Post No 51 👇
یہ تحریر صرف شادی شدہ لوگوں کے لیے ہے
میاں بیوی میں سیکس کی شروعات ہمیشہ ہنسی مذاق سے ہوتی ہے کرنی بھی ایسے ہی چاہیے
پھر مرد کی مرضی ہے چاہے بانہوں میں بھینچ کر شروع کرے سینہ دبا کر شروع کرے یا لب چومنے چوسنے سے،پہلے چند منٹ کپڑوں سمیت جسم پہ ہاتھ پھیرتےسینہ دباتے چھوڑتے پھر دباتے گزر جاتے ہیں اور یہ سارا عمل ہنسی مذاق اور ہلکے پھلکے زہن کے ساتھ ہو رہا ہوتا ہے پھر عورت کی قمیض اترنے کا عمل شروع ہوتا جو کہ مرد کے لیے کافی سحر انگیز ہوتا ہےعورت کا جسم قمیض سے آزاد ہوتے ہی مرد پر سنجیدگی طاری ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اس کا جنسی ہیجان انگڑائیاں لینا شروع کردیتاہے
پہلا مرحلہ کسنگ ہے
مرد اپنے ہونٹ جیسے ہی عورت کے ہونٹوں پہ رکھ کر انھیں چوسنے لگتا ہےچند لمحوں بعد ہی عورت بھی سنجیدہ ہوتی چلی جاتی ہےجو کہ دراصل جنسی کیفیت کے زون میں داخلے کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے اور یہی سے سیکس کی اصل شروعات ہوتی ہے کسنگ کریں جیسے دل کریں ویسے کریں ایک دوسرے کی زبان چوسنا بھی ایک پُرجوش عمل ہے اس سے جنسی جذبات کو ایکدم بوسٹ ملتا ہے ۔۔اور دونوں کے جنسی جذبات کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں۔
اس کے بعد گردن چومنا ہلکا سا ہونٹوں سے گردن پر ربنگ کرنا عورت کو از حد پسند ہے اور دنیا کی کوئی عورت گردن اور کانوں پر مرد کے ہونٹوں کی ربنگ برداشت نہیں کر سکتی
دوسرا نمبر پستانوں کا ہے
پستان جنہیں دیکھ کر ہی مرد ہوش سے بیگانہ ہو جاتا ہے
اسے پر مختلف طریقے سے پہلے ہلکا ہاتھ پھیرنا اسے دبانا بھیچنا مسلنا مرد کی ساری رگوں کو کھول کر خون کی گردش بڑھا دیتا ہے
اگلا مرحلہ انھیں چومنے ان پر زبان پھیرنے کا ہے۔۔
ہم یہاں عورت کی شرمگاہ چومنے کی بات نہیں کرتے یہ نہایت گندا عمل ہے اس کے بعد اگر عورت کو فور پلے کے عمل میں جو لطف ملتا ہے تو وہ پستان چوسوانے سے ملتا ہے بعض خواتین تو پستان چوسنے کے دوران ہی انزال کر جاتی ہیں نپل منہ میں لیجیے اور پورے جوش کے ساتھ ان کو چوسیے جتنا چوس سکتے ہو چوسیے،نپل کے گرد بنے رنگ پر زبان پھیرنا عورت کو کرنٹ کے جھٹکے لگوا دیتا ہےحسرت سے چوسیے ہلکا سا کاٹیے
چوستے کاٹتے وقت عورت کے منہ سے نکلنے والی لذت بھری سسکاریاں آہ آہ آہ یاہ وغیرہ
آپکے جنسی ہیجان کو عروج پر لے جائیں گی
اور مرد اس وقت اپنے کنٹرول کھو دیتا ہے اور اس کا دل کرتا ہے کہ بس اب ڈال دوں لیکن ٹھہریے ابھی عورت اس وقت جنسی زون میں ضرور ہوتی ہے لیکن اس کو ابھی مزید فور پلے کی ضرورت ہے
اب آگے بڑھیے۔۔۔۔عورت کو الٹا لٹائیے اس کے اوپر لیٹ کر اس کی گردن کی سائیڈوں سے چومنا شروع کیجیے کانوں پر ہلکی سی زبان پھریےکاندھوں کی اونچائیوں کو چومیے انہیں کاٹیے اس عمل سے عورت تڑپ اٹھے گی
پھر کمر کو چومیے کمر کی سائیڈوں کو چومیے اس پر زبان پھیریے
اس کے بعد گردن سے لیکر کمر سے ہوتے ہوئے کولہوں تک ہاتھ پھیریےعورت کے کولہے بڑھے حساس ہوتے ہیں ان پر مرد کا ہاتھ پھرنا عورت کو لطف دیتا ہے
اگر میاں بیوی کا آپس میں بہت اچھا سیکس ریلیشن ہے تو پھر کولہوں پر ہلکے ہلکے تھپٹر ماریے تھپٹر کی شدت بڑھاتے جائیں اس سے نکلنے والی خاص مدھر آوازیں آپ کو کائنات کی دوسری کسی اور چیز میں نہیں ملیں گی ۔وہ شہوت انگیز آوازیں سن کر مرد کے رہے سہے ہوش بھی ختم ہو جاتے ہیں اور وہ مکمل جنسی ہیجان کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا ہے
ادھر عورت بھی انزال سے پہلے حاصل ہونے والی بے خودی میں کھو جاتی ہے
پھر بیوی کو سیدھا کیجیے ۔۔۔سینے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے پیٹ اور ناف سے نیچے تک آ جائیے
اب آپ بیوی کی رانوں پر منہ رکھ کر لیٹ جائیے
اگر ہو سکے تو اپنا من پسند پرفیوم یا باڈی سپرے عورت کی رانوں کے اوپر اور اندرونی سائیڈ پر چھڑک لیں
اس کے بعد رانوں کو سونگھیے اگر ہمبستری کرنے سے پہلے بیوی نہا لے تو بہت ہی اچھا ہے
عورت کی گوری گداز رانوں کو سونگھنا دنیا کے تمام نشوں سے زیادہ خمار پیدا کرتا ہے ناک رانوں پہ رکھ کر زور سے کوکینیوں کی طرح سانس کھینچیے کوکین کی دس لائنوں سے زیادہ خمار حاصل ہوگا
شرمگاہ سے چند انچ کے فاصلے تک رانوں کو چومیے ان پر زبان پھیریے اس دوران دیکھنا عورت اچھل رہی ہوگی اور آپکے سر پر ہاتھ رکھے گی اس میں ایک عجیب سی تڑپ پیدا ہوگی جو اس کو خود بھی معلوم نہیں ہوتی
اب عورت کی شرمگاہ کو ہاتھوں سے سہلائیے ۔۔بظر کو انگلی سے چھیڑیے ہلکی ہلکی ربنگ کریے
یاد رکھیے عورت اپنی شرمگاہ پر ہاتھ سب سے آخر میں لگوانا پسند کرتی ہے کیوں کہ اس کے بظر کو چھیڑنے کے بعد عورت پھر دخول چاہتی ہے
یہاں اب رک جائیےبعض لوگ اس سے آگے بھی بڑھتے ہیں کچھ لوگ صرف شرمگاہ چومتے ہیں اور بعض لوگ اسے چاٹتے بھی ہیں یہ نہ کریں تو اچھا ہے
یہاں کسی کو اس عمل کی ترغیب نہیں دی جا رہی
آگے بڑھتے ہیں
اس سارے عمل میں تقریباً بیس سے پچیس منٹ لگتے ہیں
اس وقت عورت دخول کے لیے مکمل تیار ہوتی ہے
اب اپنے آلہ تناسل پر تیل لگائیے عورت کی شرمگاہ کے دونوں لبوں کو انگلی اور انگھوٹھے کی مدد سے کھولیے اور اس کے بظر پر اپنے آلہ تناسل کے سرے کو رگڑیے
آپ کا سرا رگڑنا سے اس کا صبر جواب دے جائے گا وہ لیٹی لیٹی کسی ناگن کی طرح بل کھا رہی ہو گی
تڑپ رہی ہوگی مچل رہی ہو گی اس کا بس نہیں چل رہا ہوگا کے کسی طرح بس اب اندر چلا جائے
لیکن آپ نے اپنے حواس قائم رکھنے ہیں اور بالکل رحم نہیں کھانا بلکہ بیگم کو مزید تڑپانا ہے
اس کے چہرے پر ابھرنے والے لذت کے تاثرات سے حظ اٹھانا ہے دل اور روح کی تسکین کرنی ہے
اس کی لذت بھری دبی دبی چیخوں سسکاریوں سے کانوں میں رس ٹپکانا ہے
لذت سے تڑپتی مچلتی سسکتی عورت کو دیکھنے سے بڑھ کر حسین نظارہ دنیا میں اور کوئی نہیں ہے
یہ لمحے بہت قیمتی ہیں انمول ہیں ان کی کوئی قیمیت نہیں
یہاں عورت کا امتحان تو ہے ہی لیکن مرد کے لیے بھی اس وقت خود پر کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے اچھے اچھوں کے پاوں اکھڑ جاتے ہیں آپ جتنے دیر خود پر کنٹرول کر سکتے ہیں اتنی ہی دیر اس حسین نظارے سے روح کو سرشار کر سکتے ہیں
اگر مرد کا کنٹرول خود پر زیادہ ہو تو پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے کہ عورت جوشِ دیوانگی میں مرد کے عضو پر جھپٹ پڑتی ہے اور اس کو پکڑ کر زبردستی اپنے اندر ڈالنے کی کوشش کرتی ہے۔
لیکن ایسا بہت کم ہی ہوتا ہے اس سے پہلے ہی مرد کا ضبط جواب دے جاتا ہے۔۔۔۔۔اور وہ اندر ڈال دیتا ہے۔
اندر ڈالنے کا طریقہ
ویسے تو اس وقت عورت کی شرمگاہ لیس دار پانی سے تر ہو چکی ہوتی ہے اسے کسے کپڑے سے صاف کر کے خشک کر لیجے یاد رکھیے وہ پانی عورت کے انزال کا پانی نہیں ہے عورت نے ابھی فارغ ہونا ہے وہ پانی اس کے جوش اور تیار ہونے کی پکی نشانی ہے
اب اپنے عضو پر تیل لگائیے یا تھوک لگائیے یا سوکھا ڈالیں
اب صرف ٹوپی اندر ڈالیے آہ
جیسے ہی ٹوپی اندر جائے گی عورت کے منہ سے آہ کے ساتھ ایک لمبی سانس خارج ہو گی ٹوپی ڈالیے اور پھر نکالیے
عورت تڑپے گی تڑپنے دو پروا مت کرو پھر ٹوپی ڈالیے
پھر وہ آہ کرے گی پھر نکالیے
عورت کا تڑپنے دیکھنے والا ہوگا
اب تیسری بار ٹوپی رکھ کر ایک دم زور دار طریقے سے ایک جھٹکے میں ہی جڑ تک پورا اتار دیجیے
جیسے ہی پورا اندر جائے گا عورت کی ایک لذت بھری چیخ کمرے کی فضا میں گونجے گی اور وہ آپکو دونوں ہاتھوں سے جکڑ لے گی آپ پورا زور لگا کر کچھ لمحے جڑ تک اندر ہی رکھیے اور دو تین زور دار طریقے سے جھٹکے ماریے۔
عورت کی چیخیں سسکاریاں بلند ہوتی چلی جائیں گی وہ اس وقت شدید انزال کی کیفت سے گزر رہی ہوگی اپنے ہوش قائم رکھیے عورت کی انزال کی کیفیت میں اس کے بالوں پر ماتھے پر پیار سے ہاتھ پھیرتے رہیے جب تک وہ انزال کی کیفت سے باہر نہ نکل آئے ۔۔چند لمحوں بعد ہی وہ گہری سانس لے کر ڈھیلی پڑ جائے گی اور بے جان ہو جائے گی۔
اس وقت اسے پیار سے چومیے کس کریے جب اس کے حواس بحال ہونگے تو سب سے پہلے اس کے چہرے پر ایک ملکوتی مسکرائٹ آئے گی ایک حسین مسکرائٹ پھر وہ شرمائے گی پھر آپکے گلے میں بانہیں ڈال کر آپکو کس کرے گی وہ چند لمحے بڑے خوبصورت ہوتے ہیں۔۔۔بلکہ بے حد خوبصورت
اس کے بعد اب آپ آزاد ہیں جیسے مرضی خود کو انزال کروائیں آپکی جتنی ٹائمنگ ہے جس انداز سے کرنا چاہیے کریں۔
اگر کوئی بالکل اسی طریقے سے عمل کرےتو چاہیے اس کی ٹائمنگ دو منٹ ہی کیوں نہ ہو وہ اپنی بیوی کو بھرپور جنسی خوشی دے سکتا ہے
نوٹ: جنسی ماہرین کے نزدیک عورت کی تین اقسام ہیں
گرم مزاج عورتیں، نارمل مزاج عورتیں اور سرد مزاج عورتیں
گرم مزاج عورت جلدی تیار ہوجاتی ہے زیادہ سے زیادہ دس منٹ
نارمل مزاج عورت کو بیس پچیس منٹ لگتے ہیں
جبکہ سرد مزاج عورت کو تیار ہونے تک آدھے گھنٹے سے پون گھنٹہ لگتا ہے
ویسے تو جنسی ٹاپک بہت وسیع ہے اس کےسینکڑوں پہلو ہیں لیکن یہاں صرف عورت کو بھرپور طریقے سے جنسی طور پر گرم کر کے انزال کروانے تک پر بات کی گئی ہے
تحریر بہت لمبی ہو چکی ہے باقی پھر کبھی
ہماری اس پوسٹ کا مقصد:
کچھ بھائی ہماری پوسٹوں کو پسند نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ شاید ہم کوئی فحاشی پھیلا رہے ہیں. ہماری پوسٹوں کا اصل مقصد آپ لوگوں کی رہنمائی کرنا ہے. لوگ اس طرح کے معاملوں میں رہنمائی حاصل کرنے کے لیے حکیموں اور ڈاکٹروں کے علاج پر لاکھوں روپے خرچ کر بیٹھتے ہیں. ہماری کوشش ہے کہ آپ لوگوں کو بہترین اور آزمودہ نسخہ بتائیں تاکہ آپکو اپنی شادی شدہ زندگی میں کسی قسم کا مسلہ پیش نا آئے.
Post Number 52 👇
(مرد کی نارمل ٹائمنگ کتنی ہوتی ہے؟)
مرد کی نارمل ٹائمنگ 3 سے 5 منٹ تک ہی ہے۔مگر اگر آپ کی خوراک اچھی ہے آپ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں۔ غم و فکر سے آذاد ہیں اور اپنے آپ کو سمبھال کر رکھا ہے تو یہ ٹائم کافی زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس سے ہٹ کر ٹائمنگ کے لئیے جو بھی دوائی عارضی طور پر لگاتار استعمال کریں گے تو یہ آپ کے معدے اور گردوں کے لئے سنگین قسم کے مسائل پیدا کرے گی۔ان سے بچنا چاہیے۔
ٹائمنگ جتنی زیادہ ہو گی اس کا گردوں پر اثر پڑے گا۔
لازم نہیں کہ آپ کی ٹائمنگ 20 منٹ ہے تو آپ کا پارٹنر اس سے لازمی خوش ہو گا۔ ہمارے ہاں میاں بیوی آپس میں اس پر بات کرنا گوارا ہی نہیں کرتے ۔ اس کی بجائے یہ باتیں دوستوں یا سوشل میڈیا پر کر کے اکثر لوگ اپنا مذاق بنواتے ہیں۔ عورت کے لئے اصل چیز منزل حاصل کرنا وہ چاہے اس لذت کو چند منٹ میں حاصل کر لے۔بہتر ہے کہ اپنی شریک حیات سے اس موضوع پر کھل کر بات کریں اس کے بھی احساسات جذبات ہیں وہ کیا چاہتی ہے کیسے چاہتی ہے۔لازم نہی جس طرح آپ چاہتے وہ بھی اسی طرح comfortable ہو۔ امید ہے کہ 50% ابہام کی گتھی تو آپس کی بات چیت سے سلجھ جائے گی۔اور آپ اپنے ان قیمتی لمحات کو اپنی شریک حیات کے ساتھ صحیح معنوں میں انجوائے کریں گے۔ باقی اگر کوئی کمی ہو تو وہ دیسی آسان نسخہ جات سے پوری ہو سکتی ہے۔مگر وہ نسخہ جات بھی آپ اپنے مزاج کے حساب سے استعمال کریں گے تبھی آپ کو فائدہ ہو گا۔ لازم نہیں کہ انٹرنیٹ پر لکھا ہوا ہر مردانہ طاقت کا نسخہ آپ کے لیے مفید ہی ہو۔ اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے۔
اگر علاج ضروری سمجھتے ہے تو کسی اچھے حکیم سے ملکر اپنا علاج کروائیں نہ کے اپنے اوپر ٹوٹکے آزماتے رہیں اس سے آپ کا وقت اور پیسہ ہی برباد ہوگا بس۔
#ضروری_بات۔
اگر آپ کی ٹائمنگ کا وقت 2 منٹ بھی ہیں تو میں یہیں کہوں گا کے بہت ہے یہ ٹائمنگ اس میں آپکو علاج کی ضرورت ہی نہیں ہے بس اچھا کھائیں اچھا سوچیں نماز پڑھیں غلط کاریوں سے دور رہیں واک لازمی کریں ایسی ادویات یہ غذاء کا استعمال ہرگز نہ کریں جو آپکے میدے اور جگر کو خراب کرے پھر آپکی ٹائمنگ صدھرنے کے بجائے بگڑ جائے گی۔
#آخری_بات
اگر آپ کی شریک حیات آپ کے ساتھ جنسی عمل میں پورا لطف نہیں اٹھا رہی تو اس سے وہ چڑچڑے پن ،ہارمونز کی خرابی کا شکار ہو سکتی ہے۔اس لئیے اس سے لازمی اس پر بات کریں۔
Post Number 53 👇
ازدواجی زندگی کو خوبصورت بنانے کا طریقہ۔
ہمبستری کے بعد اپنے پارٹنر کو اپنے بائیں جانب لٹائیں۔۔۔ کیونکہ اگر وہ متوجہ آپکی طرف ہو تو دائیں کروٹ پر لیٹے۔۔۔ اسکا کیا فائدہ ہے یہ بیان نہیں کر سکتا۔۔۔
بس بہت ہی مفید ہے۔۔
جو جوڑا اولاد چاہتے ہیں۔۔وہ اس عمل کے بعد لیٹے رہیں اور خاص طور پر مفعول اپنے سر کے نیچے تکیے کا استعمال مت کرے۔۔۔ یہاں کچھ طریقہ لکھ نہیں سکتا واٹس ایپ میں رابطہ کر کہ شادی شدہ بے اولاد جوڑے رابطہ کر سکتے ہیں۔۔۔
کچھ احتیاطی تدابیر۔۔۔جن سے آپ ہمیشہ ایک جیسی جسامت رکھ سکتے ہیں۔۔۔
1) کھانا کھانے کے بعد کم از کم دو گھنٹے تک ہمبستری سے گریز کیجئے۔۔ اس سے آپکا پیٹ اور جسم کی بڑھتا ہے۔۔۔
2) ہمبستری کے بعد پانی کی طلب ہوتی ہے۔۔۔ 30 منٹ تک پانی نہ پیئے۔۔
3) رات کے آخری حصے کو اپنی صحبت کا ٹائم بنائیں (اسکا ایک فائدہ آپ حالت جنابت میں تھوڑا کم وقت گزارینگے۔۔)
اسکے بعد تھوڑی سی تفصیل ان دوائیوں کے بارے میں جو وقفے کیلئے استعمال کی جاتی ہیں۔۔۔ famila21,novadol pills,gyno cosid,cytitec 200mg
یہ سب دوائیاں انتہائی مہلک اور صحت کئلیے نقصان دہ ہے۔۔۔ عورت کا موٹاپے کے یہی وجہ ہے۔۔۔ کیونکہ اس سے حالت حیض کے ایام بگڑ جاتے ہیں۔۔ جو کہ جسم میں فضول چربی، اور سوجھن پیدا کرتے ہیں۔۔۔
جہاں تک رہی بات رنگ لگوانا، یا پھر ٹیبلٹ رکھنا یہ بھی موٹاپے کا باعث ہے۔۔۔
میری نظر میں کنڈوم کا استعمال نقصان دہ تو نہیں ہے۔۔۔ مگر اکثر حضرات سے یہ شکایت ضرور سنی کہ تلذذ (راحت) حاصل نہیں ہوتی۔۔۔ لہذا اولاد میں وقفے کے سب سے آسان طریقہ عزل ہے۔۔۔ یعنی کہ فراغت مقام پر نہ ہونا۔۔۔ پھر یہاں بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ مدھوشی طاری ہوتی ہے جبی عزل کرنا بھی ایک محال عمل ہوتا ہے۔۔۔۔ اب اسکا حل تو صرف یہی رہ گیا ہے۔۔آگے آپکی مرضی جناب
یہ موضوع میں نے کیوں شروع کیا ہے۔۔ اسکا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کوئی ایک میری وجہ سے اپنی ازدواجی زندگی خوبصورت بنا لے تو بیڑا پار ہے۔۔۔ کیوں کہ ایسی باتیں نہ اب کسی مدارس میں سکھائی جاتی ہیں نہ کسی اسکول میں۔۔نہ ہمیں ہمارے ماں باپ سکھاتے ہیں۔۔ نہ بڑا کوئی بہن بھائی۔۔۔ اس لئے سیکھنے کیلئے پوچھنے میں عار شرم محسوس کرتے ہیں۔۔ اور ویڈیوز کا سہارا لیتے ہیں۔۔
جو بہت ہی خطرناک ہے۔
Post Number 54👇
بیوی کے شوہر کی جنسی تسکین پوری کرنے سے انکار کرنے پر شوہر کا غیر شرعی راستہ اختیار کرنے کا حکم
شریعت نے جنسی خواہش کی تسکین کے لیے نکاح کو حلال اور عفت والا راستہ متعین کیا ہے، اس حلال راستہ کے علاوہ کسی بھی طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرنا شریعت کی مقررکردہ حدود سے تجاوز کرنے کی وجہ سے حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔
بیوی پر شوہر کی جنسی خواہش کو پورا کرنا واجب ہے اور بغیر شرعی عذر کے اس سے انکار شرعاً جائز نہیں ہے، البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو، جیسے ایامِ حیض و نفاس، بیماری، احرام کی حالت، شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا، جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو، یا شوہر کی جانب سے تسکین شہوت کے لیے غیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا وغیرہ کی صورت میں بیوی انکار کرسکتی ہے، اور اس صورت میں وہ گناہ گار نہیں ہوگی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔
(سورۃ المومنون:5۔8)
اپنی بیوی سے فطری خواہش پورا کرنے کے بجائے کسی غیر عورت سے خواہش پوری کرنا زنا ہے، جو کہ حرام ہے۔
حدیث شریف میں ہے:
’’ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں شادی شدہ زنا کار پر لعنت کرتی ہیں اور جہنم میں ایسے لوگوں کی شرم گاہوں سے ایسی سخت بدبو پھیلے گی، جس سے اہلِ جہنم بھی پریشان ہوں گے اور آگ کے عذاب کے ساتھ ان کی رسوائی جہنم میں ہوتی رہے گی‘‘
بیوی کا شوہر کی جنسی تسکین کو پورا کرنے سے انکار کرنے پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
بخاری شریف میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے، تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
مسلم شریف میں ہے:
جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، جو شخص اپنی بیوی کو اپنے پاس بستر پر بلائے، اور وہ انکار کردے، تو باری تعالی اس سے ناراض رہتا ہے، یہاں تک کہ شوہر اس (بیوی) سے راضی ہوجائے۔
ترمذی شریف میں ہے:
طلق بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے، تو وہ ضرور اس کے پاس آئے، اگرچہ تنور پر (کھڑی) ہو۔
اس ساری تفصیل سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر بیوی کے بغیر عذرِ شرعی کےانکار کرنے پر جنسی تسکین کے لیے کوئی ناجائز راستہ اختیار کرتا ہے، تو شوہر ناجائز راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا اور بیوی بھی بغیر عذرِ شرعی کے انکار کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگی۔
شوہر کی اگر جنسی شہوت زیادہ ہے، تو اس کا حل شریعت نے یہ بتایا ہے کہ وہ دوسری شادی کرلے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مرد کے لیے ایک وقت میں چار بیویاں رکھنا جائز کیا ہے، بشرطیکہ وہ ان میں عدل و انصاف کرنے کی طاقت رکھتا ہو اور اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ وہ کثرت سے روزے رکھے، اس لیے کہ روزے شہوت کو کم کر دیتے ہیں۔
Post Number 55 👇
#عورت_کی_سیکس میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟
#طبی زبان میں اسے ہائپو ایکٹو جنسی خواہش کا عارضہ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر کی گئی تحقیق کے مطابق تقریباً ایک تہائی خواتین، جن کی عمریں 18 سے 59 سال کے درمیان ہیں، جنسی تعلقات میں اپنی دلچسپی کھو دیتی ہیں۔ اس معاملے میں آپ کو اپنی بیوی سے کھل کر بات کرنی ہوگی۔ لیکن اس سے پہلے جان لیں کہ عورت کے جنسی تعلقات کو نہ کہنے کی 6 وجوہات ہیں۔
جب #خواتین دباؤ میں ہوتی ہیں۔
کئی بار جب خواتین دباؤ کا شکار ہوتی ہیں تو وہ اپنے ساتھی کے ساتھ محبت میں تعاون نہیں کر پاتی ہیں۔ گھر، خاندان اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں، ہارمونز کے مسائل، صحت کے کسی بھی مسائل، ملازمت کا تناؤ، رجونورتی سے پہلے یا بعد کے مسائل، اگر آپ گھریلو خاتون ہیں تو آپ کو دن بھر کام کرنا پڑتا ہے، ساس بہو کی دیکھ بھال کی ذمہ داریاں قانون اور اولاد وغیرہ ایسی تمام چیزیں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے سیکس کی خواہش کم ہوجاتی ہے۔
#شوہر کی عادات کی وجہ سے جنسی تعلقات میں ہچکچاہٹ
کئی بار شوہر کے جسم کی بدبو، ذاتی صفائی کا خیال نہ رکھنا، شراب نوشی، سگریٹ اور تمباکو کا استعمال بھی بیوی کے جنسی تعلقات سے دور ہونے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ شوہر کا اونچی آواز میں چلانا، جھگڑنا، اپنی بات حاصل کرنے کی ضد وغیرہ بھی بیوی کے ذہن میں جنسی تعلقات کے لیے ہچکچاہٹ پیدا کرتی ہیں۔
#فور پلے کی کمی
سیکس کے دوران فور پلے کی کمی بھی خواتین میں سیکس میں عدم دلچسپی کی ایک وجہ ہے۔ فور پلے میں، اپنے ساتھی سے اس بارے میں بات کریں کہ عورت کیا چاہتی ہے، وہ کیسے چاہتی ہے، کتنی دیر تک، کتنی دیر تک۔ کیونکہ جنسی تعلق عورتوں کے ذہن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب اس کا دماغ خوش ہوگا، تب ہی وہ اپنے جسم کو اپنے ساتھی کے ساتھ جوڑ پائے گی۔
#جنسی_تعلقات کے دوران ایک ہی معمول کو دہرانا
سیکس ایک فطری اظہار ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اسی طرح سیکس کرنا آہستہ آہستہ بورنگ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے عورت سیکس کی طرف ہچکچاہٹ شروع کر دیتی ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ سیکس کے دوران کچھ نئی پوزیشنیں آزمائیں، بیڈ روم کو کچھ نیا رومانوی ٹچ دیں، بیوی کی خواہش کے مطابق سیکس کرنے کے طریقوں کو ترجیح دیں۔
جب وہ کسی ہیلتھ پروبلم سے گزر رہی ہو
جب خواتین صحت کے مسائل سے گزر رہی ہوں جیسے کہ سر درد، کمر درد، پیٹ میں درد، ماہواری میں درد، ہارمونل تبدیلیاں، نیند نہ آنا، تھائیرائیڈ کے مسائل سے گزر رہی ہوں تو وہ جنسی تعلقات کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ اس لیے یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اپنی بیوی کا خیال رکھیں، اس سے ان کی صحت کے مسائل کے بارے میں پوچھیں، اس کے درد کی وجہ جانیں اور ڈاکٹر سے اس کا معائنہ کروائیں۔ جب اس کی صحت بہتر ہوگی اور آپ کے تعاون سے وہ عام طور پر آپ کے ساتھ دوبارہ جنسی تعلق اختیار کرے گی۔
UTI ہونے کا خوف
خواتین یو ٹی آئی ہونے کے خوف کی وجہ سے سیکس کی فریکوئنسی بھی کم کر دیتی ہیں۔ بہت سی ایسی خواتین بھی ہیں جو فنگل یا بیکٹیریل انفیکشن کے خطرے سے بچنے کے لیے جنسی تعلقات سے گریز کرتی ہیں۔ جبکہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی وجہ جان کر اور خود کو ان وجوہات سے دور رکھیں تو یو ٹی آئی سے بچا جا سکتا ہے۔
#یو_ٹی_آئی جسے پیشاب کی نالی کا انفیکشن بھی کہا جاتا ہے پیشاب کے نظام کے کسی بھی حصے میں ہونے والا ایک انفیکشن ہے۔
#پیشاب کے نظام میں گردے، مثانہ اور پیشاب کی نالی شامل ہیں۔ اس انفیکشن میں زیادہ تر پیشاب کی نالی اور مثانہ کا نچلا حصہ شامل ہوتا ہے۔
#مردوں کی نسبت خواتین کو یو ٹی آئی ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر انفیکشن صرف مثانے تک ہی محدود ہو تو یہ تکلیف دہ اور پریشان کن ہو سکتا ہے لیکن اگر یو ٹی آئی گردوں میں پھیل جائے تو صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ طب اکثر پیشاب کی نالی کے انفیکشن کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کرتے ہیں۔
یو ٹی آئی کی علامات
یو ٹی آئی کی وجوہات
۔1 طویل عرصے تک بیٹھنا
۔2 سیکس کے بعد پیشاب نہ کرنا
۔3 پانی کی کمی کا شکار ہونا
۔4 پیشاب کی نالی کی لمبائی
۔5 گردے کی پتھری
۔6 ذیابیطس
یو ٹی آئی کا علاج
۔1 پانی زیادہ پيیں
۔2 پیشاب نہ روکیں
۔3 پروبائیوٹکس کا استعمال
۔4 وٹامن سی کا استعمال
۔5 ادرک کی چائے
۔6 سبز چائے
یو ٹی آئی کی علامات
پیشاب جس کی بدبو آتی ہو یا ابر آلود یا سرخی مائل نظر آئے۔
جب آپ پیشاب کرتے ہیں تو درد یا جلن کا احساس ہو۔
پسلیوں کے نیچے آپ کی کمر یا سائیڈ میں درد ہو۔
بخار 101 سے زیادہ ہونا۔
سردی لگنا اور لرزنا یا رات کو پسینہ آنا۔
بخار، تھکاوٹ یا هلچل سی محسوس کرنا۔
معمول سے زیادہ کثرت سے پیشاب کرنا۔
دماغی تبدیلیاں یا عجیب سی بے چینی۔
اکثر پیشاب کرنے کی خواہش زیادہ ہونا۔
پیٹ کے نچلے حصے میں دباؤ پڑنا۔
تھکاوٹ اور عام بیماری کا احساس۔
متلی اور قے محسوس ہونا۔
پہلو میں یا کمر میں درد۔
چڑچڑاپن محسوس کرنا۔
یو ٹی آئی کی وجوہات
۔1 طویل عرصے تک بیٹھنا
بیٹھے رہنے والے طرز زندگی کے حامل افراد میں یہ بیماری عام ہوتی ہے کیونکہ وہ دفتر میں 8 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرتے ہیں مثال کے طور پر وہ موٹاپے اور دل کی بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ طویل عرصے تک بیٹھے رہنے سے گردے کے مسائل پیدا ہونے لگتے ہیں بشمول یو ٹی آئی سے منسلک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
#تحقیق کے مطابق جو لوگ کم بیٹھتے ہیں اور زیادہ ورزش کرتے ہیں ان میں پیشاب کی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ سب سے کم ہوتا ہے۔ جسمانی سرگرمی کی کمی کو پورا کرنے اور گردے کے مسائل سے بچنے کے لیے ورزش کرنا خواتین کے مقابلے مردوں میں زیادہ موثر ہے۔
#۔2 سیکس کے بعد پیشاب نہ کرنا
جنسی تعلقات کے دوران مقعد یا اندام نہانی کے قریب بیکٹیریا مختلف طریقوں سے پیشاب کی نالی کے کھلنے میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آپ سیکس کے فوراً بعد پیشاب کرتے ہیں تو اس سے ان بیکٹریا کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے اور یہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ایک درست طریقہ بھی ہے۔
آپ کے جسم سے پیشاب کا نکلنا یو ٹی آئی کا سبب بننے والے بیکٹیریا کو ختم کر سکتا ہے اور اسی لیے اسے اندر رکھنا مناسب نہیں ہے۔ جب پیشاب زیادہ دیر تک مثانے میں رہتا ہے تو وہاں موجود بیکٹیریا کثرت سے بھڑنے لگتے ہیں جو کہ یو ٹی کی وجہ بنتے ہیں۔
#۔3 پانی کی کمی کا شکار ہونا
پانی کی کمی یو ٹی آئی کے انفیکشن کے پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ اگر آپ پانی کم پیتے ہیں تو آپ کو اس انفیکشن کا امکان زیادہ ہوگا۔ دن بھر میں پانی کم پینا آپ کے جسم سے زہریلے مادوں اور بیکٹیریا کو باہر نہیں نکلنے دیتا جس سے انفیکشن پھیلنے لگتا ہے۔
