*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (01) ・❱━━━*
*·•●✿ امامت و جماعت کے مسائل:*
*☆ (1) امام صاحب کی ذمہ داری*
*جماعت کی نماز کا سارا دارومدار چوں کہ امام پر ہوتا ہے، اس لیے شریعت میں امام کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مقام و منصب کا خیال رکھے،اور امامت کی عظیم ذمہ داری پوری امانت و دیانت کے ساتھ بجا لانے کی کوشش کرے، اس لیے کہ اگر امام اچھی طرح آداب و شرائط ملحوظ رکھ کر نماز پڑھائے گا تو اسے مقتدیوں کی نمازوں کے بقدر ثواب ملے گا اور اگر کوتاہی کرے گا تو سارا وبال بھی اسی پر ہوگا، مقتدی ذمہ دار نہ ہوں گے۔ایک روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
*☆ جو شخص کسی جماعت کی امامت کرے تو اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے، اور یہ جان لینا چاہیے کہ وہ ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری کے بارے میں اس سے سوال ہوگا، اب اگر وہ اچھی طرح امامت کرے گا تو اسے اپنے پیچھے نماز پڑھنے والے نمازیوں کے بقدر ثواب ملے گا جب کہ ان نمازیوں کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی، اور جو بھی امامت میں کوتاہی ہوگی،اس کاوبال امام پر ہی ہوگا۔*
*☆ اس لئے ائمہ کرام کو چاہیے کہ وہ ہر وقت اس ہدایت کو پیش نظر رکھیں، مسائلِ امامت سے واقفیت کے ساتھ ورع تقوی، امانت و دیانت اور حسنِ اخلاق کا التزام کریں۔*
*📚حوالہ:*
*(1) الترغیب والترھیب:1/184*
*(2) کتاب المسائل 1/404:405*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (02) ・❱━━━*
*·•●✿ امامت و جماعت کے مسائل:*
*(2) امامت کی شرائط*
*صحت مند مردوں کی امامت کے لیے فقہاء نے چھ شرائط ذکر کی ہیں:*
*(1) مسلمان ہونا*
*(2) بالغ ہونا*
*(3) عقل مند ہونا*
*(4) مرد ہونا*
*(5) قرآت پر قادر ہونا*
*(6) عذر (نکسیر وغیرہ )سے محفوظ ہونا۔*
*مذکورہ قیود کے فوائد:*
*☆ یہاں مردوں کی قید سے عورتوں اور بالغ بچوں کا استثناء مقصود ہے کہ عورتوں کی امامت کے لیے مرد ہونا شرط نہیں، اسی طرح نابالغ بچہ نابالغوں کی امامت کرسکتا ہے،بالغوں کی نہیں، اور صحت مند کی قید سے معذورین کا استثناء پیشِ نظر ہے کہ ایک معذور اپنے جیسے معذورین کا امام بن سکتا ہے؛ البتہ اتنا ضرور خیال رہے کہ امام بنسبت مقتدیوں کے صحت کے اعتبار سے اچھے حال میں ہو یا کم سے کم برابر درجہ میں ہو، ان سے کمتر حال میں نہ ہو۔*
*📚حوالہ:*
*(1) الدرالمختار مع ردالمحتار بیروت :2/242*
*(2) شامی زکریا:2/284:285*
*(3) کتاب المسائل:1/405*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (03) ・❱━━━*
*·•●✿ اقتداء کی شرائط:*
*کسی بھی امام کی اقتداء درست ہونے کے لیے دس شرائط ملحوظ رہنی ضروری ہیں:*
*☆ (1) مقتدی کا امام کی اقتداء کی نیت کرنا۔(اگر مقتدی نے امام کی اقتداء کی نیت نہ کی ہو تو مقتدی کی اقتداء درست نہ ہوگی)*
*☆ (2) امام اور مقتدی کی جگہ کا حقیقتہً یا حکماً متحدہونا۔*
*☆ (3) دونوں کی نماز ایک ہونا (یہ نہ ہو کہ امام پڑھا رہا ہے ظہر کی نماز اور مقتدی نیت کرلے عصر کی)*
