🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 01 ・❱━━━
اوقات نماز میں تقویم (Calender ) کی رعایت معتبر ہے۔
اسلام نے نماز کی اوقات کی بنیاد آفتابی سایوں ، طلوع و غروب شفق اور ظاہری آثار پر رکھی ہے ، اس لیے کہ یہ ایسے معیار ہیں جن کو ہر عام و خاص سمجھ سکتا ہے مگر ان کی حیثیت بھی علامات کی ہیں ، اصل مقصود وقت پر نماز کی ادائیگی ہے اور یہ پہچان کے ذرائع و اسباب ہیں۔
ہمارے زمانے میں عموما اوقات نماز کا تعین تقویم سے ہوتا ہے اور تقویم کی بنیاد جدید فلکیاتی علم (Astronomy ) پر ہوتی ہے ، اس لیے اس تقویم کے ذریعہ اوقات نماز کی تعیین کرنا شرعا جائز و درست ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے اوقات نماز کے وجود کا ظن غالب حاصل ہوجاتا ہے جو کافی ہے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/112
▪فتاوی محمودیہ 5/359
▪جدید فقہی مسائل 1/125
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/266
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 02 ・❱━━━
حجاز مقدس میں عصر کی نماز مثل اول پر پڑھیں یا مثلین پر؟
پوری دنیا سے ہر سال لاکھوں حنفی افراد حج کرنے کے لیے جاتے ہیں، اور احناف کے یہاں عصر کا وقت مثلین پر شروع ہوتا ہے ، جب کہ حجاز مقدس میں خصوصا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تقریبا ہر مسجد میں عصر کی نماز مثل اول پر ہوتی ہے ، تو اسی صورت میں حنفی مسلک لوگوں کے لیے حرمین شریفین کے ائمہ اور دیگر مساجد کے اماموں کے پیچھے عصر کی نماز بلاکراہت ادا کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ ائمہ ثلاثہ رحمھم اللہ سمیت احناف میں سے امام ابویوسف ، امام محمد ، امام زفر اور امام طحاوی رحمھم اللہ مثل اول کے قائل ہیں اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے تو غررالاذکار اور برھان اور فیض کے حوالہ سے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اسی صورت میں عمل کی گنجائش ہے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/15
▪فتاوی قاسمیہ 5/312
▪فتوی دارالعلوم کراچی 33/1683
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/269
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 02 ・❱━━━
حجاز مقدس میں عصر کی نماز مثل اول پر پڑھیں یا مثلین پر؟
پوری دنیا سے ہر سال لاکھوں حنفی افراد حج کرنے کے لیے جاتے ہیں، اور احناف کے یہاں عصر کا وقت مثلین پر شروع ہوتا ہے ، جب کہ حجاز مقدس میں خصوصا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں تقریبا ہر مسجد میں عصر کی نماز مثل اول پر ہوتی ہے ، تو اسی صورت میں حنفی مسلک لوگوں کے لیے حرمین شریفین کے ائمہ اور دیگر مساجد کے اماموں کے پیچھے عصر کی نماز بلاکراہت ادا کرنا جائز اور درست ہے، کیوں کہ ائمہ ثلاثہ رحمھم اللہ سمیت احناف میں سے امام ابویوسف ، امام محمد ، امام زفر اور امام طحاوی رحمھم اللہ مثل اول کے قائل ہیں اور علامہ شامی رحمہ اللہ نے تو غررالاذکار اور برھان اور فیض کے حوالہ سے اسی کو مفتی بہ قرار دیا ہے۔ اس لیے اسی صورت میں عمل کی گنجائش ہے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/15
▪فتاوی قاسمیہ 5/312
▪فتوی دارالعلوم کراچی 33/1683
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/269
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 03 ・❱━━━
دوبارہ وقت داخل ہونے کی صورت میں نماز کا حکم
کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص اپنے ملک میں مغرب کی نماز پڑھ کر جہاز میں مغرب کی طرف سفر شروع کرتا ہے مثلا پاکستان میں مغرب کی نماز پڑھ لیتا ہے اور سعودی عرب کی جانب سفر شروع کرتا ہے ، جب وہاں پہنچتا ہے تو وہاں سورج غروب نہیں ہوا ہوتا ہے ، تو سورج غروب ہونے پر اب اس شخص پر دوبارہ مغرب کی نماز پڑھنا لازم نہیں ہے، کیوں کہ اس نے ایک دفعہ فریضہ ادا کیا ہے ، البتہ احتراما للوقت اور مسلمانوں کی موافقت کی وجہ سے پڑھ لینا چاہیے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/17
▪الھدایہ 1/152
▪فتاوی دارالعلوم زکریا 2/54
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/271
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ پوسٹ نمبر 04 ・❱━━━
رمضان المبارک میں نماز فجر اول وقت میں پڑھنا
فجر کا اصل وقت تو طلوع صبح صادق سے شروع ہوتا ہے لیکن احناف کے ہاں مستحب یہ ہے کہ اسفار یعنی تاخیر کرکے روشنی میں پڑھی جائے ، کیوں کہ حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کو تاریکی میں پڑھنے کے بجائے روشنی پھیلنے پر پڑھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت سے زیادہ لوگ نماز پڑھ سکیں گے ، یہ حکم عام حالات کے بارے میں ہے۔
رمضان المبارک میں فجر کی نماز صبح صادق کے بعد فورا ادا کرنا بہتر ہے ، تاکہ اکثر لوگ باجماعت نماز پڑھ سکیں۔
یہ مسئلہ حنفیہ کے مسلک کے خلاف بھی نہیں ہے اور ہمارے اکابر دیوبند کا مسلک بھی ہے۔
📚حوالہ:
▪السنن الترمذی 1/150
▪معارف السنن 5/362
▪فتاوی قاسمیہ 5/274
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/273
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 05 ・❱━━━
نماز مغرب اور عشاء کی نماز کے درمیان وقت کی مقدار
بعض لوگوں کو میں نے دیکھا ہے کہ وہ مغرب کی اذان کے بعد جب آدھا گھنٹہ گزر جائے تو وہ نماز نہیں پڑھتے اور یہی سمجھتے ہیں کہ ان کی نماز قضا ہوگئی ، حالانکہ یہ بہت بڑی غلطی ہے جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے، فلکیات کے ماہرین محققین علماء کرام رحمھم تعالی نے لکھا ہے کہ مغرب اور عشاء کے درمیان تقریبا ایک گھنٹہ بیس منٹ سے لے کر ایک گھنٹہ اڑتیس منٹ تک وقت ہوتا ہے جوکہ موسم اور علاقے کے اعتبار سے تبدیل ہوتا ہے لیکن اس پر اکثر اہل علم کا اتفاق ہے کہ کسی بھی موسم میں یہ وقت سوا گھنٹہ سے کم نہیں ہوسکتا لہذا سوا گھنٹہ تک مغرب کی نماز پڑھی جاسکتی ہے ، ہاں بلاعذر ایسا نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ مغرب کی نماز کو جلدی پڑھنا مستحب ہے۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/51
