Wednesday, 6 September 2023

احکام النکاح

🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 01* ・❱━━━

   *میاں بیوی کا ایک دوسرے کو خون دینے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا*

   اگر شوہر یا بیوی کو خون چڑھانے کی ضرورت ہو ، اور دونوں کا بلڈ گروپ(Blood Group ) بھی ایک ایسا ہو کہ ایک دوسرے کو چڑھایا جاسکتا ہے تو بیوی کا خون شوہر کو ، یا شوہر کا خون بیوی کو چڑھانے سے رشتہ زوجیت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، نکاح بدستور قائم رہتا ہے ، کیوں کہ شریعت اسلام نے محرمیت کو نسب ، مصاہرت اور رضاعت کے ساتھ خاص کیا ہے اور ان تینوں میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پایا جاتا۔. 

 📚حوالہ:
▪کتاب الفقہ علی المذاھب الأربعة 4/63
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/100
▪الدر المنتقی علی ھامش مجمع الانھر 1/475
▪جواہر الفقہ 2/40
▪فتاوی رحیمیہ 10/176
▪فتاوی محمودیہ 18/331
▪المسائل المھمہ 1/107
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 02* ・❱━━━

   *عاقل بالغ لڑکا یا لڑکی کو کسی رشتہ پر مجبور نہیں کیا جاسکتا*

   بعض علاقوں میں یہ دیکھا گیا ہے کہ وہاں عاقل بالغ لڑکے اور لڑکی کو کسی کے ساتھ نکاح کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے حالانکہ ان کی رضامندی نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے پوچھا جاتا ہے ، تو یاد رکھیں اولیاء کی جانب سے بالغ لڑکے یا لڑکی کو ان کی خواہش اور رضا کا خیال کیے بغیر کسی رشتہ پر مجبور کرنا قطعا جائز نہیں ہے،  اور اولیاء کا اپنی رائے پر اصرار اور اس پر مجبور کرنے کے لیے طرح طرح کی دھمکیاں دینا اسلام کے دیئے ہوئے حقوق سے محروم کرنے کی ناروا کوشش ہے اور اس طرح کے رشتے کامیاب نظر نہیں آتے، دوسری طرف لڑکے یا لڑکی کو بھی اولیاء کی اجازت اور رضامندی سے نکاح کرنا چاہیے تاکہ رشتہ میں برکت ہو۔

 📚حوالہ:
▪الدر المنتقی فی شرح الملتقی 1/490
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/118
▪الفتاوی الھندیہ 1/287
▪المسائل المھمہ 2/159
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 03* ・❱━━━

   *لڑکے والوں کا غلط نسب ظاہر کرکے نکاح کرنا*

  *کسی لڑکے اور اس کے گھر والوں نے رشتہ نکاح طے کرتے وقت غلط بیانی سے کام لیا اور اپنے نسب و خاندان یا معاشی و سماجی حالت کے بارے میں خلاف واقعہ باتیں بیان کرکے نکاح کیا ، لیکن بعد میں دھوکہ دہی اور غلط بیانی ظاہر ہوئی تو نکاح منعقد ہوا ، البتہ لڑکی یا اس کے اولیاء کو قاضی کے پاس نکاح فسخ کرنے کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا حق حاصل ہوگا۔*

 📚حوالہ:
▪المبسوط للسرخسی 5/28
▪فتاوی قاضی خان 1/353
▪الفتاوی البزازیہ 4/116
▪المسائل المھمہ 2/160
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 04* ・❱━━━

   *تبلیغی اجتماعات میں نکاح کرنا*

  نکاح کے بارے میں شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ اس میں فضول خرچی سے بچا جائے اور نکاح کی خوب شہرت ہو ، نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ " سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں مونت کم ہو"۔
آج کل تبلیغی اجتماعات میں جو نکاحوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ، یہ نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہے ، کیوں کہ اس سے معاشرہ فضول خرچی سے محفوظ رہتا ہے اور نکاح کی خوب شہرت ہوتی ہے۔

 📚حوالہ:
▪شعب الایمان للبیھقی 5/254
▪مرقاة المفاتیح 2/258
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/57
▪فتح القدیر 2/192
▪المسائل المھمہ 2/161
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 05* ・❱━━━

   *سالی سے برا فعل کیا تو بیوی سے نکاح برقرار رہا یا ختم ہوا؟*

سالی اجنبیہ کے حکم میں ہے، اس سے پیار محبت کی باتیں کرنا یا بوس وکنار اور زنا سب ناجائز اور حرام  ہے،  جیسے عام اجنبیہ کے ساتھ یہ چیزیں حرام ہیں، سالی سے زنا کی وجہ سے بیوی سے نکاح ختم تو نہیں ہوتا، مگر جب تک سالی ایک ماہواری سے پاک نہ ہوجائے اس وقت تک اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہیں ہوگی، اور اگر سالی اس زنا کی وجہ سے حاملہ ہو گئی تو جب تک ولادت نہ ہوجائے زانی کے لیے  اپنی بیوی سے ہم بستری کی شرعاً اجازت نہ ہوگی۔
احادیث مبارکہ میں ان رشتوں (سالی بہنوئی، دیور بھابھی)  کے حوالے سے پردے کی  زیادہ تاکید آئی ہے، کیوں کہ یہاں فتنے میں ابتلا کا اندیشہ زیادہ ہے، اگر کسی سے مذکورہ گناہ سرزد ہوا ہو تو اس پر سچی توبہ اور پردے کا اہتمام لازم ہوگا۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/380 سعید
▪النتف فی الفتاوی 189
▪فتاوی عثمانی 2/252
▪فتاوی دارالعلوم زکریا 3/590
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202201287
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 06* ・❱━━━

   *شیعہ لڑکی سے نکاح کا حکم*

اگرکسی شیعہ کا عقیدہ یہ ہو کہ قرآنِ کریم میں تحریف ( ردوبدل) ہوئی ہے، یا جبرئیل امین سے وحی پہنچانے میں غلطی ہوئی ہے، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان باندھتا ہو، یا ان کے جو بارہ امام ہیں ان کے بارے میں اس بات کا قائل ہوکہ ان کو حلال وحرام کا اختیار ہے، یا اللہ تعالیٰ سے غلطی کے صدور کا قائل ہو یا اس کے علاوہ کوئی کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو  اس طرح کے عقائد کا حامل کوئی بھی فرد مسلمان نہیں ہے، لہذا مذکورہ عقائد رکھنے والی شیعہ خاتون سے  کسی سنی لڑکے کا نکاح جائز نہیں ہے، اگر نکاح کرلے تو وہ نکاح کالعدم شمار ہوگا، اور فی الفور علیحدگی لازم ہوگی۔ البتہ اگر شیعہ خاتون اپنے باطل کفریہ عقائد سے صدقِ دل سے توبہ کرکےمعتبر گواہوں کے سامنے اسلامی عقائد کے اعتراف کے ساتھ ساتھ شیعہ  کے باطل عقائد سے مکمل براءت کا اظہار کرے  اور صحیح اسلامی عقائد کا دل وجان سے اقرار کرلے تو اس سے نکاح جائز ہوگا

 📚حوالہ:
▪بدائع الصنائع 2/270 دارالکتب العلمیہ 
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/46
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144206200984
 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 07* ・❱━━━

   *منگیتر(Fiancee) سے بات کرنا*

منگنی نکاح کا وعدہ ہے، نکاح نہیں ہے، منگنی کرنے  کے بعد  منگیتر  بھی دیگر اجنبی لڑکیوں کی طرح نامحرم ہی ہوتی ہے، اور نامحرم لڑکی سے  تعلقات رکھنا، ملنا جلنا، اور ہنسی مذاق   یا بغیر ضرورت بات چیت  کرنا جائز نہیں ہے، اور میسج پر تعلقات رکھنے کا بھی یہی حکم ہے، نیز ہمارے معاشرے کا یہ المیہ  ہے کہ  منگنی ایک طویل زمانہ تک چلتی رہتی ہے، اور مرد و زن منگنی کے بعد ایک دوسرے سے ملتے جلتے رہتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی قباحت  محسوس نہیں کرتے، بلکہ ان کے خاندان والے بھی اس کو عار نہیں سمجھتے، حالانکہ شرعاً یہ بالکل ناجائز ہے۔ بہتر اور سمجھ داری کی راہ یہ ہے کہ منگنی کے بعد نکاح اور رخصتی میں تاخیر نہ کی جائے، لہٰذا اگر فتنے میں ابتلا کا اندیشہ ہے تو جلد رخصتی کا انتظام کیا جائے۔

 📚حوالہ:
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144207200024
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 08* ・❱━━━

   *رضاعی بھائی کے بھائی سے نکاح کا حکم*

  لڑکی کے لیے اپنے رضاعی بھائی کے بھائی سے   نکاح اس صورت میں جائز ہے جب کہ وہ مذکورہ لڑکی کا  رضاعی بھائی نہ ہو،  مثلاً  اگر زید  اور بکر بھائی ہوں اور  فاطمہ جو  ان  کے لیے اجنبی ہو، پھر  فاطمہ نے  زید کی والدہ کا دودھ پیا تو زید کی والدہ کی تمام اولاد  سے فاطمہ کا رضاعت کا رشتہ ہوگیا؛ لہذا اب  فاطمہ کا زید کے بھائی بکر سے رشتہ ناجائز ہے۔ البتہ اگر فاطمہ نے زید کی والدہ کا دودھ نہ پیا ہو، بلکہ زید نے فاطمہ کی والدہ کا دودھ پیا ہو تو فاطمہ کا زید کی والدہ کی اولاد سے رضاعت کا رشتہ نہیں ہوگا؛ لہذا اس صورت میں فاطمہ کا زید کے بھائی بکر سے رشتہ کرنا جائز ہے۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 213/3
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144206201398
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 09* ・❱━━━

   *مسلمان مرد کا غیر مسلم لڑکی سے شادی کرنا*

  کسی مسلمان مرد  کے غیر مسلم عورت  سے نکاح کرنے کی چند صورتیں ہیں:
1۔ اگر وہ غیر مسلم عورت مسلمان ہوجائے  تو اس سے نکاح کرنا بلاشبہ جائز ہے۔
2۔اگر وہ غیر مسلم عورت اہلِ کتاب ( یعنی عیسائی یا یہودی مذہب کی پیروکار ) ہو  تو اس سے نکاح کرنا مکروہ ہے، کیوں کہ موجودہ زمانے میں ان کے ساتھ بود و باش کی صورت میں اپنے یا اپنے بچوں کے دین اور ان کی  اسلامی روایات کو بچانا مشکل ہے۔
3۔ اگر وہ غیر مسلم عورت کسی آسمانی دین کی ماننے والی نہیں، بلکہ دہریہ / مشرکہ  ہے تو اس سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔

نوٹ:
اہلِ کتاب سے نکاح سے متعلق دو باتیں سمجھنے کی ہیں:
1-   اہلِ کتاب سے نکاح اس وقت جائزہے جب وہ حقیقتاً  آسمانی کتاب کے ماننے والے اور اس کے تابع دارہوں، دھریے نہ ہوں۔ اگرتحقیق سے کسی عورت کااہل کتاب ہونا ثابت ہوجائے تو ا س سے اگرچہ نکاح جائزہے، تاہم چندمفاسد کی وجہ سے مکروہ ہے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے دورمبارک میں اس پرسخت ناراضی کااظہارفرمایاتھا۔
2- مسلمان مرد کو کتابیہ عورت کے ساتھ  اس شرط کے ساتھ نکاح کی اجازت ہے کہ وہ مسلمان مرد اسلام کی قوی اور روشن حجتوں اور مضبوط دلائل  کے ذریعہ کتابیہ عورت اور اس کے خاندان کے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرسکے،اگریہ اندیشہ ہوکہ کتابیہ عورت سے نکاح کے بعد خود مسلمان مرد اپنے ایمان کو قربان کربیٹھے گا توپھرمسلمان مرد کو کتابیہ سے نکاح کی اجازت نہ ہوگی۔
دوسری جانب چوں کہ عورت طبعی طور پربھی اور عقلی طور پربھی کم زور ہوتی ہے اور شوہر کے تابع ہوتی ہے، اس میں یہ طاقت نہیں کہ مرد کو اپنے تابع بناسکے،اس لیے شریعتِ اسلامیہ نے مسلمان عورت کا  کتابی مردکے ساتھ نکاح کرنے کو ممنوع قراردیاہے، تاکہ اس کا دین سلامت رہے۔

 📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 281/1
▪معارف القرآن لکاندھلوی رح 447/2
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144206200475
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 10* ・❱━━━

   *حق مہر کیا ہونا چاہیے؟*

  مہر بیوی کا حق ہے، جو کہ اس عورت  کی قریبی ددھیالی ( والد کا خاندان) ہم صفت لڑکیوں کے مہر کے برابر ہونا چاہیے۔ باقی اگر لڑکی  اور اس کے باپ وغیرہ کی اجازت سے کچھ کم رکھا جائے یا لڑکے کی اجازت سے زیادہ رکھا جائے تو  ایسا کرنا بھی جائز ہے۔ 
البتہ مہر کی کم سے کم مقدار دس درہم ہے،  اور دس درہم میں دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی ہوتی ہے، اور یہ موجودہ گرام کے حساب سے تیس گرام چھ سو اٹھارہ ملی گرام چاندی ہوتی ہے۔

 📚حوالہ:
▪سنن الدار قطنی رقم 3560
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 101/3
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111200841
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 11* ・❱━━━

   *دوسری بیوی اپنے حقوق سے دست بردار ہوجائے تو حکم*

   شریعتِ مطہرہ میں مرد کو بیک وقت چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ   بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کرسکے اور شادی کے ساتھ مرد اور عورت کے درمیان کئی حقوق متعلق ہوتے ہیں، یہ تعلق صرف ہم بستری تک محدود نہیں ہے، بلکہ  شادی کی صورت میں بیوی کا مہر، نان و  نفقہ (خرچہ) اس کی رہائش کا انتظام، زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کے بعد دوسرے کا اس کے ترکہ میں  حصہ دار بننا وغیرہ شامل ہیں، اسی وجہ سے شریعت نے  شادی میں گواہوں کی شرط لگائی ہے؛ تاکہ لوگوں کو شادی کا علم ہو اور تمہت کا اندیشہ نہ ہو اور ان کا حقوق کا تحفظ ہوسکے، دوسری شادی کرنے  سے یہ تمام حقوق  دوسری بیوی کے لیے بھی ثابت ہوجاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دونوں بیویوں کے درمیان تمام معاملات (نفقہ، رہائش اور رات گزارنے ) میں برابری ضروری ہے ، ہاں اگر کوئی عورت اپنے شوہر  کے ساتھ رات گزارنے   کے حق  سے دست بردار ہوجائے تو اس کی گنجائش ہے اور جب اس حق کو واپس لینا چاہے تو لے سکتی ہے، اس صورت میں شوہر پر دونوں بیوی کے درمیان رات گزارنے کی باری مقرر کرنا لازم ہوگا، البتہ ہر بیوی کے ساتھ ہم بستری  کرنے میں برابری ضروری نہیں ہے۔ باقی نفقہ شوہر پر ہر حال میں لازم ہے،بیوی کے نفقہ سے دست بردار ہونے سے نفقہ  معاف نہیں ہوتا۔

 📚حوالہ:
▪سورت النساء 3
▪سنن ابی داود 469/3
▪الفتاوی الھندیہ 533/1
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144205200625
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*#سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 12* ・❱━━━

   *گواہوں کا آن لائن نکاح سننے سے نکاح کا حکم*

   واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں جس طرح  نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس کا ایک ہونا  اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا  خود موجود ہونا  یا اُن کے وکیل کا موجود ہونا ضروری ہے،  اسی طرح مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔ 
لہذا اگر کسی مجلس میں عاقدین تو موجود ہوں، لیکن گواہان موجود نہ ہوں، بلکہ گواہان نکاح کی کار روائی کو آن لائن سُن  رہے ہوں تو اس طرح کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 23/3
▪المبسوط للسرخسی 30/5
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144205201530
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 13* ・❱━━━

   *عورت سے غلط تعلقات کے بعد اس کی بہن سے نکاح کرنا*

   نامحرم سے  تعلقات رکھنا، میل جول، اور شرعی ضرورت کے بغیر بات چیت کرنا یا ہنسی مذاق وغیرہ کرنا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے اور ہونے کی صورت میں توبہ و استغفار بھی ضروری ہے تاہم اس کرنے سے اس کی دوسری بہن سے نکاح جائز ہے وہ حرام نہیں ہوئی۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 34/3 سعید
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144206200050
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 14* ・❱━━━

   *دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی سے اجازت لینے کا حکم*

  بیک وقت ایک سے زیادہ (چارتک) شادیوں کے لیے شرعاً اتنی بات ضروری ہے کہ شادی کرنے والا تمام بیویوں کے جسمانی ومالی حقوق ادا کرنے اور ان کے درمیان واجب حقوق میں برابری پر قدرت رکھتاہو۔ پہلی بیوی یا کسی سے اجازت لینا یا اسے اطلاع دینا شرعاً ضروری نہیں ہے۔تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں؛ تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے، اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح  حاصل ہو۔  

 📚حوالہ:
▪سورت نساء آیت 3
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144106200686
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 15* ・❱━━━

   *نکاح شغار ( وٹہ سٹہ شادی) کا شرعی حکم*

   اگر زید نے اپنی بیٹی کا نکاح خالد سے باقاعدہ مہر طے کرکے کردیا، اور پھر خالد نے بھی اپنی بیٹی کا نکاح زید سے مستقل مہر طے کرکے کردیا تو یہ نکاح درست ہے، اور یہ نکاح شغار نہیں ہے،  البتہ  اگر زید اور خالد میں سے ہر ایک اپنی بیٹی کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرے کہ ہر ایک دوسرے کو اپنی بیٹی نکاح میں دےگا اور حق مہر نہیں ہوگا، یعنی کہ ایک لڑکی کے بدلے میں دوسری لڑکی لی جائے، ایسی صورت کو "شغار"  کہتے ہیں جس سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:
"حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "نکاحِ شغار" سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسے کرکے دےگا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ کیا جائے (یعنی دونوں عورتوں کو ایک دوسری کا مہر تصورکیا جائے)۔"
   لہذا از روئے شرع ایسی شادی سے منع کیا گیا ہے۔ البتہ علماء احناف کے نزدیک اگر کسی نے کیا ہے تو نکاح مکمل باطل نہیں ہے بلکہ نکاح صحیح ہے اور عورت کو مہر مثل دیا جائے گا اور اولاد بھی ثابت النسب ہوگی۔

 📚حوالہ:
▪الصحیح المسلم 2/1034
▪الھدایہ 2/327
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/105
▪فتوی دارالعلوم دیوبند جواب نمبر 830
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 16* ・❱━━━

