Saturday, 19 November 2022

احکام_السفر

#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
 #احکام_السفر
✍️ مرتب: مفتی عرفان اللہ درویش ہنگو عفا اللہ عنہ

━━❰・ پوسٹ نمبر 1・❱━━━
 
    *سفر کی مسنون دعائیں*

جب آپ ﷺ سفر کے لیے سواری پر سوار ہوتے تو تین مرتبہ اللہ اکبر کہتے اور درج ذیل دعا پڑھتے تھے:

 « سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَه مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّـآ إِلىٰ رَبِّـنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰى وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰى اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَه اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيْفَةُ فِي الْأَهْلِ اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ ».

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے لوٹتے تھے تو انہی کلمات کودہراتے تھے اور اس میں ان کلمات کااضافہ فرماتے:
« آئِبُوْنَ تَآئِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّـنَا حَامِدُوْنَ ». (صحیح مسلم) فقط واللہ اعلم 
 
📚 ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
 #احکام_السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 2・❱━━━
 
    *سفر کے آداب ومستحبات* 
*1۔ مشورہ کرنا*

    سفر شروع کرنے سے پہلے مشورہ کرنا مستحب ہے۔ مشورہ اس شخص سے کرنا چاہیے جس کے علم وعمل ، امامت ودیانت اور تجربہ پر کامل اعتماد ہو۔
*2۔ استخارہ کرنا*

    سفر پر جانے سے قبل استخارہ کرنا بھی مستحب ہے ، استخارہ کا طریقہ مختصرا یہ ہے کہ دو رکعت نوافل پڑھیں اور نوافل کے بعد استخارہ کی دعا کریں۔
*3۔ توبہ اور معاملات کی صفائی*

   سفر پر جانے سے قبل تمام گناہوں کی اللہ تعالی سے معافی مانگے ، لوگوں سے لین دین کے تمام معاملات بے باک کریں اگر ذمہ پر کسی کا قرض ہے تو ادا کریں اگر فی الحال ادائیگی ممکن نہ ہو تو لکھ لیں، لوگوں کی امانتیں واپس کریں یا لکھ لیں، سفر پر جانے سے پہلے وصیت کا لکھنا بھی مستحب ہے۔
*4۔ والدین اور اقارب کو راضی کرنا*

سفر پر جانے سے پہلے ایک ادب یہ بھی ہے کہ مسافر اپنے والدین اور اقارب کو راضی کرکے جائے کیونکہ موت کا کچھ پتا نہیں چلتا۔ 
       
 جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

📚 ملخص از احکام سفر 31۔32 

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ *پوسٹ نمبر 3* ・❱━━━
 
    *سفر کے آداب و مستحبات*
 
*5۔ اخراجات سے زائد مال رکھنا*

  سفر میں اخراجات سے کچھ زائد مال اس نیت سے رکھنا مستحب ہے کہ اگر کسی ضرورت مند کو حاجت پڑجائے تو اس کی مدد کروں گا۔

*6۔ لڑائی جھگڑے سے اجتناب*
  سفر میں خلاف طبیعت امور کا پیش آنا لازمی امر ہے ، اس سے پریشان ہوکر لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے بلکہ صبر وتحمل سے کام لینا چاہیے، سفر میں نرمی اور حسن خلق کو اپنانا نہایت ضروری ہے۔
*7۔ اجتماعی خرچہ میں احتیاط*

سفر کے دوران اگر لڑائی جھگڑے اور نا انصافی کا خدشہ ہو تو شراکت سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر یہ صورت نہ ہو تو شراکت افضل ہے اور باعث برکت بھی۔

*8۔ شرعی احکام سے باخبری*
  سفر کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ سفر شروع کرنے سے پہلے مقصود سفر مثلا حج، عمرہ ، جہاد ، تجارت وغیرہ کے احکام معلوم کرنا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ کوئی بھی عبادت علم اور صحیح طریقہ کے بغیر ناقابل قبول ہے۔ لہذا آسان صورت یہ ہے کہ کوئی کتاب متعلقہ موضوع پر ساتھ رکھ لی جائے۔
📚 ملخص از احکام سفر 33۔34
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 4 ・❱━━━
 
    *سفر کے آداب و مستحبات* 
 
9۔ تنہا سفر نہ کرنا
  سفر میں کوئی ساتھی بنانا مستحب ہے ، اگر نیک شخص یا عالم دین کی رفاقت میسر آجائے تو بہت بہتر ہے۔ تنہا سفر کرنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ آپ کا ارشاد گرامی ہے:
"اکیلا سفر کرنے والا ایک شیطان ہے ، دو سفر کرنے والے دو شیاطین ہیں، تین افراد کا ہونا جماعت ہے۔" (جامع ترمذی 1674)

10۔ امیر سفر بنانا
  سفر کے آداب میں سے یہ بھی ہے کہ جب جماعت کی شکل میں سفر کیا جائے تو ایک کو امیر بنایا جائے، امیر ایسا ہو جو علم عمل اور رائے میں دوسروں سے افضل ہو۔ ابو سعید خدری رض سے مرفوعا روایت ہے کہ جب سفر میں تین آدمی نکلیں تو ایک کو اپنا امیر بنالیں۔
(سنن ابی داود رقم 2608)

11۔ جمعرات یا پیر کے دن سفر کرنا
  جمعرات کے دن سفر کرنا مستحب ہے ، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول جمعرات کے دن سفر کا تھا۔ (سنن ابی داود رقم 2605) جمعرات کے بعد پیر کا دن افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا سفر پیر کے دن شروع فرمایا تھا۔ باقی ایام برابر ہے البتہ جمعہ کے دن زوال کے بعد جمعہ پڑھے بغیر سفر کرنا مکروہ ہے۔
📚 ملخص از احکام سفر 34۔35
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 5 ・❱━━━
 
    *سفر کے آداب و مستحبات* 
 
12۔ صبح سویرے سفر کیلئے نکلنا
  صبح سویرے سفر کیلئے نکلنا مستحب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کیلئے صبح کے وقت میں برکت کی دعا فرمائی ہے۔ حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر تھے اور صبح سویرے تجارت کا سامان بھیجا کرتے تھے ، انہیں تجارت میں بہت نفع ہوتا تھا۔
(سنن ابی داود رقم 2606)

13۔ صلوة السفر پڑھنا
  سفر پر نکلنے سے پہلے گھر میں دو رکعت سفر کی نیت سے نوافل پڑھنا مستحب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: "کسی شخص نے اپنے گھر والوں کیلئے ان دو رکعتوں سے بہتر کوئی چیز نہیں چھوڑی" ( مصنف ابن ابی شیبہ 2/81)
14۔ الوداع کرنا
  سفر پر جاتے وقت اپنے گھر والوں ، پڑوسیوں اور دوستوں کو الوداع کرنا اور ان لوگوں کا مسافر کو الوداع کرنا مستحب ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما مرفوعا روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کلمات سے مسافروں کو الوداع کرتے تھے۔
استودع اللہ دینک وامانتک و خواتیم عملک۔

📚 ملخص از احکام سفر 36۔37

 *مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ* 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 6・❱━━━
 
    *سفر کے آداب و مستحبات*
 
*15۔ مسافر سے دعا کی درخواست کرنا*

 سفر کے آداب میں سے ایک ادب مسافر سے دعا کی درخواست کرنا بھی ہے، جیسا کہ حضرت عمر فاروق رض کو عمرہ کیلئے رخصت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : " اے میرے چھوٹے بھائی ! مجھے اپنی دعاوں میں شریک رکھنا"

*16۔ گھر سے نکلتے وقت صدقہ کرنا*
  مسافر کیلئے مستحب ہے جب گھر سے نکلے تو کچھ صدقہ کردے، ایسے ہی ہر حاجت کے وقت صدقہ کرنا مستحب ہے۔
*17۔ رات کو سفر کرنا*

  اگر اپنی جان اور مال کا خطرہ نہ ہو تو رات کو سفر کرنا مستحب ہے۔ حضرت انس رض سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" تم رات کو سفر کرنے کو لازم پکڑو، اس لئے کہ زمین رات کے وقت مسافر کیلئے سمیٹ دی جاتی ہے۔ (مستدرک حاکم 1/445)
*18۔ سفر میں دعا کی کثرت*

سفر میں کثرت سے دعا کرنا مستحب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے " تین دعائیں مقبول ہیں جن کی قبولیت میں شک نہیں ہے۔ مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا اور باپ کی اپنی اولاد کیلئے بد دعا"
(جامع ترمذی رقم 1905)

ماخوذ از احکام سفر 38

 *مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ* 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ *پوسٹ نمبر 7* ・❱━━━
 
    *سفر کے آداب و مستحبات* 
 
19۔ مقصد پورا ہونے پر واپسی میں جلدی کرنا
   جب سفر کا مقصد پورا ہوجائے تو واپسی میں جلدی کرنا مستحب ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے" جب تم میں سے کوئی اپنا حج پورا کرے تو اپنے گھر آنے کی جلدی کرے اس لئے کہ یہ بات اجر میں سب سے بڑھ کر ہے" 
20۔ گھر والوں کیلئے ہدیہ لانا
سفر سے واپسی پر گھر والوں کیلئے ہدیہ لانا مستحب ہے، حضرت عائشہ رض سے مرفوعا روایت ہے " جب تم میں سے کوئی سفر سے واپس لوٹے تو اسے چاہئے کہ اپنے گھر والوں کیلئے ہدیہ لائے اور انہیں تحفہ دے اگرچہ پتھر(معمولی چیز) کیوں نہ ہو"
21۔ گھر والوں کو واپسی کی اطلاع کرنا
 مسافر کیلئے مستحب ہے کہ گھر پہنچنے سے پہلے گھر والوں کو واپسی کی اطلاع کرے اچانک گھر میں داخل نہ ہو، اگر پہلے سے واپسی کا وقت متعین ہے تو دوبارہ اطلاع کی ضرورت نہیں۔
22۔ مسافر کا استقبال کرنا
مسافر کا استقبال کرنایعنی گھر سے یا شہر سے باہر نکل کر مسافر کا راستہ میں استقبال کرنا مستحب ہے، حضرت عبداللہ بن زبیررض سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو آپ کی استقبال کیلئے بچوں کو ساتھ لایا جاتا تھا۔ (مسند احمد)
📚 ملخص از احکام سفر 39

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 8・❱━━━
 
    آدمی شرعی مسافر کب بنتا ہے؟
     
1۔ اگر کوئی شخص اڑتالیس میل انگریزی یا 77.24 کلومیٹر سے کم مسافت کا سفر کرے تو اس سفر سے شریعت کا کوئی حکم نہیں بدلتا اور شرعا ایسا آدمی مسافر نہیں ہے۔ اور جو شخص اڑتالیس میل انگریزی یا 77.24 کلومیٹر یا اس سے زیادہ مسافت طے کرنے کے ارادے سے اپنی علاقے کی آبادی سے نکلے وہ شریعت کے رو سے مسافر ہے، جب تک آبادی کے اندر اندر چلتا رہیگا تب تک مسافر نہیں بنے گا۔ ریلوے اسٹیشن یا اڈہ وغیرہ اگر آبادی کے اندر ہے تو آبادی کے حکم میں ہے اور اگر آبادی سے باہر ہے تو وہاں پہنچ کر مسافر ہوجائے گا۔
2۔ سفر شرعی کا ارادہ کرکے گھر سے نکلا لیکن ساتھ یہ بھی نیت ہے کہ سفر شرعی کی مقدار سے پہلے پہلے فلاں جگہ پندرہ دن ٹھہروں گا تو مسافر نہیں رہا ، راستے میں پوری نماز پڑھے گا۔
3۔ 77.24 کلومیٹر جانے کا ارادہ ہے لیکن 77.24 کلومیٹر سے پہلے راستہ میں گھر آتا ہے یعنی سفر شرعی کی مقدار سے پہلے پہلے گھر سے گزرنا پڑتا ہے تب بھی مسافر نہیں رہا۔

