Saturday, 20 September 2025

تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة

🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

   
 ━━❰・ *روایت نمبر 01* ・❱━━━

*درود ماہی کی فضیلت سے متعلق گردش کرنی والی دو روایات کی تحقیق* 

ایک روز سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مسجدنبوی میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی ایک برتن لے کر آیا اور تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا "اس میں کیا ہے؟" اعرابی نے جواب دیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ، تین روز سے اس برتن میں موجود مچھلی کوپکارہا ہوں،  لیکن آگ کا اس پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اب آپ کے پاس لایا ہوں کہ آپ ہی اس کے راز کو اچھی طرح سے جان سکتے ہیں۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مچھلی سے پوچھا۔ تو کیوں نہیں پکتی؟ اللہ نے اسے قوت گویائی عطا کی اور کہنے گئی، ایک روز میں پانی میں تیر رہی تھی کہ ایک آدمی کی درودشریف پڑھنے کی آواز میرے کانوں میں پہنچی اور میں نے اور تو کچھ نہیں کیا البتہ میں وہ درود سنتی رہی ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ درودشریف پڑھ کر سناؤ۔ اس نے سنا دیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، " دنیا کی آگ تو کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جلاسکتی۔"

*💫روایت نمبر :02*
   دوسری روایت اس طرح ہے کہ تجارتی بیڑہ سمندر میں جارہا تھا کہ اس میں ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھا۔ جو درودشریف پڑھتا رہتا تھا۔ وہ عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اونچی آواز سے درود شریف پڑھنے لگا۔ جب مچھلی نے وہ درود شریف سنا تو مست ہوگئی اور جھومتی ہوئی اس آواز کے پیچھے آتی رہی ۔ اور درودشریف سنتی رہی ۔ اتفاق سے وہی مچھلی ماہی گیر کے جال میں پھنس گئی ۔ ماہی گیراسے بیچنے کے لیے بازار آیا۔ ایک صحابی نے اس نیت سے خریدلی کہ پکا کر سرور دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں نذرکروں گا۔ پکانے کیلئے چولہے پر چڑھایا اور آگ جلانا چاہی تو آگ نہ جلی۔ جب آگ جلائی جاتی وہ بجھ جاتی، تھک ہار کر وہ خدمت بابرکت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا عرض کیا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دنیا کی آگ تو کیا اسے دوزخ کی آگ بھی نہیں جاسکتی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی! اس درود شریف کو لکھوں اور لوگوں کو سکھاؤ، انشاء اللہ یہ درود شریف پڑھنے والے پر دوزخ کی آگ حرام ہوجائے گی ۔اس درود کو درود ماہی کہتے ہیں۔

  ⚠️ تبصرہ ⚠️

 *درود ماہی کے الفاظ بعینہ کسی معتبر حدیث سے ثابت نہیں ہیں ، اور دونوں روایتیں جوفضیلت میں مذکور ہیں ، دونوں جعلی ،موضوع اور من گھڑت ہیں۔* 
             
 📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪دارالافتاء دارالعلوم دیوبند
 1439/1=B/1403-1094:Fatwa



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 03* ・❱━━━

*ماہ صفر کے اختتام کی خوشخبری سے متعلق ایک حدیث کا جائزہ* 

عوام میں یہ حدیث مشہور ہے کہ حضور ﷺ نے ارشادفرمایا:
من بشرنی بخروج صفر بشرتہ بدخول الجنتہ
 ترجمہ : جس شخص نے مجھے ماہ صفرختم ہونے کی خوشخبری دی تو میں اس کو جنت کی بشارت دوں گا “

🛇⚠️ تبصرہ🛇⚠️
یہ حدیث ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک منگھڑت بات ہے ، متعدد محدثین کرام رحمھم اللہ نے اس کو بے بنیاد اور منگھڑت قرار دیا ہے، اس لیے اس کو حدیث سمجھنا یا اس کو آگے پھیلانا ہرگز جائز نہیں بلکہ یہ حضور سروردو عالم ﷺ پر جھوٹ باندھنے کے زمرے میں آتا ہے ، جس پر شدید وعید وارد ہوئی ہے۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
• کشف الخفاء و مزیل الالباس 2418 
• موضوعات صغانی رقم 100

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━




🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

   
 ━━❰・ *روایت نمبر 04* ・❱━━━

*ہر نبی کو چالیس برس میں نبوت کا ملنا* 

عوام میں ایک حدیث کا معنی اور مفہوم مشہور ہے کہ
"ما من نبی نبئی الا بعد اربعین"
  