   *کسی کی منکوحہ سے نکاح کرنا*

   اگر کوئی شادی شدہ عورت گھر سے بھاگ جاۓ اور اس کے ایک یا دو بچے بھی ہوں یا بچے بالکل نہ ہو اور وہ جا کے عدالت میں کسی دوسرے بندے سے نکاح کرکے شادی کرے تو اس حوالے سے شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ جب تک پہلا شوہر طلاق یا خلع نہ دے دے یا اس کا انتقال نہ ہوجائے اور اس کی عدت ختم نہ ہوجائے تب تک دوسرا نکاح نہ ہوگا، دونوں کا تعلق ناجائز اور حرام ہے۔ لہذا کسی کے منکوحہ سے نکاح بالکلیہ باطل ہے۔

 📚حوالہ:
▪سورت النساء آیت 24
▪بدائع الصنائع 2/548
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/274
▪الفتاوی الھندیہ 1/280
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144203201363
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 17* ・❱━━━

   *بیوی کا دودھ جان بوجھ کر پینے سے نکاح کا حکم*

    واضح رہے کہ جان بوجھ کر بیوی کا دودھ پینا حرام ہے، اس لیے کہ دودھ عورت کے بدن کا جز ہے اور اجزائے انسانی کا استعمال جائزنہیں ہے، بچوں کے لیے مدتِ رضاعت میں ضرورت کی وجہ سے دودھ پینے کی اجازت دی گئی ہے، لہذا اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اپنی بیوی کا دودھ پیے تو اسے اپنے اس عمل  پر توبہ اور استغفار کرنا  لازم ہے، لیکن اس سے اس کا نکاح نہیں ٹوٹتا۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب النکاح ، باب الرضاع ص 204
▪دررالحکام شرح غرر الاحکام 1/356
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144205201059
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 18* ・❱━━━

   *ولیمہ کا مسنون وقت*

    *ولیمہ کے مسنون وقت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں:*

*(1)عقد کے وقت ۔(2)نکاح کے بعد  رخصتی سے پہلے۔ (3) رخصتی کے بعد ، شب زفاف سے پہلے ۔(4)شب زفاف کے بعد ۔ (5)عقد سے دخول کے بعد تک ۔*

*ان میں سے راجح اور جمہور علماء کرام کا قول یہ ہے کہ  ولیمہ کا مسنون وقت میاں بیوی کے اکٹھا ہونے کے بعد یعنی   شب زفاف اور دخول کے بعد ہے،  علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  شبِ زفاف سے پہلے کے کھانے کو عربی میں ’’ولیمہ‘‘ نہیں کہتے، اسی طرح بخاری شریف میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے کہ آپﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ شبِ زفاف کے بعد ولیمہ کیا۔ اسی حدیث سے فقہاء ومحدثین اور شارحین نے استدلال کیا ہے کہ ولیمہ کا مسنون وقت  شبِ زفاف کے بعد ہے، اور عام طور پر شارحین نے دخول کی تصریح بھی ہے کہ شبِ زفاف میں دخول کے بعد ولیمہ کا مسنون وقت ہے۔ البتہ علامہ عینی  رحمہ اللہ نے  بعض مالکیہ سے   نقل کیا ہے کہ’’ ولیمہ شب زفاف کے بعد اور دخول سے پہلے ہوجائے تو یہ بھی مستحب ہے، اور اسی پر آج کل لوگوں کا عمل ہے‘‘.  نیز خلوتِ صحیحہ بہت سے احکامات میں چوں کہ دخول کے قائم مقام ہے، اس لیے بھی اگر شبِ زفاف میں خلوتِ صحیحہ ہوجائے اور دخول نہ ہو تو بھی اس کے بعد ہونے والے ولیمہ کو  ’’ولیمہ مسنونہ‘‘  کہا جاسکتا ہے، البتہ افضل دخول کے بعد ہی ہے۔*
*خلاصہ یہ ہے ’’ولیمہ مسنونہ‘‘  کا اعلیٰ اور افضل درجہ یہ ہے کہ شبِ زفاف اور دخول کے بعد ہو۔ اور دوسرا درجہ یہ ہے کہ  شبِ زفاف کے بعد اور دخول سے پہلے ہو۔  یہ دونوں مسنون ولیمہ شمار ہوں گے۔  اور اس کے علاوہ  عقد کے بعد، یا رخصتی کے بعد اور شبِ زفاف سے پہلے جو ولیمہ ہو وہ ’’ولیمہ مسنونہ‘‘  تو نہیں ہوگا، البتہ اس سے نفسِ ولیمہ کی سنت ادا ہوجائے گی، گو مسنون وقت کی سنت ادا نہیں ہوگی۔ اور جو دعوت/ ضیافت عقدِ نکاح سے ہی پہلے کی جائے وہ ولیمہ ہی نہیں ہوگا، بلکہ عام دعوت ہوگی۔*

*▪مشکاة المصابیح 2/278 قدیمی*
*▪فیض الباری 5/534*
*▪عمدة القاری 14/112*
*▪الفتاوی الھندیہ 5/343*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 19* ・❱━━━

   *درود شریف یا حفظ قرآن  کو مہر کے طور پر مقرر کرنا*

    واضح رہے کہ مہر میں ایسی چیز دینا ضروری ہے جو کہ مال متقوم ہو، اگرکسی نے مہر  میں ایسی چیز طے کرلی جوشرعاً مال نہ ہو تو اس کا نکاح تو منعقد ہوجائے گا، البتہ شوہر پر عورت کے لیے مہر مثل واجب ہوگا۔ قرآن کریم حفظ کرنا یا درود شریف پڑھنا اگرچہ نہایت مبارک اور فضیلت والا عمل ہے، لیکن چوں کہ مال نہیں ہے، لہٰذا یہ مہر نہیں بن سکتا، لہذا ایسی صورتوں میں نکاح منعقد ہوجائے گا، لیکن  مذکورہ لڑکی کے شوہر پر مہر مثل دینا  واجب ہے۔

 📚حوالہ:
▪التفسیر المظہری 2/47
▪الفتاوی الھندیہ 1/302
▪بدائع الصنائع 2/275
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 20* ・❱━━━

   *منگنی توڑنے کا حکم*

     منگنی (جس میں باقاعدہ نکاح نہ ہوا ہو ، صرف لڑکی دینے کی بات کی ہو) نکاح کا وعدہ ہے اور بغیر کسی عذر کے  وعدہ توڑنا انتہائی ناپسندیدہ عمل ہے، حدیث شریف میں ہے کہ اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں وعدہ کی پاس داری نہیں۔ البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو تو منگنی توڑنا جائز ہے۔

*فتاوی دار العلوم دیوبند* میں ہے:
"خطبہ اور منگنی وعدہ نکاح ہے، اس سے نکاح منعقد نہیں ہوتا، اگرچہ مجلس خطبہ کی رسوم پوری  ہوگئی ہوں، البتہ وعدہ خلافی کرنا بدون کسی عذر کے مذموم ہے، لیکن اگر مصلحت لڑکی کی دوسری جگہ نکاح کرنے میں ہے تو دوسری جگہ نکاح لڑکی مذکورہ کا جائز ہے۔"

 📚حوالہ:
▪فتوی دارالعلوم دیوبند 7/110 دارالاشاعت
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202201449
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 21* ・❱━━━

   *شوہر کے انتقال کے بعد سسر سے نکاح کا حکم*
  
  مرد اور عورت کے باہم نکاح کے بعد  عورت کے اصول و فروع (والدین اوپر تک اور اولاد نیچے تک)  مرد پر اور مرد کے اصول وفروع عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتے ہیں،  اور ان کے درمیان حرمتِ مصاہرت قائم ہوجاتی ہے، لہذا شوہر کے انتقال کے بعد  عورت  کا اپنے سسر سے  نکاح جائز نہیں ہے۔

 📚حوالہ:
▪النتف للفتاوی للسغدی 1/253
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144205200330
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 22* ・❱━━━

   *لاپتا شوہر کی بیوی کے لیے دوسری جگہ نکاح کا حکم*

    مفقود کی بیوی کے لیے اصل حکم تو یہ ہے کہ وہ عفت و عصمت کے ساتھ اپنی زندگی گزارے، لیکن اگر وہ مفقود شوہر کے نکاح  سے رہائی حاصل کرنا چاہے تو درج ذیل صورت اختیار کرکے حاصل کرنے کی اجازت ہے:
    مفقود کی بیوی اپنا مقدمہ مسلمان قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور گواہوں سے ثابت کرے کہ میرا نکاح فلاں شخص کے ساتھ ہوا تھا، پھر گواہوں سے اس کا مفقود اور لاپتا ہونا ثابت کرے، اس کے بعد قاضی خود اپنے طور پر اس کی تفتیش و تلاش کرے، جہاں اس کے جانے کا غالب گمان ہو وہاں آدمی بھیجا جائے، اور جس جس جگہ جانے کا غالب گمان نہ ہو صرف احتمال ہو وہاں خط ارسال کرنے کو کافی سمجھے، اور خطوط ارسال کرکے تحقیق کرے، اور اگر اخبارات میں شائع کردینے سے خبر ملنے کی امید ہو تو یہ بھی کرے۔
    الغرض تفتیش وتلاش میں پوری کوشش کرے، اور جب پتا چلنے سے مایوسی ہوجائے تو قاضی، عورت کو چار سال تک مزید انتظار کا حکم دے، پھر ان چار سالوں کے اندر بھی اگر مفقود کا پتا نہ چلے تو عورت قاضی کے پاس دوبارہ درخواست کرے، جس پر قاضی اس کے مردہ ہونے کا فیصلہ سنا دے، اس کے بعد چار ماہ دس دن عدت گزار کر عورت کو دوسری جگہ نکاح کرنے کا اختیار ہوگا۔
    اور اگر عورت زنا کا شدید خطرہ ظاہر کرے تو ایسی صورت میں چار سال کے انتظار کا حکم ضروری نہیں، بلکہ یہ دیکھا جائے گا کہ شوہر کے غائب ہونے کے وقت سے اب تک کم از کم ایک سال کا عرصہ گزرچکا ہے یا نہیں؟ اگر گزر چکا ہو تو قاضی مزید مہلت دیے بغیر اس وقت بھی نکاح ختم کرسکتا ہے، اسی طرح اگر زنا میں مبتلا ہونے کا خطرہ تو نہیں، لیکن مفقود کا اتنا مال موجود نہیں جو ان چار سالوں میں اس کی بیوی کے نان و نفقہ کے لیے کافی ہو، یا بیوی کے لیے مفقود کے مال سے نان ونفقہ حاصل کرنا مشکل ہو تو اس صورت میں اگر نان ونفقہ دینے کے بغیر کم از کم ایک ماہ گزرا ہو تو قاضی نکاح ختم کرسکتا ہے۔
    واضح رہے کہ آخری ان دونوں صورتوں میں عورت عدتِ وفات کے بجائے عدتِ طلاق گزارے گی، جو قاضی کے فیصلے کے وقت سے شمار ہوگی۔. 

اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو  مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے  پہلے شوہر سے بدستور قائم رہےگا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہو جائے گا؛  اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیٰحدگی لازم ہوگی۔ اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہو گئی ہو تو  پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 5/414
▪المبسوط للسرخسی 11/64
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144107200135
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 23* ・❱━━━

   *اللہ اور فرشتوں کو گواہ بنا کر نکاح کرنا*

*واضح رہے کہ نکاح منعقد  ہونے  کے  لیے  دولہا و دلہن  کی جانب سے ایجاب و قبول کرتے وقت شرعی گواہوں یعنی دو مسلمان عاقل بالغ مرد یا ایک مرد  اور دو عورتوں کا موجود ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس گواہوں کی غیر موجودگی میں اللہ اور فرشتوں  کو   گواہ بنا کر لڑکا لڑکی  کے ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہو گا۔*
    
📚حوالہ:
*▪الفتاوی الھندیہ 1/268*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون* کراچی 144111200519*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 24* ・❱━━━

   *مہر کی کم سے کم مقدار*
  
 *مہر  کی کم سے کم مقدار 10درہم وزن کے بقدر چاندی یا اس کی قیمت ہے۔  اور 10 درہم کا وزن 2تولہ ساڑھے سات ماشہ ہے، اور موجودہ وزن کے مطابق  اُس کی مقدار 30  گرام 618 ملی گرام ہوتی ہے، اس سے کم مہر مقرر نہیں کیا جاسکتا،  باقی عورت کا اصل حق "مہرمثل" ہے، "مہر مثل"  کا مطلب یہ ہے کہ جتنا لڑکی کے باپ کے خاندان میں اس جیسی لڑکیوں کا مہر ہوتاہے، ا تنا ہی مہر اس لڑکی کا بھی ہونا چاہیے، مگر "مہرمثل" سے کم یا زیادہ بھی رکھ سکتے ہیں۔*
*مالی گنجائش ہونے کی صورت میں بہتر یہ ہے کہ "مہر فاطمی"  کی مقدار (ایک سو، سوا اکتیس (131/25)تولہ چاندی یا اس کی قیمت) مہر مقرر کیا جائے۔ چاندی  کی قیمت گھٹتی بڑھتی رہتی ہے،  بوقتِ ادا اس کے مطابق قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے۔ فقط واللہ اعلم*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی  144204200823*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 25* ・❱━━━

   *تجدید نکاح کا طریقہ*
    
    *تجدیدِ نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ: دو مسلمان عاقل بالغ مرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کا ایجاب و قبول کرلیا جائے،  مثلاً: بیوی کہے کہ  "میں نے  اتنے مہر کے بدلہ اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیا" اورشوہر کہے کہ "میں نے قبول کیا"  تو اس سے نکاح ہوجائے گا۔ فقط واللہ اعلم*

 📚حوالہ:
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144204200909
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 26* ・❱━━━

   *شادی کے موقع پر دلہن کا لہنگا پہننا*

     *دلہن   کا لہنگا پہننا جائز  ہے، البتہ اس میں ستر  پوشی اور  پردے کا خیال رکھنا لازم ہے، یعنی اگر وہ باریک کپڑا ہے تو اس کے نیچے بھی کوئی شلوار یا پاجاما وغیرہ پہنے اور اوپر قمیص یا کرتا ایسا ہو جس سے ناف وغیرہ دیگر مستورہ حصے اچھی طرح سے چھپ جائیں، ایک عورت کا اپنے محارم کے سامنے بھی ناف، پیٹ اور اس سے پیچھے پیٹھ کے حصے کھولنا جائز نہیں ہے۔*

 📚حوالہ:
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/369*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144204200802*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ مسائل فقہیہ
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 27* ・❱━━━

   *ویڈیو لنک کے ذریعے نکاح کا حکم*

    شریعت نے نکاح کے انعقاد کے لیے ایک ضابطہ رکھا ہے، اور وہ ضابطہ یہ ہے کہ شرعاً نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایجاب و قبول کی مجلس ایک ہو اور اس میں جانبین میں سے دونوں کا بنفسِ نفیس یا ان کے وکیل کا موجود ہونا شرط اورضروری ہے، نیز مجلسِ نکاح میں دو گواہوں کا ایک ساتھ موجود ہونا اور دونوں گواہوں کا اسی مجلس میں نکاح کے ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا بھی شرط ہے۔ اور اگر جانبین میں سے کوئی ایک مجلس نکاح میں موجود نہ ہو تو اس صورت میں اپنا وکیل مقرر کرے، پھر یہ وکیل اپنے مؤکل کی طرف سے اس کا نام مع ولدیت لے کر مجلس نکاح میں ایجاب وقبول کرے، تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔ پھر نکاح کی جس مجلس میں فریقین بنفسِ نفیس شریک ہوں تو وہ مجلس حقیقتاً مجلس کے حکم میں ہے اور جس مجلس میں فریقین میں سے ایک یا دونوں کی جانب سے وکیل ہوں تو وہ حکماً مجلس کے حکم میں ہے۔
موجودہ دور میں ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح کے انعقاد کی جو صورت اختیار کی جاتی ہے اس میں مجلس کی شرط مفقود ہوتی ہے؛ کیوں کہ شرعاً نہ تو یہ صورت حقیقتاً مجلس کے حکم میں ہے اور نہ ہی حکماً، کیوں کہ وہ ایک مجلس ہی نہیں ہوتی، بلکہ فریقین دو مختلف جگہوں پر ہوتے ہیں، جب کہ ایجاب و قبول کے لیے عاقدین کی مجلس ایک ہونا ضروری ہے۔ لہذا ویڈیو کالنگ کے ذریعے نکاح منعقد کرنا درست نہیں ہے۔

 📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/14 سعید
▪الفتاوی الھندیہ 1/269
▪البحر الرائق 3/89
▪بدائع الصنائع 2/232
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144204200190
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 28* ・❱━━━

   *بینک میں کام کرنے والے کی بیٹی سے شادی*

    *واضح رہے کہ شریعت میں لڑکی کے چناؤ کے لیے معیار دین داری کو بنایا ہے اور آپ علیہ الصلاۃ و السلام نے ارشاد فرمایا :*
*"کسی عورت سے نکاح کرنے میں چار چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے: اول اس کا مال دار ہونا، دوم اس کا حسب نسب والی ہونا، سوم اس کا حسین و جمیل ہونا، چہارم اس کا دِین دار ہونا؛ لہذا دِین دار عورت کو اپنا مطلوب بناؤ اور خاک آلود ہوں* *تیرے دونوں ہاتھ"۔*
*لہذا مذکورہ لڑکی اگر دین دار ہے تو اس لڑکی سے نکاح کرنے میں شرعا کوئی قباحت نہیں، البتہ والد چوں کہ بینک میں کام کرتا ہے اور اس کی کمائی پاکیزہ نہیں ہے تو سائل کو شادی کے بعد  اس آمدن سے ہونے والی دعوت اور ملنے والے ہدایا قبول کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر سائل سمجھتا ہے کہ شادی کے بعد سائل کے لیے یہ ممکن ہوگا کہ سسرال کی دعوت اور ہدایا قبول نہ کرے، تب تو وہ شادی کرلے ورنہ اجتناب ہی بہتر ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪مرقاة المفاتیح 5/2043*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 5/99*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202200116*
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
*ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ* 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 29* ・❱━━━

   *کیا زانی اور مزنیہ کی اولاد آپس میں نکاح کر سکتی ہے؟*

  *زنا کی وجہ سے زنا کرنے والے کے اصول و فروع (باپ دادا اور بیٹے پوتے) مزنیہ (جس سے زنا کیا گیا ہو) پر حرام ہو جاتے ہیں، اسی طرح مزنیہ کے اصول و فروع زانی  (زنا کرنے والے) پر حرام ہو جاتے ہیں، ان دونوں (زانی اور مزنیہ)  میں سے کسی ایک کے اصول و فروع دوسرے کے اصول و فروع  پر حرام نہیں ہوتے۔*

