🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (01) ・❱━━━*
*✿●•· ایک دفعہ سبحان اللہ کہنے کی فضیلت*
*✦ بعض ساتھی ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ جنت میں جنتی کو ایک خوشبو آئے گی اور اس کی بابت دریافت کرنے پر اس کو بتایا جائے گا کہ یہ جنت کے اعلی درجہ سے آ رہی ہے؛ کیوں کہ وہاں وہ شخص موجود ہے جو بہ کثرت سبحان اللہ کا ورد کرتا تھا یا وہ شخص موجود ہے جس نے آپ سے ایک دفعہ زیادہ سبحان اللہ کہا تھا۔*
*تبصرہ*
*✦اللہ تبارک و تعالی کو یاد کرنے کی فضیلت بہت سے صحیح احادیث مبارکہ سے ثابت ہے ، البتہ جہاں تک مذکورہ روایت کی صحت و عدم صحت کا سوال ہے تو اس حوالہ سے جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی کے دارالافتاء کا جواب ملاحظہ ہوں تلاشِ بسیار کے باوجود ہمیں اس مضمون کی روایت نہیں مل سکی؛ اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرکے بیان کرنا درست نہیں "۔ فقط واللہ اعلم*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں*
*▪دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144001200804*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (02) ・❱━━━*
*✿●•· نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:*
*عرب سے محبت کرو ، کیونکہ میں عربی ہوں ، قرآن کریم عربی میں ہے اور اہل جنت کی زبان عربی ہے۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ مذکورہ حدیث مختلف سندوں سے مروی ہے، جن میں شدید ضعف ہے، تاہم نفسِ مفہوم کے لحاظ سے متعدد روایات میں وارد ہونے کی وجہ سے بعض حضرات نے اس حدیث کو ’’حسن‘‘ کے درجہ میں کہا ہے، لہذا فضائل میں اسے ذکر کیا جاسکتا ہے، اس حدیث کو مختلف حضرات نے اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے جن میں سے چند کو یہاں ذکر کیا جاتا ہے:*
*✦ (1) - امام طبرانی رحمہ اللہ نے "المعجم الاوسط " ، "المعجم الکبیر " دونوں میں اس روایت کو نقل کیا ہے، امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
" حدثنا محمد بن عبد الله الحضرمي قال: ثنا العلاء بن عمرو الحنفي قال: نا يحيى بن بريد الأشعري، عن ابن جريج، عن عطاء، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحبوا العرب لثلاث: لأني عربي، والقرآن عربي، ولسان أهل الجنة عربي».
لم يرو هذا الحديث عن ابن جريج إلا يحيى بن بريد، تفرد به: العلاء بن عمرو".
*✦ نیز اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ’’مستدرک‘‘ میں، امام ابونعیم اصبہانی رحمہ اللہ نے ’’صفۃ الجنۃ‘‘ میں، امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے ’’مصنف‘‘ میں ، امام بیہقی رحمہ اللہ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں بھی نقل کیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ حدیث کی ایک سند پر تو کلام شدید ہے، بعض حضرات نے وضع کا حکم بھی لگایا ہے، لیکن مجموعی طور پر ’’موضوع ‘‘ نہیں کہہ سکتے، البتہ ضعیف ضرور ہے، جو قابلِ تحمل ہے، اور فضائل میں بیان کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪المعجم الأوسط رقم الحدیث :5583 ،ط:دارالحرمین القاهرة*
*▪مجمع الزوائد، باب ما جاء في فضل العرب :10/25،ط:دارالفکر بیروت*
*▪کشف الخفاء ومزیل الإلباس : 1/54*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون 144008200037*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (03) ・❱━━━*
*✿●•· والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنا*
