🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 01* ・❱━━━
🌻 *مردوں کے لیے بال رکھنے کی سنت ، مباح اور ناجائز صورتیں*
بال رکھنے کی تین صورتیں جائز ہیں:
▪️پٹے رکھنا، اس کی تین قسمیں ہیں:
(1) کانوں کی لو تک ، اس کو عربی میں «وفرہ» کہتے ہیں۔
(2) کانوں کی لو اور کندھوں کے درمیان تک، اس کو «لمہ» کہتے ہیں۔
(3) کندھوں تک ، اس کو «جمه» کہتے ہیں۔
▪️حلق یعنی پورے سر کے بال منڈوانا۔
▪️پورے سر کے بالوں کو برابر کاٹنا۔
پہلی دونوں صورتیں سنت ہیں اور تیسری صورت مباح ہے، لیکن سر کے بعض حصے کے بال منڈوانا اور کچھ کے چھوڑنا، یا کچھ حصے کم اور کچھ کے زیادہ کاٹنا، جیسا کہ آج کل کا فیشن ہے ، جائز نہیں۔
📚 تسہیل بہشتی زیور ، جلد 2، صفحہ 280
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 02* ・❱━━━
🌻 *بالوں میں مانگ نکالنا افضل ہے اور نہ نکالنا جائز ہے*
شروع اسلام میں مشرکین مکہ بالوں میں مانگ نکالتے تھے اور اہلِ کتاب مانگ نہیں نکالتے تھے۔ جن کاموں کے متعلق آپ ﷺ کو وحی کے ذریعہ سے کوئی حکم نہ ہوتا، ان میں آپ مشرکین کی نسبت اہلِ کتاب کی موافقت کو پسند فرماتے تھے، چنانچہ آپ ﷺ بھی ابتدا میں مانگ نہیں نکالتے تھے اور بالوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دیتے تھے۔
بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غلبہ عطا فرمایا اور مشرکین مغلوب ہوئے تو آپ ﷺ نے اہل کتاب کے طریقے کی مخالفت کو مناسب سمجھا، چنانچہ بالوں میں مانگ نکالنا شروع کیا۔ فقہاء کرام فرماتے ہیں کہ اب مانگ نکالنا بھی جائز ہے اور نہ نکالنا بھی ، البتہ مانگ نکالنا بہتر ہے۔
📚 فتاویٰ عثمانیہ جلد 10 صفحہ 129
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 03* ・❱━━━
🌻 *مرد کے لیے بالوں کا جوڑا بندھنا اور مینڈھیاں بنانے کا حکم*
اگر کسی مرد کے بال بہت بڑے ہوں تو اس کے لیے عورتوں کی طرح بالوں کا جوڑا باندھنا، چوٹیاں یا مینڈھیاں بنانا درست نہیں، اور ایسی حالت میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔
📚 دارالافتاء جامعہ اشرفیہ فتویٰ نمبر:131/198
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 04* ・❱━━━
🌻 *عورتوں کے لیے بالوں کا جوڑا بندھنا اور مختلف اسٹائل کا حکم*
عورتوں کا بالوں کو جمع کر کے سر کے اوپر جوڑا باندھنا جائز نہیں، حدیث میں ہے : ایسی عورتوں کو جنت کی خوشبو نصیب نہیں ہو گی۔ البتہ گدی (گردن) پر جوڑا باندھنا جائز ہے بلکہ نماز کی حالت میں بہتر ہے، کیونکہ اس سے بالوں کے پردے میں سہولت رہتی ہے۔ اس کے علاوہ بال رکھنے کے دوسرے طریقے ، مثلاً کنگھی مارکر پھیلا دینا یا رخساروں پر ڈال دینا وغیرہ جائز ہیں، بشرطیکہ کسی نامحرم کی نظر نہ پڑے اور کفار کے ساتھ مشابہت نہ ہو۔ عورت کے بالوں کا سخت پردہ ہے ، حتی کہ بوڑھی عورت کے بال دیکھنا بھی حرام ہے۔
📚 احسن الفتاویٰ ، جلد 8 ، صفحہ 74
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 05* ・❱━━━