*لہذا دونوں کی اولاد کا باہم نکاح جائز ہے، بشرطیکہ کوئی اور وجہ حرمت (مثلاً رضاعت) نہ ہو۔*

*📚حوالہ:*
*▪البحرالرائق  3/108*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144204200292*
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 30* ・❱━━━

   *بیوی اگر ہم بستری سے انکار کرے تو کیا حکم ہے؟*

   *شوہر کی جسمانی ضرورت و خواہش کی تکمیل بیوی پر لازم ہے، شرعی عذر (جیسے ایام، بیماری، یا شوہر کا حدِ اعتدال سے زیادہ ہم بستر ہونا جس کی بیوی میں طاقت نہ ہو یا شوہر کی جانب سے تسکینِ شہوت کے لیےغیر فطری راستہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرنا) کے  بغیر تسکینِ شہوت سے شوہر کو روکنا بیوی کے لیے شرعاً جائز نہیں، احادیث میں ایسی بیوی کے  لیے  سخت وعیدات آئی ہیں، اپنے عمل پر مذکورہ خاتون کو توبہ کرنا چاہیے، اگر مذکورہ بیوی میں شوہر کی جسمانی خواہش پوری کرنے کی ہمت نہیں ہے اور مسلسل انکار کرتی رہتی ہے، نیز شوہر ایک سے زائد بیویوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ مالی جسمانی حقوق ادا کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے تو اس کے لیے اپنی جائز حاجت پورا کرنے کے لئے ایک اور نکاح کی اجازت ہوگی۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144203201384*
*ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 31* ・❱━━━

   *سید لڑکی کا سید لڑکے سے نکاح کرنے کا حکم*

     *اصل مسئلہ سے قبل بطور تمہید یہ بات جان لیں کہ:*
*رشتہ نکاح کے اعتبار سے لوگوں کو تین حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔*
*(1) ۔قریش یعنی وہ تمام عرب جن کا سلسلہ نسب ’’نضربن کنانہ‘‘ سے ملتا ہے۔ خواہ وہ ہاشمی ہوں، صدیقی ہوں، عثمانی ہوں یا فاروقی ہوں۔ یہ سب ایک دوسرے کے کفو(برابر) ہیں۔*
*( 2۔) قریش کے علاوہ باقی اہل عرب۔ یہ حضرات ایک دوسرے کے برابر اور آپس میں کفو ہیں۔*
*(3) ۔تیسرا گروہ غیر عرب یعنی عجم کا ہے۔ یہ سب آپس میں برابر ہیں۔ ان میں مزید کوئی درجہ بندی نہیں ہے۔*
*اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ نکاح میں نسب کے اندر برابری کا اعتبار عورت کی طرف سے ہوتا ہے یعنی اگر لڑکی اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی ہو تو کسی ایسے شخص کا وہ کفو نہیں ہے جو اس سے کم درجہ کا ہو۔ البتہ اگر اولیاء اور لڑکی کی رضامندی سے غیر کفو میں نکاح کر دیا جائے تو شرعاً ایسا نکاح منعقد ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر سیدہ زادی کا نکاح غیر سید سے اولیاء اور لڑکی کی رضامندی سے کردیا جائے تو جائز ہے۔ اگر اولیاء کی اجازت کے بغیر بالغہ سیدہ لڑکی اپنا نکاح غیر کفو (غیرسید) میں کرلے تو ظاہر الروایۃ کے مطابق یہ نکاح بھی درست ہے۔ جبکہ دوسرا قول یہ ہے یہ نکاح اولیاء کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ اور اگر ولی کو اعتراض ہو تو  اولاد ہونے سے قبل بذریعہ عدالت نکاح کو ختم کرواسکتا ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/95*
*▪المغنی لابن قدامہ 7/374*
*▪الفتاوی الھندیہ 2/15*
*▪دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144112201095*
*▪دارالافتاء جامعہ اشرفیہ لاھور 929*

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 32* ・❱━━━

   *موجودہ دور میں متعہ کا حکم*

 *نکاحِ متعہ خود رسولِ کریم ﷺ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں قیامت تک کے لیے حرام قرار دے دیا تھا، لہذا موجودہ دور میں بھی نکاح متعہ حرام ہے اگرچہ دونوں کی رضامندی ہو، اس بارے میں’’مسلم شریف‘‘  کی ایک روایت وضاحت کے لیے کافی ہے: حضرت سبرہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ (ایک موقع پر) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو! میں نے تم کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی تھی اور (اب) اللہ نے اس کو  قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا ہے؛ لہٰذا جس کے پاس متعہ کرنے والیوں میں سے کوئی عورت ہو، وہ اس کو چھوڑ دے اور جو کچھ مال ان کو دیا ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لے،*
*یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود متعہ کی اجازت دی تھی اور پھر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت بیان فرما دی اور اب متعہ قیامت کے دن تک کے لیے حرام کر دیا گیا۔*

* 📚حوالہ:*
*▪الصحیح المسلم 2/1025 دار احیاء التراث بیروت*
*▪دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144110201586*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 33* ・❱━━━

   *بیوی سے پیچھے کے راستے ہم بستری کا حکم*

   *ہم بستری کے اصل محل کو چھوڑ کر پچھلے راستہ میں دخول کرنا ازروئے شرع حرام ہے، (1) رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو ملعون قرار دیا ہے، جیسا کہ سنن ابی داؤد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے۔*
*(2) سنن ابی داؤد کی دوسری روایت میں ایسے شخص کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی* شریعت سے بری قرار دیا ہے۔*
*(3) جامع ترمذی ، سنن نسائی،  مسند احمد کی روایت میں ایسے شخص کے بارے میں ہے کہ اللہ رب العزت اس پر رحمت کی نگاہ نہیں فرماتا۔*
*(4) صحیح الجامع میں ہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، بے شک اللہ حق بتلانے سے نہیں شرماتا، عورتوں کے پاس پیچھے کے راستہ سے نہ آؤ.*
*لہذا پیچھے کے راستہ سے ہم بستری کرنا حرام ہے اور اللہ کی رحمت سے دوری اور لعنت کے حق دار ہونے کا سبب ہے، اور حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے، اگرچہ بیوی کی رضامندی یا چاہت ہی کیوں نہ ہو، لہذا تسکینِ شہوت کے حصول کے لیے حلال اور فطری راستہ اختیار کرنا لازم ہے، پس اگر ایسا قبیح فعل کسی سے سرزد ہو گیا ہو تو فوری طور پر توبہ و استغفار کرنا ضروری ہوگا۔ گو نفسِ اس فعل سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، لیکن اگر کوئی شخص اس شنیع فعل سے باز نہ آئے تو اس کی بیوی اس سے جدائی حاصل کرنے میں حق بجانب ہوگی۔*

*البتہ پشت کی جانب سے ہوکر آگے کے راستے یعنی پیشاب کی جگہ میں دخول کرنا جائز ہے۔*

*📚حوالہ:*
*▪سنن ابی داود رقم 5889*
*▪مشکاة المصابیح 551*
*▪صحیح الجامع رقم 933*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144110200302*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 34* ・❱━━━

   *مقرر شدہ مہر میں کمی یا بیشی کرنا*

 *واضح رہے کہ مہر طے کرتے وقت ضروری ہے کہ جانبین کی حالت کی رعایت رکھتے ہوئے درمیانہ مہر مقرر کیا جائے، چوں کہ اس میں بیوی کی عزت افزائی کا پہلو بھی ملحوظ  ہے؛ اس لیے مہر اتنا کم نہیں ہونا چاہیے کہ اعزاز کا پہلو ہی ختم ہوجائے، اور چوں کہ مہر کی ادائیگی شوہر پر واجب ہوتی ہے اس لیے اتنا زیادہ مہر بھی نہیں ہونا چاہیے کہ شوہر پر اس کی ادائیگی بوجھ ہو اور وہ مرتے دم تک اسے ادا ہی نہ کرسکے۔ شریعت میں بہت زیادہ مہر مقرر کرنا پسندیدہ نہیں ہے، البتہ اگر شوہر آسودہ حال ہے اور جانبین باہمی رضامندی سے زیادہ مہر مقرر کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں، زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے، شوہر پر وہی طے شدہ مہر دینا لازم ہوگا۔*
*چوں کہ مہر بیوی کا شرعی حق ہے، نکاح کے وقت مہر طے ہو جانے کے بعد بیوی اگر چاہے تو مہر میں کمی کرسکتی ہے اور چاہے تو پورا مہر معاف بھی کرسکتی ہے، لیکن باہمی رضامندی سے مہر طے ہوجانے کے بعد مرد کے لیے بیوی سے مہر کم کروانے یا معاف کروانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے، شوہر پر طے شدہ مہر ہی دینا لازم ہے۔ البتہ شوہر اپنی خوشی سے طے شدہ مہر میں بیشی (زیادتی) کرنا چاہے اور بیوی کو طے شدہ مہر سے زیادہ دینا چاہے تو وہ دے سکتا ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪سورت النساء آیت 20*
*▪مشکاةالمصابیح 2/958*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/313 دارالفکر*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200131*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 35* ・❱━━━

   *غیر شرعی امور پر مشتمل شادی میں شرکت کرنے کا حکم*

   *ایسی تقریبات  جو فی نفسہ تو جائز ہوں، لیکن ان میں غیر شرعی امور (مثلاً مخلوط اجتماع، بے پردگی، موسیقی وغیرہ ) کا ارتکاب کیا جارہا ہو ان میں شرکت کا حکم یہ ہے کہ (1) اگر پہلے سے یہ بات معلوم ہو کہ تقریب میں غیر شرعی امور کا ارتکاب ہوگا تو اس صورت میں ہرگز اس تقریب میں شرکت کے لیے نہیں جانا چاہیے، اگرچہ اپنی طرف سے مکمل پردے کاخیال رکھا جائے، البتہ اگر مدعو شخص کوئی عالم و مقتدا ہو اور اسے امید ہو کہ وہ اس تقریب میں جاکر معصیت کے ارتکاب کو روک سکتا ہے تو اسے جانا چاہیے؛ تاکہ اس کی وجہ سے دوسرے لوگ بھی گناہ سے بچ جائیں۔*
*(2) اگر پہلے سے معلوم نہ ہو کہ وہاں کسی معصیت کا ارتکاب ہورہا ہے، بلکہ وہاں جاکر معلوم ہو تو اگر اندر جانے سے پہلے معلوم ہوجائے تو واپس لوٹ آئے، اندر نہ جائے، البتہ اگر اندر جاکر اس معصیت کو بند کرنے پر قادر ہو تو اندر جاکر اس معصیت کو بند کروادے۔*
*(3) اگر اندر داخل ہونے کے بعد معصیت کے ارتکاب کا علم ہو اور معصیت کو بند کرنے پر قدرت بھی نہ ہو تو مدعوشخص اگر عالم و مقتدا ہو تو وہ وہاں نہ بیٹھے، بلکہ اٹھ کر واپس چلا جائے، کیوں کہ اس کے وہاں بیٹھنے میں علم اور دین کا استخفاف (اہانت اور توھین) ہے، البتہ اگر مدعو شخص عام آدمی ہو تو وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔*
 *اگر کوئی شخص شرعی حکم کے پیش نظر اس طرح کی کسی تقریب یا رسوم میں شرکت نہ کرے تو اسے قطع رحمی یا قطع تعلقی نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اسے قطع رحمی یا قطع تعلقی  کا گناہ ملے گا، بلکہ ایمان کا تقاضا ہونے کی وجہ سے اسے اس پر ثواب بھی ملے گا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪بدائع الصنائع 5/128 رشیدیہ*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/347 سعید*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202201347*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 36* ・❱━━━

   *نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر / رخصتی سے پہلے میاں بیوی کی بات چیت اور میل ملاقات*

    *نکاح ہونے کے بعد حتی الامکان رخصتی میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے، کیوں کہ شریعتِ مطہرہ میں بالغ ہونے کے بعد جلد نکاح کرنے کے جو مقاصد ہیں (مثلاً عفت و پاک دامنی کا حصول) وہ رخصتی سے ہی حاصل ہو سکتے ہیں، البتہ کسی معقول عذر (مثلاً رہائش کا انتظام نہ ہونے  وغیرہ) کی بنا  پر اگر رخصتی میں کچھ تاخیر ہوجائے تو اس میں شرعاً حرج نہیں ہے۔*
*اور نکاح کے بعد لڑکا اور لڑکی دونوں کی حیثیت ایک دوسرے کے لیے شوہر اور بیوی کی ہے،  چاہے رخصتی نہ ہوئی ہو، اس لیے شرعاً  کسی بھی قسم کا تعلق رکھنا منع نہیں ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ رخصتی سے پہلے ایسے تعلقات سے پرہیز کیا جائے جو خاندان اور معاشرے میں نکاح سے پہلے معیوب سمجھے جاتے ہوں، کیوں کہ بعض اوقات رخصتی سے پہلے بے تکلف  تعلقات سے بہت سے مفاسد پیدا ہوجاتے ہیں۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/270*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144203200135*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 37* ・❱━━━

   *نکاح کے وقت ایجاب و قبول میں لڑکی کی ولدیت تبدیل کرنے کا حکم*
  
    *واضح رہے کہ اگر مجلسِ نکاح میں ایجاب و قبول کے دوران لڑکی کا وکیل یا نکاح خواں لڑکی کے والد کے نام میں غلطی کردے، یعنی لڑکی کا نام لیتے ہوئے اس کے ساتھ حقیقی والد کے بجائے کسی اور (مثلًا سوتیلے والد یا مربی) کا نام لے اور اس کی طرف لڑکی کو منسوب کرے تو اس لڑکی کا نکاح صحیح نہیں ہوگا،  البتہ اگر لڑکی خود مجلسِ نکاح میں حاضر ہو اور بجائے وکیل کے خود ایجاب و قبول کرے یا اس کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کیا جائے تو ولدیت کی غلطی کی صورت میں نکاح صحیح ہوجائے گا۔*
*لہٰذا اگر  لڑکی مجلسِ نکاح میں موجود نہ ہو، یا موجود تو ہو لیکن اس نے نہ تو خود ایجاب و قبول کیا ہو اور نہ ہی ایجاب و قبول کے دوران اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں ایجاب و قبول کے دوران اس لڑکی کی ولدیت میں تبدیلی کرنے کی صورت میں اس کا نکاح  نہیں ہوگا۔"*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/26*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202201421*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 38* ・❱━━━

   *کورٹ میرج (عدالتی نکاح) کا حکم*

     *واضح رہے کہ عموماً پسند کی شادی میں وقتی جذبات محرک بنتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ان جذبات اور پسندیدگی میں کمی آنے لگتی ہے، نتیجۃً ایسی شادیاں ناکام ہوجاتی ہیں اورعلیحدگی کی نوبت آجاتی ہے، جب کہ اس کے مقابلے میں خاندانوں اور رشتوں کی جانچ پڑتال کا تجربہ رکھنے والے والدین اور خاندان کے بزرگوں کے کرائے ہوئے رشتے زیادہ پائے دار ثابت ہوتے ہیں اور بالعموم شریف گھرانوں کا یہی طریقہ کار ہے، ایسے رشتوں میں وقتی ناپسندیدگی عموماً  گہری پسند میں بدل جایا کرتی ہے؛ اس لیے مسلمان بچوں اوربچیوں کو چاہیے کہ وہ  اپنے ذمہ کوئی بوجھ اٹھانے کے بجائے اپنےبڑوں پراعتماد کریں،  ان کی رضامندی کے بغیر کوئی قدم نہ اٹھائیں۔ نیز شریعت نے لڑکے، لڑکی کے نکاح کا اختیار والدین کو دے کر انہیں بہت سی نفسیاتی و معاشرتی الجھنوں سے بچایا ہے، اس لیے کسی واقعی شرعی مجبوری کے بغیر خاندان کے بڑوں کے موجود ہوتے ہوئے لڑکے یا لڑکی کا از خود آگے بڑھنا خدائی نعمت کی ناقدری ہے، بےشمار واقعات شاہد ہیں کہ کسی کے بہکاوے میں آکر کیے گئے یہ نادانی کے فیصلے بعد کی زندگی کو اجیرن کر ڈالتے ہیں، لہذا کورٹ میرج شرعاً، عرفاً اور اخلاقاً نہایت نامناسب عمل ہے جس سے گریز چاہیے۔*
*تاہم  اگر عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی اجازت کے بغیر باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرکے کورٹ میں نکاح کرلے تو شرعًا وہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے، البتہ رشتہ  برابری کا نہ ہونے  یا مہر، مہر مثل سے کم ہونے کی صورت میں ولی کو اعتراض کا حق ہوتا ہے اور وہ اولاد پیدا ہونے سے پہلے کورٹ کے ذریعہ نکاح ختم کراسکتا ہے، پھر اگر ولی کی اجازت کے بغیر کیا جانے والا نکاح خفیہ طور پر یا بھاگ کر ہو تو اس کی قباحت اور زیادہ ہے، اور تجربہ اس بات پر شاہد ہے کہ اکثر و بیشتر ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کی صورت میں لڑکی کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔*

*📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/9 سعید* 
*▪بدائع الصنائع 2/247*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/292*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202200999*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 39* ・❱━━━

   *احتیاطًا نکاح کی تجدید*

 *فقہاءِ کرام رحمہم اللہ  نے احتیاطاً تجدید نکاح کی یہ صورت  لکھی  ہے کہ  ناواقف لوگوں کو چاہیے کہ وہ مہینہ میں ایک یا دو مرتبہ نکاح کی تجدید کرلیا کریں؛ اس لیے کہ غلطی  میں ان سے کہیں  کوئی کفریہ کلمہ سرزد نہ ہوگیا ہو اور اگر مردوں سے نہیں تو عورتیں اس طرح غلطیاں بہت کرتی ہیں۔ تاہم  تجدید نکاح کا یہ حکم احتیاطاً ہے، لازمی نہیں۔ اور تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ: دومرد گواہوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ نکاح کا ایجاب وقبول کرلیا جائے،  مثلاً: بیوی کہے کہ: میں نے  اتنے مہر کے بدلہ اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیا اورشوہر کہے کہ میں نے قبول کیا، تاہم   صرف احتیاط کی بنا پر  نکاح کی تجدید کی گئی ہو تو نیا مہر متعین کرنا ضروری نہیں ہے، اور  اس نفسِ نکاح سے (جب کہ مہر میں اضافہ مقصود نہ ہو) مہر بھی لازم نہیں  ہوگا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪مقدمة رد المحتار، ج: 1 صفحة: 42، ط: ایچ، ایم، سعید*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202201039*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 40* ・❱━━━

