Tuesday, 26 September 2023

سلسلہ_مسائل_نماز

🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 1  ❫・━━*

  *تکبیر تحریمہ دل میں کہنا کیسا ہے ؟* 
*اور اس میں کتنے اقوال ہیں ؟*

*ابو بکر الاصم اور اسماعیل ابن علیہ کے علاوہ جمہور کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ نماز کے لیے فرض ہے اور اس کے الفاظ کی ادئیگی زبان سے ضروری ہے،صرف دل میں ادائیگی سے نماز نہیں ہوگی۔*

*(📚 المبسوط للسر خسی (1/11)*
*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻


🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 2 ❫・━━*

*مقتدی نے امام سے پہلے تکبیرِ تحریمہ ادا کر لی تو نماز کا حکم ؟*

*جماعت سے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کی صورت میں مقتدی پر لازم ہے کہ اس کی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ سے مؤخر ہو یعنی اس کی تکبیر امام کی تکبیر کے بعد ختم ہو، اگر مقتدی نے اپنی تکبیر تحریمہ امام کی تکبیر تحریمہ سے پہلے ہی مکمل کرلی تو وہ مقتدی اس امام کی اقتدا میں اس جماعت میں شامل ہی نہیں ہوا، لہٰذا اسے چاہیے کہ امام کے تکبیر تحریمہ مکمل کرنے کے بعد دوبارہ تکبیر تحریمہ کہے، اگر اس نے دوبارہ تکبیر تحریمہ نہیں لوٹائی اور ایسے ہی نماز پڑھ لی تو اس کی نماز اس امام کی اقتدا میں نہیں ہوئی ؛ اس لیے اس کو یہ نماز دوبارہ لوٹانی پڑے گی*

📚 فان قال المقتدی اللہ اکبر و وقع قولہ اللہ مع الامام وقولہ أکبر وقع قبل قول الامام ذلک قال الفقیہ ابوجعفر اوصح أنہ لایکون شارعاً عندھم۔ (عالمگیری ص ۶۸، ج ۱)

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻




🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 03 ❫・━━*

*جماعت میں کب تک شمولیت سے تکبیر اولیٰ کی فضیلت حاصل ہوگی ؟*

*امام کے متصل بعد تکبیر کہہ کر اقتدا کرے  تو بالاتفاق تکبیر اولیٰ کا ثواب مل جائے گا، البتہ  اس کے بعد بھی وسعت دی گئی ہے، اس میں مختلف اقوال ہیں:*

*(1)  ثنا ء سے پہلے پہلے شریک ہوجائے ۔*
*(2) سورۂ فاتحہ کے نصف سے پہلے امام کے ساتھ شامل ہوجائے۔* 
*(3)  سورۂ فاتحہ کے ختم ہونے تک شامل ہوجائے۔* 
*(4)  پہلی رکعت کے رکوع سے پہلے شامل ہوجائے۔ اس قول کی تصحیح کی گئی ہے، لہذا جو شخص پہلی رکعت کے رکوع میں امام کے ساتھ  شریک ہوجائے تو اس کو بھی تکبیر اولیٰ کا ثواب مل جائے گا۔*

*(📚 حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ص: 258)*


*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻




🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 04 ❫・━━*

*تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اٹھانے کا طریقہ* 

 *تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ  اٹھاتے وقت بہتر یہ ہے کہ دونوں ہاتھ کانوں کی لو سے لگا لے، دونوں ہاتھوں (کے اندرونی حصے) کا رخ قبلہ کی طرف ہو اور انگلیاں نہ بہت زیادہ کشادہ رکھی جائیں اور نہ بالکل بند کر دی جائیں، بلکہ ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دینا چاہیے۔*