ترجمہ: "ہر نبی کو چالیس برس کے بعد ہی نبوت ملی ہے ۔“

 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️🛇
یہ روایت اگرچہ لوگوں میں مشہور ہے، لیکن یہ موضوع ،من گھڑت اور نفس الامر کے خلاف ہونے کے ساتھ ساتھ قرآنی آیات کا بھی مخالف ہے ۔ چنانچہ علامہ سیوطی نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے ۔(۱) حافظ سخاوی نے بھی علامہ ابن الجوزی کے حوالے سے اس کو موضوع قرار دیا ہے ۔(۲) اور قرآن کریم کی آیات سے ثابت ہے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں نبوت مل گئی تھی ۔ (۳)
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
(1) الدرر المنتثرہ رقم 36
(2) المقاصد الحسنة رقم 985
(3) سورت مریم آیت 12



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 05* ・❱━━━

*عقل کے سوحصوں میں سے ننانوے(۹۹) حصے آپ ﷺ کو دیئے گئے* 

عوام میں ایک روایت مشہور ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے عقل کی تخلیق کی ، پھر اس کو حکم دیا کہ پیچھے ہوجا تو وہ پیچھے ہوگئی ، پھر اس کو حکم دیا: آگے ہوجا! تو وہ آگے ہوگئی ، پھر اللہ تعالی نے اس میں سے ننانوے حصے حضرت محمد ﷺ کو عطا کیے اور ایک حصہ باقی بندوں میں تقسیم کیا۔“
 
 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️🛇
اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ روایت بالاتفاق جھوٹی اور من گھڑت ہے۔(۱) ان کے علاوہ حافظ ابن حجر، علامہ سخاوی ،علامہ جلال الدین سیوطی اور علامہ عجلونی رحمھم اللہ  جیسے بلند پایہ محد ثین نے بھی اس کو من گھڑت قرار دیا ہے۔ (۲)
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
• المصنوع في معرفة الحديث الموضوع رقم 48
 • فتح الباري 6/334
• المقاصد الحسنة رقم 433
بحوالہ چند معروف لیکن غیر مستند احادیث صفحہ 66



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 06* ・❱━━━

*اللہ تعالی کوکون زیادہ محبوب ہے؟ نبی کریم ﷺ قرآن کریم ، دین یا جبرائیل؟* 

بعض واعظین اپنے بیانات اور وعظ ونصیحت کے موقع پر ایک روایت کثرت سے بیان کرتے ہیں کہ: " ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالی کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا میں؟ تو حضورﷺ نے جواب دیا کہ اللہ تعالی کو میں زیادہ محبوب ہوں کیونکہ آپ کو میرے پاس بھیجا جاتا ہے ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا کہ اللہ تعالی کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا قرآن؟ تو حضور ﷺ نے جواب دیا کے اللہ تعالی کو میں زیادہ محبوب ہوں کیونکہ قرآن مجید مجھ پر اتارا جاتا ہے۔ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا کہ اللہ تعالی کو آپ زیادہ محبوب ہیں یا دین؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کو دین زیادہ محبوب ہے کیونکہ دین کی خاطر مجھے بھیجا گیا ہے اور دین کے لیے سارے انبیاء علیہم السلام نے تکالیف برداشت کی ہیں ۔“
 
 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
🛇اس روایت کے متعلق دارالافتاء دارالعلوم دیوبند سے جاری ہونے والے فتوی میں لکھا ہے کہ ” ہماری نظر میں ایسی کوئی حدیث نہیں گزری۔ (۱)  اسی طرح ضرب مومن جلد 17 ، شمارہ 2 مورخہ ۱۳ صفر ۱۴۳۴ھ میں ، دارالافتاء والارشاد کراچی کی طرف سے جواب یوں دیا گیا ہے۔
” یہ بات ہم نے حدیث کی کتابوں میں کہیں نہیں پڑھی اور نہ ہی کسی معتمد عالم دین سے سنی ہے، اس مضمون سے ملتی جلتی کوئی حدیث بھی ہماری نظر سے نہیں گزری ، اس لیے اس بات کو بطور حدیث بیان کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ اس کا معتبر حوالہ پیش کرے، بغیرمعتبر حوالے کے ہرگز اس کو آگے بیان نہ کرے۔"
لہذا اس روایت کو بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
             
 📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪فتوی (ب) 5/1432-573=685

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

   
 ━━❰・ *روایت نمبر 07* ・❱━━━

*حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کی تفصیل سے متعلق روایات* 

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جن کے اوپر بطور آزمائش ایک لمبے عرصے تک بیماری آئی تھی۔ان کی بیماری کے واقعے میں عموماً یہ بات بیان کی جاتی ہے کہ اس بیماری سے ان کا بدن گل سڑ گیا تھا اور ان کے مبارک جسم میں کیڑے پڑ گئے تھے حتی کہ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اگر کوئی کیڑا ان کے بدن سے گر جاتا تو وہ ان کو اٹھا کر دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیتے۔"
 
