🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 13 ・❱━━━
فرض نمازوں کے بعد مصافحہ
☆ شریعت میں مصافحہ اور معانقہ صرف ملاقات کے وقت مسنون ہے، نمازوں کے بعد مصافحہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور ائمہ دین رحمھم اللہ سے ثابت نہیں، لہذا اس بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو روکنے کی کوشش کی جائے۔
📙ماخوذ از امدادالمفتین 2/230
خیرالفتاوی 1/569 احسن الفتاوی 1/354
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 14 ・❱━━━
فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے کلمہ یا درود پڑھنا
☆کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ورد باعث اجروبرکت ہے لیکن اس کیلئے نمازوں کے بعد کا وقت خاص کرکے اجتماعی ہیئت بنانا اور آواز سے آواز ملاکر ذکر کرنا جس سے نماز پڑھنے والوں کی نماز متاثر ہوتی ہو، جیسا کہ اس زمانے میں رائج ہے۔ یہ درست نہیں۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایسے لوگوں کو بدعت کا مرتکب قرار دیکر مسجد سے نکال دیا تھا ، لہذا اس بدعت کو چھوڑنا واجب ہے۔
📙ماخوذ از امدادالمفتین 2/101
خیرالفتاوی 1/582
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 15 ・❱━━━
میت کی پیشانی ، سینہ پر کلمہ شہادت لکھنے کا حکم
☆میت کے سینہ ، پیشانی یا کفن پر کلمہ شہادت لکھنا جائز نہیں، اسلئے کہ میت کے پھولنے ، پھٹنے کی وجہ سے کلمہ شہادت کی بے حرمتی ہوگی، البتہ اگر روشنائی وغیرہ کے بغیر محض انگلی کے اشارے سے اس طرح کلمہ شہادت لکھا جائے کہ لکھنے کے نشان ظاہر نہ ہوں تو اس کی گنجائش ہے
📙ماخوذ از امدادالمفتین 2/99
احسن الفتاوی 1/351
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 16 ・❱━━━
جنازہ کیساتھ بلند آواز سے ذکر کرنا
☆جنازہ کے ساتھ بلند آواز سے ذکر کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور ائمہ دین رحمھم اللہ میں سے کسی سے بھی کسی ضعیف روایت میں بھی قولا یا عملا منقول نہیں، اس لئے بدعت اور ناجائز ہے۔
📙ماخوذ از امدادالمفتین 2/176
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 17 ・❱━━━*
*دفن کے بعد تین دفعہ دعا مانگنا*
*☆دفن کے بعد میت کے لیے مغفرت کی دعا کرنا حدیث پاک سے ثابت ہے ، البتہ تین دفعہ دعا کرنا اور اس کا التزام بدعت ہے، اس کا کوئی ثبوت نہیں۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی 1/352)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 18 ・❱━━━*
*دفن کے بعد اجتماعی دعا*
*☆دفن کے بعد انفرادی دعا ثابت ہے، اجتماعی ثابت نہیں، لہذا اجتماعی دعا کو مسنون سمجھنا یا حکم شرعی سمجھنا بدعت ہے۔ نیز اس پر التزام اور اصرار کرنا یا نہ کرنے والوں پر ملامت کرنا درست نہیں*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان حل 1/142)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 19 ・❱━━━*
*جنازہ کی چادر پر قرآنی آیات لکھنا*
*☆جنازہ کی چادر پر قرآنی آیات لکھنے کا اکثر علاقوں میں رواج ہے، اس میں قرآنی آیات کی بے ادبی کا خطرہ ہے، نیز یہ عمل سنت سے ثابت نہیں، لہذا اسے چھوڑدینا ضروری ہے۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی 4/230)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 20 ・❱━━━*