🌻 *عورت اور نابالغ بچی کے سر کے بال کاٹنے یا مونڈنے سے متعلق تفصیل*
نو سال سے کم عمر بچی کے سر کے بال کاٹنا بھی جائز ہے اور مونڈنا بھی جائز ہے ، البتہ بچی جب نو سال کی ہو جائے تو اس کے بعد اس کے سر کے بال مونڈنا درست نہیں ، البتہ اگر کوئی شدید عذر ہو تو سر مونڈنے میں کوئی حرج نہیں۔
▪️نابالغ بچی جب نو سال کی ہوجائے تو اس کے سر کے بال کاٹنے کا حکم بالغ لڑکیوں اور عورتوں جیسا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ
(الف) خواتین کے لیے مردوں کی اور کفار و فاسق عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے کی غرض سے سر کے بال کاٹنا جائز نہیں۔ اور اس مشابہت سے بچنے اور نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ خواتین کے بال کندھے سے نیچے ہوں یعنی اس سے کم نہ کریں۔
(ب) خواتین کے لیے ضرورت کے وقت کسی قدر بال کٹوانے کی گنجائش ہے جیسے : بالوں کے دو " سرے " پیدا ہوچکے ہوں اور وہ بالوں کی افزائش میں رکاوٹ ہوں ، تو ایسی ضرورت کی وجہ سے بالوں کے سروں کو کسی قدر کٹوانے کی گنجائش ہے، البتہ اس میں بھی اس بات کی رعایت ضروری ہے کہ بال اس قدر نہ کٹوائیں کہ کندھے تک پہنچ جائیں یا اس سے بھی کم ہو جائیں۔ اور اسی طرح اس میں مردوں اور کفار و فاسق عورتوں کے ساتھ مشابہت کی بھی نیت نہ کی جائے۔
📚 فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی نمبر : ۱۷۱۳/۷۵، مؤرخہ : ۱۴۳۶/۷/۱۲ھ)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 06* ・❱━━━
🌻 *مصنوعی بال لگوانا اور وضو و غسل کا حکم*
انسانی بالوں اور خنزیر کے بالوں کو اپنے جسم کے ساتھ لگوانا بہر حال ناجائز ہے، ان کے علاوہ بوقتِ ضرورت اور حاجت کسی جانور یا مصنوعی بال جو ناپاک نہ ہو ، اسے لگوانے یا بالوں کو کسی خاص محلول سے سر میں چپکانے کی گنجائش ہے، جبکہ دھوکہ دہی نہ ہو۔ پھر جن بالوں کو لگوانا اور چپکانا جائز ہے، ان میں جسم کے ساتھ پیوست کر کے مستقل طور پر لگوا لینا بھی جائز ہے اور عارضی طور پر بھی۔
پھر اگر جسم کے ساتھ مستقل پیوست ہوجائیں اور وہ جسم سے بغیر کاٹے یا اکھاڑے الگ نہ ہوسکتے ہوں تو ان پر وضو میں مسح جائز ہے اور غسل میں بھی یہ رکاوٹ نہیں بنیں گے ، لیکن اگر مستقل پیوست نہ ہوں بلکہ عارضی ہوں کہ جب چاہیں نکالے جاسکتے ہوں تو ان پر مسح جائز نہیں نیز ایسے بال اگر غسل کے دوران سر میں پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہوں تو فرض غسل کے وقت انہیں اتارکر پانی پہنچانا لازم ہوگا۔
📚 فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 69/1408
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 07* ・❱━━━
🌻 *ڈاڑھی رکھنا واجب ہے، منڈانا یا مٹھی سے کم کرنا حرام ہے*