▪فتاوی دارالعلوم زکریا 2/55
▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 2/42
▪کفایت المفتی 3/72
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 06 ・❱━━━
فرض نمازوں کے مستحب اوقات
☆ فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب تک رہتا ہے ، البتہ فجر کی نماز اسفار میں پڑھنا مستحب ہے ، اسفار کا آسان مطلب یہ ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے تقریبا چالیس منٹس یا آدھا گھنٹہ قبل شروع کی جائے۔
☆ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اور سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل تک رہتا ہے البتہ گرمی کے زمانے میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے اور سردیوں میں اول وقت میں۔
☆جمعہ کا اصل وقت ظہر کے وقت کی طرح ہے البتہ جمعہ کی نماز گرمی یا سردی ہر زمانہ میں اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے۔
☆ ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب تک باقی رہتا ہے اور عصر کی نماز میں سورج کے تغیر سے قبل تک تاخیر کرنا مستحب ہے ، سورج میں تغیر آنے کے بعد عصر کا مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے۔
☆مغرب کا اصل وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور افق پر سے سفید روشنی کے غائب ہونے تک باقی رہتا ہے ، یہ تقریبا ایک گھنٹہ بیس منٹ سے اڑتیس منٹ تک ہوتا ہے البتہ مغرب کی نماز اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے اور بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
☆ عشاء کا اصل وقت سفید روشنی کے غائب ہونے سے شروع ہوکر صبح صادق تک رہتا ہے۔ نماز عشاء کو ابتدائی تہائی رات سے پہلے تک موخر کرنا مستحب ہے (جبکہ تقلیل جماعت کا اندیشہ نہ ہو) اور آدھی رات تک پڑھنا بلاکراہت جائز ہے اور آدھی رات کے بعد پڑھنا بلاعذر مکروہ ہے ، ہاں عذر ہو تو مکروہ بھی نہیں ہے۔
☆ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد ہے اور صبح صادق کے طلوع تک رہتا ہے البتہ جس شخص کو بیدار ہونے کا اعتماد ہو اس کیلئے آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے اور جس کو اعتماد نہ ہو اس کیلئے سونے سے پہلے پڑھنا مستحب ہے۔
📚حوالہ:
▪الھدایہ 80-82/1
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/14
▪مراقی الفلاح 95
▪کتاب المسائل 238/1
ــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 06 ・❱━━━
فرض نمازوں کے مستحب اوقات
☆ فجر کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب تک رہتا ہے ، البتہ فجر کی نماز اسفار میں پڑھنا مستحب ہے ، اسفار کا آسان مطلب یہ ہے کہ سورج کے طلوع ہونے سے تقریبا چالیس منٹس یا آدھا گھنٹہ قبل شروع کی جائے۔
☆ ظہر کا وقت زوال کے بعد شروع ہوتا ہے اور سایہ اصلی کے علاوہ دو مثل تک رہتا ہے البتہ گرمی کے زمانے میں ظہر کی نماز تاخیر سے پڑھنا مستحب ہے اور سردیوں میں اول وقت میں۔
☆جمعہ کا اصل وقت ظہر کے وقت کی طرح ہے البتہ جمعہ کی نماز گرمی یا سردی ہر زمانہ میں اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے۔
☆ ظہر کا وقت ختم ہوتے ہی عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب تک باقی رہتا ہے اور عصر کی نماز میں سورج کے تغیر سے قبل تک تاخیر کرنا مستحب ہے ، سورج میں تغیر آنے کے بعد عصر کا مکروہ وقت شروع ہوجاتا ہے۔
☆مغرب کا اصل وقت غروب آفتاب سے شروع ہوتا ہے اور افق پر سے سفید روشنی کے غائب ہونے تک باقی رہتا ہے ، یہ تقریبا ایک گھنٹہ بیس منٹ سے اڑتیس منٹ تک ہوتا ہے البتہ مغرب کی نماز اول وقت میں پڑھنا مستحب ہے اور بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
☆ عشاء کا اصل وقت سفید روشنی کے غائب ہونے سے شروع ہوکر صبح صادق تک رہتا ہے۔ نماز عشاء کو ابتدائی تہائی رات سے پہلے تک موخر کرنا مستحب ہے (جبکہ تقلیل جماعت کا اندیشہ نہ ہو) اور آدھی رات تک پڑھنا بلاکراہت جائز ہے اور آدھی رات کے بعد پڑھنا بلاعذر مکروہ ہے ، ہاں عذر ہو تو مکروہ بھی نہیں ہے۔
☆ وتر کا وقت عشاء کی نماز کے بعد ہے اور صبح صادق کے طلوع تک رہتا ہے البتہ جس شخص کو بیدار ہونے کا اعتماد ہو اس کیلئے آخر رات میں وتر پڑھنا مستحب ہے اور جس کو اعتماد نہ ہو اس کیلئے سونے سے پہلے پڑھنا مستحب ہے۔
📚حوالہ:
▪الھدایہ 80-82/1
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/14
▪مراقی الفلاح 95
▪کتاب المسائل 238/1
ــ
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 07 ・❱━━━
نماز اشراق کا وقت
سورج طلوع ہونے کے تقریبا 20 منٹ ( مکروہ وقت گزرجانے) کے بعد اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے۔
نماز چاشت کا وقت
چاشت کا وقت بھی سورج کے طلوع ہونے کے 20 منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے ، لیکن افضل یہ ہے کہ ایک چوتھائی دن گذرنے کے بعد پڑھی جائے۔
📚حوالہ:
▪طحطاوی علی مراقی الفلاح 100
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/465
▪صغیری 201
▪کتاب المسائل 1/242
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 07 ・❱━━━
نماز اشراق کا وقت
سورج طلوع ہونے کے تقریبا 20 منٹ ( مکروہ وقت گزرجانے) کے بعد اشراق کا وقت شروع ہوتا ہے۔
نماز چاشت کا وقت
چاشت کا وقت بھی سورج کے طلوع ہونے کے 20 منٹ بعد شروع ہوتا ہے اور زوال تک رہتا ہے ، لیکن افضل یہ ہے کہ ایک چوتھائی دن گذرنے کے بعد پڑھی جائے۔
📚حوالہ:
▪طحطاوی علی مراقی الفلاح 100
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/465
▪صغیری 201
▪کتاب المسائل 1/242
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 08・❱━━━
مکروہ اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
