🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 01* ▍
*·•●✿ کس زمین میں عشر(دسواں حصہ) ہے اور کس میں نصف عشر(بیسواں حصہ)؟*
*اگر زمین سال کے اکثر حصہ میں قدرتی آبی وسائل (بارش ، ندی ، چشمہ وغیرہ) سے سیراب کی جائے تو اس میں کل پیداوار کا دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اور اگر وہ زمین مصنوعی آب رسانی کے آلات و وسائل مثلا ٹیوب ویل یا خریدے ہوئے پانی سے سیراب کی جائے تو اس میں کل پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہوتا ہے۔*
* 📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت*
*▪المحیط البرھانی 2/485
▪جواہر الفقہ 2/274*
▪کتاب المسائل 2/246
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 02* ▍
*·•●✿ کون سی صورتوں میں عشر اور کون سی صورتوں میں نصف عشر واجب ہوگا؟*
*سیراب کرنے والے پانی پر اگر محنت یا خرچہ نہیں ہوتا ( جیسے بارش ، قدرتی چشمہ اور نہر سے ملنے والا مفت پانی وغیرہ) تو اس زمین کی پیداوار میں دسواں حصہ واجب ہوگا اور اگر پانی پر محنت یا خرچہ ہوتا ہے جیسے کنویں سے بذریعہ ڈول یا بذریعہ رہٹ نکالا گیا پانی ، ٹیوب ویل کا پانی اور وہ نہری پانی جس کا آبیانہ ادا کیا جائے تو اس صورت میں پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔*
*☆اگر کسی نہر کا پانی استعمال کرنے میں آبیانہ نہیں ہوتا البتہ اس کی کھدائی اور بند وغیرہ باندھنے میں محنت اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے تو اگر ہر سال اس کی کھدائی اور بند وغیرہ باندھنے میں اتنی ہی محنت کرنا پڑتی ہے جتنی پہلی مرتبہ کی کھدائی میں ہوئی تھی تو اس صورت میں پیداوار کا بیسواں حصہ ادا کرنا واجب ہوگا ورنہ دسواں حصہ ادا کیا جائے گا۔*
*☆۔۔۔ اگر کسی کے ٹیوب ویل وغیرہ سے پانی خرید کر استعمال کیا جائے تو اس صورت میں پیداوار کا بیسواں حصہ واجب ہوگا۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪المحیط البرھانی 2/485
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 03* ▍
*·•●✿ اگر زمین بارش اور ٹیوب ویل دونوں قسم کے پانی سے سیراب کی گئی ہو تو عشر کا حکم؟*
*☆۔بعض دفعہ کسی زمین کو بارش اور ٹیوب ویل دونوں قسم کے پانیوں سے سیراب کیا جاتا ہے ، تو اس صورت میں بارش کے پانی کا تقاضا یہ ہے کہ عشر یعنی 10 فیصد لازم ہو اور ٹیوب ویل کے پانی کا تقاضا یہ ہے کہ نصف عشر یعنی 5 فیصد لازم ہو ، تو اس صورت میں ضابطہ یہ ہے کہ جو پانی غالب ہو اس کا اعتبار کیا جائے گا ، اگر بارش کا پانی پیداوار کو زیادہ ملا ہے تو عشر لازم آئے گا اور اگر ٹیوب ویل یا رہٹ وغیرہ کا پانی زیادہ دیا گیا ہے تو نصف عشر لازم آئے گا اور اگر دونوں برابر ہو تو بعض حضرات فقہاء کرام رحمھم اللہ کے نزدیک نصف عشر یعنی بیسواں حصہ یا 5 فیصد لازم آئے گا اور بعض کے نزدیک عشر کا تین چوتھائی حصہ واجب ہوگا، عشر کے تین چوتھائی کا آسان مطلب یہ ہے کہ جتنی پیداوار ہوئی ہو ، اس کو 0.075 سے ضرب دے اور جو جواب آئے وہی حصہ فقراء کو دیدیں۔*
📚حوالہ:
▪☆مسائل بہشتی زیور 1/372 مع ترمیم و تسہیل
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 04* ▍
*·•●✿ کون سی پیداوار پر عشر واجب ہے؟*
