🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام .*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 01* ・❱━━━
*عظیم قربانی؛ جو یادگار بن گئی۔*
یہ انسانی تاریخ کا ایسا اثر انگیز واقعہ ہے جس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، ذرا تصور کیجئے کہ چھیاسی سالہ بوڑھاشخص جو آرزو کے باوجود ابھی تک اولاد کی نعمت سے سرفراز نہ تھا، اور بارگاہ خداوندی میں سراپا سوال بن کر یہ دعا کیا کرتا تھا: رب هب لى من الصالحين. (الصفت: ۱۰۰) اے میرے رب مجھے نیک اولاد سے نوازیئے۔ بالآخر ایک دن اس کی فریاد اس کے رب نے سن ہی لی ، اور ایک حلیم، بردباد اور باوقار بیٹے کی نہ صرف بشارت سنائی ؛ بلکہ ہونہار اسماعیل کی صورت میں وہ مبارک بیٹا عطا بھی کر دیا گیا۔ بڑھاپے کی اولاد کی قدر وہی جان سکتا ہے جسے ایسے حالات سے سابقہ پڑا ہو، لیکن وہ باپ جسے یہ بیٹا عطا ہوا تھا وہ کوئی عام انسان نہ تھا، وہ تو الله کا خلیل اور توحید و انابت الی الله میں اپنے بعد آنے والی انسانیت کا امام بننے والا تھا، اس لئے رب العالمین کے دستور کے مطابق اطاعت و انقیاد اور بے چون و چرا امتثال امر کی کسوٹی پر اسے پرکھنے کا عمل شروع ہوا۔ چناں چہ اولا اس معصوم جگر کے ٹکڑے کو اس کی والدہ ماجدہ کے ساتھ مکہ معظمہ کی بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آنے کا حکم صادر ہوا۔ جسے وہ الله کا سچا خلیل پوری خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے بلاتاخیر بجالایا، دن ہفتوں میں، ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے ۔ مکہ معظمہ جو کسی زمانہ میں غیر آبادتھا اب آباد ہو چکا تھا۔ اور وہ نور نظر ،لخت جگر، پیارا سا "اسماعیل " اب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا اور امید ہو چلی تھی کہ یہ ہونہار بیٹا اب اپنے بوڑھے باپ کا سہارا بنے گا ، اور ضعف و کمزوری کی عمر میں اس کا ہاتھ بٹائے گا لیکن عین اسی زمانہ میں جب کہ نظروں میں روشن مستقبل کے خواب سجائے جارہے تھے۔ اس خلیل الله- ابراہیم -کو خواب میں حکم ربی پہنچا کہ "اب ہمیں تمہارے عزیز از جان نور نظر کی جان کی قربانی منظور ہے"، ذرا سوچئے کیسا دل دوز حکم ہے؟ اس حکم سے دل پاش پاش ہوجائے تو بجا ہے، آرزؤوں کے بعد حاصل شدہ ایک ہونہار جوان بیٹے کو ایک بوڑھا باپ اپنے ہاتھ سے ذبح کرے، کیا مادیت کی دنیا میں کوئی اسے سوچ بھی سکتا ہے؟ لیکن انسانیت کی تاریخ کا یہ روشن ورق آج بھی سچی تاریخ کے صفحات پر نقش ہے اور تا قیامت نقش رہے گا۔ کہ جس حکم کی تعمیل کو دنیا والے سوچ بھی نہیں سکتے تھے - اللہ کے خلیل -ابراہیم علیہ السلام- نے اس حکم ربی کو بسر و چشم قبول کر کے برملا اس کی تعمیل کا شرف حاصل کیا، اور اپنے لئے ابدی شرافت و عظمت مقدر کرالی۔ اور اس پر طرہ یہ کہ اس تعمیل حکم میں وہ سعادت آثار بیٹا - اسماعیل - اپنے عظیم والد- ابراہیم خلیل اللہ- کے شانہ بشانہ نظر آیا، اور بجا طور پر ذبیح اللہ کے مبارک لقب کا حق دار بنا۔ اللہ تعالی کو ان باسعادت باپ بیٹے کی یہ ادائیں ایسی پسند آئیں کہ قیامت تک ان کا نام روشن فرمادیا اور اپنی مقدس کتاب قرآن کریم میں بڑے اچھوتے انداز میں ان کا تذکرہ فرمایا، آپ بھی پڑھئے اور سمجھئے کہ الله تعالی اپنے بندوں سے کس طرح کی اطاعت چاہتے ہیں، اور اطاعت شعار بندوں کا اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں کتنابلند مقام ہے، ارشاد خداوندی ہے:"اور فرمایا کہ میں اپنے رب کی طرف جاتا ہوں، وہی مجھے راہ دکھائے گا ، ( اور عرض کیا) میرے رب مجھے نیک فرزند عطا فرمائیے ، پس ہم نے انہیں ایک تحمل مزاج بیٹے کی بشارت دی، پھر جب وہ (بیٹا) آپ کے ساتھ محنت کی عمر کو پہنچا تو فرمایا : میاں صاحب زادے ! میں نے خواب میں تمہیں ذبح کرتے ہوئے دیکھا ہے تو سوچو تمہاری کیا رائے ہے؟ اس (بیٹے) نے کہا: ابا جان! آپ کو جو حکم ربی ہوا ہے اسے کر گذریے، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، پس جب دونوں( باپ بیٹے) نے دل سے حکم مانا اور (بیٹے کو ذبح کے لئے) پیشانی کے بل لٹادیا، اور ہم نے پکارا اے ابراہیم ! تم نے خواب سچ کر دکھایا، ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ عطا کرتے ہیں، یقینا یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی، اور اس کے بدلہ میں ہم نے ایک بڑا جانور ذبح کے لئے دیا اور بعد میں آنے والے لوگوں میں یہ چرچا ہم نے باقی رکھا کہ ابراہیم پر سلامتی ہوں ہم مخلص بندوں کو ایسا ہی (شاندار) صلہ دیتے ہیں، بے شک وہ ( ابراہیم) ہمارے مومن بندوں میں ہیں۔
کاش ایسی قربانی کا کچھ حصہ ہمیں بھی نصیب ہوجائے، آمین
*📚حوالہ:*
*☆ کتاب المسائل 2/291-290*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام .*
━━❰・ *پوسٹ نمبر (02)* ・❱━━━
*سیدنا حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ذبیح اللہ ہیں*
*اہل تحقیق حضرات مفسرین کی رائے یہ ہے کہ حضرت اسماعیل علی نبینا وعلیہ السلام ہی ذبیح اللہ تھے اور انہیں کی یاد میں قربانی کا حکم امت محمدیہ علی صاحبھا الصلوة والسلام کو دیا گیا ہے اور تفسیر کی بعض روایات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے صاحب زادے سیدنا حضرت اسحاق علیہ الصلاة والسلام کے ذبیح اللہ ہونے کی جو بات لکھی گئی ہے محققین علماء نے اسے قبول نہیں کیا؛ کیوں کہ نہ صرف قرآن کے اسلوب ؛ بلکہ موجودہ توریت کی عبارات سے بھی اس کی نفی ہوتی ہے، اور مفسرین نے لکھا ہے کہ دراصل یہودیوں نے روایتی تعصب کا ثبوت دیتے ہوئے ذبیح اللہ ہونے کی شرافت اپنے مورث اعلی* *سیدناحضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کی پھیلائی ہوئی روایتوں سے متاثر ہوکر بعض اسلامی روایتوں میں بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح اللہ کہہ دیا گیا ہے جو صحیح نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ ذبیح الله حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے ، اور اس کی تائید بہت سے شواہد سے ہوتی ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ تفسیر ابن کثیر مکمل 1134-1131*
*☆ معارف القرآن 7/462*
*☆ کتاب المسائل 2/292*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر (03)* ・❱━━━
*اسلام میں قربانی کا حکم*
*اللہ تعالی نے انسان کو مخدوم *اور دیگر تمام مخلوقات کو انسان کا خادم بنایا ہے، ان خادموں میں جاندار بھی ہیں اور بے جان بھی ہیں، بے جان چیزوں سے تو آدمی فائدہ اٹھاتا ہی ہے اور جاندار سے بھی انتفاع اس کے لئے جائز قرار دیا گیا ہے ، مگر ان سے انتفاع کی شکلیں مختلف ہیں ، کسی کو سواری کے کام میں لیا جاتا ہے ، کسی پر بوجھ لادا جاتا ہے، بعض جانوروں کے بالوں سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ انہی فوائد میں سے ایک اہم فائدہ گوشت کھانے کا بھی ہے۔ کیوں کہ طبعی طور پر انسان گوشت خور واقع ہوا ہے، تاہم شریعت نے ایسے جانوروں کے گوشت کو حرام کر دیا ہے جن میں ظاہری یا باطنی خبث پایا جاتا ہو، چنانچہ خنزیر اور سباع بہائم وغیرہ ظاہری خبث کی وجہ سے حرام کئے گئے، جب کہ غیر اللہ پر بھینٹ چڑھائے جانے والے جانوروں کو باطنی خبث کی بنا پرحرام کیا گیا ہے۔ اب دنیا میں پرانی قوموں سے یہ دستور رہا ہے کہ جانوروں کے خون بہانے کو تقرب کا ذریعہ سمجھا گیا، اور حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کے واقعہ میں الله کی رضا جوئی کی خاطر جنتی مینڈھے کی قربانی کرا کر عملا اس دستور کو صحیح رخ دے دیا گیا، اور اسلام میں یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ مشروع بلکہ مطلوب و محمود قرار پایا، اور وسعت والوں پر خاص دنوں میں متعینہ جانوروں میں سے قربانی پیش کر کے تقرب خداوندی کے حصول کو واجب قرار دیا گیا۔ لہذا امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک صاحب نصاب شخص پر ایام قربانی میں قربانی واجب ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ کتاب المسائل مع ترمیم یسیر 2/293-292*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 04* ・❱━━━
