Tuesday, 26 September 2023

احکام_الطھارة

*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر 01 ・❱━━━*

*·•●✿ وضو اور غسل میں مصنوعی اعضاء(Foboluos Organs ) دھونے کا حکم*

*☆سرجری کے ذریعے جوڑے جانے والے اعضاء ہاتھ پاوں وغیرہ دو طرح کے ہوتے ہیں:*
*ایک وہ جو بدن سے جدا نہیں کئے جاسکتے، اور دوسرے وہ جو بدن سے بغیر مشقت کے جدا کئے جاسکتے ہیں۔ اول قسم کے اعضاء کا حکم اصلی اعضاء کی طرح ہوگا یعنی وضو اور غسل کے دوران ان کو دھونا ضروری ہوگا اور دوسری قسم کے اعضاء کا حکم عضو اصلی کی طرح نہ ہوگا یعنی ان کو وضو اور غسل میں دھونا ضروری نہیں ہے۔*

📚 حوالہ:
*▪ جدید فقہی مسائل 1/88*
*▪محقق ومدلل جدید مسائل 1/114*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 86*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (02) ・❱━━━*

*·•●✿ وضو اور غسل میں نقلی چوٹی (Wig ) کا حکم*

*☆ نقلی چوٹی (wig ) عموما دو طرح کی ہوتی ہے ، ایک قسم وہ ہے جس کو آپریشن وغیرہ کے ذریعے سر پر اس طرح فٹ کردی جاتی ہے کہ وہ سر سے جدا نہیں ہوسکتی ، اس کی حیثیت جسم کی مستقل عضو کی ہے، وضو کرتے وقت اس پر مسح کرنا اور غسل کے وقت اس کو دھونا کافی ہے ، اور وگ کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جسے بآسانی لگایا اور اتارا جاسکتا ہے وہ ٹوپی کے حکم میں ہے وضو اور غسل کے دوران اس کو اتارنا ضروری ہے۔*

*حوالہ: بدائع الصنائع 1/108*
*▪فتاوی قاسمیہ 23/623*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 87*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (03) ・❱━━━*

*·•●✿ ووٹ ڈالتے ہوئے لگائی گئی روشنائی کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل کا حکم*

*☆ ووٹ ڈالتے وقت انگوٹھے پر جو روشنائی لگائی جاتی ہے ، اس روشنائی کا جسم یا تہہ نہیں بنتی، بلکہ پکی سیاہی ہوتی ہے جوانگوٹھے سے  آسانی سے نہیں اترتی،اس لیے ممکنہ حد تک اس سیاہی کو انگوٹھے سے رگڑ کر دھولیا جائے ، اگر  اس کا رنگ نہیں اترتا تو بھی وضو اور غسل ہوجائے گااور نماز درست ہوگی*

''فتاوی ہندیہ'' میں ہے:
'' وإن كانت شيئاً لا يزول أثره إلا بمشقة بأن يحتاج في إزالته إلى شيء آخر سوى الماء كالصابون لا يكلف بإزالته. هكذا في التبيين . وكذا لا يكلف بالماء المغلي بالنار. هكذا في السراج الوهاج. وعلى هذا قالوا: لو صبغ ثوبه أو يده بصبغ أو حناء نجسين فغسل إلى أن صفا الماء يطهر مع قيام اللون. كذا في فتح القدير''. (1/ 42)

*مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں* 
*▪الدرالمختار 1/537 باب الانجاس*
*▪فتاوی قاسمیہ 5/68*
*▪المسائل المھمہ 6/42*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 89*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (04) ・❱━━━*

*·•●✿ ناخن پالش کے ہوتے ہوئے وضو اور غسل کا حکم*

  *☆ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے وضو اور غسل کے صحیح ہونے کیلئے ایک ضابطہ بیان کیاہے وہ یہ کہ بدن پر لگی ہوئی ہر وہ چیز جو کھال تک پانی کے پہنچنے سے مانع ہو اس کا چھڑانا وضو اور غسل میں ضروری ہے بشرطیکہ اس کو چھڑانے میں کوئی حرج نہ ہو۔*

*☆ مذکورہ ضابطہ کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ ناخن پالش چونکہ جسم والا ہوتا ہے اور کھال پر تہہ بناکر پانی کے پہنچنے سے مانع ہوتا ہے اور اس کے چھڑانے میں کوئی خاص مشقت بھی نہیں ہے اس لیے وضو اور غسل کے صحیح ہونے کیلئے اس کو ناخنوں سے اتارنا ضروری ہے ورنہ وضو اور غسل صحیح نہ ہوگا۔*

*مزید تفصیل کیلئے ملاحظہ ہوں*
*▪نور الایضاح فصل فی الوضوء 33*
*▪کتاب النوازل 3/95*
*▪جدید فقہی مسائل 1/60*
*▪فتاوی مفتی محمود 1/425*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/150*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (05) ・❱━━━*

*·•●✿ پاوں کی پھٹن میں واسلین (Vaseline ) لگے ہوئے ہونے کی صورت میں وضو کا حکم*

*☆اگر پاوں کی پھٹن گہری ہے اور اس میں موم یا واسلین بھر دی گئی ہے تو دیکھا جائے گا کہ اس میں پانی کا پہنچانا تکلیف اور ضرر کا باعث ہے یا نہیں۔ اگر تکلیف یا ضرر کا باعث ہے تو اوپر سے پانی بہانا کافی ہے اور اگر تکلیف یا ضرر کا باعث نہیں ہے تو حتی الامکان موم کو نکالنا ضروری ہے تاکہ بدن تک پانی پہنچ جائے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب پھٹن گہری ہو اور موم یا واسلین اندر بھردی گئی ہو بعض دفعہ صرف کھال کے اوپر واسلین سے مالش کردی جاتی ہے اس صورت میں یہ تیل کے حکم میں ہے اور وضو یا غسل کیلئے اس کا چھڑانا اور اتارنا ضروری نہیں ہے۔*

*▪فتاوی شامی 1/154*
*▪کبیری فصل فی فرائض الغسل 49*
*▪الفتاوی التاتارخانیہ 1/207*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (06) ・❱━━━*

*·•●✿ کونٹیکٹ لینس (Contact Lens ) کے ساتھ وضو اور غسل کا حکم*

*☆ آج کل چشمہ کے بجائے کونٹیکٹ لینس کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے ، یہ پلاسٹک کی گول شکل میں ہوتا ہے جو آنکھ کے گول کالے حصے کو ڈھانپ لیتا ہے، اس کے لگے ہوئے ہونے کی صورت میں وضو اور غسل پر کوئی اثر نہیں ہوگا اور وضو اور غسل صحیح ہوجائے گا۔* 

*☆ اس کی وجہ یہ ہے کہ حرج کی وجہ سے آنکھ کی اندرونی حصہ  کا دھونا وضو اور غسل میں فرض نہیں ہے اور جو چیز آنکھ کے اندر ہو وہ بھی اسی کی حکم میں ہے۔*
*▪فتاوی شامی 1/211*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 94*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (07) ・❱━━━*

*·•●✿ لیپی ہوئی مہندی (Applied Henna ) اور مہندی رنگ کے اوپر مسح*

*☆اگر کسی نے سر پر مہندی اس طرح لیپی ہے کہ بالوں کا ایک چوتھائی حصہ بھی اوپر سے کھلا ہوا نہیں ہے اور مہندی اتنی تہہ دار ہے کہ اوپر کی تری کا اثر بالوں تک نہیں پہنچتا تو ایسی لیپی ہوئی تہہ دار مہندی کے اوپر مسح کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر مہندی لگانے کے بعد سر کو دھویا گیا اور بالوں پر صرف رنگ باقی رہا تو اس صورت میں مسح کرنا درست ہوجاتا ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/288*
*▪کتاب النوازل 3/98*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 95*
   
💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (08) ・❱━━━*

*·•●✿ ٹشوپیپر یا تولیہ وغیرہ گیلا کرکے اعضائے وضو کو پونچھنے کا حکم*

*☆ بعض دفعہ ٹرین اور ہوائی جہاز کے واش بیسن کے پاس جگہ کم ہوتی ہے اور پیروں کو دھونے کی صورت میں وہ جگہ گیلی ہوجاتی ہے ، جسے ہوائی جہاز کا عملہ اور دیگر مسافرین پسند نہیں کرتے ہیں ایسی صورت میں اگر کوئی مسافر ٹیشو پیپر یا تولیہ یا کوئی کپڑا گیلا کرکے وضو کے اعضاء پر پھیر دے تو اس سے وضو نہیں ہوگا۔*
*اس کی وجہ یہ ہے کہ وضو کے صحیح ہونے کیلئے اعضائے وضو کو اس طرح دھونا شرط ہے کہ  دو قطرے عضو سے گرجائے جس کو اصطلاح میں تقاطر کہا جاتا ہے۔ اور یہاں چونکہ تقاطر نہیں پایا گیا لہذا وضو درست نہ ہوگا۔ اسی کی متعلق فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ مسئلہ بھی ذکر کیا ہے کہ اگر کسی کے پاس پانی نہ ہو اور برف ہو تو برف کو اعضاء وضو پر پھیرنے کی وجہ سے وضو صحیح نہ ہوگا۔*

*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 96*
*▪روح المعانی 4/103* 
*▪الھدایہ 1/16*
*▪المسائل المہھمہ 8/75*
*▪کتاب المسائل 1/148*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (09) ・❱━━━*

*·•●✿ ٹوتھ برش (Tooth Brush ) مسواک کے قائم مقام ہوگا یا نہیں؟*

*☆ مسواک کے بارے میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے کہ*

*☆" السواک مطھرة للفم و مرضاة للرب " کہ مسواک منہ کی صفائی کا ذریعہ ہے اور اللہ تعالی کی خوشنودی کا بھی ، تو گویا کہ مسواک میں دو چیزیں مطلوب ہیں : ایک منہ اور دانتوں کی صفائی اور دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی وجہ سے اللہ تعالی کی رضامندی ؛ ٹوتھ پیسٹ اور برش کے استعمال سے پہلی چیز تو حاصل ہوجائیگی مگر دوسری چیز یعنی اتباع سنت کا ثواب نہیں ملے گا۔ اسلئے وضو کے دوران اور دیگر سنت مواقع پر مسواک کا اہتمام کرنا چاہیے۔* 

*▪فقہ السنة للسید سابق 1/34*
*▪فتاوی حقانیہ 2/499*
*▪منتخبات نظام الفتاوی 1/44*
*▪ محقق ومدلل جدید مسائل 1/98*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 98*
*▪کتاب الفتاوی 2/38*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (10) ・❱━━━*

*·•●✿ ان ڈور کاپی (indoor copy ) سے وضو ٹوٹ جاتا ہے*

*☆ ان ڈور کاپی ایک پتلی سے نلکی ہوتی ہے جس کو پیچھے کے راہ سے داخل کرکے اندرونی معائنہ کیا جاتا ہے، اس کے داخل کرنے اور نکالنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔*

*☆ اس کی وجہ یہ ہے کہ فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ " ہر وہ چیز جو پیشاب یا پاخانہ کی راہ سے نکلے ، اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے" اور ان ڈور کاپی میں بھی چونکہ کچھ نہ کچھ نجاست نکل آتی ہے اسلئے یہ ناقض وضو  ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/281*
*▪البحرالرائق 1/61*
*▪اللباب فی شرح الکتاب 1/36*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 103*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (11) ・❱━━━*

*·•●✿ انجکشن (Injection ) اور گلوکوز(Glucose ) سے وضو ٹوٹنے کا حکم*

*☆ انجکشن کی تین قسمیں عموما رائج ہیں: ایک قسم وہ ہے جس کو رگ کے اندر لگایا جاتا ہے جس کو میڈیکل فیلڈ میں (intravenous/IV ) کہا جاتا ہے ، دوسری قسم وہ ہے جس کو گوشت یا عضلات میں لگایا جاتا ہے جس کو میڈیکل فیلڈ میں(intramuscular/IM ) کہا جاتا ہے اور تیسری قسم کو جلد اور چمڑے میں لگایا جاتا ہے جس کو میڈیکل فیلڈ میں(intradermal/ID ) کہا جاتا ہے۔*

*☆ پہلی قسم کی انجکشن کا ورید یا رگ میں پہنچنے کا یقین حاصل کرنے کا صرف یہی ذریعہ ہوتا ہے کہ سرنج میں خون آجائے ، دوسری اورتیسری قسم میں سرنج میں خون نہیں آتا۔ لہذا پہلی قسم انجکشن لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اور دوسری اور تیسری قسم سے نہیں۔ ہاں اگر ان میں بھی انجکشن لگانے کے بعد خون نکل آیا اور زیادہ تھا یعنی زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ گلوکوز(infusion) کا تعلق پہلی قسم کے ساتھ ہے۔*

*▪احسن الفتاوی 2/23*
*▪نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا 1/188*
*▪فتاوی حقانیہ 2/514*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (12) ・❱━━━*

*·•●✿ معدہ تک نالی پہنچائی جائے تو وضو کا حکم*

*☆ بعض میڈیکل تحقیق کیلئے حلق کے ذریعہ معدہ تک ایک نلکی پہنچائی جاتی ہے اور پھر وہ نلکی کھینچ لی جاتی ہے یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کاٹ کر اپنے ساتھ لاتی ہے ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا،  کیونکہ یہ چیز اگرچہ بذات خود پاک ہے لیکن مقام نجاست سے نکالا گیا ہے اسلئے بعید نہیں کہ اس میں کچھ نجاست لگی ہوئی ہو۔*

*▪جدید فقہی مسائل 1/63*
*▪بدائع الصنائع 1/25*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (13) ・❱━━━*

*·•●✿ پیشاب کی نلکی(Catheter ) سے پیشاب ہونے کی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا*

*☆ کسی شخص کا آپریشن کیا جائے اور پیشاب کے باہر نکلنے کیلئے خصوصی نلکی لگا دی جائے جس سے پیشاب آتا رہے تو اس نلکی سے بھی پیشاب کے آنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا،  کیونکہ پیشاب متعینہ مقام سے نکلے یا کسی اور جگہ سے ، وہ بہرحال ناقض وضو ہے البتہ اگر مسلسل اس سے پیشاب آتا رہے اور روکنے کی قوت نہ ہو تو وہ شخص معذور کے حکم میں ہوگا اور ہر نماز کیلئے نیا وضو کرے گا پھر اس وضو سے وقت کے اندر اندر فرائض ، نوافل تلاوت وغیرہ سب جائز ہے۔ اور پیشاب نکلنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔*

*▪بدائع الصنائع 1/24*
*▪جدید فقہی مسائل 163/1*
*▪فتاوی شامی 1/149*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (14) ・❱━━━*

*·•●✿ اگر کمر سے نیچے کا حصہ بے حس کردیا جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا*

*☆ آج کل علاج کے بعض صورتوں میں ریڑھ یا کمر میں ایسے انجکشن لگائے جاتے ہیں جس سے کمر سے نیچے کا حصہ بے حس کردیا جاتا ہے ، ایسی صورت میں وضو ٹوٹ جائے گا کیوں کہ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے جنون ، بے ہوشی اور غشی کو نواقض وضو میں سے شمار کیا ہیں، اسلئے کہ ان کی وجہ سے انسان کی اپنے اعضاء پر گرفت باقی نہیں رہتی اور ان کی وجہ سے وضو ٹوٹنے کا پتا نہیں چلتا ، لہذا یہی کیفیت اس صورت میں بھی پائی جاتی ہے۔*

*▪فتاوی تاتارخانیہ 1/137*
*▪جدید فقہی مسائل 1/64*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (15) ・❱━━━*

*·•●✿ موتیا کے آپریشن (Cataract Operation) کے دوران آنکھ کی پتلی میں نکلنے والے خون سے وضو ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا حکم*

*☆ موتیا کے آپریشن کے دوران اگر آنکھ کی پتلی سے خون نکلا اور وہ اندر ہی اندر رہا ، پلکوں تک یا آنکھ کے باہر گوشے تک نہیں آیا تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور اگر یہ خون پتلی سے باہر آگیا اور پلکوں میں لگ گیا یا آنکھ کے باہر کے گوشے میں لگ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے اعضاء کی تین قسمیں ہیں:*

*☆ (1) من کل الوجوہ خارج بدن جیسے ہاتھ پاوں چہرہ وغیرہ*

*☆ (2) من کل الوجوہ داخل بدن جیسے گردہ ، جگر آنت وغیرہ*

*☆(3) من وجہ داخل من وجہ خارج جیسے منہ اور ناک کا اندرونی حصہ۔ پہلی قسم اعضاء کا وضو اور غسل میں دھونا واجب ہے ، دوسری قسم کا دھونا واجب نہیں ہے اور تیسری قسم کا غسل میں دھونا واجب ہے اور وضو میں مسنون۔ آنکھ کا اندرونی حصہ من کل الوجوہ داخل بدن ہے اسلئے اس کا دھونا وضو اور غسل میں فرض نہیں ہے۔ لہذا جب تک خون آنکھ کے اندر ہو تو ناقض وضو نہیں ہوگا باہر نکل آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔*

*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 108*
*▪فتاوی شامی 1/280*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (16) ・❱━━━*

*·•●✿ کرسی (Chair ) پر بیٹھ کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟*

*☆  بیٹھ کر نیند کی کن صورتوں میں وضو ٹوٹ جاتا ہے اور کن صورتوں میں نہیں ٹوٹتا؟ اس کے بارے میں فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ایک ضابطہ لکھا ہے کہ ہر انسان کے اندر اللہ تعالی نے  خروج ریح کو قابو رکھنے کی ایک صلاحیت رکھی ہے جس کو قوت ماسکہ کہا جاتا ہے تو جن صورتوں میں قوت ماسکہ برقرار ہو ان صورتوں میں وضو نہیں ٹوٹتا اور جن صورتوں میں قوت ماسکہ زائل ہوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ کرسی کی عموما دو قسمیں پائی جاتی ہیں بعض کرسیوں میں پشت کی جانب ٹیک لگانے کیلئے کوئی شیئ نہیں ہوتی ہے ان پر صرف بیٹھا جاسکتا ہے اور بعض کرسیوں میں پشت کی جانب ٹیک لگانے کیلئے آرام دہ سہارا ہوتا ہے۔ پہلی قسم کی کرسی پر بیٹھ کر سونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا اور دوسری قسم کی کرسی پر ٹیک لگاکر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔*

*▪نورالایضاح 38*
*▪الفتاوی 1/12*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 111*
*▪احسن الفتاوی 2/23*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (17) ・❱━━━*

*·•●✿ پلاسٹر (Medical Plaster ) پر مسح کرنے کا حکم*

*☆ پاوں ہاتھ وغیرہ پر بدرجہ مجبوری جو میڈیکل پلاسٹر لگائے جاتے ہیں ان کی حیثیت جبیرہ (پٹی) کی ہے۔ وضو وغسل میں ان پر مسح کرلینا کافی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ پلاسٹر لگاتے وقت مریض وضو کی حالت میں ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ ٹوٹ گیا اور پٹی باندھ لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پٹی ہی پر مسح کرنے کا حکم فرمایا۔ اس کیلئے کوئی مدت بھی متعین نہیں ہے، جب تک صحت یاب نہ ہو مسح کرتے رہے، اگر صحت مند ہونے سے قبل پٹی کھول کر گرگئی تو دوبارہ مسح کی ضرورت نہیں،  ہاں اگر صحت مند ہونے کے بعد پٹی گرگئی ہے تو دوبارہ دھونا ضروری ہے۔*
*▪المغنی 1/171*
*▪سنن ابن ماجہ 1/148*
*▪الدر المختار 1/280*
*▪نجم الفتاوی 2/83*


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (18) ・❱━━━*

*·•●✿ داڑھ میں مسالہ بھرے ہوئے ہونے کی صورت میں غسل کا حکم*

*☆ اگر داڑھ میں چاندی یا سونے کا مسالہ اس طرح بھر دیا جائے کہ آسانی سے اس کو نکالنا اور پھر بھرنا ممکن نہ ہو تو وہ جسم کے جزو متصل کے حکم میں ہوگا اور اس کو نکالے بغیر غسل درست ہوجائے گا۔ اس کی وجہ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی کا ایک ضابطہ ہے کہ اصل شئ کیساتھ اگر کسی اور شئ کو متصل باتصال قرار کے طور پر جوڑدیا جائے تو وہ جوڑی جانی والی شئ اصل چیز کا درجہ پالیتی ہے۔ چونکہ مسالہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے کہ وہ داڑھ سے جدا نہیں ہوتا لہذا وہ دانت ہی کے حکم میں ہوگا۔*

*▪فتاوی قاسمیہ 5/104*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 115*
*▪ردالمحتار 1/153 ایم ایچ سعید کراچی* 
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل*
*3/109*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (19) ・❱━━━*