*(الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 474)*

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻


🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 05 ❫・━━*

 *تکبیرِ تحریمہ سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے ؟*

 *نماز میں اعوذ باللہ اور  بسم اللہ کا محل تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثناء پڑھنے کے بعد سورہ فاتحہ شروع کرنے سے پہلے ہے، تکبیر تحریمہ کہنے سے پہلے اعوذ باللہ و بسم اللہ پڑھنا ثابت نہیں، لہذا تکبیرِ تحریمہ سے پہلے اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنا درست نہیں ہے، اسے سنت کے مطابق اصل محل  پر (پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کی تلاوت سے پہلے) پڑھنا چاہیے*

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻



🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 06 ❫・━━*

*امام رکوع میں ہو تونو وارد کے قیام کی فرض مقدار کیا ہوگی ؟*

 *اگر امام رکوع میں ہو تو مقتدی کھڑے ہونے کی حالت میں تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں چلاجائے، تکبیر تحریمہ کے بعد مزید کچھ توقف اور انتظار کی ضرورت نہیں، تکبیر تحریمہ کے بعد رکوع کی حد تک پہنچنے میں جس قدر قیام پایا جائے گا، وہ فرضیت کی ادائیگی کے لیے کافی ہے.*

📚 فلو کبر قائماً فرکع ولم یقف صح؛ لأن ما أتی بہ من القیام إلی أن یبلغ حد الرکوع یکفیہ، قنیة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۳۱، ط؛ مکتبة زکریا دیوبند)

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻



🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 07 ❫・━━*

*کسی نے تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت ہاتھ نہیں اٹھائے, صرف زبان سے ’’اللہ اکبر‘‘  کہہ کر نماز میں شریک ہوگیا تو کیا اس کی نماز ہوگئی ؟*

*تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھانا سنت ہے, اگر کوئی شخص ہاتھ اٹھائے بغیر  صرف تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز میں شریک ہوجائے تو بھی اس کی نماز ہوجائے گی, البتہ بلا عذر نماز کی کوئی سنت چھوڑنے سے نماز میں کراہت آجاتی ہے۔ فقط واللہ اعلم*

*(📚 ماخذ :دار الافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیۃ بنوری ٹاؤن*
*فتوی نمبر :144008201367*

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻



🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 08 ❫・━━*

*دورانِ نماز قیام کے وقت بایاں ہاتھ  کھجلی یا کسی اور کام کے لیے اٹھانا کیسا ہے؟*

 *نماز میں قیام کی حالت میں اگر کسی شخص کو  کھجلی یا کسی دوسری ضرورت کی وجہ سے ہاتھ کے استعمال کی حاجت ہو تو اس کو  چاہیے کہ دائیں ہاتھ سے اپنی حاجت پوری کر لے؛ کیوں کہ اگر دائیں ہاتھ کی بجائے بائیں ہاتھ کو حرکت دے گا تو  لا محالہ دائیں کو بھی حرکت دینا پڑے گی جس کی وجہ سے دونوں ہاتھ حرکت میں آ جائیں گے، جب کہ دائیں ہاتھ کے استعمال کی صورت میں  صرف ایک ہاتھ ہی حرکت میں آئے گا۔*

*بہرحال! ایسا کرنا نماز کے آداب میں سے ہے، اگر کوئی اس کے خلاف بھی کرتا ہے تو یہ کہا جائے گا کہ اس نے آداب کی رعایت نہیں رکھی، نماز درست ہو جائے گی۔*

📚 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 478):
" (قوله: وقيل إلخ) كأنه لأن التغطية ينبغي أن تكون باليسرى كالامتخاط، فإذا كان قاعدًا يسهل ذلك عليه ولم يلزم منه حركة اليدين، بخلاف ما إذا كان قائمًا فإنه يلزم من التغطية باليسرى حركة اليمين أيضًا لأنها تحتها. اهـ".
 فقط واللہ اعلم

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (09) ・❱━━━*

*·•●✿  اگر کوئی شخص تنہا نماز پڑھے اور تکبیر تحریمہ نہ کہے تو کیا اس کی نماز ہو جائے گی؟ تکبیر تحریمہ کہنا فرض ہے یا سنت؟*

