Sunday, 1 October 2023

سلسلہ_مسائل_زكواة

*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 01 ・❱━━━*
      
    *زكواة ادا نہ کرنے پر وعیدیں*
 *جس کے پاس مال ہو اور اس کی زکواة نہ نکالتا ہو وہ اللہ تعالی کے نزدیک بڑا گناہ گار ہے، قیامت کے دن اس پر بڑا سخت عذاب ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :"جس کے پاس سونا چاندی ہو اور وہ اس کی زكواة نہ دیتا ہو قیامت کے دن اس کیلئے آگ کی تختیاں بنائی جائیں گی، پھر ان کو دوزخ کی آگ میں گرم کرکے ان تختیوں سے اس کی دونوں کروٹیں ، پیشانی اور پیٹھ داغی جائے گی اور جب وہ ٹھنڈی ہوجائیں گی تو پھر گرم کرلی جائیں گی۔" ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے مال دیا اور اس نے زكواة ادا نہ کی تو قیامت کے دن اس کا مال بڑا زہریلا گنجا سانپ بنایا جائے گا اور وہ اس کی گردن میں لپٹ جائے گا ، پھر اس کے دونوں جبڑے نوچے گا اور کہے گا :" میں ہی تیرا مال ہوں، میں ہی تیرا خزانہ ہوں۔" (بخاری)*
   
*(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/393*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 02 ・❱━━━*
     
           *سونے چاندی کا نصاب*
*جس کے پاس ساڑھے سات تولہ (87 گرام 479 ملی گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (612 گرام 35 ملی گرام ) چاندی ہو یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قمیت کے برابر نقد رقم یا مال تجارت ہو اور ایک سال تک باقی رہے تو سال گزرنے پر اس کی زكواة دینا واجب ہے اور اگر اس سے کم ہو تو اس پر زكواة واجب نہیں۔*
     
  *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/393)*


*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 03・❱━━━*
     
    *دوران سال مال کم ہوجائے تو زكواة کا حکم*

  *☆ کسی کے پاس آٹھ تولہ سونا چار مہینے یا چھ مہینے تک رہا ، پھر وہ کم ہوگیا اور دو تین مہینے کے بعد پھر مال مل گیا تب بھی زكواة دینا واجب ہے۔ غرض یہ کہ جب سال کے اول وآخر میں مالدار ہوجائے اور سال کے درمیان میں کچھ دن اس مقدار سے کم رہ جائے تو بھی زكواة واجب ہوتی ہے۔ درمیان میں تھوڑے دن کم ہوجانے سے زكواة معاف نہیں ہوتی، البتہ اگر سارا مال ختم ہوجائے اور اس کے بعد پھر مال ملے تو جب پھر ملے گا اس وقت سے سال کا حساب کیا جائے گا۔*
   
   *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/394)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 04 ・❱━━━*

      *مقروض پر زكواة کا حکم*

  *☆کسی کے پاس ساڑھے باون تولہ(612 گرام 35 ملی گرام ) چاندی کی قیمت ہے اور اتنی ہی رقم کا وہ مقروض ہے تو زكواة واجب نہیں۔ غرض یہ کہ پہلے قرضہ کو منہا کیا جائیگا بعد میں دیکھا جائے گا اگر نصاب کے بقدر مال بچتا ہے تو زكواة  واجب ہوگی ورنہ نہیں۔ یاد رہیں یہ عام قرضے کا حکم ہے تجارتی قرض کا حکم الگ ہے۔ *  

     *(ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/394)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 05・❱━━━*      

    *سونے اور چاندی کی ہر چیز پر زكواة فرض ہے*

  *سونے چاندی کے زیورات ، برتن وغیرہ سب پر زكواة فرض ہے، چاہے پہننے کے ہوں یا بند رکھے ہوں اور کبھی استعمال نہ ہوئے ہوں۔ غرض یہ کہ چاندی اور سونا جس شکل میں بھی انسان کی ملکیت میں ہوں اور وہ صاحب نصاب ہو تو  زكواة دینا پڑے گا۔*   

