🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 100* ▍
*·•●✿ اینل سیکس..........*
*کیا شوہر بیوی کو پیچھے والی جگہ سیکس کر سکتا ہے؟؟*
*جواب..مرد اور عورت کو اللہ پاک نے ایک دوسرے سے الگ بنایا ہے .مرد کے عضو تناسل سے پیشاب اور منی نکلتی ہے جبکہ عورت کے تین سوراخ ہوتے ہیں ایک سے پیشاب آتا ہے دوسرے سے حیض آتا ہے اور تیسرے سے پاخانہ باہر آتا ہے*
*جو مسلمان مرد اپنی بیوی کے دبر یعنی پاخانہ والی جگہ پر اندر ڈالے گا اسکے لیے اسلام میں*
*1-بیوی کے پاخانہ والی جگہ ڈالنا حرام قرار دیا گیا ہے*
*2-جو بیوی کو پیچھے پاخانہ والی جگہ اپنا عضو تناسل ڈالے گا اللہ پاک اس کی طرف اپنی نظر نہیں فرماے گا*
*اسکو اورل سیکس یا اینل سیکس بھی کہا جاتا ہے*
*سورت النساء میں اللہ پاک کا حکم ہے تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جہاں سے مرضی آؤ مگر پیدائش والی جگہ میں .دبر میں منع کردیا گیا*
*آپ مسلمان ہو تو سیکس موویز دیکھ کر اپنی بیوی سے وہ سب کی توقع نہ کرنا کیوں کہ وہ آپکی عزت ہے*
*سیکس ورکر نہیں*
*یہ فعل کبیرہ گناہ ہے*
*اس فعل سے مرد عورت دونوں کی نفسیات ڈسٹرب ہوتی ہے*
*فطرت کے خلاف ہے ۔*
*انسانیت کی تذلیل ہے*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 101* ▍
*·•●✿ عورت کی شرمگاہ (ویجینا) کنواری جیسی....*
*میاں بیوی میں کھٹ پٹ کی کئی وجوہات ہیں مگر بعض ایسی ہیں جن کی وجہ تو ہوتی ہے مگر دونوں کھل کر ان پر بات نہیں کرتے اور انہی وجوہات سے آپسی تعلق ومحبت میں فرق پڑجاتا ہے۔*
*ایک وجہ یہ ہے اور اکثر عورتوں کو اپنے متعلق اور مردوں کو اپنی عورتوں سے یہ شکایت رہتی ہے کہ عمر گذرنے کے ساتھ عورت کی شرمگاہ جسے انگریزی میں ویجینا کہتے ہیں۔وہ حصہ ڈھیلا پڑنے لگتا ہے۔جس سے مرد کو ویسی تسکین وسرور حاصل نہیں ہوتا جو شادی کے ابتدائی دنوں میں حاصل ہوا کرتا تھا۔ظاہر بات ہے جوانی تو جوانی ہوتی ہے۔وہ تو واپس نہیں لائی جاسکتی۔ البتہ چند مجربات کے ذریعہ اس کو کافی حد تک درست کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ زچگی کے بعد یا مستقل ہمبستری کے بعد یا ماہواری آنے کے بعد جو کہ صفائی ہوتی ہے شرمگاہ کے بالوں کی اس کے بعد جو شرمگاہ ہوتی ہے وہ کالی سی ہوجاتی ہے اور چمڑی ڈھیلی سی ہوجاتی ہے اور وہ کس اور ٹائٹنس ختم ہوجاتی ہے اور اکثر مرد حضرات کو اعتراض ہوتا ہے کہ بیوی میں وہ پہلی والی کشش نہیں رہی اور عورتیں بھی شکایت کرتی ہوئی نظر آتی ہیں کہ ہمارے میاں کو ہم میں دلچسپی نہیں رہی۔اگر مرد عزت دار ہے تو صبر کرے گا اور اگر نہیں تو ادھر ادھر کم عمر لڑکیوں اور عورتوں کی طرف مائل ہوکر خوار ہوگا۔ کسی بھی چیز کا اگر مستقل لمبے عرصہ تک استعمال کیا جائے گا تو ظاہر سی بات ہے اس میں فرق تو پڑے گا۔ایک سولہ سال کی غیر شادی شدہ لڑکی کی ویجینا اور ایک تیس پینتیس سال کی جو کہ دو چار بچے پیدا کر چکی ہے جو کہ پندرہ سولہ سال سے آپ کے ساتھ ہمبستری کر رہی ہے۔ تو ظاہر سی بات ہے اس کے اعضاء پر فرق پڑے گا۔رنگت خراب ہوگی اور ڈھیلاپن ہی رہے گا اور لچک باقی نہیں رہے گی ۔ لیکن کچھ ایسے طریقے ہیں کہ جن سے کافی حد تک پرانی والی حالت پر لایا جاسکتا ہے۔ہم یہ نہیں کہتے کہ سو فیصد پہلی والی چیز لوٹ کر آجائے گی۔لیکن قدرے بہتر تو ہو سکتی ہے۔مذکورہ حصہ کو تنگ لچکدار اور رنگت بھی بدلی جاسکتی ہے۔*
*👈 1.آئس کیوب یعنی برف کے ٹکڑے لیں اور شرمگاہ پر ہلکا ہلکا پھیرتے رہیں۔ کیونکہ عورتیں ریزر یعنی استرے سے شرمگاہ کے بالوں کی صفائی کرتے ہیں تو وہاں پہ ڈھیلاپن آجاتا ہے اور جلد لٹکنے لگ جاتی ہے۔اسلئے برف کے ٹکڑوں سے آئسنگ کرنا ہے۔اس سے وہ جگہ آہستہ آہستہ اپنی پرانی حالت میں لوٹنا شروع ہو جاتی ہے ۔*
*👈 2۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پھٹکری جو کہ آپ کو مارکیٹ میں مل جائے گی پنسار کی دکان سے یا عام سی دکان سے مل جاتی ہے ۔جو ایک سفید پتھر سا ہوتا ہے۔ جو جلدی امراض کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تو زیتون کے خالص دو چمچ تیل میں پھٹکیری کا آدھا چمچ پاؤڈر مکس کرلینا ہے۔ غسل کرنے سے بیس منٹ قبل اس تیل سے شرمگاہ کی مالش کرنا ہے۔اور کچھ دیر یعنی پندرہ بیس منٹ بعد غسل کرلینا ہے۔اور اس حصہ کو اچھی طرح رگڑ کر صاف کرنا ہے۔*
*👈 چاہے روزانہ غسل کریں یا ہفتہ میں تین بار یا جیسی عادت ہو۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 102* ▍
*·•●✿بیوی(sex)میں_ساتھ_کیوں نہیں دیتی۔*
*شوہر کہتے ہیں بیگم جنسی عمل میں ساتھ نہیں دیتی باہر کی لڑکیاں ہی بہتر ہیں ساتھ تو دیتی ہیں بہت سمجھایا ہے مگر بیگم بھرپور ساتھ نہیں دیتی کہتی ہے آپکو بس یہیں کام ہے*
*محترم شوہر حضرات کیا آپ اپنی بیگم کے ساتھ لفظوں سے محبت کرتے ہیں ؟*
*اگر کرتے ہیں تو کتنا ٹائم دیتے ہیں ؟ باتوں سے محبت پروان چڑھانے کیلئے جیسے ایک ٹھرکی کسی لڑکی کے گرد گھومتا ہے اسے جنسی تعلقات کیلئے لائن پر لاتا ہے زیادہ سے زیادہ باتیں کرتا ہے دو گھنٹے کم از کم اور کبھی تو پانچ گھنٹے بھی ایک ٹھرکی چپکا رہتا ہے سوچیں کیسے لاتا ہے کیا باتیں کرتا ہے سمجھدار نیک مرد سمجھ سکتے ہیں کیونکہ ٹھرکی اور نیک مرد ہوتے تو ایک ہی جنس کے ہیں اور ایک ہی جنس کے لوگ ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں*
*شوہر حضرات صرف جنسی عمل پہ فوکس کرتے ہیں ناکہ رومینٹک باتوں پر ،، اگر رومینٹک باتیں کیں بھی تو صرف پانچ منٹ یا دس منٹ ،، اسکے بعد لائٹ بند کریں ۔۔۔*
*جناب بیگمات صرف نکاح نامے اور جنسی تعلق سے اپنے اندر محبت اور جنون کا پودا نہیں لگا سکتیں بیگمات کو بھی گرل فرینڈز کی طرح محبت بھری زبان اور باتیں جنسی عمل سے پہلے چاہئیے بیگمات کو بھی شوہر کے رومینٹک لفظوں میں جنون درکار ہے بیگمات کو بھی پہلے پہل زبانی کلامی محبت بھرا لہجہ اور نگاہیں چاہئیے تاکہ محبت دل میں پیدا ہو سکے محبت بھرے جذبات پیدا کرنے کیلئے سب سے پہلے لفظ استعمال ہوتے ہیں لفظوں کا بہترین استعمال جذبات میں آگ لگاتا ہے جنسی عمل تو محبت نکالنے کا ایک پریکٹیکل عمل ہے ناکہ محبت ،،،*
*اب جس بیگم کے دل میں لفظوں سے محبت پیدا ہی نہ کی گئی ھو اور عملی طور پر اس سے ڈیمانڈ کی جا رہی ھو کہ محبت دو محبت دو ،، تو پھر یہ زیادتی ہے ۔۔*
*کسی بلی کے بچے کے اندر بھی جذبات پیدا کرنے کیلئے صرف اسکو گھر لے آنا ہی کافی نہیں ہوتا اسکے ساتھ وقت لگایا جاتا ہے چھوٹی چھوٹی خواہشات پوری کی جاتی ہیں کھیلا جاتا ہے مستیاں کی جاتی ہیں محبت دی جاتی ہے باتیں کی جاتی ہیں چاہے وہ نہ سمجھے اسکے بعد بلی آپ سے مانوس ہو جاتی ہے پیار کرے گی آپکے پاؤں میں لپٹے گی شوخیاں کرے گی کیونکہ آپ نے اپنی زبان سے اور عمل سے بہترین وقت دے کر اپنے پیچھے لگا لیا اسی طرح بیگمات پر بھی محنت کریں ،، محنت کرنی نہیں اور الزام بیگمات کے سر دیتے رہنا ہے کہ ہمیں وقت نہیں دیتی کیا شوہر حضرات نے نکاح نامے کو محبت سے بھرا ھوا مشکیزہ سمجھا ہوا ہے ؟؟*
*جی نہیں یہاں شوہر حضرات غلط ہیں آج ایسے نکاح بھی موجود ہیں جن میں رہنے والے شوہر اور بیگم ایک دوسرے سے دلی طور پر دور ہیں کیونکہ وہ یہیں سمجھتے ہیں نکاح نامے اور کمرے میں موجود خوبصورت بیڈ کا مطلب ہے محبت اسی خوش فہمی میں دونوں دلی اور ذہنی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں بات چیت صرف مطلب کی اور الزام بڑے بڑے کیونکہ وہ یہیں سمجھتے ہیں نکاح نامہ اور بیڈ کو محبت کہتے ہیں اسکے باوجود میرے شوہر نے میری بیگم نے مجھے محبت نہیں دی*
*جی نہیں آنکھیں کھولیں انسان ہو یا گھوڑا محبت حاصل کرنے کیلئے پہلے محبت پیدا کرتے ہیں تاکہ محبت بھرے جذبات سے دل جنونی ہو جائے تاکہ آپ اور آپکا سوار ایک ساتھ انجوائے کر سکے محبت کا پہلا سبق رومینٹک باتیں ہیں تو شروع کیجئے تاکہ بیگم کے دل میں شوہر کیلئے اور شوہر کے دل میں بیگم کیلئے محبت کا پودا اگنے لگے جنسی عمل محبت نہیں ہے جنسی عمل لفظوں رویوں باتوں کیئر سے پیدا ہوئے محبت کے جذبات کو اتارنے والا عمل ہے ۔۔۔۔۔*
*👈 امید کرتا ہوں سمجھ گئیں ہونگیں*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 103* ▍
*·•●✿ شادی کو دس پندرہ سال ہوگئے آج وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آپ نے میرے لیے کچھ کیا ہی نہیں۔۔۔۔*
ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ مجھے کچھ بھی نہیں دیتے میری کوئی خواہش پوری نہیں کرتے ہیں، اپنے شوہر سے شکایت کرنے لگیں کہ آج تک آپ نے میرے لیے کیا کیا ہے
وہ بہت پریشان ہوا کہ میں نے آج تک اپنی بیوی کے لیے کچھ کیا ہی نہیں ، شادی کو دس پندرہ سال ہوگئے آج وہ یہ کہہ رہی ہے کہ آپ نے میرے لیے کچھ کیا ہی نہیں ۔
خیر وہ کسی سے ملا ، تو اُنہوں نے مشورہ یہ دیا کہ آپ اپنی بیوی سے کہیں کہ آپ کو کیا چاہیے، جو بھی آپ کو چاہیے اُس کی فہرست بنائیں ، اُس کی بیوی نے لسٹ بنانا شروع کی، کہ مجھے کیا کیا چاہیے، آٹھ دس چیزیں اُس نے لکھ دیں،
جب کہ اُس کو پتہ تھا کہ میرے شوہر کی آمدنی اتنی زیادہ نہیں ہے پھربھی اُس نے لکھ دیں کہ مجھے یہ یہ چیزیں چاہئیں ،
اُس نے کہا اچھا اِس کے علاوہ بھی کچھ چاہیے؟ اُنہوں نے کہا ، نہیں مجھے بس یہی چاہیے۔
پھر اُنہوں نے کہا :
اچھا آپ اِن دس چیزوں میں سے کس کوپہلی ترجیح دیتی ہیں ، اُنہوں کہا کہ پہلی چیز مجھے گھر میں واشنگ مشین چاہیے، میں ہاتھ سے کپڑے نہیں دھو سکتی اُنہوں نے کہا، ٹھیک ہے۔ ہم پہلے واشنگ مشین لینگے، اور کیا چاہیے؟
مجھے مائیکرو ویو چاہیے، میرے لیےکھانا گرم کرنابہت مشکل ہے، اچھا لکھ لیا، ایک ، دو، تین۔ یہ چاہیے۔۔۔۔۔
اُنہوں نے کہا ٹھیک ہے یہ میرا وعدہ ہے کہ میں آپ کے لیے یہ چیزیں لاؤں گا ۔ آپ کو اور تو کچھ نہیں چاہیے؟ نہیں۔
اب کچھ وقت گزرا اُس نے اپنی بیوی کو وقت کم دینا شروع کردیا، اُس کی بیوی کی طرف توجہ کم ہونا شروع ہوگئی ، وہ زیادہ وقت اپنے روزگار کو دینے لگا ، پہلے دس گھنٹے کام کرتا تھا اب چودہ گھنٹے، اوور ٹائم لگانے لگا، اور دوستوں میں زیادہ بیٹھنے لگا ، کچھ اِس نے معمول سے ہٹ کر کام کرنا شروع کردیے۔ پہلے گھر میں آکرکبھی کبھار بیوی کا ہاتھ بٹا دیتا تھا، اب اُس نےوہ سب کچھ چھوڑ دیا۔
جب کچھ وقت گزرا تو خاتون نے کہا کہ آپ مجھے وقت نہیں دے رہے! آپ اُس طرح سے نہیں ہیں جس طرح پہلے تھے؟ اُس نے کہا کہ میں کوشش کر رہا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ کماؤں تاکہ میں آپ کو یہ چیزیں دے سکوں،پھر وہ واشنگ مشین لیکر آگیا، کچھ عرصے بعد مائیکرو ویو بھی لیکر آگیا، اورفہرست میں جو جو چیزیں اُس نے لکھی تھیں وہ ایک ایک کر کے لاتا رہا،