*☆ آدمی خواہ تنہا نماز پڑھے یا جماعت کے ساتھ پڑھے اس کے لیے تکبیرِ تحریمہ کہنا فرض اور ضروری ہے،اگر تکبیرِ تحریمہ نہیں کہتا تو اس کی نماز نہ ہوگی ۔*

📚 فرائض الصلوٰة ستة: التحریمة والقیام والقراء ة والرکوع والسجود والقعدة في اٰخرالصلوٰة مقدار التشہد․ (ہدایة ۱/۹۸)
واللہ تعالیٰ اعلم 

💞💞



🔊🔊

*🌷 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌷* 

*سلسلہ_مسائل_نماز*

 *━━・❪ مسئلہ نمبر 10 ❫・━━*

*(سوال)*
*نماز میں امام کے ساتھ ثناء پڑھنی ہے کہ نہیں ؟*

*نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد امام اور مقتدی دونوں کے لیے ثناء پڑھنا سنت ہے، اور اگر کوئی شخص امام کے نماز شروع کرنے کے بعد آکر نماز میں شامل ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ اگر امام نے بلند آواز سے قراءت شروع کردی ہو تو وہ ثناء نہ پڑھے، اگر امام نے بلند آواز سے قراءت شروع نہیں کی، یا امام نے قراءت شروع کردی، لیکن  سری نماز ہونے کی وجہ سے بلند آواز سے نہیں، جیسا کہ ظہر اور عصر  کی نماز میں تو  بعد میں شامل ہونے والا ثناء پڑھ کر شامل ہوجائے۔*

📚 الفتاوى الهندية (1/ 72):
"(سننها) رفع اليدين للتحريمة، ونشر أصابعه، وجهر الإمام بالتكبير، والثناء".

*(وفیہ ایضا (1/ 90):)*

*━═─────────────────═━*
👏🏻👏🏻



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (11) ・❱━━━*

*·•●✿ ثناء میں”وجل ثناءک“ کاثبوت کسی حدیث سے ثابت ہے اوراگرنہیں تویہ اضافہ بدعت ہے یانہیں؟اگرنہیں توکیوں؟*

*☆ ثناء کے متعلق مشہورروایات میں” وجل ثناءک “کے الفاظ نہیں ہیں البتہ بعض غیرمشہورروایات میں” وجل ثناءک “ کا اضافہ موجود ہے ،جیسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثناء سے متعلق جوالفاظ منقول ہیں ان میں اس کااضافہ ہے ،لہذافی نفسہ اس کاثبوت حدیث میں موجودہے،اس لئے اس کااضافہ بدعت نہیں۔  اس لیے نماز جنازہ میں یہ الفاظ پڑھنادرست اور جائز ہے ۔البتہ فرائض میں ان الفاظ کا اضافہ ثناء میں نہ کیاجائے۔*

📚 تبیین الحقائق" میں ہے:
(2/49)
مسند الفردوس (ج 1 / ص 59):
” عن ابن مسعودإن من أحب الكلام إلى الله عز وجل أن يقول العبد :سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدک وجل ثناؤك ولا إله غيرك۔ “
المحيط البرهاني لمحمود النجاري (ج 2 / ص 21):
”ولم يذكر في «الأصل» ولا في «النوادر» وجلّ ثناؤك؛ لأنه لم ينقل في التفاسير وذكر شمس الأئمة الحلواني وشمس الأئمة السرخسي أن محمداً رحمه الله ذكر في كتاب الحجج على أهل المدينة، قال شمس الأئمة الحلواني: قال مشايخنا: إن قال :وجلّ ثناؤك لم يمنع عنه، وإن سكت عنه لم يؤمر به “
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح (ج 1 / ص 173): 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (12) ・❱━━━*

*·•●✿ سنت غیر موٴکدہ کی تیسری رکعت میں ثناء پڑھنے کا حکم ؟*

*☆ افضل یہ ہے کہ جب سنت غیر مؤکدہ چار رکعات پڑھیں* 
*تیسری رکعت کے لیے جب کھڑے ہوں تو سورہ فاتحہ سے پہلے ثناء تعوذ اور تسمیہ پڑھ لیں یہ افضل ہے اگر نہ بھی پڑھیں تو نماز درست ہوگی* 