 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
🛇انبیاء کرام علیہم السلام کے متعلق اس قسم کی روایات سے قبل یہ اصول ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ انبیاء کرام علیہم السلام پر صحت و مرض کے حالات آتے رہے ہیں ، تاہم اللہ تعالی نے انبیاء کرام علیہم السلام کو ہر اس بیماری اور عیب سے محفوظ رکھا ہے جس سے لوگ گھن یا کراہت محسوس کریں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کا مقصد بعثت لوگوں کواللہ تعالی کی طرف بلانا اور ان میں رہتے ہوئے ، ان کو حق کی تلقین کرتے رہنا تھا، جب کہ اس قسم کی بیماریاں لوگوں کے تنفر اور دوری کا باعث ہیں ، نیز اس قسم کی بیماریاں شان نبوت اور منصب نبوت کے بھی منافی ہیں ۔
نیز جمہورمحققین مثلا حافظ ابن حجر ، علامہ آلوسی رحھما اللہ نے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کی بیماری کی تفصیل والی روایات کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس کو انبیاء کرام علیہم السلام کی وجاہت ( جو کہ نبوت کا خاصہ ہے کے منافی قرار دیا ہے (۲) الغرض امراض کا عارض ہونا بے شک انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ بھی پیش آتا رہا ہے لیکن صرف اس حد تک کہ وہ لوگوں کے لیے باعث نفرت اور سبب تکدر نہ ہو اور نہ ہی وہ عیب کے درجے میں ہو، لہذا ایوب علیہ السلام پر اللہ تعالی کی طرف سے بیماری یا تکلیف تو یقینا آئی تھی لیکن اس کی تفصیل بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪معارف القرآن 7/522
• چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 74 تا 76
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 09* ・❱━━━

*آپ ﷺ کا ایک بوڑھی عورت کی گھٹڑی اٹھانا*

یہ واقعہ بھی مشہور ہے کہ " ایک مرتبہ بوڑھی یہودی عورت سر پر گھٹڑی اٹھا کر مکہ مکرمہ سے جارہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھا تو اس سے گھٹڑی لے کر خود اپنے سر پر رکھ لی۔ جب اسے منزل پر پہنچایا تو اس بڑھیا نے آپ کو نصیحت کی کہ مکہ مکرمہ میں ایک شخص ہے جو لوگوں کو ان کے آبائی دین سے پھیر کر ایک نئے دین کی دعوت دے رہا ہے اور اس کا نام محمد ہے۔ تم اس سے بچتے رہنا، آپ ﷺ نے فرمایا " کہ وہ میں ہی ہوں" ، تو وہ بڑھیا آپ کے حسن اخلاق سے متاثر ہو کر ایمان لے آئیں ۔

 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️🛇
      یہ واقعہ بھی خود ساختہ ہے۔ تخریج حدیث کے جدید مکتبہ الدرر السنیہ نے اس واقعہ کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے ، نیز اس قصے کے من گھڑت ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس قصے میں یہودی عورت کا واقعہ مکہ میں بیان کیا گیا ہے حالانکہ مکہ مکرمہ میں یہود نہیں تھے بلکہ یہود تو مدینہ منورہ میں آباد تھے۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪️دارالافتاء دار العلوم دیوبند جواب نمبر 155541
بحوالہ چند معروف لیکن غیر مستند احادیث ص 80
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

   
 ━━❰・ *روایت نمبر 10* ・❱━━━

*حضرت نوح علیہ السلام کو طوفان کے بعد مٹی کے کھلونے بنانے اور پھر توڑنے کا حکم* 

جب حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کے لیے بد دعا فرمائی، جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے طوفان بھیج کر سارے نافرمانوں کو ہلاک کر دیا تو کچھ عرصہ بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ مٹی کے چند کھلونے بناؤ، حضرت نوح علیہ السلام نے تعمیل ارشاد میں مٹی کے چند کھلونے بنا لیے، پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اس کو توڑ دو تو حضرت نوح علیہ السلام نے حکم خداوندی کو بجا لاتے ہوئے ان کو توڑ ڈالا لیکن ان کھلونوں کو توڑتے ہوئے حضرت نوح علیہ السلام رنجیدہ ہوئے کہ میں نے کتنی مشقت سے ان کھلونوں کو بنایا تھا اور اب ان کو توڑنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ ان کی اس دلی کیفیت پر اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا کہ اے نوح! ان معمولی بے جان کھلونوں کو توڑنے سے آپ کے دل کو اتنی ٹھیس پہنچی ہے تو آپ کی بد دعا کی وجہ سے میں نے جن لوگوں کو ہلاک کر ڈالا کیا مجھے اپنے بندوں سے محبت نہیں تھی کہ آپ نے ان کی ہلاکت کی بددعا کی ؟“