لیکن اِس کی بیوی نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ میری زندگی میں کچھ چیزیں کم ہوگئی ہیں۔ اب وہ چیزیں مجھے نہیں مل رہی ہیں، پہلے وہ آتے تھے تو مجھ سے بڑے پیار سے باتیں کرتے تھے ، میرے ساتھ بیٹھتے تھے ، ہم لوگ گھومتے تھے، چھٹی کے دن ہم لوگ پارک جاتے تھے، اب وہ اس دن بھی نوکری کر رہے ہیں، رات کو وہ بارہ بجے آتے ہیں اور سو جاتے ہیں۔ صبح چار بجے اٹھ کر چلے جاتے ہیں، اب وہ مجھے وقت ہی نہیں دے رہے، اب وہ بچوں کے ساتھ کھیلتے نہیں ہیں اب میری بات سننے کا اُن کے پاس وقت نہیں ہے وہ کھانا کھا کر آتے ہیں
اب اُس کو لگا کہ یہ تو میری زندگی میں بہت بڑاخلا آگیا ہے میرے پاس سب کچھ ہے لیکن میرا شوہر میرے پاس نہیں ہے اُس نے دوبارہ ایک فہرست بنائی کہ مجھے آپ کا وقت چاہیے مجھے آپ کی محبت چاہیے آپ مجھے فون کیا کریں وغیرہ وغیرہ۔
تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہم لوگوں کو پتہ نہیں ہوتا کہ جو کچھ ہم لوگوں کو مل رہا ہے وہ کیا کیا ہے؟
جب وہ چھننے لگتا ہے تب ہمیں اُس چیز کا احساس ہوتا ہے۔۔۔۔
یاد رکھیں ۔۔۔
زندگی میں ان نعمتوں پر زیادہ نظر رکھیں جو آپکے پاس ہے ۔۔۔تو دل شکر گزاری سے لبریز ہوگا ۔۔۔۔
یہ شیطان کی سب سے بڑی چال ہوتی وہ
ہمیشہ ہماری نظر انھیں چیزوں پر اٹکاتا جو کسی حکمت کے تحت ہم سے اوجھل ہوتی ۔۔
اور ہم کفرانِ نعمت کے باعث موجودہ نعمتوں کی بھی بربادی کا باعث بن جاتے ۔۔۔
الله ربّ العزت ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرمائے آمین
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 104* ▍
*·•●✿ ہمبستری کے 6مقبول طریقے کی اسلام نے بھرپور اجازت دی ہے....*
*ہمبستری کے 6مقبول بہترین طریقے*
*ڈیلی کائنات ! قربت کے چھ بہترین طریقے جو ہر کوئی استعمال کرتا ہے اسلام نے ان کی اجازت بھی دی ہے ان کے بارے میں کوئی منع نہیں کیا گیا ہے ۔ وہ کونسے طریقے ہیں ان میں سے دو طریقے مقبول ہیں باقی جو چار ہیں وہ بھی بتائیں گے ۔ سب سے پہلا طریقہ یہ ہے کہ عورت نیچے اور مرد اوپر کی حالت میں ہو عورت اور مرد پہلو بہ پہلو کی حالت میں ہو مرد نیچے اور عورت اوپر کی حالت میں عورت اور مرد کھڑے رہنے کی حالت ،*
*عورت اور مرد آگے پیچھے کی حالت میں ، عورت اور مرد بیٹھنے کی حالت میں ان طریقوں میں تیسرا طریقہ یعنی مرد نیچے اور عورت اوپر کی حالت میں اسلام کے نقطہ نظر سے یہ قلیہ حرام اور قابل تعزیر تو نہیں لیکن قرآن وسنت کی تصریحات اور ان کے اشارات کے یہ خلاف ہے ۔ طبی لحاظ سے بھی مختلف پہلوؤں سے نقصان دہ ہے ۔ اس سے قربت کے مختلف طریقے سامنے آتے ہیں ۔ وہ ڈاکٹرز کے بیان کردہ طریقوں میں اضافہ ہیں سب کو ملا دیا جائے تو قربت کے مختلف اسلامی طریقے بنتے ہیں عورت کھڑی اور مرد بھی کھڑ ا ہو عورت بیٹھی اور مرد بھی بیٹھا ہو ، عورت بیٹھی اور مرد کھڑا ہو اور عورت لیٹی اور مرد آگے کے راستے میں آگے سے قربت کرے*
*عورت لیٹی اور مرد پیچھے کی سمت سے آگے کے راستے میں قربت کرے عورت کروٹ لیٹی ہے اور مرد بیٹھ کر اس سے قربت کرے ۔ عورت کروٹ لیٹی اور مرد بھی کروٹ ہی کی حالت پیچھے کی سمت سے آگے کے راستے میں قربت کرے ۔ عورت چت لیٹی ہو اور مرد کروٹ ہو اور آگے کے راستے میں آگے کی سمت سے قربت کرے ۔ عورت ٹانگوں کے بل جھکی ہو اور مرد پیچھے کی سمت سے آگے کے راستے میں قربت کرے ۔ عورت کمر سے جھکی اور مرد آگے کے راستے میں پیچھے کی سمت سے قربت کرے ۔ آیت کریمہ ہے کہ تمہاری عورتیں تمہاری کھیتی ہیں تو تم اپنی کھیتی میں آؤ جس طرح چاہو ۔ سورۃ البقرہ کے عموم قربت کے یہ سبھی طریقے داخل ہیں مرد اپنی شریک حیات کیلئے*
*حسب منشاء ان میں جس صورت کا چاہے انتخاب کرسکتا ہے ۔ ان میں جس طریقہ سے چاہے اپنی بیوی سے قربت کرسکتا ہے ۔ ڈاکٹرز کہتے ہیں قربت کے اسلامی طریقوں میں چوتھا پانچواں اور چھٹا طریقہ زیادہ مقبول آسان اور قابل عمل ہے ۔ خاص طور پر چوتھا طریقہ ہی یعنی چت لیٹی ہو اور مرد آگے سے آگے کے راستے قربت کرے ۔ ڈاکٹرز نے کہا قربت کا یہ طریقہ عورت کیلئے سب سے زیادہ مبنی اور سہولت والا ہے اسے زیادہ جنسی تسکین عطاء کرنے والا ہے ۔ اس صورت میں وہ جنسی عمل میں زیادہ سرگرمی سے حصہ لے سکتی ہے ۔ اسلام کے نقطہ نظر سے بھی قربت کا یہی طریقہ سب سے زیادہ افضل اور قابل ترجیح معلوم ہوتا ہے ۔ اسلام کے نزدیک عورت کے جنسی تسکین اسکا بنیادی حق ہے ۔*
*عورت کو ہماجہتی جنسی تسکین قربت کی اس صورت میں حاصل ہوتی ہے وہ دوسری کسی صورت میں حاصل نہیں ہوسکتی ۔ قربت کے وقت بے سطری اور بے حجابی سے اجتناب کی تاکید کی گئی ہے اس کا زیادہ سے زیادہ لحاظ قربت کی اس لئیت میں ہوسکتا ہے ۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 105* ▍
*·•●✿ مردوں اورعورتوں کی جنسی نفسیات میں فرق.....*
*نہ تو تمام مرد ایک جیسے ہوتے ہیں اور نہ تمام عورتیں ایک جیسی ہوتی ہیں اور نہ سارے مردوں اور عورتوں کی جنسی نفسیات ایک جیسی ہوتی ہیں۔* *لیکن یہ حقیقت ہے کہ مرد عورت کو سیکس سمبل کے طور پر لیتا ہے اس میں مرد کا قصور بھی نہیں کیونکہ قدرت نے عورت کے جسم میں مرد کے لئے بہت زیادہ جنسی کشش رکھی ہے اتنی جنسی کشش مرد کے جسم میں عورت کیلئے نہیں رکھی، اسے لئے عورت مرد کی جانب جنسی طور پر آسانی سے راغب نہیں ہوتی اور مرد کو سیکس سمبل کے طور پر نہیں لیتی، لہذا اس میں عورت کا کوئی کمال نہیں ہے، اس میں اس پروگرام کا عمل دخل ہے جو قدرت کی طرف سے ہر انسان ہو کہ جانور، نر اور مادہ میں فیڈ کردیا گیا ہے۔*
*مردوں کی اکثریت کے نزدیک محبت کے مقابلے میں سیکس کی زیادہ اہمیت ہوتی ہے، مرد کے جنسی جذبات عورت کے جسم کو دیکھ کر آسانی سے فورا" بیدار ہوجاتے ہیں اور وہ کسی بھی عورت سے جنسی تسکین حاصل کرسکتا ہے، خوا چاہے اس عورت سے محبت، فریکنس اور انڈرسٹینڈنگ ہو یا نہ ہو، مرد جنسی آرگزم آسانی سے حاصل کرسکتا ہے۔ اسی لئے مرد ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنے کا خواہشمند رہتا ہے اور جبکہ عورت صرف ایک مرد کے ساتھ، کیونکہ عورتوں کی اکثریت کے نزدیک محبت کے مقابلے میں سیکس کی ثانوی حیثیت ہوتی ہے، عورت آسانی سے سیکس کی طرف متوجہ نہیں ہوتی، جو مرد سمجھتے ہیں کہ عورت میں مرد کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سیکس ہوتی ہے اور وہ شرم و حیا اور قوت برداشت کی وجہ سی ظاہر نہں کرتی، بہت بڑی خام خیالی کا شکار ہیں، دراصل مرد کی جسمانی قوت عورت سے زیادہ ہے اسی طرح جنسی قوت بھی عورت سے زیادہ اور شدید ہے، مرد جلدی جنسی بیدار ہوکر جلد آرگزم حاصل کرلیتا ہے اور عورت دیر میں جنسی بیدار ہوکر دیر سے آرگزم حاصل کرتی ہے اور بعض عورتوں کو تو یہ آرگزم زندگی میں کبھی کبھار ہی میسر آتا ہے، جس کی مختلف وجوہات ہو سکتیں ہیں۔*
*کچھ عورتوں میں بچپن ہی سے مردوں کے مقابلے میں احساس کمتری ہوتا ہے وہ مردانہ عضو تناسل اور مردوں کی جسمانی قوت سے حسد کا شکار ہوتی ہیں اور مردوں سے نفرت کرتی ہیں۔ ایسی عورتوں میں جنسی جذبات تو ہوسکتے ہیں پر چونکہ جنسی عمل میں مرد فاعل اور عورت مفعول ہوتی ہے اور عورت ہی حاملہ بھی ہوتی ہے تو اس طرح کی عورتیں جنسی فعل میں مرد کا ساتھ نہیں دیتیں اور خود لذتی یا ہم جنس پرستی کا شکار ہو جاتی ہیں اور یا پھر جنسی فعل سے ہی نفرت کرنے لگ جاتی ہیں۔*
*ایسے کچھ مرد بھی ہوتے ہیں جو عورتوں کے جسمانی حسن، کیونکہ عورت کو اللہ نے مرد کے مقابلے میں زیادہ حسن اور کشش سے نوازا ہے، سے حسد کا شکار ہوجاتے ہیں اور عورتوں کا آسانی سے حاصل نہ ہونا اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر بھی عورتوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور خود لذتی یا ہم جنس پرستی کی طرف یا عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور ریپ جیسے جرائم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔*
*درحقیقت اس طرح کے مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے محبت کے باوجود یہ بات کبھی سمجھ ہی نہیں پاتے کہ وہ ایک دوسرے سے اتنا حسد اور نفرت کیوں کرتے ہیں کیونکہ یہ بات انکے لاشعور یعنی subconscious میں ہوتی ہے۔*
*عورتوں کی اکثریت صرف اس مرد کے ساتھ سیکس کرنا پسند کرتی ہے جس کے ساتھ انکو محبت اور انڈرسٹینڈنگ ہو اور اسی مرد سے ان کو جنسی تسکین بھی حاصل ہوتی ہے، کچھ عورتیں جنسی طور پر سرد ہوتی ہیں۔*
*یقینا" کچھ عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے جنسی جذبات بہت شدید ہوتے ہیں اور ہر وقت جنسیت کا غلبہ رہتا ہے اور یقینا" کچھ مرد بھی ایسے ہوں گے جن کے نزدیک سیکس ثانوی حیثیت کی حامل ہو یا جنسی طور پر سرد ہوں۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 106* ▍
*·•●✿ کسی عـورت کا دیگر عـورتوں کے سامنے تنگ اور باریک لباس پہننا*
*◆ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عورت کاایسا تنگ اور باریک لباس پہننا جائز نہیں جو اس کے پرکشش و پر فتن مقامات کو ظاہر کرے ۔ نہ ہی اس کے محارم کے سامنے اور نہ ہی دیگر عورتوں کے سامنے۔*
*◆ اسی طرح یہ بھی کہتے ہیں کہ : عـورت تنگ اور باریـک لباس صرف اس كے سامنے پہن سكتى ہے جس كے سامنے شرمگاہ ظاہر كر سكتى ہے، اور وہ شوہر ہے (اس کے علاوہ کوئی نہیں) : كيونكہ شوہر اور بيوى كے مابين كوئى ستر نہيں۔*
*◆ اسی طرح صالح الفوزان کہتے ہیں: عورت کے لیے تنگ اور باریک لباس کا پہننا جائز نہیں ہے خواہ عورتوں کی موجودگی میں ہی کیوں نہ ہو ۔ اس لئے کہ وہ دوسروں کے لئے برا قدوۃ ثابت ہوگی۔ جب دوسری عورتیں اس کو اس طرح کے لباس میں دیکھیں گی تو ہوسکتا ہے کہ وہ بھی اسکی پیروی کریں اور اس طرح کا لباس پہنیں۔*
*◆ اسی طرح یہ بھی فرماتے ہیں کہ: عورت جس طرح مردوں سے ستر چھپاتى ہے عورتوں سے بھى اسى طرح ستر چھپائيگى ، مگر جو اعضاء عورت عادتا ضرورت كے وقت کھلے رکھتی ہے مثلا چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں تو انہیں عورتوں كے سامنے بھی کھلا رکھ سكتى ہے.*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 107* ▍
*·•●✿ حمل کے ٹہرانے کے صحیح وقت اور طریقے کے متعلق کچھ اہم معلومات....*
*حمل کے حوالے سے جاننا اس لیۓ بہت ضروری ہوتا ہے .کیوں کہ اولاد کی خواہش تو ہر شادی شدہ جوڑۓ کے دل میں ہوتی ہے ۔ مگر ہمارے معاشرے میں نۓ شادی شدہ جوڑوں کو اس حوالے سے, کسی قسم کی معلومات دینا بے شرمی قرار دیا جا تا ہے .اس وجہ سے نوجوان جوڑے کی معلومات کا ذریعہ صرف سنی سنائي باتیں رہ جاتا ہے.*