📚 قال فی الدر وفی البواقی (أي غیر الأربع قبل الظہر والجمعة وبعدہا) یصلي علی النبي ویستفتح إلخ وبحث فی الشامي (شامی: ۱/۵۰۰)
واللہ تعالیٰ اعلم 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (13) ・❱━━━*

*·•●✿ کیا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنی چاہیے*

*☆  جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں امام کے پیچھے مقتدی کے لیے  کسی قسم کی  قراءت کرنا خواہ وہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت، جائز  نہیں،  نیز اس حکم میں سری اور جہری نمازوں میں کوئی فرق نہیں؛ کیوں کہ امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہے، مثلاً: اگر امام کا وضو نہ ہو تو تمام مقتدیوں کی نماز ادا نہیں ہوگی، اگرچہ تمام مقتدی باوضو ہوں۔ اسی طرح امام سے سہو ہوجائے تو تمام مقتدیوں پر سجدہ سہو لازم ہوتاہے، اگرچہ کسی مقتدی سے کوئی سہو نہ ہو۔  اسی طرح اگر تمام مقتدیوں سے بھی سجدہ سہو واجب کرنے والی غلطی ہوجائے،  لیکن امام سے سہو نہ ہو تو مقتدیوں پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، بلکہ امام کی نماز صحیح ہونے کی وجہ سے ان کی نماز بھی صحیح ہوجاتی ہے؛  لہٰذا نماز خواہ سری ہو یا جہری امام کی قرأت تمام مقتدیوں کی طرف سے کافی ہوگی۔*

*(📚 سنن ابن ماجہ میں ہے:)*

’’عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم : من كان له إمام فقراءة الإمام له قراءة‘‘. (باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، ص: ٦١)

*☆ ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں : جس شخص کا کوئی امام ہو تو امام کی قرأت اس کی بھی قرأت ہے۔*

*صحیح مسلم میں ہے:*

’’عن حیطان بن عبد الله الرقاشي قال: صليت مع أبي موسي الأشعري ... أن رسول الله صلي الله عليه وسلم خطبنا، فبين لنا سنتنا و علمنا صلواتنا فقال: إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم؛ فإذا كبر فكبروا و إذا قرأ فأنصتوا...‘‘ الحديث (باب التشهد في الصلاة، ١/ ١٧٤)

*☆ ترجمہ: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور ہمیں طریقہ بیان کیا اور ہمیں نماز سکھلائی کہ جب تم نماز ادا کرو تو اپنی صفوں کو درست کرو، پھر تم میں سے کوئی امامت کرائے، پس جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو اور جب وہ قرأت کرے تو بالکل خاموش رہو ۔۔۔ الخ*

*مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:*

" عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ، قَالَ : كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ إمَامٌ ، فَقِرَاءَتُهُ لَهُ قِرَاءَةٌ ".(مصنف ابن أبي شيبة ، کتاب الصلاة، من کره القراءة خلف الإمام:1 / 377،رقم الحدیث:۳۸۲۳،ط:دارالسلفیة الهندیة)

*☆ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ شخص جس کا امام ہو، اس (امام) کی قراءت اس (مقتدی) کی قراءت ہوگی۔*

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:

’’(والمؤتم لايقرأ مطلقاً) ولا الفاتحة...( فإن قرأ كره تحريماً) و تصح في الأصح...الخ (باب صفة الصلاة، مطلب السنة تكون سنة عين و سنة كفاية‘‘. (١/ ٥٤٤، ط: سعيد) فقط واللہ اعلم 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (14) ・❱━━━*

*·•●✿ مسبوق ثناء پڑھے گا یا نہیں ؟*

*☆ اگر کوئی شخص مسبوق ہو یعنی امام کے ساتھ شروع سے شریک نہ ہو، بلکہ درمیان میں شامل ہوا ہو تو اس کے لیے یہی حکم ہے کہ جب وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو گا تو ثناء پڑھے گا*