*پیداوار میں عشر واجب ہونے کے بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ جن چیزوں کو اگانا یا انہیں ذریعہ آمدنی بنانا مقصود ہو ، ان میں عشر یا نصف عشر واجب ہوتا ہے خواہ وہ غلہ ، اناج اورپھل فروٹ ہوں یاسبزیاں وغیرہ مثلاً اناج اورغلہ میں گندم ، جو ، چاول ، گنا ، کپاس، جوار، دھان(چاول)، باجرہ، مونگ پھلی ، مکئی، اورسورج مکھی، رائی، سرسوں اورلوسن وغیرہ ۔ پھلوں میں خربوزہ، آم، امرود، مالٹا، لوکاٹ، سیب، چیکو، انار، ناشپاتی، جاپانی پھل، سنگ ترا، پپیتا ، اورناریل، تربوز، فالسہ، جامن، لیچی، لیموں ، خوبانی ، آڑو، کھجور ، آلوبخارا ،گرما، انناس، انگور اور آلوچہ وغیرہ سبزیوں میں ککڑی، ٹینڈا، کریلا بھنڈی توری، آلو ، ٹماٹر ، گھیا توری ، سبزمرچ، شملہ مرچ، پودینا ، کھیرا، ککڑی(تر)اور اروی ، توریا ، پھول گوبھی ، بندگوبھی ، شلغم، گاجر، چقندر، مٹر، پیاز، لہسن، ، پالک، دھنیااورمختلف قسم کے ساگ اورمیتھی اور بینگن وغیرہ۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/327
▪الفتاوی الھندیہ 1/186
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 05* ▍
*·•●✿ کس پیداوار پر عشر واجب نہیں۔*
*جو چیزیں ایسی ہوں کہ ان کی پیداوار سے زمین کا نفع حاصل کرنا مقصود نہ ہو ان میں عشر نہیں جیسے ایندھن ، گھاس، بید، سرکنڈا، ، جھاو، نرکل، کھجورکے پتے وغیرہ، ان کے علاوہ ہر قسم کی ترکاریوں اور پھلوں کے بیج کہ ان کی کھیتی سے ترکاریاں مقصود ہوتی ہیں بیج مقصود نہیں ہوتے اورجو بیج دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں مثلاً کندر، میتھی اورکلونجی وغیرہ کے بیج، ان میں بھی عشر نہیں ہے۔ اسی طرح وہ چیزیں جو زمین کے تابع ہوں جیسے درخت اور جو چیزدرخت سے نکلے جیسے گوند اس میں عشر واجب نہیں ،البتہ اگر ان میں سے کسی چیز کو پیداوار یا آمدنی کی غرض سے لگایا گیا ہو تو عشر ادا کرنا واجب ہوگا۔*
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/186
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/315
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 06* ▍
*·•●✿ عشر کے واجب ہونے کی شرائط*
*عشر کے وجوب کے لیے بنیادی طور پر چار شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:*
*(1)۔۔۔پیداوار کے مالک کا مسلمان ہونا ، کافر پر عشر واجب نہیں۔*
*(2)۔۔۔زمین کا عشری ہونا ، خراجی زمین کی پیداوار پر عشر واجب نہیں۔( خراجی زمین سے مراد وہ زمین ہے جو کسی غیرمسلم کی ملکیت میں ہو یا کسی مسلمان نے اس سے خریدی ہو یا اس کو خراجی پانی سے سیراب کیا جاتا ہو)*
*(3)۔۔۔زمین سے پیداوار حاصل ہوجائے ، اگر زمین کاشت نہ کی جائے یا کاشت تو کی لیکن پیداوار حاصل نہ ہوئی تو بھی عشر واجب نہیں۔*
*(4)۔۔۔پیداوار ایسی چیز ہو جس کو اگانا مقصود ہو یا وہ ذریعہ آمدنی ہو۔*
*وجوب عشر کے لیے نصاب*
*مفتی بہ قول کے مطابق عشر واجب ہونے کے لیے پیداوار کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے بلکہ قلیل ہو یا کثیر ، ہر صورت میں عشر ادا کیا جائے گا، البتہ اگر پیداوار نصف صاع (پونے دو کلو) سے بھی کم ہو تو اس میں عشر واجب نہیں۔*
📚حوالہ:
▪بدائع الصنائع 2/54
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/326
▪جواہر الفقہ 2/277
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 07* ▍