📚 ملخص از تسہیل بہشتی زیور 1/342

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 9 ・❱━━━
 
    آدمی شرعی مسافر کب بنتا ہے؟

    4۔ 77.24 کلومیٹر یا اس سے زیادہ کا سفر کیا اور اپنے گھر پہنچا تو مسافر نہیں رہا ، چاہے کم رہے یا زیادہ البتہ راستہ میں سفر کی نما ز پڑھے گا اور اگر اپنا گھر نہیں ہے بلکہ کوئی اور جگہ ہے تو اگر پندرہ دن یا زیادہ وہاں ٹھرنے کی نیت ہے تب بھی مسافر نہیں رہے گا ، اور اگر نہ اپنا گھر ہے نہ پندرہ دن ٹھرنے کی نیت ہے تو وہاں بھی مسافر رہے گا۔
5۔ راستہ میں کئی جگہ ٹھرنے کا ارادہ ہے مثلا دس دن ایک جگہ، پانچ دن دوسری جگہ ، بارہ دن کسی اور جگہ لیکن پورے پندرہ دن کہیں ٹھہرے کا ارادہ نہیں ہے تو مسافر کے حکم میں ہے۔
6۔ اڑتالیس میل انگریزی یا 77.24 کلومیٹر یا زیادہ جانے کے ارادہ سے اپنی آبادی سے نکلا ، پھر کچھ دور جاکر کسی وجہ سے ارادہ بدل گیا اور گھر لوٹنے لگا تو جب سے لوٹنے کا ارادہ کیا تب سے مسافر نہیں رہا۔
7۔ سفر شرعی میں شرعی مسافت یعنی فاصلے کا اعتبار ہے وقت کا نہیں لہذا اگر کوئی شخص 77۔24 کلومیٹر کا فاصلہ پیدل تین دنوں میں طے کرتا ہے اور دوسرا شخص گاڑی کے ذریعے ایک دن میں ، تو شرعا دونوں مسافر ہے۔ کیونکہ وقت کا اعتبار نہیں کیا جاتا بلکہ فاصلے کا کیا جاتا ہے۔

📚 ملخص از تسہیل بہشتی زیور 1/342

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 10・❱━━━
 
           آدمی شرعی مسافر کب بنتا ہے؟
  
  8۔ سفر شرعی ثابت ہونے کیلئے یک طرفہ مسافت کا اعتبار کیا جاتا ہے ۔ یعنی صرف جانے کی مسافت اگر 77.24 کلومیٹر یا زیادہ ہے تو وہ شخص مسافر سمجھا جائے گا اور اگر آنے جانے کی مسافت جمع کرنے سے 77.24 کلومیٹر کا سفر بنتا ہے تو وہ شخص شرعا مسافر نہیں ہوگا۔
9۔ شرعا مسافر بننے کیلئے صرف سفر کی نیت کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ نیت کرکے اپنی آبادی کی حدود سے نکلنا بھی ضروری ہے۔
10۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ مسافر بننے کیلئے اپنی آبادی کی حدود سے نکلنا ضروری ہے تو اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ شہر کی جس جانب وہ سفر کررہا ہے اسی جانب کی آبادی سے نکلنا معتبر ہوگا ، دوسری جانبوں کا اعتبار نہیں ہے۔
11۔ سفر میں صاحب اختیار کی نیت کا اعتبار کیا جاتا ہے مثلا اگر کچھ لوگ مل کر سفر کرتے ہیں جن میں سے بعض صاحب اختیار ہیں اور بعض ان کے تابع ہیں مثلا میاں بیوی ہیں یا فوجی اپنے کمانڈر کیساتھ یا لشکر اپنے امیر کیساتھ وغیرہ تو ان صورتوں میں شوہر، فوجی کمانڈر اور لشکر کے امیر کی نیتوں کا اعتبار ہوگا ۔ اگر ان کی نیت پندرہ دن سے کم ٹھرنے کی ہے تو تابع بھی شرعا مسافر ہوں گے۔

📚 ملخص از احکام سفر 63۔64

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 11 ・❱━━━
 
    آدمی شرعی مسافر کب بنتا ہے؟
  
  12۔ کسی شہر کو جانے کے دو راستے ہوں تو کیا حکم ہے؟
  اگر کسی جگہ جانے کے دو راستے ہوں اور ایک راستہ مسافت شرعی کے برابر ہو اور دوسرا مسافت شرعی سے کم ہو تو پہلے راستے پر جانے والا مسافر ہوگا اور دوسرا مسافر نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ایک جگہ ریل گاڑی کا راستہ 24۔77 کلومیٹر یا زیادہ ہے اور بس کا راستہ کم ہے تو ریل میں سفر کرنے والا مسافر ہوگا اور بس والا نہیں۔
13۔ اگر کوئی شخص ناجائز مقصد مثلا چوری کرنے ، ڈاکہ ڈالنے ، ناجائز کاروبار کرنے یا غیر شرعی تقریب میں شرکت کرنے کیلئے سفر کررہا ہے تو اگرچہ اس کا یہ سفر ناجائز ہے لیکن شرعی طور پر اسے سفر کی رخصتیں حاصل ہوں گی۔
14۔ جس طرح شرعی مسافر بننے کیلئے شہر یا گاوں کی آبادی سے نکلنا ضروری ہے ایسے ہی اگر شہر کی فناء ہو تو اس فناء سے نکلنا بھی شرعی مسافر بننے کیلئے ضروری ہے۔ شہر کی فناء سے مراد وہ جگہ ہے جو اہل شہر کی مصلحت اور فائدے کیلئے بنائی گئی ہو مثلا اصطبل ، قبرستان اور جنازہ گاہ وغیرہ۔ البتہ دو صورتوں میں فناء سے نکلنا ضروری نہیں ہے ، پہلی صورت یہ ہے کہ شہر اور فناء کے درمیان کھیت ہو اور دوسری صورت یہ ہے کہ شہر اور فناء کے درمیان ایک غلوہ تقریبا 150 تا 200 گز کا فاصلہ ہو۔ ان صورتوں میں شہر کی آبادی سے نکل کر ہی مسافر بن جائے گا۔
📚 ملخص از احکام سفر 65

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 12 ・❱━━━
 
    وطن اصلی کی تعریف اور حکم
    
   وطن اصلی کی جو تعریفیں کی گئی ہیں ان میں مشہور تعریفیں تین ہیں۔
1۔ وطن اصلی وہ جگہ ہے جہاں انسان پیدا ہوا ہو اور وہاں سے سکونت ترک نہ کی ہو، یعنی وہاں رہ رہا ہو۔
2۔ وطن اصلی وہ جگہ ہے جس کو انسان شہر قرار دیکر بیوی بچوں کیساتھ رہائش اختیار کرے اور وہاں تاحیات رہنے کا ارادہ ہو۔
3۔ وطن اصلی وہ جگہ ہے جہاں انسان نے اپنی بیوی کو دائمی سکونت دے رکھی ہو۔ اگرچہ خود وہاں نہ رہتا ہو۔
مندرجہ بالا تعریفوں سے معلوم ہوا کہ وطن اصلی کی تعریف تین طرح کی جگہوں پر صادق آتی ہے۔
جائے ولادت ، جائے اقامت دائمی اور بیوی کا شہر۔ اور یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ انسان کیلئے وطن اصلی کئی ہوسکتے ہیں۔
*حکم* 
سفر کے باب میں وطن اصلی میں آدمی شرعی مسافر نہیں رہتا لہذا وطن اصلی میں مقیم کے تمام احکام لاگو ہوتے ہیں۔
📚 ملخص از احکام سفر 71

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 13・❱━━━
 
    *کیا جائیداد اور مکان سے وطن اصلی باقی رہتا ہے یا نہیں؟* 
   
    اگر ایک شخص اپنے آبائی وطن کو چھوڑ دے اور دوسری جگہ مستقل سکونت بیوی بچوں سمیت اختیار کرلے چاہے کاروبار کی سلسلہ میں ہو یا کسی اور وجہ سے لیکن اپنی آبائی وطن میں دوبارہ رہائش کا ارادہ نہ ہو تو ایسی صورت میں یہ آدمی جب آبائی وطن آئے گا تو اگر شرعی مسافت طے کرکے آیا ہے اور آبائی وطن میں پندرہ دن یا زیادہ گزارنے کی نیت نہیں ہے تو آبائی وطن میں یہ شخص مسافر رہے گا اور سفر کے تمام احکام اس پر جاری ہوں گے ، اگرچہ اس کی جائیداد، مکان ، والدین اور دیگر رشتہ دار اسی جگہ میں ہو کیونکہ وطن اصلی سے ہمیشہ کیلئے ترک سکونت سے وطن اصلی ختم ہوجاتا ہے۔

📚 ملخص از احکام سفر 74

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 14 ・❱━━━
 
    پندرہ یا زیادہ دن و رات رہائش اختیار کرنے کی صورتیں مع احکام

     شریعت مطہرہ کی رو سے ایسی جگہ جو رہائش کے قابل ہو اور مسافر وہاں پندرہ راتیں ٹھہرنے کی نیت سے رہے تو ایسا شخص مقیم بن جاتا ہے اور سفر کے احکامات اس پر لاگو نہیں ہوتے ، اس مسئلہ کی ممکنہ مختلف صورتیں مع احکام درجہ ذیل ہیں:
1۔ اگر کوئی مسافر ایک ہی جگہ پر پندرہ دن و راتیں یا زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے تو مقیم بن جائے گا۔ لہذا پوری نماز پڑھے گا اور روزہ بھی رکھے گا وغیرہ وغیرہ۔
2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ دو تین مقامات پر پندرہ یا زیادہ دن و رات رہنے کا ارادہ ہے مگر کسی ایک جگہ پر بھی مکمل پندرہ دن و رات گزارنے کی نیت نہیں ہے مثلا ایک گاوں میں دس دن دوسرے میں آٹھ دن تیسرے میں بارہ دن گزارنے کا ارادہ ہے تو ایسا شخص مسافر ہی رہے گا اگرچہ مجموعی مقدار پندرہ دن و رات سے زیادہ ہے۔
3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ ایک جگہ پر پندرہ راتیں گزارنے کی نیت ہے البتہ دن گزارنے کیلئے دوسری جگہ جاتا ہے تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر دن کی جگہ مسافت سفر پر واقع ہے تو راستہ میں سفر کی نماز پڑھے گا اور وہاں بھی دن کی نمازوں میں قصر کرے گا البتہ واپس رات کی جگہ آکر مقیم بن جائے گا ، اور اگر دن کی جگہ مسافت سفر سے کم مقدار پر واقع ہے تو دونوں جگہوں ( رات اور دن کی جگہ) میں مقیم شمار کیا جائے گا اور پوری نمازیں پڑھے گا۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 76

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 15 ・❱━━━
 
    *اقامت کی جگہ کا رہنے کے قابل ہونا ضروری ہے*
  
وطن اقامت کی تعریف میں کہا گیا ہے کہ وطن اقامت وہ جگہ ہے جو رہائش کے قابل ہو۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جگہ ایسی ہو جہاں رہنا ممکن ہو مثلا شہر یا دیہات وغیرہ ہو اگر کوئی مسافر ایسی جگہ رہنے کی نیت کرے جو قابل رہائش نہ ہو مثلا جنگل یا دریا میں تو اس کی نیت معتبر نہ ہوگی اور وہ مسافر ہی رہے گا۔ البتہ وہ لوگ جن کی کوئی جگہ نہیں ہوتی ساری زندگی جگہ جگہ خیمہ لگاکر گزار دیتے ہیں جیسے خانہ بدوش تو یہ لوگ اگر جنگل میں خیمہ لگاکر اقامت کی نیت کرلیں تو ان کی نیت معتبر ہوگی کیونکہ ان کے حق میں یہ جگہ قابل رہائش ہے۔

