حد تک پہنچنے کی متلاشی خاتون ایک سے زائد آخری حدودوں کی بھی خواہش مند رہتی ہے۔
عمر
تمام معاشروں میں اور خاص طور پر ہمارے معاشرہ میں عمر ایک خاص رول ادا کرتی ہے زندگی کا ساتھی چننے کے لئے ایک 60 سال سے زائد عمر کا مرد بخوشی 16 سال کی لڑکی کو زندگی کا ساتھی بنانے پر رضامند ہو جاتا ہے۔ لیکن مغربی مردوں کو اب اس بات کا پتہ چل چکا ہے کہ تجربہ کار اور بڑی عمر کی عورت جنسی عمل میں زیادہ حد تک ساتھ دیتی ہے جس سے صحیح لطف حاصل کیا جا سکتا ہے بجائے نو عمر کے جو کہ بالکل ناتجربہ کار اور جنس کے معاملہ میں اناڑی ہوتی ہے۔
جسم کی بناوٹ اور شکل و صورت
عورتوں کے لئے بنائو سنگار کا سامان بنانے والے‘ رنگین قوس قزح کے رنگوں والی ساڑھیاں بنانے والے‘ لاتعداد قسم کی برا (چولی۔ Bar) ڈیزائن کرنے والے‘ بیوٹی پارلر اور مساج کرنے والوں کا بس صرف ایک مقصد ہے کہ عورت کو کسی طرح نرم اندام‘ نرم و نازک‘ پتلی سی بنا کر اور جنسی طور پر پرکشش بنا کر اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ مرد کو لبھائے یا اپنی طرف متوجہ کر سکے۔ خواہ سکول ہو یا کالج‘ نوکری کے لئے درخواست دی ہو یا شادی کے لئے خاوند کی تلاش ہو ہر جگہ شکل و صورت کو غیر ضروری اہمیت دی جاتی ہے کیا وہ گوری ہے یا کالی؟ کیا وہ پتلی ہے یا موٹی؟ یہ سب چیزیں شکل و صورت کے ساتھ مل کر اہمیت کو بڑھاتی ہیں جبکہ سیدھی سادی بنائو سنگھار کے بغیر خواتین ان چیزوں کی وجہ سے حساس ہو جاتی ہیں اور عجیب سا محسوس کرتی رہتی ہیں۔ لیکن یہ بہت سے مردوں کا تجربہ ہے کہ سیدھی سادی خواتین جنسی عمل کے دوران زیادہ ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور ان کے تعاون کی حد ان ’’نیوٹرون بموں‘‘ سے زیادہ ہوتی ہے جو سج کر ہر انگ انگ سے سیکس کا اشتہار بنی پھرتی ہیں لیکن دور کے ڈھول سہانے۔
چھاتیاں
چھاتیوں کا سائز بہت سی نوجوان خواتین کے لئے پریشانی کا باعث ہوتا ہے اور انہوں نے پلاسٹک سرجری کا نام سنا ہوتا ہے اس وجہ سے لاتعداد نوجوان خواتین اپنی چھاتیوں کا سائز بڑھانا چاہتی ہیں۔ یہ اس غلط تصور کی وجہ سے ہے کہ مرد ایسی چھاتیوں کو پسند کرتے ہیں جن سے ہاتھ بھر جائیں یا ہتھیلیوں میں سما جائیں۔ اسی طرح جن خواتین کی چھاتیاں بہت بڑی ہوتی ہیں وہ بھی فکر مند رہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ پلاسٹک سرجری کے ذریعے انہیں چھوٹا کرا لیا جائے‘ چھاتیوں میں تنی حالت کی کمی‘ لچک کی کمی‘ یا لٹکتی ہوئی چھاتیاں جو اکثر بچوں کو چھاتیوں سے دودھ پلانے کی حالت میں ہو جاتی ہیں یہ ایسی وجوہات ہیں جو اکثر خواتین میں پریشانی کا باعث بنتی ہیں۔ ہم ایسی تمام خواتین کو یقین دلاتے ہیں کہ جنسی عمل کے دوران چھاتیوں کا رول ان کے سائز یا لچک سے ہرگز مشروط نہیں ہے۔ کچھ خواتین جن کی چھاتیاں چھوٹی ہوتی ہیں وہ جنسی عمل میں فوری ردعمل دیتی ہیں بہ نسبت ان کے جن کی چھاتیاں تو بڑی ہوتی ہیں لیکن وہ جنسی عمل میں فوری اور بھرپور ساتھ نہیں دے سکتیں.