*✦ بعض لوگ ایک روایت بیان کرتے ہیں جس کا مفہوم یوں ہے کہ والدین کو محبت کی نگاہ سے دیکھنے سے ایک حج اور عمرے کا ثواب ملتا ہے۔ کیا اس طرح کی کوئی روایت موجود ہے؟*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ جی ہاں ! احادیث مبارکہ کی کتب میں ایک روایت موجود ہے ، جس میں مقبول حج کا تذکرہ ملتا ہے، روایت کے کلمات مع ترجمہ اور حکم سمیت درجہ ذیل ہے:*
*امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :*
"أخبرنا أبو منصور أحمد بن علي الدامغاني ... عن ابن عباس، أن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال: ما من ولد بار ینظر إلی والدیه نظرة رحمة إلا کتب الله بکل نظرة حجة مبرورة، قالوا: وإن نظر کل یوم مائة مرة؟ قال: نعم، الله أکبر وأطیب"
*✦ ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو صالح اولاد محبت کی نظر سے اپنے والدین کو دیکھے تو اسے ہر نگاہ پر اللہ تعالیٰ ایک مقبول حج کا ثواب بخشتا ہے، لوگوں نے پوچھا: اگر دن میں سو مرتبہ دیکھے تو ؟ فرمایا: تب بھی ، اللہ بہت بڑا ہے اور بڑا پاکیزہ ہے (یعنی ہر مرتبہ دیکھنے کا ثواب حج مقبول کی صورت میں دے گا۔) الجامع لشعب الایمان‘‘ نے جس سند سے یہ حدیث ذکر کی ہے اس کے رواۃ اگرچہ ضعیف ہیں،لیکن ان میں کوئی وضاع، یا متہم بالکذب راوی موجود نہیں ہے ، اور ’’الجامع الصغیر للسیوطی‘ میں اس حدیث کے ساتھ ضعیف کا اشارہ موجود ہے، لیکن چوں کہ اس حدیث کا تعلق فضائل سے ہے اور فضائل کے ابواب میں ضعیف حدیث بھی کچھ شرائط کے ساتھ مقبول ہے ، لہذا اس حدیث کو فضائل میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ سبحانہ تعالیٰ اعلم*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪الجامع لشعب الإیمان للبیهقي:10/245*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون 144007200344*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (04) ・❱━━━*
*✿●•· اسلام میں رہبانیت نہیں ہے۔*
*لا رھبانیة في الاسلام*
*🛇تبصرہ🛇*
*"لا رهبانية في الإسلام"*
*✦ کے الفاظ حدیث کی کسی بھی معتمد کتاب سے ثابت نہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعینہ ان الفاظ کے ساتھ میں نے کوئی روایت نہیں دیکھی۔ اس لیے بعینہ ان الفاظ کو حدیث کہہ کر بیان کرنا جائز نہیں۔*
*✦ البتہ دیگر ثابت شدہ روایات کی روشنی میں معنوی اعتبار سے یہ بات درست ہے کہ اسلام میں رہبانیت نہیں ہے، یعنی اس کا مضمون ثابت ہے، یہ الفاظ بطورِ حدیث ثابت نہیں ہیں، اس لیے اگر کسی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کیے بغیر یہ بات کہی یا روایت بالمعنیٰ کہہ کر بیان کیا تو یہ ممانعت میں داخل نہیں ہوگا۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪فتح الباري : 9/111*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون 143907200141*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (05) ・❱━━━*
*✿●•· زمین کا بیل کی سینگوں پر ہونے کی روایت*
*✦ بچپن میں ہم نے اپنے بزرگوں سے ایک روایت سنی تھی کہ زمین کو ایک بیل نے دونوں سینگوں پر اٹھایا ہوا ہے ، جب بیل تھک جاتا ہے اور حرکت کرتا ہے تو زمین بھی حرکت کرتی ہے اور یوں زلزلہ آتا ہے۔ اس روایت کی تحقیق میں محدثین کرام رحھم اللہ تعالی کے اقوال ملاحظہ ہو۔*
*🛇تبصرہ🛇*
(1) مشہور محدث علامہ ملا علی قاری رحمہ اللہ تعالی رقم طراز ہے:
"ومنها: أن يكون الحديث مما تقوم الشواهد الصحيحة على بطلانه '' ومن هنا حديث: إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض و هي الزلزلة".