#۔4 پیشاب کی نالی کی لمبائی
سب سے بڑی وجہ خواتین کی اناٹومی ہے یہ خاص طور پر پیشاب کی نالی کے حوالے سے وہ ٹیوب جو مثانے سے پیشاب کو جسم سے باہر لے جاتی ہے۔ جبکہ پیشاب کی نالی پیشاب کے لیے ایک راستہ ہے یہ بیکٹیریا کے لیے پیشاب کی نالی میں داخل ہونے کا ایک راستہ بھی ہے۔ خواتین میں پیشاب کی نالی کی لمبائی مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ مردوں کی پیشاب کی نالی 6 انچ لمبی ہوتی ہے جب کہ خواتین کی پیشاب کی نالی 1-2 انچ لمبی ہوتی ہے۔
#۔5 گردے کی پتھری
گردے کی پتھری سخت معدنی ذخائر ہیں جو آپ کے گردے کے اندر بنتے ہیں۔ چونکہ یہ پیشاب کی نالی کو روک سکتے ہیں اور پیشاب کوبیک اپ کر سکتے ہیں اس لیے گردے کی پتھری بیکٹیریا کو بڑھنے کے لیے کافی وقت دے کر پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا سبب بن سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں آپ کے یو ٹی آئی کے علاج میں تاخیر ممکنه گردے کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے لہذا اگر آپ یو ٹی آئی کی کوئی عام علامات محسوس کرتے ہیں تو جلد از جلد اس کا علاج یقینی بنائیں۔
#۔6 ذیابیطس
جب خون میں شوگر زیادہ ہوتی ہے تو اضافی شوگر پیشاب کے ذریعے نکل جاتی ہے کیونکہ ذیابطیس بیکٹیریا کی افزائش کے لیے ایک سازگار ماحول بناتی ہے اور ممکنہ طور پر انفیکشن کا باعث بنتی ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے انفیکشن پیدا کرنے والے بیکٹیریا سے لڑنا مشکل ہوجاتا ہے۔
یو ٹی آئی کا علاج
#۔1 پانی زیادہ پيیں
پانی آپ کے مثانے میں موجود بیکٹیریا کو خارج کرتا ہے جو انفیکشن سے تیزی سے چھٹکارا پانے میں مدد کرتا ہے۔ پیشاب آپ کے جسم کے فضلہ سے بنتا ہے۔ جب آپ کو مثانے میں انفیکشن ہو تو گاڑھا پیشاب زیادہ پریشان کن اور اس کا گزرنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ پتلا پیشاب کا رنگ ہلکا ہوتا ہے اور عام طور پر اس سے زیادہ جلن نہیں ہوتی۔
#۔2 پیشاب نہ روکیں
بار بار پیشاب کرنے سے بیکٹیریا کو مثانے سے باہر منتقل کرکے انفیکشن کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ جب آپ کو ضرورت ہو تو باتھ روم نہ جانا بیکٹیریا کو مثانے میں بڑھتے رہنے کا وقت دیتا ہے جو یو ٹی آئی کی وجہ بن سکتا ہے۔ جنسی تعلقات کے بعد پیشاب کرنا بھی مددگار اس انفیکشن کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔
جنسی سرگرمی مردوں اور عورتوں دونوں میں بیکٹیریا کو پیشاب کی نالی کی گہرائی میں دھکیل سکتی ہے۔ جنسی تعلقات کے بعد پیشاب کرنے سے آپ کے پیشاب کی نالی سے بیکٹیریا کو دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ جراثیم کو آباد ہونے اور انفیکشن کا سبب بننے سے روکتا ہے۔
#۔3 پروبائیوٹکس کا استعمال
پروبائیوٹک سپلیمنٹس مثانے کے بار بار ہونے والے انفیکشن سے بچانے کے لیے پیشاب کی نالی اور جننانگوں میں فائدہ مند بیکٹیریا کے ارتکاز کو بہتر بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر انفیکشن کا سبب بننے والے نقصان دہ بیکٹیریا کی پابندی اور نشوونما کو روکنے میں مدد کر سکتا ہے۔
پروبائیوٹکس لینے سے بعض ضمنی اثرات کو بھی روکا جا سکتا ہے جو عام طور پر اینٹی بایوٹک سے منسلک ہوتے ہیں جیسے کہ اسہال کو روکنے میں مدد کرتا ہے۔
۔#4 وٹامن سی کا استعمال
وٹامن سی نقصان دہ بیکٹیریا کی افزائش کو روکنے کے لیے پیشاب کی تیزابیت کو بڑھانے میں مدد کر سکتا ہے جو مثانے کے بار بار ہونے والے انفیکشن کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں وٹامن سی میں ٹرسٹڈ سورس اور خصوصیات ہیں جو انفیکشن کو روکنے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔
#۔5 ادرک کی چائے
کوئی بھی حالت جس میں کسی بھی قسم کی سوزش شامل ہو ادرک کا استعمال کرنے کے ساتھ بہتر ہو جائے گی کیونکہ ادرک مختلف شفا بخش خصوصیات کے لیے مشہور ہے۔
اس کے اجزا سوجن والے پٹھوں اور اندرونی استر کو سکون دینے میں مدد کریں گے اور درد کو دور رکھنے میں مدد کریں گے۔ ایک کپ ادرک کی چائے بنانے کے لیے آپ کو صرف تازہ ادرک کی جڑوں کو ابالنے کی ضرورت ہے۔ اپنے ذائقہ کے لیے آپ ایک چائے کا چمچ شہد بھی ڈال کر چائے بنا کر استعمال کر سکتے ہیں۔
#۔6 سبز چائے
سبز چائے کو پیشاب کی نالی کے انفیکشن کے علاج کے لیے گھریلو علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ چائے میں کیٹیچن نامی ایک مرکب ہوتا ہے جو کہ اینٹی مائکروبیل خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔
یہ مرکب پیشاب کی نالی اور مثانے میں موجود بیکٹیریا کو مؤثر طریقے سے مار سکتا ہے جو یو ٹی آئی کا سبب بنتے ہیں۔ پیشاب کے انفیکشن کے علاج کے لیے مناسب گھریلو علاج کے بغیر اگر یو ٹی آئی کو نظر انداز کر دیا جائے تو وہ شدید یا دائمی گردے کی ناکامی یا اہم اعضاء کو نقصان پہنچانے یا شدید پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
،،❤️💔🌷🌹🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹
Post Number 56👇
صحت مند جنسی زندگی گزارنے کے 7 بہترین اصول
جنسی صحت کے لیے صحت مند عادات اور طرز زندگی میں تبدیلیاں بہتر بنا سکتی ہیں، اور ممکنہ طور پر عضو تناسل اور خواتین کی جنسی کمزوری جیسے مسائل کو حل کرنے میں مدد کر سکتی ہیں۔ جنسی جوش اور فعالیت کا دارومدار صحت مند قلبی نظام اور اچھی مجموعی صحت پر ہوتا ہے، اس لیے مرد اور عورت دونوں ہی صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھ کر اپنی جنسی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں۔
جسم کے تمام حصوں کی صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں پر عمل ہر فرد کی مجموعی صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بالکل اسی طرح جنسی صحت و صفائی کے اصولوں پر عمل مباشرت سے پہلے اور بعد میں بہت ضروری ہیں تاکہ ممکنہ طور پر انفیکشن اور پیچیدگیوں سے بچا جاسکے۔
۔ 1 ماہواری میں جنسی صحت کا خیال رکھنے کے رہنما اصولِ
۔ 1 خواتین میں جنسی صحت و صفائی حیض کے ساتھ شروع ہوجاتی ہے۔
۔ 2 عورتوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ حیض کے دوران صفائی کا خاص خیال رکھیں۔
۔ 3 اس میں باقاعدگی سے پیڈز /ٹیمپنس کی تبدیلی بھی شامل ہے۔
۔ 4 گندے پیڈز /ٹیمپنس شدید انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔
۔ 5 جس میں ٹاکسک شاک سنڈروم شامل ہے، یہ انفیکشن خواتین میں جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔
۔ 6 یہ انفیکشن خون میں بھیگے ہوئے ٹیمپنس کو زیادہ دیر تک تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
خواتین کو ایک کارآمد مشورہ یہ بھی دیا جاتا ہے کہ غیر استعمال شدہ پیڈز /ٹیمپنس کو پلاسٹک بیگ میں ریپ کرکے رکھیں ۔جب تک آپ انھیں دوبارہ استعمال نہ کریں۔ ورنہ یہ اشیاء اطراف کے ماحول سے آلودہ ہوجاتی ہیں اور نتیجتاً پیشاب یا وجائنا کے انفیکشن کاسبب بنتی ہیں۔
۔ 1 جنسی تعلقات کے بعد صحت و صفائی
جنسی تعلقات میں دونوں (شریک حیات) شامل ہوتے ہیں۔ اسی لئے جنسی حفظان صحت کے اصولوں پر عمل مرد و عورت دونوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سب سے اہم اور آسان تجویز جسم اور ہاتھوں کو خاص طور پر صاف رکھنا ضروری ہے۔ جنسی تعلقات کے دوران چھونے اور پیار کرنے کے عمل کی وجہ سے ہاتھوں اور منہ کے ذریعے جرثوموں کے منتقل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
۔ 2 جنسی تعلقات کے بعد سستی نہ برتیں
جنسی تعلقات کے بعد بہت سے جوڑ ے سستی محسوس کرتے ہیں اور صفائی میں تاخیر برتتے ہیں ڈاکٹرز اس بات کی تردید کرتے ہیں کیونکہ ان کی تحقیق کے مطابق، جنسی تعلقات استوار کرنے کے فوری بعد شاور لینے سے تمام جراثیم کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور بیکٹیریل اور ایسٹ انفیکشن کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔
۔ 3 جنسی تعلقات کے بعد پیشاب کرنے کا عمل
جنسی تعلقات کے بعد پیشاب کرنے کاعمل بھی ایک صحت بخش عادت میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ پیشاب کے ساتھ ساتھ انفیکشن پھیلانے والے ایجنٹ بھی خارج ہوجاتے ہیں، جو مباشرت کے دوران پیشاب کی نالی میں منتقل ہوتے ہیں۔
جنسی تعلقات کے دوران استعمال ہونے والی اشیاء کی صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ ان پر خون، اندام نہانی سے خارج ہونے والی رطوبت یا فضلہ کا داغ لگ سکتا ہے، جو جنسی طور پر منتقل ہونے والے انفیکشن کا ایک اور ذریعہ بن سکتا ہے۔
۔ 4 جنسی تعلقات کے بعد تولیدی اعضاء کی صفائی
تناسلی اعضاء یا جنسی اعضاء کو جنسی صحت کے لئے صابن اور پانی سے دھونے کی ہدایت کی جاتی ہے، لیکن اس کے لئے خوشبودار صابن کا استعمال نہیں کرنا چاہیئے۔ اندام نہانی کی صفائی کے وقت پیشاب کی نالی اور مقعد کی جگہ پر احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔ یہ عمل فضلہ کے جرثوموں کومقعد سے اندام نہانی تک منتقل ہونے سے بچاتا ہے۔
۔ 5 جنسی صحت کے لیے اندام نہانی کی صفائی میں احتیاط برتیں
اندام نہانی کی صفائی کے لئے خاص اسپرے کا استعمال ایک ایسا عمل ہے، جس میں ایک خوشبودار لیکوئیڈ ٹیوب کے ذریعے اندام نہانی میں اسپرے کیا جاتا ہے۔ یہ عمل گائناکالوجسٹ کی طرف سے سختی سے ممنوع ہوتا ہے۔ کیونکہ اس سے بہت سے انفیکشن کے خطرات میں اضافہ اور طویل عرصے تک سنگین پیچیدگیوں کاسامنا رہتا ہے، جن میں بانجھ پن اور کینسر شامل ہیں۔
۔ 6 جنسی صحت اور صفائی کے لیے درست کپڑوں کا استعمال
حفظان صحت کو برقرار رکھنے میں لباس بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ٹائٹ انڈرویئر سے بہت زیاد ہ پسینہ آتا ہے جو بیکٹیریا کی افزائش کے لئے بہترین ماحول فراہم کرتا ہے۔ انڈرویئر کے لئے کاٹن اور ڈھیلی فٹنگ والے مٹیریل کو ترجیح دینی چاہیئے، تاکہ پسینہ جلدی اور مؤثر طریقے سے خشک ہوسکے۔
۔ 7 جنسی صحت کے لیے اعضاء کو روزانہ اچھی طرح دھونا
قصہ مختصر بس یہی ہے کہ جسم کے تمام حصوں کی طرح جنسی اعضاء کو بھی روزمرہ کی بنیاد پر اچھی طرح دھونا اور صاف کرنا ضروری ہے۔ جس نقطہ کو ہائی لائٹ کیا گیا ہے وہ بس یہی ہے کہ تولیدی اعضاء کی صفائی جنسی تعلقات کے بعد فوری طورپر کرنی چاہیئے تاکہ ایسے بیکٹیریا کو بڑھنے کا موقع نہ ملے جو انفیکشن اور طویل مدتی سنگین نتائج کاباعث بنتے ہیں۔
۔ 2 تمباکو نوشی کے جنسی صحت پر اثرات
۔ 1 تمباکو میں موجود نیکوٹن ایک طاقتور ویسوکونسٹرکٹر ہوتا ہے۔
۔ 2 تمباکو خون کی نالیوں کو تنگ کرتا ہے
۔ 3 تمباکو سے شریانوں اور رگوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
۔ 4 عضو تناسل میں خون کی چھوٹی نالیاں خاص طور پر نقصان کے لیے بہت حساس ہوتی ہیں اور تمباکو نوشی خاص طور پر ان حساس رگوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔
۔ 5 تمباکو نوشی آپ کی جنسی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
۔ 6 تمباکو نوشی چھوڑنا آپ کی جنسی صحت کو بہتر بنا سکتا ہے اور کم سیکس ٹائم کو بڑھا سکتا ہے۔
۔ 1 صحت جنسی کے لئے صحت مند غذا کھائیں
۔ 1 اینٹی آکسیڈینٹ سے بھرپور پھل اور سبزیاں کھانا مجموعی صحت کے لیے بہت اچھا ہوتا ہے۔
۔ 2 پھل اور سبزیاں آپ کی جنسی جوش کو بڑھانے اور آپ کی جنسی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد کرسکتے ہیں۔
۔ 3 ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند پھلوں اور سبزیوں اور اومیگا 3 فیٹی ایسڈ والے کھانے پر مبنی غذا جنسی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔
۔ 4 ملٹی وٹامن اور اینٹی آکسیڈنٹس اور لائکوپین (جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ پروسٹیٹ کینسر کو روکنے میں مدد کرتا ہے)
۔ 5 سپلیمنٹس بھی جنسی جوش کو بڑھانے میں مدد کر سکتے ہیں۔
۔ 6 کسی بھی سپلیمنٹس کے استعمال کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے پہلے ضرور بات کریں تاکہ آپ اپنے لیے بہترین انتخاب تلاش کر سکیں۔
۔ 2 جنسی صحت کے لئے کیفین کا استعمال کم کریں
زیادہ کیفین کا استعمال خون کے بہاؤ پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ لیکن اس بات کے کچھ شواہد موجود ہیں کہ چاکلیٹ، جس میں کچھ کیفین ہوتی ہے، لبیڈو یا جنسی جوش پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔ اگرچہ کیفین کو عضو تناسل یا خواتین کے جنسی جوش کی خرابی سے جوڑنے کا کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں ہے۔
لیکن یہ بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کیفین خون کی شریانوں کو محدود کر سکتی ہے، اس لیے اس کے استعمال کو اعتدال میں رکھنا ہی بہترین عمل ہو سکتا ہے خاص طور پر جب بات لبیڈو اور صحت مند جنسی زندگی کی ہو۔
۔ 3 جنسی صحت کے لئے ذہنی تناؤ کم کریں
تناؤ کو کم کرکے مراقبہ اور یوگا آپ کی جنسی زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ تناؤ ایک خاموش قاتل ہے۔ تناؤ کورٹیسول اور ایڈرینالین کی سطح کو بھی بڑھاتا ہے، جو جنسی ردعمل کے ہارمونز میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
Post Number 57 👇
خواتین کا کمال اپنے کو مرد کے مقابلہ میں کمزور رکھنے میں ہی ہے
*جس خاتون نے بھی یہ تحریر لکھی ہے کمال کی لکھی ہے*۔ *اِسے ضرور پڑھیں*۔۔۔
وہ لکھتی ہے
مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے "رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔ غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے۔ اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ "تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان پر تارے گنتے ہوئے وہ مجھے ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مضبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے "ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ "تم صرف میری ہو"۔
لیکن افسوس ہم سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں۔
شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کر دیا ہے۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
*جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔ تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے چلے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے*.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے۔
❤️💔🌷🌹🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹🌻🌹
Post No 58 👇
*"شادی کی پہلی رات غلطیوں کا احساس ہوجاۓ گا"*
اس شخص کو اپنی غلطیوں کا احساس پہلی رات ہی ہوجاۓ گا جب وہ کمرے میں جاۓ گا تو اسکی بیوی اس سے بلکل نہیں شرماۓ گی، اس شوہر کو بیوی کی گھبراہٹ کا قطعی احساس نہیں ہوگا، دونوں خوش ضرور ہیں لیکن وہ خوشی جس سے انسان پھولے نہیں سماتا وہ اس خوشی سے محروم ہوچکے ہیں۔
یہاں بس نہیں ہوجاتی۔ آنے والی زندگی میں مذید خزاں کے موسم آنے ہیں کہ شوہر محسوس کرے گا بیوی میری عزت نہیں کرتی، میرا کہنا نہیں مانتی یہ صرف اپنی ہی چلاتی ہے، دوسری طرف بیوی نے بھی برابر کا جواب رکھنا ہے کہ آپ شادی کے بعد بلکل بدل گۓ ہو میں جس شخص سے باتیں کیا کرتی تھی وہ کوئ اور تھا، جس سے شادی ہوئ وہ کوئ اور ہے، کہاں گۓ آپ کے سارے وعدے ساری قسمیں۔ پھر شوہر بھی دفاعی انداز میں کہتا ہے کہ شادی کے بعد ذمہ داریاں آگئ ہیں تمام معاملات کو دیکھنا پڑتا ہے اور آیئں بایئں شایئں روزانہ نہیں تو ہفتے میں دو سے تین بار کی کہانی ضرور ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جو منگنی کے بعد مسلسل اپنی منگیتر کے ساتھ گھنٹوں گھنٹوں رابطے میں رہتے تھے۔ جنہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو سن کر عمل کرنے سے انکار کیا اور نا انہوں نے دن دیکھا نا رات دیکھی کہ مسلسل بغیر نکاح منگیتر سے موبائل پر رابطے قائم ہیں، الگ الگ پوز بناکر ایک دوسرے کو تصاویر بھیجی جارہی ہیں، بے ہودہ سٹیٹس لگاۓ جارہے ہیں، اور تو اور تحفے تحایف کی لین دین اعلی سطح پر ہے کہ منگیتر کو مہنگا موبائل گفٹ کیا جا رہا ہے، لڑکی نے لڑکے کو کڑھائ والا سوٹ بھیجا ہے کہ یہ سوٹ تم پر زیادہ اچھا لگے گا۔ اتنا ہی نہیں، بعض لوگ تو ملاقات کرنے جیسی سنگین غلطیاں کر بیٹھتے ہیں اور کچھ لوگ تو حد سے تجاوز کرجاتے ہیں کہ نکاح سے پہلے ہی منگیتر کو ناپاک کردیتے ہیں۔
یقین کریں انکی ازدواجی زندگی میں کوئ برکت نہیں ہونے والی کیوں کہ انہوں نے نکاح سے پہلے ہی منگیتر سے رابطے قائم کرکے شرم و حیا کو ایک طرف پھینک دیا، سب جانتے ہوۓ نکاح کی برکتوں سے منہ پھیر لیا،
احکام اللہ و ہدایات رسولﷺ کو پسِ پشت ڈال دیا، اپنے بڑوں کی روایات کو بری طرح رسوا کیا۔ شہزادی ابھی شہزادے کے نکاح میں نہیں آئ اور یہاں دونوں کی گفتگو ہے جو کہ ختم ہو کر نہیں دے رہی۔ نکاح سے پہلے اِن لڑکا لڑکی کے رابطے نے نہ صرف ان کی ازدواجی زندگی کا سکون چھینا، خیر چھینی، برکتیں چھینی بلکہ انہیں گناہ کبیرہ کا مرتکب بھی ٹھہرا دیا۔
واللہ میرے بھایئوں! میری بہنوں! تمہیں خداکا واسطہ ہوش کے ناخن لو، نفس کے ہاتھوں اتنے کمزور نہ بنو۔ جہاں اتنے سال انتظار کیا وہاں تھوڑا اور صحیح۔ ذرا حلال ہوجانے دو، ذرا قدرت کی مہر لگ جانے دو، لیکن اس سے پہلے جان لو یہ مکمل بے حیائ، یہ مکمل بے شرمی تمہیں لے ڈوبے گی۔
شادی سے پہلے منگیتر سے بات کرنے کے بے حد نقصانات ہیں کہ تم دونوں ایک دوسرے کے دل میں اپنی عزت اپنا مرتبہ اپنا مقام کھو دو گے۔ نکاح سے پہلے تمہارا یہ رابطہ تمہیں ایک دوسرے کی نظر میں کھول دے گا پھر تم بے حجاب ہوجاؤ گے، بے جھجھک ہوجاؤ گے، بے تکلف ہوجاؤ گے، بے ادب ہوجاؤ گے، اور ان سب کا نتیجہ شادی کے بعد نظر آۓ گا، پھر بیوی کی نظر میں وہ شوہر شوہر نہیں رہتا اور شوہر کی نظر میں بیوی بیوی نہیں رہتی۔ وہ شرم، وہ حیا، وہ ادب، وہ عزت سب ختم ہوکر رہ جاتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، تمہاری اِن بد اعمالیوں کا اثر سیدھا تمہاری اولاد پر بھی ہوگا۔
نکاح کے بعد ہی بیوی کو دیکھنا بیوی سے بات کرنا بیوی سے ملاقات کرنا درحقیقت عزت، ادب، اخلاق اور غیرت مندی کا مظاہرہ ہے، یہی لوگ کامیاب اور خوشگوار ازدواجی زندگی گزارتے ہیں کہ دونوں منگیتر ہمکلام نا ہوۓ، انہوں نے اللہ کے احکامات اور رسول اللہﷺ کے فرمان کو اولین ترجیح دی، یہ شرم و حیا کے پیکر بنے رہے، انہوں نے بذرگوں کی روایات کو سامنے رکھا، فحاشی کے اس دور میں بھی نفس کے ساتھ لڑتے رہے اور اب انکی زندگی خوب سے خوب تر ہونے کو ہے خدا گواہ ہے کہ بے شمار برکتیں اور رحمتیں انکے نکاح کا انتظار کررہی ہیں۔
رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین
Post Number 59👇
#جنسی_صحت_کا_جنازہ_کب_نکلتا_ہے۔؟
جو شخص اس فعلے بد میں مبتلا ہیں اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں اور اللہ پاک سے سچے دل سے توبہ کریں
یہ جو ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ میڈیکل سائنس میں مشت زنی کا کوئی نقصان نہیں ہے ۔ خدا کی قسم یہ جھوٹ بولتے ہیں تاکہ آپ کھل کر پورن دیکھتے رہیں اور مشت زنی کرتے رہیں اس سے پورن انڈسٹری کو بھی فائدہ اور مختلف امراض کی صورت میں ان ڈاکٹرزکا بھی فائدہ
جو آپ کا جی چاہے وہ کریں مگر یہ یاد رکھیے مشت زنی انسان کی صحت کا جنازہ نکال دیتی ہے۔
مشت زنی کے ویسے تو بے شمار نقصانات ہیں مگر چند اہم کو میں یہاں تحریر کرنے جارہا ہوں امید ہے جو لوگ اس فعل بد میں مبتلا ہیں وہ عبرت پکڑ جائیں گے،
سب سے پہلے تو جنسی قوت کی کمزوری، اعصاب کی کمزوری پٹھوں میں کھچاؤ، ہڈیاں کمزور اور اس میں درد، جھجک، تذبذب، کسل مندی، حد سے زیادہ شرمیلا پن, بزدلی، بے وجہ ڈر اور خوف آنا، مرگی، مالیخولیا، دماغی کمزوری، حافظہ انتہائی کمزور ہوجانا، بھول کی بیماری لگ جانا یعنی نسیان، نگاہوں کی کمزوری، زبان کی لکنت، حساسیت بڑھ جانا، اسکے علاوہ نگاہیں ہر وقت جھکی ہوئی، پلکیں ڈھکی ہوئی، پتلی سفید، آنکھوں کے گرد حلقے، کانوں کی لو لٹکی ہوئی، گالوں پہ کبھی سفیدی تو کبھی جھریاں، گالیں اور آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی، ہونٹ سیاہی مائل، ناک کی نوک خمیدہ، گردن کی رگیں پھولی ہوئی، زیادہ چلنے سے سانس پھول جانا، سیڑھیاں چلنا محال، بیٹھ کر اٹھے تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جانا اور سر چکرانا، ہاتھ ٹھنڈے رہنا یا کبھی بہت گرم رہنا، جہاں رکھنا ہاتھ پاوں سو جانا، پیشاب تیز اور جلا ہوا آنا، سرعت انزال اور جنسی بے طاقتی کا روز بروز بڑھتے رہنا ، کسی کام میں دل نہ لگنا، امتحان میں ناکامی، سوشل لائف تباہ، شادی سے گھبراہٹ، طرح طرح کے خیالات آنا خاص کر موت کے اور خودکشی کے، شدید ڈپریشن اور مایوسی میں مبتلا ہوکر مریض زندہ لاش بن جاتے ہے،
اور خود کو جیتے جی درگور کرجاتا ہے
جوانی برباد ہوجاتی ہے نہ چہرے میں خوبصورتی باقی رہ جاتی ہے نہ کشش،
کسی کے ساتھ آنکھ ملا کر ایک منت تک بات نہیں کرسکتا، محفل اور دوستوں میں جانے سے کترانا حتیٰ کہ گھر میں فیملی کے ساتھ بھی آنکھ ملا کر بات نہیں کرسکتا
تنہا پسند ہوکر زندگی کے حسین لمحات ایک تنہا کونے کی نذر کر ڈالتا ہے 😭
اگر آپ بھی اس عادت میں مبتلا ہیں. تو میں آپ کو جھولی پھیلا کر التجا کرتا ہوں خدارا ابھی بھی وقت ہے ختم کر دے اس عادت کو اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں اپنی ہونے والی بیوی آنے والی نسلوں کی خاطر خدارا خود کو اس بھڑکتی آگ میں نہ جھونکے،
آج سے سچے دل سے توبہ کرکے اس غلیظ فعل کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خیر آباد کہہ دے
Post Number 60 👇
اس گروپ میں پوسٹ کی جانے والی تحریروں کے ذریعے آپ کے علم میں اضافہ کرنا اور کچھ نہیں
(گیلی شرم گاہ سے کیا مراد ہے )
جیسا کے تمام شادی شدہ مردوں کو یا مسلسل زناء کرنے والے مردوں کو پتہ ہوتا ہے کے عورت کے ساتھ سیکس کے پہلے شاٹ کے بعد دوبارہ مرد کو تیار ہوتے عمر کے حساب سے دیر لگتی
یعنی کے اگر سیکس کوپل میں سے لڑکے کی عمر چودہ سال ہوتو وہ ڈسچارج ہونے کے آٹھ یا دس منٹ بعد دوبارہ تیار ہوجاتا ہے اور اگر چودہ سالہ لڑکی ڈسچارج ہوبھی جائے تو بھی وہ ریڈی ہی رہتی ہے وہ ویسی کی ویسی ھاٹسٹ ہی رہتی ہے اور مزید سیکس چاہتی ہے
اور اگر مرد کی عمر پچیس سال یا اس سے کچھ زائد ہوجائے تو مرد کو دوسرے شاٹ کے لیے تیار ہوتے ہوتے ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے اور اگر عورت پچیس سال کی بھی ہو تو اسے پہلے شاٹ کے بعد دوبارہ تیار ہونے کے لیے صرف پانچ منٹ لگتے ہیں
کیوں کے عورت کے سیکس سیل مرد کی نسبت نوے فیصد زیادہ ہوتے ہیں بس عورت کے تیز ترین سیکس سیل کی مدت کم ہوتی ہے تیس پینتیس سال کی عمر ہوجانے کے بعد عورت کے سیکس سیل بیٹھ جاتے ہیں اور مرد کے پچاس سے ساٹھ سال تک رہتے ہیں
کوئی عورت اگر شادی شدہ ہونے کے باوجود کسی اور کے ساتھ سیکس کرتی ہے تو ایک عقل مند مرد کو عورت کی شرمگاہ سے پتہ چل جاتا ہے
جب عورت کا خاوند بیوی سے سیکس چاہے تو اس کی شرم گاہ کی طرف دیکھے تو شرم گاہ گیلی گیلی اور ڈھیلی ڈھیلی لگتی ہے جس سے مرد کو پتہ چل جاتا ہے کے میری بیوی تو مجھ سے پہلے کسی کے ساتھ سیکس کر چکی ہے
کیوں کے عورت اگر پانچ منٹ میں دوبارہ تیار ہوجاتی ہے تو اس کی شرم گاہ کی شکل چوبیس گھنٹہ بعد اپنا خشک پن واپس اپناتی ہے ایک شادی شدہ زانیہ عورت کا خاوند اگر گھر چوبیس سے تیس گھنٹے بعد یا اڑتالیس گھنٹے بعد گھر آتا ہو تو اسے پھر معلوم نہی ہوتا کے میری بیوی نے کیا کچھ کیا ہے
کیوں کے عورت کا سیکس کرنے کے بعد اس کی شرمگاہ کی خشک صورت چوبیس گھنٹے بعد واپس آتی ہے اور گیلی لٹکی ہوئی شرمگاہ سے معلوم ہوجاتا ہے کے عورت کچھ گھنٹے قبل سیکس کر چکی ہے۔
یہ پوسٹ آپ کے معاملات کے لئے پوسٹ کی جارہی ہے۔۔
Post Number 61 👇
*حاملا عورت سے ہمبستری کرنا۔*
نئے شادی شدہ حضرات جب اس نہج پر پہنچتے ہیں تو تذبذب کا شکار رہتے ہیں کہ آیا حمل کے ساتویں مہینے سے لیکر بچے کی پیدائش تک کیا زوجہ کے ساتھ ہمبستری کی جاسکتی ہے....؟
بوجہ شرمندگی اور ہچکچاہٹ کے وہ کسی سے پوچھ نہیں پاتے... ان کیلئے عرض ہیں کہ آخری تین مہینے اور شروع کے تین مہینوں میں احتیاط لازم چیز ہے... حالانکہ اس دوران ہمبستری کرنا منع تو نہیں ہے... مگر احتیاط نہ کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے... اس دورانئیے میں عورت پر بذات خود شہوت کم اور تکلیف زیادہ ہوتی ہے... اور مرد کے اعضائے تناسل کی بناوٹ اور سائز کیوجہ سے اندہام دانی کے اندر ٹکرانا نقصاندہ ہوسکتا ہے... اگر آپ پر جنسی ضرورت بہت زیادہ حاوی ہورہی ہو تو تحمل و سکون کیساتھ خود کو تسکین دے سکتے ہیں...