   *رخصتی میں تاخیر کا نکاح پر اثر*

     *اگر کسی مجبوری کی وجہ سے نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر ہوجائے تو اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا جیسا کہ بعض عوام میں یہ مسئلہ غلط مشہور ہے کہ نکاح ٹوٹ جاتا ہے یا کمزور ہوگیا ہے وغیرہ ، اصل حکم یہ ہے کہ جب ایک مرتبہ نکاح منعقد ہو جاتا ہےتو اس وقت تک نکاح متاثر نہیں ہوتا جب تک شوہر طلاق نہ دے یا قاضی شرعی وجوہ کی بنا پرتنسیخِ نکاح کا حکم نہ دے یا العیاذ بااللہ میاں یا بیوی کی زبان سے کلمہ کفر نہ نکلے، خود بخود وقت گزرنے سے نکاح نہیں ٹوٹتا، تاہم نکاح ہو جانے کے بعد  حتی الامکان  رخصتی میں بغیر کسی شرعی وجہ اور معقول عذر کےتاخیر نہیں کرنی  چاہیے ، اور اگر احتیاطا تجدید نکاح کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے اور موجودہ پرفتن دور کے لحاظ سے میرے خیال میں بہتر ہے۔*
 
*📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/270 دارالفکر*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی بترمیم یسیر 144112201344*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 41* ・❱━━━

   *کیا میاں بیوی ایک ساتھ غسل کر سکتے ہیں؟*

   *میاں بیوی ایک ساتھ نہا سکتے ہیں اور ان کے لیے ایک دوسرے کے سارے بدن کو دیکھنا جائز ہے، شرعاً  ممانعت نہیں۔ البتہ شرم گاہ کی طرف دیکھنا خلافِ ادب اور ناپسندہ ہے۔ جیسا کہ ام المؤمین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتی تھی، آپ ﷺ مجھ  پر سبقت فرماتے تو میں کہتی:   مجھے بھی (پانی) دیجیے،   مجھے بھی دیجیے۔  ایک اور روایت میں ہے:  وہ فرماتی ہیں کہ نہاتے وقت میرا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ برتن سے پانی لینے میں آگے پیچھے ہوتا تھا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہی فرماتی ہیں کہ نہ تو آپ ﷺ نے کبھی میرے ستر کی طرف دیکھا اور نہ ہی میں نے کبھی آپ ﷺ کے ستر کی طرف دیکھا۔*

*📚حوالہ:*
*▪سنن ابن ماجه: 138، أبواب النکاح، ط:قدیمی*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111201769*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 42* ・❱━━━

   *ازدواجی تعلق قائم نہ کرنے کی شرط پر نکاح کرنے کا حکم*

    *نکاح کے مقاصد میں سے ایک مقصد ازدواجی تعلق قائم کرکے نسل کو آگے بڑھانا ہے، لہٰذا کسی عورت سے اس شرط پر نکاح کرنا کہ ازدواجی تعلقات قائم نہیں کیے جائیں گے، شریعتِ مطہرہ کی رو سے درست نہیں ہے، اگر ایسی کوئی شرط نکاح کے وقت لگائی بھی جائے تب بھی یہ شرط کالعدم ہوگی اور نکاح منعقد ہوجائے گا، اور مرد و عورت ہر ایک کو دوسرے سے ازدواجی تعلق کے قائم کرنے کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا، اور تعلق قائم کرنا جائز ہوگا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144109202322*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 43* ・❱━━━

   *نکاح میں لڑکی کا زبانی قبول کرنے کے بجائے صرف دستخط کردینا*
       
*نکاح کے ایجاب و قبول میں اگر لڑکی نے ایجاب کے جواب میں زبان سے قبول نہیں کیا، بلکہ صرف نکاح نامہ پر دستخط کردیا تو  نکاح منعقد نہیں ہوگا، صرف دستخط کرنا یا خاموش ہونا یا مسکراہٹ قبول کے قائم مقام نہیں ہوگا۔ تاہم اگر اس کے بعد لڑکی عملاً رضامند ہوجائے یعنی مہر قبول کرلے، شوہر کے گھر چلی جائے تو یہ فعلی طور پر قبول ہوجائے گا اور نکاح منعقد ہوجائے گا۔ البتہ اگر  نکاح کی مجلس سے قبل لڑکی کا والد اپنی غیر شادی شدہ لڑکی سے کسی جگہ نکاح کرانے کی اجازت طلب کرے یا بلا اجازت نکاح کروانے کے بعد لڑکی کو خبر دے اور لڑکی خاموش ہوجائے یا مسکرا دے تو پہلی صورت میں یہ خاموشی یا مسکراہٹ توکیل (وکیل بنانا) ہوگی اور دوسری صورت میں یہ اذن (موقوف نکاح کی اجازت) شمار ہوگی۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/12/58*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202200210*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 44* ・❱━━━

   *کتابیہ ( کرسچن لڑکی ) سے نکاح کا حکم*

     *واضح رہے کہ عیسائی خاتون اگر اپنے دین پر قائم ہو (یعنی لادین و دہریہ نہ ہو) تو اس سے مسلمان مرد کے لیے نکاح جائز ہے، لیکن بہت سے مفاسد کی وجہ سے اچھا نہیں ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں ان مردوں کو تنبیہ کی تھی جو مسلمان خواتین کو چھوڑ کر اہلِ کتاب خواتین سے نکاح کریں، نیز اسے دین اور اسلامی معاشرت کے لیے نقصان دہ قرار دے کر بعض کبار صحابہ کو اہلِ کتاب عورتوں سے نکاح سے سختی سے منع فرمایا۔ اور اگر اہلِ کتاب عورت صرف نام کی عیسائی ہو، درحقیقت وہ بے دین/ دہریہ ہو (جیساکہ موجودہ زمانے میں بکثرت ایسے اہلِ کتاب موجود ہیں) تو اس سے نکاح ناجائز ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ (العیاذ باللہ) عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنا  عیسائی عورت سے نکاح کے جواز کے لیے مانع نہیں ہوگا، کیوں کہ جس وقت قرآن کریم نے اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کی اجازت دی اس وقت بھی وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خدا کا حصہ قرار دیتے تھے۔*
  *علامہ شبیر احمد عثمانی تحریر فرماتے ہیں:*
  
  *کتابی عورت سے نکاح شریعت میں جائز ہے ۔۔۔مگر یہ یاد رہے کہ ہمارے زمانے کے ”نصاریٰ“ عموماً برائے نام نصاریٰ ہیں ان میں بکثرت وہ ہیں جو نہ کسی کتاب آسمانی کے قائل ہیں نہ مذہب کے، نہ خدا کے، ان پر اہلِ کتاب کا اطلاق نہیں ہوسکتا؛ لہٰذا ان کے ذبیحہ اور نساء کا حکم اہلِ کتاب کا سا نہ ہوگا، نیز یہ ملحوظ رہے کہ کسی چیز کے حلال ہونے کے معنی یہ ہیں کہ اس میں فی حد ذاتہ کوئی وجہ تحریم نہیں؛ لیکن اگر خارجی اثرات و حالات ایسے ہوں کہ اس حلال سے منتفع ہونے میں بہت سے حرام کا ارتکاب کرنا پڑے، بلکہ کفر میں مبتلا ہونے کا احتمال ہو تو ایسے حلال سے انتفاع کی اجازت نہیں دی جائے گی، موجودہ زمانے میں یہود ونصاریٰ کے ساتھ کھانا پینا، بے ضرورت اختلاط کرنا ان کی عورتوں کے جال میں پھنسنا یہ چیزیں جو خطرناک نتائج پیدا کرتی ہیں وہ مخفی نہیں؛ لہٰذا بدی اور بددینی کے اسباب و ذرائع سے اجتناب ہی کرنا چاہیے‘‘*
    *مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی شفیع صاحب عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:*
  
*جمہور صحابہ و تابعین کے نزدیک اگرچہ ازروئے قرآن، اہلِ کتاب کی عورتوں سے فی نفسہ نکاح حلال ہے، لیکن ان سے نکاح کرنے پر جو دوسرے مفاسد اور خرابیاں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے، بلکہ پوری امتِ اسلامیہ کے لیے ازروئے تجربہ لازمی طور پر پیدا ہوں گی ان کی بنیاد پر اہلِ کتاب کی عورتوں سے نکاح کو بھی مکروہ سمجھتے تھے، بالفرض اگر وہ اپنے مذہب کے پابند بھی ہوں تو ان کو کسی مسلمان گھرانہ میں جگہ دینا اپنے پورے خاندان کے لیے دینی او ردنیوی تباہی کو دعوت دینا ہے، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو شازشیں اس راہ سے اس آخری دور میں ہوئیں اور ہوتی رہتی ہیں جن کے عبرت نامے روز آنکھوں کے سامنے آتے ہیں کہ ایک لڑکی نے پوری مسلم قوم او رسلطنت کو تباہ کردیا یہ ایسی چیزیں ہیں کہ حلال و حرام سے قطع نظر بھی کوئی ذی ہوش انسان اس کے قریب جانے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا“۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/134 زکریا*
*▪فتح القدیر 3/414*
*▪ترجمہ شیخ الہند: فائدہ 12 صفحہ 142 ، پارہ 6*
*▪معارف القرآن 3/62*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 45* ・❱━━━

   *کسی لڑکی کو بہن کہنے کے بعد اس سے نکاح کرنے کا حکم*

   *ایک لڑکی جس سے نکاح کرنا جائز ہے، لیکن روزمرّہ زندگی کے معاملات میں اس کو بہن یا باجی کہہ کر پکارتا رہا، اگر اسی لڑکی سے بعد میں نکاح کرنا چاہے تو نکاح صحیح ہے کیونکہ*
*صرف زبانی طور پر کسی لڑکی کو بہن یا باجی کہنے سے وہ لڑکی بہن نہیں بنتی ہے، اس مسئلہ سے یہ غلط فہمی بھی دور ہوگئی کہ کسی اجنبی لڑکی کو بہن کہنے سے شریعت کا کوئی بھی حکم متاثر نہیں ہوتا جیساکہ بعض جاہل مرد اور عورتیں ایک دوسرے کو بھائی بہن کہہ کر آپس میں پردہ نہیں کرتے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی بتمیم یسیر 144202200159*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 46* ・❱━━━

   *نکاح کی مبارک باد دینے کا سنت طریقہ*

  *نکاح کے موقع پر میاں بیوی یا ان کے خاندان والوں کو برکت کی دعا دینا اور اس کے لیے ’’شادی مبارک‘‘  یا ’’مبارک ہو‘‘  جیسے الفاظ استعمال کرنا  حدیثِ  مبارک سے ثابت ہے اور اس کے لیے حدیث میں الفاظ بھی منقول ہیں ،* 
*حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی آدمی کو شادی کی مبارک باد دیتے تو یوں فرماتے کہ : ”بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ، وَجَمَعَ بَيْنَكُمَا فِي خَيْرٍ“،  یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس  نکاح کو  مبارک فرمائے اللہ تم پر اپنی برکتوں کا نزول فرمائے اور تم دونوں کو بہترین طریقے پر جمع رکھے۔*
 *نیز مسند  احمد میں ہے کہ  عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں کہ حضرت عقیل بن ابی طالب کی شادی ہوئی اور پہلی رات کے بعد جب وہ باہر آئے تو ہم نے ان سے کہا کہ آپ دونوں کے درمیان اتفاق پیدا ہو، اور یہ نکاح اولاد کا ذریعہ بنے!  انہوں نے فرمایا: ٹھہرئیے!  یوں نہ کہیں، کیوں کہ نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے،  اور کہا ہے:  یوں کہا کرو: ” بارك الله لك، وبارك عليك، وبارك لك فيها“  اللہ تمہارے  لیے اسے مبارک کرے،  تمہیں برکتیں عطا فرمائے اور اس نکاح میں تم پر خوب برکت نازل فرمائے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪سنن أبي داود (2/ 241)*
*▪مسند أحمد ط الرسالة (25/ 17)*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200891*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 47* ・❱━━━

   *انسان کا نکاح جنات کے ساتھ یا سمندری انسان کے ساتھ*
     
*فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے اپنی کتب میں یہ مسئلہ ذکر کیا ہے کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایک قسم کی جنس کا ہونا ضروری ہے اور انسان اور جنات چونکہ الگ الگ صنفیں ہیں اس لیے انسان کا نکاح کسی جنیہ کے ساتھ جائز نہیں ہے،  امام حسن بصری رحمہ اللہ سے ایک قول جواز کا منقول ہے لیکن وہ مرجوح ہے ، قابل عمل نہیں ہے،  اسی طرح  سمندری عورت کے ساتھ بھی بری انسان کا نکاح جائز نہیں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب النکاح جلد 3 ص 5*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200272*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 48* ・❱━━━

   *مہر فاطمی سے مراد اور موجودہ وزن*
    
*مہرِ فاطمی"  اُس مہر کو کہا جاتا ہے جو نبی اکرم علیہ الصلاۃ والسلام نے خاتونِ جنت سیدتنا حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دیگر صاحب زادیوں اور اکثر ازواجِ مطہرات کا مقرر فرمایا ، اُس کی مقدار 500 درہم چاندی ہے، وہ اس طرح کہ ازواج مطہرات کے بارے میں روایات میں بارہ اوقیہ اورایک نش کی صراحت آئی ہے۔ایک اوقیہ چالیس درہم کا اور نش نصف اوقیہ یعنی: بیس درہم کا ہوتا ہے؛ اس طرح مجموعہ پانچ سو درہم ہوتا ہے۔ یہی مقدار مہر فاطمی سے مشہور ہے۔ مہر فاطمی موجودہ وزن سے: ایک کلو، پانچ سو تیس (530) گرام، نوسو (900) ملی گرام چاندی یا اس کی قیمت ہے۔ اورقدیم تولہ سے ایک سو، سوا اکتیس (131.25) تولہ ہوتا ہے۔ مہر فاطمی کی قیمت معلوم کرنے کیلئے ایک گرام چاندی (silver ) کی قیمت معلوم کریں اور پھر اس قیمت کو 1530.9 سے ضرب دیدیں تو جو جواب آئے وہی اسی دن کیلئے مہر فاطمی کی قیمت ہوگی۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الصحیح المسلم رقم 3489*
*▪ایضاح المسائل 103*
*▪جواہر الفقہ 1/424*
*▪کتاب النوازل 8/402*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 49* ・❱━━━

   *جنسی طور پر کم زور مرد کے لیے نکاح کا حکم*

  *شادی کرنا ہر اس مسلمان مرد کے لیے سنت ہے جو عورت کا نان نفقہ اور حقوق زوجیت پورا کرسکتا ہو ، جو شخص جسمانی طور پر اتنا کمزور ہو کہ بیوی کے حقوق ادا نہیں کرسکتا، اسے چاہیے کہ کسی اچھے معالج سے علاج کرائے، اگر علاج سے بھی مایوسی ہوجائے تو ایسا شخص نکاح نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے نکاح کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/7*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/267 رشیدیہ*
*▪فتاوی حقانیہ 4/346*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144202200506* 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 50* ・❱━━━

   *حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا کثرت سے شادی کرنا اور ایک مغالطہ کی اصلاح*

  *تاریخی روایات میں  یہ مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کثرت سے نکاح کیے، ہر وقت ان کے نکاح میں چار عورتیں رہتی تھیں، (بیک وقت چار سے زائد عورتیں نہیں رہیں) اور 70 سے زائد عورتوں سے نکاح کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ اپنی لڑکیوں کا نکاح حسن سے مت کراؤ؛ کیوں کہ وہ کثرت سے طلاق دیتا ہے، لیکن لوگ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم اگر وہ روزانہ ہمیں پیغامِ نکاح بھیجیں تو ہم ان سے ان کی پسند کے مطابق اپنی لڑکیوں کا نکاح کرتے رہیں گے،اللہ کے رسول ﷺ سے سسرالی رشتہ داری (کی نسبت) کے حصول کے لیے۔  لہذا ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کثرت سے نکاح کیے تھے۔*

*باقی ان روایات سے جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کثرت سے طلاق اور کثرت سے نکاح تو کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے، پھر انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ تو  یہ بات جاننی چاہیے کہ احادیث میں جو کثرت نکاح اور کثرت طلاق کی ممانعت آئی ہے  وہ شہوت رانی کے لیے نئے نئے نکاح کرنے اور پرانی عورت کو طلاق دینے پر وارد ہوئی ہے، جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا کثرت سے نکاح کرنا اور حدود شرعیہ کی رعایت کی وجہ سے پچھلی بیوی کو طلاق دینا شہوت رانی کے یے نہیں تھا، بلکہ اس غرض سے تھا کہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں کی نسبت حضور ﷺ کے خاندان سے ہوجائے اور اس کی دلیل اہلِ کوفہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جواب ہے، جب انہوں نے لوگوں کو حسن رضی اللہ عنہ سے شادی کرنے سے منع کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ روزانہ بھی رشتہ بھیجیں گے تو ہم اپنی  بچیوں میں سے جس کو وہ چاہیں نکاح میں دیں  گے؛ تاکہ حضور ﷺ کی رشتہ داری حاصل ہوجائے، نیز یہ بات بھی روایات میں بصراحت مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہر خاتون کو اس کے لائقِ مرتبہ احترام کے ساتھ رخصت کرتے اور خوب خوب مہر ادا کرتے تھے؛ لہذا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا یہ فعل حدیث کی ممانعت میں نہیں آئے گا۔*

*📚حوالہ:*
*▪البدایة والنھایة 8/42 احیاء التراث*
*▪سیر اعلام النبلاء 3/253*
*▪التنویر شرح جامع الصغیر 11/23*
*▪فتاوی محمودیہ 13/595*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144112201150*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ مسائل فقہیہ*
            
               *احکام النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 50* ・❱━━━

   *حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا کثرت سے شادی کرنا اور ایک مغالطہ کی اصلاح*

*تاریخی روایات میں  یہ مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کثرت سے نکاح کیے، ہر وقت ان کے نکاح میں چار عورتیں رہتی تھیں، (بیک وقت چار سے زائد عورتیں نہیں رہیں) اور 70 سے زائد عورتوں سے نکاح کیے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ کے لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ اپنی لڑکیوں کا نکاح حسن سے مت کراؤ؛ کیوں کہ وہ کثرت سے طلاق دیتا ہے، لیکن لوگ کہتے تھے کہ اللہ کی قسم اگر وہ روزانہ ہمیں پیغامِ نکاح بھیجیں تو ہم ان سے ان کی پسند کے مطابق اپنی لڑکیوں کا نکاح کرتے رہیں گے،اللہ کے رسول ﷺ سے سسرالی رشتہ داری (کی نسبت) کے حصول کے لیے۔  لہذا ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کثرت سے نکاح کیے تھے۔*