1۔ سورج نکلتے وقت ، عین زوال کے وقت اور سورج غروب ہونے کے وقت کوئی نماز صحیح نہیں، البتہ عصر کی نماز اگر کوئی پہلے نہ پڑھ سکا ہو تو وہ سورج غروب ہوتے وقت بھی پڑھ لے۔
2۔ مذکورہ تین اوقات میں سجدہ تلاوت بھی مکروہ ہے، البتہ اگر اسی وقت آیت سجدہ پڑھی گئی ہو تو ادا ہوجائیگی کراہت تنزیہی کے ساتھ۔
3۔ مذکورہ تین اوقات میں نماز جنازہ کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر جنازہ پہلے سے تیار تھا تو مذکورہ اوقات میں اس پر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور اگر جنازہ اسی وقت تیار ہوا ہے تو اسی وقت نماز پڑھ لی جائے ، موخر نہ کی جائے ، اور اس میں کوئی کراہت نہیں۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/374
▪الفتاوی الھندیہ 1/52
▪احسن الفتاوی 1/136
▪تسہیل بہشتی زیور 1/244
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 09 ・❱━━━
مکروہ اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
4۔ فجر کی نماز پڑھ لینے کے بعد جب تک سورج نکل کر اونچا نہ ہوجائے ( اونچائی کی حد ایک نیزہ ہے اور یہ وہ وقت ہے جب سورج کی طرف دیکھنے سے آنکھیں چندھیانے لگیں) نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ، البتہ فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے تک قضا نماز پڑھنا اور سجدہ تلاوت کرنا اور نماز جنازہ پڑھنا درست ہے۔
5۔ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد نوافل پڑھنا ممنوع ہے ، البتہ قضا نماز پڑھنا ، سجدہ تلاوت کرنا جائز ہے ، جب دھوپ پھیکی پڑجائے تو یہ بھی درست نہیں۔
6۔ فجر کے وقت سورج نکل آنے کے ڈر سے جلدی سے صرف فرض پڑھ لیے ، بعد میں وقت دیکھا تو وقت زیادہ تھا تو اب سنت پڑھنا جائز نہیں ہے، جب سورج روشن ہوجائے تو پڑھ لیں۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/53
▪تسہیل بہشتی زیور 1/245
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 09 ・❱━━━
مکروہ اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
4۔ فجر کی نماز پڑھ لینے کے بعد جب تک سورج نکل کر اونچا نہ ہوجائے ( اونچائی کی حد ایک نیزہ ہے اور یہ وہ وقت ہے جب سورج کی طرف دیکھنے سے آنکھیں چندھیانے لگیں) نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ، البتہ فجر کی نماز کے بعد سورج نکلنے سے پہلے تک قضا نماز پڑھنا اور سجدہ تلاوت کرنا اور نماز جنازہ پڑھنا درست ہے۔
5۔ عصر کی نماز پڑھنے کے بعد نوافل پڑھنا ممنوع ہے ، البتہ قضا نماز پڑھنا ، سجدہ تلاوت کرنا جائز ہے ، جب دھوپ پھیکی پڑجائے تو یہ بھی درست نہیں۔
6۔ فجر کے وقت سورج نکل آنے کے ڈر سے جلدی سے صرف فرض پڑھ لیے ، بعد میں وقت دیکھا تو وقت زیادہ تھا تو اب سنت پڑھنا جائز نہیں ہے، جب سورج روشن ہوجائے تو پڑھ لیں۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/53
▪تسہیل بہشتی زیور 1/245
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 10・❱━━━
نماز کے اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
1۔ جب صبح صادق ہوجائے تو فجر کی دو رکعت سنت اور دو رکعت فرض کے علاوہ اور کوئی نفل نماز پڑھنا درست نہیں ہے، یعنی مکروہ ہے ، البتہ سورج کے افق سے طلوع ہونے سے قبل قضا نمازیں پڑھنا اور سجدہ تلاوت کرنا درست ہے۔
2۔ اگر فجر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج نکل آیا تو نماز نہیں ہوئی۔ سورج خوب روشن ہونے کے بعد یعنی اشراق کے وقت قضا پڑھے۔
3۔ اگر عصر کی نماز پڑھتے ہوئے سورج غروب ہوگیا تو نماز ہوگئی ، قضا لازم نہیں ہے۔
4۔ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سونا مکروہ ہے ، لیکن کوئی مریض ہو یا سفر سے بہت تھکا ہوا ہو اور کسی سے کہہ دے کہ مجھے نماز کے وقت جگادینا اور دوسرا وعدہ کرلے تو سوجانا درست ہے یا آلارم کے ذریعے اٹھنے کا یقین ہو۔
📚حوالہ:
▪الھدایہ 1/68
▪فتح القدیر 1/231
▪فتاوی شامی 2/30
▪تسہیل بہشتی زیور 1/245
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
━━❰・ پوسٹ نمبر 11 ・❱━━━
نماز کے اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
5۔ جب امام صاحب خطبے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جائے ، چاہے خطبہ جمعہ کا ہو یا عیدین کا یا حج کا تو اس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
6۔ جب فرض نماز کی تکبیر کہی جارہی ہو تو اس وقت بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے ، البتہ اگر فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اور صفوں سے ہٹ کر جگہ ہو اور ظن غالب یہ ہو کہ امام کے ساتھ سلام سے قبل پوری کرسکتا ہے یا بعض علماء کے قول کے مطابق ایک رکعت ملنے کی امید ہو تو فجر کی سنتوں کا پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔
▪عیدین کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ، چاہے گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں اور عیدین کی نماز کے بعد صرف عیدگاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/783 ط سعید
▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 5/150
▪تسہیل بہشتی زیور 1/245
━━❰・ پوسٹ نمبر 11 ・❱━━━
نماز کے اوقات سے متعلق چند اہم مسائل
5۔ جب امام صاحب خطبے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ جائے ، چاہے خطبہ جمعہ کا ہو یا عیدین کا یا حج کا تو اس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے۔
6۔ جب فرض نماز کی تکبیر کہی جارہی ہو تو اس وقت بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے ، البتہ اگر فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اور صفوں سے ہٹ کر جگہ ہو اور ظن غالب یہ ہو کہ امام کے ساتھ سلام سے قبل پوری کرسکتا ہے یا بعض علماء کے قول کے مطابق ایک رکعت ملنے کی امید ہو تو فجر کی سنتوں کا پڑھنا مکروہ نہیں ہے۔