Post No 44 👇
ہر شخص اپنی بیوی کو جوان، تر و تازہ دیکھنا چاہتا ہے۔
بیویاں شوہر کے لیۓ سجنے سنورنے کو تیار ہی نہیں، شوہر جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہی گرد آلود چہرا موٹا جسم بوسیدہ لباس خشکی بھرے بال لیۓ مردانہ آواز نکالتے ہوۓ منہ بنا کر غصہ میں کہتی ہے، آگۓ آپ ؟ فلاں چیز لانا بھول گۓ ہونگے، معلوم ہے مجھے، آپ سے ایک کام ڈھنگ سے نہیں ہوتا، میری تو قسمت خراب تھی جو اس گھر میں شادی ہوئ، آپ سے تو ذرا سکھ مجھے حاصل نہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔!!!
یہاں وہ شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونا شروع ہوجاتا ہے، پھر اسے بیوی سے زیادہ موبائل، ٹیلیوژن اور دوستوں میں دلچسپی بڑھنے لگتی ہے، ایمان اور دل میں خدا کا ڈر ہوتا ہے تو نفس پر قابو کیۓ رکھتا ہے اور کہیں ایمان کمزور، خوف خدا کم ہو تو باہر خواتین سے تعلق بنا بیٹھتا ہے۔۔۔!!!
ہر شخص اپنی بیوی کو جوان، تر و تازہ اور خوبصورت دیکھنا چاہتا ہے، ہر شخص چاہتا ہے کہ اسکی بیوی رومانوی انداز میں گفتگو کرے، لیکن خواتین کی طرف سے جواب ملتا ہے کہ بچوں کے بعد یہ سب نہیں ہوتا، بچے کون سنبھالے گا، گھر کے کام کاج کون کرے گا، ان تمام معاملات میں انسان کی حالت خراب ہو ہی جاتی ہے۔۔۔!!!
اور پھر اس کا نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ شوہر موبائل میں مصروف رہتے ہیں، دوستوں میں مصروف رہتے ہیں، آفس کام سے دھیان ہی نہیں ہٹتا، گھر دیر سے آتے ہیں۔۔۔!!!
واضح بات ہے کہ جب بیوی کے اندر سے عبدالغفور والی فیلنگز آیئں گی تو شوہر نے موبائل اور ٹیلیوژن کو ہی ترجیح دینی ہے، دوستوں کی ہی ترجیح دینی ہے، ایسا کیسے ممکن ہے کہ سجی سنوری بیوی سے منہ موڑ کر شوہر موبائل میں گھسا رہے۔۔۔؟؟؟
اگر ایک عورت شوہر کا استقبال مسکراہٹوں کے ساتھ کرے، کمرے کا ماحول رومانوی بنا کر رکھے، خود کو شوہر کے لیے تیار کیۓ سج سنور کر رہے، شوہر سے گفتگو کے دوران آواز میں نرمی اپناۓ رکھے تو شوہر دوستوں میں جانا تو دور بلکہ اپنے آفس سے جلدی چھٹی لے آۓ گا۔۔۔!!!
یہ تو اللہ کا حکم ہے خواتین واسطے کے اپنے شوہر کے لیے سجنی سنوری رہا کرو تاکہ شوہر کا اپنی بیوی سے دل لگا رہے، وہ کبیرہ گناہوں کی طرف نا جاۓ، اور غیر محرموں سے پردے کا حکم دیا گیا، لیکن یہاں تو مکمل الٹی گنگا بہ رہی ہے کہ گھر میں شوہر کے سامنے بیوی کے ہاتھوں میں سے پیاز اور لہسن کی سمیل آرہی ہے اور جب یہی عورت کسی شادی کی تقریب میں جاۓ تو میک اپ کے ڈبے ختم کردیے، آدھے آدھے پرفیوم اور سپرے ہوا میں اڑادیے، اعلی سے اعلی لباس زیب تن کیۓ جاتے ہیں لیکن اپنے شوہر کے لیے زیرو بٹا زیرو۔۔۔!!!
بعض جگہ مردوں میں بھی یہ خامیاں ہیں بیوی کے پاس جایئں تو صفائ و ستھرائ کا خیال رکھیں، خود کو چست و ایکٹو رکھیں، آنکھوں چمک رکھے، چہرے پر مسکراہٹ رکھے، بالوں میں کنگھی اور ہلکی خوشبو کا استعمال بے حد ضروری ہے، ایسا نا ہو کہ باہر سے پسینے میں بھرا آۓ اور بدبو سے آس پاس ماحول خراب کردے، سر کے بالوں میں خشکی نا آنے دے، داڑھی ہے تو کنگا کیا کرے، میںٹین کرکے رکھے، کلین شیو ہے چہرا گرد و پسینے سے صاف رکھے، مطلب بیوی کو بھی اپنا شوہر جوان، خوبصورت، ترو تازہ اور ایکٹو اچھا لگتا ہے۔۔۔!!!
تمام باتوں کا مقصد یہ ہے کہ میاں بیوی کی زندگی میں دونوں کا ایک دوسرے کے لیۓ سجنا سنورنا، ایک دوسرے کے لیۓ تیار ہونا، بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اس سے محبت بڑھتی ہے، بیزاریت دور بھاگتی یے، گھر کا ماحول خوبصورت رہتا ہے۔۔۔!!!