*باقی ان روایات سے جو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کثرت سے طلاق اور کثرت سے نکاح تو کوئی پسندیدہ چیز نہیں ہے، پھر انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ تو  یہ بات جاننی چاہیے کہ احادیث میں جو کثرت نکاح اور کثرت طلاق کی ممانعت آئی ہے  وہ شہوت رانی کے لیے نئے نئے نکاح کرنے اور پرانی عورت کو طلاق دینے پر وارد ہوئی ہے، جب کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا کثرت سے نکاح کرنا اور حدود شرعیہ کی رعایت کی وجہ سے پچھلی بیوی کو طلاق دینا شہوت رانی کے یے نہیں تھا، بلکہ اس غرض سے تھا کہ زیادہ سے زیادہ خاندانوں کی نسبت حضور ﷺ کے خاندان سے ہوجائے اور اس کی دلیل اہلِ کوفہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جواب ہے، جب انہوں نے لوگوں کو حسن رضی اللہ عنہ سے شادی کرنے سے منع کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ اگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ روزانہ بھی رشتہ بھیجیں گے تو ہم اپنی  بچیوں میں سے جس کو وہ چاہیں نکاح میں دیں  گے؛ تاکہ حضور ﷺ کی رشتہ داری حاصل ہوجائے، نیز یہ بات بھی روایات میں بصراحت مذکور ہے کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ ہر خاتون کو اس کے لائقِ مرتبہ احترام کے ساتھ رخصت کرتے اور خوب خوب مہر ادا کرتے تھے؛ لہذا حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا یہ فعل حدیث کی ممانعت میں نہیں آئے گا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪البدایة والنھایة 8/42 احیاء التراث*
*▪سیر اعلام النبلاء 3/253*
*▪التنویر شرح جامع الصغیر 11/23*
*▪فتاوی محمودیہ 13/595*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون* *کراچی 144112201150*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

#سلسلہ_مسائل_فقہیہ
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 51* ・❱━━━

   *رخصتی کے لیے بارات لے کر جانا اور لڑکی والوں کا کھانے کا انتظام کرنا*

   *نکاح اور رخصتی کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مسجد میں نکاح کیا جائے، پھر نکاح کے بعد   لڑکی کو اس کے* *محارم کے ذریعے دولہا کے گھر پہنچا دیا جائے، اور اگر خود دولہا  اور اس کے گھر والے جاکر دلہن کو لے آئیں تو یہ بھی جائز ہے، اسی طرح   اگر خلافِ شرع امور سے بچتے ہوئے لڑکے کے خاندان کے چند افراد اجتماعی صورت میں لڑکی  کی رخصتی کرواکر لے آئیں، اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ شرعی شرائط یعنی پردہ کا اہتمام ہو، اختلاط، موسیقی  وغیرہ اور تمام رسومات سے بچا جائے۔*
*بوقتِ رخصتی سادگی اختیار کرنا بہتر ہے، اور خرافات اور ناجائز کاموں سے اجتناب لازم ہے۔ غرض اسلامی مزاج یہ ہے کہ جتنی سادگی اور بے تکلفی سے آدمی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو یہ زیادہ بہتر اور قابلِ ستائش ہے۔ اس میں میزبانوں کے لیے بھی آسانی ہے اور مہمانوں کی بھی راحت ہے۔*
 *رخصتی کے لیے باقاعدہ بارات کا لے جانا نبی کریم ﷺاور اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم سے ثابت نہیں۔اور موجودہ زمانہ میں تو رخصتی کے لیے بہت سارے امور کو لازم سمجھا جاتا ہے، مثلاً لڑکی کی رخصتی کے لیے باقاعدہ بارات کا اہتمام کرنا، کئی لوگوں کو لے جانا اور لڑکی والوں سے کھانے کا انتظام وغیرہ کروانا وغیرہ، اور اس میں اور بھی بہت سے مفسدات پائے جاتے ہیں، اس لیے مروجہ طریقہ پرخرافات مثلاً موسیقی، مرد وزن اختلاط، اور کئی رسومات کی ادائیگی کے ساتھ بارات کے اہتمام سے اجتناب لازم ہے۔ نیز نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام  کا ثبوت   کسی صحیح حدیث سے تو نہیں؛ اس لیے اس طرح کی دعوت کرنا  ولیمہ کی طرح سنت نہیں  ہے، ہاں اگر کوئی نمود ونمائش سے بچتے ہوئے،  کسی قسم کے مطالبہ اور خاندانی دباؤ کے بغیر اپنی خوشی ورضا  سے اپنے اعزہ اور مہمانوں کوکھانا کھلائے تو  یہ مہمانوں کا اکرام ہے، اور اس طرح کی دعوت کا کھانا کھانا بارات والوں کے لیے جائز ہے، اور اگر  لڑکی والے  اس کو لازم سمجھیں اور  اس  کے اہتمام کے لیے قرضے لیے جاتے ہوں تو ایسی دعوت کرنا جائز نہیں  ہوگا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪کفایت المفتی 7/471 فاروقیہ*
*▪فتاوی محمودیہ 12/142*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201201126'*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 52* ・❱━━━

   *نکاح کے موقع پر مسجد میں چھوارے تقسیم کرنا یا اچھالنا*

   *واضح رہے کہ  نکاح کے موقع پر  اگر باہم تنازع کا اندیشہ نہ ہو تو چھوہارے یا کوئی  خشک مٹھائی  تقسیم کرنا  یا ان کو لٹانا  دونوں درست اور مباح ہیں،  اگر نکاح کا عقد  مسجد میں ہو تو پھر ترتیب سے تقسیم کردیا جائے  تاکہ ایک مباح کام  کی وجہ سے مسجد کی  بے ادبی کا گناہ نہ ہو۔*
*فقہی عبارات سے اس عمل کا مباح  ہونا معلوم  ہوتا ہے، جیسا کہ”لابأس“لفظ اس پر دلالت کرتا ہے،  باقی جن روایات میں  عقدِ نکاح کے موقع پر  چھوہارے لٹانے کا ذکر ہے وہ انتہائی ضعیف ہیں، ان روایات سے اس  عمل کے سنت ہونے پر استدلال  کرنا درست نہیں ہے،  امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  چھوہارے لٹانے سے متعلق جو روایات منقول ہیں وہ سب ضعیف ہیں۔*

 *📚حوالہ:*
*▪السنن الکبری 7/287 نشر السنتہ ملتان*
*▪لسان المیزان 3/218*
*▪المبسوط للسرخسی 30/167 دارالمعرفہ*
*▪الفتاوی الھندیہ 5/345*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200817*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 53* ・❱━━━

   *ہندو (کافر) کی شادی میں شرکت کا حکم*

  *ہندو کی شادی کی دعوت کے موقع پر اگر پوجا،گانابجانا اور دیگر گناہ نہ ہوں تو کھانے کی دعوت میں شرکت کرنا مباح ہے، لیکن اگر دعوت کے موقع پر کوئی گناہ ہو رہا ہو تو دعوت میں شرکت جائز نہیں۔*

*کفایت المفتی میں ہے:*
*"لیکن غیر مسلموں کے ہر اجتماع کا یہ حکم نہیں ہے، ان کی شادی بیاہ کی تقریب میں شرکت مباح ہے، اسی طرح شادی بیاہ کی تقریب میں کھانا یا ہدیہ قبول کرنا مباح ہے۔"*

 *📚حوالہ:*
*▪کفایت المفتی ، کتاب السیاسات 9 / 322 ط: دار الاشاعت)*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144107200710*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 54* ・❱━━━

   *نکاح پڑھانے کا طریقہ*

   *نکاح پڑھانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے نکاح کے موقع پر پڑھے جانا والا خطبہ پڑھا جائے اس کے بعد لڑکے سے ایجاب کروانے کے لیے کہا جائے کہ میں نے اتنی مقدار مہر کے عوض فلانی (لڑکی کا نام) بنت فلاں (لڑکی کے والد کا نام) کے ساتھ آپ کا نکاح کرادیا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟ پھر جب لڑکا کہہ دے کہ ’’قبول ہے‘‘ تو نکاح خواں لڑکی کی طرف سے مقررہ وکیل کی وکالت  ملنے کی تصدیق کرنے کے بعد اس سے کہے کہ میں نے فلانی بنت فلاں (جس نے آپ کو اپنے نکاح کا وکیل بنایا ہے) کا نکاح اتنی مقدار مہر کے عوض فلاں ابن فلاں سے کردیا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟ اور لڑکی خود مجلس میں موجود ہو تو اس سے کہے کہ میں نے آپ کا نکاح اتنی مقدار مہر کے عوض فلاں ابن فلاں سے کرادیا ہے کیا آپ کو قبول ہے؟ جیسے ہی لڑکی یا اس کا وکیل ’’قبول ہے‘‘ کہہ دے تو نکاح منعقد ہوجائے گا۔*
    *ایجاب و قبول میں یہ ترتیب لازم نہیں ہے، پہلے لڑکی یا اس کے وکیل سے ایجاب اور لڑکے سے بعد میں قبول بھی کروایا جاسکتاہے۔ نیز نکاح خواں یہ بھی کرسکتاہے لڑکی یا اس کے وکیل سے اختیار لے کر لڑکے سے یوں کہہ دے کہ "میں نے فلانہ بنت فلاں کو نکاح آپ کے ساتھ کردیا" اور لڑکا کہے کہ میں نے قبول کیا، اس سے بھی نکاح منعقد ہوجائے گا۔ اسی طرح اگر لڑکا اور لڑکی دونوں ہی اپنا اختیار نکاح خواں کو سپرد کردیں، اور نکاح خواں گواہوں کے روبرو ایک ہی جملے میں یوں کہہ دے: " میں نے فلانہ بنت فلاں کا نکاح فلاں بن فلاں کے ساتھ کردیا" تو اس سے بھی نکاح منعقد ہوجائے گا۔ 

*فائدہ:* نکاح کا ایک مختصر خطبہ اگلی پوسٹ میں ملاحظہ ہوں۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/9* 
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111201126*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
           
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 55* ・❱━━━

   *نکاح کا ایک مختصر جامع خطبہ*

*خطبہ نکاح کا  بہتر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا  کرنے کے بعد سورہ آلِ عمران کی آیت نمبر: ۱۰۲ ، سورہ نساء کی آیت نمبر: ۱ ، اور سورہ احزاب کی آیت نمبر  : ۷۰،۷۱  پڑھی جائے، اس کے بعد نکاح سے متعلق چند احادیث پڑھ لی جائیں۔ ذیل میں نمونہ کے طور پر ایک خطبہ لکھا جارہا ہے:*

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِیْنُه وَنَسْتَغْفِرُه وَنُؤْمِنُ بِه وَنَتَوَکَّلُ عَلَیْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئاٰتِ اَعْمَالِنَا مَن یَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ یُّضْلِلْهُ فَلاَ هَادِیَ لَهُ۞ونشْهَدُ أَنْ لَآ اِلٰهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهٗ  لَا شَرِیْکَ لَهٗ۞وَنشْهَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَرَسُوْلُه، أَمَّا بَعْدُ  فأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم ۞ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِِْ۞ { يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ} [آل عمران: 102] {يَاأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: 1] {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (70) يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (71)} [الأحزاب: 70، 71] و قال النبيﷺ :   «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ». و قال عليه الصلاة والسلام : " تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك".  وقال النبیﷺ :  «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة». وقال عليه الصلاة والسلام : ’’ النكاح من سنتي ‘‘. و في رواية : ’’ فمن رغب عن سنتي فليس مني ‘‘ أو كما قال عليه الصلاة والسلام".

*📚حوالہ:*
*▪مشکاة المصابیح 2/941*
*▪مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 5/2069*
*▪فتاوی شامی 3/9*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111201126*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 56* ・❱━━━

   *منہ دکھائی پر دیا ہوا سامان یا ہار مہرکہلائے گا یانہیں؟*

   *لڑکی کو منہ دکھائی کے وقت شوہر کی جانب سے یا اس کے سسرال والوں کی جانب سے خوشی کے طور پر کچھ دینا جائز ہے، کوئی شرعی قباحت نہیں، بشرطیکہ شرعی حدود کا خیال رکھا جائے اور اس کی حیثیت عام تحفہ کی طرح ہے، الا یہ کہ مہر کی وضاحت کردی جائے۔ لہٰذا شوہر نے منہ دکھائی کے وقت جو  ہار بیوی کو دیا وہ اگر مہر ادا کرنے کے ارادے یا صراحت سے دیا تو اس سے مہر ادا ہوگیا؛ کیوں کہ عام طور پر اس موقع پر تحفہ تحائف دیے جاتے ہیں، مہر مقصود نہ ہو تو عرف کے اعتبار سے اسے تحفہ گفٹ سمجھا جائے گا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب النکاح 3/153 سعید*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144112200006*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 57* ・❱━━━

   *نکاح کے انعقاد کے لیے مجلس نکاح میں موجود لوگوں میں سے دو کی تعیین کا حکم*

  *بعض علاقوں میں یہ ترتیب ہے کہ نکاح کے انعقاد کے وقت حاضر لوگوں میں سے دو آدمیوں کو نکاح کے گواہ کے طور پر نامزد کرتے ہیں تو اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ایسا کرنا ضروری نہیں ہے ، بلکہ مجلس نکاح میں موجود لوگ جو ایجاب و قبول کو سن لیں خود بخود نکاح کے گواہ بن جائیں گے، ہاں  دو گواہوں کی تعیین عام طور سے نکاح نامہ میں ناموں کے اندراج اور ضرورت پڑنے پر گواہی دینے کے لیے کی جاتی ہے ، اور ایسا کرنا بھی درست ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144109201217*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 58* ・❱━━━

   *بچہ کی پیدائش کے کتنے عرصہ بعد ہم بستری کرنا درست ہے؟*

*بچہ کی پیدائش کے بعد جب نفاس کی مدت گزر جائے،  اس کے بعد  ہم بستری کے لیے شریعتِ مطہرہ میں  کوئی تحدید نہیں، اس کا مدار بیوی کی طبیعت اور اُس کی بشاشت پر ہو گا، جب بیوی کی طبیعت اس قابل ہوجائے کہ اس کے ساتھ ہم  بستری کی جائے، اس وقت بیوی سے ہم بستری کرنا  درست ہو گا، بہتر ہو گا کہ اس معاملہ میں اپنی طبیبہ سے رائے لی جائے۔ فقط واللہ اعلم*

*فائدہ: نفاس کے مسائل کے لیے بہشتی زیور یا کسی اور فقہی کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144108200249*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
   *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 59* ・❱━━━

   *دو بیویوں کو ایک ساتھ اکھٹے کرکے ہم بستری کرنا*

  *شرم و حیاء اسلام کا بنیادی اور امتیازی وصف ہے، ایمان و حیاء کو لازم و ملزوم قرار دیا گیا ہے، اگر ایک اٹھ جائے تو دوسرے کے اٹھ جانے کا خطرہ ہے، لہذا دو بیویوں کے ساتھ ایک وقت میں اکھٹے کرکے ہم بستری کرنا حیا کے خلاف اور مکروہ تحریمی ہے۔*
*نیز عورت کے لیے بھی دوسری عورت کا ستر  شدید ضرورت کے بغیر دیکھنا جائز نہیں ہے،  لہٰذا اگر ایک بیوی دوسری بیوی کا ستر دیکھے تو اس کی قباحت مزید بڑھ جائے گی۔ اس لیے فقہاء کرام رحمھم تعالی نے لکھا ہے کہ اپنی بیوی کے ساتھ کسی سمجھدار بچے کے سامنے یا اندھے یا سوکن یا باندی کے سامنے جماع کرنا ممنوع اور مکروہ ہے۔*

*📚حوالہ:*
*▪الدر المختار وحاشية ابن عابدين  (3 / 208)*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111200293*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 60* ・❱━━━

   *بیوی کا الگ رہائش کا مطالبہ کرنا*

   *علیحدہ رہائش بیوی کا حق ہے، اور اس کا انتظام اصولاً شوہر کے ذمے ہے، نہ کہ سسرال کے ذمے، تاہم بیوی کو مستقل اور الگ رہائش دینے کے معاملہ میں  شریعت نے شوہر  کی استطاعت اورحیثیت کوملحوظ رکھاہے ، اگرشوہرزیادہ  مال دار ہے اور اس کی استطاعت ہے کہ وہ مستقل طورپر علیحدہ گھر کا انتظام کرے  اور بیوی بھی شریف اور اعلی خاندان سے تعلق رکھتی ہے تو بیوی کو الگ گھر کے مطالبے کا حق ہوگا، لیکن شوہر کی حیثیت کو مدنظر رکھ کر درمیانے درجے کے گھر کا انتظام کرنا  لازم ہوگا۔*
*اور اگرشوہراتنی استطاعت نہیں رکھتا کہ مکمل طورپر جدا گھر  دے  تو گھر میں سے ایک ایسا جدا مستقل کمرہ جس  کا بیت الخلا، باورچی خانہ وغیرہ الگ ہو اورعورت کی ضروریات کو کافی ہوجائے، جس میں وہ اپنامال و اسباب تالا لگا کر رکھ  سکے، کسی اور کی اس میں دخل اندازی نہ ہو،  ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے کافی ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/601 سعید*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/556*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 8/572*
*▪فتاوی محمودیہ 13/447*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 61* ・❱━━━

   *زنا کے بعد نکاح کا حکم*
  
     *نکاح سے پہلے اجنبی لڑکی سے بات چیت کرنا، ملاقات کرنا ناجائز ہے اور اس سے ہم بستری کرنا ’’زنا‘‘  اور شدید گناہ ہے ، اگر کسی شخص سے یہ سرزد ہوا تو سخت گناہ کا کام کیا، اس پر خوب توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔ تاہم زنا کے بعد اسی لڑکی سے زانی یا غیرزانی کا نکاح درست ہے ، پھر اگر زنا کی وجہ سے حمل ٹھہر گیا ہو اور زانی سے ہی نکاح ہوا تو جماع کرنا حالت حمل میں بھی درست ہے اور اگر غیر زانی سے نکاح ہوا تو جب تک بچہ پیدا نہ ہو اس وقت تک جماع اور دواعی جماع ناجائز ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/141*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144010200978*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 62* ・❱━━━

