Saturday, 23 September 2023

رجب کے پہلے تین دن کا روزہ

رجب کے پہلے تین دن کا روزہ

مخدوم مکرم حضرت قاری عبید الرحمن صاحب (کویت) اور مفتی شیراز صاحب (عمان) وغیرہ نے یہ پوسٹ بھیجی اور اس کی صحت سے متعلق استفسار کیا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رجب کے مہینہ میں پہلے دن کا روزہ تین سال کے گناہ (صغیرہ) کا لفارہ ہے اور دوسرے دن کا روزہ دوسال کا کفارہ ہے اور تیسرے دن کا روزہ ایک سال کفارہ ہے پھر ہر ایک دن کا روزہ ایک ماہ کا کفارہ ہے۔
(الجامع الصغیر للسیوطی، ص: 311، حدیث: 5051، فضائل شہر رجب للخلال، ص: 64)

الجواب حامدا ومصلیا :

اجمالی جواب
اسنادی اعتبار سے مذکورہ روایت انتہائی ضعیف اور ناقابل اعتبار ہے، لہذا اس کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جائز نہیں. نیز تخصیص کے ساتھ ماہ رجب کے روزہ، نماز یا کسی مخصوص تسبیح کے بارے میں کوئی روایت اسنادی اعتبار سے ثابت نہیں،البتہ رجب کا اشہر حرم میں سے ہونے یا ویسے ہی روزہ کے عمومی فضائل کی وجہ کوئی اس ماہ میں روزہ رکھے تو جائز اور باعث ثواب ہوگا.

تفصیلی جواب

روایت کا متن :
روایت کا متن عربی میں ملاحظہ کیجیے:
صوم أول يوم من رجب كفارة ثلاث سنين، والثاني كفارة سنتين، والثالث كفارة سنة، ثم كل يوم شهرا . 

تخریج:
أخرحه أبو محمد الخلال في فضائل رجب عن ابن عباس رضي الله عنهما، كما ذكره السيوطي في الجامع الصغير والمتقي في الكنز والمناوي في الفيض والكحلاني في التنوير.

حدیث کیا حکم:
علامہ کحلانی نے التنوير شرح الجامع الصغير (7/ 10) میں فرمایا: رمز المصنف لضعفه ۔ یعنی علامہ سیوطی نے اس روایت کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
علامہ مناوی نے فيض القدير (4/210) فرمایا کہ یہ حدیث بھت ضعیف ہے: حديث ضعيف جدا ۔ جب کہ التيسير بشرح الجامع الصغير (2/ 186) میں اس کے کے اسناد کو ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے فرمایا: وإسناده ساقط۔
 علامہ سمعانی فرمایا کہ تخصیص کے ساتھ ماہ رجب کے روزوں کے مستحب ہونے کے حوالہ سے کوئی سنت ثابتہ وارد نہیں ہوئی، اس بارے میں نقل کی جانے والی روایات ایسی کمزور ہیں کہ کوئی عالم ان سے خوش نہیں ہوسکتا۔ یعنی اہل علم کے نزدیک وہ دلیل بننے کے قابل نہیں۔
 قال السمعاني: لم يرد في استحباب صوم رجب على الخصوص سنة ثابتة، والأحاديث التي ترزى في ذلك واهية لا يفرح بها عالم.

ابن حبان اور ابن رجب نے فرمایا کہ تخصیص کے ساتھ رجب کے روزوں کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے کوئی بات ثابت نہیں۔
وقال ابن حبان وابن رجب: لم يصح في فضل صوم رجب بخصوصه شئ عن النبيصلى الله عليه وسلم ولا عن أصحابه.
 حافظ ابن حجر نے تبيين العجب بما ورد في شهر رجب (ص: 2) میں فرمایا کہ رجب اور اس میں روزہ کی فضیلت اور اس کی کسی مخصوص رات میں نماز کے بارے میں کوئی ایسی حدیث جو صحیح ہو اور قابل حجت ہو وارد نہیں ہوئی، مجھ سے پہلے حافظ ابو اسماعیل ہروی نے اس پر جزم کیا ہے۔
قال ابن حجر: لم يرد في فضل شهر رجب، ولا في صيامه، ولا في صيام شيء منه، - معين، ولا في قيام ليلة مخصوصة فيه - حديث صحيح يصلح للحجة، وقد سبقني إلى الجزم بذلك الإمام أبو إسماعيل الهروي الحافظ، رويناه عنه بإسناد صحيح، وكذلك رويناه عن غيره.