 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
🛇حضرت نوح علیہ السلام سے منسوب یہ واقعہ بھی کسی صحیح سند سے منقول نہیں ہے بلکہ یہ واقعہ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان کی خلاف ہے۔ کیونکہ انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنی امت کیلئے کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر بددعا نہیں کی، بلکہ اس بددعا کہ پیچھے بھی ان لوگوں کیلئے شفقت اور مہربانی کا جذبہ تھا جو ایمان قبول کر چکے تھے کہ یاللہ! یہ کفار اگر زندہ رہیں گے تو ان لوگوں کو گمراہ کریں گے جو ایمان قبول کر چکے ہیں ۔ چنانچہ مشہور مفسر علامہ قرطبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ نوح علیہ السلام کو بددعا کرنے کا حکم من جانب اللہ تھا۔ 
 
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪ الجامع الاحکام القرآن 21/269
• بحوالہ چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 79

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━


🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 11* ・❱━━━

*نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت دینے کیلئے جانا* 

اس بارے میں دو روایتیں عموما گردش کرتی ہیں۔
▪️ایک یہ کہ آپ ﷺ نے ابوجہل کو ننانوے یا سو مرتبہ دین کی دعوت دی۔
▪️دوسری یہ کہ آپ ﷺ نے ایک مرتبہ سخت بارش اور سردی میں ابوجہل کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو ابوجہل نے کہا اتنی بارش اور سردی میں ضرور اس کی حاجت پوری کروں گا. چنانچہ جب اس نے دروازہ کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سامنے کھڑے تھے لیکن ابوجہل نے پھر بھی آپ کی دعوت کو ٹھکرادیا، اس میں مزید مرچ مسالہ بھی ملایا جاتا ہے۔
 
 *⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
🛇ابوجہل کو دین اسلام کی دعوت کے بارے میں مذکورہ دونوں روایات تلاش بسیار کے باوجود متداول کتب احادیث میں نہیں ملی۔ لہذا جب تک معلوم نہ ہو جائے تب تک بیان کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪️چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 53

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 12* ・❱━━━

*نبی اکرم ﷺ کا ایک قافلے کو دین کی دعوت دینے کیلئے سخت آندھی میں تشریف لے جانا*

یہ روایت بھی عموماً بیان کی جاتی ہے کہ ایک مرتبہ سخت آندھی اور گرج چمک والی رات میں ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ  اتنی سخت رات میں کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ پہاڑ کے اس پار جارہا ہوں ۔ اس صحابی نے کہا کہ اتنی سخت رات میں جانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح تشریف لے جائیں تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کے مجھے ڈر ہے کہ کہیں صبح ہونے سے پہلے یہ قافلہ چلا نہ جائے اس لیے ابھی جارہا ہوں.

 ⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
🛇مذکوره روایت تلاش بسیار کے باوجود مستند و معتبر کتب احادیث میں نہیں ملی ۔ لہذا جب تک معلوم نہ ہوجائے، تب تک بیان کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
   
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 13* ・❱━━━

*فرشتوں کا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی مشابہت میں ٹاٹ کا لباس پہننا*

ایک روایت جس کو عام طور پر بعض لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ( آپ ﷺ سے روایت ہے) مجھ پر جبرائیل علیہ السلام اس حال میں اترے کہ وہ ٹاٹ کا لباس اوڑھے ہوئے تھے، تو میں نے کہا " اے جبرائیل ! تم تو پہلے کبھی اس حلیہ میں نہیں اترے؟" ( آج اس قسم کے لباس پہننے کی کیا خاص وجہ ہے؟) تو حضرت جبرائیل نے فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آسمان میں وہ لباس پہنیں جو حضرت ابوبکرصدیق نے زمین میں پہنا ہوا ہے۔ بعض لوگ اس واقعہ غزوہ تبوک کے چندہ کے ساتھ منسلک کرکے سناتے ہیں۔

⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
یہ روایت اگرچہ عوام کی زبانوں پر عام ہے لیکن حقیقت میں یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔ علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ ابن عراق اور دیگر محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ لہذا اس روایت کے بجائے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مناقب و فضائل میں اُن روایات کو بیان کیا جائے جو مستند کتب حدیث سے ثابت ہیں۔

📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪ اللالي المصنوعة 1/293 
▪️تنزيه الشريعة المرفوعة 1/343
▪️الفوائد المجموعة رقم 1043/6
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 14* ・❱━━━

*فرشتے کے دو پلکوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت* 

ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ :
" إن لله ملكا ما بين شفري عينيه مسيرة خمس مائة عام "
ترجمہ : " اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ اتنا بڑا ہے کہ اس کی دونوں آنکھوں کی پلکوں کے مابین پانچ سوسال کی مسافت کے برابر فاصلہ ہے۔“

⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
اس روایت کے بارے میں مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔لم يوجد له أصل ( اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ہے۔)
نیز امام عجلونی اور علامہ قاوقجی رحمہما اللہ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪المصنوع فی معرفة الحدیث الموضوع رقم 63
▪️کشف الخفاء رقم 773
• چند معروف لیکن غیر مستند احادیث صفحہ 56