بیوی کے معاملات اس لیۓ زیادہ ڈسکس کیے کہ اکثر و بیشتر بیویاں بچوں اور گھر کے کاموں میں اتنا مصروف ہوجاتی ہیں کہ شوہر کے لیۓ سجنے اور سنورنے کے لیۓ وقت نہیں نکال پاتی جس سے شوہر آہستہ آہستہ بیوی سے دور ہونے لگتا ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں۔۔۔!!!
مختصر سی بات ہے فارغ آج کل کوئ بھی نہیں، جہاں خواتین کے پاس کام کے انبار لگے ہوتے ہیں وہاں مرد بھی دن بھر کمانے واسطے اپنی جان جلاتا ہے، وقت نکلتا نہیں ہے، وقت نکالنا پڑتا ہے، اور ایک دوسرے کے لیۓ سجنا سنورنا تو اس رشتے کے لیے انتہائ ضروری ہے، اگر اس کے لیے دونوں میں سے کسی کو فرصت نہیں ملتی تو معذرت کے ساتھ عرض یہ ہے کہ اپنی ازدواجی زندگی میں مسائل کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔۔۔!!!
رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین
Post No 45 👇
ایک وقت تھا مرد کو شرم آتی تھی کہ اس کی بیوی نوکری کرے اسے فخر ہوتا تھا کہ وہ کما رہا ہے اور بیوی کو بھی بہت مان ہوتا تھا
لیکن پھر وقت کے ساتھ ساتھ سوچ بدلی
مہنگائی کے معاشرے پر اثرات پڑے اور کچھ مغرب کو دیکھ کر لوگوں نے اپنی بیٹیوں کو گھر سے کمانے کیلئے نکالا،
بعض لوگوں کی مجبوری تھی
کیونکہ ان کا بیٹا کوئی نہیں تھا
وہاں بیٹی ہی بیٹا بن جاتی ہے ،
اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مرد ذمہ داری کا مظاہرہ کرتا اور عورت کو گھر کے باہر بھی پروٹیکشن دیتا
لیکن ہمارے معاشرے میں گھر سے باہر قدم رکھنے والی لڑکی کو شکار سمجھا جانے لگا،
لڑکیوں کے آگے بڑھنے کا اثر یہ ہوا کہ شادی کیلئے ان لڑکیوں کی مانگ بڑھ گئی جو نوکریاں کرتی ہیں
اور نقصان گھر میں بیٹھنے والی لڑکی کا ہوا
وہ بے چاری گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہونے لگی،
ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ مرد بھلے بیوی کو نوکری کرنے دیتا ہے وہ ساتھ میں یہ بھی چاہتا ہے کہ بیوی گھر کی ذمہ داری بھی پوری کرے
یعنی 8 گھنٹے باہر ڈیوٹی اور باقی دن گھر ڈیوٹی اس کی وجہ سے گھر میں جھگڑے شروع ہوگئے
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عورت جو پہلے مرد پر انحصار کرتی تھی
جب کمانے لگی تو اتنی نڈر بھی ہوگئی کہ اس نے طلاق کا ڈر ہی نکال دیا
ہمارے معاشرے میں ایسی لڑکیاں اب عام ہیں جو نوکری بھی کرتی ہیں خودمختار ہیں اور طلاق یافتہ بھی ہیں،
مردوں کا اس میں کافی قصور ہے وہ یہ سوچتا ہی نہیں کہ عورت کمائے بھی گھر چلانے میں حصہ ڈالے اور پھر گھر کے کام بھی کرے وہ بھی انسان ہے کوئی مشین تو نہیں
لیکن مردوں کی اکثریت کی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے کہ وہ خود کو بدلتے نہیں اور جو بدلتے ہیں ان کو ایسے جاہل لوگ رن مرید کا نام دیدیتے ہیں،
یاد رکھیں میاں بیوی کے تعلق میں عزت سب سے اہم چیز ہے،
عورت کی عزت اور احترام ہی ایک مرد کا کام ہے، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کا ہاتھ بٹائے تو اس کو بھی تھکن اتارنے کا وقت دیں
اسے انسان ہی سمجھیں،
عورت کو اللہ نے دل کا بہت ہی اچھا بنایا ہے آپ پیار محبت سے بات کریں گھر جنت بن جائے گا
یہ دولت یہاں ہی رہ جانی ہے رشتوں کی قدر کریں..!!