     *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/394)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 06 ・❱━━━*
     
    *اموال تجارت کو ملانے کا حکم*
  
*اگر کسی کے پاس نہ سونے کی پوری مقدار ہے اور نہ چاندی کی، بلکہ تھوڑا سا سونا ہے اور تھوڑی سی چاندی، یا تھوڑا سا سونا ہے اور تھوڑی سے نقدی، یا تھوڑا سا سونا ہے اور تھوڑا سا مال تجارت ، تو اگر دو یا تینوں یا چاروں کو ملاکر قمیت ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا  کی قیمت کے برابر ہوجائے تو زكواة فرض ہے ورنہ نہیں۔*
    
*(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/394 بتصرف)*


*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 07 ・❱━━━*
     
    *مال تجارت کی تعریف*
    
*مال تجارت اس مال کو کہا جاتا ہے جو تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو اور خریدنے کے بعد بھی تجارت کی نیت باقی ہو۔ چنانچہ اگر کسی نے اپنے گھر کے خرچ کیلئے یا شادی بیاہ کیلئے چاول خریدے، پھر ان چاولوں کی تجارت کا ارادہ ہوگیا تو یہ مال تجارت نہیں ہوگا اور نہ اس پر زكواة واجب ہوگی۔*
  
     *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/396 بتصرف)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 08 ・❱━━━*
     
    *مال تجارت پر زكواة کا حکم*
    
*مال تجارت اس مال کو کہا جاتا ہے جو تجارت کی نیت سے خریدا گیا ہو اور خریدنے کے بعد بھی تجارت کی نیت باقی ہو۔ چنانچہ سونا اور چاندی کے علاوہ اگر کسی کے پاس اتنا مال تجارت ہے کہ اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی(613 گرام) کے برابر ہے اور اس پر سال بھی گزرگیا ہے تو زكواة فرض ہے اور اگر اتنا نہ ہو یا مال تجارت نہ ہو تو زكواة فرض نہیں۔ سونا اور چاندی میں مطلقا زكواة فرض ہے چاہے تجارت کیلئے ہو یا نہ ہو۔*
  
     *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/396 بتصرف)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 09 ・❱━━━*
     
    *گھریلو سامان اور استعمال کی چیزوں پر زكواة کا حکم*
  
  *گھریلو سازوسامان جیسے کھانے پینے کے برتن، رہنے کا مکان ، پہننے کے کپڑے، موتیوں کا ہار وغیرہ ان سب چیزوں میں زكواة واجب نہیں، چاہے جتنا ہو اور روزمرہ کے استعمال میں آتا ہو یا نہ آتا ہو۔البتہ اگر یہ تجارت کا سامان ہو تو پھر اس میں زكواة واجب ہوگی۔*
*خلاصہ یہ کہ سونا چاندی میں مطلقا زكواة ہے جب صاحب نصاب ہو اور دیگر چیزیں اگر تجارت کیلئے ہیں تو زكواة ہے ورنہ نہیں۔*
    
*(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/396 بتصرف)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 10 ・❱━━━*
     
    *کرایہ پر دیے ہوئے مکان، دکان وغیرہ پر زكواة کا حکم*
  
  *کسی نے مکانات یا دکانیں یا گاڑیاں یا برتن وغیرہ کرایہ پر دیئے ہو۔ تو ان کی قیمت پر شرعا زكواة واجب نہیں ہے اگرچہ کتنی قیمتی کیوں نہ ہو، البتہ جو کرایہ آتا ہے اس کو زكواة کے حساب کے وقت نصاب میں شمار کیا جائے گا جتنا باقی ہو اور جو سال کے درمیان میں استعمال ہوا ہے اس کی بھی زكواة لازم نہیں۔*
    
     *(📓ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/396 بتصرف)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 11 ・❱━━━*
     