(2) علامہ ابوالمحاسن محمد بن خلیل قاوقجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"حديث "إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة" موضوع، لكن أخرج نحوه ابن أبي الدنيا وأبو الشيخ، من قول ابن عباس".
*(3) علامہ ابن القیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:*
"ومن هذا حديث "إن الأرض على صخرة والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض، وهي الزلزلة" والعجب من مسود كتبه بهذه الهذيانات"
*لہذا یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة 1 / 447*
*▪اللؤلؤ المرصوع 1 / 52*
*▪المنار المنيف 1 / 78*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012201425*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (06) ・❱━━━*
*✿●•· گڑ کھانے کا واقعہ حدیث کی طرف منسوب کرنا*
*✦ ہمارے عوام میں ایک حدیث زبان زد عام ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت اپنے بیٹے کو لے کر آئی کہ یہ میٹھا کھانے سے باز نہیں آرہا ، آپ ﷺ اسے منع فرمائیں ، چوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےخود اس دن میٹھا کھایا ہوا تھا ، اس لیے اسے اگلے روز لانے کوکہا۔ اور اگلے روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ میٹھا نہ کھایا کرو۔*
*اس روایت کو بنیاد بناکر یہ مسئلہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ پہلے خود عمل کرنا چاہیے پھر دوسروں کو دعوت دینی چاہیے۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ مذکورہ بالا واقعہ مختلف الفاظ اور تعبیرات کے ساتھ عوام میں مشہور ہے لیکن محققین کے نزدیک ایسی کوئی روایت کتبِ حدیث میں مذکور نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ کسی بزرگ کا واقعہ ہو، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب منسوب کردیا جاتا ہے۔ لہذا کسی معتمد سند کے بغیر اس واقعہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے حدیث کے طور پر بیان کرنا جائز نہیں۔ نیز اس واقعہ سے اخذ کیا جانے والا نتیجہ بھی قابلِ غور ہے، روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بات پر خود عمل نہ کر پا رہا ہو ، تب بھی اس کے کرنے یا اس سے بچنے کی دعوت دی جاسکتی ہے، البتہ زیادہ بہتریہی ہے کہ خود عمل کرتے ہوئے دعوت دی جائے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*حوالہ*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ *بنوری ٹاون کراچی*
*144012201501*
*▪فتاوی عثمانیہ 1/223*
*▪دارالافتاء دارالعلوم دیوبند*
*جواب نمبر 170027*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (07) ・❱━━━*
*✿●•· کیا بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں/گاوں پر پڑتی ہے؟*
*✦ بعض خطیب حضرات ترک نماز پر وعیدات میں ایک وعید یہ بیان کرتے ہیں کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک بے نمازی کی نحوست چالیس گھروں پر پڑتی ہے اور بعض حضرات چالیس گاوں کا ذکر کرتے ہیں۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ نماز ادا نہ کرنا یا وقت پر ادا نہ کرنا کبیرہ گناہوں میں سے ہیں اور احادیث صحیحہ کثیرہ میں اس پر وعیدات مذکور اور کتب حدیث میں منقول ہیں لیکن نماز ترک کرنے کی گناہ کو وسعت دیتے ہوئے لوگوں کو ڈرانے کیلئے موضوع اور خودساختہ روایات کا سہارا لینا بجائے نیکی کے گناہ کا کام ہے۔ لہذا اس قسم کی روایات سے اجتناب ضروری ہے۔ مذکورہ بالا روایات پر بھی دارالافتاء دارالعلوم دیوبند اور دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون کراچی نے نامعلوم ہونے کا حکم لگایا ہے۔اور ابھی تک ہماری نظر سے بھی ایسی کوئی روایت کسی مستند کتب احادیث میں نہیں گزری ہے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*حوالہ*