▪عیدین کی نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے ، چاہے گھر میں پڑھے یا عیدگاہ میں اور عیدین کی نماز کے بعد صرف عیدگاہ میں نفل پڑھنا مکروہ ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/783 ط سعید
▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 5/150
▪تسہیل بہشتی زیور 1/245
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 12 ・❱━━━
مساجد میں سیٹیلائٹ (Satellite ) کے ذریعہ ٹیلی کاسٹ(Telecast ) کرنے کا حکم
آج کل بعض ممالک میں صرف ایک ہی مسجد میں آذان دی جاتی ہے، اور بقیہ مساجد میں اسی اذان کو سیٹیلائٹ کے ذریعہ ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے ، ان کا یہ عمل خلاف سنت ہے جو لوگ ایسا کریں گے وہ تارک سنت ہوں گے ، کیوں کہ ہر مسجد میں علیحدہ علیحدہ اذان مسنون ہے اور اذان صرف اعلان کا نام نہیں ہے بلکہ اذان میں شرعی طور پر کچھ شرائط اور آداب بھی ہیں۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/54
▪بدائع الصنائع 1/653
▪فتاوی دارالعلوم زکریا 2/93
▪فتاوی محمودیہ 5/399
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/280
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 12 ・❱━━━
مساجد میں سیٹیلائٹ (Satellite ) کے ذریعہ ٹیلی کاسٹ(Telecast ) کرنے کا حکم
آج کل بعض ممالک میں صرف ایک ہی مسجد میں آذان دی جاتی ہے، اور بقیہ مساجد میں اسی اذان کو سیٹیلائٹ کے ذریعہ ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے ، ان کا یہ عمل خلاف سنت ہے جو لوگ ایسا کریں گے وہ تارک سنت ہوں گے ، کیوں کہ ہر مسجد میں علیحدہ علیحدہ اذان مسنون ہے اور اذان صرف اعلان کا نام نہیں ہے بلکہ اذان میں شرعی طور پر کچھ شرائط اور آداب بھی ہیں۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/54
▪بدائع الصنائع 1/653
▪فتاوی دارالعلوم زکریا 2/93
▪فتاوی محمودیہ 5/399
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/280
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 13 ・❱━━━
پیشاب کی شیشی (Bottle of Urine ) جیب میں رکھ کر نماز پڑھنا
بسا اوقات کسی مریض کو ڈاکٹر حضرات پیشاب چیک کرنے کے لیے شیشی دیتے ہیں ، جس میں مریض اپنا پیشاب نکالتا ہے اور لیباٹری میں ٹیسٹ کے لیے دیتا ہے ، اگر وہ مریض اس پیشاب کی شیشی کو اپنے جیب میں رکھ کر نماز پڑھے تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی اگرچہ بوتل کتنا ہی سخت بند کیوں نہ ہو ، اصل وجہ یہ ہے کہ وہ معدن سے خارج نجاست کو اٹھایا ہوا ہے۔ یہی حکم سرنج میں موجود خون کا بھی ہے اگر جیب میں ہو۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/62
▪البحرالرائق1/465
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/74
▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 1/288
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 14 ・❱━━━
نماز کے بعد معلوم ہوا کہ وقت نکل چکا تھا
اگر کسی نے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ نماز کا وقت نکل چکا تھا مثلا ظہر کی نماز پڑھی حالانکہ وہ وقت عصر کا تھا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔
1۔۔ اگر وقتیہ فرض کی ادائیگی کی نیت کی ہو تو اس صورت میں نماز ادا نہ ہوئی ، دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔
2۔۔ اگر مطلق نماز کی نیت کی تھی یعنی اس کو پہلے سے شک تھا کہ شاید وقت نکل چکا ہے اور مطلق نماز کی نیت کی تو یہ نماز قضاء درست ہوجائیگی، یعنی اس نماز کو قضا شمار کیا جائے گا اور دوبارہ ادائیگی ضروری نہ ہوگی۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/66
▪الفتاوی التاتارخانية 1/429
▪البحرالرائق 1/486
▪احسن الفتاوی 2/139
▪کتاب المسائل 1/245
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 14 ・❱━━━
نماز کے بعد معلوم ہوا کہ وقت نکل چکا تھا
اگر کسی نے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ نماز کا وقت نکل چکا تھا مثلا ظہر کی نماز پڑھی حالانکہ وہ وقت عصر کا تھا تو اس کی دو صورتیں ہیں۔
1۔۔ اگر وقتیہ فرض کی ادائیگی کی نیت کی ہو تو اس صورت میں نماز ادا نہ ہوئی ، دوبارہ پڑھنا ضروری ہے۔
2۔۔ اگر مطلق نماز کی نیت کی تھی یعنی اس کو پہلے سے شک تھا کہ شاید وقت نکل چکا ہے اور مطلق نماز کی نیت کی تو یہ نماز قضاء درست ہوجائیگی، یعنی اس نماز کو قضا شمار کیا جائے گا اور دوبارہ ادائیگی ضروری نہ ہوگی۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/66
▪الفتاوی التاتارخانية 1/429
▪البحرالرائق 1/486
▪احسن الفتاوی 2/139
▪کتاب المسائل 1/245
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 15 ・❱━━━
نماز کی صحت کے لیے سات شرائط
نماز کے صحیح ہونے کیلئے کل سات شرطیں ہیں جن کا نماز کے شروع کرنے سے پہلے اہتمام کرنا ضروری ہے۔
(1) حدث اکبر اور اصغر سے نمازی کا پاک ہونا ، یعنی نمازی کا حالت جنابت میں نہ ہونا اور باوضو ہونا۔
(2) نمازی کے بدن، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا۔
(3) ستر چھپانا (مرد کیلئے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور آزاد عورت کیلئے چہرہ ، ہتھیلیاں اور قدم چھوڑ کر بقیہ پورا بدن چھپانا)
(4) قبلہ کی طرف رخ کرنا۔
(5) نماز کا وقت ہونا۔
(6) نماز شروع کرنے سے پہلے نماز کی نیت کرنا۔
(7) تکبیر تحریمہ کہنا۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/58
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/404
▪کتاب المسائل 1/264
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 15 ・❱━━━
نماز کی صحت کے لیے سات شرائط
نماز کے صحیح ہونے کیلئے کل سات شرطیں ہیں جن کا نماز کے شروع کرنے سے پہلے اہتمام کرنا ضروری ہے۔
(1) حدث اکبر اور اصغر سے نمازی کا پاک ہونا ، یعنی نمازی کا حالت جنابت میں نہ ہونا اور باوضو ہونا۔
(2) نمازی کے بدن، کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا۔