*·•● ایام قربانی میں قربانی سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں۔*
*قربانی کے ایام میں دیگر عبادات کے مقابلہ میں قربانی کا عمل اللہ تعالی کو زیادہ پسند ہے، چناں چہ ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ما عمل آدميٌّ من عملٍ يومَ النَّحرِ أحبَّ إلى اللهِ من إهراقِ الدِّماءِ إنَّها لتأتي يومَ القيامةِ بقرونِها وأشعارِها وأظلافِها وإنَّ الدَّمَ ليقعُ من اللهِ بمكانٍ قبل أن يقعَ من الأرضِ فطِيبوا بها نفسًا۔"*
*"قربانی کے دن میں کوئی عمل اللہ تعالی کو خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے اور یہ قربانی کا جانور قیامت کے میدان میں اپنے سینگوں،بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی میں بہایا جانے والا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالی کے دربار میں قبولیت کا مقام حاصل کرلیتا ہے؛ لہذا خوش دلی سے قربانی کیا کرو۔"*
*📚حوالہ:*
*☆ سنن ابن ماجہ:3126*
*☆ ترمذی شریف 1493*
*☆ الترغیب والترھیب 255*
*☆ کتاب المسائل 2/293*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 05* ・❱━━━
*·•● قربانی کے بجائے صدقہ کافی نہیں*
*واضح ہو کہ ایام قربانی میں جانور کا ذبح کرنا ہی لازم ہے، جانور کی قیمت کے صدقہ سے کام نہیں چل سکتا اور جو شخص وسعت کے باوجود قربانی نہیں کرے گا ، وہ سخت گناہ گار ہوگا کیوں کہ وہ واجب کا تارک ہے۔*
*قربانی کا اصل اور افضل وقت*
*قربانی کا اصل وقت 10 ذی *الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور 12 ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک رہتا ہے؛ البتہ جس بڑی آبادی میں عید کی نماز ہوتی ہے وہاں عید کی نماز کے بعد ہی قربانی درست ہوگی اور جہاں عید کی نماز نہیں ہوتی جیسے چھوٹے دیہات وغیرہ تو وہاں صبح صادق کے فورا بعد قربانی درست ہے تاہم افضل یہ ہے کہ سورج طلوع ہونے کے بعد قربانی کرے۔*
*نوٹ: 10 ذی الحجہ کو قربانی کرنا سب سے افضل ہے پھر 11 ذی الحجہ کا درجہ ہے اور پھر 12 ذی الحجہ کا*
*📚حوالہ:*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/200 ☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 9/460*
*☆ھدایہ 4/429*
*☆ ھندیہ 5/295*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 06* ・❱━━━
*·•● رات میں قربانی کا حکم*
*☆ دسویں اور تیرہویں رات کو قربانی کرنا جائز نہیں ہے، دسویں کی وجہ یہ ہے کہ رات پہلے آتی ہے اور دن بعد میں اور قربانی کا وقت چونکہ 10 ذی الحجہ کو صبح صادق کے بعد شروع ہوتا ہے اس لیے دسویں کی رات کو قربانی نہ ہوگی اور تیرہویں رات کو نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ قربانی کا وقت 12 ذی الحجہ کے سورج غروب ہونے تک رہتا ہے، سورج غروب ہونے کے بعد جائز نہیں ہے۔*
*☆ گیارہویں اور بارہویں رات کو قربانی کرنا جائز ہے مگر فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے رگیں صحیح نہ کٹنے کی وجہ سے یا ہاتھ کو کاٹنے کی وجہ سے رات میں قربانی کو مکروہ تنزیہی لکھا ہے البتہ اگر روشنی کا صحیح بندوبست ہو تو بعض علماء کرام کے نزدیک مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/463*
*☆ ھندیہ 5/29*
*☆ احسن الفتاوی 7/510 ☆کتاب الفتاوی 4/163*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 07* ・❱━━━
*·•● شہر میں عید کی نماز کے بعد خطبہ سے قبل قربانی کا حکم*
*شہر میں قربانی کا وقت چونکہ عید کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے لہذا اگر کسی نے عید کی نماز کے بعد خطبہ سے قبل قربانی کی تو درست ہوجائے گی؛ لیکن ایسا کرنا اچھا نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ خطبہ کے بعد ہی قربانی کی جائے۔*
*امام نے بلاطہارت نماز عید پڑھادی تو نماز اور قربانی کا حکم*
*اگر امام نے بھولے سے بلاوضو نماز عید پڑھادی پھر عیدگاہ میں مجمع منتشر ہونے کے بعد اسے یاد آیا تو دوبارہ نماز عید کا حکم نہیں ہے مشقت کی وجہ سے اور اگر مجمع منتشر ہونے سے قبل یاد آگیا تو عید کی نماز دہرائی جائے گی تاہم اگر کوئی شخص ایسی صورت میں نماز دہرانے سے قبل قربانی کردے تو استحسانا اس کی قربانی درست مانی جائے گی۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/461*
*☆ ھندیہ 5/295*
*☆ بدائع الصنائع 4/212*
*☆ کتاب المسائل 2/296*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 08* ・❱━━━
*·•● قربانی کی صحیح ہونے کے لئے شہر میں کسی بھی جگہ نماز عید کا ہونا کافی ہے*
*قربانی کا وقت چونکہ شہروں میں نماز عید کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی شہر میں کئی جگہ عید کی نماز پڑھی جارہی ہوں تو کس جگہ کی نماز کا اعتبار ہوگا؟ اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ شہر میں کسی بھی جگہ جب عید کی نماز پڑھی جائے اور کوئی شخص اس کے بعد قربانی کرے اگرچہ اس شخص کی مسجد میں نماز نہ ہوئی ہو تو قربانی درست ہوجائے گی، البتہ دوسرے شہر والوں کی نماز اس کے لئے کافی نہ ہوگی۔ اسی کی ضمن میں علماء کرام نے یہ مسئلہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی نے قربانی کا جانور دوسرے شہر بھیجا ہو اور خود یہ کسی اور جگہ ہو تو قربانی کے جانور کی جگہ کا اعتبار کیا جائے گا ناکہ مالک کی جگہ کا یعنی جانور والے شہر میں جب عید کی نماز ہوجائے تو قربانی درست ہوگی*
📚حوالہ:
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/213*
*☆ ھندیہ 5/296*
*☆ تاتارخانیہ زکریا 17/422*
*☆ کتاب المسائل مع ترمیم 297*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 09* ・❱━━━
*·•● قربانی کے وجوب کے لئے شرائط*
*شریعت مطہرہ میں قربانی ہر مسلمان پر واجب نہیں ہے بلکہ اس کے وجوب کے لئے درجہ ذیل شرائط ہیں:*
*(1) آزاد ہونا، لہذا غلام پر قربانی واجب نہیں۔*
*(2) مسلمان ہونا ، لہذا کسی کافر پر قربانی واجب نہیں۔*
*(3) عاقل بالغ ہونا ، لہذا کسی نابالغ اور مجنون پر قربانی واجب نہیں۔*
*(4) ایام قربانی میں مقیم ہونا ، لہذا ایام قربانی میں شرعی مسافر پر قربانی واجب نہیں۔*
*(5) ایام قربانی میں بقدر نصاب مال کا مالک ہونا ، لہذا غیر صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب نہیں۔*
*☆ قربانی کے لئے نصاب کتنا ہے؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے ان شاء اللہ*
*☆ اگر کوئی مسافر یا غیر صاحب نصاب شخص ایام قربانی میں اپنی خوشی کے ساتھ قربانی کرنا چاہے تو کرسکتا ہے اور بہت اجر ملے گا۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/452*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/195*
*☆ جواہر الفقہ 1/448*
*☆ کتاب المسائل مع ترمیم 2/300*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 10* ・❱━━━
*·•● قربانی کے وجوب کے لئے نصاب*
*شریعت مطہرہ میں قربانی پانچ چیزوں پر واجب ہوتی ہے ، جن کو اموالِ قربانی بھی کہتے ہیں۔*
*(1) سونا (2) چاندی (3) نقد رقم (4) سامان تجارت (5) ضرورت سے زائد سامان ان پانچ چیزوں کو سامنے رکھتے ہوئے درجہ ذیل صورتوں میں قربانی واجب ہوتی ہے:*
*1۔ جس شخص کے پاس صرف سونا ہو ، (چاہے کسی بھی شکل میں ہو اور استعمال ہوتا ہو یا رکھا ہوا ہو) باقی چار چیزیں بالکل نہ ہو تو ایسی صورت میں سونے کا ساڑھے سات تولہ(87.48 گرام) ہونا ضروری ہے۔*
*2۔ جس شخص کے پاس ان اموال قربانی میں سے چاندی ہو یا نقدی ہو یا مال تجارت ہو تو ان میں سے ہر ایک کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی(612.36 گرام) ہے یا اس کی قیمت ہے۔*