*·•●✿ عشر کے لیے سال گزرنا شرط نہیں ہے۔*
*جس طرح زکواة میں مال زکواة پر سال کا گزرنا ضروری ہے اس طرح عشر واجب ہونے کے لیے پیداوار پر سال کا گزرنا شرط نہیں ہے بلکہ جب بھی پیداوار حاصل ہوجائے تو عشر ادا کرنا واجب ہوگا۔*
*·•●✿ اگر پانی مفت ہو لیکن دیگر اخراجات ہوں تو عشر ہے یا نصف عشر؟*
*☆۔۔۔ پیداوار پر عشر یعنی 10 فیصد یا نصف عشر یعنی 5 فیصد لازم ہونے کا تعلق پانی کے خرچہ یا اس پر ہونے والی محنت کے ساتھ ہے ، لہذا اگر زمین کو ایسے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے جس پر خرچہ نہیں آتا تو محض کھاد ، بیچ اور اسپرے وغیرہ کے خرچہ کی وجہ سے حکم میں تبدیلی نہیں آئے گی اور بدستور عشر یعنی 10 فیصد ہی لازم آئے گا۔ خلاصہ یہ کہ کھاد، بیچ اور اسپرے وغیرہ کے خرچہ کو منہا نہیں کیا جائے گا۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪مبسوط 3/4
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 08* ▍
*·•●✿ کیا آبیانہ کی رقم عشر میں شمار ہوسکتی ہے؟*
*حکومت زمینداروں سے جو رقم آبیانہ کے طور پر وصول کرتی ہے، دراصل یہ اس پانی کاحصول ہوتا ہے جو حکومت نہروں کے ذریعے عوام الناس کو مہیا کرتی ہے۔ یہ رقم عشر کے حکم میں نہیں ہے لہذا اس رقم کو عشر میں شمار نہیں کیا جاسکتا البتہ آبیانہ کی وجہ سے پیداوار سے عشر یعنی 10 فیصد کے بجائے پیداوار کا نصف عشر یعنی 5 فیصد حصہ نکالا جائے گا۔*
*·•●✿ اگر پانی خرید کر زمین کو سیراب کیا جائے تو عشر کا حکم؟*
*☆۔۔۔اگر پانی خرید کر کسی زمین کو سیراب کیا جائے تو اس صورت میں نصف عشر یعنی بیسواں حصہ لازم آئے گا، آسان الفاظ میں 20 بوریوں میں سے ایک بوری اور 20 من میں سے ایک من۔ اور ریاضی کے اصطلاح میں اس کو 5 فیصد کہتے ہیں۔*
📚حوالہ:
▪☆الدرالمختار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 40
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 09* ▍
*·•●✿ کیا عشر ادا کرنے کے لیے زرعی اخراجات منہا کیے جائیں گے؟*
*باغ اور کھیتی سے حاصل شدہ پیداوار پر جتنے اخراجات ہوتے ہیں یعنی زمین کو کاشت کے قابل بنانے سے لے کر پیداوار حاصل ہونے اور اس کو سنبھالنے تک جو اخراجات ہوتے ہیں مثلا ہل چلانا، زمین کو جڑی بوٹیوں سے خالی کرنا ، اسے ہموار کرنا ، تخم ریزی کرنا ، کھاد ڈالنا ، حفاظت کے لیے سپرے کرنا ، مزدوروں کو کٹائی وغیرہ کی اجرت دینا ، تریشر کا خرچہ وغیرہ ، غرض یہ کہ پیداوار حاصل ہونے تک تمام مراحل میں جتنے اخراجات آتے ہیں ، وہ فقہی اصطلاح میں "مونتہ الزرع" کہلاتے ہیں۔ بلاشبہ یہ خرچے عشر سے منہا نہیں کیے جائیں گے بلکہ پوری پیداوار سے عشر (دسواں یا بیسواں حصہ) نکالا جائے گا۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/244 بیروت
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 41
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 10* ▍
*·•●✿ پیشگی(ایڈوانس) عشر ادا کرنے کا حکم*
*پیشگی عشر ادا کرنے کے چار صورتیں عقلا ممکن ہیں جن کے احکام درجہ ذیل ہیں:*
*(1) اگر فصل کاشت کرنے سے پہلے پیداوار کا عشر نکال دیا تو وہ کافی نہ ہوگا بلکہ پیداوار حاصل ہونے پر دوبارہ عشر نکالنا واجب ہوگا۔*