(3) ستر چھپانا (مرد کیلئے ناف سے لے کر گھٹنے تک اور آزاد عورت کیلئے چہرہ ، ہتھیلیاں اور قدم چھوڑ کر بقیہ پورا بدن چھپانا)
(4) قبلہ کی طرف رخ کرنا۔
(5) نماز کا وقت ہونا۔
(6) نماز شروع کرنے سے پہلے نماز کی نیت کرنا۔
(7) تکبیر تحریمہ کہنا۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/58
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/404
▪کتاب المسائل 1/264
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 16 ・❱━━━
نجاست خفیفہ کے ساتھ نماز
اگر نجاست خفیفہ کپڑے یا بدن پر لگے رہنے کی حالت میں نماز پڑھی تو حکم یہ ہے کہ یہ نجاست خفیفہ اگر اس عضو کے چوتھائی حصہ کے برابر یا چوتھائی حصہ سے زیادہ ہو تو نماز نہ ہوگی ، اگر اس عضو کے چوتھائی حصہ سے کم ہو تو نماز ہوجائیگی البتہ اگر نماز سے قبل معلوم ہوجائے تو اس کو دھولے۔
فائدہ: نجاست خفیفہ سے مراد وہ محسوس نجاست ہے جس کی ناپاکی ہلکی قسم کی ہے اس لیے اس کا حکم بھی کچھ نرم ہے جیسے حلال جانوروں کا پیشاب ، حرام پرندوں کی بیٹ وغیرہ
📚حوالہ:
▪الجوہرة النیرة 1/45
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/456
▪کتاب المسائل 1/265
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 17 ・❱━━━
نجاست غلیظہ کے ساتھ نماز
نجاست غلیظہ میں سے اگر پتلی اور بہنے والی چیز مثلا پیشاب ، خون وغیرہ کپڑے یا بدن میں لگ جائے تو اگر پھیلاو میں درھم کے برابر یا کم ہو تو معاف ہے ، اس کے دھوئے بغیر اگر نماز پڑھ لے تو نماز ہوجائیگی ، لیکن معلوم ہونے کے باوجود نہ دھونا مکروہ ہے ، اور اگر درھم سے زیادہ ہو تو معاف نہیں، دھوئے بغیر نماز نہ ہوگی ، اور اگر نجاست غلیظہ میں سے گاڑھی چیز مثلا پاخانہ لگ جائے تو اگر وزن میں ساڑھے چار ماشہ ( 4 گرام 374 ملی گرام) کے برابر یا کم ہو تو بے دھوئے نماز درست ہے اور اگر زیادہ ہو تو بغیر دھوئے نماز درست نہیں ہے۔
☆فائدہ اولی: درھم کی مقدار سے مراد یہ ہے کہ ہاتھ میں پانی بھرا جائے اور پھر ہتھیلی کو سیدھا کرکے جو پانی ہتھیلی میں رہ جائے ، وہ درھم کی مقدار ہے۔
☆فائدہ ثانیہ: خون اور آدمی کا پاخانہ، پیشاب، منی، شراب، کتے بلی کا پاخانہ ، سور کے جسم کا ہر حصہ ، گھوڑے گدھے خچر کی لید ، گائے بھینس کا گوبر ، بکری بھیڑ کی مینگنی ، مرغی بطخ مرغابی کی بیٹ ، تمام حرام جانوروں کا پیشاب اور چھوٹے دودھ پیتے بچے کا پاخانہ پیشاب ، یہ سب نجاست غلیظہ ہیں۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/452
▪شرح وقایہ 1/124
▪تحفة المسلمین کامل 96
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 18 ・❱━━━
ناپاک بدن والے بچہ کا نمازی پر چڑھ جانا
اگر نماز کی حالت میں پاوں چلتا بچہ ناپاک بدن یا کپڑوں کے ساتھ نمازی پر چڑھ جائے تو نمازی کی نماز فاسد نہ ہوگی ، لیکن اگر بچہ اتنا چھوٹا ہو جو خود نہیں چل سکتا ہو اور اسے کوئی اٹھاکر نماز کی حالت میں نمازی پر رکھ دے یا نمازی خود اٹھائے اور اس بچے کے بدن یا کپڑے پر مانع نماز نجاست لگی ہو تو ایسی صورت میں اگر ایک رکن ادا کرلیا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/68 بیروت
▪البحرالرائق 1/267
▪صغیری 106
▪کتاب المسائل 1/265
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 19 ・❱━━━
ایسی جائے نماز ، قالین یا دری پر نماز پڑھنا جس کا ایک حصہ ناپاک ہو
اگر کسی جانماز ، قالین یا دری وغیرہ کا ایک حصہ ناپاک ہو لیکن نمازی جس جگہ کھڑا ہے وہ اور سجدہ کی جگہ پاک ہے تو اس پر نماز پڑھنا درست ہے۔ کیوں کہ نماز کے صحیح ہونے کیلئے قدمین اور موضع سجدہ کا پاک ہونا شرط ہے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/68 بیروت
▪البحرالرائق 1/268
▪الفتاوی الھندیہ 1/62
▪کتاب المسائل 1/266
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 20 ・❱━━━
خشک ناپاک زمین پر نماز پڑھنا
اگر ناپاک زمین خشک ہوجائے اور اس پر نجاست کا اثر اور بدبو ظاہر نہ ہو تو اس پر نماز پڑھنا جائز ہے البتہ اس جگہ سے تیمم کرنا جائز نہیں۔
ناپاک زمین پر کپڑا یا چٹائی بچھاکر نماز پڑھنا
اگر ناپاک زمین پر ایسا موٹا کپڑا یا پلاسٹک یا چٹائی وغیرہ بچھاکر نماز پڑھی جائے ، جس سے نجاست اوپر معلوم نہ ہو تو نماز درست ہوجائے گی۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/444
▪الفتاوی الھندیہ 1/62
▪کبیری 202
▪کتاب المسائل 1/267
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
━━❰・ پوسٹ نمبر 21 ・❱━━━
ناپاک زمین پر شیشہ رکھ کر نماز پڑھنا
اگر ناپاک زمین پر شیشہ رکھا جائے اور اس پر نماز پڑھی جائے اور نیچے سے نجاست نظر بھی آرہی ہو تب بھی نماز درست ہے اس لیے کہ اوپر کے حصہ میں نجاست کا کوئی اثر نہیں ہے۔
گوبر سے لیپی ہوئی زمین پر نماز پڑھنا
اگر زمین کو پہلے گوبر سے لیپا گیا ہو اور بعد میں پاک مٹی اس پر اتنی مقدار میں لیپ دی کہ گوبر بالکل چھپ گیا یہاں تک کہ نجاست کی بو اوپر محسوس نہیں ہورہی ہے تو اس جگہ پر نماز پڑھنا جائز ہے اور اگر گوبر کی بو محسوس ہورہی ہے تو وہاں کوئی پاک چیز بچھائے بغیر نماز پڑھنا درست نہ ہوگا۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/68 بیروت
▪الفتاوی الھندیہ 1/62
▪الفتاوی التاتارخانية 1/422
▪کتاب المسائل 1/268
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 22 ・❱━━━
نماز میں مرد کو کن اعضاء کو چھپانا ضروری ہے؟
نماز میں مرد کو بدن کے درجہ ذیل آٹھ اعضاء کا چھپانا لازم ہے:
(1) پیشاب کا مقام اور اس کے ارد گرد (2) خصیتین اور اس کے اردگرد (3) پائخانہ کا مقام اور اس کے آس پاس (4-5) دونوں کولہے (6-7) دونوں رانیں گھٹنے سمیت (8) ناف سے لے کر زیر ناف بالوں اور ان کے مقابل میں کوکھ پیٹ اور پیٹھ کا حصہ۔
ان اعضاء میں سے اگر کسی عضو کا چوتھائی حصہ ایک رکن یعنی تین دفعہ سبحان ربی العظیم کہنے کی بقدر کھلا رہا تو نماز نہ ہوگی، اس سے کم مقدار یا کم وقت کھلا رہا تو نماز ہوجائے گی۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/75