📚 الفتاوى الهندية (1/ 90):
’’(منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لا يأتي بالثناء. كذا في الخلاصة هو الصحيح. كذا في التجنيس وهو الأصح. هكذا في الوجيز للكردري. سواء كان قريباً أو بعيداً أو لايسمع لصممه. هكذا في الخلاصة. فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية‘‘.فقط واللہ اعلم 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (15) ・❱━━━*

*·•●✿ فرض نماز میں سورة فاتحہ کی اگر ایک آیت چھوٹ گئی ہے تو کیا حکم ہے ؟*

*☆  راجح قول کے مطابق سورہ فاتحہ کی اکثر آیتیں پڑھ لینے سے واجب ادا ہوجاتا ہے اور ایک دو آیت چھوٹنے سے سجدہٴ سہو واجب نہیں ہوتا۔*

📚 (ثم واجبات الصلاة أنواع) (منہا) قرائة الفاتحة والسورة إذا ترک الفاتحة فی الأولیین أو إحداہما یلزمہ السہو وإن قرأ أکثر الفاتحة ونسی الباقی لا سہو علیہ وإن بقی الأکثر کان علیہ السہو إماما کان أو منفردا، کذا فی فتاوی قاضی خان.[الفتاوی الہندیة 1/ 126) نیز دیکھیں : حاشیة الطحطاوی علی المراقی(ص:460،ط: اشرفی)
واللہ تعالیٰ اعلم 

💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (16) ・❱━━━*

*·•●✿ منفرد یعنی اکیلے نماز پڑھتے ہوئے جہری نماز میں جہر سے قرآن پڑھنا لازم ہے ؟*

*☆ اکیلے فرض نماز پڑھنے والاشخص  ظہر اور عصر میں سری (آہستہ )قراءت کرے گا۔ البتہ فجر ، مغرب اور عشاء میں جہری (آواز سے)قراءت کرنا افضل ہے اور اگر آہستہ قراءت کی تب بھی نماز  بلاکراہت ادا ہوجائے گی۔*

*(📚 الدر المختار شرح تنوير الأبصار  (1 / 533):*
"( ويخير المنفرد في الجهر ) وهو أفضل".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار (1 / 533):
"وفي السرية يخافت حتمًا على المذهب كمتتفل بالليل منفردًا". 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (17) ・❱━━━*

*·•●✿ نماز میں جو قراءت پڑھنا فرض ہے،اس سے سورہ فاتحہ پڑھنا مراد ہے یا سورہ فاتحہ کے بعد والی سورت مراد ہے؟*

*☆ دو مسئلے الگ الگ ہیں،ایک ہے نماز میں مطلقا قراءت کا فرض ہونا اور دوسرا ہےسورہ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی اورسورت ملانا۔ مطلقا قراءت جو فرض ہے وہ ایک آیت پڑھنے سے بھی ادا ہوجاتا ہے،اگرچہ وہ سورہ فاتحہ ہی کی ایک آیت کیوں نہ ہو،البتہ یہ شرط ہے کہ وہ آیت ایک ہی کلمے پر مشتمل نہ ہو،جیسے ن،ق،ص وغیرہ،بلکہ دو یا زیادہ کلمات پر مشتمل ہو،جیسے:"ثم نظر" یا "لم یلد"وغیرہ۔*
*اس تفصیل کے ساتھ ایک آیت کے بقدر قراءت کے فرض ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو ایک آیت کے بقدر بھی قراءت نہ کرے تو اس کی نماز فرض قراءت چھوٹ جانے کی وجہ سے بالکل نہ ہوگی۔*