*وطن اقامت کیلئے اقامت کی نیت بھی ضروری ہے*
  
شرعی طور پر مقیم بننے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اقامت کی جگہ پندرہ دن و رات یا زیادہ رہنے کی نیت کرے اگر کوئی شخص اس ارادہ سے مقیم ہے کہ کل کام ختم ہوجائے تو واپس جاوں گا ، پرسوں ترسوں ہوجائے تو جاوں گا تو ایسی حالت میں اگر سال بھی گزر جائے تو ایسا شخص مقیم نہیں بنے گا بلکہ مسافر رہے گا لہذا ابتدا سے مکمل پندرہ یا زیادہ راتوں کی نیت مقیم بننے کیلئے ضروری ہے۔
📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 77

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 16 ・❱━━━
      
سفر سے وطن اقامت باطل ہوتا ہے یا نہیں؟
      سفر سے وطن اقامت باطل ہوتا ہے یا نہیں؟ اس کے تین صورتیں بنتی ہیں۔
1۔ وطن اقامت سے اگر مسافت شرعیہ (77.24 کلومیٹر) سے کم مسافت تک سفر کیا جائے تو بالاتفاق اس سفر کی وجہ سے وطن اقامت ختم نہیں ہو گا۔ واپسی پر یہاں پوری نماز پڑھے گا۔ 
 2۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وطن اقامت سے سفر شرعی کیا جائے اور یہاں سے اپنا سارا سامان اور بیوی بچے وغیرہ اگر یہاں ہوں ، ساتھ لے جائے یعنی اس وطن اقامت کو بالکل چھوڑنے کی نیت سے جائے تو بالا تفاق یہ وطن اقامت ختم ہو جائے گا۔ دوبارہ یہاں آنے کی صورت میں قصر کرے گا۔ الا یہ کہ دوبارہ اقامت کی نیت کرے تو پوری نماز پڑھے گا۔ 
3۔ تیسری صورت یہ ہے کہ وطن اقامت سے سفر شری کیا جائے لیکن ضرورت پوری ہونے کے بعد واپسی کا ارادہ ہو اور وطن اقامت جہاں اس کی رہائش ہو وہاں سامان وغیرہ پڑا ہو تو صحیح اور اکثر حضرات اہل علم کے قول کے مطابق ایسے سفر سے وطن اقامت باطل نہیں ہوتا۔ یہاں واپسی پر پوری نماز پڑھے گا۔ اگر چہ دوبارہ اقامت شرعیہ ( پندرہ یا زیادہ راتوں کی نیت نہ کرے )
بعض حضرات کے ہاں محض سفر شرعی سے وطن اقامت باطل ہو جاتا ہے واپسی پر اگر دوباره اقامت کی نیت نہ ہو تو قصر کرے گا۔ 

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 80

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 17 ・❱━━━
  مسافر کیلئے تیمم کے احکام و مسائل

1۔ تیمم کے جائز ہونے کیلئے سفر شرعی کا ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ اس سے کم مسافت کا سفر بھی کافی ہے ، جبکہ مسافر کے پاس پانی نہ ہو یا استعمال کرنے پر قدرت نہ ہو۔ 
2۔ مسافر نے پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کر کے نماز پڑھ لی ، ابھی نماز کا وقت باقی تھا کہ پانی مل گیا تو اس کو نماز لوٹانے کی ضرورت نہیں، اپنے مقام پر واپس آ کر بھی اس نماز کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔ 
3۔ مسافر اور مریض جس کے پاس پانی نہ ہو یا مرض وغیرہ کی وجہ سے پانی پر قادر نہ ہو وہ وضو اور غسل دونوں کے لئے تیم کر سکتا ہے۔ اور دونوں کا طریقہ ایک ہی ہے کہ دونوں بازوؤں اور چہرے پر مسح کرے۔  

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 96

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ پوسٹ نمبر 18 ・❱━━━
  *مسافر کیلئے تیمم کے احکام و مسائل*

4۔ *مستقبل میں پانی کی ضرورت پیش آجانے کی وجہ سے بھی تیمم جائز ہے۔* 
        مسافر کے پاس کافی پانی ہے لیکن اسے یقین یا ظن غالب ہے کہ مستقبل میں اس پانی کی ضرورت پڑے گی ، مثلا اپنے پینے کے لئے ، ساتھیوں کے پینے کے لئے ، کسی جانور کو پلانے کیلئے یا آٹا گوندھنے کے لئے ، جسم یا کپڑوں سے نا پاکی دور کرنے کے لئے ، وغیرہ وغیرہ، تو مسافر کے لئے جائز ہے کہ پانی کو مستقبل میں پیش آنے والی ضرورت کے لئے رکھ لے اور تیمم کر کے نماز پڑھتا رہے، بعد میں ایسی نمازوں کے لوٹانے کی بھی ضرورت نہیں۔   

5*تیمم کرنے کے بعد پانی ملنے کی صورتیں اور ان کا حکم* 
     
مسافر کے پاس پانی نہیں تھا، اس نے تیمم کیا، نماز شروع کرنے سے پہلے کہیں سے پانی مل گیا تو اس کا تیمم ختم ہوگیا، اب وضو کر کے نماز پڑھے۔ 
 اور اگر تیمم سے نماز پڑھ لی ، نماز پڑھنے کے بعد پانی ملا تو وہ نماز ہوگئی، اس کو لوٹانے کی ضرورت نہیں، پانی وقت کے اندر ملے یا اس نماز کا وقت ختم ہونے کے بعد، دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اور اگر تمیم کر کے نماز پڑھنا شروع کر دی تھی ، نماز کے دوران کہیں سے پانی آگیا۔ تو تیمم ختم ہو کر نماز ٹوٹ گئی ، وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 97

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 19 ・❱━━━
  مسافر کیلئے تیمم کے احکام و مسائل

6۔ *مسافر کے لئے پانی کے انتظار میں نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے*
      مسافر کے پاس پانی نہیں ہے مگر وقت ختم ہونے سے پہلے پانی ملنے کی امید ہے تو آخر وقت تک نماز کو مؤخر کرنا اور پانی کا انتظار کرنا مستحب ہے تا کہ وضو سے نماز پڑھ لے، اگر وقت کے اندر پانی مل جائے فبها، ورنہ تیمم سے نماز پڑھ لے، اور اگر پانی ملنے کی امید نہ ہو تو بھی وقت مکروہ سے پہلے تک نماز کو مؤخر کرنا مستحب ہے۔ 

7۔ *نماز قضاء ہوجانے کے خوف سے تیمم کرنا جائز نہیں* مسافر یا مقیم کو اگر یہ خطرہ ہو کہ پانی تک جانے اور وضو کرنے کی وجہ سے نماز قضاء ہو جائے گی، تو بھی اس کے لئے وضو کرنا ضروری ہے محض نماز قضاء ہوجانے کے خوف سے تیمم کرنا جائز نہیں۔

8۔ *پانی کا ہبہ قبول کرنا واجب ہے پسیوں کا ھبہ قبول کرنا واجب نہیں*
     
مسافر کے پاس پانی نہ ہو اور کوئی شخص پانی دے تو اس سے پانی لینا واجب ہے۔ البته اگر وہ کچھ پیسے دے کہ ان سے پانی خرید لے تو پیسوں کا ہبہ قبول کرنا واجب نہیں ، اس لیے کہ پیسوں کا ہبہ احسان کی ایک صورت ہے بعض طبائع اس کو قبول نہیں کرتیں۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 98

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ پوسٹ نمبر 20 ・❱━━━
  مسافر کیلئے تیمم کے احکام و مسائل

9۔ *مسافر اگر پانی خرید سکتا ہو تو خریدنا واجب ہے۔* 
    
مسافر کے پاس اگر پانی نہ ہو اور اس کے پاس اتنی رقم ہو کہ وہ قیمتا پانی خرید سکتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ پانی خرید کر وضو کرے، البتہ اگر پانی والا پانی کی بہت زیادہ قیمت لگا رہا ہوتو پانی خریدنا واجب نہیں، اس صورت میں تیمم کر کے نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اگر مناسب قیمت ہو یا کچھ زیادہ ہو تو پانی خریدنا واجب ہے۔  

10۔ *پانی کتنا دور ہوتو مسافر کے لئے تیمم جائز ہے*
   
مسافر کے پاس پانی موجود ہو تو تیمم جائز نہیں، پانی نہ ہو یا دور ہو تو تیمم جائز ہے پانی کتنا دور ہو تو تیمم جائز ہے؟ حنفیہ کی تحقیق یہ ہے کہ اگر مسافر سے پانی ایک میل شرعی کی مسافت دور ہو تو تیمم جائز ہے۔ ایک میںل شرعی دو ہزار گز کی مسافت کے برابر ہوتا ہے، جس کے تقریبا پونے دو کلومیٹر (دوکلومیٹر سے ۲۲ گز ۸ انچ کم) بنتے ہیں۔

11۔ *پانی ملنے کا یقین یا ظن غالب ہوتو اس کی طلب واجب ہے۔* 
  
 مسافر کو پانی قریب ( میل شرعی کے اندر اندر) ہونے کا یقین یا ظن غالب ، قرائن کی بناء پر یا کسی معتبر شخص کے بتانے سے ہوجائے تو اس پر پانی کو تلاش کرنا واجب ہے، پانی تلاش کیے بغیر نماز پڑھنا جائز نہیں ، اس صورت میں اگر اس نے بغیر طلب کے تیمم کر کے نماز پڑھ لی تو وہ نماز نہیں ہوگی، اور اگر پانی کے قریب ہونے کا یقین یا ظن غالب نہ ہو محض شک یا وہم ہو یا پانی کے قریب موجود نہ ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو تو طلب واجب نہیں بغیر طلب کے تیمم کر کے نماز پڑھنا جائز ہے۔ 

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 98

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 21 ・❱━━━
  مسافر کیلئے تیمم کے احکام و مسائل

12۔ *تیمم صرف وضو اور غسل کیلئے جائز ہے۔*
  تیمم صرف حدث کیلئے جائز قرار دیا گیا ہے یعنی وضو اور غسل کیلئے تیمم کیا جاسکتا ہے ، بدن یا کپڑے وغیرہ سے ناپاکی دور کرنے کیلئے تیمم کرنا جائز نہیں۔

13۔ *مسافرکے پاس تھوڑا پانی ہو جس سے وضو نہ ہو سکتا ہو تو کیا حکم ہے؟*
    مسافر کے پاس اگر تھوڑا پانی ہو جس سے مکمل وضو نہ ہوسکتا ہو ایک ، دو یا تین عضو دھل سکتے ہوں تو اس کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ مکمل تیمم کرے، ایسا نہ کرے کہ کچھ اعضاء دھولے اور کچھ کا تیمم کرلے۔

14۔ *پانی کو بھول کر تیمم کرنے کا حکم*  
  مسافر اگر اپنے سامان میں رکھا ہوا پانی بھول جائے اور تیمم کر کے نماز پڑھ لے، پھر اسے یاد آئے کہ میرے پاس پانی موجود تھا، نماز کے وقت میں یاد آئے یا وقت ختم ہونے کے بعد تو اگر پانی ایسی جگہ رکھا ہوا ہو جہاں رکھ کر آدمی عام طور پر بھول جاتا ہے تو اس کی نماز ہوگئی ، اعادے کی ضرورت نہیں۔ اور اگر نماز پڑھنے کے دوران رکھا ہوا پانی یاد آجائے تو نماز توڑ کر وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھے۔ 

15۔ *مسافر کے پاس وضو کیلئے پانی اور تیمم کیلئے مٹی نہ ہو تو کیا کرے*
  اگر کوئی مسافر ایسی صورتحال میں ہے کہ اس کے پاس وضو اور تیمم کے اسباب نہیں ہیں تو اس کیلئے حکم یہ ہے کہ وہ نماز پڑھنے جیسی شکل و صورت بنائے ، رکوع اور سجدہ بھی کرے البتہ قرات نہ کرے اس کو تشبہ بالمصلین کہا جاتا ہے۔ بعد میں اس نماز کی قضا کرے گا۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 100