*(2) اگر فصل کاشت کرنے کے بعد اور کھیتی اگنے سے پہلے عشر ادا کیا تو بھی ادا نہ ہوگا۔*
*(3) اگر فصل کاشت کرنے کے بعد اور فصل نکل آنے کے بعد اور پکنے سے پہلے عشر ادا کیا تو ادا ہوجائے گا۔*
*(4) اگر فصل کاشت کرنے اور نکل آنے اور پکنے کے بعد اور کاٹنے سے پہلے عشر ادا کیا تو بھی ادا ہوجائے گا۔*
*الغرض پہلے دو صورتوں میں ادا نہ ہوگا اور آخری دو میں ادا ہوجائے گا اور خلاصہ یہ ہوا کہ فصل نکل آنے کے بعد عشر ادا کیا جاسکتا ہے اس سے پہلے نہیں۔*
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/186
▪☆ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 41
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 11* ▍
*·•●✿ ایک فصل کے ساتھ اگائی گئی دوسری فصلوں پر عشر کا حکم*
*اگر کسی نے گندم یا کسی اور اہم فصل کے ساتھ اپنے ذاتی استعمال کے لیے کوئی اور چیز اگائی مثلا سرسوں ، پیاز، ٹماٹر یا بینگن وغیرہ تو اس میں بھی عشر واجب ہوگا ، البتہ اگر یہ چیزیں نصف صاع (پونے دو کلو) سے کم ہو تو اس میں عشر دینا ضروری نہیں۔*
*·•●✿ پیداوار فروخت کرنے کی صورت میں عشر کا حکم*
*اگر کھیت یا باغ کی پیداوار پکنے سے پہلے فروخت کی گئی (اگرچہ اس طرح فروخت کرنے کے جواز و عدم جواز کی مختلف صورتیں ہیں) اس پیداوار کا عشر مشتری یعنی خریدنے والے کے ذمہ ہوگا اور اگر پکنے کے بعد فروخت کی گئی تو عشر بائع یعنی بیچنے والے کے ذمہ ہوگا ، یہی حکم پیداوار کے ساتھ زمین بیچنے کا بھی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس کی ملکیت میں فصل پک کر تیار ہوجائے اس کے ذمہ عشر لازم ہوگا۔*
📚حوالہ:
▪بدائع الصنائع 2/180
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 12* ▍
*·•●✿ جانوروں کو کھلائے جانے والے چارے میں عشر کا حکم*
*جو چارہ جانوروں کو کھلانے کے لیے کاشت کیا جاتا ہے اس میں بھی عشر یا نصف عشر واجب ہے۔*
*بار بار اگنے والی سبزیوں میں عشر کا حکم*
*بعض فصلیں اور سبزیاں ایسے ہوتی ہیں کہ کاٹنے کے بعد دوبارہ اور سہ بارہ اگتی ہیں ، ان میں ہر دفعہ کاٹنے پر عشر یا نصف عشر واجب ہوگا۔*
*بٹائی پر دی گئی زمین میں عشر کا حکم*
*عشری زمین اگر بٹائی پر دی جائے تو اس کی پیداوار میں عشر زمیندار اور مالک دونوں پر ان کے حصص کے بقدر لازم آتا ہے۔ پھر چاہے تو تقسیم سے پہلے کل پیداوار سے عشر ادا کریں یا تقسیم کے بعد اپنے اپنے حصہ سے۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/326
▪ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 42
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 13* ▍
*·•●✿ زمین ٹھیکے پر دینے کی صورت میں پیداوار کا عشر کس پر ہوگا؟*
*زمین ٹھیکے پر دینے کی صورت میں وجوب عشر کے سلسلے میں فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی کے تین اقوال ہیں:*
*(1) صاحبین اور ائمہ ثلاثہ رحمھم اللہ تعالی کا مسلک یہ ہے کہ عشر ٹھیکہ دار کاشت کار پر ہے۔*
*(2) امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی تحقیق یہ ہے کہ عشر زمین کے مالک پر ہے۔*
*(3) علامہ شامی رحمہ اللہ نے مذکورہ اقوال میں تطبیق دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ زمین کا مالک اگر کرایہ بہت زیادہ لیتا ہے اور کرایہ دار کو بہت کم بچت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں عشر زمین کے مالک پر لازم ہوگا اور اگر برعکس ہے تو عشر کرایہ دار پر ہوگا۔*