ڈاڑھی رکھنا واجب ہے، منڈانا یا مٹھی سے کم کرنا حرام ہے، (مٹھی سے زیادہ ہو تو کاٹنا جائز ہے)، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مشرکوں کی مخالفت کرو، ڈاڑھیوں کو بڑھاؤ اور مونچھیں کٹاؤ " نیز حضور ﷺ نے ڈاڑھی کٹانے ، ٹخنے ڈھانکنے اور گانے بجانے کو ان بدکاریوں میں شمار فرمایا ہے جن کی وجہ سے حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کو ہلاک کیا گیا۔ علاوہ ازیں ڈاڑھی منڈانے یا کٹانے کا گناہ علی الاعلان شریعت کی مخالفت اور دوسرے گناہوں سے زیادہ سنگین ہے ، اس لیے کہ دوسرے گناہ وقتی ہوتے ہیں مگر یہ گناہ ہر ہر وقت ساتھ رہتا ہے، سوتے جاگتے حتی کہ نماز وغیرہ عبادات کی حالت میں بھی یہ گناہ ساتھ رہتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میری ساری امت معافی کے لائق ہے سوائے ان لوگوں کے جو علانیہ گناہ کرتے ہیں۔
📚 احسن الفتاویٰ 8/73
📚 امدادالفتاویٰ 4/223
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 08* ・❱━━━
🌻 *انسانی بالوں کی خریدوفروخت اور آمدن کا حکم*
انسانی بالوں کو فروخت کرنا ، خریدنا دونوں ناجائز، گناہ اور انسانی احترام کے خلاف ہیں، اور ان سے حاصل شدہ رقم بھی حرام ہے، ہر ایک طبقے کو اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔
📚 تمام کتب فقہ
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 09* ・❱━━━
🌻 *ریش بچہ کا حکم*
نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال جسے "ریش بچہ" کہا جاتا ہے ، ڈاڑھی میں داخل ہے، لہذا اس کا کاٹنا، کتروانا، اکھاڑنا یا منڈوانا درست نہیں۔ اگر یہ بال کھڑے ہوں تو کاٹنے کے بجائے تیل اور کنگھی سے ان کو سدھانے کی کوشش کی جائے، اسی طرح ڈاڑھی چاروں طرف سے تھوڑا تھوڑا لے لینا کہ ساری ڈاڑھی برابر ہوجائے ، درست ہے۔
📚 فتاوی عثمانیہ 10/140
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 10* ・❱━━━
🌻 *اس نیت سے چہرے پر استرا پھیرنا کہ ڈاڑھی نکل آئے؟*
اگر کسی شخص کی عمر بڑھ جانے کے باوجود اس کے چہرے پر بال نہیں نکل رہے اور اس پر استرا پھیرنے سے بال آنے کا غالب گمان ہو تو اس نیت سے بطورِ علاج استرا پھیرنا جائز ہے، تاہم اگر وہ ایسا نہ کرے تو بھی درست ہے، اس لیے کہ داڑھی نکلوانے پر وہ مکلف نہیں، لہذا خوامخواہ خود کو مشقت میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔
💫 واضح رہے کہ اگر چہرے پر تھوڑے بہت داڑھی کے بال ہوں تو ان کو گھنے کرنے کی غرض سے چہرے پر استرا پھیرنا جائز نہیں۔
📚فتاوی عثمانیہ 10/155
📚احسن الفتاویٰ 8/77
📚فتاوی رحیمیہ 10/116
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 11* ・❱━━━
🌻 *علاج کے لیے ڈاڑھی منڈوانے کا حکم*
اگر کسی کی ڈاڑھی میں ایسی بیماری ہو کہ ظاہری علاج سے کوئی فائدہ نہ ہوا ہو اور تجربہ کار، دیندار معالج یہ تجویز کرے کہ بغیر ڈاڑھی صاف کرائے صحت نہیں ہوسکتی تو ایسی صورت میں مجبوراً تحصیلِ صحت کے لیے ڈاڑھی کٹوانے یا منڈوانے کی اجازت ہے۔
📚 فتاوی محمودیہ 19/416
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━