    *پیشگی زكواة ادا کرنا*
   
*اگر کوئی مالدار آدمی جس پر زكواة واجب ہے، سال گزرنے سے پہلے ہی زكواة دے دے اور سال کے پورے ہونے کا انتظار نہ کرے تو یہ بھی جائز ہے اور زكواة ادا ہوجاتی ہے اور اگر مالدار نہیں ہے بلکہ کہیں سے مال ملنے کی امید تھی اس امید پر پہلے سے زكواة ادا کردی تو یہ ادا نہ ہوئی۔*

*☆ مالدار کیلئے کئی سالوں کی زكواة پیشگی دے دینا بھی جائز ہے لیکن اگر کسی سال مال بڑھ گیا تو جتنا مال بڑھ گیا اس کی زكواة  بھی دینا پڑے گا۔*   
 
  *(📔ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/398 بتصرف)*



*سلسلہ مسائل زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 12 ・❱━━━*
     
    *سال گزرنے کے بعد مال ضائع ہوگیا یا ضائع کردیا تو زكواة کا حکم*

     *اگر کسی کے مال پر  زكواة لازم ہوگئی تھی لیکن اس نے زكواة ادا نہیں کی تھی کہ سارا مال ضائع ہوگیا تو زكواة معاف ہوگئی، البتہ اگر خود اپنا سارا مال کسی کو دیدیا یا ضائع کردیا تو زكواة  معاف نہ ہوگی بلکہ دینا پڑے گی، ہاں اگر کسی نے اپنی مرضی سے سارا مال صدقہ کردیا تو زكواة معاف ہوگی۔*
     
*(📔ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/398 بتصرف)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 13 ・❱━━━*
     
    *تجارتی پلاٹ پر زكواة*
    
*اگر کوئی شخص تجارت کی نیت سے پلاٹ خریدے اور یہی نیت باقی رہے تو پلاٹ کی قیمت پر زكواة واجب ہوگی، دوسرے اموال تجارت کے ساتھ ملاکر اس کی زكواة بھی ادا کی جائے اور اگر دوسرے اموال تجارت نہ ہوں تو بھی پلاٹ کی قیمت نصاب کے بقدر ہونے کی صورت میں زكواة واجب ہے۔*
    
    *(📔ماخوذ از احسن الفتاوی 4/305*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 14 ・❱━━━*
     
    *فکسڈ ڈپازٹ پر زكواة*
   
*بینک میں رقم جمع کرانے کا ایک طریقہ فکسڈ ڈپازٹ ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ رقم کو بینک میں ایک مخصوص مدت تین ، پانچ یا سات سال کیلئے اس شرط پر*

*رکھتےہیں کہ مدت مقررہ سے پہلے یہ رقم ناقابل واپسی ہوتی ہے،  اس مدت کی تکمیل پر یہ رقم ایک مقررہ شرح سود کیساتھ واپس مل جاتی ہے، اس پر جو سود ملتا ہے وہ تو ناجائز اور حرام ہونے کی وجہ سے بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے،  اصل جمع شدہ رقم پر زكواة واجب ہے لیکن اس کی ادائیگی وصولی کیساتھ ہی واجب ہوگی، وصول ہونے سے پہلے بھی ادائیگی جائز ہے واجب نہیں۔*
    
     *(📔ماخوذ از جدید فقہی مسائل 132)*


*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 15 ・❱━━━*

          *بینک میں جمع شدہ رقوم پر زكواة*

    بینک میں جمع کردہ رقوم پر بھی زكواة فرض ہے، سال گزرنے پر دیگر اموال کیساتھ ان کی زكواة بھی ادا کی جائے ، فکسڈ ڈپازٹ کے علاوہ دیگر اکاونٹس جن میں ہر وقت رقم نکلوانے کا اختیار ہوتا ہے ان میں وصولی کا انتظار نہ کرے۔ فکس ڈپازٹ کی زكواة کیلئے مسئلہ نمبر 14 مطالعہ فرمائیں۔*    