*☆ جبکہ سورہ فاتحہ کے ساتھ سورت ملانا جوواجب ہے،اس کی کم از کم مقدار ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات ہیں،جن کے حروف کی تعداد کم از کم تیس ہوں،جیسے : "ثم نظر ثم عبس و بسر ثم ادبر واستکبر"۔*
*اس تفصیل کے ساتھ ایک بڑی یا تین چھوٹی آیات کے بقدر قراءت کے نماز میں واجب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو اس قدر قراءت نہ کرے اس کی نماز واجب قراءت چھوٹ جانے کی وجہ سے واجب الاعادہ ہے،اگرچہ فرض ایسی صورت میں اس کے ذمے سے ساقط ہوجائے گا،جبکہ اس نے فرض قراءت کے بقدر قراءت کرلی ہو۔*

📚حوالہ جات:
"الدر المختار " (1/ 537):
"(وفرض القراءة آية على المذهب) هي لغة: العلامة. وعرفا: طائفة من القرآن مترجمة، أقلها ستة أحرف ولو تقديرا، ك (لم يلد) ، إلا إذا كان كلمة فالأصح عدم الصحة وإن كررها مرارا إلا إذا حكم حاكم فيجوز ذكره القهستاني. ولو قرأ آية طويلة في الركعتين فالأصح الصحة اتفاقا لأنه يزيد على ثلاث آيات قصار قاله الحلبي".
"الدر المختار " (1/ 458):
"(وضم) أقصر (سورة) كالكوثر أو ما قام مقامها، هو ثلاث آيات قصار، نحو {ثم نظر} [المدثر: 21] {ثم عبس وبسر} [المدثر: 22] {ثم أدبر واستكبر} [المدثر: 23] وكذا لو 


💞💞





*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (18) ・❱━━━*

*·•●✿ نماز میں قرآت کے دوران آیت پر لمبا وقفہ کرنا؟*

*☆ آیت پر زیادہ لمبا وقفہ کرنے ،یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے بقدر وقفہ کرنے کی صورت میں سجدہ سہو لازم ہوجاتا ہے*

📚 قال الحصکفی: وبقی من الواجبات اتیانُ کل واجب أو فرض فی محلہ۔ ۔۔۔۔۔ وکل زیادة تتخلل بین الفرضین۔۔۔۔ قال ابن عابدین:ویدخل فی الزیادة السکوت۔۔۔۔ وقولہ: بین الفرضین غیر قید، فتدخل الزیادة بین فرض وواجب۔۔۔۔۔۔ الخ۔ (رد المحتار مع الدر االمختار: ۴۶۹/۱، ۴۷۰، کتاب الصلاة، واجبات الصلاة، ط: دار الفکر، بیروت) 

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (20) ・❱━━━*

*·•●✿ دورانِ قیام نماز  میں پیروں کا فاصلہ کتنا  رکھنا چاہیے؟*

*☆ حالتِ  قیام میں  مردوں کے لیے دونوں پیروں کے درمیان معتدل فاصلہ رکھنا چاہیے،  نہ بہت کم ہو، اور نہ ہی بہت زیادہ ہو؛  تاکہ بلا تکلف کھڑا ہو،  اور نماز میں خشوع و خضوع رہے۔ اس کی مقدار متعین نہیں ہے، ہر شخص اپنی جسامت کے اعتبار سے معتدل فاصلہ رکھ کر کھڑا ہو۔ عموماً اس کی مناسب  مقدار  ہاتھوں کی چار  انگلیاں ہے۔*

*(📚 الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 444):)*

💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (21) ・❱━━━*

*·•●✿ کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم بتائیں ؟*

*☆  کرسی پر نماز  پڑھنے  کے مسئلہ کی تفصیل  یہ ہے کہ گھٹنوں یاقدموں میں معمولی تکلیف  کی وجہ سے  فرض نماز میں قیام ترک کردینا اور بیٹھ کر  نماز  پڑھنا  جائز نہیں، ہاں اگر  تکلیف  اس حد تک  پہنچ چکی  ہے کہ  آدمی کھڑے ہوتے ہی  گرجاتا ہے یا مرض  کے بڑھ جانے  یا شفایا بی میں  دیر لگ جانے  کا ظن غالب ہو یا  ناقابلِ بر داشت تکلیف پہنچتی ہو تو بیٹھ کر  نماز پڑھنا  جائز ہے،  لیکن اگر تھوڑی  دیر کےلیے  ہی کھڑے ہونے کی طاقت  ہو (اور زمین پر سجدہ پر بھی قدرت ہو) تب بھی اتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے،  اگر چہ  دیوار یالاٹھی  وغیرہ کے ساتھ ٹیک  لگانی پڑے، اس صورت میں بیٹھ کر نماز پڑھنا  جائز نہیں۔*