*☆ (4) امام کی نماز کا درست ہونا۔(اگر امام کی نماز کسی وجہ سے درست نہ ہوگی تو کسی بھی مقتدی کی نماز نہ ہوگی)*
*☆ (5) کسی عورت کا امام یا مقتدی کے سامنے یا دائیں بائیں نہ ہونا۔( اس کو مسئلہ محاذات کہتے ہیں، جس کی تفصیل کتب فقہ میں ہے۔)*
*☆ (6) مقتدی کی ایڑی کا امام کی ایڑی سے آگے نہ ہونا(اگر ایڑی امام سے آگے ہوگئی تو مقتدی کی اقتداء درست نہ ہوگی،ہاں اگر ایڑی پیچھے ہو مگر قد وقامت میں زیادتی کہ وجہ سے سجدہ کرتے ہوئے مثلاً سر امام کے سر سے آگے ہوجائے تو اقتداء میں کوئی فرق نہ آئے گا)*
*☆ (7) مقتدی کو امام کی نقل و حرکت کا علم ہونا( کہ اب وہ قیام میں ہے یا رکوع یا سجدہ میں ہے،محض اٹکل سے کام نہ چلے گا)*
*☆ (8) مقتدی کا ( نماز کے دوران یا امام کے سلام پھیرنے کے بعد) یہ جان لینا کہ امام مسافر ہے یا مقیم ( تاکہ اپنا حال دیکھ کر قصر و اتمام پر عمل کرسکے)*
*☆ (9) مقتدی کا امام کے ساتھ ارکانِ نماز میں شریک رہنا۔*
*☆ (10) ارکان اور شرائط نماز میں مقتدی کی حالت امام کے مساوی یا اس سے کم تر ہونا، مثلاً ۔*
*☆ (۱) رکوع سجدہ پر قدرت رکھنے والے امام کا اپنے جیسے مقتدی کی امامت کرنا، یا اشارہ سے نماز پڑھنے والے کا اپنے جیسےشخص کی امامت کرنا درست ہے۔*
*☆ (۲) امام اگر اشارہ سے نماز پڑھتا ہے اور پیچھے مقتدی باقاعدہ رکوع سجدہ کرتا ہے تو مقتدی کی نماز نہ ہوگی ، اس لیے کہ امام کی حالت کم تر ہے مقتدی سے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) درمختار مع الشامی بیروت:2/242:244*
*(2) شامی زکریا:2/284:286*
*(3) کتاب المسائل:1/406*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (04) ・❱━━━*
*·•●✿ (4) امامت کا حق دار:*
*امامت کا صحیح حق دار وہی ہے جو نماز اور اس کے متعلقہ مسائل سے زیادہ واقفیت رکھتا ہو، قرآنِ کریم صحیح پڑھتا ہو، دین دار ہو اور کبائر سے اجتناب کرتا ہو۔*
*☆ (5) قادیانی/مرزائی کی امامت:*
*مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے والے بلاتردد کافر و مرتد اور زندیق ہیں،ان کی امامت قطعاً جائز نہیں۔*
*☆ (6) منکرینِ حدیث کی امامت:*
*علماء کرام نے فرقہ منکرینِ حدیث کو بھی دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے، ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔*
*☆ (7) شیعہ کی امامت:*
*جس شیعہ کا عقیدہ تحریفِ قرآن ہو یا اللہ تعالیٰ کے بارے میں عقیدہ بدا رکھتا ہو، یا حضرات شیخین رضی اللہ عنھما کی تکفیر کا قائل ہو یا حضرت عائشہ صدیقہ مطہرہ پر تہمتِ زنا لگاتا ہو یا اماموں کو انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل سمجھتا ہو تو ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے اور اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔*
*📚حوالہ:*
*(1) ھندیه:1/83*
*(2) طحطاوی علی المراقی:163*
*(3) درمختار مع الشامی* بیروت:2/251*
*(4) فتاوی دارالعلوم دیوبند 3/310*
*(5) جواہرالفقہ:1/60*