*مناسب یہی ہے کہ شروع میں اس بات کی وضاحت کی جائے کہ عشر کون ادا کرے گا تاکہ شرعی حکم پر صحیح طریقہ سے عمل ہوجائے۔*
📚حوالہ:
▪ الدرالمختار مع ردالمحتار 2/334 سعید
▪ فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 143908200494
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 14* ▍
*·•●✿ نابالغ اور پاگل کی پیداوار پر عشر کا حکم*
*عشر چونکہ زمین کی پیداوار پر ادا کیا جاتاہے لہذا جو بھی اس پیداوار کا مالک ہوگا وہ عشر ادا کرے گا چاہے وہ مجنون (یعنی پاگل)اور نابالغ ہی کیوں نہ ہو۔*
*قرض دار پر عشر کا حکم*
*قرض دار سے عشر معاف نہیں ، اس لئے اگرقرض لے کر زمین خریدی ہو یاکاشت کا رپہلے سے مقروض ہویاقرض لے کر کاشت کاری کی ہوان سب صورتوں میں قرض دار پر بھی عشر واجب ہے۔علامہ عالم بن علاء الانصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ’’زکوۃ کے برخلاف عشر مقروض پر بھی واجب ہوتا ہے۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/314
▪فتاوی تاتارخانیہ 2/330
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 15* ▍
*·•●✿ مشترکہ زمین کا عشر کون ادا کرے گا؟*
*بعض دفعہ زمین دو بھائیوں کی مشترکہ ہوتی ہیں تو اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ عشر کی ادائیگی میں زمین کا مالک ہونا شرط نہیں ہے بلکہ پیداوار کا مالک ہونا شرط ہے اس لئے جو جتنی پیداوار کا مالک ہوگا وہ اس پیداوار کا عشر ادا کرے گا۔فتاویٰ شامی میں ہے کہ ’’عشر واجب ہونے کے لئے زمین کا مالک ہو نا شرط نہیں بلکہ پیداوار کا مالک ہونا شرط ہے کیونکہ عشر پیداوار پر واجب ہو تا ہے نہ کہ زمین پر، اور زمین کا مالک ہو نا یا نہ ہونا دونو ں برابر ہے۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/314 دارالمعرفہ
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 16* ▍
*·•●✿ عشر کی ادائیگی میں تاخیر کرنا*
*عشر پیداوار کی زکواة کا نام ہے اس لیے جو احکام زکواة کی ادائیگی سے متعلق ہیں وہی احکام عشر کی ادائیگی کے بھی ہیں۔ اس لیے بغیر مجبوری کے عشر کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گناہ گار ہے ، ہاں اگر کوئی مجبوری ہے تو تاخیر کی گنجائش ہے۔*
*اگر کوئی عشر واجب ہونے کے باوجود ادا نہ کرے تو کیا کرنا چاہیے؟*
*جس شخص پر عشر واجب ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ خوشی سے اللہ تعالی کا حکم پورا کرے اور ثواب کا مستحق ٹھہرے لیکن اگر وہ خوشی سے ادا نہیں کرتا تو مسلمان بادشاہ اس سے جبرا ( زبردستی کے ساتھ) وصول کرے گا، اور عوام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ ایسے شخص کو ترغیب دیدے اور عذاب الہی سے ڈرائے۔*
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/170
▪الفتاوی الھندیہ 1/185
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 17* ▍
*·•●✿ عشر ادا کرنے سے پہلے پیداوار کو استعمال کرنے کا حکم*