*▪دارالافتاء دارالعلوم دیوبند جواب نمبر: 155532*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی*
*144102200096*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (08) ・❱━━━*
*✿●•· حضرت عمررضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹے کو طلاق کا حکم دینا*
*✦ ایک صاحب نے یہ واقعہ بیان فرمایا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پسند کی عورت سے شادی کی اور شبِ زفاف کی رات کو فجر کی نماز میں جماعت میں شرکت نہ کی، حضرت نے دریافت فرمایا کہ آپ جماعت میں شریک نہیں ہوئے، کیا وجہ بنی؟ بیٹے نے عرض کیا: گھر میں نماز پڑھ لی ھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو ۔بیٹا حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا کہ کیا کروں؟ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طلاق دے دو۔ اور انہوں نے طلاق دے دیا۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ احادیث کی کتابوں میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا اپنے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی اہلیہ سے متعلق طلاق دینے کا حکم موجود ہے، اور محدثین نے لکھا ہے کہ اس حکم کے پس منظر میں کوئی دینی مصلحت یا اس عورت کی موجودگی کی بنا پر کسی دینی مضرت کا اندیشہ موجود تھا، اس لیے انہیں طلاق کا حکم دیاگیا ہے. تاہم جو وجہ صاحب نے بیان کی ہے وہ کتبِ احادیث یا کسی مستند حوالے میں تلاش کے باوجود نہ مل سکی۔ روایت اصل میں یوں ہے:*
*سنن ابی داؤد میں ہے :*
*’’ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ ایک عورت میرے نکاح میں تھی اور میں اس سے محبت کرتا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ اسے طلاق دے دو. میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور آپ ﷺ سے یہ بات ذکر کی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو‘‘۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪رواه أبو داود والترمذي وقال: حديث حسن صحيح.(2/485)*
*▪دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاون 144004200886*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (09) ・❱━━━*
*✿●•· اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھنا مسجد میں اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے۔*
*✦ ایک پوسٹ پر نظر پڑی جس میں لکھا ہوا تھا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھنا مسجد میں اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے. مجموعہ ورام، ج2، ص121.*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ اس روایت سے متعلق مفتی ابوالخیر عارف محمود صاحب کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔*
*✦ اعتکاف سے متعلق صحیح روایات میں وارد اہمیت وفضائل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت وغیرہ نصوص کے پیش نظر اس پوسٹ کو پڑھتے ہی من گھڑت ہونے کا خیال دل میں آیا، مزید تحقیق کی تو اس خیال کی تصدیق ہوئی اور پتہ چلا کہ یہ در اصل شیعی روایت ہے.*
*حوالہ میں مذکور کتاب جو اہل تشیع عوام میں "مجموعہ ورّام" کے نام سے معروف ہے، اس کا اصل نام "تنبيه الخواطر ونزهة النواظر" ہے.*
*اس کا مصنف أبو الحسن ورام بن أبي فراس عيسى بن أبي النجم بن حمدان بن خولان الحلي، ت: 605 ھ امامی شیعہ ہے.*
*✦ منتخب الدین قمی شیعی نے اپنی کتاب الفہرست میں، الحر العاملی شیعی نے" آمل الآمل " میں اور علی نماری شاہرودی شیعی نے مستدرکات علم رجال الحدیث " میں اس کا تذکرہ کیا ہے.*
*حاصل یہ ہے کہ یہ شیعی روایت ہے، اہل سنت کے نزدیک ایسی کوئی روایت ثابت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف نسبت کر کے اس کو بیان کرنا جائز نہیں۔*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (10) ・❱━━━*