*·•●✿ کلی کے بجائے اگر پانی پی گیا تو غسل ہوا یا نہیں؟*

*☆ غسل کے فرائض میں سے ایک فرض مضمضہ (کلی کرنا) بھی ہے۔ مضمضہ کی تعریف یہ ہے کہ منہ کے تمام حصوں تک پانی پہنچ جائے لہذا اگر کسی شخص نے غسل میں کلی تو نہیں کی البتہ پانی اس طریقہ سے پی گیا کہ منہ میں گھمایا جس کی وجہ سے پانی منہ کے تمام حصوں تک  پہنچ گیا تو مضمضہ کا تحقق ہوگیا لہذا غسل بھی صحیح ہوا اور اگر منہ میں گھمایا نہیں ہے بلکہ صرف زبان سے لگ کر حلق میں چلا گیا تو مضمضہ کی فرضیت کا تحقق نہ ہونے کی وجہ سے غسل صحیح نہ ہوگا۔*

*▪المحیط البرھانی 1/85
*▪حلبی کبیر 50*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/6*
*▪ردالمحتار 1/236*
*▪کتاب المسائل 1/174*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 116*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (20) ・❱━━━*

*·•●✿ دانتوں کا کیپ (Denture ) صحت غسل کیلئے مانع نہیں ہے ۔*

*☆ بسا اوقات دانت خراب ہوجاتے ہیں اور دانتوں کے اوپر کیپ لگایا جاتا ہے وہ ہمیشہ کیلئے جام ہوجاتا ہے اور آسانی سے نہیں نکلتا اس کا حکم غسل میں یہ ہے کہ محض اس کے اوپر پانی بہانا ہی غسل کے صحیح ہونے کیلئے کافی ہے، اس کی وجہ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی کا ایک ضابطہ ہے کہ اصل شئ کیساتھ اگر کسی اور شئ کو متصل باتصال قرار کے طور پر جوڑدیا جائے تو وہ جوڑی جانی والی شئ اصل چیز کا درجہ پالیتی ہے۔ یہاں بھی کیپ نے دانت کا درجہ لیا ہے لہذا اس کو ہٹانا بامشقت ضروری نہیں ہے۔*

*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 118*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 9/496*
*▪موسوعة القواعد الفقہیہ 2/40*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (21) ・❱━━━*

*·•●✿ تنگ انگوٹھی اور کان کی بالی (Narrow Ring & Earring ) کا حکم غسل میں*

*☆ غسل کے سلسلے میں فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ایک ضابطہ بیان کیا ہے کہ جسم کا ہر وہ حصہ جس پر بلامشقت پانی پہنچانا ممکن ہو اس کا دھونا فرض ہے اور جہاں پانی پہنچانا دشوار اور باعث حرج ہو وہاں پانی کا پہنچانا فرض نہیں ہے ، اس ضابطہ کی روشنی میں علماء کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ اگر انگوٹھی یا کان کی بالی تنگ ہو اور انگلی یا کان کے سوراخ میں پانی داخل نہ ہوسکتا ہو تو ان کو حرکت دینا ضروری ہے اور اگر انگوٹھی یا کان کا سوراخ کشادہ ہو تو نہ حرکت دینے کی ضرورت ہے اور نہ ہی نکالنے کی ، کیونکہ کشادگی کی وجہ سے پانی جسم تک پہنچ جاتا ہے۔*

*▪الدرالمختار 1/289*
*▪البحرالرائق 1/88*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 1/97*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 120*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (22) ・❱━━━*

*·•●✿ رحم میں کاپر ٹی(Copper T )رکھنے کی حالت میں غسل کا حکم*

*☆  بسا اوقات کسی عورت کو کمزوری یا کسی اور عذر کے پیش نظر ڈاکٹرنی رحم کے منہ پر ایک کاپر ٹی رکھتی ہے جو کہ (T ) کی شکل میں ہوتی ہے، اس میں ریشم کا تار لگا ہوا ہوتا ہے جو کہ شرمگاہ سے باہر لٹکا ہوا رہتا ہے، اس کے رکھنے سے حمل قرار نہیں پاتا ، لیکن حیض ہر ماہ برابر جاری رہتا ہے، اس صورت میں غسل حیض کے صحیح ہونے کیلئے یہ ضروری ہے کہ اس تار کو بھی دھویا جائے کیونکہ غسل کے دوران عورت کیلئے فرج خارج کا دھونا ضروری ہے اور یہ فرج خارج میں ہوتا ہے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/14*
*▪نورالایضاح ص 40*
*▪بدائع الصنائع 1/267*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 124*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (23) ・❱━━━*

*·•●✿غسل کے بعد دوبارہ منی(Sperm ) نکلنے پر غسل کا حکم*

*☆ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی سے ہم بستری کی اور پھر غسل کیا اور بعد میں منی نکلی تو اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر زیادہ چلنے یا پیشاب کے بعد یا نیند کے بعد ایسا ہوا ہو تو اس پر غسل کا اعادہ واجب نہیں ہے لیکن اگر ہمبستری کے بعد پیشاب کرنے یانیند یا زیادہ چلنے سے پہلے منی آئی ہے تو طرفین رحمھما اللہ کے نزدیک اس پر اعادہ غسل ضروری ہے، جب کہ امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک اس پر دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں ہے۔ فتوی طرفین رحمھما اللہ کے قول پر ہے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/14*
*▪شرح الوقایہ 1/76*
*▪فتاوی شامی 1/297*
*▪فتاوی دارالعلوم زکریا 1/701*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 126*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (24) ・❱━━━*

*·•●✿ ٹیسٹ ٹیوب بے بی(Baby Tube ) کی صورت میں غسل کا حکم*

*☆ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس میں مرد کے مادہ منویہ(Sperm ) کو لے کر عورت کے رحم میں غیر فطری طور پر بذریعہ مشین پہنچایا جاتا ہے، عورت کی شرمگاہ میں بے بی ٹیوب (Baby Tube ) داخل کرنے سے غسل واجب نہیں ہوگا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وجوبِ غسل کا سبب نفسِ خروجِ منی یا دخولِ منی نہیں بل کہ اصل علت اس میں لذت او تسکین قلب ہوتی ہے جو شہوت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ٹیسٹ ٹیوب میں لذت اورتسکین کی علت مفقود ہوتی ہے، اور اس میں صرف مادہ منویہ عورت کے رحم میں بذریعہ مشین پہنچایا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طریقہ سے وہ لذت اور تسکین حاصل نہیں ہوتی جو مرد کے جماع کرنے سے عورت کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کی نظیر عورت کا اپنی شرمگاہ میں انگلی داخل کرنے یا غیر آدمی کے ذکر وغیرہ کو داخل کر نے کی ہے جو موجب غسل نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی غسل واجب نہ ہوگا۔*

*▪مراقی الفلاح 42*
*▪نورالایضاح ص 40*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/304*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 129*
*▪فتاوی حقانیہ 2/533*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 1/101*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (25) ・❱━━━*

*·•●✿ فلٹر کئے ہوئے پیشاب (Filtered Urine ) کا حکم*

*☆ ایک چیز ہے کسی شئ کی ماہیت اور حقیقت کو تبدیل کردینا اور دوسری اس کا تجزیہ کر گزرنا (DECOMPOSES) اگر کسی چیز کی حقیقت ہی یکسر بدل دی جائے تو اس کے احکام بھی بدل جائیں گے۔ اور اگر محض اس کے بعض اجزاء کسی طرح الگ کر لئے جائیں تو اس کی وجہ سے اس کے احکام نہیں بدلیں گے۔ مثلا پاخانہ جلا کر راکھ بنا دیا جائے تو اب وہ راکھ ناپاک شمار نہ ہوگی۔*
 
*☆ لیکن اگر کسی طرح سائینٹفک طریقہ پر اسکے بعض اجزاء نکال لئےجائیں جس سے بو ختم ہوجائے تو اس کے باوجود وہ ناپاک رہے گا۔ پیشاب فلٹر کرنے کی وجہ سے غالبا اپنی حقیقت نہیں کھوتا بلکہ محض اسکے بدبودار اجزاء نکال لئےجاتے ہیں اسلئے وہ ناپاک ہی رہیں گے۔ ان کا پینا ، وضو وغسل وغیرہ کے لئے ان کا استعمال جائز نہ ہوگا اور وہ جسم کے جس حصے کو لگ جائے گا اسے ناپاک سمجھا جائے گا۔*

*▪قضایا طبیہ معاصرہ 1/321*
*▪جدید فقہی مسائل 1/74*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/23*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 132*
💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (26) ・❱━━━*

*·•●✿ آب زمزم سے استنجاء ، وضو و غسل کا حکم*

*☆ زمزم کا پانی ایک متبرک پانی ہے، اس کے آداب و احترام کا خیال رکھنا شرعی ذمہ داری ہے، اس لیے بے وضو شخص کا اس سے وضوکرنا مکروہ ہے، بشرطیکہ دوسرا متبادل  پانی مہیا ہو، ورنہ بلاکراہت جائز ہے لیکن غسل جنابت ہرحال میں کراہت سے خالی نہیں، اور نہ اس سے استنجاء کرنا بلا کراہت جائز ہے، تاہم اگر باوضو شخص اس سے تبرک کے طور پر وضو کرے یا پاک بدن والا شخص اس سے غسل کرے تو بلاکراہت جائز ہے۔*

*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 22*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 4/52*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 134*
*▪فتاوی حقانیہ 2/512*

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (27) ・❱━━━*

*·•●✿ ڈیٹول (Dettol ) ملائے ہوئے پانی سے وضو و غسل کا حکم*

*☆  ڈیٹول کا استعمال پانی میں مزید نظافت و صفائی کے لیے کیا جاتا ہے، جس کے ملانے سے اگر ڈیٹول کے اوصافِ ثلاثہ ( رنگ، بو اور مزہ) میں سے صرف ایک وصف پانی میں ظاہر ہوجائے تو اس سے وضو کرنا  درست ہوگا اور اگر ڈیٹول کو پانی میں اتنا زیادہ ملا دیا گیا کہ پانی میں اس کے دو یا تینوں وصف ظاہر ہو جائیں تو اس سے وضو یا غسل درست نہیں ہوگا۔*

*▪اللباب فی شرح الکتاب 1/43*
*▪نورالایضاح 26*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 136*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (28) ・❱━━━*

*·•●✿جراثیم کش پاؤڈر (Insecticides  powder)  ڈالے ہوئے پانی سے وضو و غسل کا حکم*

*☆ بسا اوقات پانی کے جراثیم مارنے کے لیے پانی میں جراثیم کش پاوڈر ڈالا جاتا ہے جس کی وجہ سے پانی میں رقت اور سیلان تو باقی رہتا ہے لیکن اس کے رنگ، بو اور مزه میں فرق آجاتا ہے، اس طرح کے پانی سے وضو اور غسل کرنا جائز ہے، کیوں کہ جب پانی میں کوئی جامد چیز مل جائے اور اسے پکائے بغیر اس کے اوصاف بدل جائیں تو جب تک اس میں رقت اور سیلان باقی رہے اور اس کا نام پانی برقرار ہو تو اس سے وضو اور غسل کرنا جائز ہوتا ہے۔*

*▪نورالایضاح ص 26*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/334*
*▪مراقی الفلاح ص 9*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 139*
*▪فتاوی محمودیہ 5/129*
*▪المسائل المھمہ 5/62*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (29) ・❱━━━*

*·•●✿ پٹرول سے نجاست حقیقیہ کو دور کیا جاسکتا ہے۔*

*☆ پٹرول کے جہاں اور بہت سے فوائد ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے زمانے میں اس کا استعال کپڑوں کی دھلائی اور صفائی وغیرہ کے لئے کیا جاتا ہے طہارت کے سلسلہ میں اصول یہ ہے کہ نجاست دو طرح کی ہوتی ہے، ایک تو وہ غیر محسوس  ناپاکی ہے جسے ہم نہ دیکھ  سکتے ہیں نہ محسوس کرسکتے ہیں لیکن چونکہ شریعت اس کو ناپاکی قرار دیتی ہے اس لئے ہم ناپاک باور کرتے ہیں۔ مثلا نواقضِ وضو پیش آجانے کی وجہ سے جسم کا ناپاک ہو جانا ، اس کو نجاست حکمی اور حدث وجنابت بھی کہا جاتا ہے۔ ایسی ناپاکی کو دور کرنے کے لئے پانی کا استعال یا تیمم ضروری ہے۔ پانی کے بجائے اگر کوئی دوسری سیال چیز (Liquid )مثلا پھلوں کے رس وغیرہ کا استعمال کیا جائے تو کافی نہ ہوگا  دوسری قسم کی نجاستیں وہ ہیں جو محسوس کی جاسکتی ہیں، مثلا پیشاب، پاخانہ وغیرہ۔ ان کے ازالہ کے لئے ہر پاک سیال چیز جو نجاست کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو کافی ہے، اس اصول سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پٹرول سے وضو یا غسل تو ہرگز درست نہیں لیکن کپڑے وغیرہ کا دھونا یا کسی بھی محسوس نجاست کا اس کے ذریعہ ازالہ درست ہوگا۔ اسلئے کہ اس کیلئے ہر بہتی ہوئی چیز کافی ہے۔*

*▪خلاصة الفتاوی 1/9*
*▪الھدایہ باب الانجاس 1/54*
*▪جدید فقہی مسائل 1/59*

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (30) ・❱━━━*

*·•●✿ نرودھ(Condom ) کی صورت میں غسل کا وجوب*

*☆ غسل واجب ہونے کی بنیادی طور پر دو صورتیں ہیں: ایک تو شہوت کے ساتھ انزال، دوسرے حشفہ (سپاری)  کے مقدار عضو مخصوص کا ادخال .لیکن اگر عضو مخصوص اس طرح کپڑے میں لپیٹ کر داخل کیا جائے کہ جسم کی حرارت ایک دوسرے کو محسوس نہ ہو اور لذت اندوز نہ ہوسکے، نیز انزال بھی نہ ہونے پائے توغسل واجب نہیں ہوتا۔ فقہاء نے ان صورتوں کا جن میں غسل واجب نہیں ہوتا ہے ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے : "وایلاج بخرقة مانعة من وجود لذة"  لیکن کنڈوم اس میں داخل نہیں ہے اسلئے کہ اس میں غلاف اتنا باریک ہوتا ہے کہ اس کے باوجود طرفین لذت یاب ہوتے ہیں اور کی صنعت کا منشا ہی یہی ہے کہ جنسی لطف بھی ہو اور اولاد کا بار بھی نہ ہو لہذا نرودھ کیساتھ مجامعت کی صورت میں بھی غسل واجب ہوگا۔*

*▪ نورالایضاح مع مراقی الفلاح 55*
*▪جدید فقہی مسائل 1/68*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/15*
▪فتاوی حقانیہ 2/532*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 1/101*
*▪افضل التطبیق العصری علی مسائل القدوری 130*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (31) ・❱━━━*

*·•●✿ حالت جنابت میں کپمیوٹر سے قرآن کریم لکھنے کا حکم*

*☆ جنابت کی حالت میں قرآن کریم کا لکھنا درست نہیں ہے،  یہاں تک کہ اگر کاغذ اس طرح ہو کہ اس پر ہاتھ رکھنے کی نوبت نہ آئے تو بھی درست نہ ہوگا ، چاہے ایک آیت سے بھی کم کیوں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنبی کیلئے ٹائپ رائٹر(Type Writer ) یا کمپیوٹر(Computer) کے ذریعے  قرآن کریم کی آیات کو لکھنا جائز نہیں ہے۔*

*☆ بے وضو شخص کیلئے مذکورہ جدید آلات سے لکھنے کے بارے میں اختلاف ہے اور اکثر حضرات نے لکھنے کی اجازت دی ہے تاہم احتیاط اور ادب کا تقاضا یہ ہے کہ باوضو ہونے کی حالت میں یہ کام کیا جائے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ  الفصل الرابع فی احکام الحیض 1/20*
*▪الدر المختار 1/18*
*▪جدید فقہی مسائل 1/70*
*▪فتاوی حقانیہ 2/566*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 1/110*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (32) ・❱━━━*

*·•●✿ قرآن کریم کو غلاف نما جلد اور کپڑے کے ساتھ چھونا جائز ہے*

*☆ قرآن مجید کی ایک جلد تو وہ ہے جو جلد سازی میں قرآن کے اوراق کے ساتھ پیوستہ کردی جاتی ہے۔ اس کو الگ کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں ہوتا کہ ان اوراق کو جس سلائی نے مربوط رکھا ہے اسے توڑ دیا جائے، ایسی جلد قرآن کریم کے حکم میں ہے۔ ناپاک آدمی کے لئے اس کا چھونا اور پکڑنا درست نہیں ہے اور اگر ایسی جلد ہو جو باآسانی اس سے علیحدہ کی جاسکتی ہو جیسا کہ آج کل بیگ نما جلدیں ہیں تو ان کو چھوا جاسکتا ہے اور یہ غلاف کے حکم میں ہے جن کے ساتھ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے بلا وضو بھی قرآن مجید کو چھونے کی اجازت دی ہے ، بعض علاقوں میں قرآن کریم کیلئے کپڑے سے غلاف بنایا جاتا ہے اور اس کپڑے میں قرآن کریم کو لپیٹا جاتا ہے ایسے کپڑے کیساتھ بھی بے وضو شخص کیلئے قرآن کریم کو چھونا جائز ہے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/39*
*▪فتاوی ریاض العلوم 2/114*
*▪جدید فقہی مسائل 1/71*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (33) ・❱━━━*

*·•●✿ اسپرٹ (Spirit ) پاک ہے یا ناپاک؟*

*☆انجکشن سے پہلے انجکشن لگنے کی جگہ صاف کرنے کے لیے جو اسپرٹ استعمال کیا جاتا ہے، تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں کھجور یاانگور سے تیار شدہ الکحل نہیں ہوتا ؛ اس میں شامل کیا جانے والا الکحل گنے کا رس، مختلف دانوں، سبزیات اور کوئلہ وغیرہ سے تیار شدہ ہوتا ہے اور اس طرح کا الکحل حضرات شیخین: امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف رحمھما اللہ  کے مسلک کے مطابق حرام وناپاک نہیں۔ اور دور حاضر میں علاج ومعالجہ کی ضرورت اور عموم بلوی کی وجہ سے محققین علمائے کرام نے اس مسئلہ میں اصل اصول کے مطابق شیخین رحمھما اللہ کے قول کو راجح قرار دیا ہے؛ کیوں کہ جس علت کی بنا پر ماضی میں علمائے کرام نے امام محمد رحمہ اللہ  کے قول کو راجح قرار دیا تھا، وہ دور حاضر میں کھجور اور انگور کے علاوہ دیگر چیزوں سے تیار شدہ الکحل میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے انجکشن کے موقعہ پر جو اسپرٹ استعمال کیا جاتا ہے، وہ ناپاک نہیں ہے، وہ اگرکپڑے میں لگ جائے یا جسم کے جس حصے میں لگے گا وہ ناپاک نہ ہوگا، اس کپڑے کو پہن کر اور جسم کے اس حصہ کو دھوئے بغیر نماز پڑھ سکتے ہیں، نماز ہوجائے گی۔ اور اگر کوئی شخص دھولے تو اچھی بات ہے، لازم وضروری نہیں ہے۔*

*▪ تکملة فتح الملھم 1/515 مطبوعہ: دار إحیاء التراث العربی بیروت*، 
*▪احسن الفتاوی 2/95 مطبوعہ: *ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی،*
*▪اختری بہشتی زیور مدلل 9/102 مطبوعہ: کتب خانہ اختری*
*▪فتاوی نظامیہ 1/438*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (34) ・❱━━━*

*·•●✿ کتے کی زبان کا مرہم*

*☆ بعض امراض میں کتے کی زبان کا مرہم استعمال کیا جاتا ہے ، کتا امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک نجس العین نہیں ہے تاہم اس بات پر فقہاء احناف رحمھم اللہ تعالی کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت ناپاک ہے اسلئے بہرحال اس کی زبان کا مرہم ناپاک ہوگا۔*
*☆ سخت ضرورت اور کسی متبادل صورت کی عدم موجودگی کے بغیر اس کا استعمال درست نہ ہوگا۔ جہاں دوائی لگائی گئی ہو وہ حصہ ناپاک ہوجائے گا اور اس جگہ کا دھونا اگر نقصان دہ نہ ہو تو نماز کے وقت دھونا ضروری ہوگا۔*

*▪بدایة المجتھد 441*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/192*
*▪جدید فقہی مسائل 1/75*