احتیاط نہ کرنے پر آول ناول کا لپٹ جانا... اسکا پھٹ جانا... بچے کے سر پر کوئی زہنی چوٹ، اندھا پن، مستقل معذوری جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں...
کچھ چلتے پھرتے لوگوں سے سنا کہ آخری ایام میں ڈٹ کر ہمبستری کرنی چاہئیے تاکہ ڈلیوری نارمل ہوسکے تو ان نمونے حضرات کی باتوں کی خاطر مدارات میں نہ لائیں یہ صرف سنی سنائی اور فضول سی باتیں ہیں....
آجکل کی خواتین سے چاہے آپ جتنے مشقت بھرے کام جھاڑو پوچا و دیگر کام کروا لیں زچگی کے درد کو وہ سہہ نہیں پاتی جسکے نتیجے میں آپریشن کی نوبت آجاتی ہے...
البتا آخری تین ماہ میں ہمبستری کے لیے ایسی پوزیشن اختیار کریں جس سے عورت کو تقلیف نہ ہو بلکے اپنی زوجہ سے پوچھیں یہ انہیں کہیں کے ایسی پوزیشن اختیار کریں جس سے آپکو تقلیف نہ ہو۔
احتیاط کریں اور خوش رہیں
POST NUMBER 62 👇
زیادہ مشت زنی کرنے سے یہ علامات پیدا ہوتی ہیں!
1۔ بات بات پر شہوت ہے
ٹائمنگ بہت کم ہے۔ بات کرنے کو دل نہیں کرتا۔
تنہائی کو دل کرتا ہے۔
جلدی فارغ ہونا_
۔ دماغ میں ہر وقت شہوت رہتی ہے۔
ہمت نہیں لگتی۔ عبادت نہیں ہوتی ۔ چہر ے پر سے رونق ختم ہوگئ ہے۔کھانا ہضم نہیں ہوتا۔ غصہ بہت ہے۔ چڑچڑا پن ہے۔قطروں کا بھی مرض ہے۔ کام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ دانے نکلے ہیں۔ ڈر اور خوف بہت لگتا ہے۔لڑکی کو دیکھنے سے بھی شہوت ہوتی ہے اور بار بار پر انتشار ہوجاتا ہے۔غمگین اور مایوس ہوتی ہے..!
Post No 63 👇
*نیچرلی ٹائمنگ بڑھانےکےلیئےچندمفیدمشورے*
اکثر مرد وہم کرتے ہیں کہ پتہ نہیں میں بیوی کو مطمئین کر پاؤں گا بھی یا نہیں، اس بات کو زیادہ دن تک سر پر سوار رکھنے سے سرعت انزال (یعنی جلدی فارغ ہونے) کا مسئلہ ہوجاتاہے۔ اپنے آپ کو ہر قسم کے ذہنی دباؤ سے دور رکھیں
"میری ٹائمنگ صرف بیس سے تیس سیکنڈ ہے۔ کیا کروں ؟"
بہت سے نوجوانوں کی طرف سے یہ مسئلہ کثرت سے سامنے آرہا ہے۔ پہلے اس کی وجہ کو سمجھیے۔ پھر آپ کو پتہ چلے گا کہ آپ کو کسی ڈاکٹر یا حکیم کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ مرد مباشرت کے دوران عورت سے بہت پہلے انزال ھو جاتا ہے اور اس کی بیوی کو جنسی
تسکین حاصل نہیں ھوتی.
جنسی فعل کے دوران مرد کی ناکامی کے اسباب مندرجہ زیل ھو سکتے ہیں
اکثر نوجوان شادی سے پہلے ہی اپنی جوانی کی حفاظت نہ کرتے ھوئے بہت سی غلط کاریاں یا مشت زنی وغیرہ کی مدد سے اپنی طاقت ضائع کر چکے ھوتے ھیں.
اس طرح مرد کا مادہ منویہ پتلا ھو جاتا ہے اور جسم کی طاقت ختم ھو جاتی ہے.
مرد عورت کے پاس جانے کے چند سیکنڈ بعد ہی انزال ھو جاتا ہے.
ایسے آدمی اپنی بیوی کو جنسی تسکین نہیں پہنچا سکتے ایسا اگر بار بار ھو تو اس طرح کے مردوں کو چاہیئے کہ وہ مباشرت سے قبل اپنا جسم عورت کے جسم سے دور رکھیں اور عورت کے جسم کا خوب اچھی طرح مساج کریں. جب عورت مکمل طور پر بیدار ھو جائے تو پھر مباشرت شروع کرے اور اس کے لیے کوئی ایسا طریقہ استعمال کرے جس میں رگڑ کم سے کم ھو. ایسے لوگوں کو چارپائی کی بجائے زمین پر گدہ بچھا کر مباشرت کرنا بہتر ھوتا ہے.
جب کوئی انسان مشت زنی کرتا ہے تو چونکہ اسے کسی پارٹنر کی ضرورت نہیں ہوتی اور اس معاملے کا مکمل کنٹرول اس کے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے تو وہ اپنے نفس کو تیز تیز رگڑ لگا کر چند سیکنڈز یا ایک منٹ میں ڈسچارج ہوجاتا ہے۔ رفتہ رفتہ یہ چیز اس کے جنسی مزاج کا حصہ بن جاتی ہے اور وہ جلدی فارغ ہونے لگتا ہے۔ ویسے بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ مرد جتنا بھی طاقتور ہو، اگر اس کے نفس کو مسلسل رگڑ لگے گی ، چاہے وہ اس کے اپنے ہاتھ کی ہو یا کسی دوسرے جسم کی تو اس نے ڈسچارج ہونا ہی ہے کیونکہ نفس بہت حساس عضو ہوتا ہے۔ جنسی لذت کو زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتا اور ڈسچارج ہوجاتا ہے۔ اب نوجوان اس معاملے پر اس لیے پریشان ہوجاتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے وہ بیوی کو مطمئین نہیں کر پائیں گے۔
سب سے پہلے تو آپ مشت زنی اور بیوی سے مباشرت کو ایک جیسا سمجھنا چھوڑ دیں۔ ان دونوں میں بہت فرق ہے۔ مشت زنی کے دوران ایک مرد اپنے نفس کو مسلسل رگڑ دیتا ہے جبکہ بیوی سے ہمبستری میں انٹر کورس (یعنی بیوی کی شرمگاہ میں دخول کرنا) ، جنسی عمل کا ایک جزوی حصہ ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں سمجھیے کہ مباشرت میں صرف انٹرکورس (یعنی دخول) ہی نہیں ہوتا بلکہ اور بھی بہت کچھ شامل ہے جن میں بوس و کنار اور مرد کا بیوی کے جسم کے مختلف حصوں کو چھونا وغیرہ شامل ہیں۔ ایسی صورت میں ، میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ آرام سے آدھا گھنٹہ گزار سکتے ہیں اور بعض اوقات اس سے زیادہ بھی۔ مباشرت کے لیے بیوی کے پاس جانے سے لے کر ، فارغ ہو کر سونے تک کا مکمل عمل ، ٹائمنگ میں شامل ہے۔ رومانس اور فورپلے کو جتنا ہوسکے لمبا کیجیے۔ جب انٹرکورس کے دوران لگے کہ ڈسچارج ہونے والا ہے تو وہیں رک جائیے یا اپنے نفس کو باہر نکال لیں اور کچھ دیر تک رک جائیں۔ اس دوران بیوی کے ساتھ رہیں اور فور پلے یا بوس و کنار کرتے رہیں لیکن نفس کو اس کے جسم سے ٹچ نہ ہونے دیں۔ اگر دورانِ مباشرت اچانک سختی ختم ہوجائے تب بھی پریشان ہوئے بغیر بیوی کے پاس لیٹ جائیں اور فورپلے کرتے رہیں۔ کچھ دیر میں سختی واپس آجائے گی۔
مباشرت سے قبل مرد کو اپنے عضو پر کسی قسم کی کریم وغیرہ لگا لینی چاہیئے تاکہ رگڑ کم سے کم ھو. بعض اوقات مرد میں سرعت انزال کا مرض اتنا زیادہ ھوتا ھے کہ اس سے سب کرنے کے باوجود مساس کے دوران ہی انزال ھو جاتا ہے. تو ایسے مریض کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی کو بلکل نہ چھیڑے اور کسی قابل حکیم سے علاج کرائے.
ایسی حالت میں بیوی کو چھیڑنا اپنے ہاتھوں بیوی کو بیماری کے گڑھے میں پھینکنے کے برابر ہے
مباشرت میں مرد کی ناکامی اس سبب بھی ھو سکتی ھے کہ بیوی کے دل میں مباشرت کی کوئی خواہش نہ ھو مگر صرف یہ سمجھتے ھوئے کہ شوہر کا حکم ماننا فرض ہے اس کام کے لیے تیار ھو جائے.
مرد تو اس سے مزہ حاصل کر لیتا ھے مگر عورت کو مکمل جنسی تسکین دینے میں ناکام رہتا ھے . اس چیز سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مباشرت صرف اسی وقت کی جائے جب میاں بیوی دونوں میںاس کی فطری خواہش پیدا ھو اور اس خواہش کو کسی مصنوعی طریقہ سے بیدار نہ کیا گیا ھو. اس سے مباشرت کا لطف دوبالا ھو جاتا ہے. خاوند کا بیوی سے پہلے انزال ھونے کا ایک بڑا سبب یہ بھی ھوتا ہے کہ جنسی فعل کے دوران چونکہ مرد فاعل ھوتا ھے اور اس کو زور لگانا پڑتا ھے اور مرد کا مادہ منویہ عورت کے مادہ منویہ کی نسبت کم راستہ طے کر کے آتا یے. اس لیے مرد جلد انزال ھو جاتا ہے. بعض اوقات اگر دیر کے بعد مباشرت کی جائے تو جنسی ہیجان کی وجہ سے مرد جلد انزال ھو جاتا ہے. مگر یہ کیفیت بلکل عارضی ھوتی ہے اور ایک دو روز کے بعد دور ھو جاتی ہے. اگر مرد زیادہ تھکا ھوا ھو اور اس تھکاوٹ کی حالت میں مباشرت کرے تو اس کے جلد انزال ھونے کے قوی امکانات ھوتے ہیں.
ان سب باتوں سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ مباشرت سے قبل مساج کر کے عورت کے جذبات کو بیدار کیا جائے....
یاد رکھیے ! اس وقت جتنے بھی غیر شادی شدہ نوجوان گروپس میں موجود ہیں ، ان کا سب سے اہم مسئلہ ٹائمنگ نہیں بلکہ فحش فلموں اور مشت زنی کی لت سے مکمل جان چھڑانے کا ہے۔ باقی مسائل چونکہ اس لت کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ، اس لیے اس لت کے چھوٹنے کے ساتھ ساتھ وہ بھی آپ کی زندگی سے نکل جائیں گے إن شاء الله۔
اللہ ہم سب کو صحیح سمجھ نصیب فرمائے۔ آمین
Post No 64 👇
*"مرد کے جنسی جزبات کو ٹھنڈا کرنے میں عورت کا کردار۔"*
(1) وہ عورتیں جو اپنے آرگیزم کا زمیدار مرد کو ٹھراتی ہیں۔بعض عورتوں کو آرگیزم کے اصول میں دقت پیش آتی ہیں لہٰذا خاوند کو بتائیں آپ کیا چاہتی ہیں اور آپکی ضرورت کیا ہے۔
(2) وہ عورتیں جو سیکس کے دوران حکم چلاتی ہیں کے یہ نہ کرو وہ نہ کرو جب خواتین ضرورت سے زیادہ ہدایات دیتی تو مرد سمجھتا ہیں کے اس کو حالات پر کنٹرول نہیں۔یوں اس کے اس بیچارے کے جزبات سرد ہوجاتے ہے ۔ اس کا حل یہ ہیں کے جنسی عمل شروع کرنے سے پہلے خاوند سے کھل کر بات کریں اس ٹاپک پر کے آپکو کیا پسند ہیں اور کیا نا پسند ہے۔پھر اس پر اعتماد کریں اپنے خاوند کو موقع دیں کے وہ آپکے جسم کو اچھی طرح سمجھ لے اور یہ بھی سیکھ لے کے آپکی خواہش کے مطابق اسے کس طرح محبت کرنی ہے۔
(3) وہ عورتیں جو سیکس کے دوران میں بلکل بھی کسی رد عمل کا اظہار نہیں کرتیں۔
یہ ایک زندہ لاش کی طرح پڑی رہتی ہیں ایسی عورت بھی مرد کے جنسی جزبات کو سرد کر دیتی ہیں۔مرد نہ پسند کرتا ہے کے عورت یہ تاثر دے کے وہ سیکس سے لطف اندوز نہیں ہورہی۔مردوں کے جزبات سرد ہونے کی میری نظر میں یہ بہت بڑی وجہ ہیں۔جب آپ بستر پر لیٹے کوئی حرکت نہیں کرتیں اور لطف کی کوئی آواز نہیں نکالتیں،پسند کا کوئی فقرہ نہیں بولتیں تو اس سے مرد کے جزبات ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کے:
* سیکس کے دوران ردعمل کا اظہار کریں۔
* خاوند کو بتائیں کے وہ جو کچھ بھی کر رہا ہیں بہت ہی لطف انگیز ہے۔
* خاوند کو بتائیں کے آپ کونسی چیز زیادہ حاصل کرنا پسند کرتی ہے۔
* یہ بھی بتائیں کے آپ اس کے ساتھ کیا کرنا پسند کریں گی۔
* خاوند کو بتائیں کے وہ آپکو اچھا لگتا ہے اور کیوں۔
(4) وہ عورتیں بھی مرد کے جزبات کو off کر دیتی ہے جو بستر میں بہت زیادہ باتیں کرتی ہیں.یہ عورتیں زندہ لاش کے بلکل الٹ ہوتی ہیں، یہ بھی مرد کے جزبات کو سرد کر دیتی ہیں۔ایسی عورتیں عموماً سیکس کے دوران رننگ کمڑی کرتی ہیں کے انہیں کیا اچھا لگتا ہیں یہ چیزیں بھی مرد کو بور کر دیتی ہے۔اگر آپکو شک ہے کے آپ کچھ زیادہ ہی بولتیں ہیں تو خاوند سے پوچھنے میں ہرج نہیں۔یہ اگلی بار جنسی عمل کرتے وقت کچھ خاموشی اختیار کریں۔اگرچہ یہ مشکل ہوگا۔اس کے لیے اپنی پوری توجہ جنسی لطف اور احساسات پر مرکوز کریں۔اس مشق سے آپ اپنے آپ کو کنٹرول کر سکیں گی۔
(5) ایسی خواتین بھی خاوند کے جنسی جزبات ختم کر دیتی ہیں جو اپنا خیال نہیں رکھتیں مثلاً۔
*بغلوں اور نچلے حصہ کی شیو نہ کرنا۔
*گندی سانس والی
* مونچھوں والی
*گندے اور پرانے طرز کے کپڑے پہننے والی
*فرج کی ناپسندیدہ بو والی
*موٹی خواتین
*میک اپ کی وجہ سے خراب جلد والی
*جن کے جسم سے گندی بو آتی ہو
*ضرورت سے زیادہ میک اپ کرنے والی
اس کا حل یہ ہیں کے اپنا خیال رکھیں ورزش آپکی Looks کو زیادہ Sexy بنادے گی۔
(6) کچھ عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو اپنا جسم پسند نہیں ہوتا۔اور اسکا اظہار بھی کرتی ہے وہ اس طرح اپنی تذلیل خود کرتی ہیں۔خاوند کو بار بار بتاتی ہیں کے وہ کس قدر بدصورت ہیں۔انکے بال اچھے نہیں۔ان کے پستان بہت چھوٹے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ان کا یہ رویہ بھی مرد کے جنسی جزبات کو سرد کر دیتا ہیں۔حالانکے عورت خاوند کو بھرپور سیکس دے اور کبھی انکار نہ کرے اور اگر اپنے خاوند کو کہے کے اگلی مرتبہ آپ نے اپنی مرضی چلائی تھی اس بار میں اپنی مرضی کا سیکس کروں گی تو مرد کے نزدیک ان چیزوں کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی مگر ایسی عورتیں بتا بتا کر خاوند کو Conscious اور بور کر دیتی ہیں۔
اس کا حل یہ ہے کے آپ اپنے جسم سے محبت کرنا سیکھیں 20 ایسی چیزوں کی فہرست بنائیں جو آپکو اپنے جسم کے حوالے سے پسند ہے مثلاً ناک،کان،آنکھیں،وغیرہ اپنے میاں سے بھی پوچھیں کے اسے آپ کے جسم کا کیا پسند ہیں۔پریشان نہ ہوں کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا اپنی تذلیل نہ کریں اگر آپکو اپنی کوئی چیز پسند نہیں اسکو بدلیں یہ پھر اس کا زکر نہ کریں۔جب خاوند کہے کے آپ خوبصورت لگتی ہیں تو اسکا شکریہ ادا کریں۔
ایک نفسیاتی اصول کو مدنظر رکھیں۔جب مرد اور عورت بار بار ملتے ہیں اور
عورت کا رویہ مرد کے ساتھ بہت اچھا ہو اسکی تعریف کرے اسے پسند کرے اور پسند کا اظہار کرے ایسی بیوی خاوند کو بھرپور سیکس دے اور کبھی انکار نہ کرے تو ایسی عورت کو نہ صرف خاوند پسند کرتا ہے بلکہ محبت کرتا ہے۔اسکا عاشق ہوجاتا ہے۔اسکی شکل و صورت چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے
Post No 65 👇
(سیکس کے بعد غسل میں تاخیر)
__________________________________________________________
سیکس کے بعد غسل کرنے میں تاخیر بلکل نہ کریں،
اسکے طبی، نفسیاتی اور شرعی نقصانات ہیں، مرد ہو یا عورت دونوں کے لئے ضروری ہے
طبی_نقصان:
منی کے نکلنے کے بعد انسانی بدن کے ہرمسام (جلد کے وہ باریک سوراخ جن سے پسینہ نکلتا ہے) سے ایک گیس نکلتی ہے،
نہانے سے وہ اثرات_گیس بن جاتے ہیں، ورنہ یہ صحت کے لئے مضر ہونگیں،
نفسیاتی_نقصان:
چونکہ زیادہ تر ناپاکی کی حالت میں رہنا جنات کے اثرات کا خدشہ رہتا ہے، جس کے سبب انسان کی طبیعت ناسازی،اکثر سر درد کی شکایت رہنا ہے.اور بہت سی بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں بہت سی عورتیں شکایت کرتی ہیں کے شرمگاہ کے آس پاس خارش اور جلن ہوتی ہے اس کی یہیں وجہ ہے 100 میں سے 80 فیصد عورتیں مباشرت کے بعد اپنے جسم کو صاف کئے بنا سوجاتی ہیں جس سے منی جسم میں جزب ہوجاتی ہے کچھ عورتوں کی جگہ پکنا شروع ہوجاتی ہے دوسرا غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی یہ شکایت کرتی ہیں ان کو یہ اس لئے ہوتا ہے کے وہ صفائی کا خیال نہیں رکتھی ضروری نہیں کے مباشرت کے ساتھ ہی فرج سے پانی خارج ہوتا ہے اس کی اور بھی بہت سی وجوہات ہیں اپنے دوست کے ساتھ فون پرباتیں کرتے ہوئے یا انٹرنیٹ پر کوئی ایسا ویسا سین دیکھنے سے یاکوئی گندہ خیال ذہن میں آنے سے یا پھر ماہواری ختم ہوتے ہی 3 4 دن تک پانی خارج ہوتا ہے فرج سے،،
ماہواری کے بعد غیر شادی شدہ لڑکیوں اور عورتوں کا پانی خارج اس وجہ سے ہوتا ہے کیونکہ ان دنوں انڈے بیضہ دانیوں سےخارج ہوتے ہیں اگر ان دنوں مباشرت کی جائے تو حمل کے بہت زیادہ چانس ہوتے ہیں اس لیے آپ کو جب بھی ایسا گیلا پن محسوس ہو تو جلد سے جلد خود کو پاک صاف کریں اور ساتھ اپنے جسم کی صفائی کا خاص خیال رکھے اور کوشش کرے 15 سے 20 دن میں اپنے جسم سے بال صاف کیا کریں اگر آپ ایک ہفتے میں یا اس سے کم دن میں بال صاف کریں گی تو آپ کی اِسکن جَل جائے گی جس کی وجہ سے جلن اور خارش ہو گی اور بار بار خراش کرنے سے زخم بن جائیں گے اور ساتھ اسکن کالی ہوجائے گی کیونکہ ان کریمز میں بہت زہریلا کیمیکل ہوتا ہے اور چالیس دن سے پہلے لازمی جسم کی صفائی کریں،
روحانی اثرات،
ہمبستری کے بعد جلدی نہ نہانے سے انسانی دل پہ بھی برے اثرات پڑتے ہیں جسکی وجہ بہت سی روحانی بیماریاں نماز یا عبادات سے دل کا اچاٹ ہونا اور خیالات کی پاکیزگی جاتی رہتی ہے اور یہ چیزیں گھریلو ناچاقی کا باعث بھی بنتی ہیں،
Post No 66 👇
چھيڑ چھاڑ كے دوران جو پانی نكلتا كیا اس سے غسل واجب ہے؟
_________________________________________________________
سوال:
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جب میں بیوی کے نزدیک جاتا ہوں اور اس سے بوس و کنار اور چھیڑ چھاڑ کرتا ہوں اور جسم کے مختلف حصوں جیسے سینے اور گردن کو چومتا ہوں اور اس کی شرمگاہ پر باہر باہر سے ہاتھ پھیرتا ہوں تو اسے مزہ آتا ہے اور کچھ دیر کے بعد میری بیوی کی شرمگاہ یعنی فرج میں سے پانی نکلتا ہے ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ یہ انزال ہو گیا ہے یا یہ مذی نکل رہی ہے یا لیکوریا ہے ۔ کیونکہ اس پانی کے نکلنے کے ساتھ ساتھ اس کا مزہ کم نہیں ہوتا اور جب بہت دیر ہو جائے اور مزہ بڑھتا جائے تو پھر کہیں جا کر اس کو شدید مزہ آنے کے ساتھ ساتھ وہ قابو سے باہر ہو جاتی ہے اور جسم کانپ اٹھتا ہے اور جسم کو جھٹکے لگنے جیسا عمل ہوتا ہے ۔ اب ان جھٹکوں کے وقت معلوم نہیں ہوتا کہ کچھ پانی فرج سے نکلا یا نہیں کیونکہ پانی تو شروع سے ہی مسلسل نکل رہا تھا۔ کیا شروع سے جو پانی نکل رہا تھا وہی انزال کے معنی میں ہو گا؟ اور کیا اس سے غسل واجب ہو جائے گا؟ انزال کی کیا نشانیاں ہیں؟ اور عورت کو کیسے معلوم ہو گا کہ اب غسل واجب ہے گیا ہے جبکہ ابھی دخول بھی نہ ہوا
جواب :
بسم الله الرحمن الرحيم
زوجین کے باہمی بوس وکنار کے وقت شرمگاہ سے جو پانی نکلتا ہے وہ مذی ہے، فقہاء نے مذی کی پہچان یہ بتائی ہے کہ ”یہ ایسا سفیدی مائل پتلااور شفاف پانی ہے جو ملاعبت کے وقت نکلتا ہے، اور اس کے نکلنے کے بعد شہوت میں بالعموم مزید اضافہ ہوجاتا ہے“ اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے نکلنے سے صرف وضو واجب ہوتا ہے، غسل واجب نہیں ہوتا، البتہ وہ رطوبت جس کے بعد شہوت ختم ہوکر طبیعت میں فتور آجائے وہ شرعاً منی ہے، اس سے غسل لازم ہوتا ہے، اور عورت کی منی کی پہچان فقہاء نے یہ بیان کی ہے کہ وہ ”وہ پتلی اور زردی مائل ہوتی ہے“ اور خروج کے وقت بالعموم اس کا ا حساس ہوجاتا ہے اور ادنی توجہ سے اس کا احساس کیا جاسکتا ہے، اگر اتفاقاً کبھی احساس نہ ہو تو اگر نکلنے والی رطوبت زرد رنگ کی ہو تو وہ منی ہے جو شہوت کے ساتھ خارج ہوئی؛ لہٰذا اس کے بعد غسل واجب ہے اگرچہ ابھی دخول نہ ہوا ہو۔ قولہ: لا مذي وودي․․․ إلخ وہو ماء أبیض رقیق یخرج عند شہوة لا بشہوة ولا دفق ولا یعقبہ فتور، وربما لا یحس بخروجہ، وہو أغلب في النساء من الرجال، وفي بعض الشروح أن ما یخرج من المرأة عند الشہوة یسمی القذی ․․․ وأجمع العلماء أنہ لا یجب الغسل بخروج المذي والودي، وإذا لم یجب بہما وجب وبہما الوضوء․ (البحر الرائق: ج۱ ص۱۱۵، ط: ) - ومنی الرجل خاثر أبیض رائحتہ کرائحة الطلع فیہ لزوجة ینکسر الذکر عند خروجہ، ومنی المرأة رقیق أصفر ․ (الہندیة، ج۱ ص۶۰- ۶۱، ط: ) وفرض الغسل عند خروج مني من العضو․․․ (الدر المختار مع الشامي: ج۱ ص ۲۹۶، ط: )
واللہ اعلم باالصواب
Post No 67 👇
(شرمگاہ میں درد یا خارش سے کیسے نمٹا جائے)
__________________________________________________________
شرم گاہ سے ہونے والا ڈسچارج
تقریباً تمام خواتین کو حمل کے دوران شرم گاہ سے زیادہ ڈسچارج کی شکایت ہوتی ہے تاہم اسے سفید اور شفاف ہونا چا ہیے نہ کہ ناخوشگوار بو والا۔ اگر آپ کو درج ذیل میں سے کوئی علامت محسوس ہوں تو ڈاکٹر سے رابطہ کریں کیونکہ اس صورت میں آپ کو شرم گاہ میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔
ڈسچارج رنگدار ہے یا اس کے ساتھ خون آ رہا ہے۔
ڈسچارج کی بو عجیب ہے۔
آپ کو شرم گاہ میں خارش یا درد محسوس ہو رہی ہے۔
صحت وصفائی
اپنی شرمگاہ کو بہت زیادہ نہ دھوئیں۔ اس حصے کی جلد کو آرام سے صاف کریں۔
تیز دھار پانی نہ استعمال کریں۔
نہانے کے پانی میں جھاگ، خوشبودار کریم، صابن یا خواتین کی صفائی کی کریمیں نہ استعمال کریں۔
شرم گاہ کے حصے پر شیمپو نہ لگائیں۔
موزوں صفائی اور مرض کی علامات کو کم کرنے کے لیے سادہ/نمکین پانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
مثانے کے بھرنے سے پہلے پیشاب کے لیے جائیں۔ فارغ ہونے کے بعد صفائی کے لیے شرم گاہ کے حصے سے ہاتھ پیچھے کی جانب لے جائیں آگے نہ لائیں۔ اس طرح سے وہ بیکٹیریا آپ کے اندام نہانی میں داخل نہیں ہو سکیں گے جو عموماً ریکٹم میں موجود ہوتے ہیں۔ پیشاب کے بعد شرم گاہ کو پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
اس حصے کو خشک کرنے کے لیے نرم، سفید اور بغیر خوشبو والے ٹوائلٹ پیپر استعمال کریں۔
ماہواری کے دوران 100 فیصد کاٹن کے پیڈز اور گدیاں استعمال کریں۔
کپڑے پہننا اور ان کی دھلائی
کاٹن کی انڈرویئر پہنیں اور ڈھیلے ڈھالے اسکرٹس یا پینٹس پہنیں۔
پینٹی ہرگز نہ پہنیں۔ )اس کی بجائے گھٹنے یا ران تک اونچے موزے پہن لیں(۔
اس بات کا دھیان رکھیں کہ انڈرویئر یا لباس کا کوئی بھی حصہ جو شرم گاہ کو چھوتا ہے، وہ اچھی طرح صاف ہونا چاہیے۔