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 15* ・❱━━━

*لا الہ الا اللہ پڑھنے سے ایک عجیب الخلقت فرشتے کا پیدا ہونا* 

عوام میں ایک روایت یہ مشہور ہے :
" من قال لا اله الا الله ، خلق الله من تلك الكلمة طائرا له سبعون الف لسان ، لكل لسان سبعون الف لغة ، يستغفرون الله له "

ترجمہ:
جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کلمہ کی وجہ سے ایک پرندے کو پیدا فرماتے ہیں  ( عوام میں پرندے کی جگہ فرشتہ مشہور ہے ) جس کی ستر ہزار زبانیں ہوتی ہیں۔ ہر زبان میں ایک ہزار بولیاں ہوتی ہیں اور وہ فرشتہ ان سب زبانوں اور بولیوں میں اس بندے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہے۔

⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
اس روایت کو مشہور محدثین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ نے موضوع اور خود ساختہ قرار دیا ہے مثلاً محدث کبیر ملا علی قاری، علامہ قادقجی اور حافظ ابن قیم رحمہم اللہ ، اس لیے اس روایت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنا اور بیان کرنا جائز نہیں۔

📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪ الموضوعات الكبرىٰ ص 298، رقم 1180
 ▪️ اللؤ الؤ المرصوع ص 194، رقم 604
 ▪️المنار المنيف ص 50، فصل 6

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
 
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 16* ・❱━━━

*قیامت کے دن ایک عورت کی وجہ سے چار آدمیوں کا جہنم میں جانے کی تحقیق*

ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ قیامت کے دن ایک عورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم کا فیصلہ سنایا جائے گا، تو وہ عورت اللہ تعالیٰ سے درخواست کرے گی کہ اے اللہ ! میرے باپ، بھائی، میرے بیٹے اور میرے شوہر میں سے کسی نے مجھے دین نہیں سکھایا، جس کی وجہ سے آج مجھے جہنم میں ڈالا جا رہا ہے، اگر یہ مجھے دین سکھاتے تو آج میں جہنم نہ جاتی ۔ تو عورت کی اس شکایت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان چاروں کو بھی جہنم میں ڈال دیں گے۔“

⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے مفتی صداقت علی صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ رقم طراز ہے کہ یہ حدیث تلاش بسیار کے باجود نفیا واثباتا کہیں نہیں مل سکی ، البتہ یہ مذکورہ بالا کلام مشہور حدیث " كلكم راع و كلكم مسئول عن رعيته" کی تشریح کے طور پر تو کہا جاسکتا ہے ، لیکن خاص ایک عورت کی وجہ سے چار مذکورہ بالا رشتہ داروں کا جہنم میں جانا کسی حدیث میں نہ مل سکا.
دار الافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی کی طرف سے اس حوالہ سے یوں جواب دیا گیا ہے:
" استفتاء میں ذکر کردہ حدیث تلاش بسیار کے باوجود احادیث مبارکہ کی کسی کتاب میں نہ مل سکی ، ہر انسان مرد و عورت اپنے برے اعمال کا سزاوار اور ذمہ دار خود ہوتا ہے، الا یہ کسی شخص کے فسق اور معصیت میں کوئی دوسرا شخص سبب بنے، تو ایسی صورت میں بد عملی کے مرتکب شخص کے علاوہ اس کی بدعملی کا سبب بننے والا بھی گناہ گار قرار پاتا ہے، چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وليحملن أثقالهم وأثقالا مع أثقالهم (سورة ۲۹، آیت نمبر ۱۳) 
اس لیے عورت سے متعلق مذکورہ حدیث کا جب تک کوئی معتبر ثبوت نہ ملے اس وقت تک حدیث کے طور پر یہ بات بیان نہ کی جائے ۔“
            
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

 ناقل و ناشر:✍  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

   
 ━━❰・ *روایت نمبر 17* ・❱━━━

*ماں کی گود سے گور ( قبر ) تک علم حاصل کرو*

ایک روایت جس کو عام طور پر لوگ بیان کرتے ہیں کہ
" اطلبوا العلم من المهد الى اللحد"
ماں کی گود سے قبر تک علم حاصل کرو۔“

⚠️🛇تبصرہ  ⚠️
اس روایت کے بارے میں دور حاضر کے مشہور محقق شیخ عبدالفتاح ابو غدہ رحمہ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :
"ليس بحديث نبوي وانما هو من كلام الناس ، فلا يجوز اضافته الى رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم كما يتناقله بعضهم . ....... وهذا الحديث موضوع : " اطلبوا العلم من المهد الى اللحد " مشتهر على السنة كثير(1)
ترجمہ : یہ حدیث نہیں بلکہ یہ لوگوں کا کلام ہے، لہذا اس کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف کرنا جائز نہیں، اور یہ حدیث من گھڑت اور موضوع ہے۔ اگرچہ لوگوں کی زبانوں پر معروف ہے۔
    دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی کے ایک استفتاء کے جواب میں اس روایت پر یوں تبصرہ کیا گیا ہے:
" اطلبوا العلم من المهد الى اللحد “ یہ جملہ زبان زدعام ہے، اور اکثر علم کی اہمیت واضح کرنے کے لیے نقل کیا جاتا ہے اور بعض حضرات اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر کے اسے بطور حدیث نقل کرتے ہیں لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ جملہ حدیث نہیں ہے، اسے حدیث کے طور پر پیش کرنا جائز نہیں، یہ اسلاف میں سے کسی کا قول ہے ، جو نقل ہوتا چلا آرہا ہے، بعض حضرات نے اس کی نسبت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی طرف کی ہے لیکن یہ بھی درست نہیں ہے۔ (2)
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪قیمة الزمن عند العلماء 23
▪️ چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 
▪️ دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی فتوی نمبر : 143909201813