Post No 46, 👇
وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تها،کالج کے بعد جب یونیورسٹی میں داخل ہوا تو باپ کی معمولی تنخواہ اس کے اخراجات پورے کرنے سے قاصر تهی،ماں کو وراثت میں 6 مرلے کا ایک پلاٹ ملا تھا،
اس کے کاغذات اپنے بیٹے کے حوالے کرتے ہوئے کہا میرا بچہ پڑھ لکھ کر افسر بنے گا تو ایسے کئی پلاٹ خریدے گا،چل میرا بچہ یہ پلاٹ بیچ کر اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر،اس طرح اس کی پڑھائی کا سلسلہ جاری رہا،یونیورسٹی سے فراغت کے بعد اسے اچھی سی جاب بھی ملی،یوں خاندان کے برے دن ختم ہوگئے..
چند عرصے بعد ماں باپ کے لئے یہ خوشی اس وقت عارضی ثابت ہوئی جب "پسند کی شادی" کے بعد اس نے اپنے ماں باپ کو باپ کی کل پنشن یعنی 8000روپے کے رحم و کرم پہ چهوڑ کر اپنا الگ گھر بسالیا،
اس کے اپنے گھر میں گاڑی سے لے کر ائیر کنڈیشن تک کی ہر سہولت میسر تھی جب کہ دوسری جانب اس کی ماں بیماری کی وجہ سے بستر سے لگ کر رہ گئی تھی،باپ روزانہ آدھا گهنٹہ پیدل چل کر حکیم صاحب سے اس کے لئے تازہ دوا لے کر آتا،جب کہ باقی وقت لوڈشیڈنگ کی وجہ سے دیسی پنکھے سے اپنی بیوی کے پسینے پوچھنے کی ناکام کوششوں میں مصروف رہتا..
ایک دن شدید بخار کی وجہ سے ماں کی حالت غیر ہوگئ،جب ماں کو کھانسی کا دورہ پڑا تو آس پڑوس کے لوگوں نے اسے ہسپتال پہنچا دیا،ڈاکٹر ماں سے کوئی بهی بات پوچھ لیتا اس کا جواب بس یہی ہوتا تھا:
"میرا بچہ میرا بچہ"
کسی نے جاکر بیٹے کو خبر دی کہ ہسپتال کے بیڈ پر آپ کی ماں زندگی کے آخری لمحات میں آپ کو یاد کررہی ہے،اچانک اس کے قدم گاڑی کی جانب بڑھنے لگے،بیوی نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اسے دھکا دے کر گاڑی میں سوار ہوا،آج اس پر جو کیفیت طاری تھی وە شاید پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی،بالآخر وہ ہسپتال پہنچا اور سیدھا اس وارڈ میں وارد ہوا جہاں اس کی ماں موت کی سرحد پر اس کا انتظار کررہی تھی..
جب وە وارڈ میں داخل ہوا تو ڈاکٹر ماں کے علاج میں مصروف تها،اس نے جاکر ماں سے لپٹنے کی کوشش کی،جب ڈاکٹر کو معلوم ہوا کہ یہ اس کا بیٹا ہے تو وہ اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا ،کیونکہ ماں باپ کے ساتھ اس کے سلوک کے بارے میں پہلے ہی کسی نے ڈاکٹر کو سب کچھ بتادیا تھا،
ڈاکٹر لفظوں کے چھلنی کردینے والے اسلحے سے اس پر حملہ آور ہوا،جب ڈاکٹر ڈانٹ ڈپٹ کی تمام حدیں پار کرچکا تو اچانک ماں کے مردہ نما وجود میں کچھ حرکت محسوس ہوئی،اس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑا اور ان کے لرزتے ہونٹوں نے زندگی کے آخری الفاظ ادا کئے:
"تم میرے بچے کو کیوں ڈانٹتے ہو"؟
اس کے بعد ماں نے گردن لڑھکا دیا اور ہمیشہ کے لیے فلک کے اس پار چلی گئی........لمحہ فکریہ ۔۔۔۔۔آج عموماً ہر گھر کی یہ کہانی ہے ...