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 22 ・❱━━━
  *مسافر کیلئے موزوں پر مسح کرنے کے احکام و مسائل*

1۔ مقیم کیلئے ایک دن اور ایک رات اور مسافر کیلئے تین دن اور تین راتیں موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
2۔ موزوں پر مسح کرنے کی یہ مدت اس وقت سے شروع ہوگی جب وضو کرنے کے بعد اور موزے پہننے کے بعد وضو ٹوٹ جائے۔ جس وقت وضو ٹوٹ گیا اس وقت سے اگلے 72 گھنٹوں تک مسافر کیلئے موزوں پر مسح کرنا جائز ہے۔
3۔ موزوں پر مسح کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پاوں کے اوپر والے حصے پر مسح کیا جائے۔
4۔ جنبی اور حیض و نفاس والی عورت چاہے مسافر ہو یا مقیم ، ان کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ موزوں پر غسل کے دوران مسح کریں یعنی باقی جسم کو دھوئیں اور موزوں پر مسح کریں یہ جائز نہیں بلکہ پاوں دھونا غسل کیلئے ضروری ہے۔
5۔ جس مسافر یا مقیم نے تیمم کرکے موزے پہن لیے ہوں پانی پر قادر ہونے کے بعد جب وضو کرے گا تو پاوں دھونا ضروری ہے ، موزوں پر مسح کافی نہیں۔
6۔ موزوں پر صرف ایک مرتبہ مسح کرنا سنت ہے، ایک سے زیادہ خلاف سنت اور مکروہ ہے۔
7۔ مقیم اگر موزے پہننے کے بعد سفر شروع کرے تو اگر ایک دن اور ایک رات کے بعد سفر شروع کیا ہے تو اقامت کی مدت ختم ہوگئی ہے اسلئے وضو کے دوران پاوں دھوکر دوبارہ موزے پہننے گا اور اگر ایک دن اور ایک رات سے قبل مسافر بن گیا تو یہ مدت طویل ہوکر تین دن اور تین راتوں میں تبدیل ہوجائیگی اور سابقہ مدت سمیت مسافر کیلئے تین دن اور تین راتوں تک موزوں پر مسح کرنا جائز ہوگا۔ اسی طرح اگر مسافر ایک دن و رات مسح کرنے کے بعد مقیم ہوجائے یا تین دنوں کے بعد مقیم ہوجائے تو موزے اتارکر پاوں دھونا ضروری ہے البتہ اگر ایک دن اور ایک رات سے پہلے مقیم ہوگیا تو موزوں پر ایک دن اور رات تک مسح کرسکتا ہے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 107 تا 109

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 23 ・❱━━━
  *مسافر کیلئے قصر نماز کیلئے شرائط*

    قصر کے صحیح ہونے کی کچھ شرطیں ہیں جن کے بغیر قصر نماز جائز نہیں۔ وہ درجہ ذیل ہیں۔
1۔ قصر کیلئے سفر شرعی ضروری ہے لہذا سفر شرعی سے کم سفر میں قصر جائز نہیں۔
2۔ سفر شرعی کے ارادے سے اپنے شہر یا گاوں کی آبادی سے باہر نکل جانا ، لہذا شہر یا گاوں کی آبادی کے اندر پوری نماز پڑھے گا اگرچہ سفر شرعی کا ارادہ ہے۔
3۔ سفر کی ابتداء میں منزل یعنی جس جگہ جانا ہے کا تعین کرنا اور وہ منزل بھی سفر شرعی کی مسافت کے مقدار یا زیادہ ہو۔
4۔ سفر کے معاملہ میں مستقل بالرائی یا بااختیار ہونا لہذا تابع کیلئے قصر جائز نہیں جبتک متبوع کی نیت سفر کا علم نہ ہو۔
5۔ قصر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ مسافر اکیلے نماز پڑھے یا مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھے اگر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہے تو پوری نماز پڑھنا ضروری ہے۔
6۔ نماز شروع کرنے سے لیکر ختم کرنے تک سفر کی حالت میں رہنا اگر نماز کے درمیان میں مقیم ہوجائے تو قصر جائز نہیں مثلا مسافر بحری ، ہوائی جہاز یا ریل میں نماز پڑھ رہا تھا کہ دوران نماز مذکورہ سواریاں اس کے شہر میں داخل ہوگئیں تو قصر جائز نہیں ہے بلکہ پوری نماز پڑھے۔
  قصر کی مذکورہ بالا شرائط فقہ حنفی کے مطابق ہیں دیگر فقہاء کرام رحمھم اللہ کے نزدیک کچھ اور شرائط بھی ہیں۔ 

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 117

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 

#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 24 ・❱━━━
  *مسافر چار رکعات پڑھ لے تو کیا حکم ہے؟*
     مسافر کے لئے دو رکعتوں پر سلام پھیرنا واجب ہے اور اس کے لئے چار رکعتیں پڑھنا جائز نہیں۔ اگر وہ بھول کر چار رکعتیں پڑھ لے تو اس صورت میں دیکھا جائے گا کہ اس نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیا ہے۔ یعنی تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھا ہے یانہیں ۔ اگر اس نے قعدہ کیا ہے۔ پھر بھول کر تیسری رکعت کیلئے کھڑا ہو گیا تھا تو اس پر سجدہ سہو واجب ہے۔ اگر سجدہ سہو نہ کیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی ۔ سجدہ سہو کرنے کی صورت میں پہلی دو رکعتیں فرض اور آخری دو رکعتیں نفل ہو جائیں گی اور اگر اس نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی۔ چار رکعتیں نفل پوری کرے اور دو رکعتیں فرض دوبارہ پڑھے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 117

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ پوسٹ نمبر 25 ・❱━━━
  *سفر کے دوران سنت موکدہ ادا کرنے کا حکم*
   جو شخص شرعا مسافر ہو وہ ظہر، عصر اور عشاء کی فرض نماز دو دو رکعتیں پڑھے۔ سنتوں کا حکم یہ ہے کہ اگر جلدی ہو تو فجر کی سنتوں کے علاوہ دوسری سنتیں چھوڑنا درست ہے، اس سے کوئی گناہ نہیں ہوگا اور اگر جلدی نہ ہو اور نہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جانے کا ڈر ہو تو نہ چھوڑے اور سنتوں کی رکعات میں کمی نہ کرے۔

*مسافر کیلئے جماعت کیساتھ نماز پڑھنے کا حکم*
    مسافر کے لئے نماز باجماعت پڑھنا ضروری ہے ، جیسا کہ مقیم کے لئے ضروری ہے سفر کی وجہ سے جماعت ساقط نہیں ہوتی ۔ البته اگر سفر کے دوران جماعت سے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو یا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں ساتھیوں سے بچھڑنے کا خطرہ ہو ۔ یا گاڑی ،ریل یا جہاز وغیرہ کی روانگی کا ایسا وقت ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھی جا سکتی ہو توان اعذار کی وجہ سے جماعت کے بغیر اکیلے نماز پڑھنا جائز ہے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 122

*مفتی عرفان الله درویش ھنگو* عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ پوسٹ نمبر 26・❱━━━
  
مسافر کا مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
  
مسافر کیلئے مقیم امام کے پیچھے ہر وقتی نماز ادا کرنا درست ہے اور امام کی اتباع کی وجہ سے وہ قصر نہیں کرے گا بلکہ پوری نماز یعنی چار رکعتیں پڑھے گا۔ قضا نماز کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ صرف فجر اور مغرب کی نماز مقیم امام کے پیچھے پڑھ سکتا ہے ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازیں نہیں پڑھ سکتا کیونکہ فجر اور مغرب کی نماز میں مسافر اور مقیم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور باقی نمازوں میں یہ فرق ہے کہ قضا ہونے کی صورت میں مسافر کیلئے دو رکعتیں خاص ہوگئی، وہ چار نہیں پڑھ سکتا امام کے پیچھے اور مقیمین کیلئے چار چار رکعات پڑھنا ضروری ہے۔

*مسافر مقیم امام کی اقتداء کرے اور پھر نماز توڑدے تو کیا حکم ہے؟*
 
 اگر مسافر نے چار رکعت والی نماز میں مقیم امام کی اقتداء کی ، پھر نماز توڑ دی تو جب دوبارہ نماز پڑھے گا تو قصر کرے گا۔ اس لئے کہ چار رکعتیں مقیم امام کی اتباع کی وجہ سے لازم ہوئی تھیں ۔ جب اس کی اتباع نہ رہی تو چار رکعت والا حکم بھی ختم ہوگیا، اس کے حق میں اصل فریضہ چونکہ دو رکعتیں ہی ہیں ۔ اس لئے اب دو رکعتیں ہی پڑھے گا۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 123

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ *پوسٹ نمبر 27* ・❱━━━
  *مسافر کی امامت کا حکم*

    مقیم لوگوں کا مسافر امام کے پیچھے ہر وقتی اور قضا نماز پڑھنا بلا کراہت جائز ہے۔ امام صاحب کی فراغت کے بعد مقیمین اپنی نمازیں بغیر قرات کے مکمل کریں گے ، قرات نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حکما مقتدی ہیں اور مقتدی امام کے پیچھے قرات نہیں کرتا ، امام صاحب کیلئے مستحب ہے کہ وہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کو اپنے مسافر ہونے کی اطلاع کردے اور مقیمین کو اپنی نمازیں پوری پڑھنے کا کہ دیں۔ مسنون الفاظ یہ ہیں :" مقیم اپنی نماز پوری کرلیں ہم مسافر ہیں"

*مسافر امام نے بھول کر چار رکعتیں پڑھادیں*

    مسافر امام نے بھول کر چار رکعتیں پڑھا دیں، تو مقیم مقتدیوں کی نماز باطل ہو گئی کیونکہ امام کی آخری دو رکعتیں نفل ہیں اور مقیمین کی فرض، اور فرض پڑھنے والے کی اقتداء نفل پڑھنے والے کے پیچھے درست نہیں ۔ مسافروں اور امام کی نماز درست ہونے کی صورت یہ ہے کہ امام نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو اور بھول کر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو گیا ہوں اور آخر میں سجدہ سہو بھی کیا ہو اگر امام نے دوسری رکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا یا سجدہ سہو نہیں کیا تو سب کی نماز باطل ہوگئی.