*✿●•· بیوی سے حسن سلوک کے حوالہ سے ایک روایت کی تحقیق*
*✦ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنی بیوی کا ہاتھ محبت کے طور پر پکڑا اللہ تعالی اس کے لیے پانچ نیکیاں لکھتے ہیں، اگر اس سے معانقہ کیا تو دس نیکیاں، اگر بوسہ لیا تو بیس نیکیاں، پھر اگر قربت کرے تو دنیا ومافیہا سے بہتر ہے، پس جب فارغ ہو کر غسل کرے اس وقت بدن کے جس جگہ سے پانی بہے اس سے اس کے گناہ معاف ہوتے ہیں اور درجہ بلند ہوتا ہے اور اس کو اس غسل پر دنیا ومافیہا سے زیادہ عطا کیا جاتا ہے اور اللہ تعالی اس کی وجہ سے فرشتوں پر فخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو میرے اس بندے کو ٹھنڈی رات میں جنابت سے غسل کرتے ہوئے، اور یہ یقین کرتا ہے کہ میں اس کا رب ہوں، اے فرشتو تم گواہ رہنا میں نے اس کو معاف کردیا۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ اس روایت سے متعلق مفتی ابوالخیر عارف محمود صاحب کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔*
*✦ یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک طویل روایت کا حصہ ہے، اس کی سند میں دو راویوں زیاد بن میمون اور صباح بن سہیل پر شدید کلام ہے، زیاد کذاب اور صباح منکر الحدیث ہے.*
*خود زیاد بن میمون سے جب امام عبد الرحمن بن مہدی اور امام ابو داؤد نے اس روایت کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ تم گواہ رہو کہ میں نے اس سے رجوع کرلیا ہے یعنی یہ ثابت نہیں، یہی وجہ ہے کہ امام دارقطنی نے اس حدیث کو باطل قرار دیا ہے.*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪الموضوعات لابن الجوزي : 2/270-271*
*▪اللآلي المصنوعة : 2/143*
*▪تنزيه الشريعة 2/246*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (12) ・❱━━━*
*✿●•· حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرتے وقت اور سفر طائف کے موقع پر فرشتوں کا رونا۔*
*✦ عوام میں یہ بات مشہور ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نےاپنے لختِ جگر کو ذبح کرنے کے لیے چھری اٹھائی تو اس پر فرشتے روئے۔ دوم جب سفر طائف کے موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن مبارک سے خون نکلا تب فرشتے روئے۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ ان دو واقعات کی تحقیق سے متعلق دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاون کراچی کا تبصرہ ملاحظہ ہو۔ تلاش کے باوجود سوال میں ذکر کردہ واقعات یا اس جیسے واقعات کے موقع پر فرشتوں کے رونے کا ذکر کسی مستند کتاب و روایت میں نہیں مل سکا۔ سوائے ایک مرسل روایت کے جو امام بیہقی رحمہ اللہ نے "شعب الایمان" میں نقل کی ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو ایک شخص رو دیا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر تمام مؤمن آج کے دن پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آجائیں تو ان سب کی بخشش اس کے رونے کی وجہ سے کردی جائے گی، وہ اس وجہ سے کہ فرشتے رو رہے ہیں اور اس کے لیے دعا گو ہیں کہ اے اللہ! رونے والوں کی شفاعت نہ رونے والوں کے حق میں قبول فرما۔*
"823 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي ، أخبرنا محمد بن جعفر البغدادي ، حدثنا نفطويه ، حدثنا أحمد بن الوليد الفحام ، حدثنا عبد الوهاب ، حدثنا ثور بن يزيد ، عن الهيثم بن مالك قال : خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم الناس فبكى رجل بين يديه فقال النبي صلى الله عليه وسلم : « لو شهدكم اليوم كل مؤمن عليه من الذنوب كأمثال الجبال الرواسي لغفر لهم ببكاء هذا الرجل وذلك أن الملائكة تبكي وتدعو له وتقول : اللهم شفع البكائين فيمن لم يبك. هكذا جاء هذا الحديث مرسلاً »".