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 18* ・❱━━━

*اس امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں*

بعض واعظین اپنے وعظ کے دوران علماء کرام کی فضیلت میں ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ
        "علماء امتى كانبياء بنى اسرائيل"
ترجمہ :" اس امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں ۔“

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
 اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے فقہ حنبلی کے شہرہ آفاق فقیہ و محدث ابن مصلح رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ :
" واما ما يذكره بعض الناس : علماء امتي كانبياء بني اسرائيل فلم اجد له اصلا ولا ذكر له في كتب المشهور المعروفة ولا يصح. " 
یعنی اس حدیث کی کوئی اصل اور بنیاد نہیں اور نہ حدیث کی معروف و مشہور کتابوں میں اس کا کوئی ذکر ہے اور نہ ہی یہ حدیث صحیح ہے۔
اس کے علاوہ *حافظ ابن حجر، علامہ سخاوی ، ملا علی قاری اور حافظ جلال الدین سیوطی* جیسے اساطینِ علم حدیث نے بھی اس حدیث کو موضوع قرار دیا ہے۔ 

📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪️ الآداب الشرعية 37/2 
▪️المقاصد الحسنة رقم 702
▪️المصنوع في معرفة الحديث الموضوع رقم 196 
▪️الدرر المنتثرة رقم 294

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 19* ・❱━━━

*پانچ چیزوں کی طرف دیکھنا عبادت ہے*

ایک روایت مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کی جاتی ہے جس میں پانچ چیزوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ ان کو دیکھنا بھی عبادت ہیں، وہ پانچ چیزیں درجہ ذیل ہیں۔
1۔ بیت اللہ کی طرف دیکھنا 2 والدین کو دیکھنا 3- علماء کرام کے چہرے کو دیکھنا، 4۔ زم زم کے پانی کو دیکھنا 5. قرآن پاک کو دیکھنا۔

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
روایت مذکورہ کو دیلمی نے مسندالفردوس میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں نقل کیا ہے کہ : پانچ چیزیں عبادت میں شامل ہیں : کم کھانا ، مسجد میں بیٹھنا، کعبہ کو دیکھنا، قرآن مجید میں دیکھنا، اور عالم کے چہرے کو دیکھنا۔
بعض کتب میں " النظر الى الوالدين والنظر الی زمزم " کا اضافہ بھی ہے۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ نے فیض القدیر میں لکھا ہے کہ
 *" وفيه سليمان بن الربيع النهدى قال الذهبي : تركه الدار قطنی "* 
کہ اس روایت میں سلیمان بن ربیع نھدی میں ، جن کے بارے میں علامہ ذہبی نے کہا ہے کہ امام دارقطنی  نے اسے متروک قرار دیا ہے۔
علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو سند کے ساتھ نقل فرما کر کلام کیا ہے۔  روایت کے اس ٹکڑے (عالم کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے) کو حافظ سخاوی رحمہ اللہ ملا علی قاری رحمہ اللہ اور علامہ عجلونی رحمہ اللہ نے موضوع قرار دیا ہے۔ 
لہذا یہ روایت نہایت ہی ضعیف ہے جو کہ قابل بیان نہیں ہے۔ مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں۔
 
 
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪ الفتح الكبير في ضم الزيادة الى الجامع الصغير للسيوطي : 87/2 ط دار الفکر بيروت)
▪️العلل المتناهية في الاحاديث الواهية للابن جوزی 244/2 ط ادارة العلوم الاثرية فيصل آباد 
 ▪️ المقاصد الحسنة رقم ، 1251 
▪️الموضوعات الكبرى رقم 1006

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━




🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 20* ・❱━━━

*عالم کی نیند بھی عبادت ہے*
بعض لوگ یہ روایت بیان کرتے ہیں اور اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں کہ
"نوم العالم عبادة " عالم کی نیند بھی عبادت ہے۔

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
اس روایت کو بایں الفاظ محدثین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ چنانچہ مشہور محدث ملاعلی قاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ " لا اصل له في المرفوع هكذا " کہ یہ روایت اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔ علامہ سبکی رحمہ اللہ کو بھی اس کی سند نہیں ملی ہے۔ لہذا اس روایت کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نہ کی جائے۔