*☆ اگر قیام پر قدرت ہو مگر رکوع وسجدہ  پر قدرت نہ ہو تو  بیٹھ کرنماز پڑھنا اور اشارے کے ساتھ سجدہ کرنا جائز ہے، تاہم اس صورت میں زمین پر بیٹھ کر  نماز پڑھنا بہتر ہے، اسی طرح اگر رکوع و سجدہ  کرنے کی طاقت ہو تو  بیٹھ کر  اشارے  کے ساتھ  رکوع وسجدہ  کرنا جائز  نہیں، بلکہ رکوع وسجدہ  کرنافرض ہے اس کے بغیر  نماز نہ ہوگی ۔ ہاں ! اگر رکوع وسجدہ کرنے کی بالکل  طاقت نہ ہو تو  اشارے  کے ذریعہ  سے رکوع سجدہ  کیا جاسکتا ہے لیکن سجدہ کا اشارہ رکوع کے اشارے سے زیادہ  پست ہونا چاہیے۔*

*☆ خلاصہ یہ ہے کہ جب قیام پر قدرت  نہ ہو تو زمین پر بیٹھ کر  بھی  نماز جائز ہے  اور کرسی  پر بیٹھ کر بھی۔لیکن  دونوں صورتوں میں اگر سجدے  پر قدرت ہو تو سجدہ کرنا ضروری ہو گا، خواہ زمین  پر کرے یا کرسی کے سامنے  کوئی تختہ یا میز رکھ کر (بشرطیکہ جس تختے وغیرہ پر سجدہ کرے وہ نشست سے ایک بالشت یا اس سے زیادہ اونچا نہ ہو)،  جب اس طرح سجدے  پر قدرت نہ ہو تو تب  اشارہ جائز ہوگا  ورنہ نہیں ۔*

📚 وفي الدر المختار  للحصکفي:

کتاب الصلاة، باب صلاة المریض، ج:۲، ص:۹۵ تا ۹۸، ط:سعید) فقط واللہ اعلم 


💞💞



*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (22) ・❱━━━*

*·•●✿ کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم بتائیں ؟*

*☆ جو شخص بیماری کی وجہ سے کھڑے ہونے پر قادر نہیں، یا کھڑے ہونے پر قادر ہے، لیکن زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے، یا قیام و سجود کے ساتھ نماز پڑھنے کی صورت میں بیماری میں اضافہ یا شفا ہونے میں تاخیر یا ناقابلِ برداشت درد کا غالب گمان ہو تو ان صورتوں میں وہ بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے، البتہ کسی قابلِ برداشت معمولی درد یا کسی موہوم تکلیف کی وجہ سے فرض نماز میں قیام کو ترک کردینا اور  بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز نہیں۔ اسی طرح جو شخص فرض نماز میں مکمل قیام پر تو قادر نہیں، لیکن کچھ دیر کھڑا ہو سکتا ہے اور سجدہ بھی زمین پر کرسکتا ہے توایسے شخص کے لیے اُتنی دیر کھڑا ہونا فرض ہے، اگر چہ کسی چیز کا سہارا لے کر کھڑا ہونا پڑے، اس کے بعد وہ بقیہ نماز زمین پر بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے۔*