*3۔ جس شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ضرورت سے زائد سامان ہو تو اس پر بھی قربانی واجب ہے۔*
*4۔ جس شخص کے پاس ان اموال قربانی میں سے دو یا تین یا تمام اموال ہو اور کوئی بھی علیحدہ طور پر نصاب کو نہ پہنچے لیکن مجموعی اعتبار سے ان کی قیمت اتنی ہو کہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچے تو اس پر قربانی واجب ہوگی۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/452*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/195*
*☆ جواہر الفقہ 1/448*
*☆ قربانی شریعت کے مطابق کیجیے۔ ص 66*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 11* ・❱━━━
*·•● قربانی واجب ہونے کے لیے کس وقت صاحب نصاب ہونا ضروری ہے؟*
*قربانی واجب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ شخص قربانی کے تین دنوں (یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ میں صاحب نصاب ہو، یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے ان تین دنوں سے پہلے صاحب نصاب تھا یا ان تین دنوں کے بعد صاحب نصاب بنا لیکن قربانی کے ان تین دنوں میں صاحب نصاب نہیں تھا تو ایسے شخص پر قربانی واجب نہیں۔ اور یہ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص قربانی کے تین دنوں میں 12 ذو الحجہ کے سورج غروب ہونے سے پہلے کسی بھی وقت صاحب نصاب بن جائے تو اس پر قربانی واجب ہوگی، ایسی صورت میں اگر قربانی کے ایام میں جانور ذبح کرنے کا موقع نہیں ملا تو قربانی کے ایام ختم ہونے کے بعد اب درمیانے درجے کے بکرے یا دنبے کی قیمت صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اگر جانور خریدنے کے باوجود بھی قربانی کے ایام میں قربانی نہ کر سکا تو اب اسی جانور کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔*
*اسی کے ضمن میں فقہاء کرام رحمھم اللہ نے یہ مسئلہ بھی لکھا ہے کہ اگر فقیر شخص نے پہلے دن اپنی طرف سے قربانی کردی پھر وہ قربانی کے آخری دن مالدار ہوگیا تو اب اس پر دوبارہ قربانی لازم ہوجائے گی اور پہلی قربانی نفلی شمار ہوگی۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/453*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/198*
*☆ فتح القدیر 9/519*
*☆ قربانی شریعت کے مطابق کیجیے۔ ص 68*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━
*·•● گھر کے سربراہ کی ذاتی قربانی اس کے صاحب نصاب اہل و عیال کی طرف سے کافی نہیں۔*
*آج کل بعض لوگ عوام میں قربانی کے حوالے سے ایک غلط فہمی پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، وہ یہ کہ گھر کا سربراہ اگر اپنی طرف سے قربانی کرلے اور اس قربانی میں صاحب نصاب اہل و عیال کی قربانی کی نیت کرلے یا نیت نہ بھی کرے تو اس سربراہ کی ذاتی قربانی کی وجہ سے اس کے اہل و عیال کے دیگر تمام افراد کی طرف سے قربانی ادا ہوجائے گی اور اس کیلئے مسند احمد کی ایک روایت کا سہارا لیا جاتا ہے ، تو یہ مسئلہ یاد رکھیں کہ احناف اور متعدد ائمہ کرام رحمھم اللہ تعالی کے نزدیک ہر صاحب نصاب شخص پر قربانی واجب ہے اور ایک شخص کی قربانی دیگر صاحب نصاب افراد کی طرف سے کافی نہیں، لہذا اگر کسی گھر میں صرف سربراہ ہی صاحب نصاب ہو تو ایک قربانی کافی ہوگی اور اگر سربراہ کے علاوہ دیگر افراد بھی صاحب نصاب ہو تو ہر ایک پر اپنے حصے کی قربانی لازم ہوگی، اور مسند احمد کی روایت کا مذکورہ مطلب جو بعض لوگ لیتے ہیں جمہور محدثین کرام اور فقہاء عظام رحمھم اللہ تعالی کے مطلب کے خلاف ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ قربانی شریعت کے مطابق کیجیے۔ ص 98-91*
*☆ عمدة القاری ، باب الاشتراک فی الھدی و البدن*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━
*·•● شریعت مطہرہ میں ہر حلال جانور کی قربانی درست نہیں ہے بلکہ قربانی کے لیے بعض حلال جانوروں کو متعین کیا گیا ہیں، جوکہ درجہ ذیل ہیں:*
*☆ اونٹ ، اونٹنی (کم از کم پانچ سال کا ہو یا زیادہ ہو)*
*☆ گائے ، بیل، بھینس، بھینسا ( کم از کم دو سال کا ہو یا زیادہ ہو)*
*☆ بکرا ، بکری (کم از کم ایک سال کا ہو یا زیادہ ہو)*
*☆ دنبہ ، مینڈھا ، بھیڑ ( دنبہ ، مینڈھا اور بھیڑ اگر ایک سال یا زیادہ کے ہو تب تو کوئی مسئلہ نہیں البتہ اگر چھ ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو لیکن سال سے کم ہو اور اتنا موٹا ، فربہ ہو کہ اس میں اور سال کی عمر والے میں فرق محسوس نہ ہوتا ہو تو اس صورت میں قربانی درست ہے، یاد رہے یہ حکم صرف بھیڑ ، دنبہ اور مینڈھا کیلئے ہے بکرا اور بکری کیلئے سال کا ہونا ضروری ہے۔*
*● شریعت میں جانور ، حلال یا حرام ہونے میں ماں کا تابع ہوتا ہے لہذا اگر مذکورہ جانوروں میں سے کوئی مادہ جانور کسی حرام جانور سے حاملہ ہوجائے تو بچہ حلال ہوگا اور اس کی قربانی جائز ہوگی۔*
*● جانوروں کی عمروں میں اسلامی قمری سال کا اعتبار ہوگا ، شمسی کا نہیں۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار زکریا 9/499*
*☆ ھندیہ 5/297*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/205*
*☆ کتاب المسائل 2/311*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━
*·•● فتنہ کے ڈر سے گائے کی قربانی ترک کرنا*
*گائے کی قربانی کرنا اسلام میں بلاشبہ جائز ہے ، اور اس کی قربانی پر پابندی محض ظلم ہے؛ لیکن اگر کسی جگہ ملکی قانون کی خلاف ورزی سے فتنہ کے اندیشہ کی وجہ سے گائے کی قربانی سے احتراز کیا جائے تو یہ جائز ہے اور مجبور لوگ گناہ گار نہ ہوں گے۔*
*قانونا ممنوع ہونے کے باوجود گائے کی قربانی اورگوشت کا حکم*
*اگر کسی جگہ گائے کے ذبح پر قانونا پابندی ہو پھر بھی کسی نے قربانی میں گائے ذبح کرلی تو یہ قربانی شرعا درست ہے اور اس کے گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ، کیوں کہ گائے کی قربانی شرعا جائز ہے اور فی نفسہ حلال جانور ہے جو کسی قانون کی وجہ سے حرام نہیں ہوسکتا۔*
📚حوالہ:
*☆ فتاوی محمودیہ ڈابھیل 17/333*
*☆ امداد الاحکام 4/191*
*☆ کتاب المسائل مع ترمیم یسیر 2/312*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 15* ・❱━━━
*·•● بڑے جانوروں میں حصے*
*اونٹ، اونٹنی ، بیل، گائے، بھینس، بھینسا اور کٹرے میں سات افراد شریک ہوسکتے ہیں اور بکری، بکرا اور بھیڑ دنبہ میں صرف ایک فرد واجب قربانی کرسکتا ہے، بڑے جانوروں میں یہ ضروری نہیں ہے کہ سات افراد ہی شریک ہوں گے بلکہ سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں مثلا دو افراد ملکر گائے خریدے ، البتہ سات افراد سے زیادہ وجوبی قربانی کی نیت سے شریک نہیں ہوسکتے۔*
*تمام شرکاء کا عبادت کی نیت کرنا ضروری ہے*
*قربانی چونکہ ایک مستقل عبادت ہے اس لیے اس میں عبادت کی نیت بھی ضروری ہے اور بڑے جانور میں حصہ لینے والے تمام افراد کا عبادت کی نیت کا ہونا ضروری ہے، اگر کسی کی نیت محض گوشت کی ہو تو سب کی قربانی خراب ہوجائے گی، اور قربانی کے جانور میں عقیقہ اور ولیمہ کا حصہ رکھنا جائز ہے کیونکہ عقیقہ اور ولیمہ بھی عبادت ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ شامی زکریا 9/472*
*☆ بدائع الصنائع زکریا 4/207*
*☆ ملتقی الابحر 4/167*
*☆ تاتارخانیہ 17/450*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 16* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں میں کم از کم دو دانت ہونے کی شرعی حیثیت*