*(6) کتاب المسائل 1/406:407*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (05) ・❱━━━*
*·•●✿ (8) بدعتی کی امامت:*
*بدعتی کو مستقل امام بنانا مکروہ تحریمی ہے۔*
*☆ (9) غیرمقلد (اہلِ حدیث) کی امامت:*
*☆ جو غیرمقلد سخت متعصب ہو اور بزرگانِ دین کے بارے میں زبان درازیاں کرتا ہو، وہ فاسق کے حکم میں ہے،اس کی امامت مکروہ ہے؛ لیکن اگر وہ متعصب نہ ہو اور بزرگوں کی شان میں بے ادب نہ ہو، نیز وہ ایسا عمل نہ کرے کہ جس سے امام صاحب رحمہ اللہ کے مذہب کے مطابق نماز مکروہ یا فاسد ہوتی ہے، تو ایسے غیرمقلد کے پیچھے مذکورہ شرائط کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔*
*☆ (10) فاسق کی امامت:*
*فاسق کا امام مقرر کرنا مکروہ تحریمی ہے، اس کی اقتداء میں نماز نہ پڑھی جائے؛ بلکہ متقی شخص ہی کو امام بنایا جائے۔*
*☆ (11) ڈاڑھی کٹانے والے کی امامت:*
*ڈاڑھی کٹانے والا فاسق ہے اور فاسق کی امامت مکروہ تحریمی ہے۔(خواہ فرائض میں ہو یا تروایح میں)*
*📚حوالہ:*
*(1) صغیری:264*
*(2) فتاوی شامی زکریا 2/299*
*(3) فتاوی رشیدیہ 348*
*(4) البحر الرائق:1/349*
*(5) فتاوی دارالعلوم:3/145*
*(6) کتاب المسائل:1/407:408*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (06) ・❱━━━*
*·•●✿ (12) ٹی وی دیکھنے والے یا سنیما باز کی امامت*
*جو شخص سنیما یا ٹی وی وغیرہ پر فحش مناظر دیکھتا ہو اور ناچ گانے وغیرہ کی محفلوں سے احتراز نہ کرتا ہو ایسا شخص فاسق ہے اس کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے۔*
*☆ (13) انگریزی بال رکھنے والے کی امامت*
*انگریزی بال رکھنے والا فاسق ہے،اور فاسق کو امام بنانا مکروہ ہے۔*
*☆ (14)جس کی بیوی پردہ نہ کرتی ہو اس کی امامت*
*اگر امام کی بیوی شرعی طور پر پردہ نہیں کرتی اور وہ بے پردگی سے نہیں روکتا، بلکہ اس کے اس فعل سے راضی ہے اور اس سے بہتر امامت کا اہل موجود ہے تو ایسی حالت میں اس کا امام بنانا مکروہ ہے؛کیوں کہ وہ فاسق ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) شامی بیروت:2/255*
*(2) کفایت المفتی:3/80*
*(3) امداد الاحکام:2/130*
*(4) محمودیہ:2/99:7/47*
*(5) کتاب المسائل:1/408:409*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (07) ・❱━━━*
*·•●✿ (15) ٹخنوں سے نیچے پائجامہ لٹکانے والے کی امامت*
*ٹخنوں سے نیچے پائجامہ پہننا ناجائز ہے اور موجبِ فسق ہے،اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی ہے۔*
*☆ (16) کالا خضاب لگانے والے کی امامت*
*بلاعذر سیاہ خضاب لگانے والے امام کی امامت مکروہ ہے، البتہ اگر کسی عذر سے کالا خضاب لگایا مثلا میدان جنگ میں دشمن پر رعب ڈالنے یا بعض علماء کے نزدیک بیوی کو خوش کرنے کے لیے لگایا تو ایسے امام کی امامت مکروہ نہ ہوگی۔*
*☆ (17) نابینا کی امامت*
*جو نابینا محتاط اور نجاست سے بچنے کا پورا اہتمام کرتا ہو تو اس کی امامت بلا کراہت جائز ہے۔"*
*☆ (18) امردکی امامت*