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو*
*▪رواه البيهقي في شعب الإيمان، 2/367*
*▪دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی رقم 144008200443*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (13) ・❱━━━*
*✿●•· حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی سوئی کا غائب ہوجانا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کی روشنی سے سوئی کا ملنا*
*✦ ایک واقعہ بیان کیا جاتاہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی سوئی گم ہو گئی تو آپ رضی اللہ عنہا اس کو ڈھونڈنے لگیں، رات کا وقت تھا سوئی ان کو نہ مل سکی، اسی اثنا میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کے نور کی وجہ سے وہ سوئی حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مل گئی ۔*
*🛇تبصرہ🛇*
اس واقعہ کو ابن عساکر رحمہ اللہ نے "تاریخ مدینہ دمشق"(3/310) میں ، امام ابونعیم الاصبہانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب "دلائل النبوة" (119) میں ، امام ابوالعباس المقدسی رحمہ اللہ نے "کتاب التاریخ" (11) میں مسعدة بن بكر الفرغاني ، عن محمد بن أحمد ابن أبي عون کی سند سے نقل کیا ہے۔
*✦ مذکورہ روایات کی سند کا مدار ’’مسعد بن بکر الفرغانی‘‘ نامی راوی پر ہے، جس نے مذکورہ روایت بطریق محمد بن احمد بن ابی عون نقل کی ہے، علماءِ جرح و تعدیل نے اس سند پر کلام کیا ہے اور اسے باطل و من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسعد بن بکر کو جھوٹا قرار دیا ہے۔*
*چند محدثین کرام رحھم اللہ تعالی کی آراء ذیل ہیں:*
(1) ميزان الإعتدال للحافظ الذهبي میں ہے:
"[ مسعدة بن بكر الفرغاني ، عن محمد بن أحمد ابن أبي عون : بخبر كذب ]
(2) المصنوع في معرفة الحديث الموضوع لملا علی قاری میں ہے: [ موضوع ]
(3) فتح الباري لابن حجرمیں ہے :[ ليس بصحيح ]
(4) المنار المنيف لابن القيم میں ہے :[ كذب مختلق ]۔
لہذا یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں*
*▪میزان الاعتدال 2/167*
*▪المصنوع فی معرفة الحدیث الموضوع 212*
*▪فتح الباری 2/444*
*▪المنار المنیف 50*
*▪ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144010200006*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (14) ・❱━━━*
*✿●•· ستر ہزار پردوں کے فاصلہ والی ایک روایت*
*✦ ایک بار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ﷲ سے پوچھا کہ جتنا میں آپ سے قریب ہوں " آپ سے بات کرسکتا ہوں اتنا کوئی اور بھی آپ کے قریب ہے؟ ﷲ نے فرمایا: اے موسی! آخری زمانے میں ایک امت آئے گی - وہ امتِ محمدیہ ہوگی- اور اس امت کو ایک ماہ ایسا ملے گا جس میں وہ سوکھے ہونٹوں, پیاسی زبان, سوکھی ہوئی آنکھیں, اور بھوکے پیٹ کے ساتھ جب افطار کرنے بیٹھے گی, تب میں ان کے بہت قریب رہوں گا, موسی! تمہارے اور میرے بیچ میں ستر ہزار پردوں کا فاصلہ ہے؛ لیکن افطار کے وقت اُس امت اور میرے درمیان ایک بھی پردے کا فاصلہ نہیں ہوگا۔ اور وہ جو دعایئں مانگے گی اسے قبول کرنا میری ذمہ داری رہے گی۔ اگر میرے بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا ہے, تو وہ سب تمنا کرتے کہ کاش پورا سال رمضان ہی ہو!!*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ اس قسم کی ایک روایت مشہور مؤرخ و ادیب " عبد الرحمن بن عبد السلام الصفوری الشافعی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب « نزهة المجالس و منتخب النفائس »میں رمضان کی فضیلت کے بیان میں بلا سند ذکر کی ہے ، جس کا حاصل یہ ہی ہے کہ اللہ تعالی جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرتے تھے تو ان کے اور اللہ تعالی کے درمیان ستر ہزار پردے حائل ہو تے تھے، جب کہ افطار کے وقت امتِ محمدیہ کے دعا مانگتے وقت کوئی پردہ نہیں ہوتا۔*