🌻 *انگریزی بال رکھنے کا حکم*
عرف میں انگریزی بال اس کو کہتے ہیں کہ سر کے اگلے حصے کے بال بڑے رکھے جائیں اور اطراف میں کم کیے جائیں۔ یہ صورت چونکہ قزع (کچھ بال رکھنے اور کچھ مونڈنے) کے مشابہ ہے اور قزع سے رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے ، اس لیے انگریزی بال سے احتراز ضروری ہے۔ نیز انگریزی بال رکھنے میں انگریزوں اور فساق و فجار کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے جب کہ شریعت کی روسے غیر مسلم اقوام کے ساتھ مشابہت کو ناجائز قرار دیا گیا ہے اس لیے بھی اس سے احتراز ضروری ہے۔
📚 فتاوی عثمانیہ ، جلد 10 ، صفحہ 130
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━
🌻 *ذوالحجۃ کے پہلے عشرہ میں بال اور ناخن نہ کاٹنا*
ام المومنین سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کہ جب تم ذوالحجہ کا چاند دیکھ لو، اور تم میں سے کسی کا قربانی کرنے کا ارادہ ہو تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے" (رواہ مسلم رقم 1977)
ان جیسی احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے فقہاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قربانی کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد قربانی کرنے تک اپنے ناخن نہ کاٹے اور سر، بغل اور ناف کے نیچے، بلکہ بدن کے کسی حصہ کے بال نہ کاٹے، لیکن یاد رہے کہ ایسا کرنا مستحب ہے ضروری نہیں، لہذا اگر کوئی ایسا نہ کرے تو قربانی میں کوئی خلل نہیں آتا۔ البتہ اگر قربانی سے پہلے چالیس دن گزر گئے ہوں تو پھر ناخن کاٹنا اور ناف کے نیچے اور بغل کے بالوں کی صفائی ضروری ہے۔
📚 الدر المختار مع رد المحتار 2/181
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━
🌻 *عورت کا چہرے کے بال صاف کرنا*
عورت کے لیے چہرے کے بال صاف کرنا جائز ہے، اگر اس کے ڈاڑھی یا مونچھ نکل آئے تو ان کو صاف کرنا بہتر ہے۔ ابرو کے کناروں سے بال اکھاڑ کر باریک دھاری بنانا جائز نہیں، حدیث میں اس پر لعنت آئی ہے، البتہ اگر ابرو بہت زیادہ پھیلے ہوئے ہوں تو ان کو درست کرکے عام حالات کے مطابق کرنا جائز ہے۔
📚 فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 69/1408
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 15* ・❱━━━
🌻 *سفید بال چننا / اکھاڑنا*
خوبصورتی کی غرض سے سفید بال چننا ممنوع ہے، البتہ مجاہد کے لیے دشمن پر رعب و ہیبت بٹھانے کے لیے سفید بال اکھاڑنا جائز ہے ، اسی طرح اگر جوانی میں چند بال سفید ہوجائے تو ازالہ عیب کی نیت سے ان بالوں کو اکھاڑنا جائز ہے۔
📚 فتاوی رحیمیہ 8/183 طبع قدیم،
📚 فتاوی دار العلوم زکریا 7/331
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 16* ・❱━━━
🌻 *ناک، کان، سینہ، پیٹھ، پیٹ اور رانوں کے بال کا حکم*
1 . ناک کے بال نہیں اکھاڑنے چاہئیں بلکہ قینچی سے کاٹ دینا چاہیے۔
2 . کان کے بال کاٹنا جائز ہے۔
