*کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے کا حکم:*
کھانے پینے کی سنتوں اور آداب میں سے ایک سنت اور ادب یہ بھی ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے اجتناب کیا جائے، کیوں کہ احادیث مبارکہ میں اس کی ممانعت آئی ہے، چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے منع فرمایا ہے۔
☀️ مسند الإمام أحمد بن حنبل:
2817- حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ.
☀️ مصنف ابن أبي شيبة:
24659- حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى أَنْ يُتَنَفَّسَ فِي الإِنَاءِ وَأَنْ يُنْفَخَ فِيهِ.
اس ممانعت کا تقاضا یہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے اجتناب کیا جائے، اگر کھانے پینے کی چیزیں گرم ہوں تو ذرا ٹھنڈی ہونے تک صبر کرلیا جائے یا انھیں ٹھنڈا کرنے کے لیے کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کرلیا جائے، اسی طرح اگر کھانے پینے کی چیزوں سے کوئی تنکا وغیرہ نکالنا مقصود ہو تو اس کے لیے بھی پھونک مارنے کی بجائے کوئی اور مناسب طریقہ اختیار کرلیا جائے، گویا کہ حتی الامکان احادیث کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے اجتناب کیا جائے۔
البتہ اگر پھونک مارنا مجبوری ہو تو ایسی صورت میں آواز نکالے بغیر پھونک مارنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ بعض ائمہ کرام کے نزدیک کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے کی ممانعت اُس صورت میں ہے کہ جب پھونک مارتے وقت آواز نکالی جائے، بغیر آواز نکالے پھونک مارنے میں کوئی حرج نہیں، جیسا کہ آخر میں ’’رد المحتار‘‘ اور ’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ کی عبارات سے واضح ہے۔ مزید تفصیل آگے ملاحظہ فرمائیں۔
⬅️ *کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے کی ممانعت کی وجہ:*
حضرات اکابرِ امت رحمہم اللہ نے کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے کی ممانعت کی کئی وجوہات بیان فرمائی ہیں جن میں سے متعدد وجوہات درج ذیل ہیں:
1️⃣ کسی مجبوری کے بغیر کھانے پینے کی چیزوں کو ٹھنڈا کرنے کے لیے پھونک مارنا بے صبری کی علامت ہے جو کہ اچھی صفت نہیں، اس لیے ذرا ٹھنڈا ہونے تک صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
2️⃣ کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا طبعی کراہت پر مشتمل ایک نامناسب حرکت ہے۔
3️⃣ پھونک مارنے سے ممکن ہے کہ منہ کا لعاب کھانے پینے کی چیزوں میں گر پڑے جو کہ طبی اعتبار سے مضر ثابت ہوسکتا ہے، بلکہ صرف پھونک بھی طبی اعتبار سے نقصان دہ بن سکتی ہے۔
4️⃣ پھونک مارنے سے ممکن ہے کہ منہ کا لعاب کھانے پینے کی چیزوں میں گر پڑے جس کی وجہ سے کھانے پینے میں شریک دیگر حضرات کے لیے طبعی کراہت کا باعث ہوجائے جو کہ بہت ہی نامناسب حرکت ہے، بلکہ اگر پھونک مارتے وقت لعاب نہ بھی خارج ہو تب بھی محض پھونک ہی بہت سے شرکاء کے لیے کراہت کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے اگر مجبوری میں پھونک مارنے کی ضرورت پڑے تب بھی اس پہلو کی رعایت ضرور کرلینی چاہیے۔
⬅️ *خلاصہ:*
مذکورہ تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنا گناہ تو نہیں، البتہ طبعی کراہت پر مشتمل ایک نامناسب اور سنت کے خلاف حرکت ہے، کیوں کہ احادیث اور سنت کا یہی تقاضا ہے کہ بلا ضرورت کھانے پینے کی چیزوں میں پھونک مارنے سے اجتناب کیا جائے۔ البتہ جہاں مجبوری ہو تو آواز نکالے بغیر پھونک مارنے کی گنجائش ہے، لیکن طبعی کراہت سے یہ بھی خالی نہیں۔ باقی تفصیل ماقبل میں ذکر ہوچکی۔