   *بیوی کا والدین سے ملاقات کا حق کتنے دن بعد ہے؟*

   *شوہر کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے والدین سے بات چیت کرنے یا ملاقات سے منع کرے، ملاقات کرنے میں تفصیل یہ ہے کہ اگر والدین اس کے پاس آسکتے ہیں تو وہ آئیں، ملاقات کر کے چلے جائیں، اور اگر ان کے لیے آنا ممکن نہ ہو تو ہفتے میں ایک بار بیٹی ان سے ملنے جاسکتی ہے، لیکن آنے جانے کا خرچہ بیوی اپنے شوہر سے لے گی، والدین سے مطالبہ کرنا جائز نہیں، تاہم اگر وہ اپنی رضا و خوشی سے دیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، تاہم اگر وہ دوسرے شہر میں رہتے ہوں اور ہرہفتے آمد و رفت مشکل ہو یا شوہر خرچا برداشت نہ کرسکتا ہو تو شوہر کو بقدرِ گنجائش مناسب وقفے کے بعد ملاقات کے لیے بھیجنا چاہیے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 11/415 دارالفکر*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144106200818*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 63* ・❱━━━

   *جہیز کی شرعی حیثیت*

   *نکاح انسانی فطرت کے ایک ضروری تقاضے کو جائز طریقے سے پورا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور اگر اس جائز طریقے پر رکاوٹیں عائد کی جائیں یا اس کو مشکل بنایا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص اپنی فطری ضرورت پوری کرنے کے لیے جائز راستے بند پائے گا تو اس کے دل میں ناجائز راستوں کی طلب پیدا ہوگی، جو انجامِ کار معاشرے کے بگاڑ کا ذریعہ بنے گی۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر کوئی ایسا شخص تمہارے پاس رشتے کا پیغام بھیجے جس کی دِین داری اور اَخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس کا نکاح کرادو، اگر ایسے نہیں کروگے تو زمین میں بڑا فتنہ اور وسیع فساد ہوجائے گا‘‘۔ (رواہ الترمذی)*
  *اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ڈھانچے نے اسے اتنا ہی مشکل بنادیا ہے، نکاح کے بابرکت بندھن پر بے شمار رسومات، تقریبات، اور فضول اخرجات کے ایسے بوجھ لاد دیے گئے ہیں کہ ایک غریب بلکہ متوسط آمدنی والے شخص کے لیے بھی وہ ایک ناقابلِ تسخیر پہاڑ بن کر رہ گیا ہے اور اس میں اکثر اور بیش تر ایسی رسومات کا ارتکاب کیا جاتا ہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ وہ ہندوانہ رسمیں ہیں، اور غیر اقوام سے مشابہت کی ممانعت بے شمار احادیث میں وارد ہوئی، حدیثِ مبارک میں ہے: " سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جس میں سب سے کم مشقت (کم خرچہ اور تکلف نہ) ہو" ۔*
*جہیز کے بارے میں بعض لوگ افراط و تفریط کے شکار ہوئے ہیں ، جہیز کے بارے میں معتدل فتوی یہ معلوم ہوتا ہے۔*
*1۔۔ اگر والدین بغیر جبر و اکراہ کے اور بغیر نمود ونمائش کے اپنی حیثیت کے مطابق بطیبِ خاطر لڑکی کو تحفہ دیتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، اور لڑکی اس کی مالک ہوگی۔*
*2۔۔ اگر جہیز کے نام پر لڑکے والوں کا مطالبہ کرنے پر یا معاشرتی دباؤ کی وجہ سے محض رسم پوری کرنے کے لیے لڑکے والوں کو سامان دینا پڑے اور مذکورہ سامان دینے میں بچی کے والدین کی رضامندی بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں لڑکے والوں کے لیے ایسا جہیز لینا ناجائز ہے۔ اور اگر ایسا جہیز بچی کے حوالہ کر بھی دیا گیا تو بچی ہی اس کی مالک ہوگی اور اس کی اجازت کے بغیر مذکورہ جہیز کے سامان کو لڑکے والوں کے لیے استعمال کرنا حلال نہیں ہوگا۔*
*3.. لڑکے والوں کی طرف سے "جہیز" دینے کادباؤ یا جہیز کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪مشکاة المصابیح 2/268 قدیمی*
*▪معارف الحدیث 7/660*
*▪الموسوعة الفقهية الكويتية 16/166*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144107200648*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 64* ・❱━━━

   *سال کے کسی بھی مہینے میں نکاح کیا جاسکتا ہے*

   *شریعتِ  مطہرہ میں نکاح کے لیے کوئی خاص وقت یا کسی خاص دن کی قید نہیں ہے اور نہ کسی مہینے یا دن نکاح کرنا منع ہے، بلکہ سال بھر میں ہر وقت نکاح کیا جاسکتا ہے، لہذا جو لوگ صفر کے مہینے میں نکاح کو منحوس خیال کرتے ہیں وہ غلطی پر ہیں ، اسی طرح رمضان المبارک میں بھی دن اور رات کسی بھی وقت نکاح کرنا جائز ہے، البتہ دن میں روزہ کی حالت میں ازدواجی تعلق قائم کرنا جائز نہیں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی بترمیم یسیر 144107200334*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 65* ・❱━━━

   *بیوی کے ناراض ہوکر کئی سال میکے میں بیٹھ جانے سے نکاح کا حکم*

   *شادی کے بعد  اگر شوہر بیوی کے نان ونفقہ اور رہائش کا بندوبست بھی کررہا ہو تو بیوی کا  بلاوجہ شوہر سے ناراض ہوکر  شوہر سے دور رہنا اور شوہر کے بلانے کے باوجود نہ آنا  سخت گناہ ہے، احادیثِ مبارکہ میں  ایسی عورت کے بارے میں   سخت وعیدیں آئی ہیں، اور جو عورت شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت کرے اس کی بڑی فضیلت  بیان  کی گئی ہے۔ تاہم عوام میں جو یہ بات مشہور ہے کہ بیوی کا کئی سال الگ رہنے سے نکاح ختم ہوتا ہے یا کمزور ہوجاتا ہے ، ایسی کوئی بات شریعت میں مذکور نہیں ہے لہذا جب تک نکاح ختم کرنے کے اسباب میں سے کوئی سبب موجود نہ ہوا ہو تو محض الگ رہنے اور میکے میں کئی سال گزارنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی بترمیم 144107200192*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 66* ・❱━━━

   *نکاح سے پہلے لڑکی کو ایک نظر دیکھنے کا حکم*

  *جب کسی جگہ نکاح کرنے کا پختہ ارادہ ہو تو نکاح سے پہلے لڑکا لڑکی کا ایک دوسرے کو ایک مرتبہ براہِ راست دیکھ لینا بہتر ہے، حدیث شریف میں اس دیکھنے کو شادی کے بعد محبت کا سبب بتایا گیا ہے۔ لیکن یہ دیکھنا شرعاً ضروری نہیں، صرف گھر کی خواتین دیکھ لیں تو یہ بھی کافی ہے۔ واضح رہے کہ صرف ایک نظر دیکھنے کی اجازت ہے، تنہائی میں ملاقات یا بار بار دیکھنے کا مطالبہ کرنے نیز دونوں کی بات چیت کروانے کی شرعاً اجازت نہیں ہے، جن ضروری امور کے حوالے سے تسلی مطلوب ہو وہ گھر کی خواتین کے ذریعے کرلی جائے۔*
 
*📚حوالہ:*
*▪سنن ابی داؤد حدیث 2082*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 6/370*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144104200677*
*▪فتوی جامعہ دارالعلوم دیوبند سوال نمبر 32441*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 67* ・❱━━━

   *دوسری شادی کرنے کے لیے بیوی کی اجازت لینا*

    *بیک وقت ایک سے زیادہ (چارتک) شادیوں کے لیے شرعاً اتنی بات ضروری ہے کہ شادی کرنے والا تمام بیویوں کے جسمانی ومالی حقوق ادا کرنے اور ان کے درمیان واجب حقوق میں برابری پر قدرت رکھتا ہو۔ پہلی بیوی یا کسی سے اجازت لینا یا اسے اطلاع دینا شرعاً ضروری نہیں ہے۔تاہم بہتر یہ ہے کہ پہلی بیوی کو رضامند کرکے دوسری شادی کریں؛ تاکہ آئندہ کی زندگی میں سکون اور اطمینان ملے، اور دوسری شادی کامقصدپوری طرح  حاصل ہو۔*  
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالی ہے:
"فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً" 
*ترجمہ: سو تم نکاح کرو ان عورتوں سے جو تمہیں پسند ہوں دو، دو، تین تین، اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ برابری نہیں کرسکوگے تو ایک ہی عورت پر اکتفا کرو۔*

 *📚حوالہ:*
*▪سورت النساء 3*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144106200686*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 68* ・❱━━━

   *حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے کا حکم*

   *حلالہ کی نیت سے نکاح کرنے کی دو صورتیں بیان کی گئی ہیں۔*
*(1) جو نکاح حلالہ کی شرط کے ساتھ کیا جائے، یعنی عقد نکاح میں اس بات کا تذکرہ کیا جائے کہ ہمبستری کے بعد شوہر طلاق دے گا یا زوجین کو یا تیسرے شخص کو علم ہو کہ ایسا کیا جائے گا تو ایسا نکاح حدیث کی روسے موجب لعنت ہے، تاہم اس کے باوجود اگر نکاح کر لیا گیا، توحلالہ کی شرائط کے تحقق کے بعد عورت پہلے شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔*
*(2) اگر بغیر کسی شرط کے محض حلالہ کی نیت سے نکاح کیا، یعنی زوجین کو آپس میں ایک دوسرے کی نیت کا علم نہ ہو اور نہ ہی کسی تیسرے شخص کو اس کا علم ہو، بلکہ کسی مسلمان کے گھر کو آباد کرنے کی نیت سے نکاح کیا تو یہ نکاح بلا کراہت جائز ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 5/47*
*▪احسن الفتاوی 5/154* 
*▪فتوی جامعہ دارالعلوم دیوبند جواب نمبر: 68091*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 69* ・❱━━━

   *نکاح مسیار / عارضی نکاح کا حکم*

   *شریعت میں نکاح کے مقاصد درج ذیل ہیں:*
*1۔ایمان کی حفاظت اور گناہوں سے بچنا*
*2۔خوشگوار ازدواجی زندگی*
*3۔خاندانی نظام کی حفاظت*
*4۔اولاد کا حصول*
*5۔اچھے ماحول میں بچوں کی تربیت اور اچھا ماحول اسی وقت مل سکتا ہے جب بچوں کو ماں اور باپ دونوں کی توجہ اور محبت حاصل ہو۔*
*نکاح مسیار سے مذکورہ بالا مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے، کیونکہ ان مقاصد کا حصول تب ممکن ہے،جب میاں بیوی ایک ہی گھر میں رہیں۔ نیز اس طریقے سے نکاح کے عام ہونے کی صورت میں ہمارے معاشرے پر درج ذیل منفی اثرات مرتب ہوں گے:*
*1۔ مرد شہوت پوری کرنے کے لیے یہ عقد کریں گے اور عورت و اولاد کی ذمہ داری نہیں اٹھائیں گے جس سے خاندانی نظام تباہ ہوجائے گا۔*
*2۔ عورتیں مردوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر رہ جائیں گی،جن کے حقوق اور کفالت کا کوئی ذمہ دار نہیں رہے گا۔*
*3۔ مرد کی نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے عورت کے گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ رہے گا۔*
*4۔ طلاق کی شرح بڑھ جائے گی،کیونکہ عورت جب ایک بار اپنے نان نفقہ سے دستبردار ہوگئی تو ضرورت کے وقت مطالبے کی صورت میں اختلاف ہوگا اور پھر طلاق کی نوبت آئے گی۔*
*5۔ نان نفقہ کا بوجھ عورت پر پڑے گا جس کے حصول میں اس کی عفت کو شدید خطرات لاحق ہوں گے۔*
*6۔ نکاح اور زنا میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ زنا کا ارتکاب چھپ کر کیا جاتا ہے،جبکہ نکاح سرعام کرنے کا حکم دیا گیا ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کا مفہوم ہے کہ نکاح علی الاعلان کیا کرو۔ درج بالا مفاسد کے ساتھ ساتھ یہ نکاح انبیاء علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ، سلف صالحین اورجمہور امت کے طریقہ کے بھی خلاف ہے۔*
*گوکہ اس کے کچھ فوائد بھی اپنی جگہ ہوں گے،لیکن چونکہ اس کے نقصانات فوائد سے کہیں زیادہ ہیں اور نقصانات بھی ایسے ہیں جو کسی بھی قوم کی خاندانی نظام کی تباہی اور نسلوں کے ختم ہونے کا سبب بن سکتے ہیں،جیسا کہ آج کل یورپ اور امریکہ کے معاشرے کو ان مفاسد کا سامنا ہے،اس لیے اس طریقے سے نکاح کی اجازت قطعا نہیں دی جاسکتی۔*

 *📚حوالہ:*
*▪دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی فتوی نمبر :62356*
*▪فتویجامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012201363*
*▪دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی 20/08/1427ھ*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 70* ・❱━━━

   *کیا ڈرامہ سیریل میں نکاح کرنے سے نکاح ہوجاتا ہے؟*

*ڈرامے  میں کیے جانے والے نکاح سے مقصود ریکارڈنگ اور حکایت ہوتی ہے اور دیکھنے والوں کے نزدیک بھی یہ بات معروف ہوتی ہے کہ مقصود نکاح نہیں، بلکہ ریکارڈنگ اور حکایت ہے،  اس لیے کہ ڈراما  میں پہلے ڈراما  نگار فرضی کہانی لکھتا ہے، اور ڈراما  میں کام کرنے والے اس فرضی کہانی کی عکاسی کرتے ہوئے اس کی حکایت کرتے ہیں، لہذا ڈراما میں اسکرپٹ کی نقل سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، اگرچہ حقیقی نام سے بھی ہو۔*
*البتہ اگر ڈرامے  میں کام کرنے والے لڑکا اور لڑکی نے نکاح ہی کی نیت سے الفاظ ادا کیے ہوں اور گواہوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیا ہو ، اور لڑکی کسی اور کی منکوحہ نہ ہو تو  نکاح منعقد ہوجائے گا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪ الفتاوی التاتارخانية کتاب النکاح، 4/7 ط: مکتبه فاروقیه*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144105200839*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 71* ・❱━━━

   *نکاح میں کفو اور غیرِ کفو کی تفصیل*

   *"کفو‘‘ کا معنی ہے: ہم سر، ہم پلہ، برابر۔  نکاح کے باب میں "کفو"  کا مطلب یہ ہے کہ  لڑکا دین، دیانت، مال ونسب، پیشہ اور تعلیم میں لڑ کی کے ہم پلہ (یا اس سے بڑھ کر) ہو ، اس سے کم نہ ہو،  اور کفاءت میں مرد کی جانب کا اعتبار ہے، یعنی لڑکے کا لڑکی کے ہم پلہ اور برابر ہونا ضروری ہے، لڑکی کا لڑکے کے برابر ہونا ضروری نہیں ہے۔*
*لہذا اگرلڑکااورلڑکی نسب، مال، دِین داری، شرافت اورپیشے میں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تویہ دونوں ایک دوسرے کے ’’کفو‘‘   قرار پائیں گے، ان کا باہمی رضامندی کے ساتھ  نکاح درست ہے، اور اگر لڑکا اور لڑکی کے درمیان مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق برابری نہ ہو تو  یہ  ’’غیر کفو‘‘  میں نکاح ہوگا۔  پھر  اگر ولی(والد یا دادا وغیرہ) اور عورت اس رشتے پر راضی ہوں خواہ وہ رشتہ ہم سر نہ ہو تو بھی نکاح جائز ہے۔ اور اگر عورت اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کرلے تو اولاد پیدا ہونے سے پہلے تک اولیاء کو عدالت کے ذریعہ یہ نکاح فسخ کرانے کا حق ہوتاہے۔*
*مذکورہ امور (نسب، پیشہ اور مال وغیرہ) میں برابری کی کیا حد ہے؟ اور کفاءت کہاں معتبر ہے؟  اس کی تفصیل کے لیے کتبِ فقہ و فتاویٰ کا مطالعہ کرلیا جائے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/86 سعید* 
*▪فتح القدیر 3/293 دارالفکر*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/292*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144105200561*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 72* ・❱━━━

   *محرم اور نامحرم رشتہ داروں کی تفصیل*

*جس مرد و عورت کے درمیان نسبی رشتہ یا رضاعی رشتہ یا ازدواجی رشتہ کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو وہ آپس میں محرم ہیں۔ بالفاظ دیگر تمام اصول (یعنی والدہ، دادی، نانی وغیرہ اوپر تک) اور فروع( یعنی بیٹی، پوتی، نواسی وغیرہ نیچے تک) محارم ہیں، اسی طرح بہن اور بہن کی اولاد( یعنی بہن کی بیٹی، پوتی،نواسی وغیرہ)، اسی طرح بھائی کی اولاد( بیٹی، پوتی، نواسی وغیرہ) ، پھوپھی اور خالہ بھی محارم میں شامل ہیں،اسی طرح بیوی کی ماں (خوش دامن/ ساس) اور اس کی دادی،نانی وغیرہ، بیوی کی بیٹی (جو کسی اور شوہر سے ہو اور آپ کے زیرِ کفالت ہو ) جب کہ بیوی سے صحبت کی ہو، والد کی منکوحہ (جس کو ہمارے عرف میں سوتیلی ماں کہا جاتا ہے) اور بیٹے کی منکوحہ (بہو) بھی محارم میں سے ہیں، یہی تمام رشتے اگر رضاعی ہوں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/28*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012200932*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 73* ・❱━━━

   *وہ رشتہ دار جن سے پردہ فرض ہیں اور جن سے فرض نہیں؟*

*وہ افراد جن سے عورت کا پردہ نہیں ہے، یہ ہیں  :*
    *(1)  باپ (2) بھائی (3)  چچا   (4) ماموں   (5)  شوہر   (6) سسر   (7) بیٹا   (8)  پوتا   (9) نواسہ   (10) شوہر کا بیٹا   (11) داماد   (12) بھتیجا   (13) بھانجا   (14) مسلمان عورتیں   (15) کافر باندی (16) ایسے افراد  جن کو عورتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ( مثلاً:  چھوٹے بچے جن کو ابھی یہ سمجھ نہیں کہ عورت کیا ہے ، جسے مرد اور عورت میں فرق ہی نہ معلوم ہو)*

*نامحرم رشتہ دار  یعنی وہ رشتہ دار جن سے پردہ فرض ہے، وہ درج ذیل ہیں :*
*(1) خالہ زاد   (2) ماموں زاد   (3) چچا زاد   (4) پھوپھی زاد   (5) دیور    (6) جیٹھ   (7) بہنوئی   (8)نندوئی   (9) خالو    (10) پھوپھا   (11) شوہر کا چچا   (12)  شوہر کا ماموں   (13)شوہر کا خالو   (14) شوہر کا پھوپھا   (15) شوہر کا بھتیجا    (16) شوہر کا بھانجا ۔*

*📚حوالہ:*
*▪سورت نور آیت 31*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144004201430*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 74* ・❱━━━