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (35) ・❱━━━*

*·•●✿ صابن میں ناپاک اشیاء ملائی گئی ہو تو اس کے استعمال کا حکم*

*☆ مغربی ممالک سے جو صابن آتے ہیں ان کے بارے میں کبھی کبھی اس قسم کی اطلاعات بھی سننے کو ملتی ہیں کہ ان میں بعض ناپاک اجزاء مثلا سور کی چربی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اول تو یہ یقینی اور معتبر اطلاع نہیں ہوتی اور شریعت اس قسم کے اندیشہ ہائے دوردراز کو پسند نہیں کرتی۔ دوسرے فقہاء نے اس کو دو وجوہ سے پاک قرار دیا ہے۔ ایک یہ کہ ایسے ناپاک اجزاء صابن میں مل کر اپنی اصلی حقیقت کھودیتے ہیں اور کوئی ناپاک شئ جب اس حد تک بدل جائے کہ اپنی اصلی حقیقت ہی کھو دے تواس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مثلا منی ناپاک ہے وہ جب خون بن جائے تو بھی ناپاک ہے۔ اس کے بعد جب گوشت بن جائے تو اب پاک ہے کہ حقیقت بدل چکی ہے۔ مشک ناپاک خون ہے لیکن جب مشک بن گیا تو پاک ہے۔ غیر ماکول اللحم جانوروں کی ہڈیاں بھی حرام ہیں مگر جب ان کا نمک بنادیا گیا تو اب حلال ہیں۔  دوسرے اس کے استعمال کی اس قدر کثرت ہے کہ اس سے اختراز دشوار ہے۔ ایسی چیز کو فقہاء کرام کی اصطلاح میں عموم بلوی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے حکم میں ایک گونہ نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے صابن کا استعمال جائز اور درست ہو۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/210*
*▪البحرالرائق 1/227*
*▪جدید فقہی مسائل 1/79*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (35) ・❱━━━*

*·•●✿صابن میں ناپاک اشیاء ملائی گئی ہو تو اس کے استعمال کا حکم*

*☆مغربی ممالک سے جو صابن آتے ہیں ان کے بارے میں کبھی کبھی اس قسم کی اطلاعات بھی سننے کو ملتی ہیں کہ ان میں بعض ناپاک اجزاء مثلا سور کی چربی وغیرہ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اول تو یہ یقینی اور معتبر اطلاع نہیں ہوتی اور شریعت اس قسم کے اندیشہ ہائے دوردراز کو پسند نہیں کرتی۔ دوسرے فقہاء نے اس کو دو وجوہ سے پاک قرار دیا ہے۔ ایک یہ کہ ایسے ناپاک اجزاء صابن میں مل کر اپنی اصلی حقیقت کھودیتے ہیں اور کوئی ناپاک شئ جب اس حد تک بدل جائے کہ اپنی اصلی حقیقت ہی کھو دے تواس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مثلا منی ناپاک ہے وہ جب خون بن جائے تو بھی ناپاک ہے۔ اس کے بعد جب گوشت بن جائے تو اب پاک ہے کہ حقیقت بدل چکی ہے۔ مشک ناپاک خون ہے لیکن جب مشک بن گیا تو پاک ہے۔ غیر ماکول اللحم جانوروں کی ہڈیاں بھی حرام ہیں مگر جب ان کا نمک بنادیا گیا تو اب حلال ہیں۔  دوسرے اس کے استعمال کی اس قدر کثرت ہے کہ اس سے اختراز دشوار ہے۔ ایسی چیز کو فقہاء کرام کی اصطلاح میں عموم بلوی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے حکم میں ایک گونہ نرمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسے صابن کا استعمال جائز اور درست ہو۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/210*
*▪البحرالرائق 1/227*
*▪جدید فقہی مسائل 1/79* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (36) ・❱━━━*

*·•●✿ دونی کے وقت جانور پیشاب کردے تو اناج کو پاک کرنے کا طریقہ*

*☆ پاکستان اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں دانہ کو پودے سے الگ کرنے کیلئے اب بھی جانوروں کے ذریعہ روندنے کا قدیم طریقہ مروج ہے، جس کو دونی اور بعض علاقوں میں کچھ اور نام دیا جاتا ہے۔ دونی کے درمیان بعض اوقات جانور پیشاب کردیتے ہیں، اگر پیشاب دهان پر کیا گیا ہو اور معمولی مقدار میں ہو تب تو چاول تک اس کا اثر نہیں پہنچتا اس لئے اس کے پاک ہونے میں کوئی کلام نہیں لیکن اگر معاملہ گیہوں کا ہو تو ایسی صورت میں نجاست کا اثر فورا دانے میں پہنچتا ہے، اور یہ ایسی دشواری ہے جس سے بچنا نہایت مشکل ہے اس لئے فقہاء نے اس کے لئے ازراہ  ضرورت ایک تدبیر بتائی ہے کہ چونکہ پیشاب زدہ حصہ معلوم نہیں اس لئے تھوڑا سا گیہوں نکال کر دھولیا جائے اور پھر اسے پورے غلہ کے ساتھ ملا دیا جائے تو یہ پورا غلہ پاک متصور ہوگا۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/45*
*▪مجمع الانھر 1/64*
*▪جدید فقہی مسائل 1/80*


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (37) ・❱━━━*

*·•●✿  بیت الخلاء کے گٹر یا ڈرینج کے قریب کنواں کھودنا*

*☆ جس مقام پر بیت الخلاء کا گٹر بنا ہوا ہو یا ڈرینج کی نالیاں جہاں سے گزرتی ہوں وہاں کتنی دوری پر کنواں کھودا جاسکتا ہے  یہ بھی ایک اہم مسئلہ ہے ، بعض فقہاء کرام نے ایسی گندی جگہوں سے پانچ یا سات ہاتھ کے فاصلے سے کنواں کھودنے کی اجازت دی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ زمین کی سختی ونرمی کے لحاظ سے یہ مقدار مختلف ہوسکتی ہے، لہذا ماہرین ارضیات اور تجربہ کار حضرات جتنا فاصلہ بتلائیں اتنے فاصلے سے کنواں وغیرہ کھودنا چاہئے، علامہ شامی رحمہ اللہ کا بیان ہے*
*"والحاصل انه يختلف بحسب رخاوة الارض وصلابتها، ومن قدره اعتبر حال ارضہ "*

*☆ ترجمہ: "حاصل یہ کہ زمین کی نرمی اور سختی کے لحاظ سے یہ مختلف ہوسکتی ہے اور جس نے بھی مقدار مقرر کی ہے انہوں نے اپنے یہاں کی زمینی کیفیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے مقرر کی ہے۔"*

📚حوالہ:
*▪ ردالمحتار 1/163*
*▪جدید فقہی مسائل 1/81*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/20*
*▪خلاصة الفتاوی 1/12*
*▪فتاوی حقانیہ 2/541* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (38) ・❱━━━*

*·•●✿  یونانی دوائیوں میں ناپاک چیز کے عمل تقطیر سے حاصل ہونے والے قطرات کا حکم*

*☆ یونانی دوائیوں کی تیاری کیلئے زمانہ قدیم سے جو طریقے مروج ہیں ان میں ایک عمل تقطیر بھی ہے۔ عمل تقطیر سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو گرم کیا جائے اور جوش دیا جائے اس سے جو بھانپ اٹھے اس کے قطرات کو محفوظ کیا جائے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر کسی ایسی چیز کو جوش دیا گیا جو ناپاک ہے اس کے قطرات جمع ہوگئے اور ازراہ علاج بیرونی طور پر ان کا استعمال کیا گیا یا یونہی کپڑے وغیرہ میں لگ جائے تو یہ قطرات پاک سمجھے جائیں گے یا ناپاک؟*
*فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی کی تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ گو اس سلسلہ میں دونوں طرح کے اقوال ہیں پاک ہونے کے بھی اور ناپاک ہونے کے بھی ، لیکن علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پاک ہونے کا قول راجح ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/238*
*▪جدید فقہی مسائل 1/82* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (39) ・❱━━━*

*·•●✿ مسواک نہ ہونے کی صورت میں انگلی یا کپڑے کا استعمال*

*☆اگر کسی کے پاس مسواک نہ ہو یا کسی کے منہ میں دانت نہ ہوں یا مسواک کے استعمال سے کسی تکلیف یا ضرر کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں سیدھے ہاتھ کی انگلی یا کسی کھردرے کپڑے سے دانت صاف کرنا مسواک کے قائم مقام ہوسکتا ہے۔* چنانچہ الفتاوی الھندیہ میں ہے:
" ولا یقوم الاصبع مقام الخشبة فان لم توجد الخشبة فحینئذ یقوم الاصبع من یمینہ مقام الخشبة کذا فی المحیط والظھیرية "

*▪الفتاوی الھندیہ الفصل الثانی فی سنن الوضوء 1/7*
*▪جدید محقق و مدلل مسائل 1/97* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (40) ・❱━━━*

*·•●✿ واشنگ مشین(Washing Machine) میں پاک و ناپاک کپڑے دھونے کا طریقہ*

*☆ واشنگ مشین میں عموما کپڑے کچھ اس انداز سے دھوئے جاتے ہیں کہ ایک ہی بار صابن یا سرف ڈال کر اس میں پاک اور ناپاک کپڑے ایک ساتھ یا یکے بعد دیگرے ڈالے جاتے ہیں ، ان کپڑوں کو پاک کرنے کے تین طریقے ہیں:*
*ایک یہ کہ جن کپڑوں کے بارے میں یقین ہے کہ یہ پاک ہیں انہیں پہلے دھولیا جائے اور اس کے بعد ناپاک اور مشکوک کپڑوں کو دھولیا جائے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ سب ایک ساتھ دھولئے جائیں اور کنگھالتے وقت تمام کپڑوں کو تین بار صاف پانی میں ڈال کر نچوڑ لیا جائے اور تیسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ کپڑوں پر اتنا صاف پانی مسلسل بہائے کہ ناپاک پانی اور صابن زائل ہونے کا غالب گمان پیدا ہوجائے تو یہ تمام کپڑے پاک ہوجائیں گے۔*

*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الانجاس 87*
*▪حلبی کبیری ص 183*
*▪فتاوی حقانیہ 2/582*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/171*
*▪کتاب النوازل 3/24*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 108* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (41) ・❱━━━*

*·•●✿ قرآن کریم کی کیسٹ ، سی ڈی ، یو ایس بی یا میموری کارڈ کو بلا وضو چھونا جائز ہے*

*☆ جس کیسٹ ، سی ڈی ، یو ایس بی یا میموری کارڈ میں کلام پاک کو ٹیپ کیا گیا ہو اس کو بلا وضو چھونا جائز ہے،  کیوں کہ کیسٹ ، سی ڈی ، یو ایس بی یا میموری کارڈ میں ایسے نقوش مکتوب نہیں ہوتے جنہیں ہم براہ راست پڑھ سکیں بلکہ محض آواز محبوس (روکی ہوئی) ہوتی ہے۔*
*▪اسلامی فقہ 1/127*
*▪جدید فقہی مسائل 1/101*
*▪محقق و مدلل جدید مسائل 109*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (42) ・❱━━━*

*·•●✿ کپڑا پاک کرنے کے بعد اگر تر ہو تو استعمال جائز ہے*

*☆ بعض لوگوں کہتے ہیں کہ ناپاک کپڑا دھوکر جب تک سوکھ نہ جائے وہ پاک نہیں ہوتا اس میں نماز نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں یہ خیال غلط ہے کپڑا صحیح طریقے سے دھونے کے بعد پاک ہوجاتا ہے ، اس کے ساتھ نماز بھی درست ہے اگرچہ کپڑا تر ہی کیوں نہ ہو۔ جیساکہ ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کپڑوں کو دھو لیتی اور آپ علیہ السلام نماز کیلئے تشریف لے جاتے اگرچہ پانی کپڑوں پر موجود رہتا۔*

*▪الصحیح البخاری باب غسل المنی وفرکہ 1/36*
*▪الصحیح المسلم باب حکم المنی 1/140*
*▪البحرالرائق 1/389*
*▪المسائل المھمہ 2/48* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (43) ・❱━━━*

*·•●✿   ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ*

*☆ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ناپاک کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ یوں بیان فرمایا ہے کہ اگر کپڑے پر نجاست مرئیہ لگی ہو ( ایسی نجاست ہو جو خشک ہونے کے بعد نظر آئے) تو عین نجاست کا دور کرنا ضروری ہے چاہے ایک دفعہ دھونے سے ہو یا کئی دفعہ ، البتہ اگر اثر باقی ہے مثلا دھبہ تو حرج نہیں ہے اور اگر کپڑے پر نجاست غیر مرئیہ لگی ہو یعنی ایسی نجاست جو خشک ہونے کے بعد نظر نہ آئے تو اس کی پاکی کیلئے اتنا دھونا ضروری ہے کہ پاکی کا گمان غالب ہوجائے اور تین مرتبہ دھونے اور ہر مرتبہ نچوڑنے سے پاکی کا غلبہ ظن حاصل ہوجاتا ہے۔ اگر اس طریقہ سے ناپاک کپڑے کو دھویا گیا تو وہ پاک ہوگا ، خواہ وہ دھونے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم۔*

*▪المبسوط للسرخسی رح 1/222*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار* 1/480
*▪الھدایہ باب الانجاس 1/78*
*▪الفتاوی التاتارخانية 1/305*
*▪بدائع الصنائع 1/249* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (44) ・❱━━━*

*·•●✿ اٹیچ باتھ روم میں وضو و غسل اور دعائیں پڑھنے کا حکم*

*☆ آج کل اٹیچ باتھ روم ( جہاں بیت الخلاء کے ساتھ غسل خانہ بھی بنایا گیا ہو) کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ اٹیچ باتھ روم میں جو جگہ غسل اور وضو کیلئے خاص ہو اس میں اگر بظاہر کوئی نجاست نہ ہو تو اس جگہ وضو اور غسل کرنا درست ہے البتہ اگر نجاست نظر آئے یا مشکوک ہو تو اس پر پانی بہاکر صاف کیا جائے اور پھر وضو یا غسل کیا جائے البتہ وضو اور غسل کے  دعاوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ بیت الخلاء میں داخل ہونے کی دعا اور وضو کی ابتدائی دعا باتھ روم میں داخل ہونے سے پہلے پڑھ لیں اور وضو کے درمیان کی دعائیں دل ہی دل میں پڑھتا رہے باتھ روم کے اندر زبان سے پڑھنا ممنوع ہے۔*

*▪البحرالرائق 1/58*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/9*
*▪المسائل المھمہ 2/54*
*▪نجم الفتاوی 2/86*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/113* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (45) ・❱━━━*

*·•●✿ ستر کھلنے یا کسی کا ستر دیکھنے سے وضو نہیں ٹوٹتا*

 *بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ برہنہ آدمی کو دیکھنے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،  اسی طرح بعض یہ کہتے ہیں کہ وضو کے بعد ستر کھل جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے،  یہ دونوں باتیں غلط اور بے بنیاد ہیں البتہ برہنہ آدمی کو قصدا دیکھنا یا کسی کے ستر پر نظر ڈالنا شرعا ناجائز اور حرام ہے لیکن اگر دیکھ لیا تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔*

*▪المسائل المھمہ 2/55*
*▪فتاوی امارت شرعیہ 2/63*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/116*
*▪احسن الفتاوی 2/24*
*▪نجم الفتاوی 2/74*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (46) ・❱━━━*

*·•● بچے کو دودھ پلانا ناقضِ وضو نہیں*

*☆ بعض عورتیں یہ خیال کرتی ہیں کہ وضو کے بعد بچے کو دودھ پلانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے،  یہ خیال سراسر غلط ہے ، بچہ یا بچی کو دودھ پلانے سے وضو نہیں ٹوٹتا کیونکہ سبیلین (پیشاب اور پاخانہ کا مقام) کے علاوہ انسانی بدن سے ہر نکلنے والی چیز سے وضو نہیں ٹوٹتا بلکہ وہی چیز ناقض وضو ہوتی ہے جو نجس ہو اور نکل کر جسم کے ایسے حصے کی طرف بہے جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے جبکہ دودھ پاک ہے لہذا دودھ پلانے سے وضو پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔*

*▪مختصر القدوری 1/29*
*▪فتاوی شامیہ 1/235*
*▪فتاوی امارت شرعیہ 2/66*
*▪المسائل المھمہ 2/58* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (47) ・❱━━━*

*·•●✿ اعضاء وضو و غسل پر کلر پینٹ ، ایلفی وغیرہ لگ جائے تو وضو ہوگا یا نہیں؟*

*☆ اگر وضو کے اعضاء پر پینٹ (Paint ) ، گوند یا ایلفی وغیرہ لگ جائے جو وضو اور غسل میں پانی پہونچنے کیلئے مانع ہو تو اس صورت میں وضو اور غسل نہیں ہوگا اور اس سے غفلت کی بناء پر جو نماز ادا کی جائیگی وہ نماز بھی نہیں ہوگی جب تک اس چیز کو جدا کرکے اس پر پانی نہ بہادیا جائے البتہ اگر کلر یا ایلفی جسم پر ایسی لگی ہوئی ہے کہ بہت کوشش کے باوجود بھی نہیں اترتی تو ایسی صورت میں جتنی اتار سکتے ہیں اتنی اتار دے باقی کھال کھرچنے کی ضرورت نہیں ہے۔*

*▪الفتاوی التاتارخانية 1/111*
*▪بدائع الصنائع 1/142*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/13*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 102*
*▪المسائل المھمہ 2/61*
▪فتوی جامعہ دارالعلوم کراچی* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (48) ・❱━━━*

*·•●✿ مدارس و مکاتب کے چھوٹے بچوں کو وضو کا مکلف بنانا*

*☆ مدارس و مکاتب میں بہت سے چھوٹے اور نابالغ بچے ناظرہ قرآن کریم اور حفظ کلام پاک کے درجات میں داخل ہوتے ہیں ، ابھی وہ شریعت کے مکلف نہیں ہیں ، نیز انہیں قرآن کریم باوضو چھونے کا مکلف و پابند بنانے میں ان کیلئے بڑا حرج ہے، اور بلوغت تک تاخیر میں تقلیلِ حفظ بھی لازم آتا ہے، اسلئے ان کیلئے بلاوضو قرآن کریم چھونے کی گنجائش ہے ، مگر ان کو طہارت کی ہدایت کی جائے اور اس کا عادی بنایا جائے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/316*
*▪مراقی الفلاح ص 58*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/39*
*▪حلبی کبیر ص 59*
*▪فتاوی محمودیہ 3/522* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (49) ・❱━━━*

*·•●✿  بے شعور بچہ اگر پانی کے برتن میں ہاتھ ڈال دے تو پانی کا حکم*

*☆ بچہ کے اندر بے شعوری ہوتی ہے ، اس کے ہاتھوں میں لگی نجاست کا احساس اسے بھی نہیں ہوتا، لہذا اگر کسی بچہ نے اپنا ہاتھ پانی کے برتن میں ڈال دیا ، تو حضرات فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر بچہ کے ہاتھ میں نجاست کا لگا ہونا یقینی ہو تو پانی ناپاک ہوجائے گا ، اور اگر ہاتھ کے پاک ہونے کا یقین ہو ، تو پھر اس پانی سے پاکی حاصل کرنا جائز ہوگا اور اگر معاملہ درمیان کا ہو ، یعنی نہ ہی ہاتھ کے پاک ہونے کا علم ہو اور نہ ہی ناپاک ہونے کا یقین ، تو ایسی صورت میں بہتر یہ ہے کہ اس پانی سے پاکی حاصل نہ کرے کیوں کہ بچے عموما نجاستوں سے بچتے نہیں ہیں لیکن اگر کسی نے اس پانی سے وضو یا غسل کیا تو پاکی حاصل ہوجائیگی۔*

'📚حوالہ:'*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/25*
*▪الفتاوی التاتارخانية 1/116*
*▪المحیط البرھانی 1/121*
*▪المسائل المھمہ 5/66*
*▪احسن الفتاوی 2/41*
*▪خیرالفتاوی 2/161*
*▪فتاوی حقانیہ 2/608*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (50) ・❱━━━*

*·•●✿ کھڑے ہوکر وضو کرنا*

*☆  فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے وضو کے آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ بلند جگہ پر بیٹھ کر قبلہ رخ وضو کیا جائے لہذا بیٹھ کر وضو کرنا وضو کے آداب میں سے ہے لیکن بعض مقامات ایسی ہوتی ہیں کہ وہاں پر اگر بیٹھ کر وضو کیا جائے تو چھینٹیں پڑنے کا خدشہ ہوتا ہے ایسی صورت میں کھڑے ہوکر وضو کرنا بالکل جائز اور درست ہے۔ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ کھڑے ہوکر وضو نہیں ہوتا یا مکروہ ہوتا ہے یہ خیال غلط ہے کیوں کہ معلوم ہوا کہ بیٹھ کر وضو کرنا فقط آداب میں سے ہے اور ہر ادب کی مخالفت سے کراہت لازم نہیں آتی کما قال الشامی رحمہ اللہ۔*