*مذکورہ بالا قربانی کے جانور جب اپنی ان مطلوبہ عمروں کو پہنچ جاتے ہیں تو عمویا ان کے دو دانت نکل آتے ہیں، جو کہ اس بات کی علامت ہوا کرتے ہیں کہ جانور کی مطلوبہ عمر پوری ہو چکی ہے، لیکن اس میں یہ بات یاد رہے کہ اصل اعتبار عمر کا ہے نہ کہ دانتوں کا، اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو چکی ہو لیکن اس کے دو دانت ابھی تک نہیں نکلے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔ اگر کسی جانور کے دانت پورے نہ ہوں لیکن یہ پارک کا کہنا ہو کہ عمر پوری ہو چکی ہے اگر چہ دانت نہیں نکلے ہیں اور جانور کی ظاہر کی حالت بھی یہی بتلارہی ہو کہ عمر پوری ہو چکی ہے تو ایسی صورت میں بیوپاری کی بات پر اعتماد کرنے کی گنجائش ہے ، لیکن بعض اہل علم کے نزدیک جب تک بیوپاری قابل اعتماد نہ ہو تو صرف اس کی بات پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اس معاملے میں مناسب یہی ہے کہ کسی ماہر کی رائے لے لی جائے یا بصورت دیگر کسی ایسے جانور کا انتخاب کیا جائے جس میں شک و شبہ نہ ہو۔*
*📚حوالہ:*
*☆ فتاوی رحیمیہ ، کتاب الاضحیہ 10/50*
*☆ فتاوی حقانیہ 6/481*
*☆ قربانی شریعت کے مطابق کیجیے 102*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 17* ・❱━━━
*·•● قربانی کے شرکاء کے عقیدے سے متعلق ایک اہم مسئلہ*
*1۔ قربانی کے جانور میں شریک ہونے والے تمام شرکاء کا مسلمان ہونا ضروری ہے، اگر کوئی ایک شریک بھی ان میں سے مسلمان نہ ہو تو کسی کی بھی قربانی درست نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ تمام ضروریات دین کو تسلیم کیا جائے ، ان میں سے کسی ایک بات کا بھی انکار کرنا کفر ہے۔ اس کی تفصیل عقائد کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے*۔
*2۔ ایسے شدید گمراہ افراد کو بھی قربانی میں ہرگز شریک نہ کیا جائے جن کا اسلام سے تعلق مشکوک ہو یا جن کے کفر اور اسلام کا معاملہ واضح نہ ہو۔*
*3- آج کل کفر والحاد اور گمراہی کا دور دورہ ہے اس لیے کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تمام شرکاء صحیح العقیدہ مسلمان ہوں تاکہ قربانی کی یہ عظیم عبادت بخوبی ادا کی جاسکے۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/326*
*☆ ھندیہ 5/304*
*☆ فتاوی قاضی خان 3/209 *☆قربانی شریعت کے مطابق کیجیے 125*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 18* ・❱━━━
*·•● مرغی اور گھوڑے کی قربانی درست نہیں*
*شریعت مطہرہ میں قربانی کے لیے جانور مخصوص ہیں، ان کے علاوہ ہر حلال جانور کی قربانی نہیں ہوسکتی لہذا گھوڑے اور مرغی کی قربانی جائز نہیں ہے اور اس میں مجوسیوں کے ساتھ مشابہت بھی ہے ، البتہ مرغی کا صدقہ جائز ہے اور صدقہ الگ چیز ہے۔ اس مسئلہ کی بہترین تفصیل کیلئے اعلاء السنن ، کتاب الاضاحی کا مطالعہ مفید رہے گا۔*
*جرسی گائے کی قربانی جائز ہے*
*ہر جانور اپنی ماں کے تابع ہے یعنی اس کی ماں جس جنس سے تعلق رکھتی ہے، اس سے پیدا ہونے والا بچہ اس جنس کا حکم رکھتا ہے ، لہذا آج کل بیرونی ممالک سے جو ایک قسم کی گائے درآمد کی جاتی ہے جس کا قد چھوٹا اور ٹانگیں باریک ہوتی ہیں، اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اس کی قربانی جائز اور گوشت و دودھ حلال ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ البحرالرائق، باب العیدین 2/177*
*☆ اعلاء السنن 17/207*
*☆ بدائع الصنائع 5/69*
*☆قربانی کے فضائل و احکام 264*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 19* ・❱━━━
*·•● قربانی سے چند دن پہلے جانور خریدنا افضل ہے*
*☆۔۔۔ بہتر یہ ہے کہ قربانی سے چند دن پہلے جانور کو گھر میں رکھ کر خوب کھلائے پلائے اور خاطر مدارات کرے ، لیکن اس کے گلے اور پیروں میں بلاضرورت گھنٹیاں گھنگرو نہ پہنائے، اسی طرح فضول نمود و نمائش میں پیسہ خرچ نہ کرے۔*
*☆۔۔۔ قربانی کے جانور کی تصویر اتارنا، مارنا پیٹنا، کھانے پینے ، گرمی سردی کا خیال نہ رکھنا یا کسی قسم کی تکلیف پہنچانا گناہ ہے، اسی طرح اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے خواہ مخواہ لوگوں کو دکھلاتے پھرنا بھی گناہ کی بات ہے۔ البتہ اخلاص کے ساتھ قربانی کے جانور کی خاطرتواضع کے لئے چہل قدمی کرانا اور گھمانا پھرانا جائز ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ بدائع الصنائع 5/78*
*☆ المحیط البرھانی 8/125*
*☆ الاحتیار لتعلیل المختار 1/174*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 272*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 20* ・❱━━━
*·•● خریدے بغیر جائز مملوکہ جانور کی قربانی کا حکم*
*جو جانور خریدے بغیر کسی اور جائز طریقہ سے ملکیت میں آجائے مثلا کسی دوسرے شخص نے اپنی خوشی سے ہدیہ کردیا، یا اپنی طرف سے احسانا قیمت ادا کردی، اور جانور اس کے حوالے کیا، تو بھی اس جانور کی قربانی جائز ہے، خود جانور خریدنا یا اپنی جیب سے قیمت ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔*
*ادھار خریدے ہوئے جانور کی قربانی کا حکم*
*اگر کسی شخص کے پاس نقد پیسے نہ ہو اور وہ قربانی کے لیے ادھار جانور خریدلے یا قسطوں پر کوئی جانور خریدلے ، تو اس جانور کی قربانی بھی جائز ہے، قیمت بعد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے، لیکن بلاضرورت ادھار کرنا اچھا نہیں۔*
📚حوالہ:
*☆ بدائع الصنائع کتاب التضحیہ 5/77*
*☆کشف الاسرار باب الامر 155*
*☆ فتاوی قاضی خان 3/213*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 274*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 21* ・❱━━━
*·•● قربانی کی نیت سے خریدے ہوئے جانور کو بدلنے کا حکم*
*☆۔۔۔ جو شخص فقیر یعنی غیر صاحب نصاب ہو اور وہ قربانی کی نیت سے جانور خریدلے تو راجح یہ ہے کہ اس پر بعینہ اس جانور کی قربانی لازم ہوجائے گی اور اس جانور کا بدلنا جائز نہ ہوگا۔*
*☆۔۔۔ جو شخص مالدار یعنی صاحب نصاب ہو، اگر وہ قربانی کی نیت سے جانور خریدے تو بہت سے حضرات کے نزدیک یہ جانور قربانی کے لیے متعین نہیں ہوتا، لہذا اس جانور کو بدلنا جائز ہوگا، خواہ دوسرا جانور کم قیمت کا خریدے یا زیادہ قیمت کا، البتہ مستحب یہ ہے کہ اگر دوسرا جانور کم قیمت کا خریدے تو بقایا رقم صدقہ کرے ، اور بعض حضرات فقہاء کرام رحمھم اللہ کے نزدیک صاحب نصاب شخص کے خریدنے سے بھی جانور قربانی کے لیے متعین ہوجاتا ہے۔*
*لہذا احادیث و آثار کی روسے احتیاط بھی اسی میں ہے کہ خواہ غریب ہو یا امیر ، ایک مرتبہ جانور خریدنے کے بعد بلاضرورت اس کو تبدیل نہ کرے اور اسی کی قربانی کرے، اگرچہ مالدار کے لیے تبدیل کرنے کی گنجائش ہے البتہ افضل نہیں ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ الھدایہ، کتاب الاضحیہ 4/359*
*☆ بدائع الصنائع 5/62*
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/291*
*☆ فتاوی شامی 6/321*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 275*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 22* ・❱━━━
*·•● قربانی کے لئے خریدشدہ جانور گم ہوجائے یا مرجائے ۔۔*
*☆۔۔ اگر کوئی مالدار(صاحب نصاب) شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدے اور وہ جانور گم ہوجائے یا مرجائے تو مالدار کیلئے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، اور اگر پہلا جانور مل جائے تو دونوں میں سے کسی ایک کی قربانی کرنا بھی جائز ہے، اور دونوں کو بھی ذبح کرسکتا ہے، وجہ یہ ہے کہ مالدار شخص قربانی کی نیت سے جو جانور خریدتا ہے تو اکثر اہل علم کے نزدیک وہ قربانی کے لیے متعین نہیں ہوجاتا۔*
*☆۔۔ اگر کوئی غریب (غیر صاحب نصاب) شخص قربانی کی نیت سے جانور خریدلے اور وہ جانور گم ہوجائے یا مرجائے تو غریب کیلئے دوسرا جانور خریدنا ضروری نہیں ہے اور گم ہونے کی صورت میں اگر وہ ایام قربانی سے پہلے مل جائے تو اسی کو ذبح کرے گا اور اگر قربانی کے دنوں کے بعد مل جائے تو زندہ صدقہ کرے گا، اور اگر کسی فقیر نے قربانی کی نیت سے دوسرا جانور خریدا اور پہلا والا بھی مل گیا تو دونوں کو ذبح کرے گا، کیوں کہ فقیر قربانی کی نیت سے جو جانور خریدتا ہے تو وہ قربانی کے لیے ہی متعین ہوجاتا ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ بدائع الصنائع 5/66*