   *مہر کی دو قسمیں اور تھوڑا تھوڑا مہر ادا کرنے کا حکم*

   *مہر کی دو قسمیں ہیں:  ایک معجل اور دوسرا مؤجل۔  معجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کا ادا کرنا نکاح کے فوری بعد ذمہ میں واجب ہوجاتا ہے اور بیوی کو نکاح کے فوری بعد اس کے مطالبہ کا پورا حق حاصل  ہوتا ہے، جب کہ مؤجل سے مراد وہ مہر ہوتا ہے جس کی ادائیگی نکاح کے بعد فوری واجب نہ ہو، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے کوئی خاص میعاد (وقت) مقرر کی گئی ہو یا اس کی ادائیگی کو مستقبل میں بیوی کے مطالبے پر موقوف رکھا گیا ہو،  اگر کوئی خاص میعاد مقرر کی گئی ہو تو بیوی کو اس مقررہ وقت کے آنے سے پہلے اس مہر کے مطالبے کا حق نہیں ہوتا، اور اگر بیوی کے مطالبہ پر موقوف رکھا گیا ہو تو بیوی جب بھی مطالبہ کرے گی اس وقت شوہر کے ذمہ یہ مہر ادا کرنا لازم ہوجائے گا، لیکن   اگر مہر مؤجل کے لیے نہ تو کوئی خاص میعاد رکھی گئی ہو یا نہ ہی بیوی کے مطالبہ کو میعاد بنایا گیا ہو تو پھر اس صورت میں اس کی ادائیگی طلاق یا موت کی وجہ سے فرقت کے وقت لازم ہوگی۔*
*مہر کا معجل یا مؤجل مقرر کرنا زوجین کی آپس کی رضامندی پر موقوف ہوتا ہے، چاہے سارا مہر معجل مقرر کیا جائے، چاہے سارا کا سارا مؤجل مقرر کیا جائے اور چاہے تو مہر کا کچھ حصہ  معجل طے کیا جائے اور کچھ حصہ مؤجل طے کیا جائے۔ اسی طرح معجل ہونے کی صورت میں یا مؤجل کا وقت آجانے کی صورت میں بیوی تھوڑا تھوڑا کرکے مہر وصول کرنے پر بطیبِ خاطر راضی ہو تو چوں کہ یہ بیوی کا حق ہے؛ لہٰذا شوہر اس طرح بھی مہر ادا کرسکتاہے۔*

*📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/318*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144105200061*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 75* ・❱━━━

   *نکاح میں دلہا اور دلہن کی ولدیت کا ذکر*

    *نکاح میں ولدیت سے مقصود تعارف ہوتاہے، لہذادلہا اور دلہن میں سے جو بھی مجلسِ نکاح میں موجود ہو اور خود ایجاب و قبول کرے یا اس کا وکیل اس کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کرے تو اس صورت میں نکاح کی مجلس کے گواہوں کے لیے  دلہا دلہن کی ولدیت جاننا ضروری نہیں، یعنی مجلسِ عقد میں ان کا نام لینا ضروری نہیں۔*
*البتہ دلہا اور دلہن میں سے جو بھی مجلسِ عقد میں موجود نہ ہو  یا موجود ہو، لیکن نہ تو خود ایجاب و قبول کریں اور نہ ہی ان کی طرف اشارہ کر کے ایجاب و قبول کیا جائے تو اس صورت میں ان کے نام کے ساتھ ولدیت کاذکر بھی ضروری ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/15*
*▪المحیط البرھانی 3/89*
*▪الفتاوی الھندیہ 6/426*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144104200812*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 76* ・❱━━━

   *شادی کی پہلی رات نفل پڑھنے کا حکم*

   *شرعی طور پر شبِ  زفاف کے لیے الگ سے کوئی نماز مقرر نہیں ہے، البتہ یہ جائز ہے کہ دولہا دو رکعت صلاۃ الحاجت کی نیت سے پڑھ کر خیر و برکت، موافقت و محبت، رشتہ کے بقا و دوام اور نیک اولاد کے حصول کی دعا کرے ، اور یہ نوافل ہر جگہ پڑھنا جائز ہے نیز اس رات نوافل پڑھنے کا شرعاً  کوئی طریقہ مخصوص نہیں۔*

*ناپاکی کی حالت میں نکاح ہوگا  کہ نہیں؟*

  *نکاح منعقد ہونے کے لیے عورت یا مرد کا پاک ہونا شرط نہیں ہے،  لہذا اگر عورت حالت حیض میں ہو تو نکاح منعقد ہوجائے گا البتہ جب تک پاک نہ ہوجائے اس وقت تک ہمبستری کرنا حرام ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012201886*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 77* ・❱━━━

   *اللہ تعالی کو گواہ بنا کر نکاح کرنا*

*نکاح منعقد  ہونے  کے  لیے دولہا  و  دلہن  کی جانب سے ایجاب و قبول کرتے وقت شرعی گواہوں (دو مرد یا ایک مرد  اور دو عورتوں) کا موجود ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس گواہوں کی غیر موجودگی میں اللہ کو گواہ بنا کر لڑکا لڑکی  کے ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہو گا۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/268*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/178*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144007200378*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ






🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 78* ・❱━━━

   *مہر ادا کیے بغیر بیوی سے قربت کا حکم*

*مہر عورت کا حق ہے،اور شریعت نے اس کی جلدادائیگی کی تاکید ہے، لہذااگر کل مہر معجل ہو تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ  وہ مہر کی ادائیگی سے قبل شوہر کو حقوق کی ادائیگی سے روک سکتی ہے، اور شوہر کو جبر کا حق نہیں، لیکن اگر عورت مہر معجل ہونے کے باوجود فوری ادائیگی کا مطالبہ نہیں کرتی بلکہ رضامندی سے حقوقِ زوجیت ادا کرنے دیتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور بالفرض اگر اس صورت میں شوہر جبراً  تعلق قائم کرتاہے تو بھی اسے زنا نہیں کہاجائے گا۔البتہ وہ شخص جس نے کسی عورت سے نکاح کیا، اور مہرمقرر ہوا،  لیکن اس شخص کی نیت مہر ادا کرنے کی نہیں ہے ، تو ایسا شخص عورت کے ساتھ بغیر مہر کے ہم بستری کرکے زانی شمار کیاجائے گا۔ چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے :*
"قال النبي صلى الله عليه وسلم: من نكح امرأةً وهو يريد أن يذهب بمهرها فهو عند الله زان يوم القيامة". (4/360)
*ترجمہ:جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے اور مہر ادا کرنے کی نیت نہ رکھتاہو وہ عنداللہ زانی ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪المبسوط للسرخسی 6/190*
*▪بدائع الصنائع 5/468*
*▪تبیین الحقائق 5/490*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012200467*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 79* ・❱━━━

   *مزید بچوں کی خواہش نہ ہونے کی وجہ سے رحم بند کرانا*

   *شریعتِ مطہرہ میں نکاح  کے من جملہ اغراض ومقاصد میں سے  ایک اہم مقصد توالد وتناسل  ہے، اور  اولاد کی کثرت مطلوب اور محمود ہے، یہی وجہ ہے کہ حدیثِ مبارک میں زیادہ بچہ جننے والی عورت سے نکاح کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، لہذا  اس خطرہ کے پیش نظر  کہ بچے زیادہ ہوں گے تو ان کے معاش کا انتظام کیسے ہوگا، فیملی پلاننگ کرنا حرام ہے،اسی طرح کثرتِ آبادی کے خوف سے پیدائش کو محدود کرنا نظامِ خداوندی میں دخل اندازی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے جتنی جان دار مخلوق پیدا کی ہے سب کے لیے رزق کا وعدہ فرمایا ہے۔*
*ہاں اعذار کی بنا پر  یا بچوں کی تربیت اور نگہداشت کی غرض سے  مناسب وقفہ کرنا جائز ہے اور اس کے لیے عارضی طور پر مانعِ حمل  کا ایسا طریقہ اور تدبیر اختیار کرنا درست ہے کہ جس سے وقتی طور پر حمل روکا جاسکے، اس طور پر کہ جب چاہیں دوبارہ توالد و تناسل کا سلسلہ جاری رکھا جاسکتا ہو۔*
*باقی آپریشن کرکے بچہ دانی  نکلوانا یا نس بندی کروانا یا کوئی ایسا طریقہ اپنانا جس سے توالد وتناسل (بچہ پیدا کرنے) کی صلاحیت بالکل ختم ہوجائے، شرعاً جائز نہیں ہے، احادیثِ مبارکہ میں اس کی ممانعت ہے، نیز یہ منشاءِ شریعت کے خلاف، نظامِ خداوندی میں دخل اندازی اور کفرانِ نعمت ہے۔ فقط واللہ اعلم*
*📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی 40/1570*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144012200039*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 80* ・❱━━━

   *نکاح کے ولی اور وکیل میں فرق*

   *’’ولی‘‘ اور  ’’وکیل‘‘ شرعی و فقہی اصطلاحات ہیں، جو  ایک ہی فرد میں بھی جمع ہوسکتی ہیں، یعنی ایک ہی شخص ولی اور وکیل دونوں ہوسکتاہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں الگ الگ ہوں۔ ’’ولی‘‘ ولایت سے ہے اور ولایت سرپرستی کو کہتے ہیں، نکاح میں دولہے یا دولہن کا ولی اس دولہے یا دولہن کا وہ سرپرست ہے جس کو شریعت نے سرپرست مقرر کیا ہے ،  یعنی  اگر بیٹا ہو (مثلاً: کسی بیوہ یا مطلقہ کا نکاح ہورہاہو) تو سب سے پہلے ولایت  بیٹے کو حاصل ہوگی،  اگر وہ نہ ہو تو پوتے کو۔  اور اگر وہ نہ ہو  یا کسی کنواری کا نکاح ہورہاہو تو باپ ولی ہوگا، وہ نہ ہو تو دادا۔  اور اگر وہ بھی نہ ہو تو سگا بھائی، اور اگر وہ بھی نہ ہو تو باپ شریک بھائی۔ اور اگر وہ  بھی نہ ہو تو سگے بھائی کا بیٹا (بھتیجا)، اور اگر وہ نہ ہو تو باپ شریک بھائی کا بیٹا، اور اگر وہ نہ ہو تو سگا  چچا، وہ بھی نہ ہو تو چچا کا بیٹا …الخ۔ یعنی ولایت کی وہی ترتیب ہے جو میراث میں عصبہ بنفسہ کی ہوتی ہے۔ عصبہ اس قریبی خونی رشتہ دار کو کہتے ہیں جس سے رشتے میں عورت کا واسطہ درمیان میں نہ آتاہو،  وہ درجہ بدرجہ ولی بنتاہے۔* 
*’’وکیل‘‘  وکالت سے ہے اور وکالت کہتے ہیں کسی کا معاملہ اس کے نمائندے کی حیثیت سے انجام دینا یا پیش کرنا۔ نکاح میں دولہے یا دولہن کا وکیل وہ شخص ہوتا ہے جس کو دولہے یا دولہن نے اپنا نکاح کرانے کی اجازت دی ہو۔*
*عموماً دولہا مجلسِ عقد میں موجود ہوتاہے اور اپنا عقد خود انجام دیتاہے، اس لیے اس کے ولی اور وکیل کی ضرورت نہیں ہوتی، البتہ بعض صورتوں میں اس کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ جب کہ لڑکی کے لیے پردے وغیرہ کے شرعی احکام اور فطری حیا کی وجہ سے دلہن عقدِ نکاح کی مجلس میں حاضر بھی نہیں ہوتی اور اپنا عقد خود انجام بھی نہیں دیتی، لہٰذا اس کے لیے ولی اور وکیل کی ضرورت ہوتی ہے، اب نکاح میں ولی اور وکیل دونوں ایک ہی شخص ہوسکتے ہیں، یعنی لڑکی کا باپ جو شرعی طور پر از خود ولی/ سرپرست ہوتاہے وہی نکاح کے عقد کی انجام دہی کے لیے دلہن کی طرف سے وکیل بن جائے اس کی بھی اجازت ہے۔* 
*اور یہ بھی ممکن ہے کہ لڑکی کے والد (ولی) کی موجودگی میں کسی اور کو عقدِ نکاح کا معاملہ انجام دینے کا وکیل بنادیا جائے، مثلاً: والد کی موجودگی میں چچا یا بھائی کو نکاح کا وکیل بنا دیا جائے، اس کی بھی اجازت ہے۔ اس تفصیل سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دولہے یا دولہن کا ولی تو شرعی طور پر طے ہے، یعنی ولایت غیر اختیاری معاملہ ہے جب کہ وکیل بنانا دولہے یا دولہن کے اپنے اختیار میں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الموسوعة الفقهية الكويتية، 41/275*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144010200769*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 81* ・❱━━━

   *عنین (جو ہمبستری پر قادر نہ ہو) کی زوجہ کا حکم*

   *اگر کسی خاتون کا نکاح ایسے شخص کے ساتھ کیا گیا جو حقوق زوجیت ادا کرنے کی طاقت بالکل نہیں رکھتا اور خلوتِ صحیحہ پائی گئی؛  تو اگر شوہر بلاشرط طلاق دے تو عورت کو پورا  مہر ملے گا ، اگر شوہر طلاق نہ دے تو عورت کو خلع لینے کا بھی حق حاصل ہے، یعنی مہر معاف کرکے شوہر کو طلاق دینے پر آمادہ کرے، اور اگر وہ طلاق دینے پر آمادہ نہ ہو اور حقوقِ  زوجیت ادا کیے بغیر عورت کی عفت وعصمت کا تحفظ دشوار ہو، تو عورت کو چاہیے کہ عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرے اور اس کے حکم اور شرعی طریقے کے مطابق اپنا نکاح ختم کرالے۔ ’’عنین‘‘ سے آزادی حاصل کرنے کا تفصیلی طریقہ یہ ہے:*
*مذکورہ عورت مسلمان جج یا قاضی کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے کہ میرا شوہر عنین ہے اور آج تک اس نے ایک مرتبہ بھی میرا حق ادا نہیں کیا، اس لیے میں اس کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی، مجھے شرعی اصولوں کے مطابق اس کے نکاح سے علیحدہ کر دیا جائے، قاضی شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے اور وہ خود قبول کرے کہ وہ آج تک اس عورت سے وطی پر قدرت نہیں پا سکا تو اسے ایک سال علاج کی مہلت دے گا۔*
*اور ایک سال علاج کے بعد بھی افاقہ نہ ہو اور ایک مرتبہ بھی وطی پر قادر نہ ہو تو عورت دوبارہ قاضی کی عدالت میں دعویٰ دائر کرے اور اس کے ساتھ رہنے پر رضامند نہ ہو تو قاضی شوہر سے اس بات کی تحقیق کرے مرد عورت کی بات قبول کرتا ہو تو قاضی مرد کو کہے کہ اسے طلاق دے کر علیحدہ کر دے، اگر وہ طلاق دے تو بہتر،  ورنہ قاضی عورت کو اس نکاح سے علیحدہ ہونے کا اختیار دے ، اور عورت اس اختیار کو قبول کر کے اس نکاح سے علیحدہ ہو جائے، اس کے بعد عورت عدت گزار کر دوسری جگہ اپنا نکاح کر سکتی ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪المعجم الکبیر رقم 9706*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/249*
*▪المحیط البرھانی 4/238*
*المجلس العلمی*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 82* ・❱━━━

   *بوڑھے والد کی دوسری شادی کرانا*

*بوڑھے والد جس کی زوجہ انتقال کر گئی ہو تو اس کی شادی کروانا کسی بیوہ سے جائز ہے اگر وہ بوڑھا باپ خود بھی چاہتا ہو کہ ان کا خیال رکھنے والا ہو تواس میں  شرعاً   کوئی حرج نہیں، بلکہ والد کو خدمت کی ضرورت ہو تو ان کی دوسری شادی کرانے سے غلط رسم و رواج  کا خاتمہ بھی ہوگا، والد کی اطاعت اور راحت رسانی کا ثواب بھی ملے گا۔*

*شادی کی مروجہ ہندوانہ رسومات*
    *شادی کے سلسلہ میں مروجہ تمام رسومات: مہندی، مایوں، ابٹن، ڈانڈی، چوہتی، جوتا چھپائی وغیرہ وغیرہ شریعت سے ثابت نہیں، ہندوانہ کلچر سے مسلمانوں میں پروان چڑی ہیں، جن سے اجتناب کرنا لازم ہے۔  از روئے سنت شادی کے موقع پر صرف حسبِ استطاعت ولیمہ کی دعوت ہے۔*
 
*📚حوالہ:*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی  144010200357*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




*بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 83* ・❱━━━

   *شادی کے موقع پر ملنے والے زیور پر کس کی ملکیت ہے؟*

   *(1) جو زیور لڑکی جہیز میں اپنے ماں باپ کی طرف سے لے کر آتی ہے، اس پر اسی کی ملکیت ہوتی ہے۔*
*(2) خاتون کو لڑکے والوں کی طرف سے جو زیور ملتا ہے، اگر وہ صراحت کے ساتھ بطورِ  گفٹ دیا گیا ہو، تو اس پر بھی دلہن کی ملکیت ہوتی ہے، اور اگر دیتے وقت لڑکے والوں کی طرف سے استعمال کے لیے دینے کی صراحت کردی گئی ہو  کہ یہ زیور لڑکے کی ملکیت ہے تم صرف استعمال کرسکتی ہو، تو اس صورت میں اس پر لڑکی کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی، صراحت کے مطابق اصل مالک کا تعین کیا جائے گا۔*
*(3) اگر دیتے وقت کوئی صراحت نہ کی گئی ہو ، تو اس صورت میں لڑکے کے گھرانے کے عرف کے مطابق مالک کا تعین کیا جائے گا، اور اگر لڑکے والوں کے یہاں کوئی عرف نہ ہو، تو عرفِ عام کا اعتبار کرکے ان زیورات کا مالک لڑکی کو قرار دیا جائے گا۔ فقط واللہ اعلم*

 *📚حوالہ:*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/327 رشیدیہ*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144010200218*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 84* ・❱━━━

   *خلوت صحیحہ کن چیزوں میں صحبت کے قائم مقام ہے اور کن میں نہیں؟*

  *’’خلوتِ صحیحہ‘‘  بعض احکام میں وطی (صحبت) کے قائم مقام ہے اور بعض میں نہیں ہے، خلوتِ صحیحہ مہر کی تاکد، نسب کے ثبوت، عدت، نفقہ، سکنی، منکوحہ کی بہن سے نکاح کی حرمت ، چار عورتوں کی موجودگی میں پانچویں سے نکاح،  عورت کے حق میں طلاق کے وقت کی رعایت،خلوت کے بعد عدت میں  دوسری طلاق کے واقع ہونے وغیرہ میں وطی (صحبت) کے قائم مقام ہے۔ جب کہ غسل کے وجوب، زنا میں محصن ہونے کے لیے،  منکوحہ کی بیٹیوں سے نکاح حرام ہونے میں، تین طلاق کے بعد پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے میں، رجوع اور میراث وغیرہ میں ’’خلوتِ صحیحہ‘‘ وطی کے قائم مقام نہیں ہے۔*
*☆ نوٹ : یہ پوسٹ اہل علم کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہے، عوام کو بعض مسائل سمجھ نہ آئے تو اپنے علماء کرام سے معلوم کرلیں۔*