*☆ اور جو شخص زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے کے ساتھ زمین پر سجدہ کرنے پر بھی قادر ہو اُسے زمین پر ہی نماز پڑھنی چاہیے، یہ طریقہ سنت کے قریب ہے۔ اور اگر زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں تو ایسی صورت میں شروع ہی سے زمین یا کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ اور اس صورت میں اس کی نماز اشاروں والی ہوتی ہے، اور اس کے لیے بیٹھنے کی کوئی خاص ہیئت متعین نہیں ہے، وہ جس طرح سہولت ہو بیٹھ کر اشارہ سے نماز پڑھ سکتا ہے، چاہے زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھے یا کرسی پر بیٹھ کر، البتہ زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے، لہذا جو لوگ زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں تو زمین پر بیٹھ کر نماز ادا کریں، اور اگر زمین پر بیٹھ کر نماز پڑھنے میں مشقت ہوتو وہ کرسی پر بیٹھ کر فرض نمازیں، وتر اور سنن سب پڑھ سکتے ہیں۔*

*☆ اور ایسی صورت میں (یعنی جب قیام پر قدرت نہ ہو، یا زمین پر سجدے کی قدرت نہ ہو) چوں کہ قیام ساقط ہوجاتاہے، اس لیے ایسے مریض کے لیے افضل یہ ہے کہ وہ مکمل نماز بیٹھ کر ادا کرے، البتہ اگر قیام کے دوران  قیام کرے  اور رکوع وسجود بیٹھ کر اشارے سے کرے تو یہ بھی جائز ہے، لہٰذا ایسے مریضوں کے لیے اولیٰ یہی ہے کہ امام کی اقتدا میں بھی مکمل نماز بیٹھ کر ادا کریں، کیوں کہ یہ سجدے کے قریب بھی ہے، اور جماعت کی نماز میں صفوں میں خلل سے بھی حفاظت کا ذریعہ ہے۔ فقط واللہ اعلم*

📚 وفي الدر المختار  للحصکفي:

کتاب الصلاة، باب صلاة المریض، ج:۲، ص:۹۵ تا ۹۸، ط:سعید) فقط واللہ اعلم 


💞💞


*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (23) ・❱━━━*

*·•●✿  امام کیساتھ رکوع کب شمار ہوگا؟* 

*☆  امام رکوع کی حالت میں ہو اور  کوئی مقتدی قیام کی حالت میں تکبیرِ تحریمہ کہہ کر نماز میں شامل ہو تو اگر امام کے رکوع سے سر اُٹھانے سے پہلے پہلے ایک لمحہ بھی مقتدی نے امام کو رکوع میں پالیا اگرچہ ایک تسبیح سے کم ہو، تو وہ اس رکعت کو پانے والا سمجھا جائےگا؛ اگر امام رکوع سے اُٹھنے کی حالت میں ہو اور مقتدی جانے کی حالت میں تو اس رکعت کو دہرانا ہوگا۔*

📚 البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 82):
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 455): 


💞💞





*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (23) ・❱━━━*

*·•●✿ (سوال:)  ایک رکعت میں بھول کر دو مرتبہ رکوع کرلیں تو اس کا کیا حکم ہے؟*

*☆ اگر ایک رکعت میں بھول کر دو مرتبہ رکوع کرلیا تو سجدہ میں تاخیر کرنے کی وجہ سے آخر میں سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا، اگر آخر میں سجدہ سہو نہیں کیا تو نماز کا اعادہ واجب  ہوگا۔*

*📚 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1 / 164):* 


💞💞




*🌹 بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم​ 🌹* 
   *ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ*
            
             *سلسلہ_مسائل_نماز*
    *━━❰・ پوسٹ نمبر (24) ・❱━━━*

*·•●✿ رکوع بیٹھ کر کرنے کا طریقہ* 

*☆ اگر عذر کی بنا پر بیٹھ کر نماز پڑھی جائے تو رکوع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پیٹھ اتنی جھکائی جائے کہ پیشانی گھٹنوں کے مقابل ہوجائے , سرین (کولھے ) اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے.*

*(📚 شامی 447/1 باب صفۃ الصلوہ)*


💞💞

No comments:

Post a Comment