*وفات کے موقع پر جائز کاموں کی تفصیل*
*میت کی وفات پر چونکہ بہت سارے افعال اور رسوم رائج ہیں، عام طور لوگوں کو ان میں جائز اور ناجائز کا فرق معلوم نہیں ہوتا، اسلئے ان امور کو لکھا جاتا ہیں جن کی شریعت نے اجازت دی ہے۔*
*1۔۔ میت کی کفن دفن میں جلدی کرنا مستحب ہے۔*
*2۔۔ غسل کی جگہ پردہ کرکے میت خو پردے میں غسل دینا مستحب ہے۔ غسل دینے والے اور معاونین کے علاوہ دیگر لوگوں کیلئے دیکھنا جائز نہیں۔*
*3۔۔ اگر غسل کے دوران کوئی ناگوار بات نظر آئے تو کسی سے تذکرہ نہ کریں۔*
*(4) میت کو ایک دو میل منتقل کرکے دفن کرنے میں حرج نہیں۔*
*5۔۔ موت کی اطلاع اور اعلان کرنا تاکہ لوگ جنازہ میں شریک ہوجائیں،* *جائز ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے*
*(📙ماخوذ از خیر الفتاوی 1/595)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 21 ・❱━━━
وفات کے موقع پر جائز کاموں کی تفصیل
میت کی وفات پر چونکہ بہت سارے افعال اور رسوم رائج ہیں، عام طور لوگوں کو ان میں جائز اور ناجائز کا فرق معلوم نہیں ہوتا، اسلئے ان امور کو لکھا جاتا ہیں جن کی شریعت نے اجازت دی ہے۔
6۔۔ جنازہ کے پیچھے چلنا مستحب ہے۔
7۔۔ میت کے اہل وعیال اور اور رشتہ داروں کو تسلی دینا اور تعزیت کرنا مستحب ہے۔
8۔۔ میت کے پڑوسیوں اور دور کے رشتہ داروں کیلئے مستحب ہے کہ وہ میت کے گھر والوں کو وفات کے دن صبح و شام کا کھانا کھلائیں۔
📙ماخوذ از خیر الفتاوی 1/595
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم*🌹
#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات
━━━❰・ مسئلہ نمبر 22 ・❱━━━
ایصال ثواب کا درست طریقہ
میت کو اعمال صالحہ کا ثواب پہنچانا جائز ہے۔ عمل خیر چاہے بدنی ہو یا مالی، دونوں کا ثواب بخشنے سے میت کو پہنچ جاتا ہے۔ ایصال ثواب کی چند صورتیں یہ ہیں:
1۔۔ میت کیلئے نفل نماز، نفل روزہ ، نفل حج یا عمرہ یا قرآن پاک کی تلاوت بخشیں۔
2۔۔ خدمت خلق کا کوئی کام مثلا مسجد ، مدرسہ ، فلاحی ادارہ بناکر اس کےثواب میں میت کی نیت کریں۔
3۔۔ فقراء، مساکین، یتیموں اور ناداروں کو کھانا، کپڑا یا نقدی دیکر میت کو ایصال ثواب کریں۔
لیکن ایک بات یاد رکھیں
ایصال ثواب ہر وقت کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے کسی خاص دن کی تعیین، کسی خاص طریقے کو عملا یا اعتقادا لازم یا زیادہ ثواب سمجھنا بدعت بن جاتا ہے۔
📙ماخوذ از خیر الفتاوی بتغیر 1/595
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 23 ・❱━━━*
*ایصال ثواب کا درست طریقہ*
*میت کیلئے ایصال ثواب سے زیادہ ضروری چیز جس کی طرف لوگوں کی توجہ نہیں ہوتی ادائے حقوق ہے۔ یعنی میت کے ذمے دوسروں کے قرضے اور حقوق ہوں تو ان کو ادا کرنے کی کوشش کریں، یہ نفلی ایصال ثواب سے بڑھ کر اہم اور ضروری ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کا جنازہ بھی نہیں پڑھاتے تھے جس پر قرض ہوتا اور اس کا مال اس قرضے کی ادائیگی کیلئے کافی نہ ہوتا۔*
*(📙ماخوذ از خیر الفتاوی بتغیر 1/595)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 24 ・❱━━━*
*کھانے پر فاتحہ کا حکم*
*میت کے ایصال ثواب کیلئے جو کھانا غریبوں کو کھلایا جاتا ہے اس پر فاتحہ پڑھنے کو ضروری خیال کیا جاتا ہے ، حتی کہ فاتحہ سے پہلے کسی کو کھانے کی اجازت نہیں دی جاتی، یہ ایک بے اصل رسم ہے، کھانے پر فاتحہ قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، اسے لازم یا مسنون سمجھنا ناجائز ہے اور اس کا التزام کرنا بدعت ہے۔*