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 123

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 28 ・❱━━━
  
*ہوائی جہاز ، ریل گاڑی اور بس وغیرہ میں نماز ادا کرنے کا حکم*

    (الف) ہوائی جہاز ، ریل گاڑی یا بس وغیرہ میں اگر فرض نماز پڑھنی پڑجائے تو جو شخص قیام پرقادر ہو تو اس کو حتی الامکان کھڑے ہوکر قبلہ رخ ہوکر نماز اداکرنا لازم ہے چنانچہ اگر ریل یا بس میں قیام کی حالت میں گرنے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ہاتھوں سے سیٹ یا کسی اور چیز کو پکڑا جاسکتا ہے ۔ اگر کسی نے شرعی معذوری کے بغیر بیٹھ کر فرض نماز ادا کرلی تو اس کا لوٹانا لازم ہوگا۔

(ب) اسی طرح اگر کوئی شخص قیام پر قادرتو ہے لیکن کھڑے ہوکر پڑھنا ممکن نہ ہو ۔ مثلا کھڑے ہوکر پڑھنے کی جگہ میسر نہ ہو جیسا کہ عموماً بس میں یہ صورت پیش آتی ہے تو بس ڈرائیور کو حکمت کے ساتھ بس روکنے کو کہا جائے اگر وہ نہ مانے اور نماز کے وقت بس سے اتر کر نماز ادا کرنا مشکل ہواور اس میں کھڑے ہوکر قبلہ رخ نماز ادا کرنا بھی ممکن نہ ہو تو مجبوری میں بیٹھ کر نماز ادا کرلی جائے البتہ بعد میں اس نماز کو لوٹانا ضروری ہے یہی حکم جہاز اورریل میں بھی ہے کہ اگر قیام پر قادرشخص کے لیے جہاز میں یا ریل میں بھیڑ وغیرہ( یعنی کسی انسانی رکاوٹ ) کی وجہ سے کھڑے ہو کر قبلہ رخ نماز پڑھنا ممکن نہ ہو تو مجبوری میں بیٹھ کر نماز پڑھ لی جائے لیکن بعد میں اعادہ کرنا لازم ہوگا ( لانہ عذر من جھۃ العباد)
 
 (ج) لیکن اگر کوئی شخص قیام پر قادر ہی نہیں مثلا بہت ضعیف شخص ہے جو عام حالات میں بھی قیام نہیں کرسکتا یا کسی شخص کے لیے کسی شرعی عذر کی وجہ سے ریل یا بس میں قیام کرنا بہت دشوار ہو یعنی قیام کرنے میں کسی ضرر کا اندیشہ ہو مثلا کوئی بوڑھا آدمی ہے اس کے قیام کی صورت میں گرنے کا قوی اندیشہ ہے یا حاملہ عورت ہے توایسی صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کی گنجائش ہے البتہ قبلہ رخ ہونا ضروری ہے ۔ ایسی مجبوری کی صورت میں بعد میں اعادہ کرنے کی ضرورت نہیں ۔
(د) قیام سے متعلق تفصیل اوپر ذکر کی جاچکی ، جہاں تک رکوع اورسجدے کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں بھی یہی حکم ہے کہ جو شخص باقاعدہ رکوع اورسجدہ کرنے پرقادر ہو تو اس پر باقاعدہ رکوع اورسجدہ کرنا لازم ہے اگر کوئی شخص بھیڑ وغیرہ کی وجہ سے سر ٹکا کر نہیں کرسکا بلکہ اشارہ سے کیا تو اس پر نماز کا اعادہ لازم ہوگا لیکن اگر کوئی شخص کسی عذر مثال کمر یا گھٹنے میں شدید تکلیف کے باعث سرٹکا کر سجدہ کرنے پر قادر نہ ہو تووہ اشارے سے سجدہ کرسکتا ہے جیسا کہ ریل یا بس سے باہر عام حالات میں بھی جو شخص زمین پر سجدہ کرنے سے عاجز ہو تو اس کے لیے اشارہ کرنا جائز ہے البتہ سجدہ کے اشارے میں رکوع کی بنسبت زیادہ جھکنا ضروری ہے۔

📚 ملخص از فتاوی دارالعلوم کراچی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            *احکام السفر*
━━❰・ پوسٹ نمبر 29 ・❱━━━
  
*مختلف سواریوں پر نوافل پڑھنے کے احکام*

1۔ ہوائی جہاز ، بحری جہاز، کشتی ، ریل گاڑی ، بس ، ویگن اور کار وغیرہ میں بیٹھ کر نوافل پڑھنا جائز ہے ، اسی طرح اونٹ ،گھوڑے ، خچر اور گدھے وغیرہ پر بیٹھ کر بھی نفل نماز پڑھنا درست ہے۔
2۔ سواری پر نفل نماز کی ادائیگی کیلئے قیام ، استقبال قبلہ اور باقاعدہ رکوع و سجدہ بھی شرط نہیں ہیں۔ بلکہ بیٹھے بیٹھے جس سمت سواری جارہی ہے اسی سمت منہ کرکے اشارے کیساتھ رکوع و سجدہ کرکے نفل نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کھڑے ہوکر نوافل ادا کرنے کا ثواب زیادہ ہے بنسبت بیٹھ کر۔
3۔ سواری پر نفل نماز پڑھنے کیلئے سفر شرعی بھی ضروری نہیں ہے، اس سے کم سفر میں بھی اس طریقے سے نوافل پڑھی جاسکتی ہیں۔
4۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق شہر کے اندر بھی سواری پر نفل پڑھنا جائز ہے۔ آجکل شہروں کی وسعت اور نفل نمازوں میں شرعی سہولت کے پیش نظر اس قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے۔
5۔ سواری پر نفل پڑھنے کیلئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ سواری جس طرف جارہی ہو اسی طرف منہ کرنا ضروری ہے اگر اسی طرف سے منہ دوسری طرف پھیر لیا تو نماز نہ ہوگی۔
6۔ اگر سواری پر نفل نماز شروع کی اور پھر عمل قلیل کے ذریعے نیچے اتر گیا تو باقی نماز زمین پر پوری کرنا جائز ہے لیکن اگر زمین پر نفل نماز شروع کی اور پھر عمل قلیل کے ذریعے سواری پر چڑھ گیا تو نماز ٹوٹ جائیگی۔
7۔ کوئی شخص سواری پر نماز پڑھتے ہوئے شہر میں داخل ہوگیا تو شہر کے اندر اسی طریقے پر نماز پوری کرنا جائز ہے۔
8۔ پیدل چلتے ہوئے فرض یا نفل نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
9۔ موٹر سائیکل اور سائیکل چلاتے وقت بھی نفل نماز پڑھنا جائز نہیں۔

*فائدہ:* آج کل بلاعذر سواریوں پر فرض نماز بیٹھ کر پڑھنے کی وبا عام ہے اور لوگ مسئلہ سمجھانے کے باوجود اس غلط روش سے باز نہیں آتے لہذا بندہ کی رائے میں پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھ کر نفل نماز نہیں پڑھنی چاہیے تاکہ لوگ اس سے اس طرح سے فرض نماز کے جواز پر استدلال نہ کریں۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 125

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 30 ・❱━━━
  
*سفر اور حضر کی قضاء نمازوں کا حکم*

    نماز جس حالت میں قضا ہو ، اسی حالت پر اس کا قضاء کرنا واجب ہے یعنی اگر سفر کی حالت میں نماز قضا ہوگئی تو اس کو قصر ہی پڑھا جائے خواہ سفر میں پڑھے یا گھر آ کر پڑھے، اسی طرح اگر حضر یعنی اقامت کی حالت میں کوئی نماز قضاء ہو جائے تو وہ پوری نماز چار رکعتیں قضاء کی جائیں گی، خواہ گھر میں پڑھے یا کسی سفر کے دوران پڑھے۔

*سفر کے دوران اذان و اقامت کا حکم*
   سفر میں اگر سب ساتھی حاضر ہوں تو اذان مستحب ہے اور اقامت سنت موکدہ ہے۔ منفرد کیلئے بھی یہی حکم ہے اقامت کو چھوڑنا مکروہ ہے اذان کا نہیں ، سفر عام ہے خواہ سفر شرعی مسافت کے برابر ہو یا کم ہو۔ (احسن الفتاوی 2/281)

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 127

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 31 ・❱━━━
  
مسافر کیلئے دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا حکم

    دو نمازیں ایک وقت میں پڑھنے کو "جمع بین الصلو تین“ کہتے ہیں۔ مسافر کیلئے " جمع بین الصلو تین‘‘ کا حکم ذکر کرنے سے پہلے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ "جمع بین الصلو تین‘‘ کی اقسام ذکر کر دی جائیں ۔ "جمع بین الصلو تین‘‘ کی تین قسمیں ہیں۔
 
ا۔ عرفہ اور مزدلفہ میں دو نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنا

 حاجی کیلئے عرفات میں ظہر اور عصر کو ظہر کے وقت میں اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کو عشاء کے وقت میں پڑھنا باجماع امت جائز ہے۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اب تک تواتر کے ساتھ اس پر امت کا عمل ہے۔ اور کسی کو اس میں اختلاف نہیں ۔ البته عرفات میں ظہر اور عصر کو جمع کرنے کی شرائط میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
 
۲۔ سفر میں عملا دو نمازوں کو جمع کرنا

  سفر میں عملا دو نمازوں کو جمع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ظہر اور عصر میں ظہر کو بالکل آخری وقت میں پڑھنا اور عصر کو اس کے بالکل اول وقت میں پڑھنا اور مغرب اور عشاء میں مغرب کو بالکل آخری وقت میں پڑھنا اور عشاء کو بالکل اول وقت میں پڑھنا ، یہ جمع صرف ان چار نمازوں میں ہوسکتی ہے۔ عشاء اور فجر میں یا فجر اور ظہر میں نہیں ۔ اس جمع میں بظاہر دو نمازوں کو جمع کیا جاتا ہے لیکن ہر نماز اپنے اپنے وقت میں پڑھی جاتی ہے ۔ صرف اتنا ہے کہ ایک نماز وقت کے آخر میں اور دوسری نماز اپنے وقت کے شروع میں پڑھی جاتی ہے۔ یہ صورت بھی بالاتفاق جائز ہے۔

3۔ سفر میں دو نمازوں کو ایک ہی وقت میں پڑھنا

 اس کو جمع حقیقی بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس صورت میں ظہر اور عصر کو اور مغرب اور عشاء کو حقیقتہ ایک ہی وقت میں پڑھا جاتا ہے۔فقہ حنفی میں یہ جمع جائز نہیں بلکہ ہر نماز اپنے وقت میں پڑھنا ضروری ہے۔ دیگر آئمہ کے ہاں بعض شرطوں کے ساتھ جائز ہے مگر بہتر اور افضل ان کے ہاں بھی یہی ہے کہ ہر نماز اپنے اپنے وقت میں پڑھی جائے۔
 خلاصہ یہ کہ جمع بین الصلواتین کی پہلی دونوں صورتیں جائز ہیں ۔ اور تیسری صورت دیگر آئمہ کے ہاں جائز خلاف اولی ہے اور حنفیہ کے ہاں نا جائز ہے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 131

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 32 ・❱━━━
  
دوران سفر عصر کی نماز مثل اول میں پڑھنے کا حکم

   ظہر کے آخری وقت اور عصر کے ابتدائی وقت میں مفتیٰ بہ قول یہی ہے کہ ظہر کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے اور اس کے بعد عصر کاوقت داخل ہوتا ہے، لہٰذا مثلِ ثانی میں عصر کی نماز پڑھنا وقت سے پہلے نماز پڑھنا ہے، اس لیے یہ درست نہیں ہے۔
البتہ جہاں کہیں شرعی عذر ہو، وہاں شرعی مجبوری یا عذر کی بنا پر صاحبین رح کے مذہب( یعنی جب ہر چیز کا سایہ سوائے سایہ اصلی کے ایک مثل ہوجائے تو ظہر کا وقت ختم ہوجائے گااور عصر کا وقت شروع ہوجائے گا) پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، اس لیے عذر کی بنا پر ان کے قول پر عمل کیا جاسکتا ہے، البتہ اس کی مستقل عادت بنانا چوں کہ امام صاحب کے مفتی بہ مذہب کو ترک کرنا ہے؛ اس لیے یہ درست نہیں ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر کسی جگہ کوئی ایسی مسجد موجود ہو جہاں حنفی مذہب کے مطابق وقت داخل ہونے کے بعد عصر کی نماز ہوتی ہو تو وہیں جاکر نماز پڑھنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر وہاں حنفی متبعین اپنی جماعت خود کراسکتے ہیں تب بھی مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز پڑھنا لازم ہوگا، اور اگر ایسی صورت نہیں، بلکہ اس ملک میں مثلِ اول کے بعد عصر کی نماز پڑھنے کا تعامل ہو اور دو مثل کے بعد نماز پڑھنے کی صورت میں مستقل طور پر جماعت کا ترک لازم آتا ہو، یعنی قریب میں کوئی اور مسجد نہ ہو جہاں عصر کی نماز مثلین کے بعد پڑھی جاتی ہو اور نہ ہی اپنی مرضی سے خود جماعت کراسکتا ہو تو مثلِ ثانی میں عصر کی نماز کی گنجائش ہوگی۔