*جس کی صداقت کو جانچنے کا ان کے پاس کوئي طریقہ نہیں ہوتا ہے ۔ لاعلمی کے سبب نقصان اٹھانے سےبہتر ہے کہ انسان اس حوالے سے وقت سے پہلے آگاہی حاصل کرۓ. تاکہ آئندہ زندگی کے مسائل سے بچ سکے*
*حمل کیسے ٹہرتا ہے*
*ایک ماہواری سے دوسری ماہواری تک کا درمیانی وقفہ ایک سائکل کہلا تاہے. جس کے دوران عورت کے اندر موجود انڈے مہینے میں ایک دفعہ تیار ہوتے ہیں ۔ جب انڈے میچور ہو جاتے ہیں وہ اووری سے باہر خارج کر دیۓ جاتے ہیں . یہ عمل اوویلیوشن کہلاتا ہے ۔*
*مرد اور عورت کے ملاپ کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں اسپرم عورت کی بچے دانی میں داخل ہوتے ہیں ۔ جہاں فیلوپئین ٹیوب میں موجود انڈوں.کے ساتھ ان کا ملاپ ہوتا ہے .تو یہ حمل کے ٹہر جانے کی ابتدا ہوتی ہے ۔ لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو انڈے رحم کی دیواروں میں جزب ہو جاتے ہیں. اور پھر اگلے ماہ نیۓ انڈۓ بنتے ہیں ۔*
*حمل کے ٹہرانے کے لیۓ ملاپ کا* *بہترین وقت*
*حمل*
*پریگننسی کے امکانات کو بڑھانے کے لیۓ ماہواری کے دنوں کے علاوہ ,باقی دنوں میں ہر دو سے تین دن بعد ملاپ کرنا حمل کے ٹہرنے کے امکانات کو بڑھا دیتا ہے ۔ کیوں کہ اویلیوشن پیریڈ کے دوران ملاپ کے نتیجے میں بارآوری کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں*
*ملاپ کرنے کی بہترین حالت*
*یاد رکھیں ملاپ کے طریقے کا حمل کے ٹہرنے سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا ہے ۔ میاں بیوی کے ملاپ کے نتیجے میں عورت کے جسم میں داخل ہونے والے اسپرم ,میچور انڈوں کے ساتھ مل کر حمل کے ٹہرنے کا امکان پیدا کرتے ہیں*
*حمل کے لیۓ اویلیوشن کا* *صحیح وقت کون سا ہوتا ہے*
*اویلیوشن کے پیریڈ کے دوران حمل کے ٹہرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں ۔ یہ وقت آنے والی ماہواری کے 10 سے 16 دن قبل ہوتا ہے ۔اس وجہ سے اپنے ماہواری کےدنوں کے حساب کو نوٹ کر لیں . اویلیوشن پیریڈ کے دنوں میں باقاعدگی سے ملاپ کریں. جس سے حمل کے ٹہرنے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے*
*حمل میں مددگار سروکس سے میو کس کا اخراج*
*اگرچہ سروکس سے میوکس کا اخراج ماہواری کے سائکل کے دوران بھی جاری رہتا ہے ۔مگر اس سائکل کے دوران وہ کبھی گاڑھا اور سفید ہوتا ہے .اور کبھی پتلا اور شفاف ہو جاتا ہے .اویلیوشن کے پیرئيڈ کے دوران میوکس کا اخراج بڑھ جاتا ہے. جو کہ زیادہ پتلا اور چپ چپا ہوتا ہے ۔تاکہ اسپرم آسانی سے تیرتے ہوۓ اندر داخل ہو سکیں*
*حمل*
*جسم کا درجہ حرارت*
*اگرماہواری کے سائکل کے دوران باقاعدگی سے صبح جاگنے کے بعد عورت اپنے جسم کا درجہ حرارت نوٹ کرۓ .تو جس دن اس کے جسم کے درجہ حرارت میں 0.2 ڈگری تک کا اضافہ ہو ,اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اویلیوشن پیریڈ کا آغاز ہو گیا ہے*
*اویلیوشن کے بارے میں جاننے والی کٹ*
*میڈیکل اسٹورز میں ایسی کٹ موجود ہوتی ہے .جو کہ اویلیوشن کے بارے میں ایک آسان سے پیشاب کے ٹیسٹ کے ذریعے گھر بیٹھے بتا سکتی ہے. اور اگلی ماہواری سے قبل اپنے سائیکل کے مطابق مقررہ دنوں میں اس ٹیسٹ کے ذریعے پتہ لگایا جا سکتاہے*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 108* ▍
*·•●✿ احتلام کیاعورتوں کو بھی ہو سکتا ہے...*
*احتلام یا وٹ ڈریمز صرف نوعمر لڑکوں کو ہی نہیں آتے۔ وہ دراصل ایک عام تجربہ ہیں، خاص طور پر نوعمری یا پرہیز کے اوقات میں۔*
*احتلام (رات کے اخراج) کے بارے میں جانیں، ان کی وجہ کیا ہے، کیا خواتین ان کا تجربہ کر سکتی ہیں؟ اورآیاان کا تعلق جنسی خواہش یا ضرورت سے ہے۔*
*احتلام کی علامات*
*احتلام وہ ہوتے ہیں جب مرد انزال کرتے ہیں (نطفہ جاری کرتے ہیں) اور خواتین سوتے ہوئے اپنی اندام نہانی سے سیال خارج کرتی ہیں۔ انہیں رات کے اخراج کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔*
*انہیں بعض اوقات خوابوں سے وابستہ’آرگیزم’ سمجھا جاتا ہے۔* *مرد اپنے کپڑوں یا بستر پر ‘آرگیزم’ کے سکڑنے اور منی کے گیلے ہونے کے ساتھ جاگ سکتے ہیں*۔
*بلوغت کے بعد آپ کو زندگی بھر’وٹ ڈریمز’ آ سکتے ہیں۔ لیکن یہ آپ کے نوعمری کے سالوں میں یا جنسی پرہیز (جنسی تعلقات نہ کرنے) کے دوران زیادہ عام ہیں۔ تقریباً 38% نوعمر لڑکوں کو یہ جاننے سے پہلے کہ یہ کیا ہے گیلے خواب کا تجربہ کرتے ہیں۔ جنسی ہارمونز کی اعلیٰ سطح ایک کردار ادا کر سکتی ہے۔*
*ہاں، جنسی تعلقات سے قطع نظر نیند کے دوران اخراج ممکن ہے، اور یہ بالکل نارمل ہے۔ اسے عام طور پر رات کا اخراج یا وٹ ڈریم یا نائٹ فال کہا جاتا ہے۔ رات کے اخراج کا تعلق زیادہ تر مردانہ بلوغت سے ہوتا ہے، اور یہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح میں اضافے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔* *تاہم، وٹ ڈریم، یانائٹ فال ، کسی کو بھی ہو سکتے ہیں۔*
*تمام لڑکوں یا مردوں کو وٹ ڈریمز نہیں آتے۔ اگر وہ بیدار نہیں ہوتے ہیں یا انزال نہیں ہوتے ہیں تو وہ اسے محسوس نہیں کرسکتے ہیں۔ اسی طرح کی وجوہات کی بناء پر، اگر خواتین کے ساتھ ایسا ہوتا ہے تو وہ بے خبر ہو سکتی ہیں۔*
*احتلام کی وجوہات*
*کیا احتلام یا وٹ ڈریمز کا تعلق شہوانی، شہوت انگیز خوابوں سے ہے؟*
*نیند کےمرحلے کے دوران کے تیز آنکھوں کی حرکت (آر-ای-ایم) جنسی طور پر ابھارنے والا خواب احتلام کا سبب بن سکتا ہے۔ آر-ای-ایم کے دوران، شرونیی علاقے میں خون کا بہاؤ بڑھتا ہے، اور دماغ نیند کے آرگزم کے لیے بالکل تیار ہوتا ہے۔بہت سے لوگ اپنے آپ کو بیدار ہونے یا پر یا بیدار ہونے کے بعد احتلام ہونے کی ہونے کی اطلاع دیتے ہیں۔ یہ بالکل نارمل ہے*
*ہے۔*
*احتلام عام طور پر بغیر کسی واضح وجہ کے ہوتے ہیں۔ احتلام کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جنسی سرگرمی کی کمی کے درمیان کچھ تعلق ہے۔ کچھ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ ٹیسٹوسٹیرون کی سطح بار بار احتلام ہونے سے وابستہ ہے۔*
*احتلام سے وابستہ خوابوں کو دن کے وقت کے تجربات یا ترجیحات کی عکاسی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خواب کی جنسی نوعیت ہمیشہ ایک بنیادی خواہش کی عکاسی نہیں کرتی ہے اور یہ دن کے وقت کے ارادوں کی طرح نہیں ہوسکتی ہے۔*
*یہ دریافت کرنا دلچسپ ہو سکتا ہے کہ آیا خواب کا مواد آپ کی کسی اندرونی جنسی خواہش کا اشارہ ہے یا نہیں۔ اس سے آپ کو یہ دیکھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ جب آپ جاگ رہے ہوں تو آپ کو کیا چیز جوش دلاتی ہے۔*
*تحقیق کے مطابق نیند کی آرگیزم کا آغاز جنسی خواب سے ہوتا ہے۔ یہ گہری نیند کے مکمل آرام کے ساتھ مل کر جنسی اعضاء میں خون کے بہاؤ میں اضافہ کا باعث بنتا ہے، جسم کو بیرونی محرک کے بغیر احتلام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ نیند کے احتلام ایک فرد سے دوسرے شخص میں بہت مختلف ہوتے ہیں۔*
*کچھ لوگوں کو ان کا بالکل تجربہ نہیں ہوتا ہے، اور دوسروں کے کو اکثر نیند کے دوران اخراج ہوتا ہے یا وٹ ڈریم آتے ہیں۔ وہ نارمل ہیں اور انہیں برا یا غلط نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کا نہ ہونا بھی عام بات ہے*۔
*بہت زیادہ تناؤ یا جوش*
*زندگی کے دباؤ والے دور سے گزرنا مبینہ طور پر زندگی کے زیادہ آرام دہ دور سے زیادہ رات کے اخراج یا احتلام پیدا کرتا ہے۔ بہت زیادہ اضطراب یا جوش نیند کے دوران اچانک آرگیزم کو متحرک کر سکتا ہے۔*
*کیا خواتین کو احتلام ہو سکتا ہے؟*
*جی ہاں۔ہوسکتا ہے کہ خواتین اندام نہانی کے گیلےپن سے واقف نہ ہوں جو سوتے ہوئے احتلام کے دوران ہوتا ہے۔ لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ خواتین کو رات کا اخراج ہوتا ہے۔*
*اس جنسی جوش کے نتیجے میں نائٹ فال نہیں ہو سکتا۔ یہ بعض اوقات زیر جامہ یا بستر کی چادروں میں نمی پیدا کر سکتا ہے، جیسا کہ مردوں میں ہوتا ہے۔ اندام نہانی کی نمی میں اضافہ اسی طرح کے جنسی خوابوں سے وابستہ ہے۔*
*تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ خواتین کی نیند کے احتلام پہلے کے خیال سے زیادہ عام ہے۔ اکثر، خواتین کے احتلام تقریباً 20 سال کی عمر میں شروع ہوتے ہیں اور اس کے بعد جاری رہتے ہیں۔ خواتین کے احتلام دراصل بعد کی زندگی میں زیادہ عام ہوتے ہیں اور وہ شادی شدہ خواتین جو ہمبستری کم کرتی ہیں جن کے شوہر کسی دوسرے شہر یا ملک میں کام کرتےہیں ان خواتین کو احتلام ہوتا ہے اور عمر کے ساتھ ساتھ آسان ہو جاتا ہے۔*
*سوتے وقت احتلام کا ہونا*
*جنسی خرابی یا جنسی کمزوری کی علامت نہیں ہے۔* *خواتین کے رات کے اخراج قربت کی کمی کی عکاسی کرتا ہے، اور کسی کے ہونے کے لیے بیرونی محرک ضروری نہیں ہے۔* *تمام رات کے اخراج جسم میں ہونے والی ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتے ہیں۔*
*احتلام کو کیسے روکا جائے*
*آپ کے لئے اپنے خوابوں پر اثر انداز ہونا کافی حد تک ناممکن ہے اوراپ یہ بھی نہین جان سکتے کہ نیند کے دوران آپ کو اخراج ہوگا یا نہیں ، لیکن یہاں کچھ چیزیں ہیں جو آپ آزما سکتی ہیں*
*مناسب آرام کریں*
*روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے سوئیں اور خود کو فٹ اور صحت مند رکھنے کے لیے کافی ورزش کریں۔ ان سرگرمیوں کے لیے کچھ وقت نکالیں جن سے آپ لطف اندوز ہوں۔ کچھ نئی عادات اور تفریحی مشاغل کی نشاندہی کریں جو آپ کے جسم اور دماغ کو سکون دیں۔*
*فحش دیکھنے سے گریز کریں،* *خاص طور پر سونے سے پہلے*
*اپنے ذہن کو جنسی خیالات /تعلقات سے دور رکھیں اور سونے سے پہلے فحش یا جنسی ٹی وی شوز دیکھنے یا جنسی تصاویر یا برہنہ تصاویر دیکھنے سے گریز کریں۔ اس سے نیند کے دوران وٹ ڈریم کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔*
*دائیں کروٹ سوئیں نہ کہ اپنی پیٹھ کے بل*
*رات کے دوران حادثاتی محرک اور رات کے اخراج کو روکنے کے لیے، اپنے دائیں طرف سوئیں اور ڈھیلے کپڑے پہنیں۔ جب آپ اپنی پیٹھ یا پیٹ کے بل سوتے ہیں تو رات کا اخراج زیادہ کثرت سے ہوتا ہے۔*
*نیند سے قبل غسل مفید ہو سکتے ہیں*
*ٹھنڈی بارش سے جنسی اعضاء کی حساسیت کم ہوتی ہے اور رات کے وقت حادثاتی محرک کو روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔*
*سونے سے پہلے کیفین سے پرہیز کریں*