انڈرگارمنٹس کی دھلائی کے دوران کپڑوں کو نرم کرنے والے کیمیکلز استعمال نہ کریں کیونکہ یہ کیمیکلز کپڑوں کے اندر رہ جاتے ہیں اور شرم گاہ کی جلد میں خارش کا سبب بنتے ہیں۔
سیکسچوئل انٹرکورس
جب شرم گاہ میں خارش ہو تو جلد کو چکنا کرنے والی اشیاء یا پیٹرولیم جیلی استعمال نہ کریں۔
جب تولیدی اعضا میں درد ہو تو مباشرت سے گریز کریں۔
سیکسچوئل ہمبستری کے بعد اگر شرم گاہ کی جلد میں جلن ہو رہی ہو تو اسے ختم کرنے کے لیے آہستگی سے اس جگہ پر برف یا جمے ہوئے جیل کے پیکس تولیے میں لپیٹ کر رکھیں۔
انفیکشن سے محفوظ رہنے کے سیکسچوئل ہمبستری کے فوراً بعد پیشاب کریں اور شرم گاہ کو ٹھنڈے پانی سے اچھی طرح دھوئیں۔
جسمانی سرگرمیاں
ایسی ورزشوں سے گریز کریں جن سے شرم گاہ پر براہ راست دباؤ پڑے مثلاً سائیکل چلانا۔
ورزش کے بعد ہونے والی علامات کو کم کرنے کے لیے جمے ہوئے جیل کے پیک کو تولیے میں لپیٹ کر شرم گاہ کی جلد پر رکھیں۔
ایسے سوئمنگ پولز میں نہ نہائیں جن کے پانی میں بہت زیادہ کلورین ملایا گیا ہو اور گرم ٹبس کے استعمال سےبھی گریز کریں۔
نہانے والے گیلے کپڑے اور کھیلوں والاا لباس فوراً اتار دیا کریں۔
روزمرہ زندگی
طویل عرصے تک بیٹھ کر کام کرنے کے لیے فوم ربر رنگ استعمال کریں۔
اگر بہت دیر تک کھڑے رہنا ہو تو پہلو اور انداز بدلتے رہیں۔
شرمگاہ میں ہونے والی سنسناہٹ پر جذبات سے اثر پڑتا ہے لہذا ذہنی تناؤ کے اوقات میں علامات شدید ہو سکتی ہیں۔ بھرپور آرام، ہلکی پھلکی موسیقی سننا اور کھنچاؤ والی ورزشوں کی مدد سے شرم گاہ میں ہونے والی بے چینی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
Post No 68 👇
*(جنسی_کشش۔)*
_________________________________________________________
آج معاشرے میں بیشتر مرد اسی بات کو لے کر پریشان ہیں کہ بیگم کے ساتھ کشش محسوس نہیں ہوتی ہمبستری کا مزہ نہیں آتا اور باہر عورت دیکھنے کی دیر ہوتی ہے شہوت شروع ہو جاتی ہے اسکی وجہ یہ ہے جس جسم کی شرم گاہوں کو دل بھر کر ، نظریں بھر کر دیکھ لیا جائے تو اس جسم سے کشش کم ہوتے ہوتے ختم ہو جاتی ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت ۔
آج مرد حضرات یہیں کر رہے ہیں دل کھول کر شرم گاہوں کو دیکھتے ہیں جبکہ بیگم کی شرم گاہ کو دیکھنا گناہ نہیں لیکن اگر نہ دیکھا جائے تو بیگم سے ملنے والی جنسی کشش کم نہیں ہوتی یہ فائدہ رہتا ہے ۔۔
انسانی آ نکھ کی یہ خصلت ہے وہ جس چیز کو رج کے دیکھ لیتی ہے اسکی اہمیت ختم کر دیتی ہے اور کشش نظروں سے ہی دماغ تک پہنچ کر دیوانہ کرتی ہے اسی لئے خوبصورتی ہر آنکھ کی کمزوری ہوتی ہے ۔ خود سوچئیے جب عورت پردے میں نظر ئے تو بے حد کشش محسوس ہوتی ہے جیسے جیسے وہ کھلتی جائے نظریں کشش سے دور ہوتی جاتی ہیں جب بلکل کھل کر سامنے آجائے تو دو سے چار بار تو کشش محسوس ہوتی ہے مگر بعد میں اپنے جسم جیسی فیلنگز آنے لگتی ہیں کیونکہ نظر بھر چکی ہوتی ہے اور انسانی نظر چاہے مرد کی ہو یا عورت کی نظر نئی چیز کی تلاش میں رہتی ہے اس لئے باہر عورتیں زیادہ کشش دیتی ہیں کیونکہ وہ نظروں میں ابھی کھلی نہیں ہوتیں ۔۔۔
عورتوں میں جنسی خواہش کی کمی کی وجہ
فطری طور پر گزرتے ہوئی سالوں کے دوران عورتوں کی جنسی خواہش میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔جنسی خواہش میں اِضافہ اور کمی عام طور پر تعلقات کے آغاز اور اختتام سے مطابقت رکھتے ہیں۔یا پھر زندگی میں اہم تبدیلیوں سے (مطابقت رکھتے ہیں)،مثلأٔ حمل، عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہوجانا، یا بیماری وغیرہ۔اگر آپ کی فکرمندی کا سبب جنسی خواہش میں کمی کا ہونا ہے تو طرز زندگی میں تبدیلی اور جنسی تکنیک کے ذریعے آپ کی جنسی خواہش اکثر صورتوں میں بحال ہو سکتی ہے۔
بعض مطالعات کے مطابق ،عمر کے کسی نہ کسی مرحلے میں، 40 فیصد سے زیادہ عورتیں جنسی خواہش میں کمی کی شکایت کرتی ہیں۔اِس کے باوجود ،تحقیق کار کہتے ہیں یہ بتانا مشکل ہوتا ہے کہ کون سی کیفیت نارمل ہے اورکون سی کیفیت غیر نارمل ہے۔اگر آپ اپنے ساتھی کی نسبت کم تعداد میں جنسی ملاپ چاہتی ہیںتو ضروری نہیں کہ آپ دونوں میں سے کوئی معمول کے خلاف ہو۔آپ کی عمر کے افراد کے لئے یہ معمول کی بات ہے ،خواہ اِس کیفیت سے آپ پریشانی محسوس کرتی ہوں۔
اِسی طرح اگر آپ کی جنسی خواہش پہلے کی نسبت کم ہوگئی ہے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کے تعلقات /آپ کا رِشتہ پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط ہوگیا ہو۔جنسی خواہش میں کمی کو کسی قِسم کے اعداووشُمار سے ظاہر نہیں کیا جا سکتا ۔جنسی خواہش کی شِدّت ہر عورت کے لئے مختلف ہوتی ہے۔جنسی خواہش میں کمی کے اسباب کی بنیاد بہت سے عوامل کا ایک دوسرے کے ساتھ پیچیدہ عمل پر مبنی ہوتی ہے ،جس کی وجہ سے قُربت اور جسمانی صحت ، جذباتی صحت ،تجربات ،عقائد،طرز زندگی اور موجودہ تعلقات وغیرہ سب ہی متاثر ہوتے ہیں۔الکحل (شراب)اور منشّیات ،آپریشن ، تھکن، عمر کے لحاظ سے ماہواری بند ہوجانا ،حمل، اپنی چھاتیوں سے دُودھ پلانا اور پھر نفسیاتی اسباب مثلأٔ تشویش، ڈپریشن، جسمانی وضع قطع، کم خود احترامی وغیرہ بھی جنسی خواہش میں کمی کا سبب بنتے ہیں
مشورہ ہے اور بہتر بھی یہیں ہے کہ کچھ دن بیگم کو ہاتھ پاوں نہ لگائیں فاصلہ رکھیں سات دن کے بعد ہمبستری کریں اور شرم گاہ کو دیکھنا بلکل چھوڑ دیں آہستہ آہستہ سب کچھ انشاء اللہ سیٹ ہو جائے گا کچھ دن بیگم کے جسم پہ نظر ڈالنا اسے ہاتھ لگانا بلکل بند کیجئے کشش واپس آنا شروع ہو جائے گی۔۔
Post No 69 👇
☆ عورت کی سینے کے بارے میں کچھ معلومات اور کچھ غلط فہمیاں....! ☆
________________________________________
سینے کا ابھار ایسا مقام ہے جس کے بارے ميں مرد حضرات نے شدید غلط فہمیاں پال رکھی ہیں پہلی بات تو یہ کہ موٹے اور بڑے ابھار (کنواری) عورت کے سیکسی ہونے سے زیادہ اس کے کردار ميں ہلکا ہونے کی دلیل ہیں خال خال ہی کسی کنواری عورت کے سینے کے ابھار بڑے ہوں گے
بیشتر یہ تب ابھرتے ہیں جب ان ميں یا تو دودھ بھرا ہو یا چند روز قبل کسی مرد نے مباشرت کے دوران ان کو چوما یا دبایا ہو کنواری اور بالکل فٹ لڑکیوں کے ابھار نارمل ہوتے ہیں اور ٹین ایج ميں تو ان کو گیند کی طرح ہونا چاہیئے یعنی نوک کے بغیر
یاد رکھیں ایک غیر شادی شدہ عورت کے نپلز اسی وقت ابھرتے اور نوکیلے ہوتے ہیں جب وہ صحبت کے لئے تیار ہو چکی ہو یا اس کے جذبات ابھرے ہوئے ہوں جب ایک عورت لگاتار اس تیاری کے عمل سے گزرتی ہے تو اس کے نپل مستقل طور پر ابھر آتے ہیں اور ان کی رنگت بھی بدل جاتی ہے
شادی کے بعد ہر مرد یہی یہ غلطی کرتا ہے کہ وہ نپلز کو نوچتا ، کھینچتا اور دباتا ہے ظاہر ہے اس سے دونوں کو مزا تو آتا ہے لیکن ساتھ ہی عورت کی چھاتیاں اپنی ظاہری جاذبیت بھی کھو دیتی ہیں ان میں موجود گلینڈز اگر گلٹی کی شکل اختیار کرلیں تو یہ مکمل طور پر سخت پتھر جیسے ابھار ميں بدل جاتے ہیں اگر ان گلٹیوں کو نکلوا دیں تو چھاتی اپنا وجود کھو دیتی ہے ٹی وی پر دکھائے جانے والے بریسٹ کینسر کے اشتہار دیکھ دیکھ کر عورت خود کو اسی کا مریض تصور کر لیتی ہے یوں یہ ایک نفسیاتی پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے
اس کا بہترین حل یہ ہے کہ اپنی پارٹنر کے جسم کے اس حصے کو نرمی سے دبائیں لو بائیٹس سے پرہیز کریں نپلز کو چوستے ہوئے زیادہ زور سے نہ کھینچیں وغیرہ
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ان نپلز کی نوک انتہائی حساس ہوتی ہے مرد کا اسے اپنی زبان کی نوک سے ٹچ کرنا ہی کافی رہتا ہے اس کے بعد نپلز کے گرد بنے برائون یا دائروں کی باری آتی ہے ان پر ہلکے ہلکے سے دانے سے بنے ہوتے ہیں ان دانوں پر زبان پھیرنے سے عورت بعض اوقات اس قدر جلد منزل ہو جاتی ہے کہ دل ہی دل ميں اپنے مرد کو دعائیں دینے لگتی ہے لہٰذا جسم کے ان حصوں پر ترس کھائیں، بیوی آپ کی ہی ہے اور آپ ہی اسے بعد ميں جنسی آسودگی کے لئے استعمال کرو گے
Post No 70 👇
کسی ممبر کا سوال۔۔۔۔۔
میرے خاوند کو ہمبستری کے دوران پستان چوسنے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ شروع شروع میں تو کچھ پریشانی نہیں تھی لیکن اب میں ماں بن چکی ہوں اور وہ جب بھی میرے نپل منہ میں لیتے ہیں تو دودھ اسکے منہ میں چلا جاتا ہے۔ جسے وہ پی جاتے ہیں۔ مجھے کسی نے بتایا کہ بیوی کا دودھ پینے سے خاوند اسکا بیٹا بن جاتا ہے اور نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے ہم دونوں بہت پریشان ہیں۔
برائے کرم تفصیل کے ساتھ سمجھائیں کہ ملاپ کے وقت خاوند کے لیے پستان چوسنا اور نپلز کو منہ میں لینا جائز ہے یا نہیں۔ اور اسکے لیے میرا دودھ پی جانا جائز ہے کہ نہیں۔ ایسا کرنے سے نکاح پر کیا اثر پڑتا ہے باقی رہتا ہے یا ٹوٹ جاتا ہے؟
الجواب ۔۔۔۔
اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے سے لطف اندوز ہونے کی کھلی چھٹی دی ہے بس چند ایک کاموں سے منع فرمایا ہے ان سے بچتے ہوئے شوہر اپنی بیوی سے اور بیوی اپنے خاوند سے جنسی سکون حاصل کرے اور اسکے لیے جو بھی طریقہ کار اختیار کرے کوئی پابندی نہیں ہے۔
اسی طرح خاوند کے لیے بیوی کے پستان منہ میں لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
شریعت میں اسکی ممانعت وارد نہیں ہوئی۔ البتہ اسکا دودھ پی جانا نا مناسب عمل ہے۔
دودھ بچہ کی غذاء ہے لہذا یہ اسے ہی ملنا چاہیے۔
حرمت رضاعت وہی ہے جو بچا 2 سال تک کی عمر تک دودھ پیتا ہے۔جیسا کے قرآن مجید نے تین مقامات پہ اس کی وضاحت کی کہ مدت رضاعت دو سال ہے۔۔لہذا اس سے ثابت ہوا کہ مرد اگر غلطی سے اپنی بیوی کا دودھ چوس لے تو وہ ماں نہیں بنتی۔۔نہ ہی اپنے مرد پہ حرام ہوتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے ماں کا دودھ بچوں کے لیے غذا ہے نہ کہ اس کے شوہر کی۔۔۔
اللہ کے رسول نے حضرت جابر سے فرمایا تھا۔
کنواری سے شادی کیوں نہیں کی وہ تم سے کھیلتی تم اس سے کھیلتے..صحیح البخاری کتاب النکاح
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے میاں بیوی کا آپس میں کھیلنا شرارتیں کرنا جائز ہے۔
لیکن اس دوران اگر شوہر بیوی کے ساتھ کھیلتے ہوئے اس کے پستانوں سے دودھ چوس کے پیتا ہے تو یہ عمل درست نہیں۔
کیونکہ کتاب و سنت کے نصوص سے ماں کا دودھ صرف بچوں کے لیے ہہ ثابت ہوتا ہے۔۔
مثلاً اللہ تعالی کا ارشاد ہے وأمہاتکم اللاتي أرضعنکم اس آیت میں مطلق دودھ پلانے سے ماں بننے کی بات کہی گئی ہے، پس جو عورت بھی دودھ پلادے گی، خواہ ایک بار ہو، وہ رضاعی ماں بن جائے گی۔ بشرطے کہ مدت رضاعت کے اندر دودھ پلایا ہو)۔ سوال میں مذکور حدیث کے متعلق احناف کا کہنا ہے کہ یہ بھی منسوخ ہو چکی ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”لوگ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دودھ پلانے سے حرمت نہیں آتی،“ ایسا پہلے تھا ، پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا، اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آخر میں رضاع کا حکم اسی پر برقرار ہوا کہ رضاعت کم ہو یا زیادہ، سب سے حرمت آجائے گی۔ (عمدة الرعایة: ۳/۲۰۷، بیروت، کتاب الرضاع)
Post No 71 👇
شریعت نے کہا کہ جب خاوند کو اپنی بیوی سے ملنے کی خواہش ہو تو بیوی اگر پاکیزہ حالت میں ہے تو کبھی بھی ملنے سے انکار نہ کرے۔ حدیث پاک میں ہے کہ اگر یہ اونٹ پر بھی سوار ہے تو نیچے اترے اور خاوند کی خواہش کو پورا کرے۔
حدیث پاک میں ہے کہ اگر یہ تندور کی آگ پر بھی کھڑی ہے تو پیچھے ہٹے اور خاوند کی بات کو پورا کرکے پھر کام کرے۔
اور آج کل کی لڑکیاں اپنے خاوندوں سے اپنی بات منوانے کے لیے اسکو آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔
یہ بہت بڑی غلطی ہے۔ اس سے بڑا بلنڈر کوئ بیوی اپنی زندگی میں نہیں کرسکتی کہ خاوند تو اسکے قریب ہونا چاہے اور وہ دور ہو کہ نہیں ابھی نہیں پھر کبھی سہی۔ن
یہ تمام باتیں خاوند کو غیر مطمئن کردیتی ہیں۔
چنانچہ وہ اطمینان کے لیۓ دوسروں کو تلاش کرتا ہے۔
اور خاوند اگر گناہ کرے گا تو اسکے گناہ میں بیوی بھی برابر کی گناہ گار ہوگی۔ عورتیں یہ مت سوچیں کہ ہم بڑی پاکدامن ہیں گھر میں رہتی ہیں یا آگے پیچھے معاملہ کردیتی ہیں۔
اگر آپکے خاوند نے باہر جاکر نگاہ غیر محرم پر ڈالی تو قیامت کے دن آپ کے گلے میں بھی رسی ڈالی جاۓ گی کہ تجھے ہم نے بنایا کس لیے تھا، تجھے نکاح میں جوڑا کس لیے تھا، تو کس مرض کی دوا تھی اگر تُو اپنے خاوند کی ضرورت پوری نہ کرسکی تو پھر تونے خاوند کا حق کیسے ادا کیا۔ اس لیے نیک بیویاں اپنی زمہ داریوں کو ہمیشہ پوری کرتی ہیں اور اپنے خاوند کو گھر میں ایسا سکون دیتی ہیں کہ خاوند کو کسی اور کی طرف نگاہ اٹھانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی
Post No 72👇
تاخیر سے شادی کے سات موٹے موٹے نقصانات
نوٹ: یہ تحریر حقیقت سے بھاگنے والے پیدائشی فرشتہ صفت پارساؤں کے لیے نہیں ہےـ
01: دماغ میں ہر وقت سیکس گھسے رہنے کی وجہ سے تعلیم یا کاروبار پر توجہ دینے میں دشواری ـ
02: سیکس کا بگڑ جانا/ذہنی آوارگی ـ
03: سیکس کے بگڑنے کی وجہ سے میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی کا فقدان جس سے طرفین کامل جنسی آسودگی کے حصول میں ناکام رہتے ہیں ـ
04: جنسی آسودگی کے حاصل نہ ہونے سے طبیعت میں چڑ چڑا پن پیدا ہوناـ
05:چڑ چڑے پن کی وجہ سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑائی جھگڑے اور معاملات کا طلاق و خلع تک پہنچ جاناـ
06: زیادہ تر جوڑے سماجی جبر کی وجہ سے طلاق یا خلع کی ہمت نہیں کر پاتے اور نتیجے میں صاحبِ ثروت جوڑے جیسے تیسے وارث کے طور پر ایک یا دو بچے پیدا کر لیتے ہیں اور جنسی تسکین کے حصول کے لیے ہل من مزید کی ہیجانی کیفیت میں باہر منہ مارتے ہوئے اپنی زندگی تمام کر دیتے ہیں اور معاشی طور کمزور جوڑے بھی کوئی نہ کوئی جگاڑ لگا ہی لیتے ہیں ـ
07: میاں بیوی کے مابین قلبی تعلق نہ ہونے کا اثر براہ راست بچوں کی تعلیم و تربیت پر پڑتا ہے جس سے نسل در نسل تباہی کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہےـ
نوٹ: اوپر بیان کردہ حالات کا اطلاق ان قلیل سعید روحوں(مرد/عورت) پر نہیں ہوگا جن کی تاخیر سے تو کیا چاہے کبھی بھی شادی نہ ہو وہ پھر بھی اپنے کریم رب کی پناہ میں ہوتی ہیں
Post No 73 👇
میاں بیوی کا سچا واقعہ جو آپکو رلا دے گا۔۔
ایک عورت اپنے شوہر سے طلاق لے رہی تھی اس کہ دو بچے بھی تھے۔عورت کے وکیل نے سب کچھ تیار کر لیا تھا صرف اس کے خاوند کے دستخط باقی تھے۔
خاوند نے وکیل سے التجا کی کہ مجھے پتا ہے اب اس کے بعد ساری زندگی میں اپنے بیوی بچوں سے دور ہو جاوں گامیری ایک التجا میری ایک خواہش میری بیوی سے کردوکہ میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ کچھ گھنٹے گزارنا چاہتا ہوں۔
وہ اپنے بچوں کو لے کر کل کورٹ آجائے۔وہاں سے میں ان کو اپنے ساتھ لے جاؤں گااس کے بعد آکر میں دستخط کر دو گااس کی بیوی بچے صبح کورٹ آئےاس کے شوہر نے اپنے بیوی بچوں کو گاڑی میں بیٹھایا اور ساتھ لے گیا۔
چھوٹا بیٹا پاپا مجھے ماما کے ساتھ آگے بیٹھنا ہےبیٹی ماما مجھے بیٹھنا ہےبیٹی پاپا اس کو دیکھو نابیٹی پاپا مجھے آس کریم کھانی ہےپاپا نے آئسکریم کھلائئ ریسٹورنٹ لے گئےکبھی ماما کبھی پاپا بچوں کہ منہ میں نوالے ڈال ڈال کرکھلاتے۔
پاپا اپنے رومال سے بیٹے بیٹی کا منہ صاف کرتے اور بچوں کو پانی پلاتےان سے پیار کرتے۔بچے یہ نہیں کھانا وہ کھانا ہے پاپاپھر پارک لے گئے بچے کھیلتے کھیلتے کبھی پاپا سے گلے لگتے کبھی ماما سےپاپا بیٹے بیٹی کو گود میں اٹھاتے اور پیار کرتے ان کی فرمائشیں پوری کرتے
بیٹی پاپا ہمیں اپنے گھر جانا ہےنانی اماں کے گھر نہیں جاناآپ ہمیں اپنے گھر لے جائیں نابچے ضد کرتے پاپا ٹھیک ہے بیٹا لے جاؤں گا۔
بیٹا پاپا ہماری گاڑی خوبصورت ہے تیز چلتی ہے وہ گاڑی صحیح نہیں ہےمیں بڑا ہو کر پاپا تیز گاڑی چلاوں گا۔
پاپا آنکھوں میں آنسوں لیے ٹھیک ہے بیٹا چلا لینا جب بڑے ہو جاؤ۔۔۔
کافی وقت نکل چکا تھا وکیل بھی بار بار فون کر رہا تھا کہ کورٹ بند ہونے والی ھے آپ واپس آجائیں پھر مجھے بھی جانا ہے۔۔۔
لیکن باپ کا اپنے بیوی بچوں سے بچھڑنے کو دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔باپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے بیٹی نے دیکھا پاپا کیون رو رہے ہو۔۔پاپا نہیں رو نہیں رہا آنکھوں میں کچھ چلا گیا تھا۔۔۔راستہ کا سفر بہت تیزی سے ختم ہو رہا تھا۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی وہ کورٹ پہنچ گئے۔۔۔
گاڑی کھڑی کر کے بچے رونے لگے ہمیں پاپا کے پاس جانا ہے۔۔پاپا نے بیٹے کو گود میں اٹھایا۔۔اور بیوی اور بیٹی اس کے پیچھے چلنے لگے۔۔۔اس کی بیوی نے اپنے بچوں کا پیار دیکھا اور اسے احساس ہوا میرے بچے اپنے پاپا سے کتنی محبت کرتے ہیں۔۔۔
بچوں نے کہا یہ ہم کہاں جا ریے ہیں یہ ہمارا گھر نہیں ہے۔۔ہمیں اپنے گھر جانا ہے۔۔پاپا بیٹا ابھی چلتے ہے تھوڑا کام ہے۔۔۔وکیل کہ کمرے میں پہنچتے ہی وکیل نے کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا۔۔جس پر بیوی نے وکیل سے کہا مجھے اپنے شوہر سے طلاق نہیں چاہیے میں اپنا کیس واپس لیتی ہو۔۔۔
جس پر شوہر اور بیوی خوب روئے۔۔۔عورت کو پتا تھا وہ اپنی ضد کی خاطر اپنے بچوں کی زندگی تباہ کر رہی ہے۔۔۔اگر ہم تھوڑا سا اپنی انا ضد کو ایک طرف رکھ دیں اور کسی دوسرے کی بجائے اپنے معاملات خود حل کر لیں۔تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔۔اور بہت سے رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں گے۔۔*
رب تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔
Post No 74👇
خواتین کے جنسی مسائل عورت کا ٹھڈاپن
جس طرح مرد میں نامردی ہوتی ہے اسی طرح عورت میں ٹھنڈاپن ہوتا ہے۔ ان عورتوں کو صحبت میں کوئی مزہ نہیں ملتا اور نہ ہی ان میں کوئی کام کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور کبھی کبھی صحبت میں تکلیف بھی پیدا ہوتی ہے، جس کی وجہ سے وہ مرد سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایسی عورت کو اگر زبردستی کام کے لئے تیار کربھی لیا جائے تو وہ مرد کی اس کام میں مدد نہیں کرپاتی اور ایک بے جان پُتلے کی طرح پڑی رہتی ہے، جبکہ سبھی مرد اپنی بیوی سے یہی امید کرتے ہیں کہ ان کی بیوی ہر اعتبار سے پورا تعاون دے اور صحت مند ہو۔ جو کام کاج میں نوکر کی طرح، رات کو ایک شرمیلی دلہن کی طرح، دسترخوان پر ایک ماں کی طرح اور پریشانی کے وقت ایک ہمت دار اور حوصلہ دینے والے ساتھی کی طرح ہو، لیکن اس طرح کی عورتیں کسی قسمت والے مرد کو ہی ملتی ہیں۔ عورتوں میں ٹھنڈاپن لانے کے ذمہ دار زیادہ تر ایسے مرد بھی ہوتے ہیں، جو پوشیدہ رازوں کی جانکاری نہیں رکھتے اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے اپنی زندگی کو خوش گوار بنانے کے بجائے ہمیشہ کے لئے چوپٹ کرلیتے ہیں، کیونکہ وہ عورت کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کا واحد ذریعہ مانتے ہیں اور عورت کی خواہش جانے بغیر عورت کو اور کسی طرح خواہش مند کئے بنا ہی صحبت میں جُٹ جاتے ہیں اور جھٹ پٹ کام کرکے ہٹ جاتے ہیں۔ آپ خود ہی سوچئے کہ ایسی صورت میں عورت کی کیا حالت ہوتی ہوگی؟ وہ آہستہ آہستہ خواہش کی آگ میں جل کر ٹھنڈی ہوجاتی ہے اور اس کو کئی طرح کی جسمانی اور ذہنی بیماریاں بھی ہوجاتی ہیں، جن میں نیند کا نہ آنا، بے چینی رہنا، سردرد اور لیکوریا جیسی بیماریاں خاص طور پر ہوتی ہیں۔ جن سے عورت صحبت کے لئے ٹھنڈاپن محسوس کرتی ہے۔ ایسی حالت میں اس عورت کے شوہر کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے ایسے مرض کا علاج ضروری سمجھے اور اپنی خود کی کمزوری کا بھی وقت پر صحیح علاج کراکر اپنی شادی شدہ زندگی کو ڈوبنے سے بچائیں، کیونکہ صحبت کی خواہش ایک فطری عمل ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
Post No 75 👇
#مرد_و_عورت_کے_انزال_ہونے_کی_نشانیاں
. . . انزال کیا ہے؟ . .