3 . سینہ ، پیٹھ ، پیٹ اور رانوں کے بال کاٹنا جائز ہے مگر نہ کاٹنا بہتر ہے۔
📚 مسائل بہشتی زیور ، جلد 2 ، باب 67، صفحہ 409
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 17* ・❱━━━
🌻 *سیاہ خضاب استعمال کرنے کی چند صورتیں مع احکام*
سیاہ خضاب کے بارے میں حضرات فقہاء کرام رحمہم اللہ نے جو تفصیل ذکر فرمائی ہے ، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
1. اگر کوئی مجاہد دشمن پر رعب و ہیبت قائم رکھنے کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرے تو یہ بالاتفاق جائز ہے۔
2. اگر سیاہ خضاب دھوکہ دینے کی نیت سے استعمال کیا جائے ، مثلاً خود کو جوان ظاہر کرنے کے لیے ، تو یہ بھی بالاتفاق ناجائز ہے۔
3. اگر دھوکہ مقصود نہ ہو بلکہ صرف اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لیے سیاہ خضاب استعمال کرے، تو اس صورت میں اختلاف ہے۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ اس کو جائز فرماتے ہیں، جبکہ جمہور فقہاء کرام رحمہم اللہ اس کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔
4. جوانی میں بال سفید ہونے کی صورت میں سیاہ خضاب کے استعمال کے متعلق فقہاء کی عبارات میں کوئی صریح حکم منقول نہیں، البتہ بڑھاپے میں سیاہ خضاب کی ممانعت کی جو علت فقہاء کرام نے ذکر فرمائی ہے وہ خداع اور دھوکہ ہے۔ چونکہ جوانی میں سیاہ خضاب لگانے سے نہ تو دھوکہ پایا جاتا ہے اور نہ ہی کتمانِ حقیقت ، بلکہ یہ ایک طرح سے اظہارِ حقیقت ہے ، کیونکہ سیاہ بال اس عمر کا طبعی تقاضا ہوتے ہیں، اس لیے جوانی میں سیاہ خضاب کا استعمال جائز معلوم ہوتا ہے۔ مزید کہ جوانی میں بالوں کا سفید ہونا ایک عیب ہے ، اور ازالہ عیب شرعاً جائز ہے۔ اسی بنا پر فقہاء کے قیاس سے بھی جوانی میں سیاہ خضاب کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
📚 فتوی جامعہ دار العلوم کراچی، مورخہ 18/02/1422
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 18* ・❱━━━
🌻 *ہر اچھے کام میں سنت نبوی ﷺ اپنانے کی کوشش کریں*
سر یا ڈاڑھی کے بالوں میں کنگھی کرتے وقت ، اسی طرح بال کاٹتے، کٹواتے وقت دائیں جانب سے شروع کرنا سنت ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو جوتا پہننے، کنگھی کرنے، پاکی حاصل کرنے حتیٰ کہ ہر (شرف اور زینت والے) کام میں دائیں جانب پسندیدہ تھا۔
📚 صحیح البخاری، رقم الحدیث : 168
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 19* ・❱━━━
🌻 *مونچھوں کو کاٹنے اور بلیڈ سے صاف کرنے کا حکم*