▪بدائع الصنائع 1/117 سعید
▪البحرالرائق 1/271
▪کتاب المسائل 1/269
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 23 ・❱━━━
نماز میں عورت کے اعضاء مستورہ اور حکم
نماز میں آزاد عورت کیلئے درجہ ذیل چوبیس اعضاء بدن کو چھپانا فرض ہے:
(1) پیشاب کا مقام (2) پاخانہ کا مقام (3-4) دونوں کولہے (5-6) دونوں رانیں گھٹنوں سمیت (7) پیٹ (8) پیٹھ دونوں پہلووں سمیت (9-10) دونوں پنڈلیاں ٹخنوں سمیت (11-12) دونوں پستان (13-14) دونوں کان (15-16) دونوں بازو کہنیوں سمیت (17-18) دونوں کلائیاں گٹوں سمیت (19) سینہ (20) سر (21) سر کے بال (22) گردن (23-24) دونوں مونڈھے۔
ان اعضاء میں سے اگر کسی ایک عضو کا چوتھائی حصہ ایک رکن یعنی تین دفعہ سبحان ربی العظیم کہنے کی بقدر کھلا رہا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/75 بیروت
▪البحرالرائق 1/469 زکریا
▪الفتاوی التاتارخانية 1/414 زکریا
▪کتاب المسائل 1/269
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 24 ・❱━━━
عورت کا آدھی آستین پہن کر دوپٹے سے چھپاکر نماز پڑھنا
آدھی آستین پہننے والی عورت اگر دبیز دوپٹے وغیرہ سے اپنے ہاتھ کا کھلا ہوا حصہ چھپالے تو شرعا اس کی نماز درست ہوجائے گی البتہ اگر دوپٹا اتنا باریک ہو کہ اندر بدن کا رنگ صاف جھلکتا ہو تو نماز درست نہ ہوگی ، (اور بہرصورت عورت کا نامحرموں کے سامنے آدھی آستین پہن کر آنا ممنوع ہے)
📚حوالہ:
▪تبیین الحقائق 1/252 زکریا
▪حلبی کبیر 214
▪احسن الفتاوی 3/403
▪کتاب المسائل 1/270
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوۃ
━━❰・ پوسٹ نمبر 25 ・❱━━━
نماز میں جان بوجھ کر ستر کھولنا
اگر نماز پڑھتے ہوئے کوئی مرد یا عورت جان بوجھ کر نماز کے اعضاء مستورہ میں سے کسی ایک عضو کا بھی چوتھائی حصہ کھول دے تو نماز فورا ٹوٹ جائے گی اگرچہ یہ ایک سیکنڈ کے لیے کیوں نہ ہو ، اس صورت میں تین دفعہ سبحان ربی العظیم کہنے کی بقدر وقت کا اعتبار نہ ہوگا۔ اس مسئلہ کو صحیح سمجھنے کیلئے پوسٹ نمبر 22 اور 23 کا مطالعہ مفید رہے گا۔
اندھیرے کمرے میں بھی نماز کیلئے ستر چھپانا ضروری ہے
جس شخص کے پاس ستر چھپانے کیلئے کپڑا وغیرہ موجود ہو اس کیلئے نماز میں مطلقا ستر چھپانا ضروری ہے، خواہ دوسرا دیکھ سکتا ہو یا نہیں، روشنی ہو یا اندھیرا۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/75 بیروت
▪الفتاوی الھندیہ 1/58
▪منحة الخالق 1/468
▪کتاب المسائل 1/272
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 26 ・❱━━━
اگر ستر کے لیے کوئی چیز دستیاب نہ ہو تو نماز کیسے پڑھے؟
اگر ستر چھپانے کے لیے کپڑا ، درخت کے بڑے پتے ، اخبار ، پلاسٹک یا چٹائی وغیرہ کچھ بھی دستیاب نہ ہو اور نماز کا وقت ختم ہونے کا خطرہ ہو تو ایسا شخص ننگا نماز پڑھے لیکن ایسی جگہ پڑھے کہ کوئی دیکھ نہ سکے اور بیٹھ کر پڑھے اور رکوع سجدہ اشارہ سے ادا کرے تاکہ حتی الامکان ستر کا لحاظ ہوسکے ، اگر کھڑے ہوکر نماز پڑھی تو ادا ہوجائے گی البتہ بہتر نہیں ہے۔
پھر اگر کپڑوں وغیرہ کا استعمال نہ کرسکنا انسانوں کی طرف سے ہو مثلا دشمن نے یا جیل کے ملازمین نے کپڑے اتار لیے ہوں تو ان نمازوں کا اعادہ کرے گا اور اگر رکاوٹ انسانی نہ ہو تو اعادہ ضروری نہیں ہے۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/59
▪الفتاوی التاتارخانية 1/416 قدیم
▪درمختار 2/76 بیروت
▪کتاب المسائل 1/272
▪تسہیل بہشتی زیور 1/257
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 27 ・❱━━━
اگر پورے ستر کو چھپانے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو نماز کیسے پڑھے؟
اگر پاک صاف کپڑا یا کوئی اور ڈھانپنے والی چیز صرف اس قدر دستیاب ہو کہ اس سے ستر کا کچھ ہی حصہ ڈھانکا جاسکتا ہو ، وہ پورے ستر کے لیے کافی نہ ہو تو اتنے کپڑے کا استعمال شرعا لازم ہے ، اولا اس سے شرم گاہ چھپائے پھر جہاں تک ہوسکے ستر ڈھانکے ، اس کے بعد ہی نماز پڑھے۔
اسی طرح اگر کسی کے پاس کپڑا اتنا ہے کہ صرف ستر کو چھپا سکتا ہے یا اسے بچھاکر اس پر نماز پڑھ سکتا ہے ، دونوں کیلئے کافی نہ ہو اور کوئی پاک جگہ میسر نہ ہو تو ستر چھپانا ضروری ہے اور ناپاک جگہ پر اس صورت میں نماز ہوجائے گی۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/80 بیروت
▪صغیری 121
▪تسہیل بہشتی زیور 1/257
▪کتاب المسائل 1/273
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 28 ・❱━━━
چست لباس پہن کر نماز پڑھنا
ایسا چست لباس پہننا جس سے اعضاء مستورہ کی ہیئت ظاہر ہوجائے اگرچہ مکروہ اور بے حیائی کی دلیل ہے ، تاہم اگر کپڑا اتنا دبیز ہو کہ اندر کی کھال نظر نہ آئے تو اس میں نماز ہوجائے گی ، لیکن کسی اجنبی شخص کے لیے ایسے چست لباس پہننے والی عورت کو کپڑوں کے اوپر سے بھی دیکھنا جائز نہیں ہے۔
نماز میں باریک کپڑے اور دوپٹہ کا استعمال
ایسا باریک کپڑا یا دوپٹہ استعمال کرنا جس سے بدن کا رنگ باہر نظر آتا ہو ، ناجائز اور ممنوع ہے اور اس سے نماز نہ ہوگی۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/77 بیروت
▪شرح المنیة 214
▪الفتاوی الھندیہ 1/58
▪کتاب المسائل 1/273
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 29 ・❱━━━
ساڑی پہن کر نماز پڑھنا
اگر ساڑی مکمل ساتر بلاوز کے ساتھ پہنی کہ اعضاء مستورہ کا کوئی حصہ کھلا ہوا نہیں رہا تو ایسی ساڑی پہن کر نماز درست ہوجائے گی اور اگر اعضاء مستورہ کا کوئی حصہ کھلا ہو تو نماز نہ ہوگی ، البتہ جن علاقوں میں ساڑی غیر مسلموں کا خاص لباس شمار ہوتا ہے وہاں مسلمان عورتوں کے لیے ساڑی کا استعمال تشبہ کی وجہ سے ممنوع اور ناجائز ہے۔
فائدہ : دھوتی باندھ کر نماز پڑھنے کا حکم بھی یہی ہے کہ ستر چھپا ہوا ہو تو نماز ہوجاتی ہے ورنہ نہیں۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/69 بیروت
▪نور الایضاح 69
▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 2/145