*(📙ماخوذ از امداد المفتین 2/157)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 25 ・❱━━━*
*تیجہ ،جمعرات ، گیارھویں ، چہلم اور برسی*
*میت کیلئے ایصال ثواب کے کچھ من گھڑت طریقے مسلمانوں میں رائج ہوچکے ہیں ان میں تیجہ، جمعرات، گیارہویں چھ ماہی اور برسی وغیرہ شامل ہیں۔یہ رسوم جس انداز سے رائج ہیں اور ان کا جس طرح فرض سے بڑھ کر التزام ہوتا ہے اور ان کو مسنون اور باعث ثواب سمجھا جاتا ہے۔یہ ناجائز ، بے اصل اور بدعت ہیں۔*
*(📙ماخوذ از امداد المفتین 2/157)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 26 ・❱━━━*
*قبر کے کتبوں پر قرآنی آیات لکھنا*
*بوقت ضرورت اگر پہچان کیلئے قبر کے کتبہ پر میت کا نام لکھ دیا جائے تو مضائقہ نہیں، مگر قرآنی آیات یا اشعار وغیرہ لکھنا مکروہ ہے۔ اس میں قرآنی آیات کی سخت بے ادبی ہوتی ہے جیسا کہ عام مشاہدہ ہے۔*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/143)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 27 ・❱━━━*
*کفن میں عہدنامہ رکھنا*
*کفن میں عہد نامہ وغیرہ رکھنے کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ اس میں ان چیزوں کی بے ادبی ہے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے اس پر مفصل بحث کرکے اس کو ممنوع قرار دیا ہے۔*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/143)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 28 ・❱━━━*
*میت کے گھر تین دن تک کھانا پکانے کو معیوب سمجھنا*
*میت کے گھر والوں کا اپنے لیے کھانا پکانا پہلے دن بھی ممنوع یا معیوب نہیں ، بالکل جائز ہے البتہ اہل میت کی طرف سے دوسرے لوگوں کی دعوت کرنا جائز نہیں۔ رشتہ داروں اور پڑوسیوں کو چاہیے کہ اہل میت کے ساتھ اس غم کے موقع پر ہمدردی اورخیرخواہی کا معاملہ کریں اور ان کیلئے ایک دن رات کے کھانے کا انتظام کریں، اس سے زیادہ کی شرعا ترغیب نہیں، بلکہ بعض فقہاء نے اسے مکروہ قرار دیا ہے۔*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/148)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 29 ・❱━━━*
*برسی منانا*
*برسی منانے اور کسی بھی بڑی شخصیت کا دن منانے کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں، یہ ایک قبیح رسم ہے۔ کسی کی موت سے عبرت حاصل کرکے اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/155)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 30 ・❱━━━*
*مروج قرآن خوانی*
*اس میں شک نہیں کہ قرآن مجید پڑھ کر ایصال ثواب کرنا ثابت ہے، مگر آج کل قرآن خوانی ایک رسم بن کر رہ گئی ہے، اگر اس سے مقصد ایصال ثواب ہے تو اس کیلئے اجتماع کی کوئی ضرورت نہیں، ہر شخص اپنے اپنے مقام پر تلاوت کرکے ایصال ثواب کرسکتا ہے۔*
*دوسری بات یہ ہے کہ ثواب کیلئے کی جانے والی قرآن خوانی پر اجرت لینا دینا ممنوع ہے، جبکہ آج کل اکثر ایسے مواقع کھانا یا مٹھائی وغیرہ کھلانے کا دستور ہے، یہ بھی اجرت میں داخل ہے نیز ایصال ثواب کیلئے دعوت کرنا بذات خود بدعت اور ناجائز ہے۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی 1/361)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 31 ・❱━━━*