     *(📔ماخوذ از احسن الفتاوی 4/311)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 16 ・❱━━━*
     
    *زكواة کی ادائیگی میں تاخیر*

*جب مال پر پورا سال گزرجائے تو فورا زكواة ادا کردے، نیک کام میں دیر کرنا اچھا نہیں، ممکن ہے کہ اچانک موت آجائے اور یہ فرض گردن پر رہ جائے۔ اگر سال گزرنے پر زكواة ادا نہیں کی یہاں تک کہ دوسرا سال بھی گزرگیا تو گنہگار ہوا ، اب بھی توبہ کرکے دونوں سالوں کی زكواة دیدے، غرض عمربھر میں کبھی نہ کبھی ضرور دے دے، ذمے میں باقی نہ رکھے۔*
   
  *(📗ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور 1/406)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 17 ・❱━━━*
     
    *زكواة کی نیت کی چند صورتیں*

     *زكواة کی ادائیگی کی صحیح ہونے کیلئے دو صورتوں میں سے ایک صورت کا ہونا ضروری ہے۔*

*☆پہلی صورت یہ ہے کہ زكواة کی نیت سے کچھ رقم الگ کرکے رکھ لے اور جب بھی مستحق ملے تو دیدیا کریں۔ اس طرح زكواة ادا ہوجائیگی۔*

*☆ دوسری صورت یہ ہے کہ اگر الگ نہ رکھے ہیں لیکن فقیر مسکین کو دیتے وقت دل میں زكواة کی نیت کی تب بھی زكواة ادا ہوجاتی ہے۔ اگر ان دو صورتوں میں سے کوئی صورت نہیں پائی گئی۔ اور کسی فقیر کو رقم دیدی تو پھر ایک صورت یہ ممکن ہے کہ جب تک فقیر کی ملکیت میں وہ رقم موجود ہے تب تک زكواة کی نیت کرنا درست ہے اگر فقیر نے خرچ کیا ہے توزكواة کی نیت درست نہ ہوگی، دوبارہ زكواة دینی پڑیگی۔*

*☆ اگر کسی مستحق کو انعام ، عیدی یا تحفہ کے نام سے کچھ دیا مگر دل میں زكواة کی نیت ہے تب بھی زكواة ادا ہوگئی۔*

*☆ اگر کوئی شدید مفلس قرض مانگنے آیا اور یہ معلوم ہے کہ کبھی یہ رقم واپس نہیں کرسکے گا یا ایسا آدمی ہے کہ واپس ہی نہیں کرتا ، اس کو قرض کے نام سے روپیہ دیدیا لیکن دل میں زكواة کی نیت ہے تو زكواة ادا ہوگئی۔ اگرچہ وہ مفلس قرض سمجھتا رہے۔ البتہ اگر بعد میں ادائیگی کرتا ہے تو واپس لینا جائز نہیں کیونکہ وہ زكواة میں ادا کی ہے*
  
    *(📔ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور بتصرف1/406)*



*سلسلہ_مسائل_زكواة*

*━━━❰・ مسئلہ نمبر 18 ・❱━━━*
     
    *قرض معاف کرنے سے زكواة کا حکم*
   
*کسی غریب آدمی پر تمہارے کچھ روپے قرض ہیں اور تمہارے مال کی زكواة بھی اتنے ہی روپے یا اس سے زیادہ ہے اس کو اپنا قرض زكواة کی نیت سے معاف کردیا تو زكواة ادا نہیں ہوئی، البتہ اس کو زكواة کی نیت سے کچھ روپے دے دیئے تو  زكواة ادا ہوگئی اب یہی روپے اپنے قرض میں اس سے لینا درست ہے۔*
    
   *(📔ماخوذ از تسہیل بہشتی زیور بتصرف1/407)*

No comments:

Post a Comment