📚 ملخص از فتوی بنوری ٹاون کراچی 

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 33 ・❱━━━
  
مسافر کیلئے جمعہ کے احکام

1۔ مسافر پر جمعہ کی نماز فرض نہیں
    شرعی مسافر پر جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ، اسلئے وہ جمعہ کی نماز کے بجائے دو رکعت ظہر کی نماز ادا کرسکتا ہے البتہ اگر وہ جمعہ پڑھ لے تو جمعہ ادا ہوجائے گا اور اس صورت میں ظہر پڑھنے کی ضرورت نہ رہیگی۔ ظہر کے بجائے مسافر کیلئے جمعہ پڑھنا زیادہ بہتر اور افضل ہے۔

2۔ مسافر کیلئے جمعہ کی اذان اول کے بعد خرید وفروخت کا حکم
  
  مقیم مسلمانوں کیلئے جمعہ کے دن جمعہ کی پہلی اذان کے بعد خرید و فروخت جائز نہیں ہے البتہ مسافر اور وہ لوگ جن پر جمعہ فرض نہیں ہے مثلا بچے اور غلام وغیرہ ان کیلئے خرید وفروخت کرنا جائز ہے۔

3۔ مسافر کیلئے ظہر کو جمعہ کے بعد تک موخر کرنا مستحب ہے۔
   
مسافر نے اگر جمعہ کے دن ظہر کی نماز پڑھنی ہو تو اس کیلئے مستحب ہے کہ ظہر کی نماز جمعہ ہونے تک موخر کرے اور جمعہ کے بعد ظہر کی نماز تنہا پڑھے اسی طرح اگر مسافر راستہ میں ہے اور اس کو امید ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے اپنے شہر پہنچ جائے گا تو راستہ میں ظہر کی نماز نہ پڑھنا مستحب ہے۔ اگر دونوں صورتوں میں ظہر کی نماز پڑھ لی تو ادا ہوگئی۔

   📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 141

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 34・❱━━━
  
مسافر کیلئے جمعہ کے احکام

4۔ نیت اقامت سے جمعہ فرض ہوجاتا ہے

   کسی شہر یا قابل رہائش جگہ میں پندرہ راتیں ٹھہرنے کی نیت کر لینے سے وہ جگہ وطن اقامت بن جاتی ہے۔ سفر کی ساری رخصتیں ختم ہو جاتی ہیں اور جمعہ پڑھنا بھی فرض ہو جاتا ہے۔ لہذا ایسی جگہ مسافر کے لئے جمعہ کی جگہ ظہر پڑھنا جائز نہیں ۔  

 5۔ مسافر جمعہ کی امامت کرا سکتا ہے

    مسافر پراگرچہ جمعہ فرض نہیں مگر جب وہ جمعہ کی سعی کرتا ہے یعنی جمعہ کی نیت کر کے مسجد کی طرف چلتا ہے تو اس پر جمعہ فرض
 ہوجاتا ہے۔ لہذا وہ جمعہ میں امام بھی بن سکتا ہے۔ نماز جمعہ کے صحیح ہونے کے لئے امام کے علاوہ کم از کم تین مقتدیوں کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح مسافر کو شریک کر کے بھی یہ عدد پورا کیا جا سکتا ہے۔

6۔ جس جگہ جمعہ واجب ہو وہاں مسافر کیلئے ظہر کی جماعت کا حکم

    جس جگہ جمعہ ہوتا ہو یعنی شہر ، قصبہ یا بڑا گاوں تو وہاں مسافر کیلئے جمعہ اور ظہر دونوں نمازیں پڑھنا جائز ہے اور جمعہ کی نماز پڑھنا افضل ہے لیکن اگر مسافر جمعہ کی نماز نہیں پڑھتا تو ظہر کی نماز اکیلے پڑھنا ضروری ہے ظہر کی نماز باجماعت پڑھنا ایسی جگہ مکروہ تحریمی ہے۔

 📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 143

مفتی عرفان الله درویش ھنگوعفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 35 ・❱━━━
  
مسافر کیلئے جمعہ کے احکام

*7۔ مسافر راستے میں ظہر پڑھ کر جمعہ کے وقت اپنی منزل پر پہنچ جائے تو کیا حکم ہے؟*
     مسافر نے راستے میں ظہر کی نماز پڑھ لی پھر جمعہ کے وقت اپنی منزل پر پہنچ گیا تو اس پر جمعہ پڑھنا واجب نہیں، لیکن اگر جمعہ میں حاضر ہوکر جمعہ کی نماز پڑھ لے تو اس کا جمعہ ادا ہوجائے گا کیونکہ جمعہ میں امام کی اقتداء کی وجہ سے اس پر بھی جمعہ واجب ہوگیا اور ظہر کی نماز جو راستے میں پڑھ چکا ہے کالعدم ہوگئی۔ 

*8۔ مسافر ظہر پڑھ کر جمعہ کیلئے نکلے تو کیا حکم ہے*
      مسافر ظہر کی نماز پڑھ کر جمعہ پڑھنے کی نیت سے نکلا، اس وقت جمعہ کی نماز ہورہی تھی یا ابھی شروع نہیں ہوئی تھی تو مسافر کی ظہر ختم ہوگئی اگر جمعہ میں پہنچ جائے تو ساتھ شامل ہوجائے ۔ ورنہ ظهر دوبارہ پڑھے اور اگر جمعہ کی نماز ہوجانے کے بعد جمعہ کی نیت سے نکلا تو اس کی پڑھی ہوئی ظہر باطل نہیں ہوئی اس صورت میں دوبارہ ظہر پڑھنے کی بھی ضرورت نہیں۔

*9۔ جمعہ کے دن سفر کا حکم*                 
       جمعہ کے دن زوال سے پہلے سفر شروع کرنا جائز ہے بشرطیکہ جمعہ کا وقت شروع ہونے سے پہلے شہر کی آبادی سے باہر نکل جائے۔ زوال یعنی جمعہ کا وقت شروع ہونے کے بعد جمعہ پڑھے بغیر سفر کرنا یا کسی ایسی جگہ جانا جہاں جمعہ نہیں ہوتا مکروہ تحریمی ہے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 144

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
▒▓█ مَجْلِسُ الْفَتَاویٰ █▓▒

🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            #احکام_السفر
━━❰・ *پوسٹ نمبر 36* ・❱━━━
 
    *عورت کے لیے سفر کے احکام* (حصہ اول)
*1۔ عورت کا محرم یا خاوند کے بغیر سفر کرنا*
احادیث مبارکہ کثیرہ صحیحہ صریحہ سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عورت کا محرم یا خاوند کے بغیر سفر کرنا ناجائز ہے ، لہذا ہر مسلمان عورت پر فرض ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی پاسداری کرے اور ہر مسلمان مرد پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی اور زیر کفالت عورتوں کو اس طرح حرام امور سے روکے۔

*2۔ حکم بالا جنس عورت کو شامل ہے۔*
محرم یا خاوند کے بغیر سفر کی حرمت کا حکم جنس عورت کو شامل ہے یعنی جوان اور بوڑھی عورت دونوں کیلئے محرم یا خاوند کے بغیر سفر کرنا ناجائز ہے۔
 
*3۔ محرم یا خاوند کے بغیر سفر کی حرمت میں فاصلے کا اعتبار ہے*
محرم یا خاوند کے بغیر سفر کی حرمت جو منقول ہے اس میں سفر شرعی کی مسافت کا اعتبار ہو گا یعنی اگر 24-77 کلومیٹر یا زیادہ کا فاصلہ ہو تو جائز نہیں اگر چہ وہ آدھے گھنٹے یا محفوظ سواری میں کیوں نہ ہو۔
 
📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 206

 *مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ*




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 37 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

*4۔ محرم کی تعریف ، اقسام اور ان کے ساتھ سفر کا حکم*
     احادیث مبارکہ میں خاوند یا محرم کے بغیر سفر کو ناجائز قرار دیا گیا ہے، خاوند تو واضح ہے۔ محرم کی تعریف یہ ہے: محرم کسی عورت کا وہ قریبی رشتہ دار ہے کہ رشتہ داری ، رضاعت یا مصاہرت (سسرالی رشتہ داری) کی وجہ سے اس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہو۔ (ردالمحتار:۲/ ۳۶۷)  
جیسے باپ، بھائی، چچا، تایا، ماموں ، دادا وغیرہ، اس تعریف کے مطابق جس رشتہ دار سے کسی بھی وقت نکاح ہوسکتا ہو وہ نامحرم ہے، مثلا چاچازاد، تایا زاد، ماموں زاد، خالہ زاد، پھوپھی زاد، خالو، پھوپھا، بہنوئی، نندوئی، دیور، جیٹھ، خاوند کا چچا، خاوند کا ماموں وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب نامحرم ہیں، ان سے پردہ فرض ہے اور ان کے ساتھ سفر کرنا ناجائز ہے۔ رضائی رشتہ داروں میں سے جو محرم ہیں، مثلا رضاعی بھائی ، رضاعی چچا، وغیرہ ان کے ساتھ بھی سفر کرنا یا عورت کا خلوت میں ان کے ساتھ بیٹھنا جائز نہیں، لہذا سفر صرف نسبی محارم کے ساتھ کرنا جائز ہے۔ (ردالمحتار : ۳/ ۴۷۳-۱۹/ ۳۹۹) باقی رہے سسرالی محارم تو اگر ان کی دینداری کا یقین یا غلبہ ظن ہو ، اور عورت بھی نوجوان نہ ہو تو سسرالی محارم (سسر، داماد) کیساتھ سفر جائز ہے ورنہ ان کیساتھ بھی سفر جائز نہیں۔

*5۔ نابالغ اور مجنون محرم کیساتھ سفر کا حکم*
    سفر میں عورت کے ساتھ عاقل و بالغ محرم کا ہونا ضروری ہے، نابالغ اور مجنون محرم کی معیت کافی نہیں ، اس لیے کہ عورت کے تنہا سفر سے ممانعت کا منشاء یہ ہے کہ عورت عدم تحفظ کا شکار نہ ہو، بچے اور مجنون کی معیت سے تحفظ حاصل نہیں ہوسکتا اس وجہ سے کہ وہ خود تحفظ کے محتاج ہیں ، سفر میں عورت کا تحفظ کیا کریں گے؟ (بدائع ۲۰/ ۱۲۴، ردالمحتار: ۳/ ۳۷۴)  

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 208

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 38・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

*6۔ عورت کیلئے محرم یا خاوند کے بغیر سفر حج یا سفر عمرہ کرنے کا حکم*

اصل مذهب احناف کے مطابق عورت کا محرم یا خاوند کے بغیر سفر حج کیلئے جانا جائز نہیں، اور ایسی صورت میں اس پر حج کے لئے جانا واجب بھی نہیں ۔ بلکہ وہ محرم ملنے کا انتظار کریں، اورحج پر نہ جانے کی وجہ سے گناہ گاربھی نہ ہوں گی، البتہ اگر کوئی محرم نہ ملے تو اس پر یہ وصیت کرنا لازم ہے کہ اگر وہ اپنی زندگی میں حج نہ کرسکی تو اس کے مرنے کے بعد اس کے ترکہ کی تنہائی سے حج بدل کرادیا جائے۔  
البتہ ایسی صورت میں حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما الله تعالی کے مذہب کے مطابق ان شرائط کے ساتھ جانے کی اجازت ہے کہ عورت پر حج فرض ہو اور اس کے ساتھ سفر میں شوہر اور کوئی محرم نہ ہو یا شوہر اور محرم ہو مگر وہ اس کے ساتھ جانے کی استطاعت نہ رکھتے ہوں، نیز عورت کو ان کے بغیر سفر کے دوران کسی گناہ اور فتنہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور قابل اعتماد عورتوں کی جماعت کے ساتھ وہ جارہی ہو تو حضرت امام مالک اورحضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک ان شرطوں کے ساتھ بغیرمحرم کے سفر حج کے لئے جانے کی گنجائش ہے۔ اور عمرہ چونکہ فرض نہیں ہے اسلئے عمرہ کیلئے بغیر محرم کے جانے کی گنجائش نہیں ہے۔