*عشر چوں کہ ایک *شرعی فریضہ ہے اس لیے فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ لکھا ہے کہ جب تک پیداوار کا عشر ادا نہ کیا جائے یا الگ نہ کیا جائے تو اس وقت تک پیداوار کو کھانا اور استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور اگر استعمال کرلیا تو اس میں جو عشر کی مقدار بنتی ہے اتنی مقدار ادا کرنا واجب ہے، بعض حضرات نے تھوڑا سا استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔*
*عشر کے وجوب کے بعد ادائیگی سے پہلے فوت ہوگیا تو؟*
*جس شخص پر عشر واجب ہو اور وہ فوت ہوجائے اور پیداوار موجود ہو تو اس میں سے عشر ادا کیا جائے گا۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/321 دارالمعرفہ
▪الفتاوی الھندیہ 1/185
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 18* ▍
*·•●✿ گزشتہ سالوں کا عشر ادا کرنے کا طریقہ*
*گزشتہ سالوں کی وہ پیداوار جس کا عشر ادا نہ کیا گیا ہو ، اس کا عشر نکالنے کا طریقہ یہ ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق اتنی پیداوار کی موجودہ قیمت لگا کر عشر ادا کیا جائے گا۔ اس کی وضاحت یہ ہے کہ مثلا اگر گزشتہ تین سالوں میں پیداوار کا عشر ادا نہیں کیا ہے تو اب توبہ استغفار کرکے محتاط اندازے سے حساب لگالے کہ گزشتہ تین سالوں میں پیداوار کتنی ہوئی تھی؟ ، اس پیداوار کا دسواں یا بیسواں حصہ شریعت کے حکم کے مطابق اب ادا کرے یا موجودہ قیمت لگاکر مستحقین کو دیدے ، یاد رہے گزشتہ سالوں کی قیمت کا اعتبار نہ ہوگا بلکہ قیمت دینے کی صورت میں موجودہ قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اس سے ایک مسئلہ یہ بھی معلوم ہوا کہ عشر میں غلہ اور اناج کی جگہ قیمت دینا بھی جائز ہے۔*
📚حوالہ:
▪بدائع الصنائع 2/22
▪ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 43
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 19* ▍
*·•●✿ اگر فصل کاشت نہ کی ہو تو عشر کا حکم*
*اگر کسی نے زراعت پر قادر ہونے کے باوجود فصل کاشت نہیں کی تو پیداوار نہ ہونے کی بناء پر اس پر عشر کی ادائیگی واجب نہیں کیوں کہ عشر زمین پر نہیں بلکہ اس کی پیداوار پر واجب ہوتا ہے۔*
*·•●✿ فصل ضائع ہونے کی صورت میں عشر*
*کھیت بویا مگر پیداوار ضائع ہوگئی مثلا کھیتی ڈوب گئی یا جل گئی یا سردی اور لو سے جاتی رہی تو ان سب صورتوں میں عشر ساقط ہے جب کہ کل جاتی رہی اور اگر کچھ باقی ہے تو اس باقی کا عشر لیں گے اور اگر جانور کھا گئے تو عشر ساقط نہیں اور عشر ساقط ہونے کیلئے یہ بھی شرط ہے کہ اس کے بعد اس سال کے اندر دوسری زراعت تیار نہ ہوسکے اور یہ بھی شرط ہے کہ توڑنے یا کاٹنے سے پہلے ہلاک ہو ورنہ ساقط نہیں۔*
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الزکواة ، باب العشر 3/323
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 20* ▍
*·•●✿ عشر کس کو دیا جائے؟ یا عشر کے مصارف*
*وہ لوگ جو زکواة کے مستحق ہیں، وہ عشر کے بھی مستحق ہیں لہذا عشر کی رقم یا جنس ایسے لوگوں کو دی جاسکتی ہے جو مستحق زکواة ہوں۔*
*☆۔۔۔۔مستحق زکواة سے مراد وہ مسلمان ہے جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی مالیت کے بقدر نقد رقم یا اتنی مالیت کا ضرورت سے زائد سامان نہ ہو۔ اسی طرح وہ شخص بھی عشر و زکواة کا مستحق ہے جس کے پاس کچھ سونا، کچھ چاندی، کچھ نقد رقم اور کچھ ضرورت سے زائد سامان تو ہو لیکن ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر نہ ہو اور وہ شخص ہاشمی سید بھی نہ ہو*