*سونے سے پہلے کسی بھی قسم کی کیفین پینے سے پرہیز کریں۔* *کیفین حساسیت اور چڑچڑاپن کو بڑھاتا ہے، جو شہوانی، شہوت انگیز خوابوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اپنے نظام ہاضمہ کو صحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے پانی وافر مقدار میں پیئں۔ کسی بھی قسم کی پریشانی اور تناؤ کو دور کرنے کے لیے واش روم کا کثرت سے استعمال کریں اور بھرپور ورزش کریں۔*
*صحت کے ماہر یا اپنےمعالج سے بات کریں*
*اگر آپ اپنے رات کے اخراج کے بارے میں بے چینی محسوس کرتی ہیں، تو اپنی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والے یا معالج سے مشورہ کریں۔ اگر آپ اپنی نیند میں احتلام کا تجربہ کرتی ہیں، تو اس کے بارے میں بات کرنے سے آپ کو اس کے بارے میں زیادہ پر سکون اور آرام دہ محسوس کرنے میں مدد مل سکتی ہے*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 109* ▍
*·•●✿ سیکس_میں_بے_لزتی_کیوں*
*جنسی تعلق زندگی کا ایک بہت ہی پرلطف پہلو ہے مگر بہت سے لوگ جنسی مسائل سے دوچار ہیں جنسی تعلق کی وجہ سے لوگ تشویش اور ذہنی دبائو کی شکایت کرتے ہیں جنسی تعلق کے بہت سے مسائل ہیں اور ان مسائل کی وجوہات اور ان کے حل کے بہت سے طریقہ کار بھی موجود ہیں میں نے ایسے مسائل میں گھیرے ہوئے لوگوں کا جائزہ لیا تو مجھے یہ پتا چلا ہے کہ 100% میں سے 45% لوگ ایسے ہیں جو واقعی جسمانی بیماری کا شکار ہیں وگرنہ 100% میں سے 25% لوگوں کے جنسی مسائل صرف نفسیاتی نوعیت کے ہوتے ہیں*
*جس میں ڈپریشن گھریلو مسائل بیروزگاری اور بھی بہت ساری وجوہات ہیں*
*ایسے لوگوں کے مسائل ان کے اپنے ہی غیر عقلی خیالات کی وجہ سے ہیں اور ایسی لوگوں کے علاج میں اکثر ناکامی ہوتی ہیں۔*
*اگر آپ اپنی جنسی کارکردگی کے متعلق پریشان ہیں*
*جیسے اکڑاہٹ کا نہ ہونا یا جلد فارغ ہوجانا وغیرہ تو سمجھ لیں آپ جنس کے بارے میں* *تشویش یا احساس جرم ( یا بعض اوقات غصے ) کا شکار ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ آپ اپنے لیے یا اپنے شریک حیات کے لیے جنسی کارکردگی کا ایک معیار مقرر کر لیتے ہیں اور جب اس معیار کا حصول نہیں ہوتا تو خود کو یا اپنے شریک حیات کو کمتر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں آپ کی تشویش یا احساس جرم کی وجہ صرف آپ میں پائی جانے والی ادعائی مہارتوں*
*کی کمی ہے خوشی کے حصول کے لیے ان مہارتوں کا استعمال بہت ضروری ہے۔*
*اور ایسے لوگوں کا علاج ہیں اچھا کھانا اچھا سوچنا سیرو تفریع نماز اور روزے میں دل لگانا قرآن پاک کی تلاوت کرنا اور ایسے کاموں میں مصروف ہونا جن میں دلی سکون حاصل ہو۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 110* ▍
*·•●✿ آپ کا شوہر آوارہ ہو جائے گا،*
*◆ میاں بیوی کے تعلقات جب خراب ہوتے ہیں تو اکثر عورتیں اپنے شوہر کی جنسی خواہش کی کمزوری کو ایکسپلائٹ کرتی ہیں اور اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے کے لیے اسے ایک ٹول کے طور استعمال کرتی ہیں۔ اور مرد اس بات کو خوب محسوس کرتے ہیں۔*
*◆ اب یہاں مرد اگر دنیا دار ہو تو ضد میں اپنی خواہش باہر سے پوری کر لیتا ہے لیکن بیوی کے سامنے جھکتا نہیں ہے۔ بعد میں جب وہ خواہش باہر سے پوری کرنے کا عادی ہو جاتا ہے تو بیوی درس قرآن کی کلاسز اٹینڈ کرنا شروع کر دیتی ہے اور مظلوم بن کر یہ فتوے پوچھتی پھرتی ہے کہ ایسے شوہر کے ساتھ رہنا جائز ہے کہ نہیں کہ جس کے غیر محرم عورتوں سے ناجائز تعلقات ہوں۔*
*◆ اور شوہر اگر دیندار ہو تو طلاق کی طرف نکل جاتا ہے۔ اسی لیے ہمارے دین میں بیوی کے اپنے شوہر کو اس مسئلے میں انکار کو اتنا بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے کہ جیسے ساری رات فرشتے اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ عورتوں کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ دین کا یہ حکم ان کی بھلائی میں ہے، سو فی صد بھلائی ہے۔ وہ اس پر عمل نہ کر کے تو دیکھیں، یا گھر ٹوٹ جائے گا یا شوہر آوارہ ہو جائے گا، کوئی تیسری آپشن نہیں ہے*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 111* ▍
*·•●✿ جنسی_کشش_کیا_ہے؟....*
*عورت کو دیکھ کر مرد کیوں ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے؟*
*اس کائنات میں سب سے دلکش اور حسین وجود عورت ہے*۔
*قدرت نے اس میں ایسی کشش رکھ دی ہے کہ مرد اس کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے۔ جبکہ عورت کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ عورت ایک خوبصورت ساز ہے۔ جب تک اس کے تاروں کو نہ چھیڑا جائے نغمہ نہیں پھوٹتا۔ سوال یہ ہے کہ جنسی کشش کیا ہے؟ عورت کو دیکھ کر مرد کیوں ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے؟*
*مرد عورت کو دیکھ کر ہیجانی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے صحیح نہیں ہے اور اگر اس کو صحیح مان لیا جائے تو یہ بات بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ عورت کے اندر بھی ہیجانی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ جنسی کشش کی بنیاد نسل کشی کے اوپر قائم ہے۔*
*عورت اور مرد کے اندر کشش خواہ وہ حیوانات میں ہو،* *جمادات میں ہو، نباتات میں ہو اس لئے ہے کہ نسل میں اضافہ ہوتا رہے اور اللہ کی زمین پر آبادیاں بستی رہیں۔ روحانی نکتہ نظر سے مونث اور مذکر کے اندر دو دو رخ ہوتے ہیں ایک غالب رہتا ہے اور دوسرا رخ مغلوب ہوتا ہے یعنی مذکر میں مونث کا رخ مغلوب اور چھپا ہوا ہے جو رخ مغلوب ہے وہ چاہتا ہے کہ غالب رخ سے مل کر اپنی کمی کو پورا کرے۔ یہیں جنسی کشش ہے۔ جب دونوں رخ باہم مل کر ایک دوسرے میں جذب ہو جاتے ہیں تو نتیجہ میں تیسری چیز تخلیق ہو جاتی ہے*
*خواجہ شمس الدین عظیمی "جنسی کشش کا قانون" کے تحت قلندر شعور میں لکھتے ہیں کہ*
*تخلیق کا قانون ہمیں بتاتا ہے کہ مَرد کا وُجود بھی دو رُخوں پر قائم ہے اور عورت کا وُجود بھی دو رُخوں پر قائم ہے۔ عورت کے اندر مَرد چُھپا ہُوا ہے اور مَرد کے اندر عورت چُھپی ہوئی ہے۔ اگر آدم کے اندر حوّا نہ ہوتی تو حوّا کی پیدائش ممکن نہیں تھی۔ دوسری مثال حوّا کے اندر سے آدم کی پیدائش ہے، جس کو آسمانی کتابوں نے’‘عیسیٰ ‘‘کا نام دیا ہے۔*
*اسی طرح ہر فرد دو پرَت سے مرکّب ہے:*
*ایک پرَت ظاہر اور غالب رہتا ہے…*
*دوسرا پرَت مغلوب اور چھپا ہوا رہتا ہے….*
*مرد ہو یا عورت، دونوں دو دو رُخوں سے مرکب ہیں۔ ایک ظاہر رُخ اور ایک باطن رُخ۔*
*عورت میں ظاہر رخ عورت کے خدّوخال میں جلوہ نما ہو کر ہمیں نظر آتا ہے اور باطن رُخ وہ ہے جو نظر نہیں آتا۔ اس طرح مَرد کا ظاہر رخ مَرد کے خدّوخال بن کر ہمارے سامنے آتا ہے اور باطن رُخ وہ ہے جو مخفی رہتا ہے۔*
*مفہوم یہ ہے کہ مَرد بحیثیت مَرد کے جو نظر آتا ہے وہ اس کا ظاہر رُخ ہے۔ اور عورت بحیثیت عورت جو نظر آتی ہے وہ اس کا ظاہر رُخ ہے۔ مَرد کے ظاہر رُخ کا متضاد باطن رُخ “عورت “ اس کے ساتھ لپٹا ہُوا ہے اور عورت کے ظاہر رُخ کے ساتھ اس کا متضاد باطن رُخ “مَرد” لپٹا ہُوا ہے۔ اَفزائشِ نسل اور جنسی کشش کا قانون (Sexual attraction) بھی ان ہی دو رُخوں پر قائم ہے۔ عورت کے اندر باطن رُخ ( مَرد) چُونکہ مغلوب ہے اور غالب خدّوخال میں نمودار ہو کر مظہر نہیں بنا ہے اس لئے وہ غالب اور مکمل رُخ کو اپنانا چاہتا ہے اور اس کے اندر جذب ہونے کیلئے بے قرار رہتا ہے۔ اسی طرح مَرد کے اندر چھپا ہوا پرَت (عورت) چُونکہ مغلوب اور نامکمل ہے اس لئے وہ بھی عورت کے ظاہری رُخ سے ہم آغوش ہو کر اپنی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ جنسی کشش اس عورت یا مَرد میں نہیں ہوتی جو ہماری نظروں کے سامنے ہے بلکہ عورت کے اندر چھپا ہُوا رُخ اُس مَرد سے ہم آغوش ہو کر اپنی تکمیل چاہتا ہے جو ہمیں جیتی جاگتی شکل میں نظر آتی ہے۔ اسی کو عُرف عام میں ‘‘جنسی جذبہ’’ کہتے ہیں۔*
*جنسی تبدیلی کے واقعات اکثر و بیشتر ہمارے مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ باطنی رُخ کی تحریکات اتنی زیادہ سَریعُ السَیر اور غالب ہو جاتی ہیں کہ ظاہری رُخ کی اپنی تحریکات بظاہر معطّل اور معدوم ہو جاتی ہیں۔ یہ تبدیلی اس طرح واقع ہوتی ہے کہ مَرد کے اندر عورت کا باطن رُخ غالب ہو جاتا ہے اور ظاہر رُخ ( مَرد) کی تحریکات مغلوب ہو جاتی ہیں اور نتیجے میں کوئی مَرد عورت بن جاتا ہے اور اسی طرح کسی عورت میں ظاہری رُخ کی تحریکات مغلوب ہو جاتی ہے تو وہ مَرد بن جاتی ہے۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 112* ▍
*·•●✿ سیکس پر بات کون کرے گا ؟*
*◆ آپ جانتے ہیں کہ سیکس ایجوکیشن میں خسارہ کہاں ہوتا ہے ؟نواجوان نسل مردانہ کمزوری جیسی نفسیاتی چیزوں میں کیوں مبتلاء ہوتی ہے اور یہ سمجھ لیتی ہے کہ وہ شادی کے قابل نہیں ، وہ نامرد ہے ؟*
*کیا آپ جانتے ہیں ان تمام وہمی باتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟*
*◆ جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے بلوغت کی عمر کو پہنچ جاتا ہے تو اس میں چند تبدیلیاں جنم لینے لگتی ہیں۔*
*لڑکی کی تبدیلوں میں مینسز / ماہواری والا عمل شامل ہو جاتا ہے جسے شرعی اصطلاح میں” حیض و نفاس “ سے موسوم کیا جاتا ہے۔*
*◆ لڑکے میں یہ تبدیلیاں نائٹ فال ( Night fall ) وغیرہ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جسے شرعی اصطلاح میں” احتلام “ کہا جاتا ہے۔یوں لڑکے اور لڑکی پر ان تبدیلیوں کے ساتھ ہی چند احکام لاگو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں ان باتوں کی مثبت تعلیم نہیں دی جاتی۔*
*◆ ان تمام باتوں کے ذمے دار وہ والدین ہیں جن کا اپنی اولاد کے ساتھ دوستانہ تعلق نہیں ہے۔جو اپنی اولاد کے لیے تھانے دار بن کر رہتے ہیں۔اولاد ان تمام معاملات کا پہلے پہل سامنا کر رہی ہوتی ہے لیکن والدین کو ان باتوں کا علم ہونے کے باوجود وہ جھجکتے رہتے ہیں۔*
*◆ دیکھیں ! اگر اس دنیا میں سب سے زیادہ حیا والی کوئی شخصیات گزری ہیں تو رسول عربی ﷺ اور ازواج مطہرات کی ذات اقدس ہے اور اس سے بڑھ کر حیا والی ذات اللہ تعالیٰ ہے۔*
*جب انہوں نے شرم محسوس نہیں کی تو میرا ایسے والدین سے سوال ہے کہ کیا وہ ان شخصیات سے زیادہ حیا والے ہیں ؟*
*◆ یہ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ان تمام معاملات کے بارے میں آگاہی دیں ورنہ کتنی ہی اولادیں مردانہ کمزوری جیسے بےشمار اشتہارات پڑھ پڑھ کر نفسیاتی مریض بنتی چلی جا رہی ہے اور اسی بنیاد پر کئی طلاقیں بھی سرزد ہو چکی ہیں۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 113* ▍