*قبروں پر چادریں اور پھول ڈالنا*
*قبروں پر چادریں ڈالنے اور پھول وغیرہ چڑھانے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور تابعین رحمھم اللہ میں سے کسی سے کوئی ثبوت نہیں، لہذا ان کاموں کو باعث اجروثواب سمجھ کر کرنا بدعت ہے نیز اس میں اسراف اور فضول خرچی بھی ہے جو حرام ہے۔ اسی طرح قبروں پر قرآنی آیات لکھی ہوئی چادریں ڈالنا ناجائز ہے کیونکہ اس میں آیات قرآنیہ کی توہین ہے۔*
*(📙ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/145*
*خیر الفتاوی 1/550)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 32 ・❱━━━*
*قبر پختہ کرنا اور اس پر گنبد بنانا*
*قبروں کو پختہ بنانا اسی طرح ان پر گنبد وغیرہ بنانا ناجائز وحرام ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے ، ان پر کوئی چیز تعمیر کرنے اور ان پر بیٹھنے کی ممانعت فرمائی ہے۔*
*(📙ماخوذ از امداد المفتین 1/92)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 33 ・❱━━━*
*عرس کا حکم*
*عرس( یعنی کسی بزرگ کی تاریخ وفات پر ان کی قبر پر سالانہ اجتماع کرنا اور میلہ لگانا) کا صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین ، تبع تابعین رحمھم اللہ بلکہ ان کے بعد بھی صدیوں تک کہیں نام ونشان نہیں تھا، بعد میں لوگوں نے اسے ایجاد کیا ہے، یہ بہت ساری بدعات اور مشرکانہ افعال کا مجموعہ ہے، اس لیے بدعت اور ناجائز ہے۔ چند مفاسد کا تذکرہ اگلے پوسٹ میں کیا جائیگا۔ ان شاء اللہ*
*(📙ماخوذ از امداد المفتین 2/159)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 34 ・❱━━━*
*عرس کا حکم*
*عرس کے چند مفاسد درج ذیل ہیں۔*
*1۔۔ قبر پر چراغ جلانا جو بنص حدیث حرام ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے۔*
*2۔۔ پھول اور چادر چڑھانا، جس کا دور خیر القرون میں کوئی ثبوت نہیں۔*
*3۔۔ بزرگوں کی نام کی نذر ومنت ماننا، جو بالکل حرام ہے۔*
*4۔۔ اس نذر کی حرام مٹھائی کو تبرک سمجھ کر کھانا اور تقسیم کرنا، حالانکہ اس کو حلال اور تبرک سمجھنے میں اندیشہ کفر ہے۔*
*5۔۔ ڈھول باجے بجانا۔ جس کی حرمت پر احادیث کثیرہ صحیحہ ہیں۔*
*6۔۔ عام عورتوں کا بے پردہ قبروں پر جمع ہوجانا*۔
*7۔۔ قبر کا طواف کرنا جو قطعا حرام ہے۔*
*8۔۔ قبر کو سجدہ کرنا جو بنیت عبادت کفر صریح ہے۔*
*(📙ماخوذ از امداد المفتین 2/159)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 35 ・❱━━━*
*قبروں پر دیگیں دینا*
*قرآن و سنت میں قبروں پر دیگیں دینے کا کوئی ثبوت نہیں، نیز بعض اوقات یہ مخلوق کے نام پر نذر کے طور پر دیئے جاتے ہیں جوکہ ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں اگر دیگیں دینے والا قبر والے بزرگ کو نفع ونقصان کا مالک و مختار سمجھ کر اس کی خوشنودی کیلئے دیگیں دے رہا ہے تو یہ شرک ہے۔ اگر نفع و نقصان کا مالک نہیں سمجھتا مگر اس طرح دینے میں زیادہ ثواب سمجھتا ہے تو یہ بدعت و ناجائز ہے۔*
*(📙ماخوذ از امدادالفتاوی بتصرف 5/343)*
*پی_ڈی_ایف_فتویٰ*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 36 ・❱━━━*
*روزانہ اکھٹے ہوکر قبرستان جانا*