Post No 47 👇
(٭ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ)
ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﺲ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻟﺬﺕ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﻮ
ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ orgasmﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻋﺮﺗﻮﮞ
ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﺘﯽ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ
ﺟﻨﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ
ﺫﮨﻨﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ
ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺍﺱ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ
ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻟﯿﺴﺪﺍﺭ ﻣﺎﺩﮮ ﺳﮯ ﻧﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﺳﯿﮑﺲ
ﮐﯿﻄﺮﻑ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﮨﮯ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﻨﯽ ﮐﺎﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺮ
ﮐﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﻋﻮﺭﺕ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﮐﮯ
ﻋﺬﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﻟﺬﺕ
ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﺮﯼ ﺟﻨﺴﯽ ﻟﺬﺗﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺮﮨﻮﻥ
ﻣﻨﺖ ﮨﯿﮟ۔ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺟﺐ
ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ
ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭼﮭﻮﺗﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ۔
ﯾﮧ ﻟﺐ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮍ ﮐﺮ
ﺍﯾﮏ ﭨﻮﭘﯽ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ Clitorisﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ
ﮐﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﯿﺪﺍ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺟﺲ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﭘﯿﺪﺍ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﻣﺮﺩ ﺍﻭﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ
ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ
ﻋﻈﻤﺖ ﺍﺳﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﺎ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﻋﻀﻮ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ
ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ
ﺳﮑﺘﯽ۔ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﯽ
ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﮮ ﯾﺎ ﯾﮧ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺍﻥ
ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻔﯿﺪﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﻮﺵ ﮐﯽ
ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ
ﺳﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻨﺤﺎﺻﻞ ﻧﮧ
ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ
ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﯼ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ
ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺭﮔﮍ ﮐﯽ ﺯﺩﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ۔ﯾﻮﮞ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ
ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ
ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺳﮯ
ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ
ﭘﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺮ ﻣﮩﺮ ﮨﯿﮟ۔ﺣﻘﯿﻘﺖ
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ
ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ
ﻣﺎﻗﻮﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
٭ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺗﺨﯿﻼﺕ :
ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺻﺪﯼ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻭﻝ ﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﮯ
ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﺴﯽ
ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻔﺮﻭﺿﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ
ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺧﻮﺩ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ
ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﮍﮐﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﭩﺮﯾﭽﺮ ﭘﮍﮬﺘﯽ
ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ
ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺩﮬﻤﺎﮐﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯿﮯ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻮﻉ ﭘﺬﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺕ ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪ ﯾﮧ ﺍﯾﻮﺳﯽ
ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺩ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺴﯽ
ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺟﻮﺵ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ
ﮨﯿﮟ۔ ﺟﺴﻦ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﮍﭘﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ
ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﭼﻼﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﺎﺧﻦ ﯾﺎ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺳﮯ
ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ۔
٭ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻋﻼﻣﺎﺕ :
ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ
ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
۱۔ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮈﮬﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ
۲۔ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﻟﯿﻨﺎ
۳۔ ﺷﺮﻡ ﮐﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ
۴۔ ﻧﭽﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺯﻭﺭ
ﻟﮕﺎﻧﺎ
۵۔ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﭩﮑﻨﺎ
۶۔ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ
۷۔ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﯽ ﮐﺮﻧﺎ،ﻧﺎﺧﻦ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﯾﺎ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ
ﻟﯿﻨﺎ
۸۔ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﺩﯾﻨﺎ
۹۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﻨﯽ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ
ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﻨﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ
٭ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ :
ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ
ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﺎ
ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭﭘﭩﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺪ ﻡ
ﻧﮑﻞ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔
۱۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔
۲۔ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﮍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯿﮧ ﮮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺑﺎﺯﻭ ، ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ۔
۳۔ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﭩﮭﮯ ، ﮐﻢ ﮐﮯ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺳﮑﮍ ﻥ ﺍﻭﺭ
ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﻨﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
۴۔ ﺟﺐ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ
ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ 5 ﺗﺎ 8 ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻏﯿﺮ ﺍﺭﺍﺩﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﺳﮑﮍﺗﯽ ﮨﮯ ۔
۵۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺧﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ، ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ
ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﮯ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﻟﮯ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﭽﺎﺅ ﺍﻭﺭ
ﺳﮑﮍﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
۶۔ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺟﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﮍ ﮐﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭼﮭﺎﺗﯿﺎﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ
ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ
ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﺤﺴﻮﺳﮩﻮﺗﺎ
ﮨﮯ۔
۷۔ ﻧﭙﻞ ﮐﮭﮍﮮ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ
ﭼﮭﺮﯾﺎﮞ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ
ﺭﻓﺘﺎﺭ 100ﺳﮯ 150 ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ
۸۔ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ 30mmHgﺳﮯ 80mmHg ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔
۹۔ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ 40 ﻓﯽ
ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔
۱۰۔ ﺧﻮﻥ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮔﻮﺭﯼ
ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻧﻈﺮؘﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔
۱۱۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ
ﮨﻠﮑﮯ ﻻﻝ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
٭ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ
ﺍﻗﺴﺎﻡ :
۱۔ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﮧ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﺴﯽ
ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ 30ﺳﮯ 60
ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔
۲۔ ﺑﻌﺾ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ
ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﻨﺴﯽ
ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔
۳۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺟﻨﺴﺘﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ
ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ
ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ
ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔
۴۔ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺯﺍﺭ ﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ
ﭘﺮ ﺗﺸﺪﺩ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ
ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﺎﺧﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ
ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺸﺪﺩ ﯾﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ
ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﮑﺮ ﻣﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ
ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ۔ ﺑﻌﺾ
ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ
ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻋﻼﻣﺘﯿﮟ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔
Post No 48👇
احتلام کے 7 مؤثر علاج
احتلام ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا سامنا زیادہ تر نوجوانوں کو کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر وہ نوجوان اس کا شکار ہوتے ہیں جو بالغ ہوں اور غیر شادی شدہ ہوں۔ احتلام اگر مہینے میں ایک سے دو بار ہو تو اس نارمل سمجھا جاتا ہے، لیکن اگر ہر روز رات کو سوتے ہوئے اگر اس کا سامنا کرنا پڑے تو پھر یہ کسی جنسی مسئلے کی نشانی ہو سکتا ہے۔
احتلام کے متعلق ہمارے معاشرے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، مثال کے طور پر یہ کہ احتلام ایک خطرناک مرض ہے یا اس کی وجہ سے سپرم کی تعداد کم ہو سکتی ہے، وغیرہ۔ عام طور پر یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کو احتلام کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، لیکن طبی تحقیقات کے مطابق خواتین جب بالغ ہوتی ہیں تو انہیں بھی اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
احتلام کی وجوہات پر ماہرین کی رائے میں اتفاق نہیں پایا جاتا، کچھ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ مصالحے دار کھانوں کی وجہ سے اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کئی ماہرین کہتے ہیں قبض بھی احتلام کی وجہ بنتی ہے۔ تاہم زیادہ تر لوگوں کا کہنا ہے کہ رات کو سوتے وقت احتلام ہونے سے پہلے وہ شہوت انگیز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق پیٹ کے بل سونے سے شہوت انگیز خوابوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو احتلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں یہ تجویز دی جاتی ہے کہ وہ رات کو پیٹ بل سونے سے گریز کریں۔
احتلام کا علاج
اگر ہر روز یا ہفتے میں تین سے چار مرتبہ احتلام کا سامنا کرنا پڑے تو مندرجہ ذیل گھریلو علاج مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم مہینے میں ایک یا دو مرتبہ اس کا سامنا کرنے کی صورت میں یہ علاج آزمانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ مہینے میں ایک دو بار احتلام ہو تو اسے نارمل سمجھا جاتا ہے۔