❰・ *روایت نمبر 21* ・❱
*قضا عمری سے متعلق روایات*
قضاء عمری سے متعلق بعض لوگ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ
" جو شخص رمضان کے آخری جمعہ کو ایک قضاء فرض نماز پڑھ لے تو یہ ایک نماز اس کی ستر سالوں کی تمام فوت شدہ نمازوں کیلئے کافی ہو جائے گی۔"

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*

یہ روایت قطعی طور پر باطل اور خود ساختہ ہے کیونکہ یہ اجماع کے بھی خلاف ہے، کوئی عبادت ایسی نہیں ہے جو سالوں کی فوت شدہ نمازوں کے قائم مقام ہوسکے، چنانچہ ملاعلی قاری رحمہ اللہ لکھتے ہیں۔
"باطل قطعا" کہ یہ روایت قطعی طور پر باطل ہے۔

📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪ الموضوعات الكبرى رقم 1016
 ▪️طبقات الشافعية الكبرى 307/6
▪️المصنوع في معرفة الحديث الموضوع رقم 358
▪️چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 58- 86

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 22* ・❱━━━

*جنت میں بھی لوگوں کو علماء کرام کی ضرورت ہوگی*

عوام میں ایک روایت مشہور ہے جس کا مضمون کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے:
"اہل جنت، جنت میں بھی علماء کی طرف محتاج ہونگے ، وہ اس طرح کہ اہل جنت ہر جمعہ کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے، تو اللہ تعالیٰ ان سےفرمائیں گے، مانگو مجھ سے جو چاہو، تو اہل جنت علماء کی طرف متوجہ ہوں گے اور ان سے کہیں گے کہ ہم اپنے رب سے کیا مانگیں؟ تو علماء کرام ان سے کہیں گے کہ فلاں فلاں چیز مانگو “ بعض لوگ کچھ اور انداز و الفاظ میں بیان کرتے ہیں۔

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
اس روایت کو مشہور محدث ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب " المصنوع فى معرفة الحديث الموضوع " کے صفحہ نمبر 60  پر اور علامہ محمد بن اسماعیل العجلونی رحمہ اللہ نے " کشف الخفاء  جلد 1 ص 260 " پر موضوع اور خود ساختہ قرار دیا ہے۔

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 23* ・❱━━━

*جس نے کسی عالم کی زیارت کی اس نے حضور ﷺ کی زیارت کی ، روایت کی تحقیق*

بعض لوگ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ "من زار العلماء فكانما زارني ، ومن صافح العلماء فكانما صافحنی ومن جالس العلماء فكانما جالسنى ومن جالسني في الدنيا اجلس الى يوم القيامة "

 ترجمہ: ”  آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے علماء کی زیارت کی تو گویا اس نے میری زیارت کی اور جس نے علماء سے مصافحہ کیا، گویا اس نے مجھ سے مصافحہ کیا اور جو علماء کے پاس بیٹھا، گویا وہ میرے پاس بیٹھا اور جو دنیا میں میرے پاس بیٹھا، تو قیامت کے دن بھی اس کو میرے پاس بٹھایا جائے گا۔“

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*
 اس روایت کو متعدد ائمہ حدیث اور اہل تحقیق نے موضوع اور من گھڑت قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ ملا علی قاری ، علامہ شوکانی ، حافظ عجلونی اور ابن عراق جیسے بلند پایہ محدثین کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو بے بنیاد اور موضوع قرار دیا ہے۔ حوالہ جات نیچے درج ہیں۔
             
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪المصنوع فى معرفة الحديث الموضوع ص: ۱۸۳ ، رقم ۳۳۰
▪️الفوائد المجموعه : رقم ۸۹۰
▪️کشف الخفاء ، رقم ٢٤٩٤ ، ص ٢/٢٩٨ 
▪️ تنزيه الشريعة : ٢٧٢/٢
 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━




🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*

*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 24* ・❱━━━

*علماء کے علاوہ سب لوگ مردہ ہیں اور علماء خطرے میں ہیں سوائے عاملین کے*

 بعض واعظین اپنے وعظ کے دوران ایک روایت بیان کرتے ہیں اور اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتے ہیں وہ روایت درجہ ذیل ہے۔
" الناس كلهم موتى الا العالمون ، والعالمون كلهم هلكي الا العاملون ، والعاملون كلهم غرقى الا المخلصون، والمخلصون على خطر عظيم ..