*میت کی وفات کے دوسرے اور تیسرے دن خصوصی طور پر اس کے رشتہ دار اور دوسرے لوگ فجر کے بعد اجتماعی طور پر قبرستان جاکر ایصال ثواب کرتے ہیں اور پھر اہل میت کے ہاں آکر تھوڑی دیر کیلئے ٹھہرتے ہیں، چائے وغیرہ پی کر رخصت ہوجاتے ہیں ، پھر دوپہر کو پھر شام کو یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یہ سب بے بنیاد رسمیں ہیں اور شریعت مطہرہ پر اپنی طرف سے اضافہ ہیں جو جائز نہیں۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی 1/381)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 37 ・❱━━━*
*تقریبات کے افتتاح میں قرآن خوانی*
*فی نفسہ قرآن کریم کی تلاوت ایصال ثواب کیلئے یا خیر وبرکت کیلئے بلاشبہ بہت اہمیت رکھتی ہے، مگر آجکل لوگوں نے اسے ایک رسم بنالیا ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت کیلئے اجتماع کا اہتمام اور اسے ضروری سمجھنا ، اسی طرح دعوت وغیرہ کا التزام کرنا ، یہ سب امور بدعت کے زمرے میں آتے ہیں اسلئے ان کا اہتمام نہ ہونا چاہئے۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی بتصرف 1/362)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 38 ・❱━━━*
*تراویح میں ختم قرآن پر مٹھائی کا التزام*
*تراویح میں ختم قرآن پر مٹھائی کی تقسیم کی کوئی شرعی بنیاد نہیں، اسے باعث ثواب سمجھنا جائز نہیں، اس کو ہمیشہ کرنا اور کسی حال میں اس کو نہ چھوڑنا، لوگوں سے بہرصورت چندہ وصول کرنا ، چاہے وہ دلی طور پر اس کیلئے تیار ہوں یا نہ ہوں، ناجائز ہے۔اگر اسے ہمیشہ نہ کیا جائے اور لوگ خوشی سے دیتے ہوں تو بھی اس میں مروجہ رسم کی تائید ہوتی ہے لہذا اسے چھوڑ دینا ضروری ہے۔*
*(📙ماخوذ از احسن الفتاوی بتصرف 1/377 امداد الفتاوی 5/289)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 39・❱━━━*
*خواتین کا قرآن خوانی کیلئے اجتماع*
*ایصال ثواب یا کسی جائز مقصد کیلئے انفرادی طور پر قرآن کریم کی تلاوت کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے ، لیکن اس کیلئے اجتماع ، خصوصا عورتوں کا اس مقصد کیلئے اپنے گھروں سے نکلنا اور اجتماع کرنا اور بھی قبیح ہے*
*(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/159)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 40 ・❱━━━*
*محرم میں شادی بیاہ کو ممنوع سمجھنا*
*بعض لوگ محرم میں شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے تقریبات کو ممنوع سمجھتے ہیں اور اس ماہ کو غم کا مہینہ قرار دیتے ہیں، شریعت میں اس کی کوئی دلیل نہیں، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا غم ایسی چیز نہیں کہ صرف اس دن یا اسی ماہ میں ہوا کرے، بلکہ وہ ہر مسلمان کو ہر وقت ہوتا ہے، لیکن غم کا دن منانا شریعت میں جائز نہیں، نیز شوہر کے سوا کسی اور کی موت پر سوگ کی شرعا اجازت نہیں، لہذا دس محرم یا محرم کے دیگر ایام میں شادی بیاہ جائز ہے*
*(ماخوذ از امداد المفتین 2/156)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 41 ・❱━━━*
*سہرا باندھنا*
*شادی میں دولہا کے سر پر سہرا باندھنے کی رسم ہندووں سے لی گئی ہے، مسلمانوں کیلئے ہندوانہ شکل و صورت اختیار کرنا جائز نہیں، لہذا سہرا باندھنے سے اجتناب کرنا لازم ہے۔*
*(📗ماخوذ از کفایت المفتی 4/49 خیر الفتاوی 1/567)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 42 ・❱━━━*
*شادی کی چند ہندوانہ رسمیں*