📚 *تفصیلی عبارات*
☀️ التيسير بشرح الجامع الصغير للمناوي:
(نهى عن النفخ في الطعام) الحار ليبرد؛ لأنه يؤذن بشدة الشره وقلة الصبر، (والشراب)؛ لما ذكر في حديث آخر: «أن النفخ على الطعام يذهب البركة». (حم عن ابن عباس) وإسناده حسن. (حرف النون)
☀️ شرح صحيح البخارى لابن بطال:
46 - (إِذَا شَرِبَ أَحَدُكُمْ فَلا يَتَنَفَّسْ فِى الإنَاءِ، وَإِذَا بَالَ أَحَدُكُمْ فَلا يَمْسَحْ ذَكَرَهُ بِيَمِينِهِ، وَإِذَا تَمَسَّحَ أَحَدُكُمْ فَلا يَتَمَسَّحْ بِيَمِينِهِ): قال المهلب: التنفس إنما نهى عنه عليه السلام كما نهى عن النفخ فى الطعام والشراب -والله أعلم- من أجل أنه لا يؤمن أن يقع فيه شىء من ريقه، فيعافه الطاعم له ويستقذر أكله؛ إذ كان التقذر فى باب الطعام والشراب، والتنظف فيه الغالب على طباع أكثر الناس، فنهاه عن ذلك؛ لئلا يفسد الطعام والشراب على من يريد تناوله، هذا إذا أكل أو شرب مع غيره، وإذا كان الإنسان يأكل أو يشرب وحده أو مع أهله أو مع من يعلم أنه لا يقذر شيئا مما يأكل منه فلا بأس بالتنفس فى الإناء، كما فعل النبى ﷺ مع عمر بن أبى سلمة أمره أن يأكل مما يليه، وكان هو عليه السلام يتتبع الدباء فى الصحفة علما منه أنه لا يقذر منه شىء عليه السلام، وكيف يظن ذلك وكان إذا تنخم تبادر أصحابه نخامته فدلكوا بها وجوههم، وكذلك فضل وضوئه، فهذا فرق بين فعل النبى ﷺ وأمره غيره بالأكل مما يليه. (بَاب التَّنَفُّسِ فِى الإنَاءِ)
☀️ التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد:
قال أبو عمر: في حديث النبي ﷺ نحوه وأكثر الآثار إنما جاءت بالنهي عن التنفس في الإناء، وقد قلنا أن المعنى واحد، والنهي عن هذا نهي أدب لا نهى تحريم؛ لأن العلماء قد أجمعوا أن من تنفس في الإناء أو نفخ فيه لم يحرم عليه بذلك طعامه ولا شرابه، ولكنه مسيء إذا كان بالنهي عالم. (أيوب بن حبيب)
☀️ إكمال المعلم شرح صحيح مسلم للقاضي عياض:
وقد جاءت الأحاديث الصحيحة فى «مسلم» وغيره عن النهى فى التنفس فيه، وعن النفخ فى الطعام والشراب، ولقوله عليه السلام فى الحديث الآخر: «أبن القدح عن فيك ثم تنفس»، وعلة ذلك إما للتقزز أو التقذر مما لعله يخرج عند التنفس والنفخ من أنفه أو فيه من ماء أو غيره، أو لما يكتسب الإناء من بخر ورائحة قبيحة بالنفس، أو لما لعله يكون متغير النكهة فيتعلق ذلك بالإناء وبفيه. (باب كراهة التنفس فى الإناء)
☀️ الفتاوى الهندية:
وفي«النَّوَادِرِ»: قال فَضْلُ بن غَانِمٍ: سَأَلْتُ أَبَا يُوسُفَ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى عن النَّفْخِ في الطَّعَامِ هل يُكْرَهُ؟ قال: لَا، إلَّا ما له صَوْتٌ مِثْلُ «أُفٍّ». وهو تَفْسِيرُ النَّهْيِ. وَلَا يُؤْكَلُ طَعَامٌ حَارٌّ، وَلَا يُشَمُّ، وَلَا يُنْفَخُ في الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ.
(كتاب الكراهية: الْبَابُ الْحَادِيَ عَشَرَ في الْكَرَاهَةِ في الْأَكْلِ وما يَتَّصِلُ بِهِ)
☀️ رد المحتار على الدر المختار:
وَمِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ وَسَطِ الْقَصْعَةِ فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا ...... وَلَا يَأْكُلُ الطَّعَامَ حَارًّا وَلَا يَشُمُّهُ، وَعَنِ الثَّانِي: أَنَّهُ لَا يُكْرَهُ النَّفْخُ فِي الطَّعَامِ إلَّا بِمَا لَهُ صَوْتٌ نَحْوَ «أُفٍّ»، وَهُوَ مَحْمَلُ النَّهْيِ. (كتاب الحظر والإباحة)
✍️۔۔۔ بندہ مبین الرحمٰن
فاضل جامعہ دار العلوم کراچی
محلہ بلال مسجد نیو حاجی کیمپ سلطان آباد کراچی
24 جمادی الاولی 1445ھ/ 9 دسمبر 2023
No comments:
Post a Comment