نبی کریم ﷺ کا معمول مونچھیں خوب کترنے کا تھا، اس لیے مونچھیں اچھی طرح کتروانا سنت ہے،یعنی قینچی وغیرہ سے کاٹ کر اس حد تک چھوٹی کردی جائیں کہ مونڈنے کے قریب معلوم ہوں، احادیثِ طیبہ میں مونچھوں کے بارے میں ’’جز‘‘، ’’اِحفاء‘‘اور ’’اِنہاک‘‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سے قینچی وغیرہ سے لینا ہی مفہوم ہوتا ہے؛ اس لیے کہ ان الفاظ کے معنی مطلق کاٹنے یا مبالغہ کے ساتھ کاٹنے یا لینے کے ہیں اسی لیے اکثر فقہاءِ احناف نے قصر یعنی قینچی سے مونچھیں کاٹنے کو ہی افضل قرار دیا ہے، البتہ استرہ اور بلیڈ سے منڈانا بھی جائز ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ قینچی کا استعمال کیاجائے، احناف میں سے امام طحاوی رحمہ اللہ نے اگرچہ حلق کو افضل قرار دیا ہے، لیکن دیگر فقہاء ( مثلاً ملک العلماء علامہ کاسانی رحمہ اللہ وغیرہ) فرماتے ہیں کہ مونچھوں میں حلق سنت نہیں۔
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 20* ・❱━━━
🌻 *زیر ناف بال کس چیز سے صاف کرنا چاہیے؟*
مرد کے لیے زیر ناف بال استرے (یا بلیڈ) سے صاف کرنا بہتر ہے اور دیگر اشیاء مثلاً پاؤڈر، کریم وغیرہ کوئی بال صفا چیز لگا کر زائل کرنا بھی جائز ہے اور عورت کے لیے افضل یہ ہے کہ کریم یا پاؤڈر وغیرہ سے بال ختم کرے، استرہ نہ لگائے، البتہ استرہ لگانا جائز ہے۔
خلاصہ یہ کہ مرد کے لیے استرہ بہتر ہے ، باقی اشیاء جائز ہیں اور عورت کے لیے باقی اشیاء بہتر ہیں، استرہ جائز ہے۔
📚 فتح الباری لابن حجر رحمہ اللہ ، باب قص الشارب، ج : 10 ، ص: 343، ط: دار المعرفه
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 21* ・❱━━━
🌻 *زیر ناف بال کاٹنے کی حدود*
زیر ناف بال اور جسم کے دیگر غیر ضروری بال کاٹنا واجب ہے ، اس کا مقصد نجاست سے اچھی طرح پاکی حاصل کرنا اور پاکیزگی ہے، چالیس دن تک یا اس سے زائد بلاوجہ چھوڑنا مکروہ تحریمی ہے۔ زیر ناف بالوں کی حد ناف کے نیچے پیڑو کی ہڈی سے لے کر شرم گاہ اور اس کے آس پاس کا حصہ ، خصیتین، اسی طرح پاخانہ کے مقام کے آس پاس کا حصہ اور رانوں کا صرف وہ حصہ جہاں نجاست ٹھہرنے یا لگنے کا خطرہ ہو ، یہ تمام بال کاٹنے کی حد ہے۔ وہ بال جو دبر (مقعد) کے قریب ہوں اور ان میں نجاست رہ جانے کا امکان ہو ، انہیں کاٹنا بھی ضروری ہے۔
📚 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (406/6)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 22* ・❱━━━
🌻 *زیر ناف بال ، بغل کے بال اور ناخن کاٹنے کی مدت*
ہفتے میں ایک مرتبہ زیر ناف بال ، بغل کے بال، مونچھوں کے بال اور ناخن وغیرہ کاٹنا اور نہا دھو کر صاف ستھرا ہونا مستحب ہے اور سب سے بہتر جمعہ کا دن ہے کہ صفائی کرکے نماز جمعہ کے لیے جائے۔ ہفتہ میں نہ ہو تو پندرہویں دن سہی ، زیادہ سے زیادہ چالیس دن تک رخصت ہے ، اس کے بعد رخصت نہیں۔
اگر چالیس دن گزر گئے اور ان چیزوں سے صفائی حاصل نہ کی، تو گنہگار ہوگا البتہ کھانا وغیرہ حرام نہیں ہوتا، عوام میں مشہور ہے کہ پھر کھانا پینا حرام ہوجاتا ہے ، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔
📚 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (406/6)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 23* ・❱━━━
🌻 *زیر ناف بال کاٹنے سے عاجز شخص کے لیے شرعی حکم*