جب تخیلاتی یا حقیقی تحریک ہو تو عضو تناسل میں خون کی رگیں پھیلتی ہیں جس سے عضو سخت اور کھڑا ہو جاتا ہے۔ جب کھڑے ہوئے عضو کو اندام نہانی میں ڈالیں یا اسے ہاتھ سے رگڑیں تو اسے چکنا کرنے والا مواد (منی) خارج ہوتا ہے۔ اگر تحریک جاری رہے تو مرد انتہائی لذت حاصل کر لیتا ہے اور منی خارج ہوتی ہے۔ اسے انزال کہتے ہیں۔
بالعموم انزال 3 سے 10 سیکنڈ تک جاری رہتا ہے۔
کیونکہ پیشاب اور منی ایک ہی جگہ سے برآمد ہوتے ہیں، کیا انزال کے دوران پیشاب منی میں شامل ہو جائے گا؟
جی نہیں۔ پیشاب والی نالی کی گردن بند ہو جائے گی جس سے منی مثانے میں نہیں جا سکے گی اور پیشاب منی میں شامل نہیں ہو گا۔
مرد انتہائی لذت میں انزال کرتے ہیں۔ خواتین انتہائی لذت میں کیا محسوس کریں گی؟
عورتوں کا سانس اور دل کی دھڑکن دونوں تیز ہو جائیں گے؛ نپلز سخت اور کھڑے ہو جائیں گے؛ جنسی اعضا میں خون کی شریانیں پھیل جائیں گی اور کولہوں کے فرش کے پٹھے کھنچ جائیں گے؛ اور اندام نہانی سے مائع مواد برآمد ہو گا۔ پھر اندام نہانی کا اوپری حصہ پھیلے گا اور کلائی ٹورس سخت ہو جائے گا؛ اندام نہانی کا سوراخ معمولی سا سکڑ جائے گا تاکہ عضو تناسل باہر نہ نکل جائے۔ اور آخر میں، انتہائی لذت کا لمحہ آتا ہے اور وہ 3 سے 5 یا حتیٰ کہ 10 یا زیادہ مرتبہ تھرتھرائیں گے۔
مسلسل جنسی تحریک سے عورتیں ایک ہی وقت میں کئی مرتبہ انتہائی لذت کا لمحہ پا سکتی ہیں جبکہ مرد کو دوسری مرتبہ انتہائی لذت تک پہنچنے کے لیے آرام کی ضرورت ہو تی ہیں۔
Post No 76 👇
*ہمارے ہاں ہر نوجوان مرد اور عورت جن کو بلیو(پور_ ایکس فلمیں گندی فلمیں)*
دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے جس کو دیکھنے کے بعد۔۔
ہر نوجوان اس بات سے پریشان ہے کہ یار کیسے اتنے لمبے عرصے تک ایک مرد عورت پر سواری کر لیتا ہے اور فارغ نہیں ہوتا اور آخر ہم ایسا کیوں نہیں کر پاتے؟
اور کُچھ عورتوں کے ذہن بھی ایسا سوچتا ہین کہ ان فلموں کے مرد کیا لوہے کے بنے ہیں لگے رہتے ہیں۔۔۔ دیکھنے والے خارج ہو جاتے ہیں کرنے والے نہیں۔
ایسا کیسے ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ذرا سوچئے
پہلی بات تو یہ ہے کہ انگریزوں میں بھی ہر کوئی ان فلموں میں کام کرنے کے لئے راضی نہیں ہوتا یہ لوگ ایک کردار ہوتے ہیں جیسے عام فلموں مٰیں ایکٹر اور ایکڑریس ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایک پورن فلم ڈرائیکٹر ایک فلم بنانے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے
وہ مارکیٹ میں موجود مُختلف پورن ایکٹرز سے رابطہ کرتا ہے ۔
مُختلف ایکڑز سے مُلاقات ہوتی ہے اور اُن کو سکرپٹ دیکھایا جاتا ہے۔ کہ اس طرح
شوٹنگ کرنی ہے ۔۔مثلا اگر ایک سین جس میں سمارٹ لڑکی کو ایک کالے حبشی سے سیکس کرنا ہے جس کا عضو بارہ انچ لمبا ہے تو وہ اس کے لئے
خوفزدہ ہوتی ہے اور اس کے لئے ایک ٹیسٹ کا مطالبہ کرتی ہے کہ پہلے میں اس کا اندازہ کروں گی کہ کتنا میں لے سکتی ہوں اس کے بعد ایک ٹیسٹ ہوتا ہے اب جتنا وہ برداشت کر پاتی ہے اُس پیمائش کے مطابق وہ ایگریمنٹ کر لیتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران کالا مرد میرے اندر صرف اتنا ڈالے گا اور ہوتا بھی ایسے ہی ہے کیونکہ اگر وہ کُھلی چُھوٹ دے دے تو اُس کی جان بھی جاسکتی ہے۔۔۔
اس کے علاوہ ہر طرح کی جنیست کی اقسام کے متعلق شوٹنگ کا مکمل خاکہ ایکٹرز کو پہلے سمجھایا جاتا ہے اور وہ اگر اس سے مطمن ہوتے ہیں اور رقم کا معاملہ طے کیا جاتا ہے کام جتنا مُشکل ہو رقم ریٹ اتنا ہی ذیادہ ہو گا ۔۔۔۔
اس کے بعد شوٹنگ کے آغاز سے پہلے ایک گھر کرائے پر حاصل کیا جاتا ہے
ایکٹرز کی ڈریسنگ ہوتی ہے ۔۔ اور سب سے اہم اُن کا اچھا خاصا میک اپ کیا جاتا ہے جن میں سب سے زیادہ دلچسپ جنسی اعضا اور جسم کا چہرے سے ہٹ کر مُختلف حصوں کا میک اپ شامل ہے جیسے۔۔۔۔ عورت کی اندام نہانی کے اردگرد
نیچے جو ڈارک شیڈوز ہوتی ہیں اُن کو بیس لگا کر یا کوئی اور مٹیریل لگا کر باقی جسم کے رنگ سے مشابہ کیا جاتا ہے ۔۔ جسمانی میک اپ بھی ایک لمبی بحث ہے۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد ایک سے ذیادہ کیمرہ ۔۔۔ لائٹنگ کی جاتی ہے جن کا مقصد
جسم کے ہر حصے کو واضع کرنا اور پھر انسٹرکشن کے لئے ایک مرد پوز کی مکمل رہنمائی کرتا ہے پوری ایک ٹیم جس میں چھ سے سات افراد کام کر رہے ہوتے ہیں ۔۔ حتہ کہ چیخوں آوازوں کے متعلق بھی لڑکی کو کہا جاتا ہے کہ درد ہو نہ ہو مُنہ سے ایسی آوازیں نکالتی رہو۔۔۔۔ اور ذرا سی غلطی پر شوٹنگ روک بھی دی جاتی ہے۔۔ اور ایک پوز میں اگر کام مُکمل ہو گیا تو ۔۔ شوٹنگ روک کر اگلے دن
۔۔دوسرا پوز ۔۔۔اُس سے اگلے دن تیسرا پوز ۔۔۔۔
اس طرح ایک سین کم از کم چار سے پانچ دن میں مکمل فلمایا جاتا ہے۔
اور ہم لوگ ایک فلم دیکھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یار دیکھو ایک گھنٹے سے لگا ہوا ہے یار کیمرہ ہے جب مرضی بند کرلو جب مرضی چاہے ایک مہینے بعد وہاں سے پھر شروع کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس ساری تفصیل آپ کو بتانے کا مقصد صرف یہ تھا
کہ ہم کو ان فلموں سے متاثر ہو کر اپنے جسم کے متعلق نہیں سوچنا چاہئے۔کیونکہ یہ فلم ہے حقیقت نہیں بہت سی عورتیں شکایت کرتی ہیں کے ہمارے شوہر پورن فلم دیکھ کر ویسا ہی کرنے کو بولتے ہیں عضو خاص چوسنے یاکس کرنے کو بولتے ہیں پھر اسی بات پرلڑائی ہوجاتی ہےاور پھر مباشرت نہیں ہوپاتی میری نظر میں یہ اچھی بات نہیں ہے بیوی کو بیوی کا درجہ دیں بازارو عورت نہ سمجھے آج کے دور میں مرد ہو یا عورت شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ سب ہی پورن فلمیں دیکھتے ہیں فلمیں دیکھنے پر ویسا کرنے کی کوشش نہ کریں خاص تور وہ لوگ گولیاں کھاتے سیکس بڑھانے کے لیے یہ بہت نقصان دہ ہیں اس سے آپ موت بھی ہوسکتی ہے۔
آپ جیسے ہیں شکر کیا کریں انسان ہیں
حقیقی زندگی اور فلم میں بڑا فرق ہوتا ہے اور وہ فلمیں بھی منصوبہ بندی سے اور بڑی محنت سے تیار ہوتیں ہیں
Post No 77👇
❣ہمبستری ❣
ہمبستری کا مطلب ھے میاں بیوی دونوں ایک وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کریں دونوں مل کر ایک ساتھ یا پھر پہلے مرد بیگم کو شہوت سے مالا مال کرے اور خود پہ کنٹرول رکھے اسکے بعد جب بیگم تیار ھو جائے اسکے بعد اپنی لگام ڈھیلی چھوڑ دے تاکہ عورت کے ساتھ ہی مرد بھی ہمبستری کی لذت حاصل کر سکے مگر مرد ہمیشہ سے ہمبستری کا مطلب یہ سمجھتا آیا ھے ایک بستر پہ اپنا کام مکمل کریں ساتھ بیوی ضرور ھونی چاھئیے تاکہ ہمبستری کا حق پورا کیا جا سکے ۔
مرد حضرات سے التمساس ھے کہ غور سے اس تحریر کو پڑھیں اور سمجھ سمجھ کر بھی ناسمجھی دیکھاتے جائیے کسی نے کیا کہنا ھے مرد کو !مگر اللہ دیکھ رہا ھے وہ اس حق کو پامال کرنے والوں سے سخت حساب لیتا ھے فکر نہ کریں کوئی بچ نہیں پائے گا ۔
ہمبستری کا مطلب یہ نہیں مرد کو بھوک لگی بیوی پکری ہمبستری ھو گئ ۔آخر ہمبستری کا مطلب ھے کیا ۔۔؟
اسکا مطلب ھے مرد نے بھی ہر صورت اپنی زوجہ کا ازدواجی حق ادا کرنا ھے بیوی نے شوہر کو ٹائم دیا مگر شوہر اپنی چاہت کا ٹائم پورا ھوتے ساتھ ہی سائڈ پلٹ کر خواب غفلت میں مصروف ھو گیا اور بچاری بیوی کو ایکٹو کر کے اسے جنسیت کی لذت دیئے بغیر ساری رات جلتا ھوا چھوڑ کر پرسکون نیند کے مزے لیتا رہا ۔ ہوش کیجئے کیا آپ نے بیوی کا ازدواجی حق پورا کیا ۔۔؟ ؟
نہیں ! بلکہ بیگم کو تکلیف دے کر خود چل پرے سیکس مرد کی ضرورت ھے اسی طرح عورت کو بھی سیکس کی بھوک لگتی ھے مگر وہ بول نہیں پاتی چڑچڑی اور غصے میں رہنا شروع کر دیتی ھے ۔ شوہر سے ازدواجی حقوق کے بارے میں سختی سے پوچھ گچھ کی جائے گی یہ شوہر پر فرض ھے وہ ٹائم کی کمی مصروفیت کے باوجود بھی ازدواجیت کے حقوق پورے کرے ورنہ عذاب الہی سے بچ نہیں سکے گا ۔
ہمبستری مرد و عورت کے ایک ساتھ کئے گئے جنسی عمل کا نام ھے ناکہ عورت کو صرف غسل کرنے کے سوا کچھ حاصل نہ ھو ۔
اس وجہ سے بھی عورت حاملہ نہیں ھو پاتی پہلے عورت فارغ ھو اسکے بعد مرد تب حمل ٹھہرنے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں اگر حمل کی ضرورت نہیں بھی ھے تب بھی عورت سیکس کی بھوک رکھتی ھے اسکی بھوک ہمبستری میں ہی پوری کرنا مرد پہ لازم ھے ناکہ صرف اسے اپنے لئے استعمال کیا جائے بیگم جائے بھاڑ میں ۔۔۔
اللہ پاک حقوق اللہ معاف کر دے گا مگر بندوں کے حقوق کسی صورت معاف نہیں کرے گا دنیا میں بھی تکلیف پائے گا اور آخرت میں بھی حساب ھونی ہی ھے ۔۔
اسی طرح خواتین بھی اپنے مردوں کے حقوق پورا کریں شادی کے بعد سب سے زیادہ حق شوہر کا ھوتا ھے ماں باپ بھی پیچھے رہ جاتے ہیں اور یہ حق اللہ نے دیا ھے لیکن بہت سی خواتین والدین کو شوہر پہ برتری دیتی ہیں انکا حساب بھی سخت انداز میں ھو گا وہ بھی دنیا میں تکلیف پائیں گیں اور آخرت میں بھی عذاب بھگتیں گیں انگلش سیکھ جانے سے قانون انگریزوں کے نہیں اللہ ہی کے چلتے آئے ہیں اور قیامت تک چلتے رہیں گے تعلیم یافتہ خواتین آپے سے باہر ھونا چھوڑ دیں انکی اعلی تعلیم دنیا میں مقام دے گی مگر کچھ دن کیلئے ۔ جب شوہر عزت دینے والا ھو تو آنا اور والدین کی وجہ سے گھر خراب کرنے والی خواتین اپنی ذات میں بے وقوفی کی چلتی پھرتی مثال ھوتی ہیں ۔
اور جو شوہر حضرات سال وسال دوسرے ممالک میں کمائی کیلئے جاتے ہیں خود سہیلیاں سے انجوائے کرتے ہیں بیوی کو بھوکا مارتے ہیں اگر انکی بیوی کو صرف پیسہ چاھئیے ھو تو والدین بیٹیوں کو پیسے دے سکتے ہیں نکاح کا مطلب بیٹی کی جنسی ضرورت کو حلال طریقے سے پورا کروایا جائے جو ساس سسر بیٹوں کی کمائی پہ رج کھا رھے ہیں اور بہو شوہر کے جسم کیلئے بھوکی تڑپ رہی ھے وہ شوہر سب سے بڑا عذاب کا مستحق ھو گا اسکے ساتھ اسکے والدین بھی جن کو بہو نہیں کام والی چاھئیے تھی بہو کے ساتھ اسکا شوہر بھی رہتا ھے تاکہ جنسی بھوک ختم کی جائے ایسی لڑکیاں جب شوہر سے دوری کو برداشت نہیں کر سکیں گیں تو لازما باہر منہ ماریں گیں قصور وار مرد ھوا یہ زمہ داری اللہ نے اسکو دی تھی جس نے اپنا اذدواجی فرض پورا نہیں کیا ایسی لڑکیوں کو خلاح لے لینی چاھئیے جنکے شوہر باہر جا کر سوائے پیسے کے بیوی کو کچھ دینے کے لائق نہیں سمجھتے ۔۔
اللہ پاک مرد و عورت دونوں کو بھلائی کی ہدایت دے آمین
Post No 78👇
خواتین کے کولہے کیوں بڑھتے ہیں(hip )
بہت سی خواتین مجھ سے hip کے بارے میں پوچھتی ہیں تو آج ان کے لیے
*
100 میں سے 85 فیصد خواتین کے ساتھ یہ مسلہ ہوتا ہے ان کے وزن کے ساتھ ساتھ ان کے یعنی کولہے یا بیک سائیڈ کا سائز بڑھ جاتا ہے آج کا اس معاشرے میں اس چیز کو دلکش اور پر کشش کہا جاتا ہے لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ خواتین میں یہ بیماری ایک خاص وجہ سے ہوتی ہے جو پہلے تو کچھ سالوں تک کوئی نقصان نہیں دیتی لیکن جونہی عمر بڑھ جاتی ہے اور جوانی ختم ہونے لگتی ہے تو آہستہ آہستہ اپنا رنگ دیکھنا شروع کر دیتی ہے وزن بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور ان کے ٹانگوں اور گھٹنوں میں ہر وقت درد رہتا ہے ان کے پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں اکثر خواتین پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے چل نہیں سکتیں اگر وہ لمبا سفر کرتی ہیں تو ان کی ٹانگیں درد سے بحال ہو جاتی ہیں ان کو کام کاج میں بھی مشکل آتی ہے کچھ خواتین تو بالکل ہی چار پائی پر آ جاتی ہیں یعنی ہی چلنے پھرنے سے رہ جاتی ہیں لڑکیوں کا یہ مسلہ زیادہ بیٹھنے یا لیٹنے اور ذیادہ ہمبستری کرنے سے یا گھی اور آئل وغیرہ میں تلی ہوئی چیزوں کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے بیک سائیڈ یعنی کولہے بڑھ جاتی ہے ان چیزوں سے پٹھوں میں ہوا پڑ جاتی ہے اور پٹھے کمزور ہو جاتے ہیں ان میں سوزش ہونے لگتی ہے وزن اور سائز بھی ذیادہ ہونے لگتا ہے لڑکیوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ کافی دیر تک ٹی وی بیٹھ کر دیکھتی ہیں یا سوتی رہتی ہیں کوئی کام یا ایکسر سائز نہیں کرتیں بیٹھ بیٹھ کر ان کا وزن بڑھ جاتا ہے اور کولہوں کاسائز بڑھ جاتا ہے اس مسلہ سے بچنے کیلۓ خواتین روزانہ ہلکی پھلکی ورزش کریں اور کام کاج میں ذیادہ ٹائم گزاریں آئل اور تلی ہوئی چیزوں کا استعمال نہ کریں پٹھوں کو طاقت دینے والی چیزوں کا استعمال کریں
Post No 79👇
بہت سی عورتیں کہتی ہیں کہ ہمارا میاں ہم پر توجہ نہیں دیتا شادی کے شروع میں تو پلکوں پر بیٹھا کر رکھتا تھا ہر شادی شدہ عورت کا یہی رونا ہے۔
مگر میں کہتی ہوں اس میں غلطی عورت کی ہی ہے مرد کی نہیں ۔ آپ مجھے یہ بتائیں کہ شادی کے شروع میں آپ اپنے میاں کے لیے ہر وقت تیار رہتی تھیں؟ میاں نے اگر کچھ مانگا پانی یا کھانا تو آپ فورا لاتی تھیں؟ اگر میاں نے گھر سے باہر کسی کام سے جانا ہوتا تو آپ باہر دروازے تک آتی تھیں اور اللہ حافظ کہتی تھیں؟ پوچھتی تھیں کہ کب تک آئیں گے؟ کیا آپ اپنے میاں کو اس طرح رخصت کرتی تھیں ؟ ان کے آنے سے پہلے تیار ہوتی تھیں اور جب آپ کے میاں آتے تھے تو آپ مسکراتے ہوئے ملتی تھیں؟ آپ کے اس طرح کرنے سے ان کی سب ٹیشن ختم ہو جاتی تھی اور آپ کے میاں آپ کو مسکراتا دیکھ کر خود بھی مسکراتے تھے ۔ پھر آپ پانی کا پوچھتی تھیں اور ان کے جوتے وغیرہ تبدیل کرتی تھیں ۔ان سے باتیں کرتی تھی جو کہ آپ کو اور آپ کے میاں کو بہت اچھا لگتا تھا ۔
اب پتہ ہے غلطیاں کہاں سے شروع ہوئیں یہ محبت کہاں سے کم ہوئی؟ جب شادی کو کچھ مہینے گزرے تو آپ نے گھر میں تیار رہنا چھوڑ دیا اور ہر وقت میاں کے سامنے کبھی کسی کی برائی تو کبھی کسی کی برائی کرنا شروع کر دی اور اگر آپ تیار ہوتی ہیں تو صرف کسی شادی پر جانے کے لئے یا کسی بھی فنکشن کے لیے نہ کہ میاں کے لئے جو کہ آپ کے میاں کو بہت برا لگتا ہے کہ میری بیوی میرے لیے نہیں سجتی سنورتی بلکہ باہر والوں کے لیے تیار ہوتی ہے ۔ اب اگر میاں پانی یا کچھ مانگے تو کہا جاتا ہے پلیز آپ خود پی لیں میں کام کر رہی ہوں اور اگر میاں نے گھر سے باہر کسی کام کے لیے جانا ہوتا ہے تو نا ہی اللہ حافظ کہتی ہیں ۔ بلکہ جب میاں واپس گھر آتا ہے تو اس کا استقبال ایک مسکراہٹ سے کرنے کی بجائے منہ بنا کر کرتی ہیں اور کہتی ہیں اتنی دیر کر دی ہے اور نہ ہی تیار ہوتی ہیں وہ ہی اجڑا ہوا حال بنایا ہوتا ہے اس طرح پھر میاں کا گھر آنے کو دل ہی نہیں کرتا کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ گھر جاؤں گا تو بیوی کوئی نئی کہانی لے کر بیٹھ جائے گی تو پھر بتائیں اب اس میں غلطی عورتوں کی ہے یا نہیں ؟؟؟
اگر آپ چاہتی ہیں کہ میرا میاں میرا ویسا ہی خیال رکھے جیسے شادی کے شروع کے مہینوں میں رکھتا تھا تو پھر آپ بھی ویسا ہی کریں جیسا کہ شادی کے شروع میں کرتی تھیں اپنے شوہر کو وقت دیں۔ ان کے لیے تیار ہوں۔ ان کے کھانے کا خیال رکھیں۔ ان کو دروازے تک چھوڑ کر آئیں۔ ان کے آنے پر تیار ہوں ۔ ایک مسکراہٹ سے ان کا استقبال کریں ۔ اگر آپ نے ان کو کوئی بات بتانی بھی ہے تو آپ ان کو تھوڑا آرام کرنے دیں اس کے بعد آپ ان کو اپنے مسلئے مسائل بتائیں ۔
اور جب بھی آپ کا میاں آپ کو دیکھے تو آپ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجائیں اس سے ان کے دل میں محبت پیدا ہو گی اور آپ کا میاں وقت پر گھر آئے گا اور آپ ایک خوش گوار ازدواجی زندگی گزاریں گی۔
رب تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین۔
Post No 80👇
*میاں بیوی کا جنسی تعلق sex کوئی گناہ نہیں بلکہ ثواب ہے*
مباشرت، مجامعت، جماع، وطی، ہمبستری، فریضہ زوجیت، وظیفہ زوجیت، جنسی ملاپ، ملنا، ساتھ سونا میاں بیوی کا تعلق اور اس سے حاصل ہونے والا سکون، محبت اور رحمت
اللہ رب العزت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، جس کا ذکر قرآن مجید میں یوں آیا ہے:
وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
(روم، 30: 21)
ترجمہ
اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں
نہایت افسوس کی بات ہے کہ ہم اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کی حکمتوں پر غور و خوض کرنے اور اس کا شکر بجا لانے کی بجائے اسے مکمل طور پر نظرانداز کئے رکھتے ہیں ہمارے معاشرے میں عام طور پر میاں بیوی کے تعلق پر بات کرنے والوں کے بے حیاء سمجھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سے نوبیاہتا جوڑے کسی بڑے سے اپنے جنسی مسائل پوچھنے سے شرماتے ہیں اور یوں ان کے مسائل گھمبیر ہوتے چلے جاتے ہیں
مباشرت یعنی فریضہ زوجیت ایک صدقہ ہے۔ میاں بیوی کے درمیان الفت بڑھانے اور نسل انسانی کے تحفظ کا ضامن یہ عمل کوئی شجر ممنوعہ نہیں کہ اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے اس بارے میں بات کرنا بے شرمی کی بات سمجھی جائے۔ جائز حدود میں رہ کر جنسی مسائل کو ڈسکس کرنا اور ان کا حل معلوم کر کے اپنی زندگی کو خوشگوار بنانا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہماری غیر شرعی معاشرتی اقدار ہمیں ہمارے اس جائز حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں
اسلام کی تعلیمات میں بکثرت جنسی معلومات دی گئی ہیں۔ قرآن و حدیث کی بے شمار نصوص میاں بیوی کے تعلق کو نہ صرف واضح کرتی ہیں بلکہ مباشرت کے جائز اور ناجائز طریقوں سے بھی آگاہ کرتی ہیں۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ جیسے ہم نے اس مادیت زدہ دور میں اسلام کی روحانی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیا، اسی طرح اسلام کی ان تعلیمات کو بھی بے شرمی کی باتیں قرار دیتے ہوئے ان سے بھی صرف نظر شروع کر دیا جو ایک مسلمان کے تکمیل ایمان کی ضامن ہیں۔ من گھڑت شرم و حیاء کا لیبل جہاں ایک طرف شریعت اسلامیہ کی اتباع کرنے والوں کو ضروری جنسی معلومات کے حصول سے محروم کر دیتا ہے، وہیں شریعت کو بوجھ سمجھنے والوں کو جنسی معلومات کے حصول کے لئے شتر بے مہار کی طرح مغرب کی تقلید کے لئے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ یہ دوغلاپن ہمارے معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے
یہ ایک حقیقت ہے کہ مباشرت سے واقفیت نہ رکھنے والوں کے ساتھ اکثروبیشتر ہولناک واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ہر بالغ مرد اور عورت کو اس سے آگہی نہایت ضروری ہے، کیونکہ ان کی ازدواجی زندگی کا انحصار زیادہ تر اسی معلومات پر ہوتا ہے۔ جو لوگ مباشرت سے واقفیت نہیں رکھتے وہ اپنی ازدواجی زندگی کا صیحح لطف نہیں اٹھا سکتے۔ مباشرت سے واقفیت کوئی گناہ نہیں بلکہ یہ قدرت کی عطا کردہ ہے شمار نعمتوں میں سے ایک ہے۔
اکثر لوگ جنسی فعل کو ادا کرنا ایک فرض سمجھتے ہیں اور ان کے نزدیک اس دوران میں لطف اندوز ہونا شاید کوئی غیرشرعی حرکت ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ قدرت نے انسان کے گرد بہت ساری نعمتیں بکھیر دی ہیں، جنہیں انسان بوقت ضرورت بہترین تفریح کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ عورت بھی مرد کی ضرورت کے تحت وجود میں آئی ہے اور اس کی موجودگی سے انسان اپنی دوسری تفریحات کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور یوں عورت دوسری تمام نعمتوں پر فوقیت حاصل کر لیتی ہے۔ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔
کسی عورت سے جنسی تعلقات صرف اسی وقت استوار کئے جا سکتے ہیں جب مرد نے اسے جائز طریقے سے اپنے لئے حاصل کیا ہو اور اسلام میں وہ جائز طریقہ صرف نکاح ہے۔
ہر نعمت کو استعمال کرنے کا ایک مخصوص طریقہ ہے۔ اسی طرح مباشرت سے واقفیت بھی عورت جیسی عظیم نعمت کو استعمال کرنے کا صحیح اور جائز طریقہ ہے، پس اس طریقہ سے واقفیت کوئی گناہ نہیں ہے۔
اچھا لباس، عمدہ غذا اور بناؤ سنگھار وغیرہ کے علاوہ بھی عورت کی بعض ضروریات ہوتی ہیں۔ یہ ضروریات تو ظاہری ہیں، لیکن عورت کی ایک ضرورت ایسی بھی ہوتی ہے، جسے وہ زبانی بیان نہیں کر سکتی۔ لیکن جب قوت برداشت ختم ہو جائے تو وہ اسے کہنے سے گریز نہیں کرتی۔ یہ مطالبہ ایسا ہے کہ اس کے پورا ہونے کے بعد اگر اس کے دوسرے مطالبات بہتر طور پر پورے نہ بھی ہوں تو بالعموم وہ گلہ نہیں کرتی۔ مرد کو چاہیے کہ عورت کے اس مطالبے پر خاص توجہ دے، جسے وہ کہہ نہیں پاتی۔ جو لوگ اس سے واقفیت نہیں رکھتے وہ کامیاب زندگی نہیں گزار سکتے۔ ان کی بیویاں یا تو طلاق کی صورت میں ان سے علیحدگی اختیار کر لیتی ہیں یا پھر اپنی اور اپنے شوہر کی عزت سے کھیلتے ہوئے غیر مردوں سے تعلقات پیدا کر لیتی ہیں۔ اسی وجہ سے معاشرے میں برائیاں پھیلتی جا رہی ہیں۔ ایسی عورتیں جن کے شوہر انہیں مکمل جنسی تسکین نہیں دے سکتے، وہ اپنے شوہر کے ساتھ وفادار نہیں رہتیں اور ان کی عزت و ناموس سے کھیلنا شروع کر دیتی ہیں
Post No 81 👇
شادی شدہ دوستوں کے لئے اک ضروری پیغام
اگر آپ بھی یہ غلطی کررہے ہیں تو اسے آج ہی چھوڑ دیں ، ویسے تو جب کسی آدمی کی شادی ہوجاتی ہے تو اس کی بیوی اس کے لئے حلال ہے جب چاہے اپنی بیوی سے ہمستری اور مباشرت کرلے (شرعی لحاظ کے ساتھ)
لیکن آج کل لوگ عریانیت فحاشیت سے تو بہت اچھے سے واقف ہوتے ہیں موڈرن زمانے (رنگیلےدنیا) کو بہت اچھے طریقے سے سمجھتے اور جانتے ہیں
لیکن حکمت عملی سے ناواقف ہوتے ہیں
جن باتوں کو جاننا چاہئے ان باتوں سے نابلد ہوتے ہیں۔
جو ایک مرد کو اپنی ازدواجی زندگی کو خوشگوار رکھنے کے لئے جاننا چاہئے ان باتوں کو بالکل بھی نہیں جانتے
میں بات کررہا ہوں مباشرت و ہمبستری کے بارے میں لوگ اس کو نہیں جانتے کہ کس طریقے سے اس کام کو انجام دینا چاہئے سنت نبوی کیا ہے؟ کوئی ایسا طریقہ تو ہم استعمال نہیں کر رہے ہیں جس کے طبی نقصانات بہت زیادہ ہیں وغیرہ وغیرہ؟
خیر! آج کل ہمارے شادی شدہ جوڑے اس غلطی کو بخوبی انجام دیتے ہیں اور انہیں کوئی اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ غلطی کررہے ہیں میں سب کی بات تو نہیں کرتا لیکن اکثروں کا یہی حال ہے۔
دراصل پیٹ بھر کر کھانے کے بعد فورا ہی یا تھوڑی ہی دیر میں آدمی اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے اور ہمبستری و مباشرت کا عمل کرلیتا ہے حالانکہ پیٹ بھرا ہوا ہوتا ہے
پھر ایسے آدمی کو طرح طرح کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
جیسے پیٹ کا پھول جانا
پیٹ کے اندر ہوا کا بھر جانا
ٹائمنگ میں کمی کا آجانا
آلہ تناسل میں مکمل سختی کا نہ آنا
مباشرت کے لطف سے محروم رہنا
نامکمل تناؤ اور ٹائمنگ کی کمی کی وجہ سے عورت کا جنسی طور پر مطمئن نہ ہو پانا وغیرہ
مطلب یہ کہ پھر آدمی بہت ساری بیماریو کے شکار ہوجاتے ہیں۔
یہ صرف اور صرف ناواقفیت کی بنا پے کرتے ہیں لوگ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ اس کے اتنے نقصانات ہیں تو شاید نہ کرتے.
دوستوں: آپ یہ بھی ضرور جان لیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ فرمایا ہے کہ آدمی رات کے آخری حصے میں اپنی بیوی سے مباشرت کرے اور نہا دھو کر پاک ہوجائے پھر نماز فجر ادا کرے۔
دوستوں! مذکورہ بات میں حکمت یہ ہے کہ رات کے شروع حصے میں آدمی کا پیٹ کھانے پینے سے بھرا ہوتا ہے جس کی وجہ سے اگر آدمی مباشرت کرتا ہے تو اس کے طبی نقصانات بہت سے ہوسکتے ہیں چنانچہ پیارے آقا کی کوئی بھی بات حکمت سے خالی نہیں ہے
دوستوں: اگر کسی نے بہت زیادہ ایسا طریقہ اختیار کیا ہے یعنی پیٹ بھرا ہوا ہونے کی حالت میں جماع کرتے رہا ہے تو ایسے لوگوں کو چاہئے کہ آئندہ اس سے پرہیز کریں
Post No 82👇
جنسی عمل ادا کرنے کیلئے دن یا رات میں کونسا وقت بہترین ہے.