 *📚حوالہ:*
*▪الفتاوى الهندية (1/ 306)*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 3/117*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144008201307*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 85* ・❱━━━

   *منگنی کی حقیقت اور اس کی رسمیں*

*نکاح سے قبل شادی کی نیت سے لڑکا لڑکی کو دیکھ لے اور اس کے بعد دونوں خاندان آپس میں رشتہ نکاح طےکرلیں اور وعدہ نکاح وغیرہ ہوجائے، نیز اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کچھ تحفے تحائف وغیرہ دینا چاہیں تو ازراہِ الفت و محبت دے سکتے ہیں، نیز لڑکی کو دیکھتے وقت مختصر سی بات چیت کرنے کی بھی گنجائش ہے، شریعت مطہرہ میں یہ منگنی کی حقیقت ہے،اکثر علاقوں میں منگنی کے موقع پر صرف وعدہ کیا جاتا ہے تو اس صورت میں منگنی وعدہ نکاح ہے البتہ بعض علاقوں میں منگنی کے موقع پر باقاعدہ نکاح کیا جاتا ہے تو اس صورت میں نکاح ہوجائے گا۔*
*اس کے علاوہ تمام رسومات قابل ترک ہیں اور ہر جگہ کی رسم و رواج مختلف ہوتے ہیں، موجودہ زمانے میں اس ملک کی رسوم میں سے چند قابل تذکرہ یہ ہیں: مثلا پورا دن اسٹیج پر ساتھ بیٹھ کر میاں بیوی کی طرح باتیں کرنا،مصافحہ کرنا، ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنانا، ہال سجانا اور اس میں مختلف رسوم کا برتنا، خصوصاً اس جیسے موقع پر ویڈیو کیمرہ کے ذریعے تصویریں کھینچنا، اجنبی مرد اور اجنبی عورتوں کا باہمی اختلاط، نیز ان رسومات کی پابندی کی وجہ سے بہت سے مرتبہ لڑکی والے تنگدستی کا شکار ہوجاتے ہیں اور قرض لینا پڑتا ہے جب کی بلا ضرورت قرض لینے کی حدیث مبارکہ میں ممانعت موجود ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*• مشکاة شریف 2/268*
*• حاشیة الطحطاوی علی الدر 2/5*
*• فتاوی شامی 3/11 سعید*
*•فتاوی دارالعلوم زکریا 3/535 بترمیم*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 86* ・❱━━━

   *شادی کے ارادہ سے لڑکی کو میسجز لکھنے کا حکم*

*شریعت مطہرہ میں شادی کے ارادے سے لڑکی کو ایک نظر دیکھنے اور اس کے ساتھ مختصر بات کرنے کی اجازت ہے،  تو پھر خط لکھنا بھی شرعاً درست ہے ،ہاں لطف اندوزی اور ٹائم پاس کے لئے نہ ہو، نیز جس طرح دیکھنے کے وقت تاکید کی گئی ہے کہ لڑکا اور لڑکی شرعی حدود کی رعایت کریں، اسی طرح خط لکھتے وقت بھی شرعی حدود کی رعایت ضروری ہے۔ خط کے ذریعے جب ضروری معلومات حاصل ہوجائے تو سلسلہ خطوط بند ہوجانا چاہیے۔ ضروری معلومات کے بعد بھی خط لکھنا ناجائز ہے چاہے اس میں عشق و محبت کی باتیں ہو یا نہ ہو، اس لیے کہ جب تک عقد نکاح نہ ہو ، اس وقت تک وہ اجنبیہ کے حکم میں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*• مشکاة شریف 2/268*
*• حاشیة الطحطاوی علی الدر 2/5*
*• فتاوی شامی 3/11 سعید*
*•فتاوی دارالعلوم زکریا 3/535 بترمیم*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 87* ・❱━━━

   *زوجین کا ایک دوسرے کو نام سے پکارنے کا حکم*

*بیوی کا شوہر کو اس کے نام سے پکارنا تعظیم اور ادب کے خلاف ہے اور مکروہ ہے، شوہر کی عظمت و احترام کو برقرار رکھتے ہوئےتعظیمی الفاظ سے پکارنا چاہیے ، اسی طرح کنیت سے یعنی ابو فلان اور ابوفلانہ کہہ کر پکارنا بھی درست ہے۔البتہ جہاں نام ذکر کرنے کی ضرورت ہو مثلا کسی فارم میں لکھوانا ہے یا کسی اور ضرورت کے وقت تو اس وقت نام لینا بلاکراہت جائز ہے۔*
  *شوہر بیوی کو نام لے کر پکار سکتا ہے چنانچہ بکثرت روایات موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو ان کے ناموں سے پکارتے تھے۔*

 *📚حوالہ:*
*• مسلم شریف 1/345*
*• فتاوی عالمگیری 5/362*
*• کتاب الفتاوی 4/410*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 4/443*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 88* ・❱━━━

   *عورت سے استمناء بالید کرانے کا حکم*

*فتاوی دارالعلوم زکریا میں مفتی رضاء الحق صاحب مدظلہ فرماتے ہیں:*
*بیوی کے ہاتھ سے استمناء کی گنجائش اس وقت ہے جب کہ حالت حیض میں جماع کا خطرہ ہو، عام حالات میں اجازت نہیں ،نیز عادت پڑ جانے کا خطرہ ہے اس لئے جو آدمی اپنے اوپر قابو نہیں پا سکتا وہ حالت حیض میں  بیوی سے دور رہے۔حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ لکھتے ہیں:*
*اپنی زوجہ کے ہاتھ سے انزال کرنا اگر بضرورت ہو تو بلا کراہت جائز ہے مثلا حیض اور نفاس وغیرہ کی وجہ سے جماع نہیں کر سکتا اور غلبہ شہوت کی وجہ سے صبر مشکل ہے اور اگر بلاضرورت ہو تو مکروہ ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*• فتاوی شامی 2/399*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 4/434*
*• امداد المفتین 7/248*
*• احسن الفتاوی 8/364*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 89* ・❱━━━

   *شوہر کی خوشنودی کے لیے پستانوں کو بڑا کرنا*

*پستانوں کو بڑا کرنا اللہ تعالیٰ کی خلقت میں تبدیلی کرنا ہے، لہذا شوہر کی رضامندی کیلئے پستانوں کو بڑا کرنا درست نہیں ہے۔*
*جدید فقہی مسائل میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب مدظلہ تحریر فرماتے ہیں:*
*اسلام کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جسم اللہ کی امانت اور اس کا پیکر اللہ کی تخلیق کا مظہر ہے، جس میں کسی شرعی اور فطری ضرورت کے بغیر کوئی خودساختہ تبدیلی درست نہیں، اسی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےمصنوعی طور پر بال لگانے، دانتوں کے درمیان فصل پیدا کرنے کو ناجائز،قابل لعنت اور اللہ کی خلقت میں تغیر قرار دیا ہے، اس لیے ظاہر ہے کہ محض زینت اور فیشن کی غرض سے اس قسم کا کوئی آپریشن اور جسم میں کوئی تغیر قطعا درست نہ ہوگا، جیسا کہ آج کل ناک، پستان وغیرہ کے سلسلہ میں کیا جاتا ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*• بخاری شریف 2/79*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 4/433*
*• جدید فقہی مسائل 1/312*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 90* ・❱━━━

   *شوہر کا شرعی حجاب سے مانع بننے کا حکم*

*اگر ایک عورت شریعت کے احکام پر عمل کرتے ہوئے پوری چہرے کا پردہ کرنا چاہتی ہے لیکن شوہر نہیں چاہتا اور منع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ بغیر حجاب کے اس کے ساتھ باہر جائے  تو اس صورت میں عورت کے لیے شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ وہ شرعی قانون کو پس پشت نہ ڈالے بلکہ شریعت پر عمل کرتے ہوئے شوہر کو سمجھانے کی کوشش کریں، اس کو ترغیب دلائے لیکن اس کے ساتھ ضد، بغاوت وغیرہ نہ کرے اور بدسلوکی سے پیش نہ آئے، شوہر کے ازدواجی حقوق ادا کرنے میں کوتاہی بھی نہ کرے۔ اللہ تعالی شوہر کے دل کو نرم کر دے گا اور شرعی حجاب کے لیے آمادہ ہوجائے گا۔اس زمانہ میں بہتر صورت یہ ہے کہ شوہر کو تبلیغ سے آشنا کراکر کچھ وقت کے لئے جماعت میں بھیج دے ، واپسی پر انشاء اللہ خود پردہ کا حکم کرے گا۔*

 *📚حوالہ:*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 4/437*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 91* ・❱━━━

   *وظیفہ زوجیت ادا کرتے وقت بات چیت کرنے کا حکم*

*وظیفہ زوجیت ادا کرتے وقت میاں بیوی کا آپس میں باتیں کرنا جائز ہے، مکروہ نہیں ہے البتہ کسی اور باتیں کرنا مکروہ ہے۔*
*حضرت مفتی شفیع صاحب رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:*
*حالت جماع میں باتیں کرنا مکروہ ہے، کما فی الدر المختار، لیکن یہ جب ہے کہ کسی دوسرے سے کلام کرے اور خود زوجہ سے کلام کرنے میں مضائقہ نہیں۔*

 *📚حوالہ:*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 4/431*
*• امداد المفتین 2/1032*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 92* ・❱━━━

   *بیوی کا پستان چوسنا جائز ہے یا نہیں؟*

*بیوی کا پستان چوسنا جائز ہے، لیکن اگر اس دوران  دودھ نکل آئے تو  دودھ پینا حرام ہے؛ کیوں کہ دودھ عورت کے بدن کا جز ہے اور اجزائے انسانی کا  کھانا  پینا جائز نہیں ہے۔ بچوں کے لیے مدتِ رضاعت میں ضرورت کی وجہ سے دودھ پینے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن عوام جو یہ بات مشہور ہے کہ دودھ پینے سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے، یہ بھی غلط ہے، نکاح نہیں ٹوٹتا البتہ پینا حرام ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪ الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب النکاح،  ص 204*
*▪ درر الحکام شرح غرر الاحکام 1/356*
*▪ فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200890*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 93* ・❱━━━

   *شادی کارڈ(Wedding Card) چھپوانا*

*مجلس عقد میں شرکت کی دعوت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کے وقت حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کبارصحابہ مثلا حضرت ابوبکر، حضرت عمر ،حضرت عثمان ،حضرت عبدالرحمن بن عوف اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے پاس بھیج کر انہیں مجلس عقد میں دعوت شرکت دی تھی۔ اس لئے* *مجلس عقد میں شرکت کی دعوت دینے کیلئے شادی کارڈ بنوانا جائز ہے ، بشرطیکہ وہ اسراف و فضول خرچی کی حد میں داخل نہ ہو، جیسا کہ آج کل اس میں بڑے اسراف سے کام لیا جاتا ہے، کہ ایک ایک دعوت نامہ سو سو روپے یا اس سے بھی زائدکا ہوتا ہے، جب کہ اس کا مقصد صرف نکاح کی دعوت دینا ہوتا ہے اور جسے وہ دیا جاتا ہے وہ بھی اسے اپنے سر آنکھوں پر نہیں رکھتا بلکہ لاپرواہی سے ڈال دیتا ہے کہ وہ کسی کام میں آبھی نہیں سکتا، اس اعتبار سے یہ مال کو ضائع کرنے میں داخل ہے، لہذا اس سے پرہیز کیا جائے یا شرعی حدود کے اندر بنایا جائے۔*

 *📚حوالہ:*
*▪ شرح الزرقانی 2/3*
*▪ المسائل المہمہ 4 /117*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 94* ・❱━━━

   *شادی بیاہ کے موقع پر "جوتا چھپائی" کی رسم*

*شادی بیاہ کے موقع پر جہاں بہت ساری رسومات کو دل و جان سے اپنایا جاتا ہے ، ان ہی میں سے ایک رسم جوتا چھپائی ہے، دولہا جب گھر جاتا ہے تو سالیاں اس کا جوتا چھپاکر "جوتا چھپائی" کے نام سے ایک رقم لیتی ہیں۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاباش! ایک تو چوری کریں اور الٹا انعام پائیں، اول تو ایسی مہمل ہنسی کہ کسی کی چیز اٹھائی -چھپا دی- حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے،  پھر یہ کہ ہنسی دل لگی کا خاصہ ہے کہ اس سے ایک بےتکلفی بڑھتی ہے، بھلا اجنبی مرد سے ایسا تعلق و ارتباط پیدا کرنا خود شرع کے خلاف ہے، پھر اس انعام کو لازمی حق سمجھنا بھی جبر فی التبرع و تعدی حدود ہے، اس لیے اس رسم سے پوری احتیاط برتنی چاہیے۔*

 *📚حوالہ:*
*• سنن ابی داود، کتاب الادب، ص 683*
*• سنن الترمذی، ابواب الفتن 2/39*
*• اصلاح الرسوم ص 81*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 95* ・❱━━━

   *مجلس نکاح میں وعظ و نصیحت کا حکم*

*مجلس نکاح میں اگر کسی عالم کے وعظ و نصیحت کو سنت یا لازم نہ سمجھے، بلکہ مصلحت وقت سمجھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔کتاب الفتاوی میں ہے:*
*اردو میں خطبہ نکاح نہیں پڑھنا چاہیے، بہتر یہ ہے کہ پہلے اردو میں خطبہ  نکاح کا مطلب بیان کر دیا جائے،پھر عربی زبان میں خطبہ دیا جائے، اس سے ایک طرف لوگ اپنی زبان میں احکام نکاح کو سمجھ لیں گے اور خطبہ کا اصل مقصد حاصل ہو گا اور عربی میں خطبہ دینے سے یہ فائدہ ہوگا کہ بعینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ میں خطبہ کی ادائیگی ہوگی، اور اس کا افضل اور اولیٰ ہونا ظاہر ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*• فتاوی علماء البلد الحرام 1385*
*• کتاب الفتاوی 4/300*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 3/640*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 
*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 96* ・❱━━━

   *دولہا یا دولہن کی گاڑی کو سنوارنے کا حکم*

*فتاوی دارالعلوم زکریا میں ہے:*
*یہ ایک غیر ثابت اور قابل ترک رسم ہے ، اور نصاریٰ کا طریقہ ہے اس سے بچنا ضروری ہے، اگر اس کو ضروری اور سنت نہ سمجھیں، تب بھی بے کار اور بے ضرورت ہونے کی وجہ سے قابل ترک ہے۔*
*کفایت المفتی میں ہے:*
*اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی تباہی اور اقتصادی مصیبت کی زیادہ تر وجہ یہی مسرفانہ رسوم ہیں، یہ رسوم اندر ہی اندر مسلمانوں کی دولت، عزت، خودداری کو گھن کی طرح کھائے جارہی ہیں، جو رسمیں کہ کافروں سے سیکھ کر مسلمانوں نے اختیار کرلی ہیں ان کے تو ناجائز اور واجب الترک ہونے میں کوئی تامل نہیں ہوسکتا۔۔*
*مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:*
 *اسلامی فقہ 2/85  • آپ کے مسائل اور ان کا حل 5/200*

 *📚حوالہ:*
*• فتاوی دارالعلوم زکریا 3/443*
*• کفایت المفتی 5/155*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 97* ・❱━━━

   *ایك بار جماع كے بعد غسل كیے بغیر دوبارہ جماع كرنا*

*بیوی سے دوبارہ ہمبستری کرنے کے لیے پہلے غسل کرنا ضروری* *نہیں ،بغیر غسل کیے دوبارہ ہمبستری کرسکتے ہیں ؛تاہم غسل کرلینا یا وضو کر لینا یا کم ازکم عضو مخصوص کو دھولینا مستحب ہے ۔*

*عن أبی سعید الخدری، عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إذا أتی أحدکم أہلہ، ثم بدا لہ أن یعاود، فلیتوضأ بینہما وضوء ا* *(سنن أبی داود ،رقم: 220،باب الوضوء لمن أراد أن یعود)*
وفی بذل المجہود:*
*وذہب الجمہورإلی استحبابہ وعدم وجوبہ وتمسکوا بحدیث عائشة أن النبی۔ﷺ۔ کان ینام وہوجنب ولایمس ماء.*

 *📚حوالہ:*
*▪بذل المجھود 2/188*
*▪ردالمحتار 1/176*
*▪فتوی جامعہ دارالعلوم دیوبند 330-271*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ





🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 98* ・❱━━━

   *دورانِ حمل بیوی سے جماع کرنا کب تک جائز ہے؟*

*حالتِ حمل میں کسی بھی وقت بیوی سے ہم بستری کرنا جائز ہے اور انزال شرم گاہ میں کر سکتے ہیں، البتہ اگر کوئی دین دار و ماہر طبیب یا ڈاکٹر  کسی عذر کی بنا پر احتیاط کا مشورہ دے تو اس کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔*
*ماہرین طب کہتے ہیں کہ عموما انزال شرم گاہ کے اندر کرنا بچے کے لیے مفید ہوتا ہے، بعض نے لکھا ہے کہ اس سے بچے کی نظر تیز رہتی ہے، بہرحال شریعت مطہرہ میں اس کے لیے کوئی وقت مخصوص نہیں ہے۔*

 *📚حوالہ:*
*ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن مع ترمیم یسیر* 
*فتوی نمبر :144201200053*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ




🌹 *بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم* 🌹 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ*
            
               *#احکام_النکاح*
    ━━❰・ *پوسٹ نمبر 99* ・❱━━━

   *مہر ادا نہ کرنے پر سخت وعید*

*شروع ہی سے مہر ادا نہ کرنے کی نیت رکھنے والے شخص کے بارے میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چناں چہ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:*
*جو شخص کسی عورت سے کم یا زیادہ مہر پر شادی کرے، اور اس کے دل میں اس عورت کے حق مہر کو ادا کرنے کا ارادہ نہ ہو؛ بلکہ اس نے اسے دھوکہ دیا ہوپھر وہ عورت کا حق ادا کئے بغیر مرجائے تو اللہ تعالی سے اس حالت میں ملے گا کہ اس کا شمار بدکاروں میں ہوگا۔*

 *📚حوالہ:*
*المعجم الاوسط للطبرانی 1/501 رقم:1851 بحوالہ انوار نبوت 649*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

No comments:

Post a Comment