اگر کوئی شخص بڑھاپے یا کسی عذر کی وجہ سے زیر ناف بال کاٹنے اور صاف کرنے سے عاجز ہو حتی کہ بال صاف کریم وغیرہ بھی استعمال نہ کرسکتا ہو اور اس کی بیوی بھی نہ ہو جو اس کی یہ خدمت سر انجام دے تو ایسی مجبوری کی صورت میں اس عاجز شخص پر زیر ناف بال کاٹنا واجب نہیں، بلکہ یہ حکم اس سے ساقط ہے۔ البتہ اگر یہ عاجز شخص کسی وجہ سے زیر ناف بال کاٹنے کی ضرورت محسوس کرے تو اس مجبوری اور عذر کی وجہ سے کسی دوسرے مرد کے ذریعے یہ زیر ناف بال کاٹنے اور صاف کرنے کی گنجائش ہے، اس شرط کے ساتھ کہ جہاں تک ہوسکے وہ اس کے ستر سے نظر کی کی حفاظت کرے اور ہاتھوں میں کوئی دستانے وغیرہ پہن لے تاکہ ستر سے بلاحائل ہاتھ نہ لگے۔
📚 تفصیل کے لیے دیکھیے : فتوی جامعہ دار العلوم کراچی نمبر : ۱۲۸۹/۵۸)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 24* ・❱━━━
🌻 *ناخن سے متعلق چند احکام*
▪️ناخن کاٹنا تمام انبیاء کرام علیھم السلام کی سنت ہے۔
(بخاری، حدیث: ۵۸۹۱۔ مسلم، حدیث: ۲۵۷)
▪️جمعہ کے دن ناخن کاٹنا مستحب ہے۔ چنانچہ روایت ہے کہ : رسول اکرم ﷺ جمعہ کے دن نماز کے لیے جانے سے پہلے اپنے ناخنوں کو کاٹتے تھے۔
(شرح السنۃ، حدیث: ۳۱۹۸)
▪️دانت سے ناخن نہ کاٹنا چاہیے کہ یہ مکروہ ہے اور اس سے برص کی بیماری پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔
▪️کچھ لوگ سارے ناخن کاٹ لیتے ہیں اور چھنگلی یا کسی ایک ناخن کو چھوڑ دیتے ہیں، یہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام کا طریقہ نہیں۔
▪️جمعہ کے دن ناخن کاٹنا چاہیے ، نہیں تو پندرہویں دن اور اس کی انتہائی مدت چالیس دن ہے ، اس سے زیادہ چھوڑنا درست نہیں۔
▪️مونچھ ، موئے زیر ناف اور بغل کے بال کا بھی یہی حکم ہے۔
(صحیح مسلم ، حدیث : ۲۵۸]
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 25* ・❱━━━
🌻 *حالت ناپاکی میں بال ، ناخن اور زیر ناف بال کاٹنے کا حکم*
حالت جنابت، حیض و نفاس میں بال کاٹنا، ناخن کاٹنا، زیر ناف بال وغیرہ صاف کرنا مکروہ تنزیہی ہے، اس لیے کہ انسان ان حالات میں ناپاک ہوتا ہے اور ناپاکی کی حالت میں جسم کا کوئی حصہ الگ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی کاٹنا چاہے تو پہلے اس حصے کو دھو لیں پھر کاٹ لے تو مکروہ بھی نہیں۔
📚 الفتاوى الهندية (3585)
📚 طحطاوي على مراقى الفلاح (2) (143) باب الجمعة
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 26* ・❱━━━
🌻 *ناپاکی کی حالت میں بال کاٹنے متعلق دو روایات اور ان کا حکم*
اس حوالے سے عوام میں جو دو روایات مشہور ہیں، ان کا ثبوت معتبر کتب حدیث سے نہیں ملتا، وہ دو روایات درج ذیل ہیں :
💫 پہلی روایت : جو شخص جنابت کی حالت میں بال صاف کرے گا تو وہ بال قیامت کے دن پیش ہو گے اور ایسی آواز نکالیں گے جیسے کہ چارہ طلب کرتے وقت اونٹ یا خچر آواز نکالتا ہے، اور کہیں گے کہ اے اللہ ! اس شخص سے پوچھیں کہ اس نے مجھے حالت جنابت میں جسم سے کیوں جدا کیا ؟