ترجمہ: لوگ سب کے سب مردہ ہیں سوائے علماء کے اور علماء بھی سب کے سب ہلاکت میں پڑے ہوئے ہیں سوائے عمل کرنے والوں کے ، اور عمل والے بھی سب کے سب غرق ہیں سوائے اخلاص والوں کے اور اخلاص والے بھی بڑے خطرے میں ہیں۔“

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*

یہ حدیث من گھڑت اور موضوع ہے، 
چنانچہ علامہ عجلونی رحمہ اللہ تعالیٰ اس روایت کے بارے میں لکھتے ہیں :
"قال الصغاني، وهذا حديث مفترى ملحون ' یعنی یہ حدیث من گھڑت ہے۔
دراصل یہ حضور ﷺ کی حدیث نہیں ہے بلکہ مشہور بزرگ حضرت سہل تستری رحمہ اللہ  کا مقولہ ہے، چنانچہ خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے اس روایت کو حضرت سہل تستری کا مقولہ قرار دیا ہے۔ لہذا اس کو بطور حدیث بیان کرنا درست نہیں ، ہاں بطور مقولہ نقل کیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
        
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪كشف الخفاء رقم 2796 
▪️ اقتضاء العلم والعمل رقم 22 ص 29
بحوالہ چند معروف لیکن غیر مستند احادیث ص 68

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━




🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 

 ━━❰・ *روایت نمبر 25* ・❱━━━

*عالم یا طالب علم کے گزرنے کی وجہ سے قبرستان سے چالیس دن تک عذاب کا اٹھایا جانا*

ایک روایت جس کو عام طور پر لوگ بیان کرتے ہیں کہ جس علاقے سے عالم یا طالب علم گزر جائے تو اللہ تعالیٰ اس علاقے کے قبرستان سے چالیس دن تک عذاب اٹھا لیتے ہیں ۔“

*⚠️🛇تبصرہ ⚠️*

یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے اور متعدد مشہور محدثین کرام رحمھم اللہ تعالیٰ نے اس روایت کو موضوع اور خود ساختہ قرار دیا ہے۔ چنانچہ ملا علی قاری رحمہ اللہ اور علامہ عجلونی رحمہ اللہ نے اس حوالے سے موضوع ہونے کی تصریح کی ہے۔ حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔

📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪المصنوع فى معرفة الحديث الموضوع ، ص : 10 ، رقم : ٥٧
▪️كشف الخفاء ومزيل الا لباس ، رقم : ٦٧٢ ، ص : ١/٢٥٤

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━




🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 26* ・❱━━━

*حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا اذان میں اشھد کی جگہ اسعد پڑھنے کی تحقیق* 

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ اذان وغیرہ میں اشھد کے بجائے اسھد پڑھتے تھے یعنی شین کو سین کرکے پڑھتے تھے۔

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️* 

اس روایت کو متعدد ائمہ حدیث رحمھم اللہ تعالیٰ نے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔ علامہ عجلونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متعدد علماء تراجم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ بلند اور خوبصورت آواز والے اور فصیح کلام کے مالک تھے اور اگر واقعی آپ کی زبان میں کوئی ہکلاہٹ ہوتی تو یہ بات کثیر روایات میں موجود ہوتی۔ علامہ عجلونی رحمہ اللہ کے علاوہ دیگر محدثین مثلا علامہ سیوطی، ملا علی قاری اور حافظ سخاوی رحمھم اللہ تعالیٰ نے بھی اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔ 
🛇
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪كشف الخفاء رقم 1520
▪️ الدرر المنتثره رقم 498 
▪️الموضوعات الكبرىٰ رقم 257
▪️المقاصد الحسنة رقم 221
▪️چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 72

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━



🌹 *بسْمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
       
*#تحقیق_الروایات_المشھورة_علی_الألسنة*
  
*مفتی عرفان اللہ درویش عفی عنہ (ھنگو)* 
   
 ━━❰・ *روایت نمبر 27* ・❱━━━

*سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے اذان نہ دینے کی وجہ سے سورج کا طلوع نہ ہونا*

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب یہ واقعہ بھی عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے فجر کی اذان نہیں دی، بلکہ کسی اور صحابی رضی اللہ عنہ نے اذان دی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سورج کو طلوع ہونے سے روک دیا پھر جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اذان دی تب جا کر سورج طلوع ہوا۔

*⚠️🛇تبصرہ  ⚠️*

اس واقعہ کی کوئی سند معتبر کتبِ حدیث میں منقول و مذکور نہیں ہے بلکہ متعدد اہل علم نے اس واقعہ کو موضوعات میں سے شمار کیا ہے چنانچہ خیر الفتاوی میں ایک سوال کے جواب میں مذکور ہے کہ یہ واقعہ کسی حدیث میں مذکور نہیں، بلکہ یہ لوگوں میں ویسے مشہور ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ لہذا اس واقعہ کو بیان نہ کیا جائے۔
 
📚 مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں:
▪️چند معروف لیکن غیر مستند احادیث 74 
▪️خیر الفتاوى 485/1
▪️ فتوى دار الافتاء جامعه بنوری ٹاون کراچی فتویٰ نمبر 143802200036

 ━━━━━━━❪❂❫━━━━━━

No comments:

Post a Comment