ماہ رجب میں روزہ کا حکم
بعض علماء (حنابلہ) نے حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت عمر رضی اللہ کے عمل سے استدلال کرتے ہوئے خاص کر کے صرف ماہ رجب کے روزہ کو مکروہ قرار دیا ہے: 
أخرج ابن أبي شيبة في مصنفه أن عمر كان يضرب أكف الناس في رجب حتى يضعوها في الجفان، ويقول: كلوا، فإنما هو شهر كان تعظمه الجاهلية.
قال ابن قدامة في المغني: ويكره إفراد رجب بالصوم.
قال المرداوي في الإنصاف:245/3: ويكره إفراد رجب بالصوم هذا المذهب، وعليه الأصحاب، وقطع به كثير منهم، وهو من مفردات المذهب.
وحكى الشيخ تقي الدين في تحريم إفراده وجهين قال في الفروع: ( ولعله أخذه من كراهة أحمد .) ثم قال: (مفهوم كلام المصنف أنه لا يكره إفراد غير رجب بالصوم، وهو صحيح لا نزاع فيه، قال المجد: لا نعلم فيه خلافاً.) وقال: (تزول الكراهة بالفطر من رجب ولو يوماً، أو بصوم شهر آخر من السنة قال المجد: وإن لم يله.

جب کہ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ تخصیص کے ساتھ تو روزہ کا حکم نہیں ، البتہ رجب اشہر حرم میں سے ہے، اور ایک روایت سے رجب میں عمومی روزہ کی فضیلت معلوم ہوتی ہے، نیز دیگر مہینوں کی طرح اس ماہ میں ایام بیض، پیر اور جمعرات کے ایام میں روزہ کا استحباب اپنی جگہ ثابت ہے، لہذا بلا تخصیص ماہ رجب، اشہر حرم کی فضیلت یا رجب کی عمومی فضیلت کی وجہ سے اگر کوئی روزہ رکھتا ہے تو نہ صرف مباح ہے بلکہ باعث اجر وثواب بھی ہوگا۔
 
قال ابن الصلاح وغيره : لم يثبت في صوم رجب نهي ولا ندب وأصل الصوم مندوب في رجب۔

قال ابن حجر في تبيين العجب بما ورد في شهر رجب (ص: 2) ما رواه النسائي من حديث أسامة بن زيد رضي الله عنه قال: " قلت يا رسول الله لم أرك تصوم من الشهور ما تصوم في شعبان. قال: ذاك شهر يغفل الناس عنه بين رجب ورمضان... "الحديث.
فهذا فيه إشعار بأن في رجب مشابهة برمضان، وأن الناس يشتغلون من العبادة بما يشتغلون به في رمضان، ويغفلون عن نظير ذلك في شعبان. لذلك كان يصومه.
وفي تخصيصه ذلك بالصوم - إشعار بفضل رجب، وأن ذلك كان من المعلوم المقرر لديهم.
ومن ذلك: ما رواه أبو داود في السنن، قال: حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد - يعني ابن سلمة - عن سعيد الجريري، عن أبي السليل - يعني ضريب بن نفير - عن مجيبة الباهلية، عن أبيها - أو عمها. أنه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأسلم ثم انطلق فأتاه بعد سنة، وقد تغير حاله وهيئته، فقال: يا رسول الله، أما تعرفني ؟ قال صلى الله عليه وسلم: ومن أنت ؟ قال: أنا الباهلي الذي جئتك عام الأول. قال صلى الله عليه وسلم: فما غيرك وقد كنت حسن الهيئة ؟ قال: ما أكلت طعاما منذ فارقتك إلا بليل. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال: لما عذبت نفسك ؟ ثم قال: صم شهر الصبر، ويومان من كل شهر. قال: زدني، فإن بي قوة. قال صلى الله عليه وسلم: صم يومين فإن بي قوة. قال صلى الله عليه وسلم: صم ثلاثة أيام. قال: زدني. قال صلى الله عليه وسلم: صم الحزم واترك. صم من الحرم واترك. فقال: بأصابعه الثلاثة فضمها ثم أرسلها.
ففي هذا الخبر - وإن كان في إسناده من لا يعرف - ما يدل على استحباب صيام بعض رجب، لأنه أحد الأشهر الحرم.

هذا وصلى الله على سيدنا ومولانا محمد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين. 

أبو الخير عارف محمود الجلجتي 
دار التصنيف بالمدرسة الفاروقية جلجت 
2 رجب 1442ھ
14 فروری 2021م.

No comments:

Post a Comment