*امرد اگر خوبصورت ہو اس کو شہوت کی نگاہ سے لوگوں کے دیکھنے کا اندیشہ ہو تو اس کی امامت مکروہ تنزیہی ہے، اور بہتر ہے کہ کسی باریش شخص کو ہی مستقل امام مقرر کیا جائے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) درمختار مع الشامی بیروت:2/255*
*(2) احسن الفتاوی:3/294*
*(3) طحطاوی:164:165*
*(4) دارالعلوم:3/137*
*(5) فتاوی رحیمیہ 4/363*
*(6) کتاب المسائل:1/409:410*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (08) ・❱━━━*
*·•●✿ (19) عنین (نامرد) کی امامت*
*اگر کوئی شخص امراض کی وجہ سے ناقابلِ جماع ہو جائے یعنی نامرد ہوجائے تو اس کی امامت جائز ہے؛کیوں کہ فقہاء نے عنین کی امامت کو مکروہ یا ناجائز کہیں نہیں لکھا ہے۔*
*☆ (20) جس مرد کی داڑھی نہ نکلے اس کی امامت کا حکم:*
*اگر کسی شخص کی عمر زیادہ ہوگئی ہو؛ لیکن اس کی داڑھی نہ نکلی ہو تو وہ امرد نہیں رہا، اس کے پیچھے امامت بلا کراہت درست ہے۔*
*☆ (21) نابالغ کی امامت:*
*حنفیہ کا صحیح مذہب یہ ہے کہ نابالغ کو فرض و نفل کسی میں بھی امام مقرر کرنا صحیح نہیں؛البتہ اگر وہ نابالغوں کی امامت کرے، تو صحیح ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) فتاوی دارالعلوم:3/156*
*(2) شامی بیروت:2/258*
*(3) حلبی کبیر:516*
*(4) محمودیہ:2/77*
*(5) امداد الفتاوی:1/361*
*(6) کتاب المسائل:1/410:411*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (09) ・❱━━━*
*·•●✿ (22) بیٹھ کر نماز پڑھانے والے کے پیچھے کھڑے ہوکر پڑھنے والے کی نماز*
*اگر کوئی شخص بیٹھ کر باقاعدہ رکوع سجدے کے ساتھ نماز پڑھائے اور اس کے پیچھے مقتدی کھڑے ہوکر اقتداء کریں تو اس کی اقتداء کرنا جائز اور درست ہے؛ لیکن افضل یہی ہے کہ ایسے شخص کو امام بنایا جائے جو قیام پر قادر ہو۔*
*☆(23) معذور کی امامت*
*طاہر کے لیے معذور آدمی کی اقتداء درست نہیں؛ البتہ اگر ایک معذور آدمی دوسرے معذور کی امامت کرے تو درست ہے، بشرطیکہ دونوں ایک ہی عذر میں مبتلا ہوں،اگر دونوں کا عذر الگ الگ ہو تو پھر درست نہیں۔*
*☆(24) پٹی پر مسح کرنے والے کی امامت*
*پٹی پر مسح کرنے والے امام کے پیچھے غاسل(دھونے والے) کی نماز شرعاً درست ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) فتاوی ریاض العلوم:2/409*
*(2) درمختار مع الشامی زکریا:2/336*
*(3) حلبی کبیر:516*
*(4) طحطاوی:157*
*(5) تاتارخانیۃ زکریا:2/257*
*(6) کتاب المسائل:1/411:212*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (10) ・❱━━━*
*·•●✿ (25) غیر مختون کی امامت.*
*☆ ختنہ سنت ہے جو شخص بلاعذر اس کو چھوڑ دے وہ تارکِ سنت ہے،اگر وہ بدن کو غسل و استنجاء میں پاک صاف رکھتا ہے تو اس کی امامت درست ہے، بشرطیکہ اتفاقی طور پر غیرمختون رہ گیا ہو اور ختنہ کے سنت ہونے کا قائل ہو، اگرچہ مختون مقدم ہے۔*
*☆(26) تتلے شخص کی امامت*
*صحیح تلفظ پر قدرت نہ رکھنے والے تتلے شخص کی امامت ایسے لوگوں کے لیے جو صحیح تلفظ پر قادر ہوں درست نہیں؛ لہذا تتلے شخص کو امام نہ بنایا جائے۔*
*☆ (27) امام کو تکبیرات کس طرح کہنی چاہئیں؟*