▪کتاب المسائل 1/274
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 30 ・❱━━━
عین قبلہ اور جہت قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا
مسجد حرام کے اندر نماز پڑھنے والے یا ایسی اونچی عمارت یا پہاڑی پر نماز پڑھنے والے کے لیے جہاں سے بیت اللہ شریف نظر آتا ہو ، عین کعبہ کی طرف نماز پڑھنا ضروری ہے، اور حرم شریف سے باہر جو شخص نماز پڑھے اور عمارات و مکانات کی آڑ کی وجہ سے کعبہ مشرفہ کو نہ دیکھ سکتا ہو تو اس کے لئے کعبہ کی جہت کی طرف نماز پڑھنا کافی ہے عین کعبہ کی طرف رخ کرنا لازم نہیں۔ جہت کعبہ تقریبا 45 ڈگری ہے۔
نوٹ: حج اور بھیڑ کے زمانے میں حرم شریف کے اندر اور باہر بسا اوقات قبلہ کی طرف توجہ کرنے میں کوتاہی ہوجاتی ہے اس لیے وہاں خاص طور پر استقبال قبلہ کا خیال رکھا جائے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/97
▪طحطاوی علی مراقی الفلاح 116
▪مجمع الانھر 1/83
▪کتاب المسائل 1/276
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 31 ・❱━━━
قبلہ عمارت کعبہ شریفہ کا نام نہیں
یہاں ایک بنیادی مسئلہ سمجھنے کے لیے یہ سمجھیں کہ بیت اللہ شریف کی عمارت اصل میں قبلہ نہیں بلکہ جس جگہ میں وہ عمارت قائم ہے وہی زمین سے آسمان تک قبلہ ہے ، لہذا اس سے یہ مسئلہ واضح ہوگیا کہ جو شخص جہاز میں سفر کررہا ہو یا کسی اور سبب سے خانہ کعبہ کی عمارت سے بلندی پر ہو تو اس کے لیے بھی جہت کعبہ کی طرف نماز پڑھنا ضروری ہے۔
حطیم کا کچھ حصہ جزو قبلہ نہیں
مسجد حرام کے اندر نماز پڑھتے وقت چونکہ عین کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے، اس لیے اگر کسی نے حطیم کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی تو نماز نہ ہوگی ، کیونکہ حطیم کا تقریبا چھ ہاتھ ایک بالشت حصہ کے علاوہ باقی حصہ خانہ کعبہ کا جزو نہیں ہے اور یہ حصہ بھی خبر واحد سے ثابت ہے اور استقبال قبلہ نص قطعی سے ثابت ہے ، اس لیے حطیم کی طرف رخ کرکے نماز صحیح نہ ہوگی۔
📚حوالہ:
▪تقریرات رافعی 3/160
▪الفتاوی الھندیہ 1/63
▪الفتاوی التاتارخانية 2/38
▪کتاب المسائل 1/279
▪احسن الفتاوی 2/318
ـ
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 32 ・❱━━━
مسجد حرام میں امام سے آگے اسی رخ میں نماز پڑھنا
مسجد حرام میں امام جس جانب امامت کررہا ہو اس رخ میں امام سے آگے نماز پڑھنے والوں کی نماز درست نہ ہوگی البتہ دوسرے رخ میں اگر بالکل کعبہ شریفہ کی دیوار کے قریب نماز پڑھے تو کوئی حرج نہیں ، آج کل ناواقفیت کی وجہ سے مسجد حرام میں اس سلسلہ میں بڑی کوتاہی ہوجاتی ہے، امام صاحب دھوپ کے وقت یا زیادہ بھیڑ کی وجہ سے یا نماز تراویح میں رکن یمانی اور حجر اسود کے بالمقابل مکبرہ (شیشے والے کمرے) کے نیچے نماز پڑھاتے ہیں اور بہت سے حضرات اسی جانب آگے مطاف میں نماز کی نیت باندھ لیتے ہیں جو صحیح نہیں ہے، اس لیے امام صاحب کی جگہ دیکھ کر ہی وہاں نماز کی نیت باندھنی چاہیے، ایسا نہ ہو کہ غفلت کی وجہ سے نماز ہی صحیح نہ ہو۔
📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/103
▪الفتاوی التاتارخانية 2/36 زکریا
▪کتاب المسائل 1/281
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلسلہ_احکام_الصلوة
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 33 ・❱━━━
کیا قبلہ کی تعیین میں غیر مسلم کا قول معتبر ہے؟
اگر کوئی ایسی جگہ ہو جہاں یہ پتا ہی نہ ہو کہ قبلہ کس سمت میں ہے یعنی مثلا یہ معلوم نہ ہو کہ یہاں سے قبلہ مشرق کی جانب ہے یا مغرب کی جانب؟ تو اگر کوئی غیرمسلم ایسی جگہ قبلہ کی سمت بتائے تو محض اس کی خبر کا اعتبار نہ ہوگا جب تک کہ قرائن سے اس کی خبر کی تصدیق نہ ہوجائے ، اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں اتنا تو معلوم ہے کہ قبلہ یہاں مثلا جانب مغرب ہے مگر یہ معلوم نہ ہو کہ مغرب کدھر ہے تو مغرب کی سمت جاننے کے لیے کسی غیر مسلم سے بھی تحقیق کی جاسکتی ہے اور محض رخ بتانے میں اس کی خبر معتبر ہوگی جب کہ اس کی سچائی کا غالب گمان ہوجائے۔
📚 حوالہ 📚
▪الھدایہ 4/437
▪الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید 1/197
▪کتاب المسائل 1/282
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 34 ・❱━━━
قبلہ معلوم نہ ہو تو کیا کرے؟
اگر کوئی شخص حالت سفر میں ہے یا ایسی جگہ ہے جہاں اسے سمت قبلہ کا علم نہیں ہے تو ذرائع و اسباب سے قبلہ معلوم کرے مثلا کسی مسجد کے رخ سے یا ستاروں سے یا قطب نما وغیرہ سے یا کوئی مسلمان وہاں ہو تو اس سے پوچھ لے۔
(2) اگر قبلہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو اور نہ ہی وہاں کوئی آدمی ہو تو تحری فرض ہے ، یعنی حسب قدرت غور و خوض کرنے پر جس طرف دل شہادت دے اس طرف نماز پڑھے، نماز سے فراغت کے بعد اگر اس جہت کا غلط ہونا ثابت ہوجائے تو نماز کا اعادہ واجب نہیں۔
(3) اگر قبلہ دریافت کرنے کا کوئی ذریعہ موجود ہوتے ہوئے بھی اس سے کام نہیں لیا بلکہ غور و فکر کرکے نماز پڑھ لی تو اگر جہت قبلہ کی طرف رخ کیا ہو یعنی بیت اللہ کی ہر دو جانب 45 ڈگری کے اندر ہو تو نماز ہوگئی ورنہ واجب الاعادہ ہے۔
(4) اگر غور و فکر کرکے نماز شروع کی اور نماز کے اندر کسی نے بتایا کہ آپ غلط سمت کی طرف کھڑے ہیں ، قبلہ اس طرف ہے تو معمولی غور کے بعد اسی رخ کی طرف پھیرنا ضروری ہے۔
(5) اگر قبلہ معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا اور غور وفکر سے بھی کام نہیں لیا تو یہ نماز صحیح نہ ہوگی کیوں کہ تحری فرض ہے ، ہاں اگر کسی نے نماز پڑھ لی اور نماز سے فراغت کے بعد اس سمت کی صحت کا یقین ہوگیا تو اعادہ لازم نہیں ہے، اگر نماز کے درمیان پتا چلا اور سمت بھی صحیح تھی تب بھی نماز نہ ہوگی ، دوبارہ شروع سے پڑھنا ضروری ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/451
▪الفتاوی الھندیہ 1/64
▪تبیین الحقائق 1/266
▪احسن الفتاوی 2/318
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 35 ・❱━━━