*·•●✿ سادگی سے نکاح ایک خوبصورت واقعہ*
*◆ حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا تعلق سکھ گھرانے سے تھا آپ ابتداۓ جوانی میں کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگۓ اور دارلعلوم دیوبند میں داخلہ لے لیا۔ حتی کہ آپ دورہ حدیث کے درجے تک پہنچ گۓ*
*آپ یہ واقعہ خود سنایا کرتے تھے کہ جب میرے سسر کو انکے گھر والوں نے کہا کہ اب ہماری* *لڑکی جوان ہے اسکے لیۓ کوئ مناسب رشتہ تلاش کرکے نکاح کردینا چاہیے وہ* *پنجاب کے مدارس کے دورے پر نکلے تاکہ انہیں اپنی بچی کے لیے کوئ عالم فاضل نوجوان مل سکے حتی کے دارلعلوم دیوبند پہنچ گے جب انہوں نے دورہ حدیث کی کلاس کو دیکھا تو انکی نگاہیں میرے اوپر اٹک گیئں*
*انہوں نے شیخ الہذا حضرت مولانا محمود حسینؒ سے پوچھا کہ یہ طالب علم کون ہے؟*
*◆ انہوں نے بتایا کہ یہ سکھ گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور مسلمان ہوکر ہمارے پاس علم حاصل کر رہا ہے انہوں نے پوچھا کیا یہ شادی شدہ ہے ؟*
*شیخ الہذا نے فرمایا نہیں انہوں نے شیخ الہذا سے پوچھا کیا یہ شادی کرنا چاہتا ہے؟*
*تو میرے استاد محترم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم شادی کے لیے تیار ہو؟*
*میں نے عرض کیا حضرت میں مسلمان ہوں اور میرا سارا خاندان سکھ ہے اب مجھ اکیلے کو کون بیٹی دے گا*
*انہوں نے پوچھا کہ اگر کوئ آپکو اپنی بیٹی نکاح میں دے تو کیا خیال ہے؟*
*میں نے کہا حضرت میں اس سنت کو ضرور ادا کروں گا میں اس کے ترک کا گناہ اپنے سر کیوں لوں چناںچہ میرے سسر صاحب نے فرما دیا کہ کل عصر کے بعد نکاح ہوگا*
*فرماتے ہیں اسکے بعد میں اپنے دوستوں کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ کل میرا نکاح ہے طلباء طلباء ہی ہوتے ہیں وہ یہ سن کر مجھ سے بہت پیار کی باتیں کرنے لگ گۓ کافی دیر بعد ایک دوست نے کہا جی آپ کے کپڑے بہت میلے ہیں لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ کسی دوست سے کپڑے ادھار لے لیں اور وہ پہن کر نکاح کی تقریب میں جاٸیں میں نے کہا میری عزت نفس اس بات کو گوارہ نہیں کرتی میں جو کچھ ہوں سو ہوں میں تو ادھار نہیں مانگوں گا*
*طلباء بھی منطقی ہوتے ہیں آسانی سے نہیں چھوڑتے چنانچہ وہ کہنے لگے اچھا اگر کسی سے نہیں مانگنا تو آپ اسی سوٹ کو دھو کر دوبارہ پہن سکتے ہیں تاکہ صاف کپڑے ہوں*
*◆ حضرت کہتے ہیں میری بدبختی آگئ کہ میں نے اپنے دوستوں کی بات مان لی چنانچہ میں نے دھوتی باندھی اور کپڑے دھو لیے سردی کا موسم تھا اور اوپر سے آسمان ابر آلود ہوگیا عصر کا وقت آگیا میں نے مسجد کے ایک طرف کپڑے ہوا میں لہرانے شروع کر دیے اور ساتھ ہی ساتھ دعایئں بھی مانگنی شروع کر دیں کہ اے اللہ ان کپڑوں کو خشک فرما دے اور موسم کی خرابی کی وجہ سے کپڑے خشک ہونے پر نہیں آرہے تھے حتی کہ عصر کی اذان ہوگئ اور میں سردی کے موسم میں گیلے کپڑے پہنے مجمع میں آکر بیٹھ گیا لیکن میرے سسر کا دل سونے کا بنا ہوا تھا کہ انکی نظر ان چیزوں پر بلکل نہیں تھی انہوں نے دیکھا کہ کل بھی یہی کپڑے تھے اور آج بھی وہی کپڑے ہیں اور گیلے ہیں اسکے پاس کوئ دوسرا جوڑا نہیں ہے اسکے باوجود انہوں نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا اور کچھ عرصے بعد رخصتی ہوگئ*
*ابتداء کے چند دنوں میں میرے اوپر فاقے آۓ کیوں کہ میں* *طالب علم تھا اور تازہ تازہ پڑھ کر فارغ ہوا تھا کمائ کا کوئ ایسا سلسلہ بھی نہیں تھا کبھی کھانے کو مل جاتا اور کبھی نا ملتا کچھ عرصے میری دلہن* *میرے گھر میں رہی اسکے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر گئ تو اسکی والدہ نے پوچھا بیٹی تونے اپنے نۓ گھر کو کیسا پایا؟*
*◆ فرماتے ہیں کہ میری بیوی نیک اور پاک عورت تھی اسکی نظر میری دینداری پر تھی چنانچہ اس نے اسکو سامنے رکھتے ہوۓ اپنی والدہ سے کہا اماں میں تو سمجھتی تھی کہ مرنے کے بعد جنت میں جایئں گے لیکن میں تو جیتی جاگتی جنت میں پہنچ گئ ہوں*
*حضرت لاہوریؒ فرمایا کرتے تھے*
*میرے سسر نے مجھے اس وقت پہچان لیا تھا جب احمد علی احمد علی نہیں تھا اور آج تو* *احمد علی احمد علی ہے*
*◆تو دیکھیں کہ یوں بھی نکاح ہوا کرتے تھے ہمارے اکابر یونہی نکاح کیا کرتے تھے اور آج کل دیکھیں کہ نکاح کو ہم نے کتنا بڑا مسئلہ بنا لیا اس لیۓ پھر* *برکتیں نازل نہیں ہوتیں گھر آباد ہونے کی بجاۓ برباد ہو* *جاتے ہیں لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم سادگی *سے اپنے نکاح کیا کریں*
*رب تعالی عمل کی توفیق عطا فرماۓ آمین*
*اس معاشرے میں عورت کا*
*مرتبہ کیسے بلند ہوسکتا ہے*
*جہاں مردوں کی لڑائی میں*
*گالیاں ہی ماں بہن کی دی جاتی ہیں*
*◆ ہمارے ہاں تو سسرال والے داماد کو فرمائشوں سے قرضوں میں غرق کرکے کہتے ہیں میری بیٹی کو خوش رکھنا*
[ *یہ تحریر شئیر ضرور کریں*]
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 114* ▍
*·•●✿ آج عورت نعرہ لگاتی دکھائی پڑتی ہے کہ ہمیں مردوں کے برابر آنا ہے لیکن :*
*◆ آج جو کچھ منظر نامے پر آنکھوں سے دکھائی اور کانوں سے سنائی دیتا ہے، ہم اسی کو حقیقت سمجھے بیٹھے ہیں۔ اس کیفیت کو صرف لا علمی نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ علمی یتیمی کی نشانی ہے۔ آج عورت نعرہ لگاتی دکھائی پڑتی ہے کہ ہمیں مردوں کے برابر آنا ہے برابری کے لیے وہ اینٹیں اٹھانے کو تیار نہیں، گٹر صاف کرنے میں آگے آنے پر راضی نہیں، کھمبوں پر لٹک کر بجلی کی تاریں جوڑنے پر آمادہ نہیں بلکہ صرف ان پوزیشنز پر ہاتھ صاف کرنا چاہتی ہے جہاں مرد عزت سے بیٹھا دکھائی دے۔ جو مرد رائڈر کی نوکری کر رہا ہے اس کو بیٹی دینے کے لیے کوئی راضی نہیں ہے لیکن جو لڑکی رائڈر کی نوکری کرنے لگے اس کو این جی اوز ہیروئن بنا کر پیش کرتی ہیں۔ برابری کا نعرہ لگا کر بے پردہ ہونا اور جواز یہ دینا کہ مرد بھی تو پردہ نہیں کرتے،*
*◆ برابری کا دعویٰ کر کے پینٹ شرٹ پہن لینا کہ مرد بھی تو پہنتے ہیں، برابری کے نام پر اکڑ کر چلنا کہ مرد بھی تو سینہ تان کر چلتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ نے ہر عادت مرد والی ہی اپنانی ہے تو آپ کے پاس عورت ہونے کی کیا نشانی باقی رہی؟ اب کوئی یہ نہ کہے کہ بائیولوجی کا فرق ہے کیونکہ اس فرق کو تو فیمنزم کی بانی سیمون ڈی بووا نے اڑا کر رکھ دیا تھا کہ جسمانی بناوٹ کی بنا پر انسان کو مرد و عورت میں تقسیم کرنا ہی ظلم کی شروعات ہے۔ کچھ سمجھ آیا؟ فیمنزم کی بانی آج زندہ ہوتی تو سوچتی کہ "میں نے تو خدا کی ذات کا انکار کیا تھا اس لیے جسمانی بناوٹ کو محض حادثہ مان کر مرد و عورت کی تقسیم کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مرد کی برابری کرنے کا دعویٰ تو میرا بھی نہیں تھا جب کہ میں ملحدہ تھی۔ یہ کون عورتیں ہیں جو خود کو کسی خدا کا ماننے والا بھی بتاتی ہیں اور بے غیرتی میں مجھ سے دس ہاتھ آگے ہیں"۔*
*نظریاتی کنفیوژن سے باہر نکلیں تاکہ دین کی روشنی میں رہنمائی مل سکے کہ ہم کون ہیں، کس نے ہمیں بنایا ہے اور جیسا بنایا ہے ویسا کن کاموں کے لیے بنایا ہے۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 115* ▍
*·•●✿ مردوں کو صبح کے وقت زیادہ ایرکشن / عضو تناسل میں سختی کیوں محسوس ہوتی ہے کیا وجوہات ہیں ؟*
*◆ میڈیکل سائنس میں صبح کے وقت مرد کے عضو تناسل میں ایرکشن ہونے کی کئی مستند وجوہات بتائی گئی ہیں جو کہ درج ذیل ہیں ۔*
*◆(1) صبح بیدار ہوتے وقت مرد کے سیکس ہارمون (ٹیسوسٹیرون )کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے دماغ پر سکون ہوتا ہے جسمانی تھکاوٹ نہیں ہوتی اس لیے ٹیسوسٹیرون ہارمون کی سطح میں اضافے سے مرد کے عضو تناسل میں صبح یا پھر سوتے وقت سختی /ایرکشن پیدا ہوتی ہے جیسے جیسے مردوں کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے تب 40سے 50سال کی عمر کے درمیان قدرتی طور پر ٹیسٹوسٹیرون کی سطح کم ہونے لگتی ہے اس صورت میں صبح کے وقت ایرکشن ہونا بند یا پھر کم ہو جاتی ہے۔*
*◆ (2) جب مردجاگ رہا ہوتا ہے تو اس دوران اس کا جسم عضو تناسل کو دبانے کے لیے ہارمونز جاری کرتا ہےتا کہ جاگتے وقت بغیر ضرورت عضو تناسل میں تناؤ نہ آئے اور جب ضرورت ہو اس وقت ایرکشن ہو لیکن سوتے وقت مرد کا جسم ان ہارمونز کو کم ریلیز کرتا ہے اس وجہ سے بھی نیند میں یا صبح کے وقت عضو تناسل میں ایرکشن ،سختی ،یا تناؤ آتا ہے ۔*
*◆(3) نیند کے دو حصے ہوتے ہیں* *ایک حصے کو (این آر ای ایم* *سلیپ) جبکہ دوسرے حصے کو (آر ای ایم سلیپ) بولتے ہیں*
*جب مرد نیند کے دوسرے* *حصے( آر ای ایم) میں ہوتا ہے تو اس حصے میں انسان کو خواب آتے ہیں دیگر دوسرے خوابوں کے ساتھ ساتھ شہوانی خواب آنا بھی عام سی بات ہے شہوانی خواب آنے سے مرد کے عضو تناسل میں خودبخود سختی آتی ہے یہ سختی ایک رات میں سوتے ہوئے چار سے پانچ دفعہ آ سکتی ہےاس لیے صبح کے وقت بھی تناؤ دیکھنے کو ملتا ہے تمام مردوں کی خواہش ہوتی ہے کہ صبح کے وقت ہر حال میں ان کے عضو تناسل میں سختی* *یعنی ایرکشن ہو لیکن ایساہرگز نہیں ہوتا کہ مرد ہر بار ہی( آر ای ایم سلیپ) سے سو کر اٹھے اگر مرد (این آر ای ایم سلیپ) سے سو کر اٹھے گا تو عضو تناسل میں سختی ،تناؤ، ایرکشن ،نہیں آئے گی اگر سختی آئی تو یہ بالکل نہ ہونے کے برابر ہو گی کچھ لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سوتے ہوئے ان کا مثانہ پیشاب سے فل ہوتا ہے انہیں پیشاب کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے شاید اس لیے یہ تناؤ یا سختی نیند کے دوران پیشاب آنے سے روکتی ہے لیکن یہ حقیت نہیں ہے صرف غلط فہمی ہے۔*
*صبح کے وقت تناؤ کیا اہمیت کیا ہے؟*
*◆ جن لوگوں کو ایرکشن/مردانہ کمزوری کا مسلہ ہوتا ہے ان سے اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ کیا انہیں صبح کے وقت ایرکشن ہوتی ہے؟اگر ان کا جواب ہاں میں ہو تو سمجھیں انہیں جسمانی طور پر مردانہ کمزوری کا کوئی مسلہ نہیں ایرکشن نہ آنے کی بھی کئی وجوہات ہیں کسی کا عضو تناسل کی جانب خون کا بہاؤنہیں ہو پاتا ، تو کسی کو ٹیسٹوسٹیرون کی کمی کا سامنا ہوتا ہے شوگر ، ہائی بلڈ پریشر ، موٹاپا ، سگریٹ نوشی ڈپریشن سٹریس انگزایٹی پرالیکٹن ہارمون کا بڑھ جانا بھی اس کی وجہ ہو سکتی ہے صبح کے ایرکشن سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ مرد کو جسمانی طور پر کوئی مسلہ نہیں یہ صحت مندی کی علامت ہے کیونکہ اگر عضو تناسل کی رگیں خراب ہوتیں یا اس طرف خون کا بہاؤ کم ہوتا تو صبح کے وقت بھی ایرکشن/ سختی بالکل نہ ہوتی۔*