*☆ امداد الفتاوی 3/566*
*☆ احسن الفتاوی 7/505*
*☆فتاوی شامی 6/323*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 23* ・❱━━━
*·•● قربانی کے لئے خریدشدہ جانور میں عیب پیدا ہوجائے تو ۔۔۔*
*☆۔۔۔ اگر غریب(یعنی غیر صاحب نصاب) شخص نے قربانی کے لیے صحیح سالم جانور خریدا، اور پھر اس میں ایسا عیب پیدا ہوگیا کہ جس کی وجہ سے قربانی جائز نہ ہو، مثلا ٹانگ ٹوٹ گئی وغیرہ، تو غریب کے لئے اسی جانور کی قربانی جائز ہے۔*
*☆۔۔۔ اگر مالدار یعنی صاحب نصاب شخص نے قربانی کے لیے صحیح سالم جانور خریدا، اور پھر اس میں ایسا عیب پیدا ہوا جو قربانی سے مانع تھا تو مالدار کے لیے اسی جانور کو قربان کرنا جائز نہیں، البتہ اگر قربانی سے پہلے اس کا عیب ٹھیک ہوا تو قربانی درست ہوجائے گی۔*
*● نوٹ: ذبح کے دوران جانور میں جو عیب پیدا ہوجائے تو اس سے قربانی میں فرق نہیں آتا ، مثلا ذبح کے دوران جانور کی ٹانگ ٹوٹ جائے وغیرہ، اور اس حکم میں مالدار اور غریب برابر ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ الفتاوی الھندیہ، کتاب الاضحیہ 5/299*
*☆ تحفة الفقہاء 3/86*
*☆ تبیین الحقائق ج 6 ص 7*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 24* ・❱━━━
*·•● پالتو جانور میں محض قربانی کی نیت سے وہ قربانی کے لیے متعین نہیں ہوجاتا*
*☆۔۔۔ پوسٹ نمبر 22 میں یہ مسئلہ تفصیلا بیان ہوا ہے کہ قربانی کی نیت سے جو جانور خریدا جائے تو اکثر اہل علم کے نزدیک وہ قربانی کے لیے متعین ہوجاتا ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی جانور پالتو ہو یعنی پہلے سے گھر میں موجود ہو اور اس میں قربانی کی نیت کی جائے یا پہلے دودھ کیلئے خریدا تھا اور اب اس کو قربان کرنے کا ارادہ بن گیا تو ایسی صورتوں میں وہ جانور قربانی کے لیے متعین نہیں ہوجاتا ، چاہے غریب اس میں قربانی کی نیت کرے یا مالدار، لہذا ایسے جانور کو بیچنا ، بدلنا وغیرہ جائز ہے، اور اگر یہ گم ہوجائے یا مرجائے تو مالدار کیلئے دوسرا خریدنا لازم ہے، غریب پر کچھ لازم نہیں۔ اور گم ہونے کی صورت میں اگر مالدار دوسرا جانور خریدے اور ایام قربانی سے قبل گمشدہ بھی مل جائے تو کسی ایک کی قربانی بھی جائز ہے اور یہی حکم غریب کیلئے بھی ہے۔*
📚حوالہ:
*☆ بدائع الصنائع، کتاب الاضحیہ* 5/62
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/291*
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/321*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 281*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 25* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانور سے نفع اٹھانے کا حکم*
*قربانی کےجانور کا دودھ، اون وغیرہ استعمال میں نہ لایا جائے ، اس پر سواری نہ کی جائے اور اس کو کرایہ پر نہ دیا جائے۔ غرضیکہ اس سے کوئی نفع حاصل نہ کیا جائے ایسے جانور کے تھنوں میں اگر دودھ ہو ، تو ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مارکر خشک کردینا چاہئے، اگر خشک نہ ہو اور جانور کو تکلیف ہورہی ہو تو نکال کر صدقہ کردینا چاہئے اور جتنا اس سے نفع حاصل کرلیا ہو اتنی مالیت کا صدقہ کردینا چاہئے۔*
*یہ حکم اس صورت میں ہے کہ قربانی کی نیت سے جانور خریدا ہو اور باہر خود چل پھر کر گزر بسر کرتا ہو، البتہ چند صورتوں میں قربانی کے جانور سے مندرجہ بالا منافع حاصل کرنا جائز ہے:*
*(1) جانور گھر کا پالتو ہو؛ یعنی گھر میں پہلے سے موجود ہو۔*
*(2) جانور خریدا ہوا ہو لیکن خریدتے وقت قربانی کی نیت سے نہ ہو مثلا دودھ کیلئے خریدا تھا اور اب اس میں قربانی کی نیت کرلی۔*
*(3) قربانی کی نیت سے ہی خریدا ہو لیکن مالک اس کو چارہ خود کھلاتا ہو خواہ خرید کر یا خریدے بغیرکہیں سے کاٹ کر لاتا ہو۔*
*📚حوالہ:*
*▪ بدائع الصنائع، کتاب الاضحیہ 5/78*
*▪ الفتاوی الھندیہ 5/300*
*▪ احسن الفتاوی 7/478*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 277*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 26* ・❱━━━
*·•● ذی الحجة کے پہلے عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا*
*ام المومنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو، اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے(رواہ مسلم) اس جیسی احادیث کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کیلئے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن نہ کاٹے اور سر، بغل اور ناف کے نیچے ، بلکہ بدن کے کسی حصہ کے بھی بال نہ کاٹے، لیکن یاد رہے کہ ایسا کرنا مستحب ہے ضروری نہیں، لہذا اگر کوئی ایسا نہ کرے تو قربانی میں کوئی خلل نہیں آتا۔*
*☆۔۔۔ اگر قربانی سے پہلے چالیس دن گزر گئے ہوں تو پھر ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے اور بغل کے بالوں کی صفائی ضروری ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪الصحیح المسلم رقم 1977*
*▪مرقاة 3/1080 باب فی الاضحیہ*
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار 2/181*
*▪قربانی کے مسائل و احکام 34*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 27* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانور کو وزن کرکے خریدنے کا حکم*
*اگر خریدار اور فروخت کنندہ زندہ جانور کو وزن کرکے خریدوفروخت پر راضی ہوں، تو زندہ جانور کو وزن کرکے رقم کے ذریعے خریدنا اور فروخت کرنا دونوں جائز ہیں، جب کہ متعین جانور کی فی کلو کے حساب سے قیمت طے کرلی گئی ہو اور جانور کا وزن کرنے کے بعد اس کی مجموعی قیمت بھی متعین کرلی گئی ہو۔*
*چوری شدہ جانور کی قربانی کا حکم*
*کسی کا جانور چوری کرکے اس کی قربانی کی تو اس طرح چوری کرکے قربانی کرنے والے کی قربانی ادا نہیں ہوگی۔*
📚حوالہ:
*▪ احسن الفتاوی ج6 ص 497 ، کتاب البیوع*
*▪ تکملہ فتح الملہم 1/320*
**▪فتوی دارالعلوم کراچی 44/469*
*▪ فتاوی شامی 6/331*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام از مفتی رضوان صاحب مدظلہ 289*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 28* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*آنکھ:*
*☆۔۔۔ جو جانور بالکل اندھا ہو، یا جس جانور کی ایک آنکھ نہ ہو، یا ایک آنکھ سے کانا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔۔ جس جانور کی بینائی ایک تہائی سے زیادہ چلی گئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ، البتہ اگر ایک تہائی یا اس سے کم بینائی کمزور ہو تو جائز ہے۔*
*☆۔۔۔ جو جانور ترچھی آنکھوں سے دیکھتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*☆۔۔۔ اگر ایک آنکھ کی بینائی تہائی سے زیادہ متاثر ہوگئی ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک اس کی قربانی بھی جائز نہیں۔*
*●۔۔۔ جانور کی بینائی کی مقدار معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جانور کچھ وقت کیلئے بھوکا رکھا جائے پھر عیب دار آنکھ پر کچھ باندھ کر دور سے چارہ قریب لائیں ، جہاں سے اسے نظر آئے تو وہاں نشان لگادے پھر صحیح آنکھ پر کچھ باندھ کر چارہ قریب لائیں ، جہاں سے اسے نظر آئے وہاں نشان لگائیں اور دونوں نشانات کے درمیان فاصلے کی نسبت معلوم کرلیں اگر تہائی سے زیادہ ہے تو قربانی جائز نہیں اگر کم ہے تو قربانی جائز ہے۔*
📚حوالہ:
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/325*
*▪ المحیط البرھانی 8/466*
*▪ تبیین الحقائق 6/6*
*▪قربانی کے فضائل و احکام 350*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 29* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*کان:(Ear )*