*📚حوالہ:*
*▪فتاوی شامیہ 1/274*
*▪فتاوی دارالعلوم زکریا 1/468*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/74*
*▪سوال و جواب کتاب وسنت کی روشنی میں 1/133*
*▪فتاوی محمودیہ 7/16*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (51) ・❱━━━*

*·•●✿  بچہ کی دودھ کی قے پاک ہے یا ناپاک؟*

*☆ بعض اوقات بچہ دودھ پینے کے بعد فورا دودھ کی قے کردیتا ہے، یہ قے کبھی دودھ کے حلق سے نیچے اترجانے کے بعد ہوتی ہے اور کبھی حلق سے نیچے اترنے سے پہلے، اگر دودھ حلق سے نیچے اتر جائے ، پھر قے ہو تو یہ قے ناپاک ہوگی کیوں کہ اس سے پیٹ کی نجاستیں مل گئی ہیں اور اگر دودھ حلق کے نیچے نہیں گیا بلکہ منہ میں ہی تھا اور بچہ نے اس کی قے کردی تو اس قے کو ناپاک نہیں سمجھا جائے گا، اگر کپڑے یا جسم پر لگ جائے تو دھونا ضروری نہیں ہے ہاں بطور نظافت دھونا بہتر ہے۔*

*▪حلبی کبیر کتاب الطھارة 129*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار* 1/266
*▪البحرالرائق 1/67*
*▪بچے کے حقوق واحکام 101*
*▪المسائل المھمہ 5/67* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (52) ・❱━━━*

*·•●✿ نومولود بچے کا لعاب (رال)*

  *نومولود بچوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ اپنی انگلیوں کو منہ میں رکھ کر چوستے ہیں، جس کے سبب ان کے منہ سے لعاب گرتا رہتا ہے ، یہ لعاب اس قدر تسلسل سے گرتا رہتا ہے کہ اس سے بچا نہیں جاسکتا ، لہذا اگر یہ لعاب بدن یا کپڑے پر لگ جائے تو اس کو دھونا ضروری نہیں ہے ، کیوں کہ لعاب پاک ہے ، ہاں بطور نظافت دھولے تو بہتر ہے۔:*

*▪اتحاف اولی الالباب بحقوق الطفل و احکامہ ص 447*
*▪مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث 6940*
*▪المسائل المھمہ 5/68*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (53) ・❱━━━*

*·•●✿ دھوپ میں گرم ہوئے پانی(ماء مشمس) سے وضو اور غسل*

 *بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ جو پانی دھوپ میں گرم ہوگیا ہو اس سے وضو اور غسل کرنا صحیح نہیں ہے ، ان کا یہ خیال غلط ہے کیوں کہ احناف کے نزدیک دھوپ سے گرم پانی کے استعمال کی کراہت مختلف فیہ ہے اور راجح قول مکروہ تنزیہی کا ہے ، یہ کراہت بھی اس وقت ہے جب کہ گرم علاقہ میں ، گرم وقت میں ، گرم ہونے کی حالت میں اور سونے چاندی کے علاوہ کسی دوسری دھات کے برتن میں استعمال کیا جائے۔ اگر ایسی صورت نہ ہو تو مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے۔*

  *▪الدرالمختار مع ردالمحتار باب المیاہ 1/324 بیروت*
*▪نصب الرایة 1/151 کتاب الطہارة*
*▪احسن الفتاوی 2/44*
*▪کتاب المسائل 1/94*
*▪المسائل المھمہ 6/38*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (54) ・❱━━━*

*·•●✿ جنابت کی حالت میں نکلنے والا پسینہ پاک ہے*

*بعض لوگ حالت جنابت میں نکلنے والے پسینہ کو ناپاک خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ کپڑوں پر لگ جائے یا ماء قلیل میں گرجائے تو کپڑا اور پانی ناپاک ہوجاتا ہے ، ان کا یہ خیال غلط ہے ، صحیح بات یہ ہے کہ انسان کا پسینہ پاک ہے چاہے وہ طاہر ہو یا حالت جنابت و حیض میں یا پھر نشے میں ہو۔ پسینہ کے کپڑے پر لگ جانے اور پانی میں گرجانے سے کپڑا اور پانی ناپاک نہیں ہوں گے۔*

*▪البحرالرائق کتاب الطہارة 1/221*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/381*
*▪کتاب المسائل 1/99*
*▪المسائل المھمہ 6/41*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (55) ・❱━━━*

*·•●✿ پلاسٹک کے خول والے دانتوں کا غسل میں حکم*

 *دانت صاف اور سفید نظر آئیں ، اس کیلئے آج کل یہ طریقہ اپنایا جاتا ہے کہ دانت کو کھرچ کر اس پر پلاسٹک کا ایک خول چپکایا جاتا ہے ، وہ مستقل دانتوں پر لگا رہتا ہے ، دو تین سال کے بعد خود ہی کمزور ہوکر اترجاتا ہے ، عام طور پر اسے اتارنا آسان نہیں ہوتا ، اگر یہ خول دانتوں سے اس طرح جڑگیا ہو کہ دانتوں سے الگ کرنا واقعتا دشوار ہو تو اس کے دانتوں پر ہوتے ہوئے غسل درست ہوجائے گا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/259*
*▪الفتاوی الھندیہ الباب الثانی فی الغسل 1/13*
*▪الفتاوی التاتارخانية 1/84*
*▪فتاوی محمودیہ 8/161*
*▪احسن الفتاوی 2/32*
*▪المسائل المھمہ 6/43* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (56) ・❱━━━*

*·•●✿ غسل کے چھینٹے بالٹی میں گرجائیں*

 *بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ غسل جنابت کے دوران اگر غسل کے چھینٹے بالٹی وغیرہ میں موجود پانی میں گرجائیں ، تو وہ پانی ناپاک ہوجاتا ہے،  ان کا یہ خیال غلط ہے،  کیوں کہ بدن کے مستعمل پانی کے کچھ قطرے برتن میں گرجانے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا ، برتن کے پانی سے غسل کے صحیح نہ ہونے کیلئے یہ شرط ہے کہ مستعمل پانی برتن کے پانی سے زیادہ ہو یا برابر ہو اور چھینٹے چونکہ انتہائی قلیل ہوتے ہیں اسلئے پانی ناپاک نہیں ہوتا۔*

*▪المحیط البرھانی الفصل الرابع 1/121*
*▪حلبی کبیر فصل فی الانجاس 153*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/32*
*▪المسائل المھمہ 6/44*
*▪احسن الفتاوی 2/41*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (57) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک تیل ، شہد ، دودھ اور مائع گھی کو پاک کرنے کا طریقہ*

*اگر تیل ، دودھ ، شہد یا مائع گھی ناپاک ہوجائے تو ان اشیاء کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جتنی چیز ہو اتنا یا اس سے زیادہ پانی ڈال کر اس کو پکائے ، جب پانی جل جائے تو پھر اتنا پانی ڈال کر جلائے ، اس طرح تین دفعہ کرنے سے یہ اشیاء پاک ہوجائیں گے۔ تیل ، شہد اور مائع گھی کیلئے دوسرا طریقہ یہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے کہ پہلی دفعہ پانی ڈال ان کو ہلایا جائے جب تیل ، شہد یا مائع گھی  پانی کے اوپر آجائے تو کسی طرح اسے اٹھالیا جائے اس طرح تین دفعہ پانی ملاکر ان اشیاء کو اٹھانے سے وہ چیز پاک ہوجائیگی۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار مطلب فی تطھیر الدھن والعسل 1/571*
*▪البحرالرائق باب الانجاس 1/415*
*▪الفتاوی الھندیہ الباب السابع 1/42*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/247*
*▪امداد الفتاوی 1/116* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (58) ・❱━━━*

*·•●✿ مغربی طرز کے بیت الخلاء میں کھڑے ہوکر پیشاب*

*☆ بس اسٹیشنوں ، ریلوے اسٹیشنوں ، ایئر پورٹوں ، بڑے بڑے مول(Mall ) اور کمپنیوں میں ملازمین اور عام آمد ورفت کرنے والوں کیلئے مغربی طرز(Western Style ) کے بیت الخلاء بنے ہوتے ہیں ، جن کو مسلم غیرمسلم ہر طرح کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ مسلم کیلئے ان کا استعمال ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ بیٹھ کر پیشاب کرنے کی صورت میں کپڑوں کے ناپاک ہونے کا خدشہ ہوتا ہے اور کھڑے ہوکر پیشاب کرنا مکروہ تنزیہی ہے، اس صورت حال میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر کپڑوں کو نجاست اور ناپاک ہونے سے بچانا مشکل ہو تو کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کی گنجائش ہے۔*

*▪بذل المجھود 1/274*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/557 بیروت*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 40706*
*▪المسائل المھمہ 7/29* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (59) ・❱━━━*

*·•●✿ واشنگ مشین میں کپڑے نچوڑنا*

*☆ ناپاک کپڑوں کو واشنگ مشین(Washing Machine ) میں اچھی طرح دھولیا جائے، پھر اسپینر مشین (Spinner) یعنی مشین کا وہ حصہ جس میں کپڑا ڈال کر گھمانے سے کپڑے اچھی طرح نچوڑ جاتے ہیں ، اور کچھ حد تک خشک بھی ہوجاتے ہیں ، ان کپڑوں کو ڈال دیا جائے اور اسپینر کے اوپر صاف پانی کا پائپ لگاکر اتنی دیر چلایا جائے کہ گندے پانی کی جگہ صاف پانی نیچے سے آنا شروع ہوجائے ، تو یہ کپڑے پاک ہوجائیں گے،  ہاتھ سے نچوڑنا ضروری نہیں ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/542*
*▪الموسوعة الفقھیة طھارة 29/99*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 159*
*▪فتوی دارالعلوم دیوبند رقم 47886*
*▪المسائل المھمہ 7/31*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (60) ・❱━━━*

*·•●✿ غسل کے شروع میں وضو کرنا*

*☆ غسل کے شروع میں باقاعدہ وضو کرلینا سنت ہے ، لیکن اگر کسی نے غسل سے پہلے وضو نہیں کیا ، تو غسل کے ضمن میں اس کا وضو بھی ہوجائے گا کیوں کہ غسل میں جسم کے ساتھ وضو کے اعضاء( چہرہ ، ہاتھ کہنیوں سمیت ، پاوں) بھی دھل جاتے ہیں اور سر پر ہاتھ پھیرا جاتا ہے ، جوکہ مسح کے قائم مقام ہے ، لہذا غسل کے بعد مستقل وضو کی ضرورت نہیں،  اس کے بغیر بھی نماز پڑھنا درست ہے، ہاں اگر غسل کے بعد وضو ٹوٹ گیا ، تو نماز وغیرہ کیلئے دوبارہ وضو کرنا لازم ہے۔*

*▪مشکوة المصابیح باب الغسل رقم 445*
*▪فتوی دارالعلوم دیوبند رقم 47974*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/64*
*▪المسائل المھمہ 7/33*
*▪الفقہ الاسلامی وادلتہ 1/382*


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (61) ・❱━━━*

*·•●✿ بندر کا جھوٹا ناپاک ہے*

*☆ بعض علاقوں میں بندر بکثرت پائے جاتے ہیں اور آکر کھلی ہوئی پانی کی ٹنکیوں میں منہ ڈال کر پانی پی لیتے ہیں ، ان ٹنکیوں کا پانی عموما ٹھہرا ہوا اور قلیل ہوتا ہے ، اور بندر کا جھوٹا ناپاک ہے اسلئے بندر کے منہ ڈالنے سے ایسا پانی ناپاک ہوجائے گا ، لہذا ایسے علاقے کے لوگوں کو چاہیے کہ ٹنکیوں کو ڈھکن یا جالی لگادیں ، تاکہ بندر پانی کو ناپاک نہ کرسکیں ، اسی طرح بعض لوگ گھروں میں بندر پالتے ہیں ، اگر بندر نے کسی برتن میں منہ ڈالا یا کپڑے کو منہ لگایا تو ایک درہم کی مقدار سے زیادہ ہونے کی صورت میں کپڑا ناپاک ہوجائے گا۔*

*▪المبسوط للسرخسی 1/155*
*▪ھدایہ 1/145*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار باب المیاہ 1/382*
*▪الجوھرة النیرہ 1/61*
*▪فتوی دارالعلوم دیوبند رقم 1348*
*▪المسائل المھمہ 6/69* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (62) ・❱━━━*

*·•●✿ کوا برتن میں منہ ڈال دے تو پانی کا حکم*

*☆ کوے کی تین قسمیں ہیں: (۱) صرف دانا کھاتا ہے۔ (۲) صرف گندگی کھاتا ہے۔ (۳) دانہ اور گندگی دونوں کھاتا ہے، جو کوا صرف دانہ کھاتا ہے اس کا جھوٹا اور بیٹ پاک ہے، اورجو صرف گندگی کھاتا ہے اس کا جھوٹا مکروہ تنزیہی ہے اور بیٹ نجاست خفیفہ ہے ، لہذا اس صورت میں اگر دوسرا پاک پانی موجود ہے تو ایسے پانی سے وضو اور غسل نہ کریں جس میں کوے نے منہ مارا ہو اور جو دونوں کھاتا ہے تو امام صاحب رحمہ اللہ کے نزدیک حلال ہے اور امام یوسف علیہ الرحمة کے نزدیک مکروہ ہے، لہٰذا امام صاحب کے نزدیک اس کا جھوٹا اور بیٹ پاک ہے اور امام یوسف علیہ الرحمة کے نزدیک جھوٹا مکروہ اور بیٹ نجاست خفیفہ ہے۔*

*▪البحرالرائق 8/313*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب الذبائح 9/443*
*▪الفتاوی الھندیہ 5/289*
*▪فتاوی قاضی خان 4/336*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 10726*
*▪المسائل المھمہ 8/70* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (63) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک کپڑے کی چھینٹیں پاک کپڑے پر پڑجائیں*

*☆ ناپاک کپڑا دھوتے وقت ،اس کی ناپاک چھینٹیں اگر پاک کپڑے پر پڑجائیں ، تو جس جگہ وہ چھینٹیں پڑیں گی ، اس جگہ کو ناپاک کردیگی، کیونکہ ناپاک کپڑے کی چھینٹیں بھی ناپاک ہیں ، لہذا اگر کپڑے پر نجاست غلیظہ ہے تو چھینٹوں کا حکم بھی نجاست غلیظہ والا ہوگا اور اگر ناپاک کپڑے پر نجاست خفیفہ تھی تو چھینٹوں کا حکم بھی نجاست خفیفہ والا ہوگا۔نجاست غلیظہ اگر دلدار نہ ہو یعنی پتلی ہو جیسا کہ نجس پانی یا پیشاب وغیرہ تو حکم یہ ہے کہ جس کپڑے کو لگ جائے وہ ہتھیلی کے گہراو کے بقدر معاف ہے ، ہتھیلی کے گہراو سے زیادہ ہو تو نماز نہ ہوگی۔ حضرات فقہاء کرام رحمھم تعالی نے ہتھیلی کے گہراو کی وسعت کے بارے میں لکھا ہے کہ چلو میں پانی بھر کر ہتھیلی کو پھیلا دیا جائے ، جتنی جگہ میں پانی ٹھہرا رہے ، وہ مراد ہے، مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے اس کی مقدار احسن الفتاوی میں یہ لکھی ہے کہ اتنی جگہ ہو جس کا قطر 2.75 سینٹی میٹر ہو اور کل پیمائش 5.94 سینٹی میٹر ہوا۔ اور نجاست خفیفہ کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کے جس حصے کو لگ جائے اس عضو کے چوتھائی حصہ سے کم ہو تو نماز ہوجائیگی ، اگر چوتھائی حصہ کے برابر یا زیادہ ہو تو نماز نہ ہوگی۔*

*▪الفتاوی التاتارخانية 1/187*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح باب الانجاس 155*
*▪البحرالرائق 1/404*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/532*
*▪فتاوی محمودیہ 8/303*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 30780*
*▪احسن الفتاوی 2/89*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (64) ・❱━━━*

*·•●✿ وضو سے پہلے ویسلین ، تیل وغیرہ دھونا*

*☆ ویسلین ، تیل یا اس جیسی غیرذی جرم چکنی چیزیں لگانے کےبعد ، وضو کرنے سے پہلے اسے صابون وغیرہ سے دھونا ضروری نہیں ہے،  کیوں کہ یہ پانی کو کھال تک پہنچنے سے مانع نہیں ،  بلکہ چکناہٹ کی وجہ سے پانی بہت تیزی کے ساتھ کھال سے مس ہوکر گزرجاتا ہے۔ لہذا اگر یہ اشیاء ناپاک نہ ہو تو وضو سے قبل ان کو دھونا ضروری نہیں ہے،  صرف اوپر اوپر پانی بہانے سے وضو ہوجائے گا ، اگر ان میں ناپاک اشیاء ملائی گئی ہوں تو اس صورت میں ہٹانا ضروری ہوگا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار مطلب فی ابحاث الغسل 1/288*
*▪الفتاوی الولوالجیة 1/49*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 62*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/5*
*▪المسائل المھمہ 8/73* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (65) ・❱━━━*

*·•●✿  وضو کے بعد چہرے پر کریم یا پاوڈر وغیرہ لگانا*

 *بعض لوگ وضو کے بعد چہرے پر کریم یا پاوڈر وغیرہ لگاتے ہیں اور اس صورت میں ان اشیاء کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ، تو اگر یہ اطمینان ہو کہ اس میں حرام اجزا کی آمیزش نہیں ہے،  تو اسے لگاکر نماز پڑھنا بالکل جائز ہے ، اور اگر اس میں حرام اجزا کی آمیزش ہو ، تو نماز سے پہلے اسے دھونا ضروری ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 2/73*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 29749*
*▪الجوہرة النیرہ 1/127*
*▪الفقہ الحنفی و ادلتہ 1/144*
*▪المسائل المھمہ 8/74*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (66) ・❱━━━*

*·•●✿ غسل کے دوران اور غسل کے بعد مخصوص کلمہ پڑھنا ضروری ہے یا نہیں؟*

*☆ عوام میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ غسل جنابت کرتے وقت کلمہ پڑھنا ضروری ہے ورنہ ناپاکی دور نہ ہوگی ، بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ غسل کرنے کے بعد غسل خانہ سے نکل کر ایمان مجمل اور ایمان مفصل پڑھنا ضروری ہے ورنہ غسل سے پاکی حاصل نہ ہوگی ، اسی طرح بعض علاقوں میں مردے کو نہلاتے وقت کلمہ پڑھنے کو ضروری خیال کرتے ہیں ، تو یاد رکھیں کہ ان باتوں کی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے ، ہاں یہ مسئلہ موجود ہے کہ غسل جنابت کیلئے غسل خانہ میں داخل ہونے سے پہلے کلمہ پڑھنا جائز ہے ، اسی طرح ننگا ہونے کی حالت میں کلمہ پڑھنا ممنوع ہے ، لہذا مذکورہ کلمے پڑھنا ضروری نہیں ہے۔*

*▪رد المحتار 1/291*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 106*
*▪حلبی کبیر سنن الغسل 51*
*▪فتاوی محمودیہ 8/166*
*▪المسائل المھمہ 8/77*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 15172*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (67) ・❱━━━*

*·•●✿ ایک بالشت سے کم مسواک کا استعمال*

*☆ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایک بالشت سے اگر مسواک کم ہو تو اس سے مسواک نہیں کرسکتے اور اس کا ثواب نہیں ملتا ، جبکہ شرعا ایک بالشت سے کم مسواک بھی کرسکتے ہیں ، اور اس کا ثواب بھی ملتا ہے۔ ایک بالشت ، یہ مسواک کی زیادہ سے زیادہ مقدار ہے ، لہذا ابتدا میں ایک بالشت ہونا بہتر ہے ، بعد میں کم ہوجائے ، تب بھی کوئی حرج نہیں ہے اور جب تک قابل استعمال ہو تب تک استعمال کرسکتے ہیں۔*

*▪ردالمحتار مطلب فی دلالة المفہوم 1/210*
*▪النھر الفائق 1/41*
*▪المسائل المھمہ 8/78*
*▪فتاوی محمودیہ 8/118*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 12283* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (68) ・❱━━━*

*·•●✿  حائضہ کے غسل کے پانی کو دم کرنا*

 *بعض علاقوں میں یہ ایک غیرشرعی رواج پایا جاتا ہے کہ جب کوئی عورت حیض یا نفاس سے پاک ہوکر غسل کرنا چاہتی ہے ، تو گھر کے مرد کسی بزرگ یا عالم سے پانی پر دم کرواکر لاتے ہیں اور یہ عورت اس پانی کو غسل کے پانی میں ملاکر غسل کرتی ہے ، جب کہ غسل کے پانی پر کلمہ طیبہ یا کچھ اور پڑھ کر دم کرنا یا کروانا ، شریعت سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا ، اسلئے یہ عمل نہ فرض ہے ، نہ واجب ہے اور نہ سنت یا مستحب بلکہ اگر کوئی شخص اس کو ضروری یا ثواب خیال کرکے کرے گا تو ناجائز اور بدعت ہوکر گناہ ہوگا*