*◆ کئی مرد پریشان ہوتے ہیں کہ انہیں صبح کے وقت ایرکشن کیوں نہیں ہوئی جس وجہ سے وہ گھبراہٹ اور ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ڈپریشن* *گھبراہٹ میں ہی سو جاتے ہیں کیونکہ یہ بات سوچ سوچ ان کی گھبراہٹ مزید بڑھ جاتی ہے اس لیے صحت مند ہونے کے باؤجود بھی انہیں صبح کے وقت* *ایرکشن سختی نہیں ہوتی حالانکہ نارمل انسان جسے کوئی مسلہ ہی نہیں تھا وہ بھی اس بات کو لے کر پریشان ہوا اور آہستہ آہستہ ذہنی مریض بن گیا صبح کے وقت تناؤ ہر دن نہیں* *ہوتا اگر آپ کی آنکھیں بند ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کا جسم یا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا ہے نیند کی حالت میں بھی* *انسانی دماغ نارمل حالت میں کام کرتا ہے اگر سوتے وقت بھی عضو تناسل سے آپ کا اپنا ہاتھ ٹچ ہو جائے تو بھی ایرکشن آ جاتی ہے اگر آپ کا وزن زیادہ نہیں ،آپ کو ہائی بلڈ پریشرکا مسلہ نہیں ،کولیسٹرول لیول ٹھیک ہے ، شوگر کے مریض نہیں ، ڈپریشن نہیں تو سمجھیں آپ بالکل صحت مند ہیں۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 116* ▍
*·•●✿ کیا اندام نہانی سے منی کا خارج ہونا معمول ہے؟*
*◆ سیکس کے بعد اندام نہانی سے منی کے اخراج کے بارے میں اہم حقائق_*
*◆ یہ عام بات ہے اور توقع کی جانی چاہیے حقیقت میں، منی کا اخراج دراصل ایک اچھی چیز ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ انزال کافی ہے اندام نہانی میں منی کے خارج ہونے کے بعد، نطفہ فوراً سرویکس میں اور اوپر رحم میں جانا شروع کر دیتا ہے تاکہ فیلوپین ٹیوبوں میں فرٹلائجیشن ہو۔*
*اندام نہانی میں انزال کے چند منٹوں کے اندر نطفہ ٹیوبوں میں چلا جاتا ہے۔*
*ایک بار جب انزال اندام نہانی کے اندر ہوتا ہے تو اندام نہانی کی رطوبتیں زیادہ تر سپرم کو تباہ کرنا شروع کر دیتی ہیں۔*
*· جب وہ سرویکس اور بچہ دانی میں منتقل ہوتے ہیں، تو وہ مخالف اندام نہانی کے تیزابی رطوبتوں سے محفوظ رہتے ہیں*۔
*کیا منی کا اخراج آپ کے لیے حاملہ ہونا مشکل بنا سکتا ہے؟*
*· نہیں*
*مایوسی اور دیرینہ بانجھ پن کی وجہ سے کچھ خواتین منی کے اخراج کی فکر کرتی ہیں۔*
*کچھ خواتین جنسی تعلقات کے فوراً بعد کچھ خارج ہونے کو محسوس کرتی ہیں اور سوچتی ہیں کہ یہ بانجھ پن کی وجہ ہے۔*
*اس کے orgasm کے بعد اندام نہانی سے نکلنے والا سیال انزال کا محض ایک حصہ ہے۔*
*حقیقت میں، انزال کا 5% سے بھی کم اصل میں سپرم ہوتا ہے - 95% سے زیادہ دوسرے سیالوں سے بنا ہوتا ہے۔*
*اندام نہانی سے انزال کا اخراج آپ کو حاملہ ہونے سے روکنے کا بہت زیادہ امکان نہیں ہے۔*
*· درحقیقت، (sex) کے بعد کچھ انزال کا نکلنا بالکل معمول کی بات ہے۔*
*میں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہوں کہ سیکس کے بعد زیادہ سپرم اندر رہے؟*
*◆ آپ کو اندام نہانی سے منی کے اخراج کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔*
*· اگر آپ فکر مند ہیں، تو یہ معاملہ ہے، اگر وہ آپ کی اندام نہانی کے اندر گہرائی میں انزال کرتا ہے، تو آپ یقین کر سکتے ہیں کہ اس کے بعد کتنا ہی انزال نکل جائے، کافی نطفہ سروائیکل بلغم تک پہنچ جائے گا۔*
*مرد انزال کے بعد فوری عورت سے الگ نا ہو۔ عضو شرمگاہ میں رہنے دے جب تک کہ خود نارمل ہو کر باہر نا نکل آئے ۔*
*◆ اگر آپ تجویز کردہ 15-20 منٹ تک اپنی پیٹھ پر رہیں*
*آخر میں، زیادہ پریشان نہ ہوں اور اس حقیقت پر غور کریں کہ یہ صحت کی ایک اچھی علامت ہے کہ کچھ انزال خارج ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنا منی عام طور پر آپ کی اندام نہانی میں مکمل خارج کر رہا ہے اور یہ کافی ہے۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 117* ▍
*·•●✿ نوجوان نسل کے ذہنی اور جنسی مسائل_.....*
*◆ عصر حاضر کے نوجوانوں کو آج سے پچاس سال پہلے کے نوجوانوں کی نسبت مختلف چیلنجز کا سامنا ہے . آج کا نوجوان پہلے کی نسبت زیادہ اپنے مستقبل پر نظر رکھتا ہے . یہ اپنی تعلیم ، روزگار اور مستقبل کی فکر میں رہتا ہے . روشن مستقبل اس کے لیے سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے . انسان کے اندر پائي جانے والی جمالیاتی حس نوجوانوں میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے . انسانی جذبات و احساسات بھی نوجوان کے اندر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں . اپنی فیملی بنانا اور ان کو آسودہ حال زندگی دینا ان کا اہم مشن ہوتا ہے . ایک ایسی زندگی جہاں خاندان کے کسی بھی فرد کو کوئی احساس کمتری نہ ہو . نوجوانوں کے یہی شخصی اور ذاتی مسائل اور ان کے بارے میں فکرمندی ہے جو ہوش سمبھالتے ہی انھیں گھیر لیتی ہے .*
*◆ دیگر فکروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں مذہب , روحانیت اور معنویت کی فکر بھی پائی جاتی ہے . نوجوانی کے دور میں ایک عمومی مذہبی و عرفانی جذبہ غالب رہتا ہے . نوجوانوں کی عبادت میں زیادہ انہماک ، ارتکاز، جوش و جذبہ اور روحانیت ہوتی ہے . اسی لیے بہترین عبادت گزاروں کا تعلق نوجوانوں کے طبقے سے ہوتا ہے . نوجوانوں کی قلبی خواہش ہوتی ہے کہ خدا اور روحانیت کے مرکز و محور سے رابطہ و رشتہ قائم کریں چنانچہ مذہبی پروگراموں میں نوجوان بڑی دلچسپی و رغبت سے شرکت کرتے ہیں . جہاں بھی مذہبیت میں اخلاص کا رنگ نظر آتا ہے وہاں نوجوان آپ کو حاضر ملیں گے . البتہ جب مذہبی حلقوں میں جھوٹ اور فریب کے رنگ نظر آتے ہیں تو بہت سے نوجوان ان سے گریزاں ہو جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود مذہب کے حوالے سے ان میں فکر ضرور قائم رہتی ہے اور زندگی کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مذہب کی ترویج اور سربلندی کی خواہش انھیں پریشان رکھتی ہے .*
*ایک نوجوان کے اندر ابتدائی دور سے ہی ایک نئی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے لہذا وہ چاہتا ہے کہ اس کی اس نئی شخصیت کو با قاعدہ تسلیم کیا جائے جبکہ اکثر و بیشتر یہ ہو نہیں پاتا . قریبی اور دوسرے بزرگ خصوصاً والدین نوجوان کی نئي شخصیت اور شناخت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اکثر و بیشتر یہ ہوتا ہے کہ ارد گرد کے لوگ ، خاندان کے افراد اور معاشرے کے دیگر لوگ نوجوانوں کی اس نئی شخصیت کے احساس سے ناآشنا ہوتے ہیں یا پھر ان پر توجہ ہی نہیں دیتے .*
*اس کے علاوہ نوجوانی میں انسان کو پہلی بار ایک بڑی دنیا کا سامنا ہوتا ہے جس کا سامنا اس نے پہلے نہیں کیا ہوتا . اسے اس دنیا کی بہت سی چیزوں کے بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوتا . اسے زندگی کے بہت سے ایسے واقعات اور تبدیلیوں کا سامنا ہوتا ہے جن کے بارے میں اسے نہیں معلوم ہوتا کہ کیا کرنا چاہئے . اسے محسوس ہوتا ہے کہ اسے کسی رہنمائی کرنے والے اور راستہ بتانے والے کی ضرورت ہے . دوسری جانب ماں باپ , رشتے دار , استاد ان کو بچہ ہی سمجھتے رہتے ہیں اور انھیں توجہ نہیں دیتے اور ان کی فکری مدد کرنے سے قاصر رہتے ہیں . جب نوجوانوں کو مدد نہیں مل پاتی تو انھیں کسمپرسی کا احساس ستانے لگتا ہے .*
*◆ ایک نوجوان کو نوجوانی کے دور میں بہت سی ایسی چیزوں کا سامنا ہوتا ہے جو اس کے لئے نئی اور نامعلوم ہوتی ہیں . اس کے سامنے متعدد نئے سوال آتے ہیں جو جواب طلب ہوتے ہیں . اس کے ذہن میں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں اور وہ ان سوالات اور شکوک و شبہات کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے . اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ اسے تسلی بخش اور مناسب جواب نہیں ملتا . نتیجے کے طور پر نوجوان کو خلا اور ابہام کا احساس ہوتا ہے . نوجوانوں کے اندر یہ نیا احساس بھی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اندر توانائیاں اور انرجی بھری ہوئی ہیں . وہ اپنے اندر جسمانی اور فکری دونوں طرح کی توانائیاں پاتے ہیں . حقیقت یہ ہے کہ جو توانائی اور انرجی نوجوانوں کے اندر بھری ہوتی ہیں وہ اس کے ذریعے سے کرشماتی کام انجام دے سکتے ہیں ان میں پہاڑوں کو ان کی جگہ سے ہٹا دینے کی صلاحیت ہوتی ہے لیکن جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کی اس توانائی اور انرجی سے استفادہ نہیں کیا جا رہا تو اسے لگتا ہے کہ وہ عبث اور بے کار گھوم رہا ہے .*
*◆ نوجوان چاہتے ہیں کہ ان سے مدلل گفتگو کی جائے اور ان کے سوالوں کے جوابات منتقی انداز میں دیے اور سمجھائیں جائیں . آج کا نوجوان چاہتا ہے کہ دین و دنیا کو عقل , منطق , دلیل اور استدلال کی روشنی میں سمجھے لیکن بدقسمتی سے اکثر موقوں پر انھیں روایت پسندی اور ہٹ دھرمی کے ڈنڈے سے چپ کروا دیا جاتا ہے . اس سے ان کی زبان بندی تو ہو جاتی ہے لیکن شعور میں گونجتے سوالوں کی تشفی نہ ہونے سے ذھن مسلسل سلگتا رہتا ہے .*
*◆ نوجوانی کے آغاز کو بلوغت کی عمر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس عمر میں لڑکوں میں جنسی تحریک شروع ہوتی ہے . مخالف جنس کی کشش , کسی کو چاہنے اور خود کے چاہے جانے کے احساسات بیدار ہوتے ہیں . ساتھ ساتھ جنسی اعضا میں ایک نئی انرجی کا احساس شروع ہوتا ہے اور انھیں چھونا اچھاہ لگنے لگتا ہے . یہ سب عوامل نوجوانوں کو خود لذتی کی طرف مائل کرتے ہیں . جب نوجوان ہر طرح کی فکروں اور پریشانیوں میں گھرے ہوتے ہیں تو خود لذتی کا یہ عمل انھیں وقتی تسکین پہنچاتا ہے اور وہ بے دریغ مشت زنی شروع کر دیتے ہیں . لیکن یہ وقتی تسکین وہ لذت نہیں دیتی جس کی وہ ایک حقیقی ساتھی سے توقع رکھتے ہیں اور اس حقیقی ساتھی کے لیے انہیں بہت دیر تک انتظار کرنا پڑتا ہے جس سے ان میں فرسٹریشن اور ڈپریشن پیدا ہوتی ہے . زمانے کے ناصح اس فرسٹریشن کو مذہب کے ڈنڈے سے دبانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن شاز و ناظر ہی ایسی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں .*
*نوجوانوں کا ایک بد ترین دشمن جو خود ان کے اندر موجود ہوتا ہے وہ ہے سستی ، کاہلی ، کام چوری اور کام میں دل کا نہ لگنا ہے . صرف چند نوجوان اس سے بچ پاتے ہیں اور یہ وہی ہوتے ہیں جو آگے چل کر بڑا نام کماتے ہیں . سستی اور کاہلی کی ایک بڑی وجہ جسمانی کمزوری بھی ہوتی ہے .* *نوجوانی کے اوائل میں تیزی سے بڑھتے ہوے جسم کی غذائی ضروریات بھی بہت زیادہ ہوتی ہیں . جیسا کہ اوپر کہا ہے کہ اس دور میں نوجوانوں کو طرح طرح کی شخصی اور دیگر فکریں لاحق ہوتی ہیں اس وجہ سے وہ اپنی خوراک وغیرہ کی طرف صحیح سے توجہ نہیں دے پاتے . اس پر مزید مشت زنی کا بوجھ لدہ جاتا ہے . نتیجتاً جسم میں نمکیات اور وٹامن کی کمی کی وجہ سے کمزوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں . دماغ ہر وقت تھکا رہتا ہے اور کسی کام میں دل نہیں لگتا . سستی اور کاہلی کی عادت جسمانی کمزوری کے ساتھ مل کر نوجوانوں کو ایک ناکام زندگی کی طرف دھکیل دیتی ہے .*