*شادی میں مہندی ، سہرابندی، جوتا چھپائی ، دودھ پلائی وغیرہ یہ سب ہندوانہ رسمیں ہیں۔ شادی جیسی مبارک خوشی کو ان جیسی ہندوانہ رسوم سے آلودہ کرنا کسی طرح بھی درست نہیں۔ شادی سنت کے مطابق انتہائی سادگی سے انجام دینی چاہیئے ، البتہ اگر شادی کے موقع پر عورتیں اپنے طور پر مہندی لگائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔*
*(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/165)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 43 ・❱━━━*
*شادی کے بعد پہلا رمضان میکے میں گزارنا*
*شریعت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں، شریعت کی طرف سے آزادی ہے، لڑکی شوہر کی مرضی سے چاہے میکے میں رمضان گزارے یا شوہر کے گھر گزارے۔ شریعت کی دی ہوئی اس آزادی کو اپنی طرف سے ختم کرنا اور لڑکی اور اس کے شوہر کو نہ چاہتے ہوئے بھی اس رسم پر مجبور کرنا غلط ہے۔*
*(📗ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/165)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 44 ・❱━━━*
*جہیز کی شرعی حیثیت*
*شرعی اعتبار سے جہیز کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرتے وقت اپنی استطاعت کے مطابق کوئی تحفہ دینا چاہے تو دیدے ، لیکن نہ وہ شادی کیلئے کوئی لازمی شرط ہے، نہ سسرال والوں کو کوئی حق پہنچتا ہے کہ وہ اس کا مطالبہ کریں اور اگر کسی لڑکی کو جہیز نہ دیا جائے یا کم دیا جائے تو اس پر برا مانیں یا لڑکی کو طعنہ دیں اور نہ یہ کوئی دکھاوے کی چیز ہے کہ شادی کے موقع پر اس کی نمائش کرکے اپنی شان و شوکت کا اظہار کیا جائے۔*
*ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/167)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 45 ・❱━━━*
*نیوتہ کی قبیح رسم*
*بعض جگہ یہ دستور ہے کہ شادی کے موقع پر کھانا کھانے کے بعد لوگ پیسے دیتے ہیں دینے والوں کے نام رجسٹر میں درج کیے جاتے ہیں، جب ان کے ہاں شادی ہوتی ہے تو کچھ روپے بڑھاکر یہ رقم واپس کی جاتی ہے۔ یہ انتہائی قبیح رسم اور سودے بازی ہے۔ مہمانوں کو کھانا کھلاکر ان سے قیمت وصول کرنا عقل اور غیرت کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ اس رسم میں بہت سارے برائیاں بھی پائی جاتی ہیں۔*
*(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/177)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 46 ・❱━━━*
*بوقت نکاح دلہن کے پاس کچھ لوگوں کو بھیجنا*
*لڑکی کا ولی اس کا والد، دادا یا بھائی ہوتا ہے۔ اگر لڑکی پہلے سے اپنی رضامندی ظاہر کرچکی ہے تو نکاح کے وقت لوگوں کو دلہن کے پاس بھیج کر اس کی رضا معلوم کرنا ضروری نہیں، بالخصوص جب وہ غیرمحرم ہوں تو یہ انتہائی بے حیائی اور قبیح فعل ہے۔ اگر حکومت کے کسی قانون کی وجہ سے وکالت نکاح کے گواہ بنانا ضروری ہو تو یہ کام نکاح سے پہلے کیا جائے اور محرم افراد کو وکیل اور گواہ بنایا جائے۔*
*(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/179)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 47・❱━━━*
*جوان لڑکی کو گھر بٹھائے رکھنا*
*حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین چیزوں میں تاخیر مت کرو:" نماز جب اس کا وقت آجائے، جنازہ جب تیار ہوجائے ، لڑکی یا لڑکا جب اس کے جوڑ کا رشتہ مل جائے۔"*