*☆۔۔۔ اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر مذکورہ بالا اشیاء میں سے سب یا بعض ہوں یا وہ شخص ہاشمی سید ہو تو وہ عشرو زکواة کا مستحق نہ ہوگا۔*
📚حوالہ:
☆ بدائع الصنائع 2/48
☆ ماہنامہ صدائے جامعہ فاروقیہ اپریل 2018 صفحہ 43
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 21* ▍
*·•●✿ جن لوگوں کو عشر دینا جائز نہیں ہے۔*
*عشر چوں کہ کھیت کی پیداوار کی زکواة کا نام ہے اس لیے جن کو زکواة نہیں دے سکتے ان کو عشر بھی نہیں دے سکتے۔ مثلا*
*(1) بنو ہاشم کو زکواة نہیں دے سکتے چاہے دینے والا ہاشمی ہو یا غیر ہاشمی۔ بنو ہاشم سے مراد حضرت علی و جعفر و عقیل اور حضرت عباس و حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنھم کی اولاد ہیں۔*
*(2) اپنے اصول یعنی جن سے یہ پیدا ہوا ہے ، یعنی اپنی ماں ، باپ ، دادا ، دادی ، نانا اور نانی الخ کو عشر نہیں دے سکتے۔*
*(3) اپنے فروع یعنی جو لوگ اس سے پیدا ہوئے ہیں مثلا بیٹا ، بیٹی ، نواسا ، نواسی ، پوتا اور پوتی اور پڑپوتی وغیرہ ان کو عشر نہیں دے سکتے۔*
*(4) میاں بیوی ایک دوسرے کو زکواة اور عشر نہیں دے سکتے۔ اسی طرح اگر شوہر طلاق دے چکا ہو اور عورت عدت میں ہو تو شوہر اسے زکواة اور عشر نہیں دے سکتا اور اگر عدت گزر چکی ہو تو دے سکتا ہے۔*
📚حوالہ:
☆ الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الزکواة ، باب المصرف 3/344 دارالمعرفہ
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 22* ▍
*·•●✿ امام مسجد کو عشر دینے کا حکم*
*☆ کسی کو اس کے عمل کی اجرت کے طور پر عشر یا زکواة دینا جائز نہیں لہذا مسجد کے امام ہونے کی حیثیت سے اجرت کے طور پر اسے عشر کی گندم وغیرہ دینا جائز نہیں ہے۔*
*☆۔۔۔ اسی طرح اگر امام مسجد ہاشمی سید ہیں یا مستحق زکواة نہیں ہے یعنی مالدار ہے تو ان صورتوں میں بھی اس کو عشر کی رقم یا اناج دینا جائز نہیں ہے۔*
*☆۔۔۔ اگر امام مسجد سید نہ ہو اور مالدار صاحب نصاب بھی نہ ہو اور اسے بطور اجرت بھی عشر نہ دیا جائے تو ان شروط کی مفقود ہونے کی صورت میں اسے عشر یا زکواة دینا جائز بلکہ افضل ہے۔*
📚حوالہ:
☆ الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الزکواة ، باب المصرف 3/344 دارالمعرفہ
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 23* ▍
*·•●✿ درختوں اور لکڑیوں میں عشر کا حکم*
*درختوں میں عشر کے واجب ہونے اور نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں۔*
*(1) جن درختوں کے لگانے کا مقصد ان سے پھل حاصل کرنا ہوتا ہے ان کے پھلوں میں شرعا عشر واجب ہے ، خود ان درختوں میں نہیں ۔*
*(2) جو درخت پھل حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذاتی مصرف میں استعمال کے لیے لگائے جاتے ہیں ، مثلا جلانے کے کام میں یا فرنیچر وغیرہ میں استعمال ہوتے ہیں یا ان کو بیچ کر آمدنی کے حصول کا ذریعہ ہو تو ان میں شرعا عشر واجب ہے۔*
*(3) جو درخت کھیت کے کنارے یا نہر کے کنارے نکل آئے ان میں عشر واجب نہیں ہے۔*
*(4) اسی طرح گھر کے اندر اگر پھل دار درخت ہو تو اس میں بھی عشر واجب نہیں کیونکہ وہ گھر کے تابع ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الدرالمختار مع رد المحتار 2/50*