دماغ کو پرسکون رکھیں
ایک نجی ہیلتھ ویب سائٹ کے مطابق ایسے مرد جو ذہنی دباؤ کا شکار ہوں، انہیں دوسروں کی نسبت احتلام کا زیادہ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ سونے سے پہلے اپنے دماغ کو پر سکون رکھیں اور دن بھر کی پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کی کوشش کریں۔
دماغ کو پر سکون کرنے کے لیے آپ سونے سے قبل نہا سکتے ہیں تا کہ منفی خیالات سے دماغ کو چھٹکارا مل سکے، اس کے علاوہ کوشش کریں کر ہروز مناسب مقدار میں نیند ضرور لیں تا کہ احتلام سے بچا جا سکے، کیوں کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ احتلام کی وجہ سے مردانہ کمزوری بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ مردانہ کمزوری کے علاج کے بارے میں مزید معلومات یہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں۔
بادام اور دودھ
رات کو سونے سے قبل بادام اور دودھ استعمال کرنے سے بھی احتلام سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق دودھ اور بادام کے استعمال سے پر سکون نیند آتی ہے، جو احتلام میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
اس کے علاوہ یہ وٹامنز، منرلز، اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتے ہیں اور جسم کو انرجی بھی فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور احتلام کی کثرت میں کمی آتی ہے۔
باداموں کو آپ دودھ کے ساتھ چبا کر بھی کھا سکتے ہیں، جب کہ انہیں دودھ میں ابالا بھی جا سکتا ہے۔ بادام والا دودھ بنانے کے لیے تھوڑے سے بادام لے کر انہیں پیس لیں اور انہیں دودھ میں شامل کر کے ابال لیں، بہترین ذائقے کے لیے آپ اس میں تھوڑی سی چینی یا شہد بھی شامل کر سکتے ہیں۔
داہنی کروٹ سوئیں
عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پیٹ کے بل سونے سے اعضائے مخصوصہ میں خون کی گردش تیز ہو جاتی ہے جو احتلام کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس لیے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ احتلام کا شکار افراد پیٹ کے بل سونے سے گریز کریں اور داہنی کروٹ سوئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے قبل ڈھیلے کپڑے پہنیں اور بہت زیادہ تنگ زیریں جامہ پہننے سے گریز کریں۔
سونے سے پہلے کتاب پڑھنا
طبی ماہرین کے مطابق انسان جس بارے میں دن بھر سوچتا ہے یا اس کو جو واقعات پیش آتے ہیں، زیادہ تر انہی واقعات اور سوچوں کے متعلق اسے خواب آتے ہیں۔ اس لیے سونے سے پہلے کوئی مزاح سے بھرپور کتاب، ناول، یا تاریخی دستاویز کو پڑھ لیا جائے تو مثبت خیالات آتے ہیں جو احتلام میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ تاہم رات کو سونے سے قبل ایسی کتب کا مطالعہ مت کریں جو شہوت انگیز مواد سے بھری ہوں، کیوں کہ اس سے مسئلے کی شدت اور سنگینی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
صحت مند غذائیں
احتلام کا سامنا کرنے کی صورت میں غذا میں تبدیلی لانا ضروری ہو جاتا ہے۔ انار، پیاز، اور لہسن جیسی مفید غذائیں آپ اپنی خوراک میں شامل کر سکتے ہیں۔ ان غذاؤں کے باقاعدہ استعمال کی وجہ سے جسم کے مختلف اعضاء میں خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور وہ پر سکون رہتے ہیں، جس کی وجہ سے کثرتِ احتلام کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
فحش ویڈیوز سے اجتناب
اگر آپ فحش ویڈیوز دیکھتے ہیں اور احتلام کا شکار ہو جاتے ہیں تو آپ کو سب سے ان ویڈیوز کو دیکھنے کی عادت ترک کرنا ہو گی، کیوں کہ ویڈیوز دیکھنے سے آپ کے دماغ میں ان کے متعلق خیالات چلتے رہتے ہیں جو کہ شہوت انگیز خوابوں کی وجہ بنتے ہیں، جس سے بالآخر احتلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
غیر متوازن غذاؤں سے گریز
اگر آپ کو ہفتے میں کئی بار احتلام کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کچھ دنوں کے لیے ایسی غذاؤں کا استعمال ترک کر دیں جو جنسی خواہشات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ چکن کے استعمال کو کچھ دنوں کے لیے ترک کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کیفین کے استعمال میں بھی کمی لا کر اس مسئلے سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔
اگر احتلام کے یہ علاج آپ کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں تو آپ کو کسی یورالوجسٹ سے رابطہ کرنا ہو گا، کسی یورالوجسٹ سے آپ ہیلتھ وائر کے پلیٹ فارم کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔
Post No49 👇
مردوں کو مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا چاہیئے.
جن عورتوں کو بانجھ پن ، سیلان الرحم یا جریان وغیرہ کی شکایت ھو تو ایسی عورت سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کونکہ اس سے مختلف قسم کی بیماریاں پیدا ھو جاتی ہیں. پندرہ برس سے کم عمر کی لڑکی سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے. جو عورت خود مباشرت کی خواہش ظاہر کرے اس سے مباشرت نہیں کرنی چاہیے کونکہ جس طرح وہ تم سے اس خواہش کا اظہار کر رہی ہے وہ دوسروں پر بھی اس خواہش کا اظہار کر چکی ھو گی. اور انہیں فیض یاب بھی کر چکی ھو گی. بہت سے مختلف لوگوں کا مادہ منویہ اس کی اندام نہانی میں مختلف بیماریاں پیدا کر چکا ھو گا اور یہ بیماریا ںتم کو بھی لگ سکتی ہیں اس لیے اس طرح کی عورت سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے. میلی گندی رہنے والی اور لنگڑی لولی عورت سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کونکہ ان سے گھن آنے کی وجہ سے لذت حاصل نہیں ھوتی. اپنی سے بڑی عورت سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے. اس سے تم کمزور ھو جاؤ گے. بڑوں کا قول ھے کہ اگر کوئی بوڑھا مرد نوجوان عورت سے شادی کرتا ہے تو وہ جوان ھو جائے گا اور اگر کوئی جوان بوڑھی عورت سے شادی کرے گا تو وہ بوڑھا ہے جائے گا. بوڑھی عورتوں سے کبھی مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ ان کی اندام نہانی بہت سا مادہ منویہ چوس لیتی ہے اور مرد کمزور ھو جاتا ہےایسی عورتیں جو اپنی کسی سہیلی وغیرہ سے اندام نہانی رگڑوا کر انزال کروانے کی عادی ھوں ان سے بھی مباشرت نہیں کرنی چاہیئے ایسی عورت سے مباشرت کرنے سے سوزاک ھو جانے کا ڈر رہتا ھے. غیر ملکی عورتوں سے مباشرت نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ ان کا مزاج تم سے الگ ھوتا ہے
Post No 50 👇
چار شادیاں چار بیویاں...!!
ہر مرد ایسا چاہتا ہے مگر سوچئیے
اگر آپ کی چار بیٹیاں ہوئیں تو۔۔۔؟؟
دس لاکھ کا جہیز۔۔۔
پانچ لاکھ کا کھانا۔۔۔
گھڑی پہنائی۔۔۔
انگھوٹھی پہنائی۔۔۔
ولیمے والے دن ناشتہ۔۔۔
مکلاوہ کھانا دیگیں۔۔۔
بچہ پیدا ہونا پر خرچہ۔۔۔
بیٹی ہے یا سزا ہے کوئی۔۔۔؟
مرد ہو ناں۔۔۔آگے بڑھو۔۔۔کرو یہ سب خرچہ خود۔۔۔اور کرو چار شادیاں۔۔۔!!