*◆ جب نوجوان ان سب چلینجز سے گزر رہے ہوتے ہیں اور کسی کی مدد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سونے پہ سہاگہ معاشرے کے انپڑھ اور جاہل لوگ بشمول نیم حکیموں کے ان نوجوانوں پر اپنے فرسودہ , جھوٹے اور غیر سائینسی خیالات و مفروضات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں . ذہین اور سمجھدار نوجوان تو ان لوگوں سے بچ جاتے ہیں اور ہمیشہ مستند اور حقائق پر مبنی تحقیقات اور کتابیں پڑھتے..*
*◆ ذہین اور سمجھدار نوجوان تو ان لوگوں سے بچ جاتے ہیں اور ہمیشہ مستند اور حقائق پر مبنی تحقیقات اور کتابیں پڑھتے ہیں لیکن بہت سے نوجوان اس بازاری لٹریچر اور سنی سنائی باتوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں .*
*◆ یہ نوعمری میں نوجوانوں کے مسائل کی ایک ہلکی سی جھلک ہے . اگر لکھتا جاؤں تو یہ ٹاپک کئی ہفتے بھی ختم نہ ہو . مقصد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ نوجوانی کا شروع کا حصہ ہی وہ عمر ہوتی ہے جو انسان کی ساری عمر کا فیصلہ کرتی ہے . اگر آپ ایک نوجوان ہیں اور آپ کو ذہنی مسائل کا سامنا ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ آپ ہی اس کا شکار ہیں بلکہ تقریباً ہر نوجوان ان حالات سے گزرتا ہے . میں خود اس دور سے گزرا ہوں . بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ اس قابل نہیں ہے کہ آپ کی مکمل طور پر مدد کر سکے . آپ کو خود اپنی مدد آپ کرنی ہے . اپنی مدد کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے مسائل اور فکروں کو سمجھیں . پھر ان کے آگے ہتھیار ڈالنے کی بجائے پوری قوت کے ساتھ ان کے سامنے ڈٹ جائیں . اگر آپ ایک کام صحیح کر لیں تو وہ آپ کے سو طرح کے مسائل حل کر دے گا اور وہ یہ ہے کہ اپنے ارد گرد اور معاشرے کے ایسے لوگوں کو پہچانیں جن سے آپ مدد لے سکتے ہیں . اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھیں جن لوگوں کی آپ بات سننا چاہ رہے ہیں انھوں نے خود زندگی میں کیا حاصل کیا ہے اور کتنا نام کمایا ہے . جو خود اپنے لیے کچھ خاص نہیں کر سکا وہ آپ کو زندگی میں آگے بڑھنے کے بارے میں کیا بتا سکے گا . اگر آپ ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں تو ایک ڈاکٹر کی سنیں . اگر ایک حکیم بننا ہے تو کسی حکیم کی سنیں . اگر ایک سائینسدان بننا ہے تو سائینسدانوں کی سنیں . اگر ایک کلرک بننا ہے تو کسی کلرک کی باتوں پر یقین رکھیں . فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے , منزل آپ نے خود چننی ہے . بس یہ یاد رکھیں جو خود آپ کی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچا وہ کس طرح آپ کو بتا سکتا ہے کہ آپ کی منزل تک کونسا صحیح راستہ جاتا ہے*
*◆ میں نے یہ پوسٹ خاص طور پر ان نوجوانوں کی وجہ سے لکھی ہے جو میری پوسٹوں پر انپڑھ لوگوں کی باتیں سنا کر مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں .*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 118* ▍
*·•●✿ جس نگاہ سے آپ دوسروں کی بیویاں دیکھتے ہیں*
*◆ ہر انسان کو ایک بھڑکتے سیکس کی بھوک ہوتی ہے ،لیکن اگر یہی سیکس دوسروں میں تلاش کرنے کی بجائے اپنی بیوی میں تلاش کیا جائے ،جس نگاہ سے آپ دوسروں کی بیویاں دیکھتے ہیں اور دوسرے آپکی بیوی کو ویسے ہی اپنی بیوی کو دیکھنا شروع کر دیں تو آپ سارا سیکس گھر میں ہی مل جائے گا ،بات* *احساس کی ہے ، آپ اپنی ہی بیوی کو وہ احساس دیں تو یقین کریں وہ ہر وقت آپ کے لیے نئی نویلی دلہن ہو گی ، دوسری عورتوں کیں بھی یہی سب کچھ ہے جو آپ کی بیوی میں ہے ،*
*◆ اپنے گھر میں اپنے بیڈ روم میں جیسا لباس پہنائیں ،جیسی ادائیں دیکھنا چاہیں ، اور جیسے پیار کرنا چاہیں آپ پر اسلام نے کوئی پابندی نہیں لگائی سوائے غیر فطری اور غلیظ اعمال کے ، صرف احساس کی ضرورت ہے ،*
*◆ یہ وہ آگ ہے کہ اگر ہر روز بھی نئی عورت کے ساتھ گزاریں تو اسکی پیاس ختم نہیں ہونی ، اس لیے خود کو سمجھنے کی کوشش کریں ، انشاء اللہ بہت بڑی تبدیلی محسوس کریں گے خود میں ، بس سنجیدگی کے ساتھ سوچیں،*
*◆ ہم کوئی جانور نہیں جو حلال حرام کی تمیز نہ کریں ،آج جوانی کے جوش میں اور شہوانی جذبات کی آگ میں ہم اندھے ہو کر اپنی ہی دنیا اور آخرت کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں ،*
*◆ آج سے اس تصور کی پریکٹس شروع کریں، اپنی ہی بیوی میں وہ سب دیکھیں جو آپ کو دوسروں میں نظر آتا ہے، اسے اپنے شہوانی جذبات کے تصور میں بنائیں سنواریں ، پیار کا اظہار کریں ،وہی مزاح اور دلچسپ باتیں کرنے کی کوشش کریں جو آپ غیروں سے کرتے ہیں ، ویسے ہی تحفے دیں ، کھانا کھلائیں ، رومینس کریں ، میں دعوے کے ساتھ کہتی ہوں اگر یہ پریکٹس آپ نے سنجیدگی سے شروع کر دی تو اپنی بیوی ہی اپ کو دنیا کی خوبصورت ترین عورت لگے گی،*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 119* ▍
*·•●✿ فحش فلمیں دیکھنے کے نقصان_....*
*◆ ذھنی بیماری ہو جاتی ہے*
*ان کو اپنا بیوی پسند نہیں آتا شادی شدہ زندگی انتہائی خطرناک بن جاتا ہے کیوں کہ بیوی ایک ہی ہے لیکن پورن میں طرح طرح کے عورتیں دیکھائی جاتی ہیں اس لیئے اپنی بیوی* *کے ساتھ رہنے کے بجائے وہ پورن دیکھنا زیادہ پسند کرتا ہے یہ* *نشہ کی طرح کام کرتا ہے پہلے دماغ تھوڑے پر راضی ہوتا ہے پھر زیادہ پھر اور زیادہ پھر اور زیادہ ایسا کرنے سے آہستہ آہستہ انسانی دماغ اپنا توازن کھو دیتا ہے ایک گھنٹے سے لے کر چار* *گھنٹے پھر 15 گھنٹے تک صرف پورن ہی دیکھتا رہتا ہے اس لت کا اڈکٹ 50 فیصد پورن اڈکٹ تو شادی نہیں کرتے یا اگر جو شادی کرتے ہیں تو انہیں شادی سے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا چھوٹی عمر میں کوئی ایسے ویڈیوز دیکھنا شروع کرتا ہے تو ذھنی بیماری تو ہوتے ہی ہیں لیکن جسمانی طور بھی وہ انسان برباد ہوجاتا ہے ریوارڈ سسٹم جو خوشی کے ہارمون جسم میں ریلیز کرتا ہے پورن اڈکشن سے ریواڈ سسٹم پورا خراب ہوجاتا ہے اور پھر انسانی جسم بھی بیماری کی لپیٹ میں آتا ہے اور ڈاکٹروں کے ہسپتالوں کے چکر لگاتا پھرتا ہے اسٹڈی کیا گیا تو دیکھا گیا کہ ایسے انسان کا ریوارڈ سسٹم چھوٹا ہوجاتا اس کے خوشی کے ہارمون ختم ہو جاتے ہیں اور وہ لوگوں سے دور رہنا پسند کرتا ہے اور پورن کے لت میں دھنستے چلے جاتا ہے جسمانی نقصان بھی بہت ہیں نفس کا چھوٹا اور ٹیڑھا پتلا ہوجانا منی کا گاڑھا پن ختم ہوجانا اور کمر درد کرنا ہاتھ پاؤں میں جان نہ رہنا ہاتھ پاؤں کا کانپنا بال گرنا چہرہ سیاہ اور خطرناک بن جانا منہ کا بدبو اور کڑوا پن ہوجانا جسم سے بدبو آنا بات خوف کا آنا ڈیپریشن تنہائی اور اپنے خونی رشتوں میں بھی جانوروں جیسا سوچنا استغفر اللہ مزاج میں چڑچڑاپن لوگ بیزار ہوتے ہیں تو غصہ آتا ہے اور پریشانی ٹینشن *آتے ہیں باتوں میں مٹھاس لطافت اور تفریحِ نہیں رہتا زبان تک کنٹرول سے باہر ہوجاتا ہے 20 پرسنڈ آدمی ایسے ہوجاتے ہیں کہ ان کی ٹائمنگ بلکل زیرو ہوجاتی ہے اور وہ اپنے بیوی سے مجامعت سے پہلے ہی فارغ* *ہوجاتے ہیں بیوی کو راضی نہیں کر سکتے 35 فیصد لوگ بلکل نامرد ہوجاتے ہیں کچھ بھی کام نہیں کرتا ایسے ہی بس نام کے مرد ہاتھ کا ٹمپریچر زیادہ ہونے سے نسیں خراب ہوتی ہیں سکڑ جاتی ہیں اور کئی طرح کے بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں مشت زنی کا عادی ہونا پورن کی وجہ سے ہی انسان مشت زنی کا عادی ہوجاتا ہے اور مشت زنی کے لاتعداد نقصان ہیں سب سے بڑا نقصان تو یہ ہے کہ اللہ نے جو حد بنایا آپ نے اللہ کے اس حد کو پار کیا تو کیا اتنے بہادر ہو کہ اللہ کے حدود سے ہی آگے نکل جاؤ نہیں اللہ تعالی معاف* *فرمائے ہم کمزور ہیں زنا کا عادی ہوجاتا ہے انسان پورن کی وجہ سے اور زنا بھی اللہ کے بنائے* *ہوئے حدود سے آگے ہے آپ حدود کو پار نہیں کرسکتے اگر پار کیا تو اپنا ہی نقصان کردیا شادی کے بعد بھی پورن مشت زنی اور زنا کا عادی ہوجانا شادی شدہ زندگی کو برباد کردے گا* *معاشرے میں زنا اور بچیوں سے ریپ عام ہوگیا ہے اور دیکھا گیا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس لت سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہر فتنے سے محفوظ رکھے آمین*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 120* ▍
*·•●✿ اچھی سیکس لائف گزارنے کا طریقہ_.*
*◆ مرد ماچس کی تیلی کی طرح ہوتا ہے جو ماچس کی ڈبیا یعنی عورت کے ساتھ ذرا سی چھیڑ چھاڑی پر بھک سے آگ پکڑ لیتا ہے اور جتنے جلدی آگ پکڑتا ہے اتنے ہی جلدی جل کر راکھ ہوجاتا ہے*.
*◆ جبکہ دوسری طرف عورت ماچس کی ڈبیا تو ہے ہی جس سے مرد اپنی تیلی رگڑے تو آگ پکڑ لے لیکن عورت خود میں سبز لکڑی ہے، جس کو آگ لگی تیلی جتنی مرضی کوشش کرکے آگ لگائے اسے آگ نہیں لگاسکتی کیوں کہ جب تک سبز لکڑی گرم ہوگی تب تک تیلی جل کر راکھ بن چکی ہوگی. اب کچھ لوگ اس میں تیلی کا قصور سمجھتے ہیں اور تیلی کو لمبا اور موٹا کرنے کے چکر میں ہوتے ہیں انہیں سمجھنا چاہیے کہ تیلی کا کام صرف پہلے سے جلنے کو تیار لکڑی کو جلانا ہوتا ہے. تو اگر تم بھی اس سبز لکڑی کو اپنی تیلی سے جلانا چاہتے ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اسے گرم کرو، اس سبز لکڑی کو گیلا کرو. اب تم کہو گے ایک تو لکڑی سبز ہے اوپر سے تم اسے گیلا کر رہے ہو؟*
*◆ تو جناب اس پر بالٹی سے پانی ڈال کر گیلا مت کرنے لگ جانا، لکڑی اپنے اندر سے ایک پیٹرول چھوڑتی ہے وہ پیٹرول نکالو اس کا، جو اس کو صحیح معنوں میں گیلا اور گرم کردے گا... پھر جیسے ہی تم اپنی جلتی ہوئی تیلی اس کے قریب لیکر جاؤ گے وہ بھک سے آگ پکڑ لے گی... پھر اس سے فرق نہیں پڑتا تمہاری تیلی چھوٹی ہے، پتلی، سائیڈ پر ٹیڑھی ہے، اس کے ٹوپے میں بارود زیادہ ہے یا کم ہے. جتنا بھی بارود ہوگا وہ اس بارودی سرنگ کو تباہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے. بس شرط وہی ہے کہ پہلے اس گیلی لکڑی کو ایسے چھیڑنا ہے کہ وہ خود پیٹرول چھوڑنا شروع کردے.... تیلی کو جلائے بغیر لکڑی کو گرم کرنے کے اس عمل کو انگریزی میں فور پلے(foreplay) کہا جاتا ہے*.