*▪الصحیح البخاری رقم 2697*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 41615*
*▪المسائل المھمہ 8/80*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (69) ・❱━━━*

*·•●✿  قضائے حاجت کے وقت چہرہ یا پیٹھ قبلہ کی طرف کرنا*

*☆  قضائے حاجت کے وقت چہرہ یا پیٹھ قبلہ کی طرف کرنا مکروہ تحریمی ہے ، اسلئے اپنے مکانوں ، مہمان خانوں اور ہوٹلوں وغیرہ میں استنجاء خانہ اس طرح بنانا چاہیے کہ قضائے حاجت کے وقت چہرہ یا پیٹھ قبلہ کی طرف نہ ہو ، اور اگر اس طرح بنے ہوئے ہوں کہ چہرہ یا پیٹھ قبلہ کی طرف ہوتی ہے ، تو جہاں تک ممکن ہو ان لوگوں کی اصلاح کرنا ضروری ہے کہ وہ ان کا رخ تبدیل کردیں اور خود اس طرح استنجاء کیا جائے کہ اپنا رخ قبلہ کی جانب نہ ہو ، اسی طرح چھوٹے بچوں کو پیشاب پاخانہ کرواتے وقت بھی قبلہ رخ سے ہٹ کر بٹھانا ضروری ہے ورنہ ماں گناہ گار ہوگی۔*

*▪الصحیح البخاری رقم الحدیث 394*
*▪الصحیح المسلم رقم 264*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/480*
*▪مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی 22*
*▪المسائل المھمہ 8/81*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 37939* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (70) ・❱━━━*

*·•●✿ ٹشو پیپر سے استنجاء کرنے کے بعد پسینہ آجائے اور کپڑے کو لگے تو؟*

*☆ اگر کوئی شخص پیشاب پاخانہ کے بعد استنجاء صرف ٹشوپیپر یا پتھر یا ڈھیلے سے اچھی طرح صاف کرے اور بعد میں اسے پسینہ آجائے ، اور یہ پسینہ بہہ کر کپڑے یا بدن پر لگ جائے ، تو کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہوگا ، متاخرین فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی کا اس پر اتفاق ہے۔ مزید تسلی کیلئے یہ عبارت ملاحظہ ہوں*

*▪ما فی "رد المحتار ":*
*وأجمع المتأخرون علی انه لا ینجس بالعرق ، حتی لو سال منه وأصاب الثوب أو البدن أکثر من قدر الدرھم لا یمنع۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار باب الانجاس 1/474*
*▪الفتاوی الھندیہ الباب السابع 1/48*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 448666*
*▪المسائل المھمہ 8/82*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (71) ・❱━━━*

*·•●✿ فوارہ(Shower ) کے نیچے کھڑے ہوکر غسل کرنا*

*☆ آج کل عام طور پر ہوٹلوں ، مہمان خانوں اور گھروں کے غسل خانوں میں فوارہ دیوار کے ساتھ لگایا جاتا ہے ، جس میں عام طور پر لوگ کھڑے ہوکر غسل کرتے ہیں،  جس کے بارے میں بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ کھڑے ہوکر غسل کرنا تنگی رزق ، بیماری اور فاقے کا سبب ہوتا ہے ، شرعا یہ باتیں بے اصل ہیں ، قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا اور کھڑے ہوکر غسل کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ، البتہ بیٹھ کر غسل کرنا افضل اور بہتر ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب الطہارة 1/291*
*▪الموسوعة الفقھیة ، غسل ، سنن الغسل 31/216*
*▪مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی 31*
*▪المسائل المھمہ 8/83*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 32996* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (72) ・❱━━━*

*·•●✿ غسل کرتے وقت ستر چھپانا*

*☆  اگر کوئی شخص لوگوں کے سامنے غسل کررہا ہوں تو اس وقت کچھ پہن کر غسل کرنا جس سے ستر چھپ جائے ، ضروری ہے،  اور اگر کسی چیز کی آڑ یا غسل خانے میں غسل کررہا ہو ، جہاں کسی کی نظر نہ پڑے، اس وقت بغیر کچھ پہنے غسل کرنا جائز ہے ، البتہ اس وقت بھی کچھ پہن کر غسل کرنا بہتر ہے۔*

*▪مشکوة المصابیح باب الغسل رقم الحدیث 447*
*▪مرقاة المفاتیح 2/138*
*▪مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوی فصل آداب الاغتسال 106*
*▪المسائل المھمہ 8/84*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 1737* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (73) ・❱━━━*

*·•●✿  وضو اور غسل کیلئے پانی کی شرعی مقدار*

*☆ پانی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے ، جہاں پانی ہے وہاں رونقِ زندگی ہے اور جہاں پانی نہیں ہے یا کم ہے ، وہاں زندگی کی رونقیں سرے سے ہیں ہی نہیں،  یا پھر کم ہیں۔ لہذا اس نعمت کی قدردانی ہر حال میں ہم پر لازم ہے۔ شریعت مطہرہ نے طاعات خداوندی میں بھی پانی کے معتدل استعمال کو پسند رکھا ہے اسلئے حضرات فقہاء کرام رحمھم اللہ نے لکھا ہے کہ وضو اور غسل میں پانی کا استعمال اس قدر ہو کہ نہ تو اتنی کمی کی جائے کہ اعضاء وضو سے پانی کا تقاطر ہی نہ ہو ، اور نہ ہی اتنی زیادتی کی جائے کہ اسراف لازم آئے بلکہ راہ اعتدال کو اپنانا چاہیے جوکہ شرعا محمود و مطلوب ہے ، پھر وضو اور غسل کیلئے پانی کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے کہ جسے معیار بنایا جائے اور اس سے کمی یا بیشی جائز ہی نہ ہو ، البتہ مذکورہ اصول کو مد نظر رکھا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایات میں یہ منقول ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عموما ایک مد پانی سے وضو اور ایک صاع یا کچھ زیادہ سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ ایک مد موجودہ اوزان میں 796.068 گرام اور ایک صاع تقریبا 3.184 کلوگرام کے برابر ہے۔ عام طور پر ایک مد ایک لوٹا پانی کے برابر ہوتا ہے اور ایک صاع ایک درمیانی بالٹی کے پانی کے برابر ، لہذا اس پر عمل کرنا چاہیے تاہم یہ کوئی خاص مقررہ مقدار نہیں ہے کہ جس میں کمی بیشی کی بالکل اجازت نہ ہو۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/158*
*▪الفتاوی الھندیہ ، الباب الثانی فی الغسل،  الفصل الثالث 1/16*
*▪بدائع الصنائع 1/270*
*▪المبسوط للسرخسی 1/149*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم* 54621
*▪المسائل المھمہ 8/85*
*▪نجم الفتاوی 2/44*
*▪فتاوی حقانیہ 2/604* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (74) ・❱━━━*

*·•●✿ گوشت کے ریشے دانتوں میں باقی رہ جائیں تو وضو اور غسل کا حکم*

*☆  بعض لوگوں کے دانتوں کے درمیان جگہ ہونے کی وجہ سے ، بعض مرتبہ گوشت کے ریشے یا کھانے کے ٹکڑے اس میں جاکر پھنسے رہ جاتے ہیں ، تو اگر یہ خلال وغیرہ کے ذریعے آسانی سے نکل سکیں ، تو انہیں نکال دینا چاہیے،  اور اگر کوشش کے بعد بھی نہ نکلیں تو ان کے باقی رہتے ہوئے بھی وضو اور غسل ہوجائے گا ، کیوں کہ یہ ریشے اور ٹکڑے اتنے سخت نہیں ہوتے جو پانی کے پہنچنے سے مانع ہوں ، ہاں ! اگر کسی وجہ سے پانی نہ پہنچنے کا یقین ہوجائے تو غسل کے وقت ان کو نکالنا ضروری ہوگا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار کتاب الطھارة ، مطلب ابحاث الغسل 1/289*
*▪الفتاوی الھندیہ الباب الثانی فی الغسل،  الفصل الاول 1/13*
*▪الفتاوی التاتارخانية 1/84*
*▪حاشیةالطحطاوی علی مراقی الفلاح 102*
*▪المسائل المھمہ 8/86*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند رقم 45977* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (75) ・❱━━━*

*·•●✿ مریض کیلئے اجرت دیکر وضو کرانا لازم ہے ، تیمم جائز نہیں*

*☆ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ایک مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص بیمار یا معذور ہو اور خود وضو نہ کرسکتا ہو اور کوئی بیٹا یا بیٹی یا بیوی وغیرہ بھی موجود نہ ہوں یا ہوں لیکن وضو نہ کراتے ہوں تو ایسی صورت میں اگر اس شخص کے پاس مال ہے جس سے وہ کسی خادم یا نوکر کو وضو کیلئے رکھ سکتا ہے اور نوکر بھی ایسی مناسب قیمت لیتا ہے جس کی ادائیگی پر یہ مریض قادر ہے تو اس کیلئے اجرت دیکر وضو کرانا لازم ہے ، تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار باب التیمم 1/352*
*▪البحرالرائق 1/445*
*▪الفتاوی الولوالجیة 1/66*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/28*
*▪المسائل المھمہ 8/87*
*▪فتاوی حقانیہ 2/552* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (76) ・❱━━━*

*·•●✿  کرنسی نوٹ پر نجاست لگ جائے تو پاک کرنے کا طریقہ*

*☆  کاغذی نوٹ کو پاک کرنے کے لیے اس پر پانی یا کوئی مائع چیز (پیٹرول) وغیرہ بہایا جائے، ایک مرتبہ بہانے کے بعد جب قطرے ٹپکنا بند ہوجائیں تو دوبارہ بہادیا جائے، یوں تین مرتبہ کرنے سے وہ پاک ہوجائے گا۔ کرنسی نوٹ پانی سے خراب نہیں ہوتا، اگر اس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو اس مقصد کے لیے پیٹرول یا کوئی کیمیکل  بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، کسی بھی پاک مائع سے نجاست زائل ہوگئی تو نوٹ پاک ہوجائے گا، پانی سے دھونا ضروری نہیں ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/309*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی  144204200207* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (77) ・❱━━━*

*·•●✿  غسل کا مسنون طریقہ*

 *غسل کرتے وقت سب سے پہلے دل میں نیت کرے کہ میں اللہ تعالی کی رضا کے لیے غسل کرتا ہوں، یا یوں نیت کرے کہ میں پاک ہوکر عبادت کرنے کے لیے غسل کرتا ہوں، پھر دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین بار دھوئے، پھر چھوٹا بڑا استنجا کرے یعنی چھوٹی بڑی دونوں شرم گاہ کو دھوئے اگرچہ ان پر کوئی نجاست نہیں لگی ہو، اور اگر نجاست لگی ہو تو اس نجاست کو بھی دھوئے، پھر اگر جسم پر کہیں اور کوئی نجاست جیسے منی وغیرہ لگی ہو تو اس کو پاک کردے، پھر مکمل وضو کرے، وضو اسی طریقے پر کرے جس طرح نماز کے لیے کیا جاتا ہے اور اس میں وضو کے فرائض، سنتوں اور آداب کی رعایت کرے، پھر پورے جسم پر تین بار اچھی طرح پانی بہائے کہ جسم کی کوئی جگہ خشک نہ رہے، جسم پر پانی بہاتے ہوئے ہاتھ سے جسم کو ملتا بھی رہے۔ جسم پر پانی ڈالنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ پہلے تین بار سر پر پانی ڈالے، پھر تین بار دائیں کندھے پر، پھر تین بار بائیں کندھے پر، اس طرح تین بار پانی بہائے کہ جسم کا کوئی حصہ خشک نہ رہے۔*  

*غسل کے فرائض:*
*☆ (1) :ایک باراچھی طرح کلی کرنا۔*

*☆  (2):ایک بار اچھی طرح ناک میں پانی ڈالنا کہ نرم حصے تک پانی پہنچ جائے۔*

*☆ (3) :ایک بار پورے جسم پر اچھی طرح پانی بہانا کہ ذرہ برابر بھی کوئی جگہ خشک نہ رہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/152 ایچ ایم سعید*
*▪دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاون* 
*144204200022*
*▪خیر الفتاوی 2/84*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/103*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/128*


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (78) ・❱━━━*

*·•●✿ جنابت کی حالت میں ہو اور عورت کو حیض آجائے تو آخر میں ایک غسل کافی ہے۔*

*☆ جنابت کی حالت میں کسی عورت کو ماہواری آجائے تو اس پر غسلِ جنابت فرض نہیں رہتا؛ اس لیے کہ غسلِ جنابت تو پاکی کے لیے ہوا کرتا ہے اور جب تک وہ عورت ایامِ حیض میں ہے تو پاکی کا تصور ہی نہیں ہوسکتا، لہذا  ایامِ حیض میں عورت  غسلِ طہارت نہیں کرے گی، ایام ختم ہونے پر غسل کرنا پڑے گا، اس لیے ایسی صورت میں ایامِ حیض میں غسلِ جنابت واجب نہیں، البتہ اگر کوئی عورت ماہواری کے ایام میں ویسے ہی غسل کرنا چاہے تو شرعی اعتبار سے اس میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن یہ غسل غسلِ طہارت نہیں کہلائے گا اور حیض سے پاک ہونے کے بعد ایک غسل کرنا کافی ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار ابحاث الغسل 1/153*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/15 ماجدیہ*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/135*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون* 
*فتوی نمبر 144109201555* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (79) ・❱━━━*

*·•●✿ حالت جنابت ، حالت حیض ونفاس میں زیر ناف بال کاٹنا*

*☆ فقہاء کرام رحمھم تعالی نے ایک قاعدہ ذکر کیا ہے کہ جس حالت میں انسان کو غسل کی ضرورت ہو یعنی اس پر شرعا غسل لازم ہو مثلا کوئی مرد یا عورت حالت جنابت میں ہے یا کوئی عورت حیض یا نفاس کے ایام میں ہے تو ایسی حالت میں جسم سے کوئی حصہ جدا کرنا مکروہ تنزیہی ہے مثلا ناخن کاٹنا ، زیرناف بالوں کی صفائی کرنا ، کسی کو خون دینا ، سر کے بال کاٹنا وغیرہ ، اسلئے بہتر یہ ہے کہ پاکی کی حالت میں یہ امور سرانجام دیئے جائیں البتہ اگر زیرناف بالوں کی صفائی کو چالیس دن ہوگئے ہیں تو اس صورت میں کاٹنا ضروری ہے،  اسی طرح کسی بیمار کو خون کی اشد ضرورت ہے اور غسل کا وقت نہ ملے تو خون دینا بھی جائز ہے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 5/358 مکتبہ رشیدیہ*
*▪امداد الفتاوی 1/28*
*▪احسن الفتاوی 2/38*
*▪فتاوی حقانیہ 2/535*
*▪فتاوی محمودیہ 17/320*
*▪فتاوی رحیمیہ 3/188*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 2/57*
*▪فتاوی دارالعلوم زکریا 1/556* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (80) ・❱━━━*

*·•●✿ مسواک رکھنے کا صحیح طریقہ*

*☆ مسواک رکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک کو کھڑا کر کے رکھا جائے، لٹا کر نہ رکھا جائے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے قہستانی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کان کے پاس اس طرح مسواک رکھتے تھے جس طرح لکھاری (کاتب) کان کے پاس قلم رکھتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مسواک ان کے کانوں کے پیچھے رکھی ہوتی تھیں اور بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین مسواک کو اپنے عمامہ کے پیچ میں رکھتے تھے، علامہ شامی رحمہ اللہ نے حکیم ترمذی رحمہ اللہ کے حوالہ سے مشہور تابعی سعید بن المسیب رحمہ اللہ کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جس شخص نے اپنی مسواک کو زمین پر رکھا  جس کی وجہ سے اسے جنون کا مرض لاحق ہوگیا تو اسے چاہیے کہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/115*
*▪فتاوی ریاض العلوم 2/119*
*▪فتاوی جامعہ بنوری ٹاون* 
*فتوی نمبر 144201200014* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (81) ・❱━━━*

*·•●✿ مسواک کے مستحبات و آداب اور طریقہ*

*☆ مسواک کرنا سنت ہے، اور اس کے بہت سے فضائل احادیث میں وارد ہیں،  مسواک میں مستحب یہ ہے کہ اس کی لمبائی ایک بالشت اور موٹائی ہاتھ کی چھوٹی انگلی کی موٹائی کے برابر ہو، استعمال کے بعد چھوٹا ہوجائے تو قابل استعمال نہ ہونے کے بعد چھوڑ دے، اور مسواک کو دائیں ہاتھ میں پکڑنا مستحب ہے اور پکڑنے کا طریقہ یہ ہے کہ مسواک کو ہاتھ کی انگلیوں اور انگوٹھے کے پوروں سے اس طرح پکڑا جائے کہ چھوٹی انگلی (چھنگلی) اور انگوٹھا نیچے کی جانب رہے اور بقیہ انگلیاں اُوپر کی طرف ہوں، اور انگوٹھے کو مسواک کے برش والے حصے کی جانب رکھے اور چھنگلی کی پشت کو دوسری جانب کے آخر میں اور دوسری انگلیاں ان کے درمیان میں اُوپر کی جانب رہیں۔ مسواک کرنے کی کیفیت یہ ہے کہ دانتوں اور تالو پر مسواک کی جائے اور داہنی طرف کے دانتوں سے ابتدا ہو، اس کی صورت یہ ہے کہ پہلے مسواک اوپر کے جبڑے میں داہنی طرف کی جائے، پھر اوپر کی بائیں جانب، اس کے بعد نیچے کے جبڑے میں داہنی طرف اور پھر بائیں طرف کرنا چاہیے۔(کبیری). مسواک چوڑائی میں یعنی دائیں سے بائیں طرف کرنی چاہیے، طول (لمبائی/ اوپر نیچے)  میں مسواک کرنا بہتر نہیں، اس لیے کہ اس سے مسوڑھوں کے زخمی ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں دونوں طرح کرسکتے ہیں، ان دونوں میں تطبیق یوں دی گئی ہے کہ دانتوں میں چوڑائی میں کی جائے اور زبان پر لمبائی میں کی جائے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/114 طبع : سعید*
*▪البحرالرائق 1/20*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی فتوی نمبر 144106200243*
*▪کتاب الفتاوی 2/38 *

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (82) ・❱━━━*

*·•●✿  ہم بستری کے بعد غسل میں تاخیر کرنا اور ناپاکی کی حالت میں کھانے پینے اور بچے کو دودھ پلانے کا حکم*

*☆  ہم بستری کے بعد افضل یہی ہے کہ آدمی جلدی غسل کر کے پاک صاف ہوجائے، لیکن اگر نماز کے وقت تک غسل کو مؤخر کر دے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ فجر تک غسل مؤخر کرنے کی صورت میں اگرہم بستری کے بعد سونا ہو تو بہتر یہ ہے کہ آدمی  استنجا اور وضو کرلے پھر سو جائے، اور پھر بیدار ہوکر غسل کرلے۔ چنانچہ مشکوۃ شریف کی روایت میں ہے:*
*☆ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے رات کو جنابت  لاحق ہوتی ہے (یعنی احتلام یا جماع سے غسل واجب ہوتا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اسی وقت) وضو کر کے عضو کو دھو کر سو جایا کرو۔ مظاہرحق میں ہے:*
*☆ یہ وضو کرنا جنبی کے سونے کے لیے طہارت ہے، یعنی جنبی وضو کر کے سویا تو گویا وہ پاک سویا، لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسے رات کو احتلام ہو جائے یا جماع سے فراغت ہو اور اس کے بعد سونے کا ارادہ یا بوجہ کسی ضرورت بے وقت غسلِ جنابت میں تاخیر کا خیال ہو تو ایسی شکل میں جنبی کا وضو کر لینا سنت ہے۔*

*☆ حالت جنابت میں کھانا پینا یا کھانا پکانا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے کھائے پیے، اور اگر وضو کے بغیر صرف ہاتھ منہ دھوکر کھا پی لے تب بھی جائز ہے۔*
*بچہ کو دودھ پلانے کے لیے ماں کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے؛ لہٰذا بچہ رورہا ہو تو عورت ناپاکی  کی حالت میں دودھ پلاسکتی ہے،لیکن کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جلد از جلد غسل کر لیا جائے، حالتِ جنابت میں زیادہ دیر تک نہ رہنا چاہیے۔*

*▪البحرالرائق 1/49*
*▪المبسوط للسرخسی 1/131*
*▪فتاوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی فتوی نمبر 144201201203* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (83) ・❱━━━*

*·•●✿ چٹائی ، صف اور قالین وغیرہ کو پاک کرنے کا طریقہ*

*☆واضح رہے نجاست سے کسی چیز کو پاک کرنے میں اصل نجاست کا ازالہ (زائل کرنا) ہے، اور مختلف اشیاء میں نجاست کے ازالے کے مختلف طریقے فقہاءِ کرام رحمھم اللہ تعالی نے  لکھے ہیں ، نیز جس طرح نجاست کی پاکی پانی سے ہوتی ہے اسی طرح دیگر مائع اشیاء سے بھی اگر نجاست زائل ہوجائے  تو اس چیز کی پاکی کا حکم لگایا جاتاہے۔ فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ایک ضابطہ ذکر کیا ہے کہ جو چیزیں نچوڑنے کے قابل نہیں ہیں یا نچوڑنے سےخراب ہوجاتی ہیں، جیسےصف، چٹائی، قالین وغیرہ تو انہیں پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے  ناپاک حصہ پر تین مرتبہ خوب پانی بہایا جائے،  اور ہر مرتبہ دھوکر اتنی دیر چھوڑ دیا جائے کہ پانی کے قطرے گرنا بند ہوجائیں، نیز پانی بہانےکےبعد پوری طرح سکھانا ضروری نہیں ہے، تین مرتبہ ایسا کرنےسے پاک ہوجائےگا۔*

لما فی الفتاوی الھندية 
وما لا ينعصر يطهر بالغسل ثلاث مرات والتجفيف في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وحد التجفيف أن يخليه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس. هكذا في التبيين.