ہر مرد اور خاتون کا شدت سے شہوت محسوس کرنے کا وقت مختلف ہوتا ہے نہ تو ہر مرد رات سونے کیلئے بیڈ پر آتے ساتھ تھکاوٹ کی حالت میں شہوت محسوس کرتے ہیں اور یہی حساب خواتین کے ساتھ بھی رہتا لے ۔ اکثر مرد اور خواتین فجر سے پہلے کے اوقات میں شدید شہوت محسوس کرتے ہیں کیونکہ انکی سارے دن کی تھکاوٹ بہت حد تک کم ہو چکی ہوتی ہے اور کچھ مرد اور خواتین کی تعداد سورج نکلنے کے بعد ایکٹو ہوتی ہے کیونکہ انکی باڈی زیادہ نیند کے بعد پرسکون ہوتی ہے اور ہارمونز ایکٹو ہوتے ہیں مگر کچھ مرد اور خواتین رات سونے سے پہلے رات 9 بجے یا 10 ,,, 11 بجے جنسی عمل کو مکمل کر لینے کی طلب رکھتے ہیں کیونکہ انکے ہارمونز اس وقت بہت ایکٹو ہو چکے ہوتے ہیں ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ بہت سے صحت مند مرد اور خواتین اپنے سارے دن کی تھکاوٹ کو کم کرنے اور انرجی لیول کو بحال رکھنے کیلئے جنسی عمل اختیار کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جنسی عمل انکو تقویت دیتا ہے یہ وہ تعداد ہے جو جنسی طور پر ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت فٹ ہوتی ہے جو رات سونے سے پہلے اس محبت کے عمل سے گزر کر اپنی باڈی کی انرجیز کو بحال کر کے اپنے سینسز کو پرسکون کر کے پھر ایک مکمل پرسکون نیند کا مزہ لیتے ہے مگر یہ تعداد بہت کم ہے کیونکہ یہ سب کچھ بہترین صحت سے ہی ممکن ہے ۔
مگر وہ تعداد جو تھکاوٹ اترنے کے بعد آدھی رات یا پھر صبح جنسی عمل کی خواہش رکھتے ہیں ایسی تعداد بنیادی طور پر کچھ کمزور سست جنسی صحت کی مالک ہوتی ہے جب تک انکی سوچ انکا جسم تھکاوٹ سے آذاد نہیں ہو جاتا وہ جنسی عمل سے دور بھاگتے ہیں کیونکہ انکے جسم میں اتنی جان ہی نہیں ہوتی کمزور جسم کے مالک اسی روٹین سے چلتے ہیں وہ اپنی تھکاوٹ اور خواہش کو ساتھ ساتھ چلانے کی ہمت نہیں رکھتے دماغ ساتھ نہیں دیتا کیونکہ انکے ہارمونز کمزوری کا شکار ہوتے ہیں ۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ سائنس کیا کہتی ہے اسکے مطابق اپنا جنسی ٹائم سیٹ کیا جائے اس عمل کے لئے اپنی خواہش اور اپنی مرضی پر فوکس کیا جاتا ہے کیونکہ جنسی عمل کا اصل مقصد جسمانی ذہنی پریشر کو release کرنا ہے اپنے جسم اور ذہن کو پرسکون کرنا ہے ۔ اس لئے جس وقت بھی آپکی شہوت اجازت دے بھرپور جنسی عمل اختیار کیا جا سکتا ہے اس میں زور زبردستی یا پوچھ کر ٹائم ٹیبل سیٹ نہیں کیا جاتا یہ جسم اور ذہن کی ضرورت ہے اپنی ذات سے پوچھیں اسے کیا چاہئیے کب چاہئیے وہیں کیجئے مگر اپنے پارٹنر کو بھی ساتھ رکھیں ان سست مرد اور خواتین کے جسم کو جب جب ضرورت محسوس ہو گی خواہش پیدا ہوگی کہ ہماری انرجی کم ہو چکی ہے تو انہیں خود سگنلز ملنا شروع ہو جاتے ہیں جیسے پیٹ کو بھوک لگی ہو تو بھوک محسوس ہوتی ہے بلکل اسی طرح جسم کی بھوک کے وقت بھی سگنلز ملتے ہیں دماغ ٹینشن کا شکار رہتا ہے بے چینی رہتی ہے دماغ سوچنے سمجھنے سے قاصر ملتا ہے کسی بھی قسم کا چھوٹا موٹا کام کرنے میں بھی بے حد سستی اکتاہٹ پائی جاتی ہے جسم اور ذہن نیند کے بعد بھی تھکاوٹ کا شکار ملتے ہیں ،،
یاد رہے بیگمات اپنی خواہش کے بارے میں کبھی کھل کر بات نہیں کرتیں ان سے پوچھنا پڑتا ہے detailing میں جانا پڑتا ہے اس لئے ایک اچھی پرسکون شادی شدہ زندگی کو چلانے کیلئے بیگم کا اچھی طرح سے جنسی عمل سے گزرنا بھی گھر اور بچوں کی صحت کیلئے بے حد ضروری ہے ۔ بیگم ذہنی اور جسمانی طور پر اپنی خواہش کے مطابق اگر جنسی عمل سے لطف اندوز ہو چکی ہونگی تو اسکا اثر پورے گھر کی صحت پر پڑتا ہے مگر کچھ کم ظرف اور جنسی طور پر کمزور خود غرض شوہر حضرات جنسی عمل کو صرف اپنی جائیداد سمجھتے ہیں کہ یہ عمل صرف مردوں کی خواہش ہوتی ہے عورت اس خواہش سے محروم ہوتی ہے یہ بلکل غلط سوچ ہے ۔ اکثر شوہر یہیں سوچ کر صرف اپنی خواہش کو آگے رکھتے ہیں اور بیگمات شرم کے مارے خاموش رہتی ہیں مگر اندر سے جلتی رہتی ہیں اس تکلیف کو برداشت کرتے کرتے اکثر بیگمات کی جنسی خواہش ہی مردہ ہو جاتی ہے پھر وہ اس سائڈ پر آنا پسند ہی نہیں کرتیں کیونکہ انکی خواہش کا احترام نہیں کیا جا رہا ہوتا اور شرم کے مارے وہ زبان سے کہہ بھی نہیں پاتیں اسی چکر میں وہ شوہر سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں چڑ چڑی جاتی ہیں معمولی سی بات پر بھی طوفان کھڑا کر دیتی ہیں کیونکہ وہ اندر سے ہی سڑ چکی ہوتی ہیں برداشت کا مادہ باقی نہیں رہتا ۔
شہوت محسوس ہونے کا جو بھی وقت ہو ایک پارٹنر کو اپنے دوسرے پارٹنر کی خواہش اور انکے وقت کو بھی اپنے وقت کے ساتھ ملانے کی کوشش کرنی چاہئیے تاکہ بیگم شادی کے بعد بھی کنواریوں والی زندگی سے دور رہ سکے کیونکہ شادی کا مقصد ہی لڑکی اور لڑکے کی جنسی خواہش حلال طریقے سے پوری کرنا ہے اگر اس حلال رشتے میں بھی جنسی خواہش پوری نہ ہو سکے اور بیگم شادی کے بعد بھی کنوارے پن کا ہی شکار رہے تو مرد کیلئے انتہائی شرم کی بات ہے تو ایسی بیگمات کو اپنا حق شور ڈال کر لینا چاہئیے اگر نہ ملے تو اس رشتے سے خلع لے لی جائے اور دوسری شادی کی جائے تو ہی بہتر ہے ورنہ یہ کنوارہ پن ساری زندگی برداشت کرنا پڑتا ہے جبکہ ایک فطرتی جنسی خواہش کو ایک انسان آخر کتنے عرصے تک کنٹرول میں رکھ سکتا ہے اس سے پہلے کہ سوچ میں بدکرداری شامل ہو حلال رشتے سے اپنا جائز حق طلب کیا جائے..
Post No 83👇
حمل اور ہمبستری(sex)
اکثر دیکھا گیا ہے کے شادی والی رات لڑکی پیریڈ سے فارغ ہو کہ آتی ہے مطلب یا تو اس کے پیریڈ شادی سے ایک دن پہلے یا کچھ دن پہلے ختم ھوے ہوتے ہیں اور اس کے peak fertile days ہوتے ہیں
اس Condition میں شادی کی پہلی رات یا پہلے ہفتے میں pregnancy ہو جاتی ہے جو اگلے month تک confirm ہو جاتی ہے
نئے نئے شادی شدہ مرد کو sex نا کرنا بہت مشکل لگتا ہے لیکن بڑی بزرگ خواتین اس کی اجازت نہیں دیتیں
سب سے پہلے اپنی ڈاکٹر سے مشورہ کریں میں یہاں اپنی patient کو جو مشورہ دئے وہ بتاؤں گی آپ کے عمل کرنے سے کسی قسم کا نقصان میری responsibility نہیں
اپنی وائف کا وزن اور عمر دیکھیں اگر وزن 50کلو سے کم ہے اور عمر 20 سے کم ہے تو احتیاط کریں
اگر وزن 50کلو سے زیادہ اور جسمانی طور پر مضبوط ہیں تو احتیاط سے سیکس کیا جا سکتا ہے
حمل اور مباشرت (قسط 2)
پہلے حمل کے دوران پہلے ماہ تک تو آپ سیکس نارمل کرتے ہیں کیوں کہ شوہر کو پتا نہیں ہوتا بیوی pregnant ہو گئی ہے اس لیے پوری طاقت اور strokes لگا کر سیکس ہوتا ہے
لڑکی عام طور پر کمزور ہوتی ہے پہلی pregnancy میں اس لیے کبھی کبھار حمل گر جاتا ہے
پہلے 3 ماہ میں عورت کی کیفیات الگ الگ ہوتی ہیں کچھ عورتوں کو الٹیاں اور motion آتے ہیں اور کچھ کو بےتحاشا بھوک لگتی ہے
جن عورتوں کو vomating اور motion ہوتے ہیں وہ پہلے 3 ماہ تک سیکس سے بیزار رہتی ہیں جو کہ فطری بات ہے اور شوہر کو بھی ان کی feelings سمجھتے ھوے سیکس سے avoid کرنا چاہئے
یہ اپنے خاوند کو پہلے 3 مہینے متبادل طریقے سے جیسے ہاتھ سے فارغ کروا سکتی ہیں
وہ عورتیں جو صرف بھوک محسوس کرتی ہیں پہلے ماہ سے لے کر 9 ماہ تک سیکس کے لیے تیار رہتی ہیں specially پہلے 3 ماہ کے بعد ان سے بچہ پیدا ہونے کے آخری ہفتے تک سیکس کیا جا سکتا ہے اور 3 ماہ کے بعد ان میں سیکس desire بھی بیدار ہو جاتی بے
حمل اور مباشرت (قسط 3)
حمل میں مباشرت کے لیے آپ کو جو بات جاننا ضروری ہے وہ ہے وائف کی اجازت
آپ کی وائف کی طبیعت میں غصّہ چڑچڑا پن اور شدید جذباتی کیفیت اپنے عروج پر ہوتی ہے اگر وہ اجازت نا دے تو برا نا مانیں اور force نہیں کریں
دوسری طرف آج کل مرد حضرات کی شادی زیادہ تر 28 سے 32 یا 35 سال کی عمر میں ہوتی ہے اور اتنی لیٹ شادی کی وجہہ سے ان کی جنسی بھوک اپنے عروج پر ہوتی ہے لہذا اپنے آپ کو شادی کے 1 ماہ بعد ہی 9 مہینے مباشرت سے روکنا ناممکن سا ہو جاتا ہے
مختصر یہ کہ دونوں فریقن کو ایک دوسرے کے جذبات کا خیال رکھنا چاہئے
پہلے حمل کے بعد لڑکی جو کے زندگی کے نشیب و فراز کسی حد تک سمجھ چکی ہوتی ہے دوسرے تیسرے اور چوتھے حمل میں مباشرت کو enjoy کرتی ہے
حمل اور مباشرت (قسط 4)
جیسا کہ پچھلی قسط میں کہا گیا تھا کہ یہ آخری قسط ہو گی جس میں دوران حمل مباشرت کے آسن یا positions کو زیر بحث لیا جائے گا
بہت کم مرد اور عورتیں دوران حمل مباشرت سے لطف اٹھاتے ہیں لیکن عورت اگر دبلی پتلی ہو تو دوران حمل کچھ مردوں کو figure improve کی وجہہ سے attract کرتی ہے
دوران حمل مباشرت کے 3 طریقے مناسب ہیں اور محفوظ بھی اگر سمجھداری سے مباشرت کی جائے
1) مشنری طریقہ
یہ سب سے عام طریقہ ہے جس میں عورت نیچے اور مرد اوپر ہوتا ہے
6 مہینے کے حمل کے بعد وائف کے کولہوں کے نیچے نرم لیکن اونچا تکیہ رکھ کے مباشرت کی جائے اس سے آسانی سے عضو vagina تک چلا جائے گا
اچھا سا lubricant use کیا جائے اگر مرد کا عضو 6 انچ یا اس سے زیادہ ہے تو یہ طریقہ آخری مہینے تک use کیا جا سکتا ہے
اس طریقہ کو اگر مرد کی توند نکلی ہوئی ہے تو صرف more then6 انچ عضو والے ہی صحیح سے کر سکتے ہیں ورنہ عورت کی fat belly اور مرد کی توند سے عضو کی insertion مشکل ہو جائے گی
2) مرد نیچے عورت اوپر
یہ طریقہ 6 انچ سے چھوٹے عضو والوں کے لیے مناسب ہے اگر عورت کو اوپر بیٹھنے میں مشکل نا ہو
اگر مرد صوفہ پر بیٹھا ہو اور صوفہ دیوار کے ساتھ لگا کر bed پر legs اور صوفہ پر کمر لگا کر مرد بیٹھے اور عورت آرام سے مرد کی ٹانگوں پر بیٹھ کے insert کروا سکتی ہے اور اس سے 3 انچ عضو والا مرد بھی با اسانی لطف اٹھا سکتا ہے
3) پہلو با پہلو
عورت کروٹ کے بل لیٹی ہو اور مرد پیچھے سے لیٹ کر insert کرے اس طریقہ میں بھی پیٹ دباؤ سے محفوظ ہے اور نارمل سائز والا بھی easily insert کر سکتا ہے
احتیاط ضروری ہےآپ کی ٹائمنگ 2 منٹ ہے یا 20 منٹ آپ نے 30 سیکنڈ سے 1منٹ کے اندر فارغ ہونا ہے
مزے لینے کے کے لیے ساری زندگی پڑی ہے
Post No 84 👇
*🔮عورتوں کااپنےہاتھوں اورانگلیوں سےاپنی جانوں پرظلم.....*
*آپ نےمردں کےبارےتوبہت سوناہوگاکےوہ اپنےہاتھوں جوانی برباد کرتےہیں*
*اسی طرح آج کل کی انٹرنیٹ عام ہو جانےکی وجہ سے بہت سی نوجوان لڑکیاں اور بہت سی عورتیں اپنےہاتھوں اور انگلیوں سے اپنی زندگیوں پرظلم کر رہی ہیں*
*ان سب کے لیے جونقصان طبی و دینی مردوں کی اس ناپاک حرکت سے پیدا ہوتے ہیں وہی عورتوں کی اس حرکت سے ہوتے ہیں ۔جس طرح مرد کےجسم کےلیےعورت کےجسم خاص کے سوادوسری کوئی چیز مناسب ہو نہیں سکتی ،فطرت کےقاعدہ توڑنےکانتیجہ اگرمردوں میں یہ ہوگا کےجسم خاض کی رگیں پٹھے دب کر ہمیشہ کے لیے خراب و برباد ہوجائیں ۔عورت کاجسم اس سےبھی زیادہ نازک ہوتاہے ذراسی بیجارگڑ اور ناموزوں حرکت*
*سے عمر بھرکےلیے جسم خاص* *نکما ہوجائےگا۔اپنے ہاتھوں کی انگلیوں یا کوئی اور چیز یامحض اوپری رگڑ اور غیر معمولی حرکت جسم کی حالت ہرصورت میں تباہ کرنے والی* *اور عمر بھرکےلیے بیکار بنانے والی ہے ،پہلا صدمہ نرم اورنازک جھلی میں خراش پیدا کرکے ورم لاےگا۔اس ورم کےسبب* *بار بارخواہش پیداہوگی کے جسم خاص کور گڑون اس بار بارکی حرکت سے عورت کےاندر سے مادہ نکلتے نکلتے پتلا ہوجائےگا اور دماغ کے پٹھوں پر اثر پہنچ کرخفقان اور جنون کےآثار نمودارہوں گے* ۔ *دوسری طرف اپنا خون اس انداز سے بہانےکے سبب دل کمزور ہوجائے گا ،بیہوشی کے دورے پڑیں گےجب جسم ہر وقت گندہ راہیں گا توجن بھوت پریت جو رات دن گھر گھر آفت ڈھاتے رہتےہیں* *۔پھر یہ مادہ پتلا ہوکر ہروقت تھوڑا تھوڑا رستے رستےشرمگاہ کے ارد گرد کہ مقام* *کو گندا بناکر سڑائےگا ۔اس کے نتیجہ شرمگاہ اوپر اور اردگرد خراش پیدا ہوجائےگی بار بارخراش سےاس زہریلےکیڑے پیداہوں گے زخم بھی ہوجائے توکوئی تعجب نہیں ہے، پیشاب کی جلن اس کی پہلی ضاص علامت ہے دوسرا مادہ پتلا ہوکر بہنا،پٹھوں اور عضلات* *کوڈھیلا بناکر معدہ ،جگر قبص گردہ سب کا فعل خراب کرےگا اور پھرسب سے بھری بیماری یعنی سیلان الرحم {لیکوریا} کا مرض جواس زمانہ میں بلائےعام ہےاور وبائےضاص بناہواہےگھرکرےگا،آنگھوں میں حلقے،چہرہ پر بے رونقی ہروقت کمر درد بدن کا لجلجاپن ذراسےکام سےچکرانا،دل* *گھبرانا،بات بات میں چڑچڑاپن تمام بدن کاہر وقت نڈھال رہنا آخر خفیف حرارت* *کا بڑھتےبڑھتےپرانابخاربننا،اور تب دق کےمرض لاعلاج میں گرفتار ہوکرموت کاشکارہونا اس ناپاک حرکت کےنتائج ہیں اورآج کل یہ بیماری عام ہوگئی ہے جب سے انٹرنیٹ عام ہوا ویسے یہ بیماریاں بھی عام ہوگئ ہیں ۔لیکوریا ماہواری وقت پرنہ آنا حاملہ نہ ہونا حمل ہوکر گیرجانا عام ہوگیاہے نئےشادی شدہ* *جوڑوں میں اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہےکےجس عورت کوچار پانچ سال سے عادت پڑگئی ہو اہنے ہاتھوں سے جنسی سکون حاصل کرنے کی پھر اس عورت کوشادی کےبعد اپنے شوہر سےجنسی سکون حاصل نہیں ہوپاتا اورنہ ہی یہ عورتیں اپنےشوہرکےساتھ سیکس میں تعاون نہیں کرتی نتیجہ میاں بیوی میں لڑائی جگڑا عام ہوجاتاہے اور بات طلاق تک چلی جاتی ہے کیوں کےلڑکی کے لیےیہ نفسیاتی مسلا بن جاتاہے میری تمام نوجوان لڑکیوں عورتوں سے گزارش ہے جوساری ساری رات انٹیرنیٹ پر ہم جنس پرستی کا عارزی کھیل کھیل رہی ہیں وہ ان بیماروں کوبھی ذہن میں رکھے کہی یہ نہ ہوکےبہت دیر ہوجائے اگرکسی نوجوان لڑکی کوان میں کوئی بیماری ہو توفورا اپنی ماں بڑی بہن یا بھابھی کو بتا کر جلد سےجلد اپنا علاج کروائں کیونکہ یہ جان لیوا بیماری ہے میری سب سے گزارش ہے کےاس پوسٹ کوزیادہ سے زیادہ* *اپنےدوستوں کےساتھ شیئرکریں* *شکریہ*
*اس پوسٹ سے اگر کسی کوبھی کوئی تکلیف ہو تو معذرت*🙏🙏🙏
Post No 85 👇
*عورت کو سیکس کی ضرورت کتنے دن بعد ہوتی ہے ۔۔ ؟؟*
*عورت میں کتنے دنوں میں قربت پیدا ہوتی ہے کتنے دنوں کے بعد اسکا دل سیکس کی طرف راغب ہوتا ہے اور مرد کا دل کتنے دنوں میں طلب محسوس کرتا ہے اس بات کا سیدھا تعلق اس بات سے ہے کہ نیوکپلز وہ زیادہ سے زیادہ سیکس کرتے ہیں اب ان کو کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے وہ الگ بات ہے۔لیکن ہر رات میں ایک بار ضرور کرتے ہیں۔*
*اب عورت ہے اس کے مہینے چار سے پانچ پیریڈ میں نکل جاتے ہیں باقی بچتے ہیں چوبیس پچیس دن اس میں اس کے جسم کو تیار ہونا ہوتا ہے* *دوسرے مہینے کیلئے اس میں حیض پندرہ دنوں میں ایک ہی بار بچہ دانی میں آتا ہے ۔جس کیوجہ سے عورت کو سیکس کی ضرورت وہ مہینے میں ایک بار یازیادہ دوبار ہوتی ہے ۔عورت کے مقابلے میں مرد کے اندر تولیدی جراثیم بہت زیادہ ہوتے ہیں اس لیے مرد کے اندر ہر تین چار دنوں میں قربت تیار ہوتی ہے اس لیے اس کا دل کرتا ہے کہ وہ سیکس کرے ۔ شروع میں یہ عام سی بات ہوتی ہے کہ جب تک خواتین پریگننٹ نہ ہو جائے اس کام کو فرض سمجھ کر کیا جاتا ہے۔زیادہ سیکس کرنا صحت پر کتنا اثر انداز ہوتا ہے عورت میں کیلشیم کی کمی ہوجاتی ہے*
*مرد کی صحت بھی متاثر ہوتی ہے لیکن مرد کے اندر قربت ہوتی وہ عورت کی نسبت زیادہ ہوتی ہے ۔ اسی لیے مرد کی ہیلتھ پر بہت زیادہ اثر نہیں پڑتا مگر عورت کی صحت پر بہت زیادہ اثر پڑتا ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ آپ ایک دوسرے کے سیکس کے مزاج کو سمجھیں ایک دوسرے کو اتنا وقت دیں کہ دلی طور پر راضی ہو اور آ پ کے ساتھ ان لمحوں کو تسکین حاصل کرے ۔ہوتا کیا ہے ہمارے ہاں کہ شوہر باہر سے تھکا ہارا آتا ہے اور ذہنی کوفت کو مٹانے کیلئے وہ سیکس کرتا ہے دوسری بات بیوی بھی تھکی ہاری ہوتی ہے لیکن شوہر کے لیے حاضر رہتی ہے کہ شوہر ناراض نہ ہوجائے ۔ کیونکہ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے کہ شوہر کو قابو رکھنے کا یہیں طریقہ ہے۔کوشش کریں ان لمحوں کو کھل کر انجوائے کریں ۔*
*ایسا نہ ہو کہ ان لمحوں کو تسکین حاصل کرنے کے بجائے آپ کوفت کا شکار ہوجائیں ۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ مرد جو تسکین کیلئے عورت کے پاس آتا ہیں اور چڑچڑے پن کیوجہ سے عورت سے دور ہوجاتا ہے اس کا بھیانک انجام نکلتا ہے کہ لڑائی جھگڑے ختم نہیں ہوتے تو بیوی کے تعنے بازیاں ہوتی ہیں کہ میں آپ کی کونسی خواہش پوری نہیں کرتی کہ آپ نے دوسری عورتوں کے پاس جانا شروع کردیا ۔جس کیوجہ سے گھر ٹوٹ جاتا ہے اور نوبت طلاق تک آجاتی ہے عورت کو شادی سے پہلے سیکس کے بارے میں مکمل علم ہو تو وہ اپنے شوہر کے قربت کو قابو کرسکتی ہے کہ روزانہ قربت کرنی ہے یا نہیں کرنی کہ کیسے صحت مند رہا جاسکتا ہے ۔اس سے مراد کہ جس سے میاں بیوی آپس میں تعلق قائم کرکے ایک دوسرے سے مطمئن ہوجائیں۔ سیکس کی طلب دونوں افراد کی صحت کے حساب سے ہونی چاہئے ۔ جتنی صحت اجازت دیتی ہے اُتنا سیکس کرنا چاہئے اور کُھل کر انجوائے کرنا چاہئے*l
Post No 86 👇
*🔮مباشرت کے زیادہ معروف طریقے پوریشن.....*
*مشنری طریقہ(Missionary Method)*
*اس طریقے کو بادشاہ کا طریقہ بھی کہا جاتا ہےپوری دنیا میںمعروف عام اور زیادہ استعمال ہونے والا طریقہ یہی ہےبعض لوگ غلط طور پر اسے اسلامی طریقہ سمجھتے ہیں تاہم آج کل اسے دقیا نوسی اور بورنگ طریقہ سمجھا جاتا ہےاس میںعورت نیچھے اور مرد اوپر ہوتا ہےعموماََ آسان دخول کے لیے عورت کی کمر کے نیچے تکیہ رکھا جاتا ہے خصوصاََ اگر عورت دبلی پتلی اور اسکے سرینHipsبھی دبلے پتلے ہوں مرد عورت کی دونوں ٹانگوں کے درمیان گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہےعور ت کی ٹانگیںمرد کے دونوں طرف تو کبھی مرد کو کندھوںپر ہوتی ہیں کبھی مرد کے جسم کے ساتھ ملی ہوئی اور کبھی اور کبھی کھلی ٹانگیںکھلی ہوں تو دخول زیادہ آسان ہو جاتا ہے. اس طریقے کے بہت سے فوائد ہیں نئے شادی شدہ جوڑے کے لیے یہ ایک مفید طریقہ ہے اس میں دخول آسان ہے اور اس طریقے میں اور اس طریقے میں حمل ٹھہرنا نسبتاََ آسان ہے وہ مرد جن کو تناو کم ہو ان کے لیے مفید ہےاس میں دخول کے بعد ذکر فرج سے باہر نہیںنکلتا گہرے دخول اور چھوٹے ذکر کے لیے یہ ایک موثر طریقہ ہےاس صورت میں بیوی کی ٹانگیں مرد اپنے کندھوںپر رکھ لیتا ہےاس طرح اگر مرد چھوٹا ہےاور عورت بڑے جسم والی ہےوہاںیہ ایک اچھا طریقہ ہے بعض ماہرین کے مطابق دونوں کے جلد انزال کے لیے ایک مفید طریقہ ہے وہ افراد جو زیاہ دیر تک مباشرت کر سکتے ہیں ان کے لیے شاندار اور زیادہ لطف انگیز طریقہ ہے. اس طریقے میں کنٹرول مرد کے پاس ہوتاہے لہٰذا وہ اپنی مرضی سے حرکت کرتا ہے اور مباشرت سے زیادہ لطف اٹھاتا ہےاس طریقہ کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ اس میں خاوند بیوی کے حساس ترین حصوںکو آسانی سے مشتعل کر سکتا ہےجو کہ ہر عورت کی جنسی لذت اور آرگیزم کے حصول کے لیے بہت ضروری ہےاس طریقے میںبیوی خاوند کے ذکر اور خصیوںکو مشتعل کر سکتی ہے جو کہ مرد کے سحر انگیز ہے تاہم اس طریقے کی کچھ خامیاں بھی ہیں مثلاََ یہ طریقہ ان افراد کے لیے بد ترین ہے جو سرعتِ انزال کے مریض ہیں یعنی جو جلد منزل (Discharge)*