*☆۔۔۔ جس جانور کے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں کان نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔۔ جس جانور کا کان ایک تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ اگر ایک تہائی یا کم کٹا ہوا ہو تو جائز ہے۔ جس جانور کے کان پیدائشی طور پر چھوٹے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*☆۔۔۔ اگر کسی جانور کے تھوڑے تھوڑے دونوں کان کٹے ہوئے ہیں لیکن ہر ایک کان تہائی سے کم ہو اور دونوں کا مجموعہ تہائی سے زیادہ بنتا ہو تو احتیاط اسی میں ہے کہ ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے البتہ اگر کسی نے کرلی تو گنجائش ہے۔جس جانور کا ایک کان یا دونوں کان لمبائی میں چرے ہوئے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے مگر بہتر نہیں۔*
*☆۔۔۔ جس جانور کے کان سامنے یا پیچھے کی طرف سے پھٹ گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز ہے۔مگر بہتر نہیں۔*
*☆۔۔۔ جس جانور کے کان میں سوراخ ہوں اور تہائی سے کم ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، مگر بہتر نہیں ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪ھندیہ 5/298 رشیدیہ*
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار* 6/323*
*▪ بدائع الصنائع 5/75*
*▪ البحر 8/177*
*▪قربانی کے فضائل و احکام 351*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 30* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*دم:(Tail )*
*☆۔۔۔ جس جانور کی پیدائشی طور پر دم نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔۔ جس جانور کی دم ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، اگر تہائی یا کم کٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے۔ اورایک قول کے مطابق اگر نصف سے کم کٹی ہو تو اس کی قربانی درست ہے جہاں کامل دم والے یا ایک تہائی سے کم دم کٹے جانور نہ ملیں تو وہاں مجبوری کی بناء پر ایسے جانور کی قربانی جائز ہوگی۔*
*☆۔۔۔ جس دنبے کی چکتی ایک تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، لیکن اگر تہائی یا کم کٹی ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے، البتہ دنبے کی چکتی کے نیچے جو چھوٹی سے دم ہوتی ہے اگر وہ پوری بھی کٹ جائے تو قربانی میں فرق نہیں آتا، دنبے میں چکتی کو دیکھا جائے گا۔ جس جانور کی دم پیدائشی طور پر چھوٹی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/323*
*▪ مجمع الانھر 2/520*
*▪ ھندیہ 5/297*
*▪قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 74*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 31* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*تھن:(Udder )*
*☆۔۔۔ جس جانور کا تھن ہی نہ ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔*
*☆۔۔۔ اونٹنی، گائے اور بھینس کے دو تھن کٹ گئے ہوں یا دونوں تھنوں کی گھنڈیاں کٹ چکی ہوں یا کسی بیماری کی وجہ سے دو تھن خشک ہوچکے ہوں تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔۔ بڑے جانوروں یعنی اونٹنی ، گائے اور بھینس کے چار تھنوں میں سے اگر ایک تھن خراب ہو تو اس سے قربانی میں فرق نہیں آتا، کیوں کہ یہ عیب قلیل ہے۔*
*☆۔۔۔ بکری یا بھیڑ کا ایک تھن کٹ گیا ہو یا ایک تھن کا سرا کٹا ہوا ہو یا ایک تھن کسی مرض کی وجہ سے خشک ہوگیا ہو تو ان صورتوں میں ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔۔ اگر کسی جانور کے تھنوں میں کبھی دودھ آتا ہو اور کبھی نہ آتا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/324*
*▪ الفتاوی الھندیہ 5/299*
*▪ البحر الرائق 8/176*
*▪ قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 53*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 32* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*خصی جانور:*
*☆۔۔ خصی جانور کی قربانی جائز بلکہ افضل ہے ، کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خصی جانور کی قربانی کی ہے، اور خصی ہونے سے جانور کے گوشت میں نقص و عیب پیدا نہیں ہوتا بلکہ افادیت و لذت پیدا ہوتی ہے۔*
*☆۔۔ جس جانور کے قدرتی طور پر خصیتین(فوطے) نہ ہوں یا ایک فوطہ نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*پاوں سے متعلق:*
*☆ جس جانور کا ایک پاوں کٹ گیا ہو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆ جو جانور اس قدر لنگڑا ہو کہ چلنے کے قابل ہی نہ ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر لنگڑاپن معمولی سا ہو یعنی چوتھے پاوں کا سہارا لیتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*☆ جس جانور کا کوئی پاوں اس قدر زخمی ہو کہ اس کو زمین پر نہ رکھتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر چلتے ہوئے اس کا سہارا لیتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪ تحفة الفقہاء 3/86 کتاب الاضحیہ*
*▪ امداد الفتاوی 3/549*
*▪خلاصة الفتاوی 4/321*
*▪ بدائع الصنائع 5/75*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 33* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*لاغر اور کمزور جانور کی قربانی:*
*☆۔۔ ایسا لاغر اور دبلا جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ رہا ہو، اور سوکھ کر ڈھانچہ نکل آیا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں ، البتہ جس کی ہڈیوں میں کچھ گودا ہو، اس کی قربانی جائز ہے۔*
*خارشی جانور کی قربانی:*
*☆۔۔ ایسا خارشی جانور کہ جس کی خارش اس طرح سے ظاہر و فاحش ہو کہ وہ اس کی وجہ سے بہت دبلا اور کمزور ہوگیا ہو، اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر خارشی جانور فربہ یعنی موٹا تازہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*مجنون جانور کی قربانی:*
*☆۔۔ جس جانور کو جنون کا مرض اس حد تک ہوگیا ہو کہ وہ اس کی وجہ سے بطور خود چارہ بھی نہ کھاسکے تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ جس کا جنون اس حد تک نہ ہو یعنی وہ چارہ کھاتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪ بدائع الصنائع 5/75*
*▪ الفتاوی الھندیہ 5/298*
*▪العنایہ 9/515*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 346*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 34* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*سینگوں سے متعلق:*
*☆۔۔ جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں، یا جس جانور کے پیدائشی طور پر بہت چھوٹے چھوٹے سینگ ہوں، یا جس جانور کے سینگ ٹوٹ گئے ہوں مگر جڑ سے نہ اکھڑے ہوں ، اس کی قربانی جائز ہے، البتہ جس جانور کا ایک یا دونوں سینگ جڑ سے اس طرح اکھڑ جائیں کہ اندر کی مینگ اور گودا بھی ختم ہوجائے(جس پر سینگ اگتے ہیں) تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*ناک سے متعلق:*
*☆۔۔ جس جانور کی ناک کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆۔۔ جانور کی ناک میں رسی وغیرہ ڈالنے کے لیے سوراخ کیا گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے، کیوں کہ یہ کوئی عیب نہیں ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪المبسوط للسرخسی ج 12 ص 11*
*▪بدائع الصنائع 5/76*
*▪ الفتاوی الھندیہ 5/297*
*▪فتاوی شامی 6/324*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 356*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 35* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*زبان سے متعلق:*
*☆ جس جانور کی زبان تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو اور وہ چارہ نہ کھاسکے تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ اگر بکری کی زبان تہائی سے زیادہ بھی کٹی ہوئی ہو اور چارہ کھاسکتی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے کیوں کہ بکری زبان کے ذریعے چارہ نہیں کھاتی اور گائے، بھینس وغیرہ زبان کے ذریعے چارہ کھاتی ہیں۔*
*دانتوں سے متعلق:*