*▪الفتاوی الھندیہ 1/42 مکتبہ رشیدیہ*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/145 مکتبہ زکریا*
*▪احسن الفتاوی 2/92*
*▪فتاوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144201200361*
*▪کتاب الفتاوی 2/80* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (84) ・❱━━━*

*·•●✿ کنویں کے ناپاک پانی سے فائدہ اٹھانا*

*☆ اگر کنویں میں نجاست گرجائے اور کنویں کا پانی ناپاک ہوجائے تو اس ناپاک پانی سے فائدہ اٹھانا جائز ہے یا نہیں؟  اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ لکھا ہے کہ اگر پانی میں کوئی ناپاک چیز مل جانے کی وجہ سے پانی کا وصف (رنگ، بو یا ذائقہ) تبدیل نہ ہوا ہو تو وہ پانی جانور کو پلانا اور مٹی کو گیلا کرنے کیلئے استعمال میں لانا جائز ہے، لیکن اگر ناپاک چیز کا اثر پانی میں ظاہر ہونے کی وجہ سے پانی کا وصف (رنگ، بو یا ذائقہ) تبدیل ہوچکا ہو تو وہ پانی جانور کو پلانا یا مٹی کو گیلا کرنے کیلئے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر جانور ناپاک پانی خود سے پی لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ فتاوی شامیہ میں ہے*
*الماء إذا وقعت فيه نجاسة فإن تغير وصفه لم يجز الانتفاع به بحال كبل الطين وسقي الدواب بحر عن الخلاصة.*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/201*
*▪المحیط البرھانی 5/362*
*▪فتاوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144108200759*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (85) ・❱━━━*

*·•●✿ عورتوں کیلئے مسواک کا حکم*

*☆ مسواک جیسے مردوں کیلئے مسنون ہے اسی طرح عورتوں کےلیے بھی مسنون ہے،حدیث شریف میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے صراحت کے ساتھ مسواک کرنا ثابت ہے۔*
سنن أبي داود  میں ہے:
عن عائشة أنَّها قالت: كان نبيُّ الله صلى الله عليه وسلم يَستاكُ فيُعطيني السِّواكَ لأغسِلَه، فأبدأُ به فأستاكُ، ثمَّ أغسِلُه وأدفَعُه إليه.

*☆ ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ  نبی علیہ الصلاۃ والسلام مسواک کا ارادہ فرماتے تو مجھے مسواک دھونے کے لیے دیتے تھے، چناں چہ میں پہلے مسواک کرتی، پھر اسے دھو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتی۔ لہذا جو عورت مسواک پر قادر ہو وہ مسواک کیا کرے اور جو قادر نہ ہو تو اس کے بارے میں فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ لکھا ہے کہ چونکہ عورت کے دانت کمزور ہوتے ہیں اسلئے اگر وہ مسواک کی نیت سے صنوبر یا بطم کا گوند وغیرہ چبالے تو اسے مسواک کا ثواب ملے گا ، اور مراقی الفلاح ص 38 پر مذکور ہے کہ عورتوں کو گوند چبانے کا حکم مردوں کی طرح وضو کے وقت نہیں بلکہ جس وقت چاہیں چبالیں البتہ نیت مسواک کے کیا کریں۔*

*▪البحرالرائق 1/21*
*▪امداد الفتاوی 1/63*
*▪فتاوی فریدیہ 2/42*
*▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون* 
*144112201279* 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (86) ・❱━━━*

*·•●✿ موبائل میں قرآن کریم ہو تو بیت الخلاء(Toilet ) لے جانے کا حکم*

*☆  اگر کسی شخص کے پاس اسمارٹ فون ہو جس میں قرآنِ مجید بھی ہو اور اسے رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء جانے کی ضرورت پیش آجائے تو  کیا وہ شخص اسمارٹ فون اپنے ساتھ  بیت الخلاء لے جا سکتا ہے یا نہیں؟  اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ لکھا ہے کہ اگر موبائل کی اسکرین پر قرآن کریم کی آیات نظر آرہی ہوں، تو اس کو جیب میں لے کر بیت الخلاء میں داخل ہونا جائز نہیں ہے اور اگر موبائل کی اسکرین پر قرآن کریم کی آیات نہ ہوں، بلکہ موبائل کے اندر ہوں، تو ایسے موبائل کو جیب میں رکھ کر بیت الخلاء میں جانے کی گنجائش ہے ؛ تاہم ایسے قرآن کو مطلق بیت الخلاء میں نہ لے جانے میں احتیاط ہے اور قرآن کے ادب کا مقتضی بھی یہی ہے۔ لہذا اگر باہر محفوظ جگہ ہے تو وہاں موبائل کو رکھا جائے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/50 مطبوعہ مصر*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند  جواب نمبر 148277*
*▪فتاوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144111201681* 


💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (87) ・❱━━━*

*·•●✿ چھت سے ٹپکنے والے پانی کا حکم*

*☆ اگر چھت پر جابجا نجاست پڑی ہوئی ہو اور اس دوران بارش ہونے لگے اور چھت سے پانی نیچے ٹپکنے لگے ، تو اس میں دو صورتیں فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے بیان کی ہے*
*☆(1) اگر بارش مسلسل موسلادھار ہورہی ہے اور پانی ٹپکنے لگے تو یہ ماء جاری کے حکم میں ہوگا اور پاک ہوگا ، جب تک بارش ہوتی رہے گی اس ٹپکنے والے پانی کو ناپاک نہیں کہا جائے گا۔*
*☆ (2) بارش روک جانے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ اگر پوری چھت یا اکثر حصہ پر ناپاکی موجود ہے تو ٹپکنے والا پانی ناپاک ہوگا اور اگر بعض حصہ پر ناپاکی موجود ہے تو ٹپکنے والا پانی ناپاک نہیں کہا جائے گا۔*

*▪المحیط البرھانی 1/240*
*ادارة القرآن والعلوم کراچی*
*▪کتاب المسائل 1/104* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (88) ・❱━━━*

*·•●✿  کنویں یا ٹنکی کی صفائی کیلئے پاک آدمی کا اترنا اور پانی کا حکم*

*☆ اگر کوئی باوضو شخص پانی لینے یا صفائی کرنے یا کسی مشین وغیرہ کو ٹھیک کرنے یا کسی اور غرض سے کنویں یا ٹنکی یا چھوٹے حوض وغیرہ میں اترے اور اس کے جسم پر کوئی ظاہری نجاست بھی نہ لگی ہو تو اس کے باہر آنے سے کنویں یا ٹنکی یا حوض کا پانی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔*

*▪المحیط البرھانی 1/253 ادارة القرآن والعلوم کراچی* 
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/369 مکتبہ زکریا* 
*▪کتاب المسائل 1/104*


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (89) ・❱━━━*

*·•●✿ دودھ دوہتے ہوئے مینگنی یا گوبر گرجانے پر دودھ کا حکم*

*☆ بکری ، گائے یا بھینس سے دودھ لیتے وقت اگر دودھ میں مینگنی یا گوبر گرجائے تو اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے لکھا ہے کہ اگر یہ نجاست دودھ میں حل نہیں ہوئی بل کہ گرتے ہی نکال لی جائے تو اس سے دودھ کی طہارت پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ دودھ بدستور پاک ہے ، اور اگر دودھ میں حل ہوجائے تو دودھ ناپاک ہوکر قابل استفادہ نہیں رہے گا ، اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ یہ حکم فقط دودھ  لینے کے وقت کے ساتھ خاص ہے اگر دودھ دوہنے کے علاوہ دوسرے وقت میں گوبر یا مینگنی دودھ میں گرجائے تو دودھ علی الفور ناپاک ہوجائے گا اور یہی حکم پانی کا بھی ہے جب پانی قلیل ہو اور اس سے بچنا مشکل بھی نہ ہو۔*

*▪المحیط البرھانی 1/261 ادارة القرآن والعلوم کراچی*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/379 زکریا*
*▪کتاب المسائل 1/105*
*▪احسن الفتاوی 2/44 اور 2/92*
*▪فتاوی حقانیہ 2/577* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (90) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک خشک زمین پر تر پیر رکھنا اور ناپاک تر زمین پر خشک پیر رکھنا*

*☆ مسئلے کا عنوان دیکھ کر آپ کا دماغ چکرا گیا ہوگا لیکن خفا نہ ہونا ، ان شاء اللہ مسئلہ آسان ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اگر خشک ناپاک زمین یا قالین یا دری وغیرہ پر کوئی شخص بھیگا پیر رکھ لے اور رک کر کھڑا نہ ہوجائے بلکہ چلتا رہے تو اس کے پیر ناپاک نہیں ہوئے ، اور اگر رک کر کھڑا ہوگیا جس کی وجہ سے نجاست کا اثر اس کے پیر میں ظاہر ہوگیا تو پیر ناپاک ہوجائیں گے۔*
*☆ دوسرا مسئلہ اس کا برعکس یہ ہے کہ اگر پیر خشک تھے لیکن زمین یا فرش ناپاک اور تر تھا اور اس نے اس پر پیر رکھ دیا اور تری کا اثر پیر پر ظاہر ہوگیا تو پیر ناپاک ہوجائے گا اور اگر معمولی نمی آئی تو نجاست کا حکم نہ ہوگا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/560 زکریا*
*▪المحیط البرھانی 1/386 ادارة القرآن والعلوم کراچی*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/47*
*▪کتاب المسائل 1/106* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (91) ・❱━━━*

*·•●✿ مٹی کا تیل (Kerosene Oil ) اور پیٹرول(petrol ) پاک ہیں۔*

*☆اگر کسی شخص کے بدن یا کپڑے کو مٹی کا تیل یا پیٹرول لگ جائے تو جب تک ان میں کوئی نجاست ملی ہوئی نہ ہو ، ان کے لگنے سے بدن یا کپڑے ناپاک نہیں ہوتے کیوں کہ مٹی کا تیل اور پیٹرول فی نفسہ پاک ہیں۔ ہاں اگر ان میں کوئی نجاست مل جائے تو ناپاک ہوجاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مٹی کے تیل اور پیٹرول سے ظاہری نجاست کو دھویا جاسکتا ہے مثلا کپڑے یا موبائل وغیرہ پر ظاہری نجاست لگ جائے تو مٹی کے تیل یا پیٹرول سے اس کو زائل کرنا جائز ہے اور وہ جگہ پاک ہوجائے گی۔ البتہ مٹی کے تیل یا پیٹرول سے وضو کرنا درست نہیں ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/442 بیروت*
*▪فتاوی محمودیہ 7/21*
*▪جدید فقہی مسائل 1/59*
*▪فتاوی دارالعلوم زکریا 1/546* 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (92) ・❱━━━*

*·•●✿  ناپاک ایندھن سے گرم کئے ہوئے پانی سے وضو اور غسل*

*☆ بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ناپاک لکڑی یا اپلوں(سکھایا ہوا گوبر) سے جو پانی گرم کیا جائے ، وہ پانی وضو اور غسل کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے بلکہ وہ اس پانی کو ناپاک خیال کرتے ہیں ، تو یاد رکھیں لوگوں کا یہ خیال غلط ہے بلکہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ ناپاک لکڑی یا اپلوں سے گرم کیا ہوا پانی پاک ہے اور اس سے وضو یا غسل کرنا بالکل جائز ہے ، اسی طرح علماء کرام نے یہ مسئلہ بھی لکھا ہے کہ اپلوں کی راکھ بھی پاک ہے ، اگر روٹی پکانے کے وقت روٹی کو لگ جائے تو ضرورتا اس روٹی کا کھانا درست ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/326 زکریا*
*▪کتاب المسائل 1/108*
*▪امداد الفتاوی 4/147* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (93) ・❱━━━*

*·•●✿ چوہے کی مینگنی سالن ، روٹی یا گیہوں میں ملی تو*

*☆ اگر چوہے کی مینگنی پکے ہوئے چاول ، سالن یا روٹی میں ملی تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ مینگنی ٹھوس ہے یا گھل گئی ہے ، اگر ٹھوس ہے تو اسے نکال کر پھینک دیا جائے اور کھانا کھالیا جائے ، اور اگر گھل گئی ہے تو جب تک اس کا رنگ یا ذائقہ کھانے میں ظاہر نہ ہو تو اس کھانے کو ناپاک نہیں کہا جائے گا ، البتہ اگر اس کے اثرات ظاہر ہوجائیں مثلا رنگ تبدیل ہوا ہو یا بو آنے لگے تو کھانا ناپاک قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح اگر گیہوں کے ساتھ چوہے کی دو چار مینگنی پس گئیں تو آٹا ناپاک نہیں ہوگا ، لیکن اگر زیادہ ہو کہ اس کا رنگ یا ذائقہ ظاہر ہوگیا تو آٹا ناپاک ہوجائے گا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار مسائل شتی 6/732* 
*▪حلبی کبیر 150*
*▪کتاب المسائل 1/109*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/244* 

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (94) ・❱━━━*

*·•●✿ دودھ پیتے بچے کا پیشاب ناپاک ہے*

*☆ دودھ پیتے بچے کا پیشاب اسی طرح ناپاک ہے جیسا کہ بڑے آدمی کا پیشاب ناپاک ہوتا ہے ، البتہ حدیث میں دودھ پیتے بچہ کے پیشاب کے پاک کرنے کے طریقہ میں قدرے تخفیف کی گئی ہے ، وہ یہ ہے کہ بڑے آدمی کے پیشاب کو پاک کرنے کیلئے رگڑنے اور اچھی طرح نچوڑنے کی ضرورت ہوتی ہے ، جب کہ بچہ کے پیشاب کو پاک کرنے کے لئے اوپر سے اتنا پانی بہادینا کافی ہے جس سے وہ تین مرتبہ بھیگ سکے ، زیادہ مبالغہ کی ضرورت نہیں۔*

*▪الصحیح المسلم 1/139*
*▪فتح الملہم 1/450*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/523 زکریا* 
*▪کتاب المسائل 1/111*
*▪آپ کے مسائل اور ان کا حل 3/169*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/235*
*▪فتاوی حقانیہ 2/583*
*▪جامع الفتاوی 5/162* 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (95) ・❱━━━*

*·•●✿ پالتو بلی اور جنگلی بلی کا جھوٹا*

  *فقہاء احناف کثراللہ سوادھم میں سے امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک بلی کا جھوٹا بلاکراہت پاک ہے ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالی کی رائے میں کسی قدر تفصیل ہے، اور وہ یہ کہ*
*☆ اگر پالتو بلی نے کوئی ناپاک چیز کھائی جیسے چوہا کھایا اور پھر فورا پانی پیا ، تو پانی اور برتن ناپاک ہوجائے گا، اگر کسی قدر ٹھہر کر پیا یعنی منہ چاٹ لیا تو ناپاک نہیں ہوگا بلکہ مکروہ تنزیہی ہوگا۔*
*☆اگر بلی کے جھوٹے پانی کے علاوہ دیگر پانی موجود ہے تو جھوٹے پانی سے وضو نہ کیا جائے لیکن اگر کسی نے کیا تو وضو ہوجائے گا کراہت تنزیہی کے ساتھ ، اور اگر پاک پانی موجود نہیں ہے تو جھوٹے پانی سے وضو کرنا اور پینا مکروہ نہیں۔ بلکہ اس صورت میں وضو کیا جائے گا ، تیمم جائز نہیں۔*
*☆ پالتو بلی کسی انسان کے ہاتھ یا پاوں کو چاٹ لے ، تو دھوئے بغیر نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔*
*☆ کھانے کی چیز میں سے کھالے تو محتاج و ضرورت مند کے لئے اس کے کھانے میں کوئی قباحت نہیں،  لیکن غیرمحتاج کیلئے اس کا جھوٹا کھانا پینا مکروہ ہے۔*
*☆ جنگلی بلی جو عام طور پر آبادی میں نہیں رہتی اس کا جھوٹا مطلقا ناپاک ہے ، لہذا اگر وہ قلیل پانی یا کھانے کی چیز میں منہ ڈال دے تو ناپاک ہوجائے گا۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/383 زکریا*
*▪المحیط البرھانی 1/286*
*▪حلبی کبیر 168*
*▪الفتاوی التاتارخانية 1/352 زکریا* 
*▪الطحطاوی علی مراقی الفلاح 8*
*▪کتاب المسائل 1/112*
*▪قاموس الفقہ 5/340* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (96) ・❱━━━*

*·•●✿  مرغی کا پانی کے برتن میں منہ ڈالنا*

*☆ مرغی کے جھوٹے کے بارے میں درج ذیل تفصیل ہے:*
*☆ اگر اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ اس کی چونچ میں کسی نجاست کا کوئی اثر نہیں ہے ، جیسا کہ عام طور پر پنجروں میں بند مرغیوں کا حال ہوتا ہے تو ایسی مرغیوں کے پانی میں چونچ ڈالنے سے پانی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔*
*☆ اگر اس بات کا یقین یا غالب گمان ہو کہ اس کی چونچ میں ناپاکی لگی ہوئی ہے،  مثلا وہ مرغی اسی وقت نجاست کھاکر آئی ہو ، تو ایسی مرغی کے پانی میں منہ ڈالنے سے وہ پانی بلاشبہ ناپاک ہوجائے گا۔*
*☆ اور اگر مرغی کھلی پھرنے والی ہو ، وہ پاک چیزیں بھی کھاتی ہو اور نجاست بھی ، اور بظاہر نجاست کا اثر چونچ پر نمایاں نہ ہو تو ایسی مرغی کا چھوٹا مکروہ تنزیہی ہے،  اگر دیگر پانی موجود ہے تو اس کا استعمال وضو و غسل اور کھانے پینے میں نہ کیا جائے ، اور اگر دیگر پانی موجود نہ ہو تو استعمال جائز ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/383 زکریا*
*▪حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح 18*
*▪احسن الفتاوی 2/43*
*▪تفھیم الفقہ 4*
*▪کتاب المسائل 1/113* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (97) ・❱━━━*

*·•●✿ جگالی کے دوران جانور کے منہ سے نکلنے والا مواد ناپاک ہے۔*

*☆ گائے بھینس وغیرہ کے جگالی کرتے وقت منہ میں جو جھاگ آتے ہیں ، راجح قول کے مطابق یہ نجس ہیں ، اور حکیم الامت اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے بہشتی زیور میں اور فقیہ العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے احسن الفتاوی میں اس پر نجاست غلیظہ کا حکم لگایا ہے ، لہذا اگر یہ قلیل پانی میں گرجائے تو پانی ناپاک ہوجائے گا ، اسی طرح اگر کپڑے یا بدن کو لگ جائے اور ہتھیلی کے گہراو سے زیادہ ہو تو دھوئے بغیر ایسے کپڑے میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ اور پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے کپڑے کو تین دفعہ دھویا جائے اور ہر دفعہ نچوڑا جائے یا پھر اتنا پانی مسلسل بہایا جائے کہ اس سے کپڑا تین دفعہ بھیگ سکے۔ الغرض اس کی پاکی کا طریقہ نجاست غلیظہ غیر مرئیہ جیسا ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/564 زکریا* 
*▪بہشتی زیور 823 بحوالہ ▪فتاوی حقانیہ 2/625*
*▪احسن الفتاوی 2/88* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (98) ・❱━━━*