*◆ خواتین کیلئے فور پلے جنسی تعلقات قائم کرنے کا سب سے اہم حصہ ہے ۔ ان کیلئے یہ سیکس کے عمل سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔ اگر فور پلے میں زیادہ وقت نہیں دیا جاتا ہے تو خواتین کے اعضائے مخصوصہ میں گیلاپن نہیں ہوگا اور ایسی صورت میں خواتین کو مردوں کے عضو خاص کے داخل ہونے کے وقت درد ہوگا اور کئی مرتبہ وہ زیادہ لطف اندوز بھی نہیں ہوں گی ، اس لئے فور پلے میں زیادہ سے زیادہ وقت دینا بہت ضروری ہے۔*
*◆ فور پلے کے وقت ایک دوسرے سے بات کرنی بھی ضروری ہے ، ایک دوسرے کی پسند ، ناپسند بھی معلوم کرنا بھی ضروری ہے ، کسی خاتون کو کان کے کونوں میں چھونے سے لطف آتا ہے تو کسی کو پیٹھ پر ہاتھ لگانا اچھا لگتا ہے۔ کئی خواتین سینے پر لمس سے جوش میں آجاتی ہیں ، کسی کو سخت تو کسی کو نرم لمس پسند آتا ہے۔*
*◆ اب آپ کے ساتھی کو کسی طرح کا لمس پسند ہے ، وہ تو آپ کو ہی معلوم کرنا پڑے گا۔ اس کیلئے آپ کو فور پلے کے وقت اور اس کے بعد بھی اپنے ساتھی سے بات کرنی ہوگی ۔ خواتین عام طور پر جھجھک کا مظاہرہ کرتی ہیں ۔ انہیں کھل کر بات کرنے میں وقت لگتا ہے ، اس کیلئے ضروری ہے کہ انہیں تحفظ اور اپنا پن کا احساس دلایا جائے ۔ جذباتی طور پر محفوظ محسوس کرنے کے بعد ہی وہ کھل کر اپنے دل کی باتوں کو ظاہر کرپاتی ہیں ، اس لئے اپنی خاتون ساتھی سے بات کریں ، ان سے پوچھیں کہ انہیں کیسا لگا ، انہیں کیا پسند آیا اور کیا پسند نہیں آیا ۔ یہ سب جاننا انتہائی ضروری ہے۔"*
*◆ یاد رکھیں شوہر اگر کام سے تھکا ہوا گھر آتا ہے، آتے ساتھ ہی بیوی کو اٹھاکر بستر پر پٹخے اور اس کی ٹانگیں چھت سے لگا دے تو اس سے مرد کی تو تھکن اتر جائے گی لیکن عورت کو مزید تھکن محسوس ہوگی، اس کا سیکس میں دل نہیں لگے گا اسے لگے گا وہ سیکس ورکر ہے جس کا کام بس اس وحشی درندے کی وحشت کو قابو کرنا ہے. اس لئے ایک اچھی سیکس لائف کے لیے اوپر والی معلومات پر عمل کرلیا کرو پھر کہتے ہو میں دو منٹ میں فارغ ہوجاتا ہوں.... اللہ کے بندو دو منٹ بہت ہوتے ہیں لیکن شرط یہیں ہے کہ ان دو منٹوں کے سٹارٹ ہونے سے پہلے پچ اچھی طرح گیلی ہوچکی ہو. پھر تم چھکا نہ بھی مارو تو میچ تم ہی جیتو گے تم ہی چیمپین بنو گے اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو پھر یاد رکھنا چاہے تم دس منٹ بھی پچ پر کھڑے کیوں نہ رہو بعد میں سپر اوور دوسرا کھلاڑی کھیل جائے گا.*
•─━━━━━══════━━━━━─•
🌾🌾
▓▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▔▓
*ﺑِﺴْــــــــــــــــﻢِﷲِﺍﻟﺮَّﺣْﻤَﻦِﺍلرَّﺣِﻴﻢ*
▓▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▁▓
*⭐پوشیدہ راز⭐*
▍ *پوسٹ نمبر 121* ▍
*·•●✿ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ میں جنسی تسکین۔_*
*_(18) سال سے کم عمر بچے اس پوسٹ کو نہ پڑھیں_*
*_شادی شدہ مردوں کے لیے اہم معلومات_*
*ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﺲ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻟﺬﺕ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﻮ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ orgasm ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﻋورﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﻨﺘﯽ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﺎ ﺟﻨﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﯿﺮﺍﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﺍﺱ ﻏﻠﻂ ﻓﮩﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﮈﺳﭽﺎﺭﺝ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﻟﯿﺴﺪﺍﺭ ﻣﺎﺩﮮ ﺳﮯ ﻧﻢ ﮨﻮﻧﺎ ﺳﯿﮑﺲ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﭘﮩﻼ ﻗﺪﻡ ﮨﮯ ﻣﺮﺩ ﺍﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﻣﻨﯽ ﮐﺎﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﺳﺎﺭﯼ ﺭﺍﺕ ﺗﺸﻨﮕﯽ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﻟﺬﺕ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮨﮯ۔ ﺍﺳﺮﯼ ﺟﻨﺴﯽ ﻟﺬﺗﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺮﮨﻮﻥ ﻣﻨﺖ ﮨﯿﮟ۔ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺟﺐ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﺑﺎﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ*
*ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﻣﻨﮧ ﭖ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﭼﮭﻮﺗﮯ ﻟﺒﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ۔*
*ﯾﮧ ﻟﺐ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺟﮍ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﭨﻮﭘﯽ ﺑﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ Clitoris ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮨﻠﮑﯽ ﮨﻠﮑﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﺟﺲ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﻣﺮﺩ ﺍﻭﭘﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﮐﻮ ﻣﺮﺩ*
*ﻣﺒﺎﺷﺮﺕ ﮐﮯ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮ ﺗﺎ ﮨﮯ ۔*
*ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﺍﺳﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔* *ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﺎ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﻋﻀﻮ ﺳﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﺎ*
*ﮨﮯ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﭻ ﺳﮑﺘﯽ ۔* *ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺩﮐﻮ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﮮ ﯾﺎ ﯾﮧ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ ﺍﻥ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻣﻔﯿﺪﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﻮﺵ ﮐﯽ*
*ﺍﻧﺘﮩﺎ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔*
*ﺍﯾﺴﯽ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﺳﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿن ﺤﺎﺻﻞ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑتی ﺗﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ*
*ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﻮﺯﯾﺸﻦ میں ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺑﺮﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﺭﮔﮍ ﮐﯽ ﺯﺩﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔*
*ﻋﻮﺭﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺧﻮﺩ ﻣﺨﺘﺎﺭ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔*
*ﯾﻮﮞ ﻋﻮﺭﺕ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﯽ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﻋﻤﻮﻣﺎً ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﮐﻮ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺷﺎﺩﯼ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺑﻌﺾ ﺩﻓﻌﮧ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﺳﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺫﮨﻨﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺳﺮ ﻣﮩﺮ ﮨﯿﮟ۔*
*ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ* *ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ*
*ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﻗﻮﻑ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔*
*٭ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺗﺨﯿﻼﺕ :*
*ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺻﺪﯼ ﺍﺩﯾﺒﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﻭﻝ ﻧﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺯﺭﺧﯿﺰ ﺛﺎﺑﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔* *ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺍﯾﺴﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻔﺮﻭﺿﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻣﻨﺴﻠﮏ ﮐﯿﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺧﻮﺩ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﮯ۔*
*ﺟﺐ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺟﺬﺑﺎﺕ ﺑﮭﮍﮐﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻟﭩﺮﯾﭽﺮ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺯﺑﺮﺩﺳﺖ ﺩﮬﻤﺎﮐﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺘﻈﺮ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯿﮯ ﺩﮬﻤﺎﮐﮯ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﻮﻉ ﭘﺬﯾﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ تو ﭘﮭﺮ ﺟﻠﺪ ﯾﮧ مایوﺳﯽ*
*ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺩ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﮐﻮ ﺟﻨﺴﯽ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔*
*ﮐﭽﮫ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﺮﺟﻮﺵ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ*
*ﮨﯿﮟ۔ جس ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﮍﭘﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ*
*ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ﭼﻼﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﺎﺧﻦ ﯾﺎ ﺩﺍﻧﺘﻮﮞ ﺳﮯ*
*ﺯﺧﻤﯽ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﯾﺴﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮐﻢ ﮨﯿﮟ۔*
*٭ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﻋﻼﻣﺎﺕ* :
*ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻧﻮﻋﯿﺖ ﺳﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺷﺪﯾﺪ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔*
*۱۔ ﺟﺴﻢ ﮐﻮ ﮈﮬﯿﻼ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﻨﺎ*
*۲۔ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﻣﻮﻧﺪ ﻟﯿﻨﺎ*
*۳۔ ﺷﺮﻡ ﮐﺎ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﺎ*
*۴۔ ﻧﭽﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ* *ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﻋﻀﻮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎﻧﺎ*
*۵۔ ﺍﯾﮏ ﯾﺎ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﭩﮑﻨﺎ*
*۶۔ ﭘﺴﯿﻨﮧ ﺳﮯ ﺷﺮﺍﺑﻮﺭ ﮨﻮﺟﺎﻧﺎ*
*۷۔ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﯽ ﮐﺮﻧﺎ،ﻧﺎﺧﻦ ﻣﺎﺭﻧﺎ ﯾﺎ ﺯﻭﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﻨﺎ*
*۸۔ ﻋﻀﻮ ﺗﻨﺎﺳﻞ ﮐﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮧ ﻧﮑﺎﻟﻨﮯ ﺩﯾﻨﺎ*
*۹۔ ﺍﮔﺮ ﻣﺮﺩ ﻣﻨﯽ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮐﺮ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﮯ ﺍُﭨﮭﻨﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ*
*٭ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ*
*ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻧﺸﺎﻧﯿﺎﮞ :*
*ﻋﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﻣﮑﻤﻞ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺭﺩ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﺎ* *ﺷﺮﯾﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﭩﮭﺎ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭﭘﭩﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺪ ﻡ ﻧﮑﻞ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮨﮯ۔*
*۱۔ ﭼﮩﺮﮮ ﺳﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔*
*۲۔ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﮍﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﯿﮧ ﮮ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﺎﺯﻭ ،* *ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ﮐﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ۔*
*۳۔ ﭘﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﭩﮭﮯ ، ﮐﻢ ﮐﮯ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺪﯾﺪ ﺳﮑﮍ ﻥ ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻨﭽﺎﺅ ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﻨﺎﺅ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔*
*۴۔ ﺟﺐ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﮐﯽ ﺩﯾﻮﺍﺭ 5 ﺗﺎ 8 ﺳﯿﮑﻨﮉ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻏﯿﺮ ﺍﺭﺍﺩﯼ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﮑﮍﺗﯽ ﮨﮯ ۔*
*۵۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺧﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ، ﭘﯿﺸﺎﺏ ﮐﮯ*
*ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﮯ ﮐﻨﭩﺮﻭﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﻟﮯ ﭘﭩﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﭽﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮍﻥ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔*
*۶۔ ﮐﻼﺋﯿﭩﻮﺭﺱ ﺟﻮ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﮍ ﮐﺮ ﻏﺎﺋﺐ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﭼﮭﺎﺗﯿﺎﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮍﯼ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﺑﺎﺅ ﮐﻢ ﮨﻮﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﺎﺋﺰ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﻣﺤﺴﻮﺳﮩﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔*
*۷۔ ﻧﭙﻞ ﮐﮭﮍﮮ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﭼﮭﺮﯾﺎﮞ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺩﮬﮍﮐﻦ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ 100 ﺳﮯ 150 ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ*
*۸۔ ﺑﻠﮉ ﭘﺮﯾﺸﺮ 30mmHg ﺳﮯ 80mmHg ﺗﮏ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔*
*۹۔ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﺭﻓﺘﺎﺭ ﺗﯿﺰ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ 40 ﻓﯽ ﻣﻨﭧ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔*
*۱۰۔ ﺧﻮﻥ ﺟﻠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﭘﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮔﻮﺭﯼ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﯽ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﯾﺎﮞ ﻧﻈﺮؘﺁﺗﺎ ﮨﮯ ۔*
*۱۱۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﺍﻭﺭ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﭘﺮ*
*ﮨﻠﮑﮯ ﻻﻝ ﺭﻧﮓ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﮯ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﭼﻨﺪ ﻣﻨﭧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔*
*٭ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﯽ*
*ﺍﻗﺴﺎﻡ :*
*۱۔ ﺩﺭﻣﯿﺎﻧﮧ ﺩﺭﺟﮯ ﮐﯽ ﺣﺴﺎﺱ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺍﯾﮏ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺕ 30ﺳﮯ 60 ﺳﯿﮑﻨﮉ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔*
*۲۔ ﺑﻌﺾ ﺑﮩﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ۔*
*۳۔ ﺑﻌﺾ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﺟﻨﺴﺘﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺤﺮﯾﮏ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ۔*
*۴۔ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﺯﺍﺭ ﻭ ﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﯾﺎ ﭘﺮ ﺗﺸﺪﺩ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﺴﻢ ﭘﺮ ﺟﻨﺴﯽ ﺗﺴﮑﯿﻦ ﮐﮯ* *ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﺎﺧﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻧﺸﺎﻥ ﮈﺍﻝ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻨﺴﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺗﺸﺪﺩ ﯾﺎ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ*
*ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﻓﮑﺮ ﻣﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﺴﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ۔* *ﺑﻌﺾ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺧﻮﺍﺗﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺬﺑﺎﺗﯽ ﻋﻼﻣﺘﯿﮟ ﻭﻗﺘﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﺑﺨﻮﺩ ﻧﺎﺭﻣﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔*
•─━━━━━══════━━━━━─•
No comments:
Post a Comment