*تکبیراتِ انتقالیہ کہنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہونے کے ساتھ ساتھ تکبیرات شروع کرے اور جونہی دوسرے رکن میں پہنچے تکبیر کی آواز بند ہوجائے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) کفایت المفتی:3/44*
*(2) عالمگیری:1/86*
*(3) طحطاوی علی المراقی دارالکتاب:289*
*(4) کبیری:314*
*(5) شامی زکریا:2/196*
*(6) کتاب المسائل:1/413*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (11) ・❱━━━*
*·•●✿ (28) رکوع و سجدہ میں امام کتنی مرتبہ تسبیحات پڑھے؟*
*امام تسبیحاتِ رکوع و سجدہ میں اس بات کا لحاظ رکھے کہ مقتدی اطمینان کے ساتھ تین مرتبہ تسبیح پڑھ لیں، اس لیے امام کو چاہیے کہ پانچ مرتبہ تسبیحات کہہ لے، تاکہ مقتدی اطمینان سے تین مرتبہ کہہ لیں۔*
*☆ (29) امام کا مصلیٰ ہی پر سنتیں پڑھنا:*
*اگر مسجد میں جگہ تنگ نہیں ہے تو امام کا مصلیٰ پر سنتیں پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے یعنی بہتر نہیں ہے، اور اگر جگہ تنگ ہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔*
*☆ (30) امام نماز پڑھ کر کس طرف رخ کرے؟*
*بہتر ہے کہ فجر اور عصر کی نماز میں سلام پھیرنے کے بعد امام قبلہ کی دائیں جانب رخ کرکے بیٹھے، باقی بائیں جانب رخ کرنا یا لوگوں کی طرف رخ کرنا اور قبلہ کی طرف پشت کرنا بھی جائز ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) احسن الفتاوی:3/296*
*(2) رحیمیه:4/371*
*(3) مراقی الفلاح:198*
*(4) درمختار مع الشامی بیروت:2/220*
*(5) کتاب المسائل:1/413:414*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (12) ・❱━━━*
*·•●✿ (31) بارش اور سخت سردی میں ترکِ جماعت*
*☆ سخت بارش اور سردی کی وجہ سے ترکِ جماعت کی گنجائش ہے۔*
*☆ (32) کرفیو میں ترکِ جماعت*
*اگر کسی وجہ سے شہر میں کرفیو نافذ ہوجائے اور باہر نکلنے کی قانونی ممانعت ہو تو ایسی صورت میں اپنی جان،عزت اور آبرو کی حفاظت ضروری ہے اور جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے۔*
*☆ (33) قضاء حاجت مقدم ہے یا جماعت؟*
*اگر کسی کو پیشاب یا پاخانہ کی حاجت ہو تو پہلے قضاء حاجت کرے اس کے بعد جماعت مل جائے تو فبہا ورنہ تنہا نماز پڑھ لے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) شامی زکریا:2/292*
*(2) ھندیه:1/83*
*(3) طحطاوی علی المراقی:162*
*(4) درمختار مع الشامی بیروت:2/249*
*(5) فتاوی دارالعلوم دیوبند:3/66*
*(6) کتاب المسائل:1/414*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (13) ・❱━━━*
*·•●✿ (34) گھر پر تروایح کی جماعت*
*مردوں کے لیے کوشش یہ کرنی چاہیے کہ وہ اکھٹے مسجد میں تراویح پڑھیں، اگر حفاظ کرام زیادہ ہو تو قرآن کریم سنانے کی نیت سے تروایح کی جماعت گھر میں پڑھنی بھی درست ہے؛ البتہ فرض نماز قریبی مسجد ہی میں ادا کی جائے اور اس کے بعد گھر آکر تراویح پڑھیں ورنہ مسجد کے ثواب سے محرومی ہوگی۔*
*☆ (35) کیا عورتیں تنہا جماعت کر سکتی ہیں؟*
*فرض نمازوں میں عورت کا امام بن کر عورتوں کی امامت کرنا مکروہ تحریمیِ ہے، تراویح میں حافظہ کے لیے قرآن کریم سنانے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔*