*پہلی بات یہ ہے کہ مذکورہ روایت کی سند ذکر نہیں کی گئی کہ اس کی تحقیق کی جاتی۔ لہٰذا بلاتحقیق اسے بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر یہ حدیث سنداً صحیح اور ثابت بھی ہوتو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) اس امت کے روزہ داروں کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت حاصل ہے، کوئی امتی خواہ کسی بھی امت کا ہو کسی بھی نبی علیہ السلام کے مرتبے تک پہنچنا تو درکنار نبی کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہوسکتا۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں*
*▪نزهة المجالس ومنتخب النفائس (1/ 165)*
*▪ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144008201049*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (15) ・❱━━━*
*✿●•· حضرت آدم علیہ السلام نے عرش پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا دیکھا تھا، کی تحقیق*
*✦ ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لغزش کا ارتکاب ہوا تو اللہ تعالیٰ سے بایں الفاظ دعا کی : اے اللہ ! میں تجھ سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تو ابھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا نہیں کیا تو نے کیسے اس کا نام لے لیا؟ اس پر حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا کہ میں نے تیرے عرش پر (لا اله الا الله محمد رسول الله ) "لکھا دیکھا ہے۔ الخ "*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ مذکورہ روایت امام حاکم رحمہ اللہ نے "المستدرك علی الصحيحين" میں نقل کرکے اسے اگرچہ صحیح الاسناد قرار دیا ہے، تاہم امام ذہبی رحمہ اللہ و دیگر محدثین نے اسے موضوع اور امام طحاوی رحمہ اللہ نے انتہائی ضعیف قرار دیا ہے، جب کہ بعض محدثین نے اسے اسرائیلیات میں شمار کیا ہے، مذکورہ روایت کو مکمل وضاحت کے بغیر بیان کرنے یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔*
*مذکورہ روایت کی صحت کے حوالہ سے اگر مزید تحقیق مطلوب ہو تو: مختصر استدراك الذهبي على مستدرك الحاكم لابن الملقن ـ ( 2/1069، رقم الحديث: 454) سے استفادہ کر لیا جائے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں 📚*
*▪المستدرك علي الصحيحين، رقم الحديث: 4159*
*▪ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144008201073*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر (16) ・❱━━━*
*✿●•· مونچھیں لمبی رکھنے کی وعید سے متعلق دو روایات کی تحقیق*
*مونچھیں لمبی رکھنے کی وعید سے متعلق دو روایات بیان کی جاتی ہیں:*
*✦ (1) ” جو شخص مونچھیں لمبی کرے گا، تو اسے چار قسم کا عذاب ہوگا، اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی، اور وہ میرے حوض سے پانی نہیں پیے گا، اور اسے قبر میں عذاب دیا جائے گا، اور اللہ تعالیٰ اس کی طرف منکر نکیر کو غصہ کی حالت میں بھیجیں گے“*