*☆ جس جانور کے دانت پیدائشی طور پر بالکل نہ ہوں یا سارے یا اکثر دانت گرجانے یا گھس جانے کی وجہ سے وہ چارہ کھانے پر قادر نہ ہو ( اور کسی غیر عادی طریقہ پر اس کو خوراک فراہم کرنی پڑتی ہو) تو اس کی قربانی جائز نہیں۔*
*☆ جس جانور کے کچھ دانت نہ ہو یا اکثر دانت نہ ہو لیکن وہ چارہ کھاسکتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اور اس کی وجہ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ دانت خود مقصود نہیں، بلکہ ان سے مقصود چارہ کھانا ہے، لہذا جب چارہ کھاسکتا ہے تو منفعت باقی ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/325*
*▪الفتاوی الھندیہ 5/298*
*▪تکملة البحر الرائق 8/201*
*▪قربانی کے فضائل و احکام 357*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 36* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*خنثی جانور کی قربانی کا حکم*
*جس جانور میں نر اور مادہ دونوں کی علامات پائی جائیں تو عموما اس کی دو صورتیں پائی جاتی ہیں:*
*(1) بعض جانور ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مذکر اور مونث دونوں کی علامات پائی جاتی ہیں لیکن نر یا مادہ ہونا غالب ہوتا ہے یعنی ایک قسم کی علامات غالب ہوتی ہیں اور دوسری قسم مغلوب تو ایسے جانور کی قربانی بلاشبہ جائز ہے، کیوں کہ یہ نر یا مادہ کے حکم میں ہوتا ہے۔*
*(2) بعض جانوروں میں نر اور مادہ کی علامات برابر ہوتی ہیں یعنی کوئی غالب اور مغلوب نہیں ہوتا تو ایسے جانور کو خنثی مشکل کہا جاتا ہے اور چوں کہ ایسے جانور کا گوشت صحیح پکتا نہیں ہے اس لیے فقہاء کرام رحمھم اللہ نے اس کی قربانی سے منع کیا ہے لیکن اگر کسی نے قربانی کردی اور گوشت صحیح پک گیا تو اس کی قربانی صحیح قرار دی جائے گی۔*
*📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/325*
*▪الفتاوی الھندیہ 5/299*
*▪امداد الفتاوی 3/571*
*▪احسن الفتاوی 7/522*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 358*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 37* ・❱━━━
*·•● قربانی کے جانوروں کے عیوب سے متعلق احکام*
*جفتی ، جماع اور بچہ جننے پر قادر نہ ہو:*
*☆ جو نر جانور زیادہ عمر کی وجہ سے جفتی پر قادر نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔*
*☆ جو مادہ جانور زیادہ عمر کی وجہ سے بچے جننے سے عاجز ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ بانجھ جانور کی قربانی بھی جائز ہے۔*
*☆ جس نر جانور کا عضو تناسل کٹا ہوا ہو اور اس وجہ سے وہ جماع کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔*
*جلالہ جانور کی قربانی کا حکم*
*جلالہ اس جانور کو کہا جاتا ہے جو گندگی کھاتا ہو، اگر کسی جانور کی عادت اس حد تک نجاست اور گندگی کھانے کی ہو کہ نجاست کھانے کی وجہ سے اس کے گوشت میں بدبو پیدا ہوگئی ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں، البتہ اگر چند دن باندھ کر چارہ کھلایا جائے اور اس کے گوشت سے بدبو ختم ہوجائے تو قربانی درست ہوجائے گی، اور اگر نجاست کی وجہ سے گوشت میں بدبو پیدا نہ ہوئی ہو تو قربانی جائز ہے۔*
📚حوالہ:
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/325*
*▪الاختیار لتعلیل المختار 5/16*
*▪امداد الفتاوی 3/559*
*▪قربانی کے فضائل و احکام 360*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 38* ・❱━━━
*·•● اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد*
*نو ذی الحجہ کی فجر کی نماز*
*سے لے کر تیرہ ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک تکبیر تشریق کا وقت ہے، اور یہ کل پانچ دن اور 23 نمازیں بنتی ہیں۔*
*☆۔۔تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد مرد،عورت،شہری،دیہاتی، مقیم ومسافر، حاجی وغیرحاجی، تنہا اور جماعت سے نماز پڑھنے والے ہر ایک کو پڑھنی چاہئے۔*
*☆۔۔ تکبیر تشریق فرض نمازوں بشمول جمعہ کی نماز کے بعد پڑھی جائے گی۔ وتر، سنت اور نفل کے بعد نہیں ہے۔*
*☆۔۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ عیدالاضحی کی نماز کے بعد بھی تکبیر تشریق پڑھی جائے۔*
*☆۔۔ تکبیر تشریق مرد حضرات کو درمیانی آواز سے پڑھنی چاہئے اور خواتین کو آہستہ آواز میں پڑھنی چاہئے۔*
*☆۔۔ فرض نماز کے سلام کے فورا بعد یہ تکبیر پڑھنی چاہئے، سلام کے فورا بعد اگر کوئی پڑھنا بھول جائےتو اگر نماز کے خلاف کوئی کام نہیں کیا اور یاد آگیا تو تکبیر کہہ دینی چاہیے اور اگر نماز کے خلاف کوئی کام کیا تو تکبیر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔*
*📚حوالہ:*
*▪البحر الرائق 2/166*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/180*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/152*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 59*
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 39* ・❱━━━
*·•● اللہ اکبر اللہ اکبر لاالہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد*
☆۔۔ اگر نو ذی الحجہ کی فجر کی *نماز سے لے کر تیرہ ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک کوئی نماز فوت ہوجائے اور اسی سال ان ہی دنوں میں اس نماز کی قضا کرے تو اس نماز کے بعد بھی تکبیر تشریق پڑھی جائے گی۔*
*☆۔۔ اگر کسی نماز کے بعد امام تکبیر کہنا بھول جائے تو مقتدیوں کو چاہئے کہ فورا خود تکبیر کہہ دیں، امام کی تکبیر کہنے کا انتظار نہ کریں۔*
*☆۔۔ تکبیر تشریق ہر فرض نماز کے بعد صرف ایک مرتبہ کہنے کا حکم ہے، لہذا صرف ایک مرتبہ کہنے پر اکتفا کرنا چاہیے۔*
*☆۔۔ جس شخص سے امام کے ساتھ کچھ رکعتیں نکل چکی ہوں تو وہ بھی امام کے سلام کے بعد اپنی بقیہ نماز پوری کرنے کے بعد تکبیرات کہے گا۔*
*📚حوالہ:*
*▪البحر الرائق 2/166*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/180*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/152*
*▪ قربانی کے فضائل و احکام 59*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 40* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*1۔ جانور کا ذبح کرنا قربانی کا رکن ہے، اس لیے جانور کو صحیح طریقہ سے ذبح کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ قربانی نہ ہوگی۔*
*2۔ قربان گاہ کی طرف جانور کو لے جاتے وقت نہایت نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے، بلاضرورت ٹانگ یا دم سے گھسیٹ اور کھینچ کر تکلیف نہ پہنچائی جائے۔*
*3۔ جانور کو تیزدھار چھری سے ذبح کرنا چاہیے، کند چھری سے ذبح کرنے سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہیے، اور اگر چھری تیز کرنے کی ضرورت ہو تو پہلے سے تیز کریں، جانور کو لٹانے کے بعد اور اس کے سامنے نہ کریں۔*
*4۔ حتی الامکان ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے الا یہ کہ کوئی ضرورت و مجبوری ہو، جیساکہ آجکل شہروں میں تنگ جگہ کی وجہ سے بعض اوقات دشواری پیش آتی ہے تو یہ مجبوری میں داخل ہے۔*
*5۔ سنت یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرنے کے لئے قبلہ رخ لٹائے اور خود ذبح کرنے والا بھی قبلہ رخ ہو۔ جاری ہے۔۔۔۔۔*
📚حوالہ:
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/312*
*☆ بدائع الصنائع 5/78*
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/300*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 421*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 41* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*6۔ جانور کو ذبح کرنے کے لئے لٹانے کے بعد یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:*
*إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ*
*7۔ اگر کوئی اچھے طریقے سے ذبح کرنا جانتا ہو تو اپنے ہاتھ سے جانور کو ذبح کرنا افضل ہے، اور اگر خود تجربہ نہ رکھتا ہو تو دوسرے مسلمان سے کرائے، مگر خود بھی موجود رہے تو بہتر ہے۔*