*📚حوالہ:*
*(1) طحطاوی علی المراقی:225*
*(2) شامی زکریا:2/305*
*(3) فتاوی رحیمیه:9/76*
*(4) ھدایہ 1/123*
*(5) کتاب المسائل:1/415*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (14) ・❱━━━*
*·•●✿(36) موجودہ دور میں عورتوں کا مسجد میں جماعت کے لئے جانا:*
*عورتیں چاہے بوڑھی ہوں یا جوان، ان کا گھروں میں ہی نماز پڑھنا افضل ہے، ان کا مسجد میں نماز اور جماعت کے لیے جانا پسندیدہ نہیں ہے؛ کیوں کہ اس پرفتن دور میں فتنہ و فساد کا اندیشہ زیادہ ہے؛لہذا احتراز بہرحال لازم ہے۔*
*☆ (37) نفل کی جماعت کا حکم:*
*تروایح کے علاوہ دیگرنفلی نمازوں کو باجماعت پڑھنا بہتر نہیں ہے، یعنی نوافل تنہا پڑھنا بہتر ہے، پھر اگر امام کے علاوہ دو مقتدی ہو تو بلاکراہت جائز ہے ، اگر تین ہو تو عندالبعض جائز اور عندالبعض مکروہ ہے، اگر مقتدی چار ہو تو اتفاقا مکروہ تحریمی ہے۔*
*☆ (38) وتر کی جماعت رمضان کے ساتھ خاص ہے۔*
*☆ وتر کی جماعت تروایح کی جماعت کے تابع ہے؛لہذا اسے صرف رمضان میں ہی باجماعت پڑھنے کی اجازت ہے، رمضان کے علاوہ وتر کی جماعت کا حکم نہیں ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) نفع المفتی والسائل:93*
*(2) شامی زکریا:2/307*
*(3) ھندیه :1/84*
*(4) احسن الفتاوی:3/455*
*(5) کتاب المسائل،:1/415:416*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (15) ・❱━━━*
*·•●✿ (39) کن اعذار کی وجہ سے ترکِ جماعت کی گنجائش ہے؟*
*☆ جو شخص کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو،یا اس کے ہاتھ پیر کٹے ہوئے ہوں، یا وہ فالج زدہ ہو، یا ظالم کے ظلم کے اندیشہ سے روپوش ہو یا بڑھاپے کی وجہ سے چلنے پھرنے سے عاجز ہو، تو ایسے لوگوں کے لیے جماعت کی نماز ترک کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔*
*☆ (40) جماعت کی فضیلت کب تک حاصل ہوگی؟*
*امام محمد رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ جب تک امام کے ساتھ کم ازکم ایک رکعت میں شریک نہ ہو جماعت کی فضیلت حاصل نہ ہوگی؛ لیکن جمہور فقہائے احناف کا موقف یہ ہے کہ اگر نماز کے کسی بھی جز میں امام کے ساتھ شرکت ہوگئی ،تو نماز باجماعت کی فضیلت حاصل ہوجائے گی۔*
*📚حوالہ:*
*(1) کبیری:509*
*(2) شامی کراچی:2/510*
*(3) کتاب المسائل:1/417*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (16) ・❱━━━*
*·•●✿ (41) اکیلےفرض نماز پڑھنے کے دوران جماعت کھڑی ہوگئ تو*
*اگر کسی شخص نے انفرادی طور پر کسی فرض نماز کی نیت باندھ لی تھی،اسی مسجد میں وہ نماز باجماعت پڑھی جانے لگی، تو اب یہ الگ پڑھنے والا شخص کیا کرے؟اس بارے میں تفصیل یہ ہے:*
*☆ (1) اگر وہ نماز دو یا تین رکعت والی ( مثلاً فجر یا مغرب)ہے،اور ابھی اس نمازی نے دوسری رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہے،تو حکم یہ ہے کہ اپنی نماز توڑ کر امام کے ساتھ جماعت میں شامل ہوجائے۔*
*☆ (2) اور اگر دو یا تین رکعت والی نماز میں دوسری رکعت کا سجدہ کرچکا ہے، تو اب اپنی ہی نماز پوری کرے، جماعت میں شریک نہ ہو۔*