📚 ملخص از فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 39・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

7۔ عورت کیلئے محرم یا خاوند کے بغیر شرعی مسافت سے کم سفر کا حکم

   شرعی مسافت یعنی 24۔77 کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ کی سفر کے متعلق تو مسئلہ واضح ہوچکا ہے کہ عورت کیلئے بغیر محرم یا خاوند کے اتنی مسافت طے کرنا جائز نہیں ہے البتہ شرعی مسافت سے کم مسافت بغیر محرم یا خاوند کے سفر کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے احناف کی ظاہر الروایت یہ ہے کہ جائز ہے۔ (بدائع 2/124 ، رد المحتار 2/464)
البتہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہما اللہ تعالی کی ایک روایت کے مطابق ایک دن کی مسافت کا سفر بھی محرم یا خاوند کے بغیر مکروہ تحریمی ہے اور فساد زمانہ کی وجہ سے فقہاء کرام نے اس روایت کو بھی لائق فتوی قرار دیا ہے۔ (فتح القدیر 2/331) البتہ شہر کی آبادی کی حدود کے اندر عورت کا نکلنا بلاشبہ جائز ہے ، بشرطیکہ باپردہ ہوکر ضرورت کیلئے نکلے اور فتنہ کا خوف نہ ہو۔ (مواھب الجلیل 2/524) 
چونکہ عورت کی سفر کے بارے میں احادیث مبارکہ سات اقسام پر ہیں بعض میں مطلقا سفر سے عورتوں کو منع کیا گیا ہے بعض میں تین میل سے ، بعض میں ایک برید سے اور بعض میں ایک دن و رات سے وغیرہ تو اسلئے ان احادیث سے متعلق علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ تعالی نے ایک بہترین رائے قائم کی ہے۔ آپ فتح الملہم 3/376 پر تحریر فرما ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر سفر واجب ہو مثلا سفر حج ، سفر معاش وغیرہ تو مسافت شرعی سے کم ، محرم یا خاوند کے بغیر نکلنا جائز ہونا چاہیے اور اگر سفر واجب یا شدید ضرورت نہ ہو تو مسافت شرعی سے کم بھی محرم یا خاوند کے بغیر نکلنا جائز نہیں ہونا چاہیے۔

📚 ملخص از احکام سفر بتغیر 212 

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 40・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

*8۔ عورت کیلئے کافر محرم کیساتھ سفر کرنے کا حکم* 
    اگر کوئی عورت مسلمان ہو اور اس کا محرم کافر ہو تو ایسے محرم کیساتھ سفر کرنے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر وہ کتابی یا مشرک ہو تو اس کیساتھ سفر کرنا جائز ہے اور اگر مجوسی ہو تو ناجائز ہے اسلئے کہ کتابی اور مشرک اپنی محرم عورتوں کی عزت و حرمت کی پاسداری اور تحفظ کے قائل ہیں جبکہ مجوسی محرم عورتوں سے نکاح کو جائز سمجھتے ہیں۔( بدائع 2/124 ، رد المحتار 2/462)

*9۔ عورت کیلئے قریب البلوغ محرم کیساتھ سفر کرنے کا حکم*
     اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ سفر کے معاملہ میں قریب البلوغ محرم بالغ کی طرح ہے یا نہیں ، تاہم ایک قول یہ ہے کہ وہ بالغ کی طرح ہے لہذا آج کل سفر کی کثرت اور ضرورت کی وجہ سے اس قول کو اختیار کیا جاسکتا ہے۔ فقہاء کرام رحمہم اللہ نے مراھق البلوغ کو بالغ کی طرح قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہوں
الدرالمختار 2/464 ، الفتاوی الھندیہ 1/219 ، عمدہ الفقہ 4/53 بحوالہ فتاوی دارالعلوم زکریا 7/221
  بعض حضرات مثلا صاحب احسن الفتاوی نے مراھق البلوغ کیلئے عمر کی تعیین 12 سال سے کی ہے۔ (احسن الفتاوی 8/30)

📚 دونوں مسئلوں کیساتھ حوالہ جات مذکور ہیں۔

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 41 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

*10۔ نابالغ سفر شروع کرنے کے بعد بالغ ہوگیا تو نماز کا حکم*
            نابالغ سفر کی نیت سے نکلا اور راستے میں ایسی جگہ بالغ ہوگیا کہ اس جگہ اور منزل مقصود کے در میان کی مسافت ، مسافت سفر سے کم ہے، تو ایسی صورت میں وہ قصر نہیں کرے گا، کیونکہ سفر شروع کرتے وقت وہ نیت سفر کا اہل نہیں تھا، لہذا شرعا وہ مسافر شمار نہیں ہو گا۔   

*11۔ اگر کافر سفر شروع کرنے کے بعد مسلمان ہوا تو پوری نماز پڑھے گا یا قصر؟*
      کافر سفر کی نیت سے نکلا اور راستے میں ایسی جگہ مسلمان ہوگیا کہ اس کے اور منزل مقصود کے درمیان مسافت قصر سے کم ہو تو وہ قصر کرے گا، کیونکہ بوقت انشاء سفر وہ نیت سفر کا اہل تھا ، کیونکہ کفر مسقط نیت نہیں بلکہ مسقط عبادت ہے۔
 
*13۔ حیض کی حالت میں سفر شروع کیا اور راستہ میں پاک ہوگئی تو*
   اگر کسی عورت نے حالت حیض میں سفر شروع کیا اور شرعی مسافت کے برابر سفر کرنے کا ارادہ ہے اور راستے میں پاک ہوگئی ایسی جگہ کہ اس کے اور منزل مقصود کے درمیان مسافت شرعی نہیں بنتی تو اس صورت میں وہ پوری نماز پڑھی گی یا قصر کریگی ، اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ کی عبارات مختلف ہیں۔ علامہ شامی رحمہ اللہ نے فتاوی ظہیریہ کے حوالے سے اتمام کا قول نقل کیا ہے جبکہ محیط برھانی میں امام ابوجعفر الہندوانی رحمہ اللہ کا قول قصر کا ہے علامہ شرنبلالی اور صاحب دررالحکام نے بھی قصر کو ترجیح دی ہے۔ دونوں طرف اقوال میں سے دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی کے حضرات نے قصر والی قول کو راجح اور موافق قیاس قرار دیا ہے۔

📚 ملخص از فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ           
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 42 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

*13۔ عورت میکے میں پوری نماز پڑھی گی یا قصر کریگی؟*
  
              اگر عورت شادی کے بعد مستقل طور پر اپنے سسرال میں رہنے لگی تو اس کا وطن اصلی سسرال ہے والدین کا گھر نہیں ہے، اگر سسرال والدین کے گھر سے اڑتالیس میل یعنی سوا ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ فاصلہ پر ہے ، اورعورت پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے والدین کے گھر جاتی ہے تو وہ مسافر رہے گی اور قصر کرے گی اور اگر سسرال اور والدین کے گھر کے درمیان اڑتالیس میل سے کم فاصلہ ہے تو مسافر نہیں ہوگی ، دونوں جگہوں میں پوری نماز پڑھی گی اور اگر عورت کے دل میں سسرال میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہنے کی نیت نہیں تھی بلکہ وقتی طور پر چند روز رہنے کی نیت تھی تو اس صورت میں والدین کے گھر میں آنے کے بعد مسافر نہیں ہوگی بلکہ بدستور مقیم رہے گی اور نماز پوری پڑھے گی۔

📚 ملخص از نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 1/265


ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            #احکام_السفر 
━━❰・ پوسٹ نمبر 43 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام

14۔ سفر میں کس بیوی کو ساتھ لے جائے؟

    دو بیویوں کے درمیان نان و نفقہ ، رہائش، سکونت اور رات گزارنے میں مساوات اور برابری کرنا ضروری ہے ورنہ قیامت کے دن شوہر کی پکڑ ہوگی۔
 البتہ سفر میں جہاں دیگر کئی چیزوں میں بہت سے آسانیاں اور سہولتیں حاصل ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اگر کسی ایک بیوی کو ساتھ لے جانا ہو تو لے جاسکتا ہے ، اس میں عدل و مساوات کرنا اور قرعہ اندازی کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ جس کو چاہے لے جاسکتا ہے ہاں قرعہ اندازی کرکے لے جانا بہتر اور افضل ہے۔

15۔ سفر میں اگر دوسری بیوی پہنچ جائے؟
    جیسا کہ ماقبل مسئلہ بیان ہوا کہ سفر پر جاتے وقت بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرکے ایک کا انتخاب کرنا خاوند پر ضروری نہیں ہے بلکہ یہاں مساوات ساقط ہوجاتی ہے لیکن اگر سفر کے دوران دوسری بیوی بھی پہنچ گئی یا شوہر نے بلالیا تو اس صورت میں دونوں کے درمیان مساوات کرنا پھر لازم ہوجائے گا ہاں اگر ایک بیوی اپنا حق چھوڑ دے یا دوسری کو دیدے تو پھر بھی مساوات ضروری نہیں ہے۔
  
   📚 ملخص از نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 1/336



🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 44 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام
 
 16۔ بوقت ضرورت بھابھی (بھائی کی بیوی) کیساتھ سفر کرنے کا حکم

    واضح رہے کہ جو حکم دیگر نامحرموں سے پردہ کرنے اور سفر کرنے کا ہے وہی حکم دیور اور بھابھی کا اکٹھا سفر کرنے کا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب دیور (وغیرہ) سے پردہ کا حکم دریافت کیاگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیور کو موت سے تعبیر فرمایا، یعنی موت سے جتنا ڈر ہوتا ہے اتنا ہی دیور اور جیٹھ وغیرہ سے بھی ہے۔
لہذا جس طرح کسی بھی عورت کے لیے غیر محرم کے ساتھ سفر کرنےکی اجازت نہیں ہے، اسی طرح بھابھی کے لیے دیور کے ساتھ اکیلے سفر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، البتہ شرعی مسافتِ سفر سے کم اگر کبھی بھابھی کو ہسپتال وغیرہ لے جانے کی ضرورت ہو تو اس کی گنجائش ہو گی بشرطیکہ خلوت نہ ہوتی ہو۔ اور ایسی صورت حال میں ان کو چاہیے کہ کسی ایسی خاتون کو ساتھ لے لیں جو مرد کے لیے محرم ہو مثلاًوالدہ یا ہمشیرہ۔
  
   📚 ملخص از فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 
 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 45 ・❱━━━
  
عورت کیلئے سفر کے احکام
 
 17۔ بوقت سفر شوہر مرجائے یا طلاق بائن یا مغلظ دیدے تو عورت عدت کہاں گزارے؟

   شوہر اور بیوی سفر میں ساتھ تھے ، شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی ، یا شوہر کا انتقال ہوگیا تو دونوں صورتوں میں عورت پر عدت لازم ہے ، تو اب وہ کیا کرے اپنا سفر جاری رکھے یا وطن واپس ہوجائے یا اسی جگہ پر عدت گزارے ، اس کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ :
1۔ جس جگہ شوہر کا انتقال ہوا یا اس نے بیوی کو طلاق دیدی ، اگر وہاں سے اس کا اپنا علاقہ مسافت شرعی یعنی سوا ستتر کلو میٹر سے کم ہے تو وطن واپس ہوجائے۔
 2۔ اگر اس جگہ سے وطن کی دوری سوا ستتر کلومیٹر سے زیادہ ہے اور منزل مقصود کی دوری سواستتر کلومیٹر سے کم ہے تو سفر جاری رکھے ۔
3۔ اور اگر دونوں طرف دوری سوا ستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ ہے تو اس کی مزید پھر
 دوصورتیں ممکن ہیں :
 (الف) اس کے شوہر نے جہاں طلاق دی یا جہاں انتقال ہوا اگر وہ جگہ رہنے کے قابل نہیں ، بلکہ ویرانہ ہے ، یا ویرانہ تو نہیں لیکن پرامن اور محفوظ نہیں بلکہ عزت اور عفت کیلئے خطرہ ہے تو اگرمحرم ساتھ ہے تو وطن یا منزل کا سفر کر کے عدت گزارے ، اور اگر محرم ساتھ نہیں ہے تو کسی قریبی امن کی جگہ جاکر عدت گزارے۔
(ب) اگر وہ جگہ قابل رہائش اور قابل اطمینان ہے تو محرم ہونے کی صورت میں وطن یا منزل مقصود جاسکتی ہے اور محرم نہ ہونے کی صورت میں وہیں عدت گزاریگی۔