*·•●✿ حرام مال سے بنے ہوئے کنویں ، نل اور ٹنکی کے پانی کا حکم*

*☆ حرام اور ناجائز مال خرچ کرکے کنواں تعمیر کیا گیا ہو یا نل لگایا گیا ہو ، اس نل اور کنویں کا پانی پاک ہے ، اس سے بوقت ضرورت پانی پینا اور اس پانی سے وضو و غسل کرنا جائز ہے۔ یعنی حرام فعل سے طہارت کا حکم متاثر نہ ہوگا ، البتہ حرام مال لگانے والے اس فعل کی وجہ سے گناہ گار ہوں گے ، یہی حکم سودی پیسہ یا فاحشہ عورت کی کمائی سے بنائی گئی ٹنکی وغیرہ کا ہے۔*

*▪امداد الفتاوی 4/145 مکتبہ دارالعلوم کراچی*
*▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/197*
*▪کتاب المسائل 1/114* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (99) ・❱━━━*

*·•●✿  ناپاک تیل سر یا بدن پر لگ گیا*

*☆ ناپاک تیل اگر سر یا بدن پر لگالیا تو قاعدہ کے مطابق تین مرتبہ دھونے سے پاک ہوجائے گا ، صابن وغیرہ لگاکر تیل کو پوری طرح چھڑانا ضروری نہیں ہے۔*

  *ناپاک رنگ میں رنگا ہوا کپڑا*

*☆ اگر کپڑے کو ناپاک رنگ میں رنگا گیا ، تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے اس قدر دھویا جائے کہ اس سے گرنے والے پانی میں رنگ کا اثر ظاہر نہ ہو ، اس کے بعد اسے تین مرتبہ پاک پانی میں بھگوکر نچوڑ دیا جائے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/537 زکریا*
*▪المحیط البرھانی 1/377*
*▪حلبی کبیر 172*
*▪مراقی الفلاح 160*
*▪بہشتی زیور 2/6*
*▪کتاب المسائل 1/121* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (100) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک مہندی ہاتھ ، پیر یا سر پر لگائی تو پاک کرنے کا طریقہ*

*☆ اگر کسی نے غلطی سے ناپاک مہندی ہاتھ ، پیر یا سر پر لگالی تو ان اعضاء کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان اعضاء پر اس قدر پانی بہایا جائے کہ پانی میں مہندی کا رنگ آنا بند ہوجائے ، اس طرح کرنے سے یہ اعضاء پاک ہوجائیں گے ، ہاتھ ، پاوں یا سر سے مہندی کے رنگ کا چھوٹنا ضروری نہیں ہے۔*

  *آنکھ میں ناپاک سرمہ یا کاجل*

*☆ اگر کسی نے آنکھ میں سرمہ یا کاجل لگالی اور لگانے کے بعد معلوم ہوا کہ سرمہ یا کاجل ناپاک تھی تو اگر یہ آنکھوں کے اندر ہی اندر رہی تو وضو یا غسل کے وقت ان کا پونچھنا یا آنکھوں کے اندرونی حصہ کو دھونا ضروری نہیں ہے،  ہاں جو آنکھ سے باہر آکر پھیل جائے تو اسے دھونا لازم ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وضو اور غسل میں آنکھ کے اندرونی حصہ کو دھونا لازم نہیں ہے،  بیرونی حصہ کو دھونا لازم ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/466 بیروت*
*▪حلبی کبیر 173*
*▪طحطاوی 63 زکریا*
*▪البحرالرائق 1/46*
*▪کتاب المسائل 1/122*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (101) ・❱━━━*

*·•●✿ پیشاب کے بعد مردوں اور عورتوں کے لئے استبراء کا حکم اور طریقہ*

*☆ مردوں کے لئے پیشاب کے بعد استبراء ضروری (واجب) ہے ، یعنی اس بات کا طبعی اطمینان ہوجانا چاہیے کہ پیشاب کے قطرات آنے بند ہوگئے ، اس اطمینان کے بارے میں لوگوں کی عادتیں مختلف ہوتی ہیں۔ کسی کو چند قدم چلنے سے، کسی کو کھانسنے سے، کسی کو زمین پر پیر مارنے سے،  کسی کو زور لگانے سے اور کسی کو دیر تک بیٹھنے سے یہ اطمینان حاصل ہوجاتا ہے۔*
*خلاصہ یہ کہ طبعی اطمینان کے بعد ہی استنجاء کیا جائے اور عورتوں کیلئے حکم یہ ہے کہ ان کے لئے استبراء واجب نہیں ہے بلکہ وہ قلیل وقفہ کے بعد استنجاء کرسکتی ہے۔*

*وہم کا مریض کیا کرے؟*
  *جس شخص کو پیشاب کے قطرات کے بارے میں وہم رہتا ہو اسے چاہیے کہ استبراء کی عام صورتیں اپنانے کے بعد عضو کو نچوڑکر استنجاء کرلے ، اس کے بعد بھی اگر وہم باقی رہے تو اس کی ہرگز پرواہ نہ کرے اور اٹھنے سے قبل سبیلین پر پانی کی چھینٹیں دے لے تاکہ وسوسہ کو ہٹانے میں مدد ملے پھر کچھ محسوس ہو تو اس کی طرف دھیان نہ دے۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/49*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/558 زکریا*
*▪کتاب المسائل 1/123*
*▪احسن الفتاوی 2/104* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (102) ・❱━━━*

*·•●✿ قضائے حاجت (پیشاب پاخانہ) اور استنجاء سے متعلق چند آداب*

  *قضائےحاجت اور استنجاء کرنے والے کو مندرجہ ذیل آداب کی پابندی کرنی چاہیے۔*
*☆ (1) اگر بیت الخلاء کے علاوہ قضائے حاجت کرنی ہو تو اتنی دور چلا جائے کہ اس کو کوئی دیکھ نہ سکے۔*
*☆ (2) قضائے حاجت کے لئے نرم اور نشیب جگہ کا انتخاب کرے تاکہ پیشاب کے چھینٹیں اس کے بدن اور کپڑوں کو نہ لگیں۔*
*☆ (3) قضائے حاجت اور استنجاء کے وقت سر ڈھانپے۔*
*☆ (4) بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے یہ دعا پڑھے:*
*اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث۔ اور صحرا ، میدان یا جنگل میں قضائے حاجت کرتے وقت ستر کھولنے سے پہلے پڑھیں۔*
*☆ (5) بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت پہلے بایاں پاوں اندر رکھیں۔*
*☆ (6) قضائے حاجت کے وقت بائیں پیر پر ذرا زور دیکر بیٹھیں اس لئے کہ یہ ہیئت قضائے حاجت میں سہولت کا سبب بنتی ہے۔*
*☆ (7) قضائے حاجت کے وقت قبلہ کی طرف چہرہ کرنا یا پیٹھ کرنا سخت منع ہے۔*
*☆ (8) قضائے حاجت کے وقت بغیر اشد ضرورت کے باتیں نہ کریں۔اسی طرح ذکر اذکار تلاوت وغیرہ بھی ممنوع ہے اور سلام اور اذان کا جواب بھی*
*☆ (9) قضائے حاجت کے بعد استنجاء سے پہلے استبراء کرلیں اور اس کا طریقہ ماقبل پوسٹ میں گزرچکا ہے۔*
*☆ (10) استنجاء میں ڈھیلے اور پانی کو جمع کرنا سنت ہے۔یعنی پہلے ڈھیلے ، پتھر یا ٹشوپیپر سے نجاست صاف کریں پھر پانی سے دھوئیں۔*
*☆ (11) بیت الخلاء سے نکلتے وقت پہلے دایاں قدم باہر نکالے۔*

*☆(12) بیت الخلاء سے نکلنے کے بعد یہ دعا پڑھیں:*
*" غفرانک " اور دیگر ثابت شدہ دعائیں پڑھیں۔*

*▪الفتاوی الھندیہ 1/50*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/559*
*▪کتاب المسائل 1/125*
*▪تفہیم الفقہ1/25*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (103) ・❱━━━*

*·•●✿ قضائے حاجت اور استنجاء سے متعلق چند مکروھات*

   *قضائے حاجت اور استنجاء کے وقت ناپسندیدہ باتوں میں سے چند یہ ہیں:*
*(1) کھڑے کھڑے پورا ستر کھول دینا۔*
*(2) بیت الخلاء میں گفتگو کرنا۔ہاں مجبوری کے وقت گنجائش ہے۔*
*(3) بیت الخلاء کے اندر تلاوت ، ذکر اذکار ، اذان کا جواب یا سلام کا جواب دینا ، البتہ اگر چھینک آئے تو دل دل میں الحمد للہ کہہ سکتا ہے۔*
*(4) اپنی شرم گاہ کو بلاضرورت دیکھنا۔*
*(5) سبیلین سے نکلنے والی نجاست کو غور سے دیکھنا۔*
*(6) نجاست کی جگہ تھوکنا یا ناک سنکنا۔*
*(7) بیت الخلاء میں بلاضرورت کھنکھارنا۔*
*(8) بیت الخلاء میں بیٹھے ہوئے بدن کے کسی حصے سے کھیلنا۔*
*(9) قضائے حاجت کے وقت آسمان کی طرف نظر کرنا۔*
*(10) جاری یا ٹھہرے ہوئے پانی میں یا کسی جانور کے بل یا سوراخ میں پیشاب پاخانہ کرنا۔*
*(11) نہر ، کنویں یا حوض کے کنارے قضاء حاجت کرنا۔*
*(12) پھل دار درخت کے نیچے گندگی پھیلانا۔*
*(13) جس سایہ کی جگہ میں لوگ بیٹھتے ہو وہاں قضائے حاجت کرنا۔*
*(14) عام راستہ ، قبرستان ، عیدگاہ اور مسجد کے قریب گندگی پھیلانا۔*
*(15) کھڑے ہوکر بلاعذر پیشاب کرنا۔ وغیرہ*

*📚حوالہ:*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/559*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/50*
*▪کتاب المسائل 1/126"*
*▪تفہیم الفقہ 1/26*

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (104) ・❱━━━*

*·•● استنجاء کا حکم*

  *عام طور پر حکم کے اعتبار سے فقہاء کرام رحمھم اللہ نے استنجاء کے پانچ درجات کئے ہیں: فرض ، واجب ، سنت ، مستحب اور بدعت*
*☆ (1) فرض ہونے کی صورت:*
*جب نجاست مخرج (پاخانے کی جگہ) سے بڑھ جائے اور بڑھ کر ایک درہم کی مقدار سے زائد ہوجائے تو پانی سے اس کا دھونا فرض ہے اس نجاست کے ہوتے ہوئے نماز نہیں ہوتی۔*
*☆ حضرات فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے ایک درہم کی مقدار کا اندازہ ہتھیلی کی گہرائی سے کیا ہے کہ ہاتھ سیدھا کرنے کی صورت میں ہتھیلی میں جس حد تک پانی ٹھہرجاتا ہے وہ ایک درھم کے برابر ہے۔*
*☆ (2) اگر نجاست مخرج سے بڑھ جائے اور ایک درہم کے بقدر ہو تو پانی سے استنجاء کرنا واجب ہے۔*
*☆ (3) اگر نجاست کا اثر صرف مخرج تک ہو تو اس صورت میں استنجاء کرنا سنت ہے۔*
*☆ (4) صرف پیشاب کے بعد استنجاء کرنا مستحب ہے۔*
*☆ (5) کسی شخص نے پیشاب ، پاخانہ وغیرہ کچھ بھی نہیں کیا ، صرف ہوا خارج ہوئی ہے تو اس صورت میں استنجاء کرنا بدعت اور گناہ ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/550*
*▪قاموس الفقہ 2/126*
*▪تفہیم الفقہ 1/28* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (105) ・❱━━━*

*·•●✿ کن اشیاء سے استنجاء ممنوع ہے؟*

   *درجہ ذیل اشیاء سے استنجاء کرنا شرعا ممنوع ہے:*
*☆ (1) ایسی چیز جو قابل احترام ہو جیسے کھانے پینے کی اشیاء ، کاغذ وغیرہ کیونکہ کاغذ علم کے حصول کا ذریعہ ہے البتہ ٹشوپیپر سے استنجاء کرنا جائز ہے کیونکہ یہ اسی غرض سے بنایا جاتا ہے۔*
*☆ (2) ایسی چیز جو قیمتی ہو جیسے کپڑا وغیرہ ، لہذا کوئی کپڑا ایسا ہو جو پہننے کے قابل نہ رہا ہو تو اس سے استنجاء کرنا جائز ہے۔*
*☆ (3) ایسی چیز جو تکلیف دہ ہو جیسے کنکر، شیشہ، پکی اینٹ اور ہڈی وغیرہ کیونکہ ان سے زخمی ہونے کا خطرہ ہے۔اور ہڈی جنات کی خوراک بھی ہے۔*
*☆ (4) ایسی چیز جو صفائی کے بجائے مزید گندگی کا سبب بنے جیسے کوئلہ ، گوبر ، لید وغیرہ*

*☆ فائدہ: ان اشیاء سے استنجاء کرنا ممنوع ہے لیکن اگر کسی نے کیا اور صفائی حاصل ہوگئی تو استنجاء ہوگیا اور اس صورت میں پڑھی گئی نماز صحیح ہے۔*

*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/548*
*▪الفتاوی الھندیہ 1/48*
*▪قاموس الفقہ 2/127*
*▪تفہیم الفقہ 1/29* 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (106) ・❱━━━*

*·•●✿ اگر پردہ کی جگہ نہ ہو تو استنجاء کا حکم*

  استنجاء کا واجب یا مسنون ہونا اس وقت ہے جب کہ استنجاء کرنے کی وجہ سے بےستری کی نوبت نہ آئے ، اگر کوئی شخص دوسرے کے سامنے ستر کھول دے تو یہ حرام اور موجب فسق ہے ، اسلئے اگر ایسی جگہ نہ ملے جس میں باپردہ صورت میں استنجاء کرے تو استنجاء ترک کردے پھر فتاوی عالمگیری میں قاضی خان کے حوالہ سے لکھا ہے کہ اس صورت میں صرف پتھر ، ڈھیلے وغیرہ سے استنجاء کرے اور پانی سے نہ کرے کیونکہ ڈھیلے کو شلوار کے اندر داخل کیا جاسکتا ہے۔ 
اسی سے متعلق یہ مسئلہ بھی قاموس الفقہ میں لکھا ہے کہ اگر قضاء حاجت کا شدید تقاضہ ہو اور کوئی جگہ پردہ کی نہ ہو تو مجبورا لوگوں کے سامنے بھی تکمیل حاجت کرسکتا ہے۔

📚حوالہ:
▪ ردالمحتار 1/312
▪فتاوی فریدیہ 2/133
▪جامع الفتاوی یونیکوڈ 3/68
▪قاموس الفقہ 2/128 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (107) ・❱━━━*

*·•●✿ استنجاء کے وقت سلام کا حکم

  فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے پیشاب کرتے وقت سلام کرنے کو مکروہ لکھا ہے ، استنجاء سکھاتے وقت اگر پیشاب کے قطرے گرتے ہوں تو مذکورہ حکم کی رو سے اس وقت بھی سلام مکروہ ہے اور اگر تقاطر بول نہ ہو تو پھر بھی بے ادبی سے خالی نہیں،  اس لیے ایسے مواقع پر سلام کرنے سے اجتناب کیا جائے اور اگر کوئی شخص سلام کرے تو استنجاء کے بعد جواب دیدے ، کیونکہ سلام کے جواب میں تاخیر جائز ہے۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/344
▪الفتاوی الھندیہ 1/50
▪البحرالرائق 1/243
▪فتاوی دارالعلوم دیوبند 1/272
▪فتاوی حقانیہ 2/590

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (108) ・❱━━━*

*·•●✿  دائیں ہاتھ سے استنجاء کا حکم*

  دائیں ہاتھ کی شرافت کی وجہ سے استنجاء یا پاکی جیسے امور میں اس کا استعمال مکروہ ہے، البتہ اگر کسی کا بایاں ہاتھ شل یا کٹا ہوا ہو تو ایسی صورت میں دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا مکروہ نہیں ہے۔

استنجاء کے لیے پانی کی مقدار

   نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے استعمال میں اعتدال اور میانہ روی کی ترغیب دی ہے ، لیکن شرعا استنجاء کے لیے پانی کی کوئی خاص مقدار متعین نہیں ہے ، یہ نجاست کی کمی اور زیادتی اور اشخاص کے اعتبار سے متفاوت ہے لہذا جب تک ازالہ نجاست کے بارے میں غالب گمان نہ ہو تو پانی کا استعمال جائز ہے۔

📚حوالہ:
▪الطحطاوی علی مراقی الفلاح 39
▪الفتاوی الھندیہ،  الفصل الثالث 1/50
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/337
▪الھدایہ 1/75
▪فتاوی حقانیہ 2/592

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (109) ・❱━━━*

*·•●✿ قضائے حاجت اور استنجاء کے وقت شمال کی طرف چہرہ یا پیٹھ کرنے کا حکم

   بعض علاقوں میں یہ بات مشہور ہے کہ شمال کی طرف چھوٹا قبلہ (بیت المقدس) ہے اور مغرب کی طرف بڑا قبلہ (خانہ کعبہ) ہے ، تو جس طرح خانہ کعبہ کی طرف پیشاب پاخانہ اور استنجاء کرتے وقت منہ اور پیٹھ کرنا ممنوع ہے ایسی طرح بیت المقدس کی طرف بھی منہ پیٹھ کرنا ممنوع ہے ، یاد رکھیں کہ یہ بات عوام میں غلط مشہور ہے اس لیے کہ احادیث مبارکہ میں خانہ کعبہ کی طرف استقبال و استدبار سے بوقت قضائے حاجت منع کیا گیا ہے اور باقی دونوں اطراف کی طرف چہرہ یا پیٹھ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذا جن علاقوں میں قبلہ یعنی خانہ کعبہ مغرب کی طرف ہے وہاں شمال کی طرف منہ کرکے قضائے حاجت اور استنجاء کرنا بالکل جائز ہے۔

📚حوالہ:
▪الجامع الترمذی 1/8
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/341
▪طحطاوی 41
▪فتاوی حقانیہ 2/594 
 
💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (110) ・❱━━━*

*·•●✿ گھاس اور درخت کے پتوں سے استنجاء کرنے کا حکم

   انسان ، حیوان اور جنات کے ماکولات (کھانے کی اشیاء) سے شریعت مطہرہ نے استنجاء کرنے سے منع فرمایا ہے،  چونکہ گھاس اور درختوں کے پتے مویشیوں کی خوراک ہے اس لیے ان کے ساتھ استنجاء کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

 استنجاء کرکے ہاتھ دھونے کے باوجود بدبو محسوس ہونے کا حکم
  پانی سے اچھی طرح استنجاء کرنے کے بعد اگر ہاتھ پر بدبو رہ جائے تو محض بدبو کی وجہ سے ہاتھ ناپاک نہیں ہے بشرطیکہ ہاتھ پر ظاہری نجاست نہ ہو البتہ بہتر یہ ہے استنجاء کے بعد دوبارہ ہاتھوں کو دھویا جائے تاکہ خوب نظافت حاصل ہوجائے جیساکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم استنجاء کے بعد بھی اپنے ہاتھوں کو مٹی سے ملتے تھے۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/341
▪الفتاوی الھندیہ 1/50
▪البحرالرائق 1/242
▪خیر الفتاوی 2/180
▪فتاوی حقانیہ 2/594-595


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
   *━━❰・ پوسٹ نمبر (111) ・❱━━━*

*·•●✿ قضائے حاجت کے وقت سورج یا چاند کی طرف منہ کرنا

   فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ پیشاب ، پاخانہ کرتے وقت سورج ، چاند یا تیز ہوا کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے ، اور یہ اس وقت مکروہ ہے جب سورج یا چاند کی ٹکیہ کی طرف منہ کرکے بیٹھیں ، اگر بعینہ سورج یا چاند کی طرف رخ نہ ہو یا یہ بادل میں چھپے ہوئے ہوں یا کسی آڑ سے چھپے ہوئے ہوں تو ان صورتوں میں مکروہ نہیں ہے۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/342
▪الطحطاوی علی مراقی الفلاح 41
▪فتاوی حقانیہ 2/596

💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (112) ・❱━━━*

*·•●✿استنجاء سے عاجز کا حکم اور بوجہ مجبوری کسی اور سے استنجاء کرانا

   اگر کوئی شخص بیماری یا بیماری کے بعد کمزوری کی وجہ سے خود استنجاء کرنے پر قادر نہ ہو یا کسی شخص کے دونوں ہاتھ شل یا کٹے ہوئے ہوں یا ایک ہاتھ شل یا کٹا ہوا ہو اور ایک ہاتھ سے استنجاء ممکن نہ ہو تو ایسی صورتوں میں وہ کسی اور سے استنجاء کرا سکتا ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے تمام فقہاء اللہ رحمھم اللہ تعالی کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اپنی بیوی یا باندی سے استنجاء کرانا ضروری ہے اور بغیر استنجاء کے اس کی نماز نہ ہوگی البتہ اگر اس کی بیوی نہ ہو تو اپنے بیٹے ، بھائی یا والد سے استنجاء کرواسکتا ہے یا نہیں؟  اس حوالے سے فقہاء کرام رحمھم اللہ کی عبارات کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں استنجاء معاف ہے لیکن محقق العصر مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ نے تتمہ احسن الفتاوی میں لکھا ہے کہ اصل میں دوسرے شخص سے استنجاء کرانے کی ممانعت کی علت یہ ہے کہ بغیر حائل کے کسی غیر کے شرم گاہ کو ہاتھ لگانا ممنوع ہے ، اگر کسی حائل کے ساتھ ہو اور نگاہوں کو نیچے رکھے تو ممنوع نہیں ہے لہذا استنجاء کسی بھی صورت میں معاف نہیں ہے ، اگر بیوی یا باندی ہو تو وہ استنجاء کرائے ، اگر نہ ہو تو پانی کے پائپ یا فوارہ(شاور) کے ذریعے نجاست کو صاف کیا جائے ، اگر یہ بھی ناممکن ہو تو ہاتھ پر موٹا کپڑا لپیٹ کر استنجاء کرایا جائے۔
اگر کسی طرح بھی استنجاء کرانا ممکن نہ ہو تو بغیر استنجاء کے نماز پڑھے اور ٹھیک ہونے کے بعد ان کا اعادہ کرے۔
واللہ تعالی اعلم 

📚حوالہ:
▪الفتاوی الھندیہ 1/50
▪الفتاوی الخانیہ 1/33
▪تتمہ احسن الفتاوی 199

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (113) ・❱━━━*

*·•●✿ بیت الخلاء(Toilet) میں قرآنی آیات یا احادیث یا دیگر مقدس اوراق سمیت جانا

  شریعت اسلامی میں ہر معظم شے کی تعظیم و احترام کا حکم ہے ، چونکہ قرآنی آیات اور احادیث و فقہ کے اوراق انتہائی معظم و مکرم ہیں اور بیت الخلاء میں ساتھ لے جانے سے ان کی تحقیر ہوتی ہے اس لیے قصدا ایسا کرنے سے اجتناب کیا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود قضائے حاجت کرتے وقت اپنی انگھوٹی اتار لیتے تھے جس میں محمد رسول اللہ لکھا ہوا تھا البتہ اگر ایسے کاغذات جیب سے باہر رکھنے ہر ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو پھر ایسی صورت میں جیب کے اندر رکھ کر ساتھ لے جانے کی گنجائش ہے۔ یہی حکم تعویذ کا بھی ہے کہ باہر رکھنا بہتر ہے اور چمڑ ے میں بند ہو ں یا اچھی طرح کسی چیز میں چھپی ہوئی ہوں تو اس کے ساتھ واش روم میں جانے کی گنجائش ہے۔

📚حوالہ:
▪الفقہ الاسلامی و ادلتہ 1/202
▪بذل المجھود 1/13
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/178
▪کفایت المفتی 9/77
▪فتاوی حقانیہ 2/601


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (114) ・❱━━━*

*·•●✿ قضائے حاجت کے وقت برش یا مسواک کرنا

  شیخ وھبة الزحیلی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب " الفقه الاسلامی وادلته " میں قضاء حاجت کے آداب اور مستحبات ذکر کیے ہیں ، ان آداب کا اصلِ اصول یہ ہے کہ قضاء حاجت کے وقت ایسا کام نہ کیا جائے جو اس وقت کے ساتھ مناسب نہ ہو مثلا قضاء حاجت کے وقت آسمان کی طرف نہ دیکھے ، اپنی شرم گاہ پر نظر نہ رکھے ، بدن کے کسی عضو سے نہ کھیلے اور مسواک اور برش وغیرہ نہ کرے۔

   استعمال شدہ ڈھیلے کو  دوبارہ استعمال کا حکم
   جس ڈھیلے سے ایک دفعہ استنجاء کیا جائے تو وہ ناپاک ہوجاتا ہے ، اس کو دوبارہ استعمال کرنا مکروہ اور منع ہے ، البتہ اگر ڈھیلا بڑا ہو اور اس کی دوسری جانب استعمال نہ کی ہو تو اس کو استعمال کرنا درست ہے ، اسی طرح ناپاک حصہ اگر گھس دیا جائے تو دوبارہ ، سہ بارہ استعمال جائز ہے۔

📚حوالہ:
▪فتح القدیر 1/216 مصر
▪الفتاوی الھندیہ 1/50 رشیدیہ
▪خلاصة الفتاوی 1/24
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/340 سعید
▪الفقہ الاسلامی و ادلتہ 1/206
▪فتاوی محمودیہ 5/294


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (115) ・❱━━━*

*·•●✿ چمڑے کے موزے اور جوتے کو پاک کرنے کا طریقہ

   اگر چمڑے کے موزے یا جوتے یا بوٹ کو نجاست لگ جائے تو اس کو پاک کرنے میں یہ تفصیل ہے:
(1) اگر ایسی نجاست ہے جو جسم والی نہیں ہوتی مثلا پیشاب یا شراب وغیرہ ، تو ایسی صورت میں اس موزے یا جوتے کو دھونا ضروری ہے،  چایے نجاست تر ہو یا سوکھ چکی ہو ، بغیر دھوئے پاک نہیں ہوسکتی۔
(2) اگر ایسی نجاست ہے جو آنکھوں سے نظر آنی والی ہے جیسے تر لید یا پاخانہ وغیرہ تو اگر اسے مٹی یا اینٹ سے رگڑکر اس طرح صاف کیا جائے کہ نجاست کا کوئی اثر باقی نہ رہے تو مفتی بہ قول کے مطابق موزہ اور جوتا پاک ہوجائے گا۔
(3) اور اگر نجاست خشک ہے جیسے بکری کی مینگنی یا اونٹ کی مینگنی تو اسے محض رگڑنے سے موزہ پاک قرار دیا جائے گا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/510 زکریا
▪المحیط البرھانی 1/385
▪کتاب المسائل 1/126


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (116) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک زمین کو پاک کرنے کے طریقے

  ناپاک زمین ویسے تو محض سوکھنے اور نجاست کا اثر زائل ہونے سے بھی پاک ہوجاتی ہے ، لیکن اگر اسے فوری طور پر پاک کرنے کی ضرورت ہو تو درجہ ذیل طریقے اپنائے جاسکتے ہیں:
(1) اگر زمین کا کھودنا ممکن ہو تو نجاست سے متاثرہ حصہ کو کھود کر علیحدہ کردیا جائے۔
(2) نجاست سے متاثرہ حصہ کو کھود کر اوپر حصہ کو نیچے اور نیچے حصہ کو اوپر کردیا جائے۔
(3) اگر زمین نرم ہے کہ پانی اس میں جذب ہوجاتا ہے تو اوپر سے پانی بہادیا جائے ، جب پانی جذب ہوجائے تو زمین پاک ہوجائے گی۔
(4) اگر زمین سخت ہے تو اوپر سے پانی ڈال کر اس پانی کو وہاں سے ہٹادیا جائے مثلا وائپر وغیرہ سے ، تو یہ جگہ پاک ہوجائے گی البتہ یہ پانی جہاں پہنچے وہ جگہ ناپاک ہوجائے گی۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/517
▪المحیط البرھانی 1/381
▪کتاب المسائل 1/127

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (117) ・❱━━━*

*·•●✿ناپاک فرش کو پاک کرنے کا طریقہ

   سیمنٹ یا پتھر یا ماربل وغیرہ سے بنے ہوئے فرش پر اگر پیشاب  یا کوئی اور تر نجاست لگ جائے تو اس کا حکم زمین کے مانند ہے ۔ سوکھنے اور نجاست کا اثر زائل ہونے سے اس کی پاکی کا حکم ہوگا اور فوری طور پر پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس پر پانی بہاکر وائپر اور پونچھے سے خشک کیا جائے یا پھر بالٹی یا پائپ سے اتنا زیادہ پانی بہادیا جائے کہ نجاست کے اثرات زائل ہونے کا یقین ہوجائے تو بھی فرش پاک ہوجائے گا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/513 زکریا 
▪المحیط البرھانی 1/382
▪کتاب المسائل 1/128


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (118) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک زمین سوکھنے کے بعد پھر تر ہوگئی

  ماقبل میں یہ مسئلہ بیان ہوا کہ زمین اگر ناپاک ہوجائے تو خشک ہونے اور نجاست کا اثر زائل ہونے سے وہ پاک ہوجاتی ہے ، یہی حکم ان چیزوں کا بھی ہے جو زمین کے ساتھ متصل رہتی ہیں مثلا گھاس پھوس اور درخت وغیرہ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر ناپاک زمین یا اس سے ملحق کوئی چیز سوکھنے کی وجہ سے پاک قرار دی گئی تھی بعد ازاں وہ پھر پانی وغیرہ پڑنے کی وجہ سے تر ہوگئی ، تو اس تری کی وجہ سے اسے ناپاک نہیں کہا جائے گا ، حتی کہ اس پر گرنے والے پانی کی چھینٹیں اگر کپڑے پر لگ جائیں تو کپڑا بھی ناپاک نہیں ہوگا۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/513 زکریا 
▪الفتاوی الھندیہ 1/44
▪حلبی کبیر ص 156
▪کتاب المسائل 1/129


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (119) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک ٹنکی کو پاک کرنے کا طریقہ

   اگر پانی کی ٹنکی کسی وجہ سے ناپاک ہوجائے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں سے ناپاک چیز(اگر نظر آنی والی ہو) کو نکال کر موٹر چلادیا جائے اور نیچے سے سب نلکے کھول دیئے جائے ، گویا اوپر سے پانی داخل ہوتا رہے اور نیچے سے نکلتا رہے ، تو یہ سب پانی ماء جاری کے حکم میں ہوکر پاک ہوجائے گا ، تاہم احتیاط یہ ہے کہ ٹنکی کا تین گنا پانی بہاکر پھر اسے استعمال کیا جائے۔

 زمین دوز ٹنکی کو پاک کرنے کا طریقہ
  اگر زیر زمین پانی کا ٹینک ناپاک ہوجائے تو اس کے پاک کرنے کے دو شکلیں ہیں:
(1) ایک شکل یہ ہے کہ اس میں پانی مسلسل بھرا جائے یہاں تک کہ وہ بھر کر پانی اوپر سے بہنے لگے ، تو یہ ماء جاری کے حکم میں ہوگا۔
(2) دوسری شکل یہ ہے کہ ایک طرف سے پانی جاری کرکے دوسری طرف سے موٹر چلاکر پانی کھینچنا شروع کردیں ، تو بھی یہ ماء جاری شمار ہوگا اور سب ٹنکی اور پائپ پاک قرار دئے جائیں گے۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/338 زکریا 
▪المحیط البرھانی 1/251
▪احسن الفتاوی 2/49
▪کتاب المسائل 1/130-131
 
💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (120) ・❱━━━*

*·•●✿ کھال(Animal skin ) کو پاک کرنے کے طریقے*

*خنزیر اور آدمی کی کھال کے علاوہ ہر جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہوجاتی ہے اور دباغت کی کئی شکلیں ہیں:*
*(1) کسی کیمیکل سے دباغت دی جائے۔*
*(2) کھال کو مٹی میں دباکر چھوڑ دیا جائے ، تا آن کہ اس کی رطوبت جاتی رہے۔*
*(3) کھال کو دھوپ میں رطوبت کے خشک ہونے تک چھوڑ دیا جائے۔*
*(4) کھال کو ہوا میں سکھالیا جائے۔*
  *مذکورہ طریقوں میں سے کوئی   بھی طریقہ اختیار کرکے کھال کو پاک کیا جاسکتا ہے۔*
*اسی طرح اگر کسی جانور کو (سوائےخنزیز کے) بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا جائے (خواہ اس کا گوشت حلال ہو یا نہ ہو) تو بہنے والا خون نکلنے کے بعد اس کی کھال پاک قرار دی جائے گی۔*

*📚حوالہ:*
*▪الصحیح المسلم 1/159*
*▪حلبی کبیر 153-155*
*▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/203*
*▪البحرالرائق 6/81*
*▪فتاوی عثمانی 1/312*
*▪کتاب المسائل 1/135*

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (221) ・❱━━━*

*·•●✿ ناپاک لحاف، رضائی، کمبل ،صوفہ، کارپیٹ اور گدّا کو پاک کرنے کا طریقہ

   فقہاء کرام رحمھم اللہ تعالی نے اپنی کتابوں میں ایک ضابطہ لکھا ہے کہ نجاست کی دو قسمیں ہیں : ایک نجاست مرئیہ(جو  خشک ہونے کے بعد بھی دکھائی دے مثلا پاخانہ) اور دوسری قسم نجاست غیر مرئیہ (جو خشک ہونے کے بعد دکھائی نہ دے مثلا پیشاب)
اول قسم کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس کی جسم کو زائل کرنا مقصود ہے خواہ پانی سے ہو یا دوسرے پاک مائع چیز سے اور خواہ ایک دفعہ دھونے سے زائل ہوجائے یا تین دفعہ سے اور دوسری قسم یعنی نجاست غیر مرئیہ کو پاک کرنے کیلئے غالب گمان کا حاصل ہونا ضروری ہے اور غالب گمان حاصل کرنے کیلئے اشیاء دو قسم پر ہیں: ایسی چیزیں جو دھونے اور نچوڑنے سے خراب نہیں ہوتیں تو ان کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تین دفعہ ان کو دھویا جائے اور ہر دفعہ نچوڑا جائے یا پھر اتنی مقدار میں مسلسل پانی ڈالا جائے کہ دھونے والے کو یہ غالب گمان ہوجائے کہ ابھی نجاست نہیں رہی اور جو چیزیں نچوڑنے کے قابل نہیں ہوتیں یا نچوڑنے سے خراب ہونے کا اندیشہ ہو یا نچوڑنا انتہائی مشکل ہو تو ان کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ان پر پانی ڈالا جائے اور پھر ان کو لٹکایا یا رکھاجائے یہاں تک کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے ، پھر دوبارہ پانی ڈالا جائے اور چھوڑا جائے پھر تیسری مرتبہ ایسا کیا جائے تو یہ چیزیں پاک ہوجائے گی۔نیز  ہرمرتبہ پانی کو خشک کرنے کے لیے وائپر یا دیگر الیکٹرانک آلات کا بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

📚حوالہ:
▪الدرالمختار مع ردالمحتار 1/541 زکریا 
▪امداد الفتاوی 1/118
▪فتوی دارالعلوم دیوبند سوال نمبر 69805

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (222) ・❱━━━*

*·•●✿  جو كپڑے پہنے ہیں غسل كے بعد اُسی كپڑے كو دوبارہ پہننا

  عوام میں ایک مسئلہ یہ مشہور ہے کہ حالت جنابت میں جو کپڑا یا بنیان یا جرسی وغیرہ استعمال کیا جائے تو غسل کرنے کے بعد ان کو پہننا درست نہیں بلکہ عوام ان اشیاء کو ناپاک تصور کرتی ہے تو یاد رکھیں حالت جنابت میں کپڑا یا بنیان پہننے سے وہ ناپاک نہیں ہوتے جبتک ان پر نجاست نہ لگے ، لہذا غسل کے بعد ان کو دھوئے بغیر پہننا جائز ہے۔

  گناہ کرنے سے وضو ٹوٹنے کا حکم
  دوسرا مسئلہ عوام میں یہ مشہور ہے کہ گناہ کرنے مثلا ٹی وی دیکھنے یا فلم دیکھنے یا کسی کو برہنہ دیکھنے یا گانا سننے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو یاد رکھیں کہ یہ تمام امور گناہ اور اپنے رب کی ناراضگی کے اسباب ہیں لیکن ان کی وجہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کوئی اور سبب وضو کے ٹوٹنے کی نہ ہو مثلا قطرہ نکلنا وغیرہ ، ہاں گناہ کے بعد نیا وضو کرنا افضل اور بہتر ہے تاکہ وضو کا نور حاصل ہوجائے اور گناہ کے اثرات کم ہوجائے۔

📚حوالہ:
▪فتوی دارالعلوم دیوبند 
سوال نمبر 601738
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144104201004


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (223) ・❱━━━*

*·•●✿  پاکی ناپاکی کے بعض مختصر مسائل

 (1)کافروں کے برتن اور استعمال شدہ کپڑوں کو اس وقت تک ناپاک نہیں کہا جائے گا جب تک ان کا ناپاک ہونا کسی دلیل یا قرینہ سے معلوم نہ ہو۔ ہاں احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ دھونے کے بعد استعمال کیے جائیں۔
(2) بعض لوگ علاج کیلئے شیر وغیرہ کی چربی استعمال کرتے ہیں اور اس کو پاک سمجھتے ہیں ، یہ درست نہیں،  البتہ اگر ماہر دیندار طبیب کی یہ رائے ہو کہ اس مرض کا علاج سوائے شیر کے چربی کے اور کچھ نہیں تو ایسی حالت میں بعض علماء کے نزدیک اس کو استعمال کرنا درست ہے لیکن نماز کے وقت اس کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔
(3) راستوں کی کیچڑ اور پانی معاف ہے ، بشرطیکہ بدن یا کپڑے میں نجاست کا اثر معلوم نہ ہو ، فتوی اسی پر ہے ، البتہ جس شخص کی بازار اور راستوں میں آمد و رفت زیادہ نہ ہو اس کے لیے احتیاط یہ ہے کہ وہ کپڑے اور بدن کو پاک کرلیا کرے ، چاہے ناپاکی کا ظاہری اثر بھی محسوس نہ ہو۔
(4) نجاست اگر جلائی جائے تو اس کا دھواں پاک ہے وہ دھواں اگر جم جائے اور اس سے کوئی چیز بنائی جائے تو وہ بھی پاک ہے ، جیسے: نوشادر کے بارے میں کہتے ہیں کہ نجاست کے دھوئیں سے بنتا ہے۔
(5) نجاستوں سے جو بخارات اٹھیں وہ پاک ہیں۔

📚حوالہ:
▪تسہیل بہشتی زیور 1/221


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (224) ・❱━━━*

*·•●✿ پاکی ناپاکی کے بعض مختصر مسائل

  (6) کھانے کی چیزیں اگر سڑ جائیں اور ان سے بو آنے لگے تو ناپاک نہیں ہوتیں ، جیسے: گوشت ، حلوہ وغیرہ لہذا کپڑے یا بدن کو لگنے سے ناپاک نہیں ہوں گے البتہ اگر کھانے سے نقصان ہوتا ہو تو کھانا درست نہیں۔
(7) مشک ، اس کا نافہ اور عنبر پاک ہے۔
(8) نیند کی حالت میں آدمی کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے وہ پاک ہے۔
(9) مرغی کے انڈا دیتے وقت اس کے چھلکے پر جو تری  ہوتی ہے وہ کپڑے پر لگ گئی تو یہ پاک ہے، اگر کپڑوں پر لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے۔
(10)  اگر انڈا اندر سے خراب ہوگیا ہے اور اس میں خون پیدا ہوگیا ہے اور وہ کپڑوں پر لگ گیا تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ ناپاک ہے، اگر کپڑوں پر لگ جائے تو اس جگہ کو پاک کرنا ضروری ہوگا۔

📚حوالہ:
▪تسہیل بہشتی زیور 1/222
▪فتوی جامعہ بنوری ٹاون کراچی 144004200702


💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*سلسلہ_مسائل_فقہیہ* 
            
               *احکام_الطھارة*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (225) ・❱━━━*

*·•●✿  پاکی ناپاکی کے بعض مختصر مسائل

  (11) سانپ کی کیچلی ( سفید جھلی جو اس کے جسم سے اترتی ہے) پاک ہے۔
(12) جس پانی سے کوئی نجس چیز دھوئی جائے وہ نجس ہے، چاہے وہ پانی پہلی دفعہ کا ہو یا دوسری دفعہ کا یا تیسری دفعہ کا لیکن ان پانیوں میں اتنا فرق ہے کہ اگر پہلی دفعہ کا پانی کسی کپڑے میں لگ جائے تو یہ کپڑا تین دفعہ دھونے سے پاک ہوگا اور اگر دوسری دفعہ کا پانی لگ جائے تو صرف دو دفعہ دھونے سے پاک ہوگا اور اگر تیسری دفعہ کا لگ جائے تو ایک ہی دفعہ دھونے سے پاک ہوجائے گا۔
(13) مردہ انسان کو جس پانی سے نہلایا جائے وہ نجس ہے۔
(14) مردہ انسان کا لعاب بھی نجس ہے۔
(15) ناپاک چیز پانی میں گرے اور اس کے گرنے سے چھینٹیں اڑکر کسی پر جاپڑیں تو وہ پاک ہیں ، بشرطیکہ ان چھینٹوں میں اس نجاست کا کوئی اثر نہ ہو۔

📚حوالہ:
▪تسہیل بہشتی زیور 1/222-223
 

💞💞

No comments:

Post a Comment