*☆ (3) اگر نماز چار رکعت والی ہے(مثلاً ظہر اور عشاء) اور ابھی اس نمازی نے پہلی رکعت کا سجدہ نہیں کیا ہے تو فوراً کھڑے کھڑے ایک سلام کے ذریعہ نماز توڑ کر جماعت میں شامل ہوجائے۔*
*☆ (4) اور اگر چار رکعت والی نماز میں پہلی رکعت کا سجدہ کرلیا ہے تو فوراً نماز نہ توڑے؛ بلکہ دو رکعت پوری کرکے سلام پھیر کر جماعت میں شریک ہوجائے۔*
*☆ (5) اور اگر تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ جماعت کھڑی ہوگئی تو اب اپنی نماز نہ توڑے؛ بلکہ اسے پوری کرے،اور بعد میں بطور نفل امام کے ساتھ شریک ہوجائے،( مگر یہ صورت عصر میں نہیں ہو سکتی؛ کیوں کہ عصر کے فرض پڑھنے کے بعد کوئی بھی نفل نماز پڑھنا منع ہے۔)*
*📚حوالہ:*
*(1) درمختارمع الشامی زکریا:2/506*
*(2) کتاب المسائل:1/417:418*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (17) ・❱━━━*
*·•●✿ (42) نفل یاسنت پڑھتے ہوئے نماز کھڑی ہوگئی تو کیا کرے اگر کسی نے نفل یا سنت کی نیت باندھ رکھی تھی کہ نماز کھڑی ہوگئی تو اب تین صورتیں ہیں:*
*☆ (1) اگر اس نے ابھی دو رکعت پوری نہیں کی ہے تو فوراً نماز نہ توڑے؛ بلکہ دو رکعت پوری کرکے سلام پھیر کر نماز میں شریک ہو جائے۔*
*☆ (2) اور اگر سنت کی تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوچکا تھا مگر ابھی سجدہ نہیں کیا تھا،تو لوٹ کر قعدہ میں آکر سلام پھیر دے اور جماعت میں شریک ہوجائے۔*
*☆ (۳) اور اگر تیسری رکعت کا سجدہ بھی کر لیا تھا تو اب چوتھی رکعت پوری کرکے ہی جماعت میں شریک ہو۔*
*📚حوالہ:*
*(1) الدرالمختار مع ردالمحتار کراچی:2/507*
*(2) کتاب المسائل:1/418:419*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (18) ・❱━━━*
*·•●✿ (43) جمعہ کی سنتوں کے دوران خطبہ شروع ہوجائے تو کیا کرے؟*
*اگر کوئی شخص جمعہ کی سنت پڑھ رہا تھا اسی دوران خطیب صاحب نے خطبہ شروع کردیا تو راجح قول کے مطابق اس سنت پڑھنے والے شخص کو چاہیے کہ دو رکعت پر سلام پھیر کر خطبہ سننے میں مشغول ہوجائے اور نماز کے بعد سنتوں کو دوبارہ ادا کرے۔*
*☆ (44) بارش کے عذر سے تکرارِ جماعت:*
*اگر نمازی زیادہ ہوں اور جماعت کے لیے کوئی اور جگہ دستیاب نہ ہو تو بارش کی شدت کی وجہ سے ایک ہی مسجد میں تکرارِ جماعت کی گنجائش ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) الدر المختار مع ردالمحتار کراچی:2/506*
*(2) شامی زکریا:2/392*
*(3)کتاب المسائل:1/419:422*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (19) ・❱━━━*
*·•●✿ (45) فجر کی سنتیں کہاں پڑھیں اور کب تک پڑھیں؟*
*اگر فجر کے وقت مسجد میں اس حال میں پہنچا کہ جماعت شروع ہوچکی ہے تو فجر کی سنت پڑھے یا نہ پڑھے؟ اس بارے میں درج ذیل صورتیں ہیں:*
*☆ (1) اگر مسجد میں ایک ہی ہال ہے جہاں جماعت ہو رہی ہے یا مسجد کشادہ ہے؛ لیکن نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے صفیں پیچھے تک پہنچ چکی ہیں اور کوئی جگہ خالی نہیں ہے، تو اس صورت میں فجر کی سنت چھوڑ دے اور فوراً فرض نماز میں شریک ہو جائے، اس لیے کہ فرض نماز کی صفوں کے ساتھ مل کر سنتیں پڑھنا سخت مکروہ ہے۔*