*8۔ سنت یہ ہے کہ جانور کو دائیں ہاتھ سے ذبح کرے، اور ضرورت ہو تو بائیں ہاتھ سے مدد لینا بھی جائز ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلا کسی کو پہلے سے عادت ہی بائیں ہاتھ سے کام کرنے کی ہو اور دائیں ہاتھ سے صحیح ذبح نہ کرسکتا ہو تو پھر بائیں ہاتھ سے ذبح کرنے میں بھی حرج نہیں ہے۔*
*9۔ جانور کے حلال ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ذبح کرنے والا مسلمان یا صحیح اہل کتاب میں سے ہو اور ذبح کی سمجھ بوجھ رکھتا ہو نیز یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ تعالی کا نام لے کر ذبح کرے۔*
*10۔ جانور کے ذبح کرنے میں چار رگیں کاٹی جاتی ہیں، ایک سانس کی نالی جسے نرخرہ بھی کہا جاتا ہے، دوسری کھانے پینے کی نالی، تیسری و چوتھی دو شہ رگیں جو سانس اور کھانے پینے کی نالیوں کے دائیں بائیں طرف ہوتی ہیں، اگر ذبح کرتے وقت یہ ساری نہ کٹ سکیں تو کم از کم تین کا کاٹنا ضروری ہے۔ جاری ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆سنن ابی داود رقم 2795*
*☆المحیط البرھانی 8/468*
*☆الفتاوی الھندیہ 5/285*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 422*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 42* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*11۔ جانور کو حلال کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک اختیاری اور دوسرا اضطراری، اختیاری میں ذبح اور نحر داخل ہیں؛ ذبح جبڑے اور سینے کے درمیان سے رگیں کاٹنے کا نام ہے اور نحر حلق کے آخر اور سینے کے قریب رگیں کاٹنے کا نام ہے۔*
*بکری، گائے، بھینس وغیرہ کو ذبح کرنا اور اونٹ کو نحر کرنا سنت ہے۔ جانور کو حلال کرنے کی دوسری صورت اضطراری ہے جو جانور کے بے قابو ہوجانے کی صورت میں اس کے جسم کے کسی بھی حصہ میں بسم اللہ پڑھ کر دھاردار چیز پھینک کر مارنے اور زخمی کردینے کو کہا جاتا ہے۔*
*12۔ عقدہ یعنی گھنڈی کے اوپر ٹھوڑی کے ساتھ والے حصے سے ذبح کرنا منع ہے لیکن اگر کسی نے ذبح کردیا اور چاروں یا کم از کم تین رگیں کٹ گئیں تو ذبیحہ حلال ہوجاتا ہے۔*
*13۔ جانور کو گلے کی طرف سے ذبح کرنے کے بجائے پیچھے گدی یا گردن کی طرف سے ذبح کرنا منع اور گناہ ہے لیکن اگر کسی نے کیا اور مطلوبہ رگیں صحیح کٹ گئیں تو جانور حلال ہوجائے گا۔*
*14۔ جانور کو قربانی کی نیت سے ذبح کرنا ضروری ہے اور نیت کا اصل محل دل ہے، زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے اور نیت کا ذبح کے متصل ہونا ضروری ہے البتہ اگر جانور خریدتے وقت قربانی کی نیت تھی اور ذبح بغیر نیت کے کردیا تو بعض حضرات کے نزدیک قربانی صحیح ہوگی۔*
*📚حوالہ:*
*☆الدرالمختار مع ردالمحتار 6/303*
*☆المحیط البرھانی 8/449*
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/294*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 430*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 43* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*(حصہ چہارم)*
*15 بے قابو جانور کو ذبح کرنے کا طریقہ*
*اگر جانور بے قابو ہوکر چھوٹ جائے اور پکڑنے میں نہ آئے اور بھاگ جانے یا ضائع ہونے کا خطرہ ہو مثلا کنویں میں گرجائے تو ایسی صورت میں ذبح اضطراری جائز ہے، یعنی کوئی مسلمان کسی دھاردارآلہ مثلا چھری یا برچھی پر ذبح کی نیت سے بسم اللہ پڑھ کر ماردے، وہ جانور کے جسم میں جس جگہ بھی لگ جائے اور جانور زخمی ہوکر ہلاک ہوجائے تو جانور حلال ہوجائے گا، البتہ اگر مرنے سے پہلے اس جانور پر زخمی حالت میں قابو پالیا گیا تو شرعی طریقے سے ذبح کرنا ضروری ہوجائے گا۔*
*16۔ ذبح کے وقت اللہ تعالی کا نام لینا ضروری ہے اور خاص "بسم اللہ ، اللہ اکبر" کہنا سنت ہے۔*
*17۔ ذبح کے وقت صرف ایک مرتبہ "بسم اللہ اللہ اکبر" کہنا کافی ہے، بار بار اور مسلسل پڑھتے رہنا ضروری نہیں، اگرچہ پڑھنے میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔*
*18۔ بعض جگہ دستور ہے کہ قربانی کرنے والا چھری پر پھونک کر ذبح کرنے والے کو چھری دیتا ہے، اس کی کوئی اصل نہیں، لہذا اس طریقہ کو چھوڑنا چاہیے اور شریعت کے مطابق ذبح کرنا چاہیے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ بدائع الصنائع 5/43*
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/285*
*☆ الدرالمختار مع ردالمحتار 6/301*
*☆قربانی کے فضائل و احکام 431*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 44* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*(حصہ پنجم)*
*19۔ اگر کسی نے جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ، اللہ اکبر کے بجائے اللہ اعظم یا اور کوئی ایسا لفظ پڑھ لیا جس میں اللہ تعالی کی بڑائی یا کسی صفت کا ذکر تھا مثلا "اللہ کے نام سے ، اللہ سب سے بڑا ہے وغیرہ " تو بھی جانور حلال ہوجائے گا، لیکن جب تک عربی کے مسنون کلمات پڑھنے پر قادر ہو تو ایسا کرنا مناسب نہیں۔*
*20۔ ذبح کی تکبیر کا پڑھنا ذبح کرنے والے کے ذمہ ضروری اور کافی ہے، عوام میں مشہور ہے کہ ذبح کرنے والے کے علاوہ جانور کو پکڑنے والے اور مدد کرنے والے پر بھی ذبح کی تکبیر کہنا ضروری ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے، البتہ اگر ذبح کے عمل میں ایک سے زیادہ افراد اس طرح شریک ہوں ، کہ ان سب نے چھری پر ہاتھ رکھا ہوا ہے تو ہر ایک کے ذمہ تکبیر کہنا ضروری ہے۔*
*21۔ اگر کوئی مسلمان ذبح کرتے وقت اللہ تعالی کا نام لینا بھول جائے تو ذبیحہ حلال ہے اور اگر جان بوجھ کر چھوڑ دے تو ذبیحہ حرام ہے۔*
*22۔ جانور ذبح کرنے سے پہلے مرنے کے قریب ہوگیا لیکن زندگی کے آثار موجود ہیں تو ذبح کرنے سے حلال ہوجائے گا۔ اور اگر پہلے سے زندگی کے آثار نظر نہ آئے لیکن ذبح کے وقت نظر آئے مثلا آنکھ بند کی یا پاوں کو سکیڑا وغیرہ تو بھی جانور حلال ہے۔*
*📚حوالہ:*
*☆ الفتاوی الھندیہ 5/285*
*☆ بدائع الصنائع 5/47*
*☆ فتاوی قاضی خان 3/213*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 435*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*#قربانی_کے_احکام*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 45* ・❱━━━
*·•● ذبح کے احکام و آداب*
*(حصہ ششم)*
*23۔ اگر کسی مسلمان کو غسل کی حاجت ہو اور وہ غسل کیے بغیر اسی حالت میں جانور ذبح کردے تو اس کا ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے۔*
*24۔ عورت اور سمجھ دار بچہ اور بچی کا ذبیحہ بھی حلال ہے اگر وہ بسم اللہ پڑھ کر صحیح طریقے سے ذبح کردے۔*
*25۔ مخنث( یعنی ہیجڑے و زنخے) کا ذبح کرنا بھی درست ہے اور اسی طرح گونگے شخص کا ذبح کرنا بھی درست ہے، جبکہ یہ مسلمان ہوں۔*
*26۔ قربانی کا رکن جانور کو ذبح کرنا ہے جوکہ ذبح کرنے سے ادا ہوجاتا ہے ، اس لیے جانور کو ذبح کرنے کے بعد کوئی اس میں حصہ دار نہیں بن سکتا۔*
*27۔ ذبح سے پہلے قربانی کا جانور زندہ بچہ جن دے یا ذبح کے وقت پیٹ سے زندہ بچہ نکلے تو اسے بھی ماں کے ساتھ ذبح کیا جائے گا، اگر کسی نے ذبح نہیں کیا اور قربانی کے دن گزرگئے تو اس کو صدقہ کردے، اگر کسی نے بعد میں خود کھایا یا فروخت کیا تو قیمت کا اندازہ لگاکر صدقہ کرنا ضروری ہے۔*
*28۔ شرعی طریقہ پر ذبح کرنے کے بعد جانور کو اپنی حالت پر چھوڑ دے اور جب تک ٹھنڈا نہ ہوجائے تو اس کی کھال نہ اتارے اور نہ کوئی اور تکلیف دے مثلا گردن کو الگ نہ کرے، حرام مغز میں چھری نہ گھونپے اور نہ ایک سے زیادہ جگہ سے ذبح کرے۔*
*📚حوالہ:*
*☆الفتاوی الھندیہ 5/300*
*☆ النتف فی الفتاوی 1/225*
*☆ المحیط البرھانی 8/448*
*☆ قربانی کے فضائل و احکام 440*
*مرتب:✍*
*مفتی عرفان اللہ درویش ھنگو عفی عنہ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
No comments:
Post a Comment