*✦ (2) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مونچھیں لمبی رکھے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے کی ندامت کو طویل کردیں گے۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ پہلی روایت کو حضرت شیخ الحدیث محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ نے ’’موطا امام مالک‘‘ کی شرح ”اوجز المسالک“ میں امام ابی منصور محمد بن مکرم الکرمانی کی کتاب ”المسالک فی المناسک“ کے حوالہ سے بطورِ حدیث نقل کی ہے :*
*"أورد الكرماني في مناسكه إثم تطويل الشوارب وعقوبته، فقال : قال النبي صلي الله عليه وسلم: "من طول شاربه عوقب بأربعة أشياء: لايجد شفاعتي، ولايشرب من حوضي، ويعذب في قبره، ويبعث الله إليه المنكر والنكير في غضب".*
*اور خود علامہ ابو منصور کرمانی نے اپنی کتاب”المسالک فی المناسک“ میں یہ حدیث بغیر سند کے نقل کی ہے، (1/192)، اور اس کے علاوہ ان الفاظ سےتلاش کے باوجود ذخیر ہ احادیث میں کوئی حدیث نہیں مل سکی۔*
*اور دوسری روایت موضوعات کی کتابوں میں موجود ہے، اس پر علامہ شوکانی نے ’’الفوائد المجموعہ‘‘ می اور علامہ سیوطی نے ’’اللآلی المصنوعہ‘‘ میں موضوع اور من گھڑت ہونے کا حکم لگایا ہے۔ لہذا مذکورہ بات کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کرنےسے اجتناب کیا جائے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪اوجز المسالک 16/260، رقم الحدیث : 1638،ط: دارالقلم دمشق*
*▪الفوائد المجموعة للشوکانی ص: 197*
*▪اللآلى المصنوعة في الأحاديث الموضوعة للسیوطی 2/ 226*
*▪ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144004200462*
💗💗
🍃🍃
*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*تحقیق_الروایات المشھورة علی الألسنة*
*━━❰・ روایت نمبر( 17) ・❱━━━*
*✿●•· موت کے وقت کلمہ زبان پر جاری نہ ہونا*
*✦ ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک صحابی حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت ان کی زبان پر کلمہ جاری نہیں ہورہا تھا تو آپ علیہ السلام نے ان کی ماں کو بلوا کر دریافت فرمایا تو معلوم ہوا کہ وہ ماں کا نافرمان ہے اور ماں اسکو معاف کرنے پر راضی نہیں، لیکن جب آپ علیہ السلام نے اسکو جلانے کا کہا تو ماں نے معاف کردیا اور اس کے زبان پر کلمہ جاری ہوا۔*
*🛇تبصرہ🛇*
*✦ والدین کی نافرمانی قرآن وحدیث کی روسے انتہائی سخت جرم اور گناہِ کبیرہ ہے۔قرآنِ کریم کی آیاتِ مبارکہ اور احادیث میں والدین کی اطاعت اور فرماں برداری کا حکم دیاگیا ہے ۔تاہم مذکورہ واقعہ کی نسبت رسول اللہﷺ کی جانب کرنا صحیح سند سے ثابت نہیں ہے۔ اس واقعہ کو امام احمد رحمہ اللہ نے ابتداء اپنی کتاب “مسند احمد” میں ذکر کیا تھا لیکن بعد میں اس روایت کو اپنی کتاب سے نکال دیا کیونکہ اس کی سند انتہائی کمزور ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر محدثین کرام امام عقیلی ، امام طبرانی ، امام ابن الجوزی ، امام خرائطی اور امام بیھقی رحمھم اللہ تعالی نے بھی اس واقعہ کو فائد بن عبدالرحمان نامی راوی کی سند سے ذکر کیا ہے ، لیکن امام احمد رحمہ اللہ نے اسے متروک الحدیث ، امام ابن المعین نے لیس بشیئ ، امام ابن ابی حاتم نے ذاھب الحدیث ، امام بخاری نے متروک الحدیث اور امام ابن حبان نے ناقابل احتجاج قرار دیا ہے۔ لہذا اس واقعہ کو بیان کرنا جائز نہیں ہے۔*
*📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:*
*▪ﺍﻟﻀﻌﻔﺎﺀ ﺍﻟﻜﺒﻴﺮ3/461*
*▪ﺍﻟﻤﻮﺿﻮﻋﺎﺕ3/87*
*▪ﻣﺴﺎﻭﺉ ﺍﻷﺧﻼﻕ ﺭﻗﻢ:251*
*▪ﺷﻌﺐ ﺍﻹﻳﻤﺎﻥ6/197*
*▪ﺗﻬﺬﻳﺐ ﺍﻟﺘﻬﺬﻳﺐ 8/256*
*▪ﺍﻟﻤﺠﺮﻭﺣﻴﻦ 2/203*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 143908200046*
*▪تنبیہات مفتی عبدالباقی اخونزادہ صاحب مدظلہ العالیہ*
💗💗
No comments:
Post a Comment