  📚 ملخص از سفر کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 1 /365
 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 46 ・❱━━━
  
               متفرقات سفر ①
 
 *تبلیغی جماعت کیلئے قصر اور اتمام کا حکم*

    تبلیغی جماعت کی تشکیل اگر کسی شہر یا قصبہ یا دیہات کی طرف ہوجائے تو ممکنہ صورتوں سے متعلق درج ذیل مسئلہ یاد رکھیں۔ ان شاء اللہ اکثر صورتیں اس مسئلہ سے حل ہوجائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر جماعت کی تشکیل پندرہ دن یا اس سے زیادہ ایک ہی شہر میں ہو اگرچہ اسی شہر کی مختلف کالونیوں یا مختلف محلوں میں ہو ، اسی طرح اگر تشکیل ایک گاؤں میں ہو خواہ اس گاؤں کے ایک محلہ میں ہو یا مختلف محلوں میں جانا ہو تو اس صورت میں جماعت والےاپنی نماز پوری ادا کریں گے ، البتہ اگر مرکز والے مختلف دیہاتوں میں تشکیل کریں یا کچھ دن شہر میں اور کچھ دن شہر سے باہر دیہاتوں میں کردیں ، تو کسی ایک مقام پر پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہونے کی صورت میں وہاں نماز قصر کریں گے ، اسی طرح اگر ایک بڑے علاقے کی مختلف چھوٹی بستیوں میں تشکیل ہو لیکن ہر بستی مستقل ہو اور اس کا نام بھی الگ ہو ، تو اسی مختلف بستیوں میں تشکیل کی صورت میں اگر ہر بستی میں پندرہ دن یا اس سے کم قیام ہو تو قصر نماز ادا کریں گے۔ الغرض ایک ہی شہر یادیہات کی تمام مساجد میں اگر پندرہ یا زیادہ دنوں کی تشکیل ہے تو پوری نماز پڑھنا ضروری ہے اور اگر دو شہروں یا دو گاوں میں تشکیل ہے اور کسی بھی شہر یا دیہات میں پندرہ دن یکجا تشکیل نہیں ہے تو قصر کرنا ضروری ہے۔

📚 ملخص از فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی بتغیر

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 47 ・❱━━━
  
متفرقات سفر ②
 
 مسافت کم سمجھ کر پوری نماز پڑھتارہا
       
    اگر کوئی شخص کسی مقام پرگیا اور مسافت کی مقدار سواستتر کلومیٹر سے کم سمجھ کر پوری نماز پڑھتا رہا اور بعد میں معلوم ہوا کہ مسافت کی مقدار سواستتر کلومیٹر یا اس سے زیادہ تھی تو اس صورت میں اگر چار رکعت والی فرض نماز میں دو رکعت کے بعد قعدہ کیا تھا تو نماز ہوگئی دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اگر دورکعت کے بعد قعدہ نہیں کیا تھا تو نماز نہیں ہوئی دوبارہ پڑھنالازم ہوگا۔ اور چار رکعات کے علاوہ باقی نمازیں یعنی فجر ، مغرب اور وتر کا حکم سفر اور حضر میں یکساں ہے۔

  شرعی مسافت کی مقدار طے کرنے سے قبل نیت بدل دی 

   اگر کوئی شخص شرعی مسافت کی مقدار سفر کے ارادہ سے گھر سے نکلا لیکن راستے میں واپس ہونے کی نیت کرلی یا شرعی مسافت سے قبل اقامت کی نیت کرلی اگرچہ وہ پندرہ دن سے کم ہو تو اس صورت میں چونکہ اس کا ارادہ سفر ختم ہوگیا تو پوری نماز پڑھے گا۔

📚 ملخص از سفر کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 2/144
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 48 ・❱━━━
  
*متفرقات سفر ③*
 
 *مہمان کے لئے ہدایات*

    ● اگر کسی کے پاس مہمان بن کرجائے ، اور کھانا کھانے کا ارادہ نہ ہو خواہ کسی بھی وجہ سے ہو تو جاتے ہی فورا میزبان کو اطلاع کردے کہ میں اس وقت کھانا نہیں کھاؤں گا ، ایسا
 نہ ہو کہ وہ کھانے کا انتظام کرے ، اور اس میں محنت و مشقت بھی ہو ، پھر کھانے کے وقت یہ اطلاع دے کہ میں کھانانہیں کھاؤں گا تو یہ محنت مشقت اہتمام اور کھانا ضائع ہوجائے گااور میزبان کو بہت تکلیف بھی ہوگی۔
 ● کسی اور کی دعوت کو میزبان کی اجازت کے بغیر قبول نہ کرے۔
● مہمان کو چاہئے کہ جہاں جائے میزبان کو اطلاع کر دے تاکہ اس کو کھانے کے وقت تلاش کرنے میں پریشانی نہ ہو۔
● اگر کوئی حاجت لیکر جائے تو موقع پاکر فورا اپنی بات کہہ دے انتظار نہ کرائے بعض آدمی پوچھنے پر کہہ دیتے ہیں کہ صرف ملنے آئے ہیں ، اور جب وہ میزبان بے فکر ہوگیا اور موقع بھی نہ رہا اب کہتے ہیں کہ ان کو کچھ کہنا ہے تو اس سے بہت اذیت ہوتی ہے۔
 ● کہیں مہمان بن کر جائے تو وہاں کے انتظامات میں مہمان ہونے کی حیثیت سے ہرگز دخل نہ دے ، البته اگر میزبان کوئی خاص انتظام اس کے سپرد کر دے تو اس کا اہتمام کرنا درست ہے۔
 ● کسی سے ملنے جائے تو وہاں اتنا مت بیٹھے یا اس سے اتنی دیر باتیں مت کرے کہ وہ تنگ ہوجائے یا اس کے کسی کام میں حرج ہونے لگے۔
● جس کے گھر میں مہمان بن کرجائے تو اس سے کسی چیز کی فرمائش نہ کرے ، تا کہ میزبان فرمائش پورا کرنے پر قادر نہ ہونے کی صورت میں شرمندہ نہ ہو۔
● مہمان کو چاہئے کہ اگر پیٹ بھرجائے تو تھوڑا سالن روٹی پیالے اور برتن میں چھوڑ دے تاکہ گھر والوں کو یہ شبہ نہ ہو کہ مہمان کو کھانا کم ہوگیا اس سے وہ شرمندہ ہوتے ہیں۔
 ● مہمان کو چاہئے کہ اگر نمک مرچ کم کھانے کا عادی ہے یا پرہیزی کھانا کھاتا ہے تو پہنچتے ہی میزبان کو اطلاع کر دے تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو۔
 ● جوشخص کھانا کھانے جارہا ہے یا دعوت پر بلایا گیا ہے اس کے ساتھ کھانا اور دعوت کے مقام تک نہیں جانا چاہے کیونکہ میزبان شرماکر کھانے کیلئے بلالیتا ہے لیکن دل اندر سے نہیں چاہتا۔
 ● جب کسی کے پاس جائے تو سلام کرے ، مصافحہ یا معانقہ کے لئے آگے بڑھنا صاحب مکان کا کام ہے ، اگر وہ آگے نہیں بڑھتا یا کسی کام میں مصروف ہے تو اس کی مصروفیات میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے۔

📚 ملخص از آداب المعاشرت للتھانوی رحمہ اللہ ص 99 قدیمی

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 49・❱━━━
  
متفرقات سفر ④

  *مہمان کا اکرام اور اس کے حقوق*
   مہمان کی عزت اور مناسب خاطرداری کرنا بھی ایمان کے شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ ہے ، اسلام میں اس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :
  "من کان یومن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه “ (بخاری ومسلم)
 جوشخص اللہ تعالی اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔
 مہمان کے اکرام کا مطلب یہ ہے کہ اس کا خندہ پیشانی ، خوش مزاجی اور ہنس مکھ حالت میں استقبال کیا جائے اگر کھانے کا وقت ہے تو استطاعت کے مطابق اس کی مہمان نوازی کی جائے اور اگر استطاعت اور گنجائش ہے تو پہلے دن ان کے لئے کوئی خصوصی کھانا تیار کیا جائے ، جس کو حدیث شریف میں جائزہ کے لفظ سے تعبیر کیا
 گیا ہے۔ 
مہمان کے چند مزید حقوق درجہ ذیل ہیں۔
● مہمان کے آتے وقت خوشی اور بشاشت کا اظہار کرنا اور واپس جاتے وقت کم از کم دروازہ تک ساتھ چلنا۔
● اس کے معمولات وضروریات کا انتظام کرنا جس سے اس کو راحت پہنچے۔
● خاطر تواضع ، عزت اکرام کے ساتھ پیش آنا مہمان نوازی کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے اس کی خدمت کرنا۔
● کم از کم ایک دن اس کے لئے کھانے میں کسی قدر درمیانی درجہ کا تکلف کرنا اور کم از کم تین دن تک اس کی مہمان داری کرنا، تین دن کے بعد میزبان کی طرف سے احسان اور صدقہ ہے۔

📚 ملخص از سفر کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 2/294

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹🌺🌹🌺❤️🌺🌹🌺🌹

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​* 🌹 
#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
            احکام السفر
━━❰・ پوسٹ نمبر 50・❱━━━
  
             متفرقات سفر ⑤

  *سفر سے واپسی کی دعا*
  سفر سے واپسی کے وقت راستہ میں یہ دعا پڑھتا رہے :
« آئِبُوْنَ تَآئِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّـنَا حَامِدُوْنَ ». (صحیح مسلم 1:435)

  *سفر سے واپس ہونے کے بعد پہلے مسجد میں جائے*
  جب مسافر سفر سے واپس آئے تو پہلے مسجد میں جائے اور وہاں دو رکعت نماز پڑھے پھر اس کے بعد گھر جائے۔
 سفر سے واپس آنے پر پہلے مسجد میں جانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور اس میں شعائر اللہ یعنی مسجد کی تعظیم کی طرف بھی اشارہ ہے کہ مسجد گویا اللہ کے گھروں میں سے ایک گھر ہے اور مسجد میں جانے والا گویا الله سبحانہ وتعالی سے ملاقات کرنے والا ہے ، لہذا جو آدمی سفر سے واپس آئے تو اس کے حق میں اس سے بہتر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ وہ سب سے پہلے اللہ کے گھر میں جائے اور اللہ سے ملاقات کرے جس نے اس کو سفر کی
 آفات سے محفوظ رکھ کر عافیت کے ساتھ اس کے اہل وعیال کے درمیان واپس پہنچایا

 *سفر سے واپسی پر دعوت کرنا*
 "حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو آپ علیہ السلام نے اونٹ یا گائے ذبح کی" (سنن ابی داود 2/170) اس روایت کے تحت فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ سفر سے واپس آنے کے بعد ضیافت کرنا اور لوگوں کو کھانے پر حسب استطاعت بلانا مسنون ہے۔

📚 ملخص از سفر کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 1/278،204

مفتی عرفان الله درویش ھنگو عفی عنہ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

No comments:

Post a Comment