*☆ (2) اگر مسجد کشادہ ہے اور باہر حصہ تک نماز کی صفیں نہیں پہنچ رہی ہیں، تو اگر سنت کی ادائیگی کے بعد امام کے ساتھ تشہد میں شریک ہونے کی امید ہو تو باہری حصہ میں یعنی جماعت کی جگہ سے دور ہٹ کر مثلاً اندر نماز ہو رہی ہے تو دالان میں یا ملحقہ کمرے میں سنت پڑھ کر جماعت میں شریک ہوجائے۔*
*☆ (3) اگر یہ اندیشہ ہے کہ سنت پڑھنے کی وجہ سے پوری جماعت ہی چھوٹ جائے گی تو اب یہ سنت نہ پڑھے؛ بلکہ جماعت میں شریک ہو جائے اور اشراق کے وقت یہ چھوٹی ہوئی سنتیں ادا کرلے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) درمختار:2/510*
*(2) شامی زکریا:2/512*
*(3) کتاب المسائل:1/420:419*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (20) ・❱━━━*
*·•●✿ (46) محلّہ کی مسجد میں اہل محلّہ کا جماعتِ ثانیہ کرنا:*
*محلّہ کی مسجد میں اہل محلّہ کے لیے جماعت ثانیہ سخت مکروہ ہے؛ کیوں کہ اس سے تقلیلِ جماعت لازم آتی ہے۔*
*☆ (47) بازار یا راستہ کی مسجد میں جماعتِ ثانیہ:*
*راستے پر واقع ایسی مسجد جس میں اگر باقاعدہ امام اور نمازی مقرر نہ ہوں تو وہاں تکرارِ جماعت مطلقاً جائز ہے،اور اگر باقاعدہ امام اور نمازی مقرر ہوں تو اسکے آس پاس رہنے والوں کی لیے جماعت ثانیہ مطلقاً مکروہ ہے؛ لیکن جو مسافر وہاں آتے جاتے ہیں ان کے لئے تکرار جماعت کی گنجائش ہے، پھر احتیاط اس میں ہے کہ امام کی جگہ سے ہٹ کر باجماعت نماز پڑھیں۔*
*📚حوالہ:*
*(1) البحر الرائق:1/346*
*(2) منحة الخالق:1/345*
*(3) ھندیہ 1/83*
*(4) شامی زکریا:2/288*
*(5) کتاب المسائل:1/420:421*
💞💞
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
*💧امامت و جماعت کے مسائل:💧*
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
*━━❰・ پوسٹ نمبر (21) ・❱━━━*
*·•●✿ (48) تنگی کی وجہ سے تکرارِ جماعت:*
*بڑے شہروں وغیرہ میں اگر ایک مسجد میں بیک وقت سب نمازی نہ سما پائیں اور دوسری جماعت کی ضرورت ہو تو اولیٰ یہ ہے کہ مسجد کے علاوہ کسی قریبی ہال یا میدان میں جمع ہو کر دوسری جماعت کا اہتمام کیا جائے؛ تاکہ ایک مسجد میں تکرارِ جماعت کا محظور لازم نہ آئے؛ لیکن اگر دوسری جگہ جماعت کرنے کا انتظام ممکن نہ ہو تو ایک ہی مسجد میں دوسرے امام کی اقتداء میں مابقیہ لوگ جمعہ کی نماز ادا کر سکتے ہیں؛ کیوں کہ یہاں تکرار جماعت کی علت تقلیلِ جماعت نہیں پائی جارہی ہے۔ (دوسری مرتبہ جو جماعت ادا کی جارہی ہے اس کے لیے اذان و اقامت نہیں کہی جائے گی۔)*
*☆ (49) مسافر حضرات کا کسی مسجد میں جماعت ثانیہ کرنا*
*اگر مسافر حضرات محلّہ کی مسجد میں تداعی اور اذان کے بغیر باجماعت نماز پڑھ لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے،ان کے لیے مسجد کی حدود میں رہ کر جماعت ادا کرنے کی گنجائش ہے۔*
*📚حوالہ:*
*(1) بدائع الصنائع:1/379*
*(2) شامی زکریا:1/63*
*(3) کتاب المسائل:1/421:422*
💞💞
No comments:
Post a Comment