*☆ حاشیة الطحطاوی علی الدر 1/49*
*☆جدید فقہی مباحث 8/183*
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 24* ▍
*·•●✿ تمباکو ، افیون اور بھوسہ میں عشر کا حکم*
*عشر کے واجب ہونے یا نہ ہونے کا مدار اس پر ہے کہ جو چیز زمین کی کاشت سے مقصود ہوتی ہے اس چیز میں عشر واجب ہوتا ہے اور جو چیز اس کے ساتھ تبعا حاصل ہوجائے اس پر عشر واجب نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ گندم میں عشر واجب ہے اور بھوسہ میں عشر نہیں، کیونکہ زمین کی کاشت گندم ہی کے لیے کی جاتی ہے بھوسہ اس کے ساتھ تبعا حاصل ہوتا ہے لیکن اگر کسی نے گھاس ہی کیلئے زمین کی کاشت کی ہے تو پھر اس میں عشر واجب ہوگا پس اس اصول کے تحت تمباکو اور افیون میں بھی عشر واجب ہے۔ باقی ان کی کاشت جائز ہے یا نہیں؟ وہ ایک الگ مسئلہ ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 2/55*
*☆ خیر الفتاوی 3/494*
*☆ فتاوی فریدیہ 3/474*
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 25* ▍
*·•●✿ مالک کی اجازت سے درختوں پر رہ جانے والے پھلوں کو کاٹنے کے بعد عشر کا حکم*
*وزیرستان اور چند دیگر علاقوں میں چلغوزے کا فصل کاٹنے کے بعد کچھ درختوں پر اِکّا دُکّا چلغوزے باقی رہ جاتے ہیں، بعد میں کوئی بندہ مالک کی اجازت سے درختوں پر باقی ماندہ چلغوزے اپنے لیے توڑتا ہے، جس سے ایک دو بوری چلغوزے جمع ہوجاتے ہیں تو اس میں بھی عشر یا نصف عشر دینا لازم ہے ، چنانچہ اگر مالک نے ادا کیا ہے تو جمع کرنے والے پر نہیں ہے اور اگر مالک ادا نہیں کرتا تو اپنے لیے جمع کرنے والے پر ادا کرنا لازم ہے۔ واللہ تعالی اعلم*
📚حوالہ:
☆ الفتاوی الھندیہ، کتاب الزکواة، الباب السادس ، 1/186 رشیدیہ
☆ فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144203200186
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐عشر_کے_احکام⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 26* ▍
*·•●✿ شمسی توانائی(Solar System) سے پیدا بجلی کے ذریعے سیراب شدہ زمین پر عشر کا حکم*
*سوال:*
*ہمارے یہاں گاؤں میں کاشت کار لوگ سولر سسٹم کے ذریعے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں، شروع میں تو خرچہ زیادہ آتا ہے، لیکن بعد میں اتنا خرچہ نہیں آتا۔ اب سولر سسٹم سے جو فصل تیار ہوتی ہے، اس پر عشر لازم آتا ہے یا نصفِ عشر ؟*
*جواب:*
*مذکورہ طریقے سے زمین سیراب کرنے کی صورت وہی ٹیوب ویل کی ہوتی ہے، البتہ سولر سسٹم سے بجلی حاصل کرنے کی وجہ سے ٹیوب ویل کو چلانے کےلیے صرف ہونے والی بجلی یا تیل کے اخراجات میں کمی آجاتی ہے، ٹیوب ویل کا انتظام و انصرام اور محنت اپنی جگہ باقی رہتی ہے، نیز سولر سسٹم میں بھی اخراجات ہوتے ہیں، گو ابتداءً زیادہ اور بعد میں کم ہوتے ہیں، بہرحال سولر سسٹم کی وجہ سے محض کمی آجاتی ہے؛ لہذا ایسی زمینوں میں نصفِ عشر یعنی بیسواں حصہ واجب ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 328)*
*☆ فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144105200114*
*✍ مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
*نیکسٹ پارٹ ان شاء اللہ*
•─━━━━━══════━━━━━─•
No comments:
Post a Comment