💫 دوسری روایت : جو شخص غسل جنابت سے پہلے نورہ (یعنی بال صفا) استعمال کرے گا (یعنی بال صاف کرے گا) تو اس کا ہر بال قیامت کے دن حاضر ہو کر کہے گا کہ اے اللہ ! اس سے پوچھیں کہ اس نے مجھے غسل دیے بغیر جسم سے کیوں جدا کیا؟
📚 یہ دونوں روایات معتبر کتب حدیث میں ثابت نہیں ہیں
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 27* ・❱━━━
🌻 *لمبے لمبے ناخن رکھنا اور ان سے پکائی گئی روٹی کھانے کا حکم*
عورتوں کا لمبے لمبے ناخن رکھنا اور چالیس دن کے اندر اندر تراش کر چھوٹے نہ کرنا خلافِ سنت عمل اور مکروہ ہے، نیز اس فعل میں فساق و فجار کی مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔
لہذا عورتوں کو لمبے لمبے ناخن رکھنے سے احتراز کرنا ضروری ہے ، البتہ لمبے ناخن والی کوئی عورت ہانڈی یا روٹی پکائے، اور وہ فی نفسہ حلال ہو تو وہ حلال ہی رہے گی، اس کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
📚 فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی ، فتویٰ نمبر : 144408101308)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 28* ・❱━━━
🌻 *ناخن پالش لگانا اور اس کے ساتھ وضو و غسل کا حکم*
عورتوں کے لیے زینت کی خاطر ناخن پالش لگانا فی نفسہ جائز ہے، لیکن چوں کہ اس کے لگانے کے بعد ناخن پر اس کی تہہ بنتی ہے ، اس لیے وضو اور غسل کے لیے نیل پالش کو ہٹانا ضروری ہے ، ورنہ وضو و غسل نہ ہوگا۔ البتہ اگر کوئی عورت ناخن پالش کے بجائے کوئی ایسا رنگ لگائے جو ناخن پالش کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتا ہو اور اس کی تہہ ناخن پر نہ جمتی ہو بلکہ صرف رنگت ظاہر ہوتی ہو تو لگانے کی اجازت ہے اور وضو و غسل کے لیے اسے ہٹانا بھی اس صورت میں لازم نہیں۔
📚 الفتاوى الهندية (ج: 1، ص: 4 ، ط: دار الفكر)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 29* ・❱━━━
🌻 *میت خاتوں کو ناخن پالش لگی ہوئی ہو تو غسل کا حکم*
جس خاتون کو ایسی حالت میں موت آئے کہ اس کے ناخنوں پر ناخن پالش لگی ہوئی ہو تو اس کو غسل دیتے وقت اس کے ناخنوں سے ممکنہ حد تک ناخن پالش صاف کرنا ضروری ہے، کیوں کہ اس کی وجہ سے پانی ناخنوں تک نہیں پہنچ پاتا ہے جس کے نتیجے میں غسل مکمل نہیں ہوتا۔
📚 آپ کے مسائل اور ان کا حل، 151/3)
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
🌹 *بسْم اﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
━━❰・ *پوسٹ نمبر 30* ・❱━━━
🌻 *کیا جمعرات کے دن ناخن کاٹنے والے شخص کو جذام کی بیماری نہیں لگتی ؟*
عوام میں ایک روایت مشہور ہے کہ جمعرات کے دن ناخن کاٹنے سے جذام کی بیماری لاحق نہیں ہوتی اور عافیت نصیب ہوتی ہے، یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے، عمدة القاري باب تقليم الاظفار میں اس پر بحث کی گئی ہے۔
━━━━━━━❪❂❫━━━━━━
No comments:
Post a Comment