سنت کیا صرف چار شادیوں پر ہی یاد ہے۔۔؟
باقی سنتوں پر عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے کیا۔۔؟
وہ اکثر اس لیے باپ سے فرمائشیں نہیں کرتی تھی کہ پہلے ہی اسکی شادی کا خرچ اور جہیز بناتے بناتے اسکا باپ مقروض ہونے والا تھا۔۔۔!!
منگنی کے بعد اکثر لڑکے والے آتے رہتے تھے اور مہمان نوازی کرتے کرتے اس کی ماں تھک چُکی تھی۔۔۔مگر پھر بھی خالی جیب کے ساتھ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہر آنے والے کو اعلیٰ سے اعلیٰ کھانے کھلاتی اور خوش کر کے بھیجتی تھی
کبھی نند ، کبھی جیٹھانی ، کبھی چاچی ساس تو کبھی مامی ساس۔۔۔ہر رشتے کو یکساں احترام دلانے کے لیے وہ الگ الگ ٹولیوں میں آتے رہتے۔۔۔!!
ایسے میں شام کو اسکے بابا جب گھر آتے تو انکے پاس خاموش بیٹھ کر انکا سر دبانے لگتی ، مانو جیسے باپ کو ہمت دلا رہی ہو یا یہ کہنا چاہ رہی ہو کہ سوری بابا میری وجہ سے آپ قرض لینے پر مجبور ہیں۔۔۔!!
شادی کی تاریخ فکس کرنا ایک تہوار بن چکا ہے، لڑکی والوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کتنے لوگ آئیں گے، انکے کھانے پینے کے علاوہ سب کیلیئے کپڑے خرید کر رکھنے ہوتے ہیں چاہے 5 لوگ ہوں یا 50۔۔۔!!
پھر بارات پر لڑکی کے باپ کو 10 بندے گھیر کر پوچھتے ہیں، جی کتنے بندے آ جائیں۔۔۔؟؟؟ کیا بولے گا وہ۔۔۔؟؟؟
اگر 100 کہے تو جواب ملتا ہے 200 تو ہمارے اپنے رشتہ دار ہیں پھر محلے دار لڑکے کے دوست....!!کچھ نہیں تو 400 افراد تو مجبوراً لانے پڑیں گے ساتھ........!!
اب لڑکی کا باپ کیا کہے۔۔؟ مت لانا۔۔؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔۔۔؟؟؟
پھر فرسودہ نظام میں بارات والے دن لڑکی کے ساتھ 2 دیگیں کھانا بھی بھیجنا ہے، جہیز بھی خود بنا کر چھوڑ کر آنا ہے اور ہو سکے تو بیڈ، صوفہ وغیرہ سجانے کیلیئے لڑکی کے بھائیوں کو بھیج دیجئے گا.....!!
لو مسلمان یوں ہوتی ہے ایک بیٹی گھر سے رُخصت...!! اب اس کا آگے سسرال میں کیا مول ہوگا، یہ اکثر ہم سنتے ہی رہتے ہیں۔۔۔!!
ہاتھ جوڑ کر التجا ہے 🙏 مت کریں ایسا، توڑ دیں یہ رسمیں جن سے ایک باپ توبہ کرے کہ اسکو بیٹی نہ پیدا ہو....😥
چھوڑ دیں یہ ہندوانہ رسمیں کہ بیٹیاں ماں باپ کی غربت دیکھ کر اپنی شادی کا خیال ہی دل سے نکال دیں....!!
اپنے بیٹے کیلیئے سادگی سے نکاح کر کے بہو لا کر دیکھیں، اپنی بیٹی بھی یونہی سادگی سے رخصت کرکے دیکھیں، سکون ملے گا...!!
اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ بیٹیاں حضرت فاطمہ (رض) جتنی لاڈلی نہیں ہیں، نا یہ بیٹے حضرت علی(رض) جتنے محترم....!!
آنے والی نسل کہ زندگی آسان بنا دو یارو۔۔۔!! 🙏
لڑکوں سے کہتی ہوں 🙏 جہیز مت لینا۔۔۔!!
اپنی ہونے والی بیٹی پر ترس کھانا جو کل کو تمہارے خراب حالات سے اتنی ہی پریشان ہوسکتی ہے جتنی آج تمہاری ہونے والی بیوی پریشان ہے....!!
اللہ نے تمہیں مرد پیدا کیا ہے،
کما کر اپنی بیوی کو خوشیاں خرید کر دینا......!!
آپ کا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے گروپوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے
میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ لاحاصل اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں۔۔۔!!
آج اپنے معاشرے کا یہ تلخ پہلو کیوں نہ شیئر کریں۔۔۔؟
آئیں ایک ایک شیئر کرکہ اپنا حصہ ڈالیں۔۔۔!!
کیا پتہ کسی کے دل میں اتر جائے یہ بات۔۔۔
No comments:
Post a Comment