*دور حاضر میں لڑکے ہوں یا لڑکیاں، ان کی شادی کرانے میں والدین محض مال کی ہوس اور غیر شرعی دنیوی مصلحتوں کی بناء پر بہت زیادہ تاخیر کرتے ہیں۔ حتی کہ بعض کی عمریں چالیس چالیس سال ہوجاتی ہیں۔ یہ شرعا ظلم ہے اور اگر بلاوجہ تاخیر کی وجہ سے اولاد کسی گناہ میں مبتلا ہوگئی تو حدیث کے مطابق اس گناہ میں والد بھی شریک ہوگا۔*
*(ماخوذ از آپ کے مسائل اور ان کا حل 1/180)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 48 ・❱━━━*
*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک سن کر کھڑاہونا*
*بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور اس کو ضروری اور تعظیم کا مسنون طریقہ سمجھتے ہیں ، حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سب سے زیادہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی دل میں تھی، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے زیادہ کوئی شخص محب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بن سکتا لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑے نہیں ہوتے تھے، اسلئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لئے کھڑےہونے کو ناپسند فرماتے تھے۔ (مشکواة :2/403)*
*پس اگر تعظیم کا یہ طریقہ مستحسن ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ضرور اسے اپنالیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ناپسند نہ فرماتے۔ جب خود آنخضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر کھڑا ہونا ثابت نہیں بلکہ خلاف منقول ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سن کر کھڑاہونا کیسے درست اور ثواب کا کام ہوسکتا ہے۔*
*(ماخوذ از خیرالفتاوی 1/550)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
*━━━❰・ مسئلہ نمبر 49 ・❱━━━*
*صفر کی آخری بدھ کو عمدہ کھانا پکانا*
*بعض لوگ ماہ صفر کے آخری بدھ کو اس عقیدہ سے عمدہ کھانا پکاتے ہیں یا مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض سے شفا ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل صحت فرمایا تھا، یہ غلط اور من گھڑت عقیدہ ہے، اس لیے یہ رسم ناجائزاور گناہ ہے۔*
*(ماخوذ از احسن الفتاوی 1/360)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*#سلسلہ_مسائل_رسوم وبدعات*
━━━❰・ *مسئلہ نمبر 50* ・❱━━━
*رجب کے کونڈوں کی حقیقت*
*22 رجب کو کونڈے کی رسم حقیقت میں دشمنان صحابہ رضی اللہ عنھم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات پر خوشی کا اظہار کرنے کیلئے ایجاد کی ہے، اس لئے کہ 22 رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات ہے۔اس جرم پر پردہ ڈالنے کیلئے یہ لوگ اس رسم بد کو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ تعالی کی طرف منسوب کرتےہیں کہ انہوں نے خود اس تاریخ کو اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ سب من گھڑت ہے، 22 رجب کا حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے کوئی تعلق نہیں، نہ اس تاریخ میں آپ کی ولادت ہوئی اور نہ وفات۔ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت 8 رمضان المبارک سن 80 ہجری یا 83 ھ میں ہوئی اور وفات شوال 148 ھ میں ہوئی، لہذا ایسی بری رسم میں کسی طرح بھی شریک ہونا جائز نہیں۔*
*(ماخوذ از احسن الفتاوی 1/368 ۔۔۔ خیر الفتاوی 1/572)*
*━═─────────────────═━*
🤲🤲
No comments:
Post a Comment