*ہو جاتے ہیں کیوں کے اس طریقہ میںمرد جلدی منزل ہو جاتا ہےاگر چہ بعض مردوں کے لیے ٹھیک ہے کیوں کے کنڑول مرد کے پاس ہوتا ہےاگر مرد کا وزن زیادہ ہو تو وہاں یہ غیر ماسب طریقہ ہےکیوں کہ عورت کے لیے خاوند کا وزن سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے اس طریقہ میں عموماََ عورت کو دخول پر کنٹرول حاصل نہیںہوتا جس کی وجہ سے بعض اوقات گہرے دخول سے عورت کو تکلیف ہوتی ہے*
Post No 87 👇
*🔮سیکس (sex) مباشرت اسلامی طریقہ.....*
*جماع کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں جب چاہو دن میں یا رات میں اسی طرح جیسے چاھو کھڑے ہو کر بیٹھ کر لیٹ کر ، چت سے پٹ سے، ہر طرح تمہارے لئے مباح ہے لیکن فطری طریقہ تو یہی ہے کہ عورت نیچے اور مرد اوپر رہے۔ چنانچہ سارے حیوانات اسی فطری طریقہ پر عمل کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی اس آیت میں بھی اسی طریقہ کی طرف لطیف اشارہ کیا گیا ہے فَلَمَّا تَغَشَاهَا حَمَلَتْ حَمْلا خفيفا ( جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس کو ہلکہ سا حمل رہ گیا) اس طریقہ میں زیادہ راحت و آسانی بھی ہے۔ عورت کو مشقت نہیں اٹھانی پڑتی نیز عورت پر تھوڑا وزن آئےگا جسکی وجہ سے اسکی لذت میں اضافہ ہوگا۔*
*امام اہل سنت سرکار اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی فرماتے ہیں:۔ جماع کے وقت یہ نیت ہو (۱) طلب ولد صالح (۲) بیوی کا ادائے حق (۳) یاد الہی اور اعمال صالحہ کیلئے اپنے دل کو فارغ کرنا ۔ نہ بالکل برہنہ ہو خود ، نہ عورت، رو بقبلہ نہ پشت بقبلہ عورت چت ہو اور یہ اکڑوں بیٹھے ۔ بوس وکنار، چھیڑ چھاڑ سے شروع کرے جب عورت کو بھی متوجہ پائے بسم اللہ الرحمنِ الرَّحِيمِ جَيْبُنَا الشَّيْطَنَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَان ما رزقتَنا کہ کر آغاز کرے، اس وقت کلام نہ کرے اور نہ عورت کی شرم گاہ پر نظر کرے، پھر جب انزال کی نوبت پہنچے تو دل ہی دل میں یہ دعاء پڑھے*
*اللهُمَّ لَا تَجْعَلْ لِلشَّيْطَانِ فیمَا رَزَقْتَنِي نَصِيبًا) اگر کوئی اس دعاء کو پڑھ لیتا ہےاور اسکے مقدر میں بچہ کی ولادت ہے تو شیطان اس بچے کو بھی ضرر نہ دے سکے گا۔ (فتاوی رضویہ ج ۱ ص ۲۲۵ + حسن حسین ص ۲۵۲)*
*عورت کے بیٹھی ہوئی حالت میں مقاربت نہ کرے، اسی طرح پہلو کی طرف سے بھی نہ کرے کہ اس سے درد کمر پیدا ہوتا ہے۔ عورت کو اپنے اوپر بھی نہ چڑھائے کہ اس سے عورت بانجھ ہوجاتی بلکہ عورت کو چت لٹائے اور اسکی ٹانگوں کو اوپر اٹھائے۔(مجربات سیوطی ص ۴۱)*
*شیخ بوعلی سینا کے نزدیک جماع کی تمام شکلوں میں بری شکل یہ ہے کہ عورت مرد کے اوپر ہو اور مرد نیچے چت لیٹا ہو کیونکہ اس صورت میں منی مرد کے عضو میں باقی رہ کر متعفن ہو جاتی ہے جو اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ انزال کے بعد فورا جدا نہ ہو بلکہ انتظار کرے کہ عورت کی بھی حاجت پوری ہو جائے۔ امام غزالی فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "مرد میں یہ کمزوری کی نشانی ہے کہ جب مباشرت کا ارادہ کرے تو بوس و کنار سے پہلے جماع کرنے لگے اور جب انزال ہو جائے تو صبر نہ کرسکے اور فوراً الگ ہو جائے کہ عورت کی حاجت ابھی پوری نہیں ہو پاتی ہے۔* *( کیمیائےسعادت ص ۲۶۶)*
*فراغت کے بعد مرد و عورت دونوں الگ الگ کپڑے سے اپنی اپنی شرمگاہ کو صاف کرلیں دونوں کا ایک ہی کپڑے سے صاف کرنا موجب نفرت و جدائیگی ہے۔*
*اگر کسی شخص کو احتلام ہوا ہو تو بغیر وضو کئے (یعنی ہاتھ منہ اور شرمگاہ دھوئے ) جماع نہ کرے ورنہ ہونے والے بچہ پر بیماری کا اندیشہ ہے، ہو سکتا ہے کہ بچہ دیوانہ اور پیکار پیدا ہو۔ (قوت القلوب ج ۲ ص ۴۸۹ + بستان العارفین ص ۱۳۷)*
*زیادہ بوڑھی عورت سے جماع نہیں کرنا چاھئے کہ اس سے بدن کمزور اور آدمی جلد بوڑھا ہو جاتا ہے۔ کھڑے ہو کر بھی جماع نہیں کرنا چاہیے کہ اس سے بدن کمزور اور ضعیف ہو جاتا ہے اور بھرے پیٹ بھی مجامعت نہیں کرنی چاھئے کہ اس سے اولاد کند ذہن پیدا ہوگی۔*
*بعض لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ فراغت کے بعد مرد و عورت دونوں کو پیشاب کر لینا چاہئے، نہیں تو کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہوگا۔ (بستان العارفین ص ۱۳۹).. سلیقہ زندگی*
Post No 88 👇
*بڑی چھاتی والی عورتوں کو ہمبستری کے وقت جلدی فارغ کرنے کا آسان طریقه*
*چھاتی والی عورتوں کو ہمبستری کے وقت جلدی فارغ کرنے کا طریقہ جب ہمبستری کرنی ہو پہلے پیار محبت کے ساتھ عورت سے خوش کلامی کریں کبھی گود میں لیں کبھی پیار کریں سر پستان نرمی سے ملیں پستان کی جڑ جانب بغل دبائیں ۔ جب تک عورت کی شہوت پورے طور پر جوش نہ پکڑے تب تک پستان کو دباتے رہیں جب عورت میں شہوت کے آشار جیسے چہرہ پر سرخی بشاشت اورفرحت سکون پیدا ہوں تب آہستگی سے نرم بستر پر جس پر پہلے سے بیٹھے ہوں عورت کو چت لیٹا دیں اور پیر سمیٹ کر سرین کے نیچے رکھ دیں*
*تاکہ عورت کا مقام مخصوص اونچا ہو جائے اور عضو خاص رحم تک پہنچ جائے اس کے بعد دوبارہ خسار اور ٹھوڑی اور پیشانی کو بوسہ دیں اور عورت کے مقام مخصوص پر عضو خاص کو رگڑیں اس سے عورت کی شہوت بہت جلد ابھرے گی لیکن ان حرکات کے وقت خود لزت کا خیال نہ کریں ۔ اگر شہوت زیادہ ہو گئی ہے تو سانس روکیں تا کہ منی رک جائے اور انزال نہ ہو لیکن ہر حالت میں عورت کے پسان اور جائے مضصوصہ پر ہاتھ پھیرتے رہیں تا کہ عورت کی شہوت کم نہ ہو پھر جب عورت کی آنکھوں میں سرخ ڈورے معلوم ہوں یا وہ لمبی لمبی سانسیں لے یا مرد کو لپٹے تب سختی سے دخول کریں اس کے بعد ایک ایک پیر کر کے عورتکے دونوں پیر پھلائیں*
*اور پھر خود بھی اپنے پیر پھیلا کر لب بہ لب سینہ بہ سینہ ہو جائیں بعض لوگ ایسے وقت میں عورت کی زبان بھی چوستے ہیں جب مرد بار بار دخول و اخراج کر کے عورت کے رحم کے منہ کو عضو خاص کو ٹکراتا ہے تو عورت کو اس سے بڑی لزت آتی ہے اور گرمی پیدا ہو کر عورت منزل بھی جلد ہو جاتی ہے اگر ایسے وقت خود بھی لزت اٹھائی جائے تو مرد بھی جلد فارغ ہو جاتا ہے لہزا ایسے وقت مرد کو لزت نہیں اٹھانی چائیے*
Post No 89 👇
*🔮جنسی لحاظ سے عورتوں کے حساس حصے*
*1. بظر (clitoris):*
*ماہرین کے مطابق عورت کے جسم کا حساس ترین حصہ بظر ہے۔ تا ہم کچھ عورتوں کی فرج(Vagina) زیادہ حساس ہوتی ہے۔ بظر عورت کے اعضائے مخصوصہ کے اوپر والے حصے میں جہاں اندرونی لب ملتے ہیں، موجود ہوتا ہے۔ یہ مرغی کی کلغی یا مٹر کے دانے کی طرح کا ہوتا ہے۔اس کا سائز تقریباً 1/5" تا 1/4" ہوتا ہے۔ تا ہم اس کا سائز چھوٹا/بڑا ہو سکتا ہے۔ بظر کو عورت کی ٹانگیں کھول کر آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ اچھی طرح سے دیکھنے کے لیے اس کے hood کو ایک طرف کردیں۔ بظر کو* *مشتعل(Stimulate) کرنے سے عورت لازماً آرگیزم حاصل کرلیتی ہے۔ یہ جنسی اشتعال میں اکڑ جاتا ہے لیکن جنسی اشتعال کے عروج اور آرگیزم کے بعد سکڑ جاتا ہے۔ بظر کا جنسی لطف کے علاوہ کوئی مقصد نہیں۔ چونکہ سے فرج سے دور تقریباً ڈیڑھ انچ کے فاصلے پر ہوتا ہے جس کی وجہ سے عام حالات میں پینس سیکس کے دوران اسکو ٹچ نہیں کرتا۔ اسکو عموماً انگلی سے ہی چھونا اور مشتعل کرنا پڑتا ہے۔ بظر کو چھونا فرج کو چھونے سے زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے۔ عورت کے آرگیزم کے بعد یہ کافی حساس ہو جاتا ہے پھر عورت کا اسے چھونا نا پسند ہوتا ہے۔ چھونے سے اسے تکلیف ہوتی ہے۔ تا ہم اسکی حساسیت بدلتی رہتی ہے۔ اس کا سب سے حساس حصہ اس کے اوپر والا حصہ ہوتا ہے۔ اگرچہ اسکے پہلو بھی بہت حساس ہوتے ہیں۔*
*2. جی سپاٹ (G-Spot):*
*بظر کے بعد عورت کا دوسرا حساس "جنسی حصہ" جی سپاٹ (G-Spot) ہے۔ اسکو ایک جرمن ڈاکٹر Earnest grafen berg نے 1950ء میں دریافت کیا تھا اور اب یہ اسی کے نام سے موسوم ہے۔ اگر عورت منہ آسمان کی طرف کر کے بستر پر لیٹ جائے تو یہ مقام اس کی فرج سے ایک دو انچ اندر فرج کی اوپر والی دیوار پر ہوتا ہے۔ اس کو مشتعل کرنے سے عورت زبردست آرگیزم حاصل کرتی ہے، مگر یہ آرگیزم خود لزتی اور مباشرت سے بلکل الگ ہوتا ہے، مگر بہت لطف انگیز۔ یہ عموماً چھوٹے لوبیے کی شکل کا ہوتا ہے، مشتعل کرنے پر یہ دگنا ہو جاتا ہے۔ ہر عورت کے جی سپاٹ کے سائز اور مقام میں فرق ہوتا ہے۔ اسے مشتعل کرنے سے عورت کو جھٹکا سا لگتا ہے، جگہ سوج جاتی ہے اور عورت کو پیشاب کی خواہش محسوس ہوتی ہے۔* *لہذا اسے مشتعل کرنے سے پہلے عورت کو پیشاب کرلینا چاہیے تا ہم اگر اشتعال جاری رہے تو 2 تا 20 منٹ کے مساج کے بعد عورت کو جنسی لطف محسوس ہونے لگتا ہے۔ جی سپاٹ کے آرگیزم سے 54 فیصد عورتیں پانی خارج کرتی ہیں اور 14 فیصد اخراج کرتی ہیں۔ یہ اخراج بے رنگ ہوتا ہے۔ تا ہم اخراج یا بغیر اخراج کے آرگیزم میں معمولی سا فرق ہوتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 80 فیصد عورتوں نے اس سب سے حساس جنسی حصہ قرار دیا۔ ایک اور سروے میں 66 فیصد عورتوں نے بتایا کہ ان کو اس جگہ کا علم ہے۔ ہمارے ہاں 95٪ لوگ اس حصے سے آگاہ نہیں۔* *ڈاکٹر Davidson اور انکے ساتھیوں کا خیال ہے کہ ہر عورت جی سپاٹ رکھتی ہے اور اخراج کی اہل ہے لیکن اخراج عموماً دوسرے یا تیسرے آرگیزم میں حاصل ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ عورت کئی بار آرگیزم حاصل کر سکتی ہے۔ مباشرت میں جی سپاٹ تک پہنچنے کے لیے پیچھے سے دخول یعنی Doggy Style زیادہ مناسب ہے۔ جبکہ بعض خواتین خود ہی خاوند کے زکر کو جی سپاٹ کے ساتھ رگڑ سکتی ہیں۔ عورت جی سپاٹ کو تلاش کرنے کے لیے اپنی فرج میں گھڑی کا تصور کریں۔ اس کے 12 بجے ناف پر تصور کریں اور جی سپاٹ 11 اور 1 بجے کے درمیان ہوگا۔ اس کی تلاش کے لیے اپنی دو انگلیاں فرج میں داخل کر کے اس مقام کو انگلیوں سے دائیں بائیں زور سے رگڑے وہ جگہ سوج جائے گی۔* *آپکو پیشاب کی خواہش محسوس ہوگی لیکن آپ RUB کرتی جائیں حتٰی کہ آپ آرگیزم حاصل کرلیں گی۔ اگر رگڑنا جاری رکھیں گی تو ایک سے زیادہ دفعہ آرگیزم حاصل کر سکتی ہیں۔*
*3.فرج(Vagina):*
*عورت کا تیسرا حساس ترین حصہ فرج (Vagina) ہے۔ ساری فرج حساس نہیں ہوتی بلکہ اس کا صرف بیرونی تیسرا حصہ 'ایک تا ڈیڑھ انچ حساس' ہوتا ہے۔بعض عورتوں کے فرج کے منہ کی بجائے دائیں اور بائیں اطراف زیادہ حساس ہوتی ہیں۔*
*4.لب(Labies):*
*عورت کے اندام نہانی (vulva) کے لب بھی حساس ہوتے ہیں۔ بیرونی لب جن پر بال ہوتے ہیں کم اور اندرونی سرخ لب زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ بعض اوقات عورت اندرونی لبوں کے اشتعال سے آرگیزم حاصل کر لیتی ہے*۔
*5.پستان (Breast):*
*جنسی لحاظ سے عورت کے پستان بھی بہت حساس ہوتے ہیں۔ بعض عورتیں پستانوں کے اشتعال سے بھی آرگیزم حاصل کرلیتی ہیں۔ پستان چھوٹے بڑے سائز کے ہو سکتے ہیں۔ مگر چھاتی کے سائز کا عورت کی جنسی حساسیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ چھوٹی چھاتیاں زیادہ جبکہ بڑی کم حساس ہو سکتی ہیں۔ پستان دیکھنے میں بھی جنسی طور پر بہت پر کشش ہوتے ہیں۔ ان کا سب سے حساس حصہ نپلز ہوتے ہیں۔ بہت سی عورتوں کی نپلز اور اندام نہانی کا بلاواسطہ تعلق ہوتا ہے۔ چنانچہ نپلز کو مشتعل کرنا دراصل ولوا کو مشتعل کرنا ہے۔ جنسی ہیجان میں نپلز تن جاتے ہیں لیکن دودھ پلانے والی عورتوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نپل نسبتاً زیادہ حساس ہوتا ہے۔ عورت کو ان باتوں کا علم ہونا چاہیے تا کہ وہ جنسی لطف کے لیے اپنے خاوند کو بتا سکے*۔
*6.سرین (Buttocks):*
*عورت کے سرین (چوتڑ) بھی کافی حساس ہوتے ہیں۔ ان کو چھیڑنا اور مشتعل کرنا عورت کو پسند ہے۔ یہ دیکھنے میں بھی کافی خوبصورت لگتے ہیں۔ بہت سے مرد صرف انکو دیکھ کر جنسی طور پر مشتعل ہو جاتے ہیں۔*
Post No 90👇
*🔮پستانوں پہ نیپلز کے اردگرد بالوں کا اگنا.....*۔
*اکثر لڑکیاں محض اس وجہ سے پریشان ہوتی ہیں کہ ان کی نیپلز کے اردگرد بال ہیں اور یہ سوچنے لگ جاتی ہیں کہ شائد یہ کوئی بیماری تو نہیں انہین لگ گئی ہے اور مختلف ٹوٹکے اور کریمیں / ادویات استمعال کرنے لگ جاتی ہیں اور اپنی بریسٹ کابیڑا غرق کر بیٹھتی ہیں*
*میرا سب ایسے بال رکھنے والی عورتوں اور لڑکیوں کیلئے یہ پیغام ہے کہ اس بات سے بالکل بھی پریشان نا ہوں ، یہ 80 فیصد غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نیپلز کے اردگرد 5 ، 6 یا 7 بال ہوتے ہیں اور بعض کی ناف کے اوپر بھی یہ بال قدرتی ہوتے ہیں۔ یہ کسی بیماری کی وجہ سے نہیں ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جب عورت حاملہ ہوتی ہے اور بریسٹ میں دودھ آنا شروع ہوتا ہے تو یہ بال خود بخود ختم ہو جاتے ہیں تو اس لیے پریشان ہونے والی تو کوئی بات نہیں ہے یہ ایک قدرتی عمل ہے۔*
*ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ ایسی لڑکیاں جن کے بریسٹ پر پیٹ اور ٹانگوں پر بال ہوتے ہیں انکی سیکس پاور زیادہ ہوتی ہے یہ جلدی فیلنگز آتی ہیں اور ڈسچارج ٹائمنگ بھی زیادہ ہوتی ہے*
*میری سب لڑکیوں سے گزارش ہے کے ان بالوں کو ختم کرنے کےلیے کوئی بھی کریم ، نسخہ یا طریقہ استمعال نہ کریں ورنہ یہ بال پورے بریسٹ پر پھیل سکتے ہیں بہت سی ایسی عورتیں ہوں گی جن کے بال تھے پرحاملہ ہونے کے بعد یہ بال خود بخود ایسے ختم ہوگئے ہوں گے جیسے یہ بال کبھی تھے ہی نہیں۔۔۔*
Post No 91 👇
*🔮سیکس ہے کیا بلا ؟۔۔۔*
*میں یہ دیکھ سن کر پریشان ہوں اتنے پڑھے لکھے لوگ اور انکے بچوں جیسے سوال اور وہ بھی ایک دو نہیں سینکڑوں کے حساب سے ایسے میسج پڑھنے کو ملتی ہیں جس میں لکھا ہوتا ہے کے ہم بہت پریشان ہیں*
*اپنی بیگم کو مطمئن نہیں کر سکتے کیا کریں ٹائمنگ نہیں ہے ایک منٹ بھی نہیں لگتے*
*نفس بلکل چھوٹا ہیں محربانی کرکے کوئی میڈیسن کوئی ٹریٹمنٹ بتائیں اسکے علاوہ بھی بہت سے لوگ میسج کرتے رہتے ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے آج یہ پوسٹ کی ہے*۔
*یہ پوسٹ مرد اور عورت دونوں کیلئے ہے ..میری سیکس سے* *متعلق جتنی بھی پوسٹ ہیں انکا مطلب یہی ہے کہ لوگوں کو آگاہی ملے میرے لئے یہ ایک ٹاپک کی حیثیت رکھتا ہے*
*یہ ایک ٹوپک ہے نا کہ پورن فلم*
*سیکس ہے کیا بلا ؟*
*کچھ لوگ سیکس کو ایک کام سمجھتے ہیں ، کچھ لوگ مزہ سمجھتے ہیں ، کچھ لوگ سب کچھ سیکس کو ہی سمجھتے ہیں ۔*
*قدرت نے ہمارے پورے جسم* *کی مشینری کو چلانے اور اسکی ضرورت کو سمجھنے کیلئے ہمیں آٹومیٹک کام کرنے والا ایک مِین یونٹ دیا ہے جسکو🧠 دماغ کہتے ہیں مشینری کے کسی پرزے میں کوئی مسلہ ہو مین یونٹ تک* *فورا اطلاع جاتی ہے جیسے ہی اطلاع ملتی ہے جسم کا ایک ایک پرزہ ایکٹو ہو جاتا ہے اور اسکو ٹھیک کرنے کیلئے کس چیز کی ضرورت ہے اس کوشش میں لگ جاتے ہیں*
*جب بھوک لگتی ہے تو ہمارے دماغ کی بتی جلتی ہے جس چیز کی جسم کو ضرورت ہو ہمیں اسی کی خواہش پیدا ہوتی ہے یہ نظام قدرت ہے پیاس لگتی ہے تو پانی پیتے ہیں*
*بھوک لگتی ہے تو ہم کھانا کھاتے ہیں کیا ہم اپنی بھوک پیاس کو ناپنے تولنے کیلئے دوسروں سے رابطہ قائم کرتے ہیں ؟*
*کیا ہم کسی سے پوچھتے ہیں ہمیں کتنا اور کیسے اور کیا کیا کھانا ہے ، جو دل چاہتا ہے ہم کھاتے ہیں جتنا دل چاہتا ہے اتنا کھاتے ہیں یہ نشاندھی ہماری اپنی ذات ہمارا اپنا دماغ کرتا ہے ہمیں سگنل ملتا ہے کہ ہمیں کھانا کھانا ہے ہمیں پانی پینا ہے جسم میں موجود کسی چیز کی کمی قدرتی طور پر ہمارے ذہن میں اس چیز کی ضرورت پیدا کر دیتی ہے ہماری سوچ ہمیں اس چیز کی طرف کھینچتی ہے جس چیز کی کمی ہمارے جسم کی مشینری محسوس کر رہی ہوتی ہے*
*اسی طرح جسم میں سیکس کی کمی ہمارے دماغ کی بتی جلاتی ہے ہماری ذہنی اور جسمانی حالت ہمیں نشاندھی کرواتی ہے اگر ہم دھیان دیں تو*،
*سیکس ہمارے پورے جسم کو smoothly چلانے والا تیل ہے ہماری سوچ کو تازہ دم* ، *مطمئن ، پر سکون اور سوچ میں جمع شدہ گردو غبار کو فلڑ کرتا ہے ہماری سوچ کے معیار کو واضع کرتا ہے ہماری قابلیت پہ پڑی مٹی ہٹا دیتا ہے ہمیں سیکس کی ضرورت کب ہوتی ہے ،کتنی ہوتی ہے ،کس وجہ سے ہوتی ہے، یہ سب ہمیں سوچنا ہے یہ ہمارا زاتی معاملہ ہے اور ہم دوسروں سے اسکے بارے میں رائے لیتے پھرتے ہیں کتنے بڑے بے وقوف ہیں*
*دوسری اہم بات ہم جب اپنے پارٹنر کے ساتھ ہوتے ہیں اس وقت بہت سے لوگ یہ سوچ کر ہی کچھ نہیں کر پاتے کہ اگر* *پرفارمینس بہتر نہ ہوئی تو بیگم کیا سوچے گی مزاق اڑائے گی دوسری بڑی احمکانہ سوچ* *اسی جگہ سے شروع ہوتی ہے*
*کیا شوہر خود کو سیکس ورکر سمجھتا ہے سیکس میاں بیوی کے درمیان پیار محبت کی ایک علامت ہے نا کہ خود کو گھوڑا 🐎منوانے کا ایک*
*نکاح کا رشتہ رب نے اسی لئے رکھا ہے تاکہ انسان حلال طریقے سے اپنی جسمانی خواہشات کو پورا کرے اور زندگی کے معاملات کو بہتر طریقے سے سر انجام دے سکے کیونکہ سیکس عورت اور مرد دونوں کے دماغ کو پرسکون رہنے اور انسانی مشینری کی خود کار مرمت کرنے کا ایک بہت بہترین ذریعہ بنایا گیا ہے*
*جس طرح ہم گاڑی کی حالت دیکھ کر سمجھ جاتے ہیں اب اسکو ٹیوننگ کی ضرورت ہے ہم اسکی اچھی پرفارمینس کیلئے اسکی مکمل ٹیوننگ کرواتے ہیں اسی طرح انسان کی زندگی کی گاڑی بہت پُر سکون چلتی ہے جب اسکی ٹیوننگ دل سے کی جائے اور وہ کیسے ہوگی جب ہم اپنا پیار اپنے جزبات اپنے احساسات کو پر جوش طریقے سے اپنے پارٹنر کے ساتھ شیئر کریں گے چاہے وہ زبان سے ہو یا جسمانی طور پہ.*
*سیکس کوئی کام نہیں ہے ایک احساس ہے جزبہ ہے جسکو میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے ہیں قدرت نے مرد اور عورت میں یہیں جسمانی attrection رکھی ہے ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہو ، اپنی چاہت اپنی مرضی اپنے ساتھی کے ساتھ شیئر کرو تم آزاد ہو جو چاہتے ہو جیسے چاہتے ہو نڈر ہو کر بے شرم ہو کر ذہن کو پر سکون رکھو اور اپنی کھیتیوں میں اپنی مرضی کا ہل چلاؤ دانہ ڈالو کھیلو سرگوشیاں کرو ،چاہے بچوں کی طرح شیطانیاں کرو*.