سواری پر نفل نماز پڑھنے والے کے لئے رخصت
دوران سفر جس رخ پر سواری جارہی ہو اس رخ پر نفل نماز پڑھنا بلاعذر بھی جائز ہے ، گویا کہ حالت سفر میں سواری پر بیٹھ کر جس طرف بھی رخ کرے تو نفل نماز پڑھ سکتا ہے ، البتہ اس سے مراد وہ سواری ہے جس میں چلتے ہوئے قبلہ رخ نماز پڑھنے کی رعایت نہ رکھی جاسکتی ہو جیسے اونٹ ، گھوڑا ، موٹر سائیکل وغیرہ ، لیکن اگر سواری وسیع ہو جیسے ریل گاڑی ، کشتی ، ہوائی جہاز اور بس وغیرہ تو اس میں نفل نماز کے لیے بھی قبلہ رخ ہونا ضروری ہوگا کیوں کہ ان میں استقبال قبلہ کا لحاظ رکھنا متعذر نہیں ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/428
▪الفتاوی الھندیہ 1/63
▪کتاب المسائل 1/286
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
#احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 36 ・❱━━━
نماز کے دوران سینہ قبلہ سے پھرجانا
اگر نماز کے دوران نمازی نے اپنا سینہ قبلہ کے رخ سے پھیر دیا تو بلاعذر ہونے کی صورت میں نماز فورا فاسد ہوجائے گی ، اور اگر بھول سے پھر گیا تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر فورا صحیح رخ پر کرلیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر ایک رکن یعنی تین تسبیحات رکوع یا سجدہ پڑھنے کے بقدر پھرا رہا تو نماز فاسد ہوجائے گی۔
نماز کے دوران چہرہ قبلہ سے پھرجانا
نماز کے دروان صرف چہرہ قبلہ سے پھر جانے سے اگرچہ نماز فاسد نہیں ہوتی ، مگر یہ فعل مکروہ تحریمی اور گناہ ہے۔
فائدہ: قبلہ سے پھیرنے سے مراد یہ ہے کہ خانہ کعبہ سے 45 درجے سے زیادہ دائیں بائیں پھیر جائے۔
📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/334 بیروت
▪نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 3/222
▪کتاب المسائل 1/286
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 37 ・❱━━━
مرض وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونے سے عاجز ہو تو
نماز صحیح ہونے کے لئے قبلہ رخ ہونا شرط ہے ، مگر فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ مسئلہ واضح طور پر لکھا ہے کہ ایسے لوگ جو مرض وغیرہ کی وجہ سے قبلہ رخ ہونے سے عاجز ہیں ، ان کا قبلہ ان کی قدرت والی جہت ہے ، یعنی وہ مجبوری سے جس طرف رخ کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں ، پڑھ لیں نماز ہوجائے گی۔
اگر بیمار خود قبلہ رخ نہیں ہوسکتا لیکن اس کے پاس تیمارداری کے لئے رہنے والے آدمی اس کو قبلہ رخ کرسکتے ہیں تب بھی بیمار اور مجبور کےلئے قبلہ رخ ہونا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک لازم نہیں ہے اور صاحبین رحمھما اللہ کے نزدیک لازم ہے اور اکثر کے نزدیک فتوی امام صاحب کے قول پر ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/432 سعید
▪کبیری 219
▪تبیین الحقائق 1/265
▪الفتاوی الھندیہ 1/63
▪نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 3/223
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 38 ・❱━━━
شرعی احکام میں نیت کی حقیقت
اللہ تعالی کی خوشنودی کے حصول اور اس کے حکم کی تعمیل کی غرض سے کسی کام کو انجام دینے کا دل میں ارادہ کرنا شرعا نیت کہلاتا ہے ، بالفاظ دیگر نیت دل کے ارادے کا نام ہے جس سے مقصود رضاء الہی ہو۔
نیت کے دو مقاصد
شرعا نیت کرنے سے مقصود دو چیزیں ہیں:
(1) عبادات کو عادات سے جدا کرنا ( مثلا کھڑا ہونا کبھی محض طبعی خواہش کی بنا پر ہوتا ہے اور یہی کھڑا ہونا جب نماز کی نیت سے ہو تو عبادت بن جاتا ہے)
(2) بعض عبادات کو بعض سے ممتاز کرنا (مثلا ظہر اور عصر کی رکعات ایک جیسی ہیں مگر نیت الگ الگ ہونے سے یہ الگ الگ عبادتیں قرار پاتی ہیں)
📚 حوالہ 📚
▪الاشباہ و النظائر جدید 109 زکریا
▪قواعد الفقہ 537
▪کتاب المسائل 1/287
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 39 ・❱━━━
کیا زبان سے نیت کرنا ضروری ہے؟
نیت اصل میں دل سے ارادہ کرلینے کا نام ہے ، لہذا نیت کے صحیح ہونے کے لئے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا لازم نہیں ہے، اس سے ان لوگوں کی غلط فہمی بھی واضح ہوگئی جو زبان سے نیت کو ضروری سمجھتے ہیں اور رکعت فوت ہونے کے باوجود وہ زبان سے الفاظ ادا کرتے رہتے ہیں۔
(2) جو شخص زبان سے نیت کے الفاظ ادا کئے بغیر اپنے دل کو مستحضر کرنے پر قادر نہ ہو تو اس کے لئے زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا بہتر ہے۔
📚 حوالہ 📚
▪الاشباہ و النظائر جدید 163 زکریا
▪شرح المنیة 255
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/91
▪البحرالرائق 1/177
▪کتاب المسائل 1/287
🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
احکام_الصلوة
━━❰・ پوسٹ نمبر 40 ・❱━━━
منفرد نمازی کی نیت
اکیلے نماز پڑھنے والے کے لئے صرف دل سے یہ ارادہ کرلینا کافی ہے کہ میں فلاں وقت کی فرض نماز ادا کررہا ہوں مثلا آج کی ظہر کی نماز پڑھ رہا ہوں ، باقی تعداد رکعات اور قبلہ رخ ہونے کی نیت لازم نہیں ہے ، لہذا اگر کسی سے رکعات کی تعداد میں غلطی ہوگئی مثلا چار کے بجائے دو زبان سے نکلا تو کوئی بات نہیں ہے۔
مقتدی کی نیت
امام صاحب کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقتدی کے لئے دو باتوں کی نیت ضروری ہے : اول یہ کہ متعین کرے کہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے ؟ دوسرے یہ نیت کرے کہ میں اس محراب میں کھڑے ہوئے امام کی اقتداء میں نماز پڑھ رہا ہوں۔
امام کے لئے امامت کی نیت لازم نہیں
امام کے لئے لوگوں کے لئے امام بننے کی نیت کرنا لازم نہیں ہے البتہ امام کو امامت کا ثواب حاصل کرنے کے لئے امامت کی نیت کرنا ضروری ہے اور امامت کی نیت کے لئے دل میں اتنا ارادہ کافی ہے کہ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہوں۔
📚 حوالہ 📚
▪شرح المنیة 249
▪الفتاوی التاتارخانية 2/40
▪البحر الرائق 1/177
▪کتاب المسائل 1/288
No comments:
Post a Comment