*جسم کا ہر حصہ اس احساس اور مزے کا لطف اٹھائے جیسے یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا یہ جسم دوبارہ نہیں ملنے والا یہ عمل جتنا آہستہ آہستہ اور ہلکے ہلکے پروان چڑھے نازک طریقے سے جانور بن کے پیار نہیں بلکہ ظلم کیا جاتا ہے نرمی اور سکون سے کیے گئے عمل میں ہی دلکشی دل اور دماغ کا سکون چھپا ہے*
*اسکو دو لوگوں کی خوبصورت محبت ہی کہیں گے ناکہ اسکو ایک دوسرے پہ سبقت حاصل کرنے کا ہنر سمجھا جائے ، پُر اعتماد طریقے سے کیا گیا ہر کام ٹائم بھی زیادہ لیتا ہے اور نتائج بھی اچھے دیتا ہے*
*دو لوگوں کی زندگی کا سب سے خوبصورت لمحہ ہے جسکو بے وقوف مردوں اور عورتوں نے گھر کے دوسرے کاموں کی طرح ایک مشکل کام کا نام دے رکھا ہے*
*کچھ تو سوچئے رب نے سوچ سوچنے کیلئے دی ہے*
Post No 92👇
*🔮سیکس (SEX)کے معاملے میں ہمارا سماج اس وقت ایک عجیب کشمکش میں مبتلاء ہے*......۔
*ایک طرف شرم وحیا کو ایک بڑی اخلاقی قدر کے طور پر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ لوگ جنسی موضوعات پر سنجیدہ گفتگو کرنے کو بھی انتہائی معیوب سمجھتے ہیں اور دوسری طرف عالم یہ ہے کہ معاشرے میں جنسی بے راہ روی اور فحش گفتگو بھی عام ہوتی جارہی ہے۔یہ درست ہے کہ مخصوص لوگ یا ماحول میں اس موضوع پر گفتگو کرنا حیا اور ادب کے تقاضوں کے خلاف ہے مگر اسے مکمل طور پر Tabooیعنی ممنوع سمجھا جانے کا رویہ بھی کسی طرح قابل دفاع نہیں ہے۔ ضروری مواقع پر ، بالخصوص بچوں سے مصنوعی حیا کی بنیاد پر جنسی گفتگو نہ کرنا ایسے گھمبیر مسائل پیدا کردیتا ہے جس کا ادراک فی الوقت صرف جدید نسل ہی رکھتی ہے۔والدین اور بچوں کے سرپرستوں کو اس بات کا شعور ہونا چاہیے کہ بچوں کی جنسی تربیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کی تربیت کا کوئی اور پہلو۔*
*بچوں کو اس بات کا احساس دلانا ہماری اوّلین ذمہ داری ہے کہ مرد یا عورت ہونا کسی کمی یا برتری کی بدولت نہیں بلکہ نظامِ قدرت ہے ۔ ان کے جسم کے مخصوص اعضاء ویسے ہی ان کے جسم کا حصہ ہیں جیسے باقی حصے۔ بچوں کو اس بات کا یقین دلائیں کہ وہ آپ کے ساتھ بغیر کسی خوف کے کوئی بھی بات کر سکتے ہیں ، چاہے وہ جنسی معاملات کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔ صرف اس تحفظ کے ذریعے ہی آپ اپنے بچوں کو متبادل ذرائع استعمال کرنے سے روک سکتے ہیں ۔ اس مضمون میں ہمارے پیش نظر والدین کو بچوں کی جنسی تربیت کے چند بنیادی پہلوؤں سے روشناس کرانا ہے۔ موضوع کی مناسبت سے کچھ الفاظ یا جملے “غیر شائستہ ” بھی ہو سکتے ہیں، جن کے لیے احباب سے پیشگی معذرت کا طلبگار ہوں*۔
*بچے اپنی عمر کے اوائل سے ہی اپنے گرد و نواح میں ہونے والی باتوں کو غور سے دیکھتے ہیں، اور ان سے سیکھتے ہیں، جنسی معاملات میں بھی ان کے پہلے استاد ان کے والدین ہوتے ہیں۔ والدین کے علاوہ باقی افراد،اور میڈیا بھی بچے کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔*
*اوائلِ عمر میں بچے ننگا رہنے سے نہیں شرماتے، لہذا اسی عمر سے ان کو اپنے جسم کی اہمیت اور دوسروں کے سامنے ننگا رہنے سے روکنے کی ابتدا کر دینی چاہیے، مگر اس میں مذاق بھری حکمت یا محبت کا عنصر شامل ہو۔*
*تین سال تک بچے عموماً بولنا سیکھ جاتے ہیں، اور سوال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ مثلاً “میں کہاں سے آیا ؟” یہی سوال پانچ سے چھ سال کی عمر میں “بچے کیسے پیدا ہوتے ہیں ” کی شکل اختیار کرتا ہے۔ اس کا جواب بھی سچائی پر مبنی ہونا چاہیے مگر حکمت کے ساتھ ۔ مثلاً آپ کہہ سکتے ہیں کہ “بیٹا، الله تعالی نے ایک قانون بنایا ہے کہ جب امی ابو کی شادی ہوتی ہے، اور وہ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں تو الله امی کے پیٹ میں ایک چھوٹا سا انعام پیدا کرتا ہے، اور جب وہ بڑا ہو جاتا ہے تو وہ باہر آ جاتا ہے ، سب بچے اسی طرح پیدا ہوتے ہیں۔”*
*سات سے نو سال کی عمر میں بچوں کو آہستہ آہستہ جنسی معاملات سمجھانے کی ابتدا کر دیں، اس عمر میں بچہ اپنے نظریات اور اخلاق کی بنیادیں رکھنا شروع کر دیتا ہے ۔ لہٰذا اسے یہ بات سمجھنے میں مدد کریں کہ اس کا جسم اس کے پاس الله کی امانت ہے، اور اس کو اس کا استعمال بھی الله کی مرضی کے مطابق کرنا چاہیے۔ ہمارا جسم چھپانے کی چیز ہے، یہ دوسروں کو دکھانا نہیں چاہیے۔ بچوں کو جنسِ مخالف کی عزت کرنا، ان کو اہمیت دینا سکھائیں تاکہ کہ وہ مثبت معاشرتی طرز عمل کا مظاہرہ کرنا سیکھیں۔*
*نو سے گیارہ سال کی عمر میں بچے بلوغت کی طرف بڑھنا شروع کر دیتے ہیں، ان کو جسم میں آنے والی تبدیلیوں، اور ان کے متعلقہ شرعی احکامات سے آگاہ کریں۔ ان کے ذہن کو ان تبدیلیوں کا مناسب طریقے سے سامنا کرنا سکھائیں تاکہ وہ ان سے خوف زدہ ہو کر کسی ذہنی الجھن کا شکار نہ ہوں۔ اسی عمر میں بچوں کو مختلف جنسی برائیوں کے بارے میں مناسب طریقے سے آگاہ کریں۔ ان کو زنا کی برائیوں کا شعور بھی دلائیں، یہ بات ذہن نشیں کرائیں کہ ہمارا جسم اتنا بےوقعت نہیں کہ اس کو کسی کے بھی حوالے کر دیا جائے، بلکہ یہ تو الله کا بہت خاص تحفہ ہے، جو صرف اس کی پسند کے مطابق استعمال کرنا چاہیے۔ ان کو دوسروں سے بات کرنے اور بلخصوص جنسِ مخالف سے میل جول کے آداب سے روشناس کرائیں۔*
*ان باتوں کے علاوہ جن باتوں کا تمام مراحلِ نشو و نما میں خیال رکھنا چاہیے وہ یہ ہیں* :
*بچوں کو کبھی سوال کرنے سے نہ ڈرائیں، ان کو یہ اعتماد دلائیں کہ آپ ہر انسان سے بڑھ کر ان کے دوست ہیں، وہ آپ کے ساتھ ہر طرح کی بات کر سکتے ہیں ۔ وہ آپ سے اپنے مسائل پر گفتگو کر سکتے ہیں ۔ وہ ادھر ادھر سے سنی سنائی باتیں آپ کو بتا سکتے ہیں۔ سوالوں کا جواب ہمیشہ سچائی پر مبنی ہو، مگر اس میں بچے کی عمر اور اس کی ذہنی صلاحیتوں کا لحاظ رہنا چاہیے*۔
*یہ بات یاد رکھیں کہ آپ اگر کوئی بات شرم کی وجہ سے ان کو نہیں بتائیں گے تو ان کی جستجو ختم نہیں ہو گی، وہ کسی بھی طرح اپنے سوالوں، اپنی الجھنوں، اپنے تجسسات کا جواب کسی اور جگہ تلاش کریں گے ، شاید کسی ایسی جگہ جو ان کو کسی غلط جواب یا کسی غلط ماحول میں لے جائے اور آپ کی شرم ان کی اخلاقی تباہی کا سبب بنے ۔ بچوں کی دوستی، میل جول پر نظر رکھیں۔ ان کو بری صحبت سے بچائیں مگر پیار کے ساتھ، غصہ یا زبردستی بچوں کےذہن میں بغاوت پیدا کرتا ہے یا اس کو دوہری شخصیت جیسے مرض میں مبتلا کر دیتا ہے۔*
*بچے کے کسی سوال یا عمل سے آپ کو کوئی چیز معمول سے ہٹ کر لگے تو اس کو نظر انداز نہ کریں، بلکہ کسی ماہرِ نفسیات سے رابطہ کریں*۔
*آج کل انٹرنیٹ پر والدین کی اس حوالے سے تربیت پر مبنی کافی مواد آسانی سے مل سکتا ہے لہٰذا والدین ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کیجئے اور اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی کوشش کیجئے، جو صرف الفاظ، سنی سنائی کہانیوں سے نہیں، بلکہ مسلسل محنت اور علم کے حصول سے ہی ممکن ہے* ۔
*اور ان سب کوششوں کے بعد الله سے ہر وقت اپنے بچوں کے لیے دعا گو رہیں کہ وہ ان کو بری صحبت، برے ماحول اور برے اخلاق سے محفوظ رکھے اور آپ کو ان کی بہترین تربیت کرنے کی توفیق دے ۔ آمین*
Post No 93, 👇
*🔮جنسی لحاظ سے مرد کے حساس حصّے....*
*بے شک مرد بہت جلدی جنسی طور پر مشتعل ہو جاتا ہے اور فورا جنسی ملاپ کے لیے تیار ہو کر منزل ہونا چاہتا ہے*
*لیکن جنسی لطف کے حصول کے لیے اسے بھی بیوی کے ساتھ کی بہت ضرورت ہوتی ہے-*
*اس لیے بیوی کے لیے بھی مرد کے جنسی لحاظ سے حساس حصّوں کے بارے میں جاننا بے حد ضروری ہے*-
*عضو خاص Penis*
*مرد کے جنسی لحاظ سے حساس حصّوں میں سب سے پہلا نمبر پر اس کے ذکر کا ہے*- *مرد کے ذکر کو اگر چھو بھی*
*لیا جایے تو مرد فورا جنسی طور پر مشتعل ہو جاتا ہے- اور جنسی ملاپ کے لیے تیار ہو جاتا ہے- خصوصا مرد کے*
*ذکر کی ٹوپی جسے حشفہ کہتے ہیں بہت ہی حساس ہوتی ہے ٹوپی کے گرد گول دائرے کے کنارے بھی بہت حساس*
*هوتے ہیں اور ٹوپی کے کے نیچے والا حصّہ جو ذکر کے ساتھ ٹوپی کو ملتا ہے جو بلکل گوشت کے ایک چھوٹے سے*
*ٹکڑے یا جھلی نما ہوتا ہے بہت ہی حساس ہوتا ہے اگر مرد کے جنسی ہیجان کے دوران اس جھلی کو انگلی اور انگوٹھے*
*میں دبا کر پیار سے مسلا جائے تو مرد جنسی لطف کی انتہا کو چھو لیتا ہے- اور منزل بھی ہو سکتا ہے*-
*ران Thai*
*اس کے بعد مرد کا جنسی طور پر حساس حصّہ رانوں کا اوپر والا اور اندرونی حصّہ ہوتا ہے*- *اگر جنس مخالف مرد کی*
*رانوں کے اوپر اور اندرونی حصّے کو پیار سے دباے تو مرد جنسی طور پر مشتعل ہو جاتا ہے اور فورا جنسی ملاپ*
*کے لیے تیار ہو جاتا ہے – اگر اس کے ساتھ ساتھ مرد کے* *ہونٹوں کو بھی چوما جاے تو* *مرد جنسی لطف و لذّت کی انتہا*
*کو پا لیتا ہے اور مرد ہمیشہ اسی عورت سے محبّت کرتا ہے جو اسے بھرپور جنسی لطف دیتی ہے-*
*نیپلز Nipples*
*مرد کی چھاتی کے نپلز بھی جنسی لحاظ سے بہت حساس هوتے ہیں بیوی اگر صرف اپنی انگلی سے ہی مرد کے نپلز*
*کو Rubb کرے تو مرد اس سے بہت لطف اندوز ہوتا ہے اور اگر جنسی ملاپ کے دوران بیوی اپنے شوہر کے نیپلز کو*
*چومے کاٹے اور چوسے تو مرد اس سے بے پناہ لطف حاصل کرتا ہے اور اس کے دل میں اپنی بیوی کے لیے بے حد*
*محبّت بڑھ جاتی ہے-*
*پراسٹیٹ*
*پراسٹیٹ بھی جنسی طور پر* *مرد کو مشتعل کرنے میں اھم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کو* *بھرپور جنسی لطف و سرور*
*حاصل ہوتا ہے* – *یہ مردانہ جی سپاٹ بھی کہلاتا ہے یہ مرد کے مقعد کے اندر Testicless اور مقعد کے درمیان والی*
*جگہ میں ہوتا ہے اگر اسے باہر سے ہی مرد کے مقعد اور ٹیسٹکل کے درمیان والی جگہ سے دبایا جاے تو مرد بہت مز*
*ہ لیتا ہے اور بہت سکوں محسوس کرتا ہے*-
*اس کے علاوہ مرد کی پیٹھ کندھا ہونٹ کمر اور انگلیاں بھی جنسی لحاظ سے حساس ہوتی ہیں-*
*اس لیے مرد اور عورت دونوں* *کو چاہیے کے اپنے اپنے جنسی لحاظ سے حساس حصّوں کا اچھی طرح جائزہ لیں تا کے*
*اپنے پارٹنر کو بتا سکیں کے وہ کس طرح ارگیزم حاصل کر کے لطف اندوز ہو سکتے ہیں-* *ضروری نہیں ہے کہ ہر بار*
*ایک ہی طریقہ اپنایا جاے ضرورت کے مطابق جنسی حصّوں کی اہمیت کو بدلہ بھی جا سکتا ہے- یقین جانیے اگر میاں بیوی*
*میں اس بات کی understandingg ہو جاے تو دونوں ہی بھرپور طریقے سے اپنی جنسی زندگی گزاریں گے- اور ہمیشہ*
*خوش اور مطمئن رہیں گے*-
Post No 94 👇
*🔮بیوی سے ملاقات کے بعد منہ پھیر کر نہ سویئں....*
بیشک انسان نکاح کے بعد سکون کے لیۓ بیوی سے ملاقات کرتا ہے لیکن ملاقات کے بعد نتیجہ کچھ یوں نکلتا ہے کہ فورن میاں بیوی منہ پھیر کر سو جاتے ہیں۔۔۔!!!
یہ انتہائ غلط طریقہ ہے میرے عزیزو۔۔۔!!!
جب شوہر اپنی بیوی سے سکون حاصل کرلے تو یہ حقیقت ہے کہ کمزوری کے باعث نیند کا غلبہ زیادہ ہوتا یے اور کروٹ بدل کر سونے کو ترجیح دیتا ہے سب نہیں لیکن اکثریت کا معمول یہی یے، ضرورت پوری ہونے کے بعد مرد ایک دم ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسے جانتا ہی نہیں ہے۔ اور یقین جانیں یہ جانوروں والا طریقہ ہے کہ جب خواہش پوری ہوتی یے تو دونوں اپنی سمت چل پڑتے ہیں گویا کام نکالنے سے مقصد تھا لیکن ہم انسان ہیں اشرف المخلوقات ہیں۔۔۔!!!
بیوی سے ملاقات سے جیسے ہی فارغ ہوجایئں تو بیوی کی پیشانی پر بوسہ دیں، اس سے محبت کا اظہار کریں کہ اس کے ذریعے اپ کی حلال خواہش تکمیل کو پہنچی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے آپ کے سکون کا ذریعہ بنایا لہذا بہت ضروری یے کہ ملاقات کے بعد بیوی کی پیشانی پر بوسہ دیا جاۓ اور اس سے اپنی محبت کا اظہار کیا جاۓ، عورت کا باقاعدہ دل کرتا ہے کہ میرا شوہر کچھ دیر مجھ سے باتیں کرے۔۔۔!!!
کوئی بھائی میرے اوپر فتوے نا لگا دے کہ یہ اپ کیسی گفتگو کر رہے ہیں تو میرے بھائی یہ ہمارے معاشرے کی حقیقت ہے کہ اکثریت ہماری ایسی یے کہ ملاقات کرکے ایسے منہ پھیر کر سوتے ہیں کہ بیوی سے اظہار محبت دور غسل چھوڑ دیتے ہیں فجر نماز چھوڑ دیتے ہیں اور آنکھ ہی صبح جا کر کھلتی یے۔۔۔!!!
لہٰذا ہمبستری کے بعد بیوی سے پیار و محبت کا اظہار اشد ضروری یے گویا یہ آپ اسے اپنی محبت کا احساس دلا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان رشتہ قائم کیا اور اسی رشتہ کے طفیل اپ نے میری خواہش کو پورا کیا۔۔۔!!!
خواہش پورا ہونے کے بعد جانور بھی منہ پھیر کر چل پڑتے ہیں لیکن ہم انسان ہیں، ہم اشرف المخلوقات ہیں اور سب سے بڑی بات ہم امت ہیں محمدﷺ ۔۔۔..
Post No 95 👇
*🔮خواتین میں غیر متوازن ہارمونز کی 10 علامات....*▪
*مردوں کے مقابلے خواتین کا ہارمونل نظام زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے اور اس میں انتشار کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔یہ نظام متاثر ہو تو مزاج، رویہ، اچھی شخصیت اور ظاہری روپ بھی متاثر ہوتے ہیں۔*
*خواتین کیلئے ہارمونز میں تبدیلی کی ان نشانیوں کو سمجھنا ضروری ہے۔بروقت ڈاکٹر سے رجوع کیا جاسکے۔ یہاں آپ کو ہارمونل تبدیلی کی دس نشانیوں کے بارے میں بتا رہے ہیں*۔
❔ *اچانک کیل مہاسے*❔
*کیل مہاسے اور بلیک ہیڈز اس وقت نمودار ہوتے ہیں جب مسام بند ہوجائیں، تاہم کچھ طبی ماہرین کا دعویٰ ہے کہ کیل مہاسوں کا بے وقت نکلنا جسم میں ہارمونز میں اچانک تبدیلی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اینڈروجن کی سطح میں کمی پورے جسم پر کیل مہاسوں کا باعث بنتی ہے۔ ایسا نوجوانی کے دور میں خواتین کے ساتھ اکثر ہوتا ہے تاہم درمیانی عمر میں بھی اس کا امکان ہوتا ہے۔*
✨ *اکثر سردرد*✨
*اگر کسی خاتون کو اکثر سردرد کی شکایت رہتی ہے (ذہنی تناﺅ یا تھکاوٹ سے ہٹ کر) تو یہ ایسٹروجن کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ ایسٹروجن ایسا ہارمون ہے جو خواتین میں دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے میٹابولک پراسیس کو کنٹرول کرتا ہے، اگر اس کی مقدار بہت زیادہ یا بہت کم ہوجائے تو آدھے سرکا درد یا چڑچڑے پن کی شکایت ہونے لگتی ہے۔*
💤 *بے خوابی کی شکایت*💤
*بے خوابی ایک خطرناک علامت ہے۔ کیونکہ یہ پروجسٹرون کی انتہائی کم سطح سے جڑی ہوتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ہارمون قدرتی طور پر پرسکون رکھتا ہے اور نیند کو معمول پر لاتا ہے، اس کی سطح میں تبدیلی اکثر بے خوابی کا باعث بنتی ہے۔ عام طور پر خواتین جب بچوں کو جنم دیتی ہیں تو ایسٹروجن اور پروجسٹرون کی سطح میں کمی دیکھنے میں آتی ہے مگر اس سے ہٹ کر ایسا نہیں ہوتا۔ تو اگر ایسا ہو تو یہ ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا اشارہ ہے۔*
❄ *بہت زیادہ پسینہ آنا*❄
*اچانک بہت زیادہ پسینہ بہنا یا بخار ہارمونز کے توازن میں گڑبڑ کی بڑی علامات میں سے ایک ہے، ہارمونز جسمانی درجہ حرارت کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان میں عدم توازن کی صورت میں اچانک گرمی کا احساس بڑھ جاتا ہے، پسینہ بہنے لگتا ہے اور بخار جیسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے*۔
🥀 *مسلسل تھکاوٹ*🥀
*ہر ایک کو کسی نہ کسی وقت تھکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے تاہم اگر کسی خاتون کو ہر وقت تھکاوٹ کا احساس ہو، چاہے مناسب آرام ہی کیوں نہ کررہی ہوں، تو یہ ہارمونز میں عدم توازن کی علامت ہوسکتی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق شدید تھکاوٹ تھائی رائیڈ ہارمونز بننے کے عمل میں مسائل کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔*
❗ *وزن میں اچانک تبدیلی*❗
*اگر ہارمونز کا نظام متوازن نہ ہو، تو جسمانی وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے ، چاہے آپ صحت بخش غذاﺅں کا ہی استعمال کیوں نہ کریں۔ مخصوص ہارمونز کی کمی یا زیادتی جسم میں چربی کو بڑھانے جبکہ مسلز کے حجم میں کمی کا باعث بنتی ہے۔ مثال کے طور پر ایسٹروجن، کورٹیسول یا انسولین کی سطح میں اضافہ جسم میں چربی کے ذخیرے کا باعث بنتی ہے۔اسی طرح تھائی رائیڈ ہارمونز کی سطح میں کمی میٹابولزم کو سست کرکے جسمانی حجم کو بڑھاتا ہے*۔
💎 *بالوں کا گرنا*💎
*بالوں کا بہت زیادہ گرنا بھی تھائی رائیڈ، انسولین یا ٹیسٹوسیٹرون کا نتیجہ ہوسکتا ہے، مثال کے طور پر مردوں میں یہ ہارمونز ان کے جسم کو بھاری اور بالوں سے بھرتا ہے۔ مگر خواتین میں اس ہارمون کی زیادہ مقدار اکثر گنج پن کی جانب لے جاتی ہے*۔
✨ *نظام ہاضمہ کے مسائل*✨
*ایسٹروجن کی سطح میں اضافہ آنتوں کے مائیکرو فلورا پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی طرح اس ہارمون کی زیادہ سطح معدے کے درد اور جکڑن کا باعث بن سکتی ہے۔باتیں بھولنا مسلسل باتیں بھولنا اور چیزوں پر توجہ مرکوز نہ کرپانا مختلف عناصر کا نتیجہ ہوسکتا ہے ، جن میں ہارمونز کے نظام میں عدم توازن بھی ایک وجہ ہے۔ کورٹیسول اور ایسٹروجن کی سطح میں کمی اس کا باعث بنتی ہے*۔
💭 *یادداشت*💭
*مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ایسٹروجن کی سطح میں کمی چیزیں بھولنے کا باعث بنتی ہے، توجہ مرکوز نہیں ہوپاتی اور غیر شفاف ذہن، اسی طرح کورٹیسول کی سطح میں کمی مختصر المدت یاداشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔*
🍲 *بھوک پر قابو نہ رہنا*🍲
*بھوک اور اشتہا کو کنٹرول کرنے میں ہارمونز کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور ان کا توازن بگڑنا بھوک کو کنٹرول سے باہر کردیتا ہے۔ اسےکنٹرول کرنے کے حوالے سے لپٹن اور گیرلین کا کردار اہم ہوتا ہے، جن میں سے لپٹن بھوک کو کم کرتا ہے جبکہ گیرلین جسم کو بتاتا ہے کہ ہمیں کب کھانا چاہیے*۔
Post No 96 👇
*عورت اور احتلام*
*جیسے مرد کو سوتے ہوئے احتلام ہوتا ہے ویسے ہی عورت کو بھی نیند میں احتلام ہو جاتا ہےجس سے غسل فرض ہو جاتا ہے آجکل ویسے ہی انٹرنیٹ کادور ہے اکثر لڑکے لڑکیاں یاوہ شادی شدہ عورتیں جن کےشوہر روزگار کے لئے ملک سے باہر ہیں جب وہ فون کال پر رومنٹینک باتیں کرتے ہیں تو اکثر عورتوں اور لڑکیوں کی فرج سے پانی خارج ہو جاتا ہے جس پروہ غور نہیں کرتی اس پر بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔شہوت کےساتھ خواب میں احتلام ۔جنسی پانی۔منی۔ خارج۔ ہو جائے یا بیداری کی حالت میں کسی خیال میں پانی منی خارج ہو جائے تو مردوں کی طرح عورتوں پر بھی غسل فرض ہے ام سلیم رضی اللہ عنہا نےعرض کیا یانبیؐ اللہ حق بات سے نہیں شرماتا کیا عورت کو جب احتلام ہوتو اس پر غسل واجب ہے۔ نبیؐ نے فرمایا کے ہاں جب عورت اپنے کپڑوں وغیرہ پر پانی کے آثار یا نیشان دیکھے تو اس پر غسل فرض ہے پر آج کل پڑھی لکھی لڑکیاں ساری ساری رات انٹرنیٹ پر ہم جنس پرستی پر باتیں کرتی رہتی ہیں جس سے ان کی صحت پر کتنے برے اثرات پڑ رہے ہیں اور ان کوخبرہی نہیں*۔
*پلیز ان معلومات کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں*
Post No 97 👇
*🌀حمل ٹہرنے کی علامات یہ ہیں.....؟*
*حمل کی بہت سے علامات ہیں جن کا جاننا بہت ضروری ہے* ۔ *کیونکہ یہ زندگی کا اہم وقت ہوتا ہے اس لئے اس کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے ۔کیونکہ یہ آپ کی صحت کے لئے ضروری ہے۔ حمل ٹھہرنے کی کچھ علامات درج ذیل ہے* ۔
*حمل کی سب سے عام علامت تو ماہواری کانہ آنا ہے۔ اگر اس سے پہلے آپ کے ایام ماہواری باقاعدہ تھے اور آپ نے بغیر کسی حفاظتی اقدام کے ہم بستری کی ہے تو اگلی ماہواری کے ایام کے دس دنوں بعد بھی ماہواری نہ آنے کی صورت میں میں یہ خیال آ جانا چاہئے کہ حمل ٹھہر چکا ہے کیونکہ اگر ماہواری اس سے پہلے ہمیشہ باقاعدگی سے آئی ہو تو ایک بار ماہواری نہ آنے کا سب سے بڑا سبب حمل ٹھہرنا ہی ہے۔ البتہ اگر اس سے پہلے بھی ماہواری باقاعدہ نہیں تھی تو پھر دوسری علامات جاننا بھی ضروری ہے*۔
*حمل ٹھہرنے کی دوسری علامات کونسی ہیں*؟
*چھاتیاں بڑی اور زیادہ حساس ہو جاتی ہی۔ چھاتیوں کی سطح پر نسوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ نپل کےارد گرد چھوٹے چھوٹے دانے بن جاتے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ اور زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں اور ارد گرد کی جلد کا رنگ گہرا ہو جاتا ہے۔*
ًٌ*کچھ خواتین کو صبح بستر سے اٹھنے کے بعد متلی ہوتی ہے اور صبح کے وقت طبیعت خراب* *رہتی ہے،بعض خواتین کے ساتھ ایسی صورت حال دن کے باقی اوقات میں بھی ہو سکتی ہے۔ متلی کی یہ کیفیت حاملہ خواتین کے جسم میں ہارمونز کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے ہوتی اور عام طور پر یہ وہ پہلی علامت ہوتی ہے جو اکثر خواتین محسوس کرتی ہیں۔ عام طورپر یہ حمل کے چودہ ہفتوں تک خود بخود ختم ہو جاتی ہے*۔
*بعض عورتوں میں پیشاب زیادہ آنے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے۔ عام طور پر خواتین دن میں تین سے پانچ مرتبہ پیشاب کرتی ہیں اور انہیں رات کو سوتے میں پیشاب کرنے کیلئے اٹھنا نہیں پڑتا جبکہ حمل کے دوران اکثر خواتین کو دن میں ہر ایک یا دو گھنٹے کے بعد پیشاب کی حاجت ہوتی ہے اور رات کو سوتے میں بھی ایک دو مرتبہ اٹھنا پڑتا ہے۔*
*کئی مرتبہ حاملہ خواتین کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جاتا ہے اور بہت سی ایسی چیزیں جو انہیں عام طور پر بہت پسند ہوتی ہیں بے ذائقہ لگنے لگتی ہے*۔
*اہم بات یہ ہے کہ سب حاملہ خواتین میں یہ علامات نہیں پائی جاتیں۔ سو اگر آپ کے ایام ماہواری باقاعدہ رہے ہیں اور اس بار آپ کو ماہواری کچھ دن گزرنے کے باوجود بھی نہیں آئی تو بہت زیادہ امکان ہے کہ حمل ٹھہر گیا ہو۔ تو فوری طور اپنے معالج سے رجوع کریں*
*ڈاکٹر حمل ٹھہرنے کی تصدیق کیسے کرے گا*؟
*ڈاکٹر آپ کا جسمانی معائنہ کرے گا اور چند بنیادی سوالات کرے گا۔*
* *علاوہ ازیں وہ اندرونی طور پر معائنہ بھی کرے گا۔ آپ کی کوکھ نارمل سے بڑی محسوس ہوگی* ۔
*حمل کے چھٹے سے آٹھویں ہفتے تک یہ تبدیلیاں عام طور پر آسانی سے معلوم کی جاسکتی ہیں*۔
*اس کے باوجود حمل کی تصدیق کیلئے سب سے اہم اور آرام دہ طریقہ پیشاب کا ٹیسٹ ہے۔*
*حمل کے لئے پیشاب کا ٹیسٹ کیا ہوتا ہے*؟
*ابتدائے حمل میں ایک ایسا ہارمون پیدا ہونا شرو ع ہو جاتا ہے جو آخری ماہواری سے* *تقریباً20 دن بعد پیشاب میں آنا شروع ہوتا ہے اور 80-60دن میں پیشاب میں اس کی مقدار اپنی انتہا پر پہنچ جاتی ہے*۔ *ٹیسٹ کا اصول یہ ہے کہ پیشاب میں یہ ہارمون دریافت کیا جائے۔ اس کے لیے دن کے کسی وقت کا پیشاب بھی لیا جاسکتا ہے لیکن بہتر ہے صبح کا پیشاب ایک صاف بوتل میں لے کر بارہ گھنٹے کے اندراندر ٹیسٹ کیا جائے۔ اب تو ایسی پریگننسی ا سٹیکس بھی موجود ہیں جس سے ابتدائی جانچ کی جاسکتی ہے*
Post No 98 👇
*(لڑکی کی شرم گاہ کو چاٹنا)*
*مرد اور عورت کی شرم گاہ کی صفائی اور خوبصورتی میں زمین آسمان کا فرق ہوتاہے جیسے مرد کی شرم گاہ بہت ہی زیادہ خوبصورت اور پیاری صاف ستھری سرخ لال بلڈ سے پاک اور محبت نما لزیزہ ہوتی ہے*
*ویسے عورت کی شرم گاہ خوبصورت اور صاف ستھری نہی ہوتی کیوں کے عورت کی شرم گاہ سے پیپ نکلتی ہے پیریڈ بلڈ نکلتا ہے*
*اور اکثر لڑکیاں بہت زیادہ فنگرنگ کی وجہ سے لیکوریہ مرض کی مریض ہوجاتی ہیں اور لڑکیوں کی شرم گاہ سے جوش سے بھرے سیکس کے وقت* *
*صرف منی کے ڈراپ ہی نہی بلکہ ساتھ میں یورن ڈراپ چھوٹے پیشاب کے قطرے بھی نکلتے رہتے ہیں*
*تو ایسے میں اگر کوئی کم بخت مرد جوش میں آکر کفاروں جیسے عمل پر اتر آئے شرم گاہ کو چاٹنے چوسنے لگ جائے*
*تو ایک تو وہ چاٹنے کے وقت عورت کا ناپاک پانی ہی پی جاتا ہے دوسرا اگر وہ لیکوریہ پیشن ہو تو اس کی وجائینا سے ایک اور قسم کا سفید پانی نکلتا ہے وہ اندر چلا جاتا ہے*
*تیسرا اس کی وجائینا سے بہت زیادہ لذت کے وقت شہوت کے پانی کے ساتھ ساتھ چھوٹے پیشاب کے ڈراپ بھی نکلتے ہیں اس پر بھی کتے کی طرح زبان لگا لگا کر چوستا رہتا ہے*
*اور سب سے ناپاک بات یہ ہےکے شرم گاہ کا ایک ایک بال جڑوں تک چوستا رہتا ہے اگر گھر کی عورت کے سر کا بال کھانے میں نکل آئے تو گھر کی عورت کے ساتھ بکواس شروع کر دیتا ہے*
*اور جوش میں شرم گاہ کے بال چوستا رہتا ہے لڑکیوں کی شرم گاہ کو چاٹنے سے لڑکیوں کو تو بہت ہی زیادہ مزہ لزت جوش آتا ہے اور تڑپ تڑپ کر فارغ ہوجاتی ہے*
*لیکن مرد کے لیے بہت ہی زیادہ نقصان دہ ہوتا ہے آج مغرب میں سب سے زیادہ ہونے والا مرض ایڈز اور منہ کا کینسر ہے جس کی وجہ ہی اورل سیکس ہے*
*مغرب نے دنیا کو اورل سیکس کی طرح مائیل تو کر دیا ہے لیکن اب مغرب اورل سیکس سے پھیلی جانے والی امراض سے خود کو نہی نکال سکتا*
*اور تو اور کل میں WHO کا اورل سیکس سمنیار پڑھ رہی تھی تو اس میں کچھ ایسے مردوں کی تصویریں بھی لگائیں گئی تھی جنہوں کی زبان پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلے ہوئے تھے ہی*
*بالکل ویسے ہی جیسے کتوں کے کانوں کے آس پاس کچھ گول مٹول جاندار پاسو یا پتہ نہی اسے کیا کہتے ہیں چپکے ہوتے ہیں*
*جو کتوں کا خون چوستے ہیں نام نہی آتا اس کا پر بالکل اسی چیز کی طرح کے دانے زبان پر قدرتی نکلے ہوئے تھے*
*اور ایک دو تصاویر میں زبان کے اپر موٹے موٹے بال نکلے ہوے تھے*
*اگر کسی کو میری پوسٹ بری لگے تو معذرت*
Post No 99 👇
*جو مرد صبح کے وقت بیوی سے ہمبستری کرتے ہیں کبھی مردانہ کمزوری کا شکار نہیں ہوتے*
*آخر کیوں*
*جو مرد صبح اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت کرتے ہیں وہ لوگ* *کبھی بھی مردانہ کمزوری کا شکار نہیں ہوتے ہیں اور ان کی مردانہ طاقت دن با دن بڑھتی رہتی ہے کیوں کہ اس وقت ان کے جسم میں بے پناہ جسنی طاقت موجود ہوتی ہے اس وقت جنسی کمزوری کا شکار افراد بھی بہتر انداز میں ہمبستری کر سکتے ہیں کیونکہ ایریکشن اپنے عروج پر ہوتی ہے رات بھر آرام کے بعد انسانی جسم صبح کے وقت جنسی* *توانائی سے بھر چکا ہوتا ہے اعصاب فریش ہوتے ہیں اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جو مرد اور عورت کے درمیان قربت کے لئے بہت بہتر اور مفید وقت ہوتا ہے کیوں کہ اس وقت مردوں کے ہارمونز عروج پر ہوتے ہیں اور ان کے اندر جماع کرنے کی طاقت پوری طرح جوش میں ہوتی ہے اور اس وقت ہمبستری کرنے سے بہت زیادہ حد تک تسکین ملتی ہے جس سے مرد اور عورت کو* *پوری طرح جنسی لذت حاصل ہوتی ہے اور اس وقت جسم کا انگ انگ زندگی کا مزہ لے رہا ہوتا ہے جبکہ صبح کے وقت جماع کرنے سے آپ لوگوں کی ٹائمنگ میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا اس وقت ذہن پر کوئی بوجھ یا پریشانی نہیں ہوتی اس لئے اس کا پورا دھیان جنسی قربت پر ہوتا ہے .اور اس وقت مباشرت کرنے سے عورت کے اندر حمل ٹھہرنے کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہےاور اسی طرح رات* *کو 10 بجے تک سو جانا چاہےآپ لوگوں کے جنسی حصوں کو بھی پورا سکون حاصل ہوتا ہے۔*
*نتیجہ:پرسکون رہنے اور جنسی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے بہتر نیند بہت ضروری ہوتی ہے لہزا ساری رات لیپ ٹاپ اور موبائل کے سامنے بیٹھنے سے گریز کریں ورنہ ذہنی دباؤ تھکاوٹ سے دوچار انسان کی کارکردگی کیا ہو گی*
No comments:
Post a Comment